بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد للہ الذي صدق وعدہ ونصر عبدہ وأعز جندہ وھزم الأحزاب وحدہ، وأشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ وصفیہ من خلقہ وخلیلہ، أرسلہ اللہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ الکافرون، صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وأصحابہ الأخیار الأطھار الأبرار وعلی من اقتفی أثرہ وصار علی سنتہ ما تعاقب اللیل والنھار!
ابتداء میں، میں تمام مسلمانوں کو بالعموم اور افغانستان کے عوام، طالبان تحریک، ان کے امیر شیخ ہبۃ اللہ اخندزادہ﷿ اور تمام قائدین اور سپاہیوں کو بالخصوص اس نصرِ عظیم اور فتحِ مبین پرمبارکباد دینا چاہتا ہوں، جس نے تمام دنیا اور اس کے سیاسی کارپردازوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ یہ فتح کثرتِ تعداد اور قوت ووسائل کی فراوانی کے سبب نہیں ملی، بلکہ یہ محض اللہ کے فضل سے ملی ہے، اور پھر مومنوں کے مضبوط ایمان، عزیمت کے جذبات، پیہم محنت وہمت کے نتیجے میں ملی ہے جن کے (حوصلوں کے) سامنے پہاڑوں کی بلندیاں بھی ہیچ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس دین کے مزاج کو سمجھا اور اس جنگ کی حقیقت کو جانا، پھر دین کے مقابلے میں ذرہ بھر بھی ذلت قبول نہ کی، اور اس راستے میں ایسی قربانی دی کہ کسی انسان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آتی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے ہاتھوں افغانستان کی زمین میں تیسری سلطنت دفن ہوئی، اور انھی کے ہاتھوں امارتِ اسلامیہ افغانستان بحال ہوئی، تاکہ شریعت کی حاکمیت قائم کرے، چاہے امریکہ اور اس کے حواریوں کو ناگوار ہی گزرے، اور انھی کے ہاتھوں امیر المؤمنین ملا محمد عمر کے وہ کلمات سچے ثابت ہوئے، جبکہ انھوں نے کہا تھا:
’’اللہ تعالیٰ نے ہم سے فتح کا وعدہ کیا ہے اور بش نے ہم سے شکست کا وعدہ کیا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ کس کا وعدہ سچا ثابت ہوتا ہے‘‘۔
پس اے افغان قوم! یہ عظیم فتح تمہیں مبارک ہو اور تمہیں حق ہےکہ اس بات پر فخر کرو کہ تمہیں طالبان جیسے بیٹے عطا ہوئے ہیں۔
میں اس مختصر پیغام میں امریکی صدر جو بائیڈن کے اس بیان پر بھی مختصر تبصرہ کرنا چاہوں گا جو اس نے آخری امریکی فوجی کے نکلنے کے بعد دیا، جس میں اس نے انتہائی حسرت اور غم کے ساتھ اپنے اس ناکام تجربے پر بات کی اور اس جنگ میں امریکی خساروں پر بات کی۔ اس نے بتایا کہ اس بیس سالہ جنگ میں یومیہ ۳۰ کروڑ امریکی ڈالر کے حساب سے اخراجات ہوئے ہیں، یعنی پوری جنگ میں ۲۰ کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے۔ اسی طرح اس نے بتایا کہ اس جنگ میں انھوں نے ۶۰۰۰ سے زائد امریکی فوجی اور دیگر ٹھیکے دار (contractors) گنوائے ہیں، اور بیس ہزار سے زائد زخمی اور اپاہج دیے ہیں۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ جنگ سے واپس جانے والے فوجیوں کی کثیر تعداد ایسی ہے جو مختلف امراض کا شکار ہوگئی ہے۔ اور شاید سب سے بڑا خسارہ، جانی ومادی نقصان کے علاوہ، جو امریکہ کو اس جنگ میں ہوا ہے، وہ بطورِ واحد سپر پاور، امریکہ کی ساکھ اور عزت کا نقصان ہے۔
لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ان ساری باتوں کے اقرار کے بعد بھی امریکی صدر دعویٰ کرتا ہے کہ جس مقصد کے لیے انھوں نے جنگ شروع کی تھی، اس میں وہ مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اور وہ ہدف شیخ اسامہ بن لادنہ کا قتل اور افغانستان کی زمین کا … طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدات کے مطابق… آئندہ کسی بھی جہادی گروہ کی موجودگی کے سبب امریکہ کے امن کے لیے خطرہ نہ رہنا ہے۔
کیا محض ان دو اہداف کے حصول کے لیے امریکہ کا اتنی بڑی قیمت ادا کرنا مناسب تھا؟ کیا امریکہ کے پاس ان دو اہداف کے حصول کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہ تھا کہ اسے اتنے بڑے خساروں سے دوچار ہونا پڑا؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مصداق ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِيَصُدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭفَسَيُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ يُغْلَبُوْنَ ڛ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ يُحْشَرُوْنَ
’’بے شک کفار دوسرے لوگوں کو دین سے روکنے کے لیے اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔ پس یہ ضرور خرچ کریں گے، پھر یہ خرچ کرنا ان کے لیے باعثِ ندامت ہوگا، پھر یہ (شکست کھا کر)مغلوب ہوجائیں گے۔ اور (بالآخر) کافر لوگ جہنم کی طرف جھونکے جائیں گے‘‘۔[الانفال: ۳۶]
۱۶ اگست ۲۰۲۱ء کے دن… کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد اگلے دن… ساری دنیا نے براہِ راست امریکی صدر جو بائیڈن کو دیکھا کہ اس نے امریکہ اور اس کے حواریوں کی شکست کا اعتراف کیا۔ اس نے کہا:
’’ہم جو واقعات ابھی دیکھ رہے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ کسی قسم کی عسکری قوت افغانستان میں استحکام نہیں لا سکتی، کہ یہ تو سلطنتوں کا قبرستان مشہور ہے‘‘۔
اس بیان میں ہمارا محور امریکی صدر کے جملے کا ایک ٹکڑا ہے، جس میں اس نے کہا:
’’ہم نے بیس سالوں میں بہت مشکلات اٹھانے کے بعد یہ سبق سیکھا‘‘۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر اعتبار سے یہ بہت قیمتی سبق ہے جس کا اعتراف امریکی صدر نے انتہائی غم و اندوہ سے اپنے دونوں بیانات میں کیا ہے۔ لیکن اگر امریکی صدر نے صرف یہی سبق سیکھا کہ افغانستان… سلطنتوں کے مقبرے…میں اس کا داخل ہونا اسٹراٹیجک غلطی تھی جو اس شرم ناک شکست تک لے گئی، تو اس کا مطلب ہے کہ امریکہ نے ابھی تک سبق نہیں سیکھا اور نہ ہی ہر اعتبار سے کامل سبق سیکھا ہے۔
اگر امریکہ ہر زاویے سے کامل سبق سیکھنا چاہتا ہے، تاکہ اسے امن حاصل ہو، تو چاہیے کہ شیخ اسامہ بن لادن کے بیانات کی طرف رجوع کیا جائے جن میں انھوں نے امریکی عوام کو مخاطب کیا، بالخصوص ۱۳ ستمبر ۲۰۰۹ء کا بیان جس میں آپ نے کہا:
’’اے امریکی عوام! میرا آج تم سے مخاطب ہونا خاص اس موضوع پر ہے کہ میں تمہیں ۱۱ ستمبر کے حملوں کے اسباب سے آگاہ کروں، اور اس کے نتیجے میں جو جنگیں ہوئیں اور جو عواقب پیش آئے، (اس کے اسباب بتلاؤں) اور اس سارے کے حل کے راستے پر بات کروں۔ میں بالخصوص ان خاندانوں کا ذکر کر رہا ہوں جن کےپیارے ان واقعات میں متاثر ہوئے اور جنہوں نے حال ہی میں ان واقعات کے اسباب کی تحقیق وتفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔ اور یہ اسباب کی تحقیق یقیناً درست سمت میں پہلا قدم ہے، ان بہت سے اقدام میں سے جو قصداً ان آٹھ سالوں میں نہیں اٹھائے گئے ہیں جو تم پر سخت گزرے ہیں۔ اور تمام امریکی عوام کے لیے بہت ضروری ہے کہ وہ اس سمت میں آگے بڑھیں، کیونکہ ان واقعات کے اسباب کے بارے میں تمہیں آگاہی نہ ہونے کے سبب تم ایسا بوجھ ڈھو رہے ہو جس کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں۔ اگر وائٹ ہاؤس نے …جو جنگ کے دو فریقوں میں سے ایک ہے… تمہیں ان سالوں میں بتایا تھا کہ تمہارے امن کے لیے یہ جنگ ناگزیر ہے۔ سو عقلمند شخص کو یہی مناسب ہے کہ وہ حق جاننے کے لیے دونوں فریقین کی بات سنے۔ لہٰذا میری بات بھی سنو!
سب سے پہلے میں کہتا ہوں کہ ہم نے ان ڈھائی دہائیوں سے زائد سالوں میں بہت بار واضح کیا ہے کہ ہمارے تم سے اختلاف کا سبب تمہارا اس اسرائیل کے ساتھ تعاون ہے جس نے ہماری فلسطین کی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ تمہارے اس موقف نے … دیگر مظالم کے علاوہ… ہمیں ۱۱ ستمبر کے حملوں پر مجبور کیا۔ اگر تم ہم پر یہود کے مظالم کی حد جان جاؤ جو تمہارے ریاستی ادارے کے تعاون سے ہو رہے ہیں تو تم سمجھ جاؤ گے کہ ہم اور تم دونوں ’وائٹ ہاؤس‘ کی سیاست کا شکار ہیں… وہ وائٹ ہاؤس جو درحقیقت بعض پریشر گروپوں، بالخصوص بڑی تجارتی کمپنیوں اور یہودی لابی کے ہاتھ یرغمال ہے…۔ اور سب سے بہتر شخص جو تمہارے سامنے ۱۱ ستمبر کی وضاحت کرتا ہے، وہ تمہارا ایک ہم وطن ہے، سی آئی اے کا سابقہ اہلکار، جس کا ضمیر اپنی زندگی کی آٹھویں دہائی میں جاگ گیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خطرات کے باوجود حقیقت بیان کرے گا اور تمہارے سامنے۱۱ ستمبر کے واقعات کے اسباب بیان کرے گا۔ اس نے اسی غرض سے کچھ کام بھی کیا، بالخصوص ’ایک کرائے کے قاتل کا عذر‘ نامی کتاب لکھی۔……
میں تم سے آخر میں کہتا ہوں کہ خلاصہ قول یہ ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ تم اپنے آپ کو ’نیو کنزرویٹو‘ (Neo Conservatives) اور یہودی لابی کے خوف اور فکری دہشت گردی سے باہر نکالو اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعاون کو نقاش اور بحث کا موضوع بناؤ، تاکہ تم اپنے موقف پر نظر ثانی کرسکو۔ کیا تمہارا امن، تمہارا خون، تمہاری اولاد، تمہارے اموال، تمہاری نوکریاں، تمہارے گھر بار، تمہاری معیشت اور تمہاری ساکھ تمہیں محبوب ہے، یا اسرائیلیوں کا امن، ان کی اولاد اور ان کی معیشت تمہیں زیادہ محبوب ہے؟ پس اگر تم اپنے امن اور جنگ کے خاتمے کا انتخاب کرتے ہو… جیسا کہ استصواب میں رائے عامہ بھی سامنے آرہی ہے… تو اس کا تقاضا ہے کہ تمہاری طرف سے جو لوگ ہمارے امن کو خراب کرتے ہیں، ان کے ہاتھ روکو۔ ہم اس انتخاب پر بات کے لیے تیار ہیں اگر ان سلیم ومنصف بنیادوں پر ہو جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے‘‘۔
اے امریکیو! تمہارا امن ابھی بھی خطرے میں ہے کیونکہ تم نے پورا سبق نہیں سیکھا ہے، اور اس وقت تک خطرے میں رہے گا جب تک تم ان اسباب کی روک تھام نہ کرو جن کی بنیاد پر ۱۱ ستمبر کے حملے ہوئے تھے اور جنھیں شیخ اسامہ بن لادن نے اپنے بیانات میں واضح کیا تھا۔ اے امریکیو! تم یہ مت سوچو کہ اگر تم نے القاعدہ کا آخری فرد بھی مار دیا تو تم امن وامان سے ہوجاؤ گے، جیسا کہ سابق امریکی صدر بش نے کہا تھا۔
اے امریکیو! تمہارا امن اس وقت تک خطرے میں ہے جب تک تم …دہشت گردی جیسے… مختلف ناموں کے تحت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے ہو۔ اے امریکیو! تمہیں جاننا چاہیے کہ آج مجاہدین جغرافیائی حدود سے باہر نکل چکے ہیں اور تمہارے ظلم کے مقابلے کے لیے کسی بھی اقدام کے لیے کسی بھی جگہ سے حرکت کر سکتے ہیں۔ زمین پر موجود ہر مسلمان اب تو مجاہد ہے۔ اور اس کی آخری مثال مجاہد بطل محمد الشمرانیہ اور مجاہد بطل نضال حسن (اللہ تعالیٰ اسے رہائی دیں) ہیں جنھوں نے تمہارے اپنے وطن میں تمہیں ضرب لگائی، بلکہ تمہارے عسکری اڈوں میں سے تمہیں نشانہ بنایا۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ آئندہ مجاہدین کی کارروائیاں ۱۱ ستمبر کی کارروائیوں کی ’کاربن کاپی‘ ہوں، کیونکہ ان کے پاس اب بہت سے متبادل ہیں اور وہ اب ۱۱ ستمبر کے وقت سے زیادہ طاقتور، زیادہ حمیت والے اور زیادہ تڑپ والے ہیں۔
پس اے امریکیو! تم شیخ اسامہ بن لادن کی قسم کو یاد کرو جب انھوں نے کہا تھا:
’’ امریکہ اور امریکہ میں رہنے والے اس وقت تک امن کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے جب تک ہم فلسطین میں امن سے نہ رہنے لگیں اور جب تک ارضِ محمدﷺ سے تمام کافر فوجی نکل نہ جائیں‘‘۔
اور آپ کا وہ قول یاد کرو جو آپ نے ۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء کو ’جنگ کے خاتمے کا راستہ‘ کے عنوان سے اپنے خطاب میں کہا تھا:
’’امریکہ میں ۱۱ ستمبر جیسے حملوں میں تاخیر کی وجہ ہماری طرف سے تمہاری دفاعی تدابیر میں راستہ بنانے کی عدم اہلیت نہیں ہے، بلکہ کارروائیاں تیاری کے مراحل میں ہیں اور تیاری کےمکمل ہونے پر تم اپنے وطن کے بیچ میں انھیں ہوتا دیکھو گے‘‘۔
آپ نے یہ بھی فرمایا:
’’دن اور رات نہیں گزریں گے، کہ یہاں تک ہم تم سے (تمہارے مظالم کا) انتقام نہ لے لیں، جیسا کہ ۱۱ ستمبر کے دن لیا تھا‘‘۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
٭٭٭٭٭