اسرائیلی جارحیت کے ہاتھوں ۲۴۳فلسطینی غزہ پر بے محابا بمباریوں کے نتیجے میں شہید، (بشمول ۶۶بچے) اور ۱۹۰۰سے زائد زخمی ہوچکے۔ شیخ جراح (مشرقی یروشلم کا مقبوضہ فلسطینی علاقہ) کو زبردستی خالی کرانے (عالمی حقوق انسانی کے قوانین کی خلاف ورزی)سے یہ نئی جنگ چھیڑی گئی۔ اگرچہ نیا کچھ بھی نہیں۔ ۱۹۴۸ء میں فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کرنے سے آج تک اسرائیلی عفریت ایسی ہی مہم جوئیوں سے اپنے اصل ہدف پر بڑھتا چلا گیا ہے۔ گریٹر اسرائیل کا قیام۔ مسجد اقصیٰ اور قبۂ صخرہ کو ڈھاکر ہیکل سلیمانی کی تعمیر۔ اسرائیل قدم بہ قدم انگریز حکومت سے اعلان بالفور (۱۹۱۷ء) کا پروانہ حاصل کرکے صلیبی صہیونی گٹھ جوڑ کے تحت فلسطینی خون بہاتا، زمینوں سے انہیں بے دخل کرتا ۲۰۲۱ء میں آن پہنچا ہے۔ نتیجہ یہ کہ سرزمین فلسطین کے اصل باشندے پوری دنیا میں مہاجر (Stateless) بناکر بکھیر دیے گئے۔ اندر غزہ (روئے زمین کی سب سے بڑی انسانی جیل)، مغربی کنارہ میں اور مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی عرب کے نام سے رہ رہے ہیں۔اعلان بالفور کے وقت یہودی آبادی فلسطین میں ۵۶ ہزار تھی یعنی ۵ فیصد سے بھی کم تھی۔ آج۱۹۴۸ء میں قیامِ اسرائیل کے بعد یہ تعداد دس گنا سے زائد بڑھ چکی ہے۔ پوری دنیا میں بکھرے یہودی مقبوضہ فلسطین میں لابسائے اور سرزمین کے حقیقی وارثوں کو دنیا بھر میں بکھیر دیا مہاجر کیمپوں میں، یا اجنبی ممالک میں۔ اس وقت جو الاؤ بھڑکایا ہے یہی مسلسل فلسطینیوں کا مقدر رہا۔ ۲۰۱۴ء میں ایسی ہی جنگ سات ہفتے جاری رہی اور بائیس سو (۲۲۰۰) فلسطینیوں کا خون پی کر ٹلی۔
کہانی آج بھی وہی ہے۔ امارات، بحرین ودیگر مسلم ممالک اسرائیل دوستی کے بخار میں مبتلا ہیں۔ اب غزہ کی عمارتوں کا خونچکاں ملبہ، ننھے بچوں کی آہیں کراہیں،سفید براق کفنائے ننھے پھول، برج خلیفہ سی بلند وبالا دوستی اور تعلقات پر نوحہ کناں ہیں، سوالیہ نشان ہیں۔ تاریخ سے ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ دوست دشمن کی پہچان تک نہ ہوسکی۔ سورۂ فاتحہ نے کیا مانگنا سکھایا تھا، فرفر پڑھ گئے، فہم وفراست کے بغیر۔ مغضوب وضالین کی محبت کے اسیر۔ مرعوبیت کے مارے۔ نہیں دیکھ پاتے کہ سیکولرازم کا پرچارک مغرب، اسرائیل اور مسلمانوں کا معاملہ آتا ہے تو کٹر مذہبیت کا دورہ انہیں پڑ جاتا ہے۔ خواہ برطانیہ کا (نسلی طور پر مسلمان گھر کی اولاد) وزیراعظم بورس جانسن ہو یا آنجہانی اشتراکیت کی خدائی کے دعویدار روس کا پوتن ہو (جو اب کٹر عیسائی ہے قدامت پرست!)۔ امریکہ، فرانس ہو یا جرمنی، آسٹریا۔ بیک زبان صلیبی صہیونی اتحادی، سیسہ پلائی دیوار میں ڈھلے کھڑے ہیں۔
جنگ عظیم دوئم کے بعد بننے والی مسلمان حکومتیں، آزادی کے نام پر بدترین فکری ذہنی غلامی کے اسیروں کے ہاتھ رہیں۔ ادھر سلطان عبدالحمید کا غیرت مندانہ جواب تاریخ میں جگمگا رہا ہے۔ یہودی لالچ، دباؤ، منت سماجت کے جواب میں خلیفہ سلطان نے کہا: ’پیسہ اپنے پاس رکھو۔ عثمانی کبھی دشمنوں کے مال سے کھڑے کیے محلات میں پناہ نہ لیں گے۔ دوبارہ جرأت مت کرنا۔ میں اس سرزمین کی مٹھی بھر خاک بھی نہیں دے سکتا۔ یہ میری ملکیت نہیں پوری امت مسلمہ کی ہے۔ امت نے اس کے لیے جہاد کیا اور اپنے خون سے اسے سینچا ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں، سینے میں خنجر گھونپ لوں گا، زمین یہودیوں کو نہیں دوں گا‘۔
ایمان اور غیرتِ دینی سے بھرا جواب خلافت کی میراث ہے، جو آج کے مسلمان جمہوروں کو آئینہ دکھاتا ہے! پھر خلافت ٹوٹ گئی۔ ہم جہاد سے نکل کر کفر کے دوست اور اتحادی بن گئے۔ جہاد کا تصور بھی بھیانک خواب بنا دیا گیا۔ جھوٹے نبی، علمائے سُوء کھڑے کرکے ارکان اسلام کے شوکت وعظمت قائم کرنے والے اس رکن کو قصۂ ماضی بنا دیا گیا۔ اس کی جگہ ڈراموں میں جہاد ہوگا۔ عبادت سمجھ کر یہ ڈرامے دیکھے جائیں گے۔ ادھر فلسطینی شیر تنہا اپنی جانوں پر اسرائیلی وحشت وسربیت جھیل رہے ہیں۔
۲۰۰۱ء کی چھیڑی جنگ کا ابتدائیہ دیکھیں تو ایک پورا مذہبی فلسفہ اتحادی فوج میں سمویا ہوا نظر آتا ہے۔ ’ہر مجدون‘ پر لاکھوں کتابیں فروخت ہوئیں۔ یعنی وہ بہت بڑی جنگ (جسے احادیث میں ملحمۃ الکبریٰ فرمایا گیا ہے) جس کے بعد ان کے عقیدے کے مطابق مسیح (دجال) ورلڈ گورنمنٹ قائم کرے گا۔ یہودی میڈیائی پراپیگنڈا امریکی عوام میں یہ عقیدہ پھیلانے میں کامیاب رہا کہ اسرائیل خدا کی مرضی سے قائم ہوا اور عیسائیوں پر اس کی حفاظت لازم ہے۔ بش بہت سنجیدگی سے یہ سمجھتا تھا کہ عراق کی جنگ کے ذریعے وہ دروازہ کھلے گا جس سے بالآخر مسیح (الدجال) کے آنے کی راہ ہموار ہوگی۔ مسلمانوں کا حال اسلام سے جان چھڑانے کا رہا۔ حکمران، میڈیا، قیادتیں سبھی گریز پا رہیں۔ گلۂ وفائے جفا نما جو حرم کو اہلِ حرم سے ہے،کسی بت کدے میں بیان کروں تو صنم پکارے ہری ہری!
امریکی صدور اسرائیل کے حوالے سے کس درجہ وفاداری رکھتے ہیں اس کا اندازہ ان کے اظہار عقیدت سے ہوتا ہے۔ مثلاً، آنجہانی صدر ریگن کا کہنا تھا’میرا عقیدہ ہے کہ آخری جنگ یروشلم میں لڑی جائے گی، جس میں مشرق سے مسلمانوں کی اور مغرب سے عیسائیوں کی فوج آئے گی اور بالآخر مسیح آکر فتح حاصل کریں گے‘۔ ریگن پابندی سے اس یہودی صومع میں حاضری دیتا تھا، جہاں اسرائیل کے لیے مزید زمین کے حصول کی دعا کی جاتی تھی واز جملہ امریکہ آمین باد! کلنٹن (سابق امریکی صدر) نے بھی کہا تھا’میری تمنا ہے کہ میں اسرائیل میں مورچہ لگاکر رائفل سے اسرائیل کے دفاع کے لیے لڑنے کی سعادت حاصل کروں‘۔ اب اگر امریکہ پوری ڈھٹائی سے اسرائیلی مظالم کی پشت پناہی کر رہا ہے، تو کیا عجب ہے۔ پچھلے سال بھی امریکہ نے تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی امداد اور پانچ سو ملین ڈالر میزائل دفاع میں اشتراک کی مد میں نچھاور کیے ہیں، عوام کے ٹیکسوں سے پیسہ نچوڑکر، ۱۹۴۹ء سے اب تک پچاسی ارب ڈالر دے چکا ہے۔
امریکی عوام ان گناہوں میں شریک ہیں۔ امریکی عوام سیاہ فام جارج فلوئیڈ کو پولیس کے گھٹنے تلے دبا دیکھ کر سیاہ فام حقوق کی تحریک لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ پورے امریکا میں دو قسم کے بینر لہرا رہے تھے: ’سیاہ فام زندہ رہنے کا حق رکھتے ہیں‘۔ اور فلوئیڈ کے دبے گھٹے الفاظ کا بینر: ’میں سانس نہیں لے سکتا‘۔ عین یہی تصویر فلسطینی نوجوان کی اسرائیلی فوجی کے گھٹنے تلے سوشل میڈیا پر دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ ’میں سانس نہیں لے سکتا‘ کی بہتّر سالہ کہانی ہے۔ فلسطینی بیت المقدس، اقصیٰ کے اصل متولی، باسی، محافظ، سانس لینے، زندہ رہنے کا حق دنیا سے مانگ رہے ہیں۔ مغرب اور اسرائیل کا اشتراک ان کے حقوق اور سانسیں سلب کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ اس جنگ میں اسرائیل کا سہولت کار ہے۔
دہشت گردی اگر کسی بلا کا نام ہے تو ریاستی دہشت گردی اور جنگی جرائم کا اسرائیل ڈٹ کر ارتکاب کررہا ہے۔ امریکا خود غزہ حملے سے پہلے (حملے کے لیے؟) سات سو پینتیس (۷۳۵) ملین ڈالر کے درست نشانہ لگانے والے سمارٹ بم اسرائیل کو فراہم؍فروخت کرچکا ہے۔وہ مذمتی، نصیحتی بیان یا قرارداد تک اسرائیل کے خلاف پیش کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا۔
جس عالمی برادری کو مخاطب کرکے قراردادیں پاس کرتے پکارا جاتا ہے، اس کا محل وقوع کیا ہے؟ کشمیر پر بھی ہم آزما چکے۔ روہنگیا پر مظالم، شام کی تباہی، یہ سب تنازعے نہیں ننگی جارحیت اور جنگی جرائم ہیں۔ عالمی برادری کانے دجال کی نمائندہ ہے۔ امریکہ چین کو ایغور مسلمانوں کی حق تلفی جتانے میں پیش پیش ہے اور چین اب امریکہ کو برا بھلا کہہ رہا ہے اسرائیل کی پشت پناہی پر! باریاں لگا رکھی ہیں مسلمان اجاڑنے پر!
امریکہ اور یورپ کا حقیقی چہرہ کھل کر سامنے آگیا۔ غزہ کی آزمائش کے آئینے میں سبھی کی حقیقت کھل گئی۔ جب دنیا بھر میں ان چودھریوں کو برا بھلا کہا جانے لگا تو پانی سر سے گزرتا دیکھ کر امریکہ لب کشا ہوا دھیرے دھیرے۔ اسرائیل کے بھرپور دفاع کے دنوں میں غزہ کو جی بھر کے ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا مسلسل شہری آبادی پر میزائل برساکر۔ اب امریکی سینیٹ میں بھی فلسطینیوں کی حمایت کی قرارداد پیش ہوگئی۔ کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ، ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا! اب جنگ بندی ہوگئی۔ غزہ اور سبھی فلسطینیوں نے خوفزدگی اور رواداریوں بھرے اسلام کے پرچار اور غلغلے کے اس دور میں بے مثل شجاعت اور بھرپور مزاحمت کا غیرمتزلزل مظاہرہ کیا ہے۔ شہدا کا خون سے تر چہرہ امت کی رگوں میں زندگی کی حرارت لوٹانے کا سامان ہے۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ یہ امت کے لیے تریاق ہے۔ منتقلیٔ خون کا عمل ہے بے جان، بے روح اجسادِ خاکی میں! سلام ہے فلسطین کے شیروں کو! ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں تھی! جنگ بندی غزہ کی خاطر نہیں اسرائیل کے لیے ہوئی ہے۔ اہل غزہ نے جو ہزاروں راکٹ (پٹاخوں کے برابر تباہ کن میزائلوں کے مقابل) برسائے اس سے بارہ اسرائیلی ہلاک ہوئے لیکن خوف اور بے یقینی کی مسلسل کیفیت نے نفسیاتی طور پر اسرائیلیوں کا بھوسا بنا دیا۔ سو یہ احسان خود انہی پر ہے۔ نیتن یاہو کی سیاسی ناکامیوں کی مطلوبہ رفوگری کا کام بھی ہوگیا۔ سو یہ فتح اہل غزہ کو مبارک ہو۔ دونوں کامیابیاں سمیٹیں۔ شہادتوں سے سرخروئی اور برسرزمین استقلال بھری اخلاقی فتح!
ان دو ڈھائی ہفتوں میں اسرائیلی عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ یہ وقتی جنگ بندی پر ختم ہونے والی کہانی نہیں ہے۔ یعنی آگے چلیں کے دم لے کے! فتنۂ دجال آگے بڑھ رہا ہے۔ طبل جنگ بج چکا۔ ابراہیم معاہدات کی قلعی کھل گئی۔ اسرائیل کو یہ معاہداتی مسلم ممالک اف تک نہ کہہ سکے! اسرائیل کا براہمیت سے کیا واسطہ! یہی دجل اور دجالیت ہے اور یہ جنگ اس کی نمائندہ ہے۔
[یہ مضمون پہلے ایک معاصر اردو روزنامے میں شائع ہو چکاہے۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭