جمہوریت…… ایک دینِ جدید | حصہ سوم

فضیلۃ الشیخ حسن محمد قائد شہید(ابو یحییٰ اللیبی)﷬

اے جمہوری اسلام کی دعوت دینے والو! اللہ تعالیٰ ہم سے صرف یہ نہیں چاہتا کہ ہم شراب نوشی سے احتراز کریں، فواحش سے بچیں اور سود سے دور رہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ہم ان منکرات سے پرہیز کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکامات ِ تحریمی کو اللہ کا حکم سمجھ کر انہیں تسلیم کریں اور بر ضاور غبت ان کے سامنے خود کو جھکالیں۔ بصورتِ دیگر میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ اگر کسی ملک میں اسلام کے تمام ظاہری احکامات اس بنیاد پر نافذ کردیے جائیں کہ پارلیمنٹ نے انہیں منظور کیا ہے اور انہیں محترم قانون کا درجہ دیا ہے نہ کہ اس لیے کے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو ان شرعی احکام کا درجہ بھی باقی دنیاوی قوانین جیسا ہی کہلائے گا۔ کیونکہ شریعت تو لوگوں سے پوچھ کر نافذ نہیں کی جاتی اور جو چیز لوگوں سے پوچھ کر نافذ کی جائے وہ شریعت نہیں ہوتی۔ یہ تو پارلیمنٹ نامی ایک بولنے والے بت اور معبود کی طرف سے نازل کردہ احکام ہیں۔ تباہی اور ہلاکت ہو اس بت کے لیے بھی اور اس کے نافذ کردہ قانون کے لیے بھی۔

اسلامی جمہوریت کے دعویداروں کو یہاں رک کر جائزہ لینا چاہیے کہ وہ خود کو کن تباہ کن گھاٹیوں میں گراچکے ہیں؟ اور اپنے اپنے علاقوں کے مسلمانوں کو کس طرح کی پر فتن کفری راہوں کی طرف دھکیل کر انہیں گمراہ کرتے اور ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں؟

انہیں جان لینا چاہیے کہ وہ دوراہے پر کھڑے ہیں، جہاں حق و باطل کے مابین تطبیق و موافقت اور آمیزش کی گنجائش نہیں ہے۔ ایک طرف تو واضح اور روشن اسلام ہے جس میں قلب و نظر اور اعضا و جوارح اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہوتے ہیں۔ اور دوسری طرف دینِ جمہوریت ہے جس میں انسانوں کی حاکمیت اور شیطان کی عبادت ہے۔ لوگوں کی مرضی ہے کہ جس راہ کو پسند کریں سو اختیار کرلیں، البتہ قیامت کے دن ہونے والے اس سوال کے جواب کے لیے تیار رہیں:

اَلَمْ اَعْھَدْ اِلَیْکُمْ یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّاتَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ۝ وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْم۝ (سورۃ یٰس :۶۰۔۶۱)

’’اے بنی آدم! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ تم شیطان کی عبادت مت کرنا، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، اور یہ کہ میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘

ثا نیاً : ہر مسلمان کو یہ حقیقت معلوم ہے کہ ایمان کا پہلا اور عظیم ترین رکن ، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے اور اس ایمان میں توحیدِ الوہیت، توحیدِ ربوبیت اور اللہ کے اسماء و صفات پر ایمان لانا شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ قطعی طور پر ایمان رکھے کہ حلال و حرام قرار ینے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اس حق میں کسی کو کسی قسم کے مناقشے اور بحث کا اختیار حاصل نہیں کہ کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی حلال یا حرام قرار دے۔ یہ اختیار صرف اللہ کا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُوْن۝(سورۃ النحل:۱۱۶)

’’ اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبانوں پر آتا ہے نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے لگو، یقیناً جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے۔‘‘

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰہُ لَکُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْہُ حَرَامًا وَّحَلٰلًا قُلْ آٰللّٰہُ اَذِنَ لَکُمْ اَمْ عَلَی اللّٰہِ تَفْتَرُوْن۝(سورۃ یونس:۵۹)

’’آپ کہہ دیجیے کہ بھلا دیکھو تو اللہ تعالیٰ نے جو تمہارے لیے رزق نازل فرمایا تو تم نے اس میں سے( بعض کو) حرام اور (بعض کو) حلال ٹھہرایا،(ان سے) پوچھو کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھتے ہو۔‘‘

لہٰذا اللہ تعالیٰ کا یہ حق (حقِ تشریع) کسی غیر اللہ کو دینا کفرِ اکبر ہے جو ملت سے خارج کر دیتا ہے۔ جو شخص اللہ کے ماسوا کی تشریع(قانون سازی) کو مانتے ہوئے اس کے ٹھہرائے ہوئے حلال و حرام کی پیروی کرے اور اسے حلال اور حرام جانے تو وہ مشرک ہے، جس کا فرض مقبول ہے اور نہ نفل، یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے اور توحیدِ خالص کی طرف رجوع کرلے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ حقِ تشریع کسی فرد کو دیا جارہا ہو یا کسی پارٹی ، قبیلے، پارلیمان یا عوام کو۔ اسلام نے اس حقیقت کو انتہائی دوٹوک اور واضح انداز میں ثابت کیا ہے اور اس میں کسی قسم کی تشکیک یا تذبذب کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ یہ تمام کائنات اللہ کی مخلوق وملکیت ہے اور وہی ربّ العالمین ہے۔ لہٰذا کسی کو حق نہیں کہ اس کی ملکیت میں اپنا حکم چلائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْن۝ (سورۃ الاعراف:۵۴)

’’ سن لو کہ تمام مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کے ساتھ خالص ہے، اللہ ربّ العالمین بہت برکت والا ہے۔‘‘

یہ تو دین اسلام کی ایک مسلمہ حقیقت ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں جمہوریت کی بنیادی اساس ہی اسلام سے متصادم ہے ، کیونکہ جمہوریت میں قانون سازی کا حق اللہ تعالیٰ کی بجائے انتہائی احترام و تقدیس کے ساتھ عوام اور عوامی نمائندگان کو سونپ دیا گیا ہے۔ لہٰذا دینِ جمہور یت میں حلال وہی ہے جسے عوامی نمائندگان حلال قرار دیں اور حرام وہی ہے جسے عوامی نمائندگان حرام ٹھہرائیں۔ اچھا وہ ہے جسے یہ اچھا کہیں اور برا وہ ہے جسے یہ برا کہیں۔ قانون وہی ہوگا جسے یہ پسند کریں اور شریعت وہی کہلائے گی جو اِن کی منظور کردہ ہو۔ کسی دین، شریعت یا قانون کی اس وقت تک کوئی حیثیت نہ ہوگی جب تک پارلیمنٹ اس کی توثیق نہ کرے۔ یہ ایسا واضح ارتداد ہے جس پر تمام علماکا اتفاق ہے۔

’’ جب کوئی انسان کسی ایسے حرام کو حلال ٹھہرائے یا کسی ایسے حلال کوحرامقرار دے یا کسی ایسے شرعی امر کو تبدیل کردے، جن پر اجماع ہو تو وہ باتفاقِ فقہا کافر و مرتد قرار پائے گا۔‘‘

لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ پارلیمنٹ کا صحیح اور درست نام مجلسِ ارباب ہوگا۔ کیونکہ ایسی مجالس سے تشابہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے یہی الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے:

اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوْٓا اِلٰھًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْن۝(سورۃ التوبہ :۳۱)

’’انہوں نے اپنے علما درویش اور مسیح بن مریم علیہ السلام کو اللہ کے سوا رب بنالیا، حالانکہ انہیں تو اسی بات کا حکم تھا کہ معبود واحد کی عبادت کریں ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ان کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے۔‘‘

ہائے عجب! کہ گمراہی اپنے ماننے والوں کو کیا کیا رنگ دکھاتی ہے۔ احبار و رہبان کو اس لیے ارباب من دون اللہ کہا گیا کہ اہلِ کتاب ان کی اتباع کرتے تھے باوجود اس کے کہ وہ اللہ کے حلال کردہ کو حرام اور اللہ کے حرام کردہ کو حلال بتلاتے تھے۔ حالانکہ احبار تو ان کے علما تھے اور رہبان تو ان کے عابد وو زاہد لوگ تھے اور وہ یہ سب کچھ اللہ کے نام پر کرتے تھے، دین کا سہارا لے کر احکام شریعت کو بدلتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ اللہ کے پسند کردہ احکام ہیں۔ جب اُن کا حکم یہ ہے تو عصرِ حاضر کے اربابِ پارلیمنٹ جن کی غالب اکثریت سیکولر، بے دین ملحدین اور فاسق و فاجر لوگوں پر مشتمل ہے ، ان پر کیا حکم لگے گا؟ وہ علما اور درویش تو دین کی محبت جتلاتے تھے جبکہ یہ لوگ تو صراحت کے ساتھ دین سے دشمنی و بیزاری کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ عمل کے اعتبار سے احبارورہبان اور ارکانِ پارلیمنٹ کا حال ایک سا ہے۔ وہ بھی اپنی مرضی سے حلال و حرام کا فیصلہ کیا کرتے تھے اور یہ بھی اپنی خواہشات اور آرا سے ایسا کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ دین کا نام استعمال کرتے تھے اور یہ صرف رائے ، خواہش، جہلِ مرکب سے، بلکہ قصداً دین کی مخالفت اور اس سے تصادم کی بنیاد پر قانون سازی کرتے ہیں۔ اگر آپ عقل و شعور رکھتے ہیں تو بھلا بتلائیے کہ کون سا گروہ زیادہ بڑا مجرم اور قابلِ مذمت ہے؟

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ التوبہ کی تلاوت فرمارہے تھے، یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچے اِتَّخَذُوْآ اَحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ……’’انہوں نے اپنے علما اور درویشوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا رب بنا لیا‘‘۔

سیدنا عدی بن حاتم ؓکہتے ہیں میں نے کہا :’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ان کو رب تو نہیں بنایا تھا‘‘۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کیوں نہیں؟…… کیا جب وہ کسی حرام چیز کو تمہارے لیے حلال قراردیتے تو تم اسے حلال نہ جانتے تھے؟ اور جب وہ اللہ کی حلال کردہ کسی چیز کو تمہارے لیے حرام ٹھہراتے تو تم اسے حرام نہ سمجھتے تھے؟‘‘

میں نے کہا: ’’جی ہاں‘‘

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’یہی تو ان کی عبادت ہے۔‘‘

اور ممکن ہے کہ وہ علما اور درویش خود کو حلال و حرام کا فیصلہ کرنے والا نہ سمجھتے ہوں البتہ چند چیزوں میں عملاً انہوں نے ایسا کیا ہو۔ لیکن آج کل اہلیانِ پارلیمان تو پوری صراحت و جرأت کے ساتھ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں ہر قسم کی قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ بلکہ یہ ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ جب کوئی شخص منتخب ہو کر ایوان میں داخل ہوگیا تو گویا اسے ربّ کی صفات حاصل ہوگئیں،اس کی رائے مقدّم ٹھہری،فکر کو تقدّس حاصل ہوا۔ اب اسے مکمل آزادی اور تحفظ حاصل ہے کہ اپنی خواہش اور رائے کے مطابق فیصلہ دے اور اپنی مرضی سے کوئی قانون تجویز کرے۔ جب تک وہ پارلیمنٹ کی چھت تلے موجود ہے تب تک اس کا محاسبہ نہیں ہوسکتا۔ یہ واضح کفر اور صریح شرک ہے، خواہ وہ عملاً کوئی قانون سازی کرے یا نہ کرے۔ جس طرح عملاً خود ساختہ قانون سازی کرنا شرک ہے، اسی طرح اس کا حق اللہ کے سوا کسی دوسرے کو دینا بھی شرک ہے۔ یہ ربوبیت میں شرک کہلائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

اَمْ لَھُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَھُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْ بِہِ اللّٰہُ (سورۃالشوریٰ:۲۱)

’’کیا ان کے کوئی شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا۔‘‘

ایک دوسرے مقام پر فرمایا:

وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاِنَّہٗ لَفِسْقٌ وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ(سورۃ الانعام:۱۲۱)

’’اور جس چیز پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیطان اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کرلیں، اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو یقیناً تم بھی مشرک ہوجاؤ گے۔‘‘

تو اے اسلامی جمہوریت کی دعوت دینے والو! تمہیں کس نے اس باطل کی طرف دعوت دینے کا حق دیا ہے؟ جس چیز کی دعوت تم دیتے ہو وہ دینِ اسلام کے ساتھ کیوں کر مجتمع ہوسکتی ہے؟ دینِ اسلام تو یہ کہتا ہے کہ حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور حرام وہ ہے جسے اللہ رب العزت حرام ٹھہرائے نہ کہ پارلیمان۔ اور دین وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا نہ کہ پارلیمان نے۔ اورسزا کا حقدار وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ورزی کرے نہ کہ وہ جو پارلیمان کی حکم عدولی کرے۔ حقیقتاً آپ لوگ یہ دعویٰ تو رکھتے ہیں کہ آپ کی دعوت اسلام کی دعوت ہے اور آپ کا راستہ سیدھا…… نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہے۔ مگر پھر آپ اپنے اس دعوے کو ملیامیٹ کرتے ہوئے لوگوں کو جمہوریت کی طرف بلاتے اور پارلیمنٹ کی طرف لے جاتے ہیں اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور تقدس کے گن گا کر لوگوں کے دلوں میں اس جدید بت کی محبت اور عقیدت راسخ کرتے ہیں۔ آپ کی مثال تو اس عورت کی طرح ہے جو سوت کاتنے کے بعد خود ہی اسے ریزہ ریزہ کر دے۔

آپ ایک طرف توحید کی دعوت دیتے ہیں جبکہ دوسری جانب اسی توحید کو منہدم کررہے ہیں؟ رحمن کی شریعت کو نافذ کرنے کی یہ کیسی جدو جہد ہے کہ جس میں عملی طور پر شیطان کی شریعت کو بالادست اور مقدس بنانے کے لیے کوشش کی جاتی ہو؟ پارلیمنٹ کے خود ساختہ قوانین کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے اولین خدمت گارانِ جمہوریت بھلا کیوں کر لوگوں کو اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کاحکم دیتے ہیں؟

عصر حاضر کے صنم اکبر کو تعمیر کرکے اور اپنی جماعتوں کے افراد کو اس جمہوری بت کدے میں بٹھا کرآپ اپنے اسلاف کی مانند بت شکنی کس طرح کرسکتے ہیں؟ اور کس طرح آپ دعوت الیٰ القرآن کا دعویٰ کرتے ہیں جو طاغوت سے کفر اور ایک اللہ پر ایمان کا حکم دیتا ہے جبکہ، آپ اسی طاغوت پر ایمان لانے اور اس کے علمبرداروں کی تعظیم کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آَمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ۝ اکَبُرَ مَقْتاً عِندَ اللَّہِ أَن تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ۝(سورۃ الصف:۳۔۲)

’’اے ایمان والو!تم ایسی بات کیوں کرتے ہو جس پر عمل نہیں کرتے۔کتنا ناپسندیدہ ہے اللہ کے نزدیک کہ تم ایسی بات کہو جس پر تم عمل نہیں کرتے۔‘‘

اسی طرح فرمایا:

أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَکُمْ وَأَنتُمْ تَتْلُونَ الْکِتَابَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ(سورۃ البقرۃ:۴۴)

’’بھلا تم لوگوں کو تو بھلائی کا حکم دیتے ہو او ر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو،سو تم عقل کیوں نہیں کرتے۔‘‘

اور فرمایا:

مَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُؤْتِیَہُ اللّہُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُولَ لِلنَّاسِ کُونُواْ عِبَاداً لِّیْ مِن دُونِ اللّہِ وَلَـکِن کُونُواْ رَبَّانِیِّیْنَ بِمَا کُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْکِتَابَ وَبِمَا کُنتُمْ تَدْرُسُونَ۝وَلاَ یَأْمُرَکُمْ أَن تَتَّخِذُواْ الْمَلاَئِکَۃَ وَالنِّبِیِّیْنَ أَرْبَاباً أَیَأْمُرُکُم بِالْکُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ(سورۃ آل عمران:۸۰۔۷۹)

’’کسی آدمی کو شایاں نہیں کہ اللہ تو اُسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور و ہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ بلکہ یہ کہ تم ربانی ہو جاؤ کیونکہ تم کتاب پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو ۔ او ر اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو رب بنا لو۔ بھلا جب تم مسلمان ہو چکے تو کیا اُسے زیبا ہے کہ تمہیں کافر ہونے کو کہے۔‘‘

اس سارے معاملے کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں، اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی تلبیس اور دھوکہ دہی کی کوئی گنجائش ہے۔ اگر جمہوریت جیسی فضول چیزوں کے ذریعے اور فقط نعرے لگانے سے اسلام کا قیام ممکن ہوتا تو پھر انبیا و رسل علیہم السلام کو اپنی جان جوکھوں میں نہ ڈالنی پڑتی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْا عَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَاُوْذُوْا حَتّٰٓی اَتٰھُمْ نَصْرُنَا وَلَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ وَلَقَدْ جَآئَکَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْن(سورۃ الانعام:۳۴)

’’اور تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے ، تو وہ تکذیب اور ایذا پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی، اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں اور تم کو پیغمبروں کی خبریں پہنچ چکی ہیں‘‘۔

ہمارے رب کی کتاب حکیم تو ہمیں یہ کہتی ہے کہ:

وَلَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَاِنَّہٗ لَفِسْقٌ وَاِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰٓی اَوْلِیٰٓئِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ وَاِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ(سورۃ الانعام:۱۲۱)

’’اور جس چیز پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے اسے مت کھاؤ کہ اس کا کھانا گناہ ہے اور شیاطین اپنے رفیقوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو یقیناً تم بھی مشرک ہوجاؤگے۔‘‘

اس کے برعکس جمہوریت کا مطالبہ ہے کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ قوانین کی بالا دستی قبول کرو، ان کی اطاعت کرو اور انہیں مقدس و محترم جانو۔ اگر ایسا کرو گے تو تم پر کوئی ملامت یا مواخذہ نہیں بلکہ یہی عین مصلحت ہوگی۔ گویا پارلیمنٹ کی کامل اطاعت کریں گے تو دین جمہوریت کے مطابق آپ موحدین میں شمار ہوجائیں گے۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version