ذیل میں مجاہد فی سبیل اللہ، لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز شہید رحمۃ اللہ علیہ کی زیرِ طبع کتاب ’War against Terrorism and the concept of Jihad‘ کے دوسرے حصے کے باب ششم کا ترجمہ پیش ہے۔
اِسلام کو ایک نئی تعبیر عطا کر کے اس کی حقیقی قوت کو دبانا اور اس کے مواقف کو نرم کرنا مستشرقین کی قدیم تحریک ہے، اور اس تحریک کی حمایت میں بہت سے ’مسلمان‘ محققین بھی دنیا کے منظر نامے پر ابھرے ۔ جہاد کے موضوع پر لکھنے والے عصرِ حاضر کے بعض لکھاریوں نے دین کے ناکافی علم کے باوجود، فقہائے متقدمین کی کاوشوں کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست قرآن وحدیث کو استعمال کر کے اپنی خواہشات کے مطابق دلیلیں تراشنے کی کوشش کی ہے۔ دیگر حضرات نے مادی فوائد کے حصول کے لیے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اسلامی تصورات کو مغربی نظریات سے ہم آہنگ کرنے کی خاطر ان میں تحریف کی ہے۔ان کی آرا، دنیا کے بارے میں ان کے نقطۂ نظر اور عقائد واعمال کے ان طریقوں پر مبنی ہیں جنہیں وہ بزعمِ خود درست سمجھتے ہیں ۔ بڑی حد تک ان کی آرا کی بنیاد مغرب زدہ نظام اقدار کے قوانینِ نظم و ضبط اور معیارِ حق و باطل پر ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغامِ اسلام کو ’ملّا‘ نے مسخ کیا ہے اور یہ کہ اہل کتاب کے ساتھ ہمارا تعلق امن اور مذاکرات کا ہونا چاہیے، تشدد و جارحیت ہمارے حالیہ مسائل کا حل نہیں ہے، غلطی ہماری ہے اور مغرب کو موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے،وغیرہ۔ وہ اپنی دنیوی ضروریات کے مطابق دین کی نئی تشریح کرتے ہیں۔
اسی طرح کے ایک ہندوستانی شریت رکھنے والے محقق، مولانا وحید الدین خان نے اسلام کے مبنی برحق پیغام کے خلاف کثرت سے لکھا ہے۔ وحید الدین خان نے ’الرسالہ‘ کے جون ۲۰۰۷ء کے شمارے میں لکھا کہ زمینی حقائق کی بنا پر عن قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ بعض معاملات میں حسبِ سابق کارآمد نہیں رہے گا اور اس کی بجائے ہمیں عیسیٰ (علیہ السلام) کا اسوہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ اپنی بات کی وضاحت کی خاطر وہ مزید لکھتا ہے، ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منہج کے لحاظ سے ’حتمی نمونہ‘ نہیں تھے‘‘ بلکہ انہیں صرف دین کے لحاظ سے’آخری رسول‘ سمجھا جانا چاہیے۔وہ مزید لکھتا ہے کہ وہ عظیم الشان آیت (الاحزاب:۲۱) جس میں اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلیٰ کردار کی تعریف آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ’’اسوۂ حسنہ‘‘ کا مالک بتا کر فرماتا ہے، دراصل ثبوت ہے کہ یہ نمونہ مکمل اور کامل نہیں ہے، جو کوئی ایسا سمجھتا ہے وہ ’’بلاشک و شبہ غلط عقیدے پر ہے‘‘۔ وہ کہتا ہے کہ اگر قرآن نے ’’اسوۂ کامل‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہوتی تو لوگ اس شک میں مبتلا ہوسکتے تھے، مگر قرآن نے اسے واضح رکھا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال، ہر دور اور زمانے میں اتباع کے لیے حتمی مثال نہیں ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ ’’حتمی‘‘ اسوے کے حامل نبی کا ہونا ، جس کا ہر دور اور ہر زمانے میں اتباع کیا جائے، تو ممکن ہی نہیں ہے1 ۔
وہ ایک اور دلچسپ نکتہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے حوالے سے اٹھاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’عیسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی‘کے بارے میں بیان کی گئی علامات کا درست فہم یہ ہے کہ ’’یہ ان کی حقیقی ’واپسی‘ کے حوالے سے نہیں ، بلکہ محض مسلمانوں کے عیسیٰ علیہ السلام کے منہج کی اتباع کی طرف پلٹنے کے بارے میں ہیں‘‘۔ وہ کہتا ہے کہ اس میں اصل پیغام یہ ہے کہ ایک وقت آئے گا جب عیسیٰ (علیہ السلام) کا منہج، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہج سے زیادہ قابلِ عمل اور متبعین کی ضروریات کا زیادہ ضامن ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم کے منہج کو ’حتمی منہج‘ نہیں بنایا گیا۔
اگست ۲۰۰۷ء کے شمارے میں وحید الدین دجال اور امام مہدی کے بارے میں لکھتا ہے۔ وہ دجال کو ایک فرد کی بجائے ایک نظریہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ، ’’حدیث کے مطابق جب وہ وقت آئے گا تو ایک ’رجلِ مومن‘ ظاہر ہوگا جو دجال کو قتل کرے گا، یہ قتل جسمانی معنی میں نہیں ہوگا بلکہ یہ قتل معنوی اعتبار سے ہوگا یعنی فتنۂ دجال کو پھیلانے والے’ افکار کا قتل‘۔ دجالی فتنہ ایک علمی فتنہ ہوگا (……) جس میں ’شہادت‘ کا اطلاق ’گواہی دینے‘ پر ہوتا ہے نہ کہ زندگی قربان کرنے پر۔ یہ ’دینِ حق کے لیے عظیم گواہی دینا ہے‘ جسے حدیث میں ’دجال کا قتل کیے جانا‘ کہا گیا ہے۔ اس رجلِ مومن کو، جو دجال کا سامنا کرے گا ، حدیث میں مہدی کہا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ مہدی اور مسیح ایک ہی فرد ہو‘‘۔ اسی نہج پر اس نے ’عقیدہ‘، ’اجتہاد‘، ’جہاد‘، ’تنسیخ‘ اور کئی دیگر معاملات سے متعلق موضوعات پر بکثرت لکھا ہے۔
دورِ حاضر کا ایک مؤرخ، تمیم انصاری لکھتا ہے، ’’یہی وجہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اعلان کیا کہ وہ پیغمبروں میں سے آخری ہیں ۔ ان کا یہ مطلب نہیں تھا کہ انہوں نے اپنے دور میں مکہ اور مدینہ میں پیش آنے والے معاملات میں جو احکام جاری کیے وہ آنے والے ادوار میں انسانی روش پر حرفِ آخر ہوں گے۔ ان کا مطلب تھا کہ وہ ان انتہائی اسباب و وسائل کے ساتھ آئے ہیں جن کی ایک مہذب معاشرے میں لوگوں کو پیش آمدہ مسائل میں اللہ کی طرف سے واضح احکام کے بغیر ضرورت تھی۔ اسلام نازل کردہ ادیان میں آخری تھا کیونکہ وہ منطقی ادیان کے دور کا آغاز تھا۔ اصحابِ عقل و رائے ، ٹھوس اساسی اصولوں کو بنیاد بناتے ہوئے اخلاقی معراج حاصل کرسکتےہیں۔ یہ (اساسی اصول) ویسے ہی ہیں جیسے کہ عیسائیت اور دیگر تمام نازل شدہ عظیم مذاہب میں پائے جاتے ہیں، البتہ ان میں ایک فقط ایک فرق ہے کہ اسلام معقولیت کی بھی تاکید کرتا ہے۔ اگر مسلمانوں نے وحیٔ قرآنی کی غلط تعبیر نہ کی ہوتی اور (سیدھی) راہ سے نہ ہٹے ہوتے تو اس نے انسانیت کو توہمات اور عقائد کی اندھی اتباع سے آزاد ی دلا دی ہوتی۔‘‘
حکومتِ برطانیہ نے برِّ صغیر میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے دوران سر سیّد احمد خان اور غلام احمد قادیانی کو جہاد کے درست احکام کے بارے میں غلط تصورات پھیلانے کے لیے استعمال کیا۔ حکومت کی جانب سے جہاد کی روک تھام کے لیے اختیار کیے جانے والے متعدد دیگر حربوں کے علاوہ یہ فتویٰ بھی گھڑا گیا کہ جہاد حرام ہے، الّا یہ کہ حکمران کے ماتحت کیا جائے۔
بعض مسلمان محققین کی کوشش ہے کہ جہاد کے پہلو ئے قتال کی اہمیت کو کم کیا جائے اور اسے جدوجہد کا عمومی معنی پہنا دیا جائے۔ تاہم مشہور مستشرق، برنارڈ لوئیس کہتا ہے کہ روایتی طور پر علمائے اسلام جہاد کی اصطلاح قتال کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، اور دونوں میں کوئی فرق نہیں کرتے ، مگر دورِ حاضر کے علما اس کا انکار کررہے ہیں۔
گیارہ ستمبر کے بعد تصورِ دین، بالخصوص تصورِ جہاد کے خلاف شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ فرید زکریا نے مجلّہ ’نیوز ویک‘ کے ایک مضمون میں لکھا کہ’’آج کی اسلامی دہشت گردی کا محرک کوئی خاص حکمت عملی نہیں بلکہ جدید دنیا کے خلاف ایک غیر حقیقی انتقام ہے‘‘۔ تھامس فریڈمین، جو ’نیویارک ٹائمز‘ کا ایک ایڈیٹر ہے، کی رائے میں ’’مغرب کو، اس نظریے کی بیخ کنی کے لیے یکجا ہونے اور اپنے وسائل کھپانے کی ضرورت ہے جو فدائی حملوں کی اجازت دیتا ہے ، بصورتِ دیگر ہماری کُل مغربی تہذیب خطرے میں ہے‘‘۔ جہاد کے موضوع پر موجود لامحدود تحریری مواد اور اس کے خلاف پرزور ابلاغی نشر و اشاعت ظاہر کرتی ہے کہ اس معاملے میں مسلمانوں کی رائے مغربی سلامتی کے لیے کس قدر اہم ہے، اور اسے کس قدر سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
اسلام کی قوت کو کمزور کرنے کے لیے جتنے وسائل کھپائے جا رہے ہیں ، وہ غیر معمولی ہیں۔ اسلامی ممالک کی حکومتیں، میڈیا اور درباری علما کے ذریعے پیغامِ اسلام کو کمزور کرنے میں مغرب کی مدد کررہی ہیں۔ یہ حکومتیں ان اکائیوں کے لیے بڑی بڑی رقمیں مختص کرتی ہیں جن کا کام مغرب نواز حکومتوں کو برحق ہونے کا جواز فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ’CIA at War‘ کتاب کے مصنف رانلڈ کیسلر نے سی آئی اے کی نچلی صفوں کے عہدے داروں سے لے کر اس کے تب ڈائریکٹر جارج ٹینیٹ تک کے انٹرویو کیے۔ مصنف نے جارج ٹینیٹ کی بات نقل کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہتا ہے کہ عراق اور افغانستان میں جنگ کا ایک رخ یہ ہے کہ ہم نے پوری اسلامی دنیا سے اعلیٰ پائے کی علمی استعداد رکھنے والے علما کی خدمات حاصل کیں ،تاکہ وہ امریکہ کی حمایت میں ایسے فتاویٰ دیں جو زیادہ مقبول بھی ہوں اور معتدل بھی ، اور ہم ان بلند پایہ علما کو اس کام کے لیے تنخواہ بھی ادا کر رہے ہیں۔ لہٰذا اب اسلام کی از سر نو تعریف کرنے کے لیے ہمارے پاس مرتکز و منظم وسائل موجودہیں۔ اور ایک اہم معاملہ یہ ہوگا کہ آپ فدائی حملوں کے مسئلے پر کہاں کھڑے ہیں؟ یہ مسلمانوں کو مجرم ظاہر کرنے میں فیصلہ کن عنصر ثابت ہوگا۔
اللہ رب العزت نے یقیناً قرآنِ پاک میں درست فرمایا ہے ’اور تم پر قتال فرض کیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے‘، پس لوگ جہاد سے جان چھڑانے کے بہانے ڈھونڈنا چاہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ جہاد کے لیے تربیت کی ضرورت ہے، بعض کہتے ہیں کہ ہماری تیاری پوری نہیں ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ دشمن بہت قوی ہے۔ صلاح الدین ایوبی کے دور میں، جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی ایک بڑی فوج کی القدس کی جانب پیش قدمی کی خبر آئی تو بعض علما نے کہا کہ ہمیں واپس پلٹ جانا چاہیے، انہوں نے اپنا ارادہ تبدیل کر لیا اور واپس چلے گئے، جبکہ وہ علمائے دین تھے۔ اللہ رب العزت ایسے علماء بارے سورۃ الاعراف میں کلام فرماتے ہیں، اللہ فرماتے ہیں کہ ایسے عالم کی مثال کتے کی مانند ہے، کیونکہ اس کے پاس اللہ کی نشانیاں تھیں اور اس نے انہیں چھوڑ دیا، کیونکہ وہ دنیا سے چمٹا ہوا تھا اور اپنی خواہشات کی پیروی کررہا تھا۔
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَأَنْفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي وَمَنْ يُضْلِلْ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ (سورۃالاعراف: ۱۷۵ تا ۱۷۸)
’’ اور (اے رسول) ان کو اس شخص کا واقعہ پڑھ کر سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں مگر وہ ان کو بالکل چھوڑ نکلا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کردیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر سختی کرو تو زبان نکا لے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو (ان سے) یہ قصہ بیان کردو تاکہ وہ فکر کریں۔ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا۔ جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے۔ اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ ‘‘
بعض علماء کہتے ہیں کہ مسلمان فی الحال بہت کمزور ہیں اور یہ کہ ہمیں ابھی سیرت سے اسباق لینے چاہیے ہیں۔ ہم ابھی ’مکی دور‘ میں ہیں، ہمیں ’مدنی دور‘ کے مقام تک پہنچنے سے پہلے ’تربیت‘ کی ضرورت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تک مسلمانوں کی تربیت مکمل نہیں ہو جاتی وہ جہاد کا بیڑا نہیں اٹھا سکتے۔یہ غور طلب بات ہے کہ جہاد اور روزے کے احکام ایک سے الفاظ میں نازل ہوئے ہیں، ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ اور كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ﴾ اور دونوں ہی سورۃ البقرۃ میں ہیں: ’’تم پر روزے فرض کردیے گئے‘‘ اور ’’تم پر جہاد فرض کردیا گیا‘‘۔ دراصل روزے تو جہاد کے فرض ہونے کے دو سال بعد فرض کیے گئے (یعنی نبوت کے پندرہویں سال میں)۔ پس یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک کے لیے تو کسی تربیت کی ضرورت نہ ہو اور دوسرے کے لیے ہو؟
عادل دُیان لکھتے ہیں، ’’پوری دنیا ایک دینی رسم و روایت، اسلام میں ایک عبادت کے خلاف کھڑی ہے، اور وہ ہے جہاد۔ دنیا بھر کی سیاست و سفارت کاری، اسلامی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مرکزی خیال کے گرد گھوم رہی ہے۔ دنیا کی ہر حکومت اسلامی دہشت گردی کے خلاف صف آرا ہے…… وہ اسے دہشت گردی اور مجرمانہ فعل قرار دے رہے ہیں، اور وہ اس راستے پر چلنے والوں پر دہشت گرد، انتہاپسند اور انقلابی کا ٹھپہ لگا رہے ہیں۔ ساتھ ساتھ منافق لوگ جہاد کا معنی تبدیل کرنے کی کوشش کرکے ان کی مدد کررہے ہیں…… وہ کہتے ہیں کہ جہاد (اگر اس کا اطلاق قتال پر ہو)، امیر کی اجازت اور ہدایات کے تحت ہونا چاہیے، جو خود ہی یہودیوں اور صلیبیوں کا ایجنٹ اور دلّال ہے……اور یہ (منافقین) کہتے ہیں کہ جہاد ہمارے موجودہ زمانے کے لیے موزوں نہیں ہے کہ آج کا زمانہ عالمی امن کاہے……لوگوں کو دھوکہ دینے اور جہاد کی تعریف تبدیل کرنے کے لیے جو بھی حجتیں پیش کر لی جائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے آج تک یہ امت بخوبی جانتی ہے کہ جہاد کا کیا معنی ہے! پس آج ہمیں کسی کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ وہ آئے اور ہمیں نئے سرے سے بتائے کہ جہاد کا کیا معنی ہے اور اس کی نئی تشریحات کرے۔ ‘‘
مجاہدین کو ’خارجی‘ اور ’تکفیری‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ’’مسلم دنیا کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سے ایک نمایاں مسئلہ دوسرے مسلمانوں کی تکفیر (یعنی انہیں کافر قرار دینا)ہے ……تاہم وہ لوگ جو(شرعاً عادلانہ طور پر) تکفیر کا حکم لگانے میں علمائے سلف سکے طے کردہ معیار پر پورے نہیں اترتے ’خوارج‘ ہی کے طریقے کی پیروی کرتے ہیں۔ خوارجی وہ لوگ ہیں جو اس زمانے میں ظاہر ہوئے جب اسلامی خلافت حضرت علی کرم اللہ وجہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین تقسیم ہوگئی تھی، جب یہ دونوں بزرگ حضرات ایک دوسرے کے مدِّ مقابل تھے ۔ خوارج نے حضرات علی و معاویہ رضی اللہ عنہم دونوں کو کافر (نعوذ باللہ) قرار دیا اور دونوں کے قتل کا فتویٰ جاری کیا۔ خارجیوں نے تمام بے عمل مسلمانوں اور قابل سزا گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کی تکفیر کی اور پھر ان کے خلاف اعلان جنگ کیا……رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی اس گمراہ فرقےکی نشاندہی فرما دی تھی اور تنبیہ فرمائی تھی کہ یہ ہر مسلمان کے خلاف لڑیں گے جبکہ بت پرستوں پر کوئی اعتراض نہ کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر یہ فرقہ ان کے دور میں ظاہر ہوا تو وہ ان کو ویسے ہی مٹا دیں گے جیسے قومِ عاد کو مٹا دیا گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابیؓ نے بعد میں تاکیداً کہا کہ یہ فرقہ کفار کے بارے میں نازل شدہ قرآنی آیات کو سچے مسلمانوں پر لاگو کرے گا۔ پس آج ایک طرف ہمارے یہاں خارجیوں جیسے گروہ ہیں جو تکفیریت کو اٹھائےہوئے ہیں اور دوسری طرف ہمیں ان لادین سیکولروں کا مقابلہ ہے جو سرے سے تکفیر اور خروج (یعنی گمراہ مسلمان حکومتوں کے خلاف جنگ)کے نظریات کا انکار کرتے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ‘‘
اللہ ربّ العزت قرآن میں فرماتا ہے:
وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (سورۃالبقرۃ: ۱۴۳)
’’ اور (مسلمانو) اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے ۔‘‘
٭٭٭٭٭
تعارفِ مؤلف
لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز پاکستان کی ملٹری ایلیٹ میں ایک نمایاں نام ہیں۔ چیف آف جنرل سٹاف اور کور کمانڈر لاہور جیسے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل نیب (قومی احتساب بیورو) رہے۔ فوج کو آپ نے قریب سے دیکھا اور اس کو باطل جانا۔ بعد از ریٹائرمنٹ آپ نے اپنے ضمیر کی آواز پر اپنی خود نوشت ’یہ خاموشی کہاں تک‘ لکھی اور اس کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ کو القاعدہ برِّ صغیر کے سرکردہ ذمہ دار اور مجلّہ ’نوائے افغان جہاد‘ (’نوائے غزوۂ ہند‘ کا سابقہ نام)کے بانی مدیر حافظ طیب نوازؒ صاحب کے ذریعےبراہ راست حق کی دعوت ملی۔ آپ نے حق کی دعوت کو سمجھا اور اس پر لبیک کہتے ہوئے جہاد سے وابستہ ہو گئے۔ ایمان کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے، بطورِ کفارہ آپ نے بہتر جانا کہ آپ جہاد، خصوصاً عصرِ حاضر میں امریکہ کے خلاف جاری جہاد کے متعلق لکھیں اور دعوتِ جہاد میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اس غرض سے آپ نے اپنی دوسری کتاب ’War against Terrorism and the concept of Jihad‘ تصنیف کی۔ آپ کو یقین تھا کہ اس کتاب کو لکھنے کے جرم میں آپ کو گرفتار کر لیا جائے گا، لہٰذا اس کتاب کی تکمیل تک آپ نے اس بات کو صیغۂ راز میں رکھا۔ سنہ ۲۰۱۵ء کے نصفِ آخر میں آپ کی یہ کتاب مکمل ہوئی تو اس کتاب کا ایک نسخہ القاعدہ برِّ صغیر کے مرکزی ذمہ داران تک اس پیغام کے ساتھ پہنچایا کہ ’میں ارضِ جہاد کی طرف ہجرت کرنا چاہتا ہوں ‘،ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’اگریہ کتاب شائع ہو جائے اور پھر میں گرفتار کر لیا جاؤں تو مجھے کچھ غم نہیں!‘ ۔ آپ کی گرفتاری یا شہادت کی صورت میں اس کتاب کے ’مستند‘ ہونے پر کوئی اعتراض نہ کرے تو آپ نے خود ہی اس کا بندو بست بھی فرمایا کہ اسے’بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد‘ کے شعبۂ اسلامیات میں ’ایم اے‘ کی سند کے مقالے کے طور پر جمع کروایا۔لیکن اس سے پہلے کہ آپ میدانِ جہاد میں پہنچتے پاکستان کے خفیہ اداروں نے آپ کو گرفتار کر کے پسِ زنداں ڈالا اور یوں امریکی ’وار آن ٹیرر‘ میں فرنٹ لائن اتحادی اور امریکی وفاداری میں دین تو دین، اپنے ’ادارے کی وفاداری ‘ (Military Comradeship) کو بھی پامال کیا۔ سال ۲۰۱۸ء کے وسط میں آپ کی شہادت کی خبریں منظرِ عام پر آئیں۔ بعض ذرائع نے شہادت کی اطلاعات کی تردید کی، لیکن مجاہدینِ القاعدہ برِّ صغیر کو اپنے ذرائع سے جو خبریں ملیں، ان کے مطابق مجاہد فی سبیل اللہ شاہد عزیز صاحب، شہید ہو چکے ہیں، اللہ پاک آپ سے راضی ہو جائیں اور آپ کو انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین کی معیتِ حسنہ عطا فرمائیں، آمین۔ لیکن (گو کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے) اگر آپ بحالتِ گرفتاری حیات بھی ہیں تو ہم دعا گو ہیں کہ اللہ پاک آپ کو ایمان پر استقامت کے ساتھ رہائی عطا فرمائیں۔ مذکورہ انگریزی کتاب کا ترجمہ ہمارے ساتھی ’قاضی ابو احمد‘ نے کیا ہے۔(ادارہ)
٭٭٭٭٭
1 سبحان اللہ علی ما تصفون! وحید الدین خان اور جاوید احمد غامدی جیسوں نے اپنی مغرب سے وفاداری اور ردِ جہاد میں بیانِ ’کفریات‘ میں مرزا قادیانی کو بھی مات دے دی ہے، نقلِ کفر کفر نہ باشد! مرزا قادیانی نے بلاشبہ ایک بہت بڑی افترا گھڑی یعنی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا، لیکن مرزے ملعون کا اصل ہدف ’ردِ جہاد‘ تھا۔ پس آج جو بھی جہاد کو حرام قرار دینے اور ردِ جہاد کی کوشش کرے تو وہ دراصل مرزا قادیانی کے مشن ہی کو پورا کر رہا ہے، اب اس کا نام قادیانی و غامدی ہو یا کچھ بھی اور!(ادارہ)