غصہ اور اس کا علاج

حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

 وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۝(سورۃ آلِ عمران: ۱۳۴)

’’جو غصہ کو پی جانے والے، لوگوں کی خطاؤں کو معاف کرنے والے ہیں، اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔‘‘

حکایت

حضرت علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باندی سے آپ کے اُوپر گرم پانی گرگیا، آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ باندی نے (یہ آیت )تلاوت کی : وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ، آپ کے چہرے سے اِس آیت کو سُنتے ہی غصّے کا رنگ ختم ہوگیا ۔ پھر اُس نے پڑھا: وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ، آپ نے فرمایا کہ معاف کردیا ۔ پھر اُس نے پڑھا وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ، آپ نے فرمایا جا تجھے آزاد بھی کر دیا۔

غصّے میں عقل ٹھکانے نہیں رہتی، انجام اور نتیجہ سوچنے کا ہوش نہیں رہتا۔ اِس لیے ہاتھ اور زبان سے ایسی نامناسب حرکتیں انسان سے صادر ہوجاتی ہیں جس سے قتل، خون، بے عزتی اور بسااوقات گھر کے گھر اُجڑ جاتے ہیں۔ اور نہ جانے کتنی قیمتی جانیں اور مال و اسباب تباہ ہوجاتے ہیں اور کتنی مقدمہ بازیوں نے دل کا سکون اور رات کی نیند حرام کر رکھی ہے۔جس سے دُنیا کی ترقی اور آخرت کی تیاری کے لیے وقت اور فراغ اور اطمینانِ قلب بھی میسر نہیں ہوتا۔ غصّے کی تباہ کاریوں سے کتنے بچے یتیم اور بیویاں بیوہ اور گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ اِس خطرناک بیماری کی فکر نہایت ضروری ہے۔ غصے سے مغلوب ہونا اور مخلوقِ خدا کو ستانا نہایت درجہ بدبختی اور شقاوت اور سنگ دلی ہے۔ بزرگوں کا طریقہ تو یہ رہا ہے کہ جس نے ستایا اُس کو معاف کردیا اور اُس کے لیے دُعا کا بھی معمول رکھا۔ حضرت مولانا محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی کا عجیب نافع شعر ہے

جو روستم سے جس نے کیا دل کو پاش پاش
احمدؔ نے اِس کو بھی تہہ دل سے دُعا دیا

حضرت مولانا رومی رحمۃاللہ علیہ کے سامنے دو آدمی لڑ رہے تھے، ایک نے کہا: اگر ایک کہے گا تو مجھ سے دس سُنے گا۔ مولانا نے فرمایا: ہم کو ایک ہزار کہہ لو اور ہم سے ایک بھی نہ سُنو گے۔ بس دونوں پاؤں میں گر گئے اور توبہ کی اور صلح کرلی۔

(غصے کا علاج یہ ہے کہ )سب سے پہلے یہ کرے کہ جس پر غصہ آیا ہے اُس کو اپنے سامنے سے ہٹا دے ، اگر وہ نہ ہٹے تو خود ہٹ جائے، پھر سوچے کہ جس قدر یہ شخص میرا قصوروار ہے اِس سے زیادہ میں خدائے تعالیٰ کا قصوروار ہوں۔ جس طرح میں چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میرا قصور معاف کردیں مجھ کو بھی چاہیے کہ میں اِس کا قصور معاف کردوں اور زبان سے اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بار بار پڑھتا رہے اور پانی پی لے اور وضو کرلے۔ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے بیٹھا ہو تو لیٹ جائے پھر جب عقل ٹھکانے ہوجائے اُس وقت بھی اگر قصور پر سزا دینی مناسب معلوم ہو مثلاً سزا دینے میں قصور وار کی بھلائی ہو جیسے اپنی اولاد ہے کہ اس کی اصلاح ضروری ہے یا کسی مظلوم کی مَدد کرنا ہے اور اُس کی طرف سے بدلہ لینا ہے تو اوّل خوب سمجھ لے کہ اتنی خطا کی کتنی سزا ہونی چاہیے؟ جب اچھی طرح شریعت کے مطابق تسلی ہوجائے تو اُسی قدر سزا دے دے۔ چند روز اِسی طرح کرنے سے غصہ قابو میں آجائے گا۔

ایک مرتبہ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب ایک خادم کو ڈانٹ رہے تھے۔ اس نے کہا: ’معاف کردیجیے‘۔ شیخ نے فرمایا کہ ’کتنی مرتبہ معاف کروں تم تو بار بار غلطیاں کرتے ہو، میں تمہاری کتنی غلطیوں کو بھگتوں‘۔ حضرت مولانا الیاس صاحب رحمۃ اللہ علیہ حیات تھے، پاس بیٹھے تھے، کان میں حضرت شیخ کے فرمایا کہ ’مولانا! جتنا اپنا قیامت کے دن بھگتوانا ہو اتنا یہاں بھگت لو‘۔ عجیب اصلاح کا عنوان ہے اور نہایت مؤثر ہے۔ جس پر غصہ آئے یہ بات یاد کرلے ان شاء اللہ تعالیٰ، معاف کرنے کی توفیق ہوجاوے گی۔

حضرت صدیقِ اکبررضی اللہ عنہ کو جب اپنے بھانجے حضرت مسطح رضی اللہ عنہ پر غصہ آیا اور آپ نے غصّے میں قسم کھالی کہ اُس کو جو مالی امداد کیا کرتا تھا اب نہ کروں گا تو قرآن میں حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصلاح کے لیے یہ حکم نازل ہوا:

وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْکُمْ وَ السَّعَۃِ اَنْ یُّؤْتُوْا اُولِی الْقُرْبٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَ الْمُہٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا اَلَاتُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ وَ اللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۝ (سورة النور:۲۲)

یعنی تم میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے دین کی بزرگی اور دُنیا کی وُسعت دی اُنہیں لائق نہیں کہ ایسی قسم کھائیں،اُن کاظرف بہت بڑا اور اُن کے اخلاق بہت بلند ہونے چاہیے۔ بڑی جواں مردی تو یہ ہے کہ بُرائی کا بدلہ بھلائی سے دیا جائے، محتاج رشتہ داروں اور خدا کے لیے وطن چھوڑنے والوں کی اعانت سے دست کش ہوجانا بزرگوں اور بہادروں کا کام نہیں، اگر قسم کھا لی ہے تو ایسی قسم کو پورا مت کرو اُس کا کفارہ ادا کرو، تمہاری شان یہ ہونی چاہیے کہ خطاکاروں سے اغماض اور درگزر کرو،ایسا کروگے تو حق تعالیٰ تمہاری کوتاہیوں سے درگزر فرمائیں گے۔ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ حق تعالیٰ تمہاری خطائیں معاف فرمادیں؟اور اگر تم یہ خواہش رکھتے ہو تو تمہیں حق تعالیٰ کے بندوں کی خطائیں معاف کرنا چاہیے تاکہ اِس کے صلے میں ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں۔ حدیث شریف میں روایت ہے کہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اِس آیت کو سُنا:’’اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ ‘‘، یعنی ’کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تعالیٰ تم کو معاف کردیں‘، تو فوراً کہا ’’بَلٰی یَا رَبَّنَا اِنَّا نُحِبُّ ‘‘، ’بے شک اے پروردگار! ہم ضرور چاہتے ہیں‘۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ کہا ’’وَاللہِ اِنِّیْ اُحِبُّ اَنْ یَّغْفِرَاللہُ لِیْ ‘‘، ’خدا کی قسم !میں محبوب رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت فرمادیں‘۔ یہ کہہ کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کی امداد کو بدستور صرف جاری ہی نہیں فرمایا بلکہ بعض روایت کے مطابق پہلے سے دُگنی کردی، رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیا(متقین) کی شان میں یہ فرمایا ہے:

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَالْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۝(سورۃ آلِ عمران: ۱۳۴)

متقین بندے وہ ہیں جو خوشی اور عیش میں بھی اور تکلیف و تنگی میں بھی خرچ کرتے ہیں (یعنی کسی حالت میں بھی خدا کو نہیں بھولتے) اورغصے کو پی جاتے ہیں اور مزید یہ کہ لوگوں کی خطاؤں کو معاف بھی کردیتے ہیں اور نہ صرف معاف کردیتے ہیں بلکہ اُن کے ساتھ احسان اور نیکی سے پیش آتے ہیں ۔

اب ’’تبلیغِ دین‘‘ مصنفہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ سے تین احادیث نقل کی جاتی ہیں جن کا بار بار مطالعہ کرنا چاہیے:

  1. حدیثِ پاک میں ہے کہ ’پہلوان وہ نہیں جو اپنے دشمن کو پچھاڑ دے بلکہ پہلوان وبہادر وہ ہے جو اپنے غصّے پر غالب آجائے اور غصّےکو پچھاڑ دے۔‘

  2. دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر گھونٹ جو مسلمان پیتا ہے غصّےکا گھونٹ ہے۔

  3. تیسری حدیث میں ہے کہ جس مسلمان کو اپنی بی بی بچوں یا ایسے لوگوں پر غصّہ آئے جن پر اپنا غصّہ اُتار سکتا ہے اور پھر وہ ضبط کرلے اور تحمل سے کام لے توحق تعالیٰ اُس کا قلب امن اور ایمان سے بھردے گا۔

(ماخوذ از: روح کی بیماریاں اور ان کا علاج)

Exit mobile version