کسی دانا کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی، ’انٹر سروسز انٹیلی جنس‘ کا نہیں ’انٹر سیاست انٹیلی جنس‘ کا مخفف ہے۔ آئی ایس آئی = فوج، سو فوج ہی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا تعلق ان لوگوں سے نہیں ہے جن کی نظر میں سیاست اور عسکریت، سفارت و معیشت وغیرہ الگ الگ سیاروں اور مداروں کا نام ہوتا ہے۔ یہ نظریہ کہ فوج کا کام محض بیرک میں رہنا ہوتا ہے، سیاست دان دار السیاست میں، سفیر سفارت خانوں میں اور معیشت دان معاشی اداروں اور حلقوں میں بیٹھیں، عدلیہ محض ایک اندھا ادارہ ہو جو بس جو کتاب میں درج ہے اسے دیکھ کر ’انصاف‘ کرے، صحافی محض رپورٹر ہوتا ہے: ایک یوٹوپیا کا تصور ہے اور یوٹوپیا کا بھی تصورِ باطل۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ’انسانوں‘کی مزعومہ تاریخ میں آج تک کہیں بھی یہ یوٹوپیا قائم نہیں ہو سکا۔ آج کی ’اینڈ آف ہسٹری‘ کی دعوے دار امریکی تہذیب میں بھی یہ موجود نہیں۔ امریکہ میں کوئی سیاسی فیصلہ ڈیپ سٹیٹ یا پنٹاگان کے بغیر نہیں ہوتا۔ دوسری طرف سوِلین صدر کمانڈر ان چیف ہوتا ہے۔
اسلام میں بھی ایسا ہی ہے کہ دینِ اسلام انسانوں کے لیے اترا ہے، فرشتوں کے لیے نہیں جن کے اپنے اپنے مقررہ وظائف (ڈیوٹیاں) ہیں اور وہ دوسرے کے کام کی طرف نظر نہیں کرتے۔ ہاں مزاجوں کا اختلاف ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی پر سیاست غالب ہے، دوسرے پر عسکریت۔ چونکہ دنیا خیر و شر کے معرکے کا میدان ہے سو ہر شخص کسی نہ کسی صورت جنگ کا حصہ ہوتا ہے۔ جنگیں مشترکہ طور پر لڑی جاتی ہیں۔ سیاست دان و سفارت کار عسکری میدان میں بھی ہوتے ہیں اور عسکری میدانِ سیاست و سفارت میں۔
یہ وضاحت تو اصولی سی ہو گئی۔ موضوعِ متعلقہ پاک فوج کی سیاست ہے۔ ایسی فوج جس کی سیاست کا مقصد کسی ملک و ملت کی بقا و نفع و دفاع نہیں بلکہ اپنے ادارے کے مفادات ہیں (جو ذاتی مفادات کے ضامن ہیں) جنہیں قومی سلامتی سے قومی مفاد وغیرہ گاہے بگاہے کہا جاتا رہتا ہے۔ پھر فوج کی سیاست میں مداخلت پر اپنی پہلی وضاحت کے باوجود ہمیں اعتراض بھی ہے اور اس کا سبب فوج کا اپنا دوغلا پن ہے۔ فوجی حلف اٹھاتے ہیں کہ ہم سیاست میں مداخلت نہیں کریں گے، پھر آئی جے آئی بناتے ہیں، ق لیگ بناتے ہیں، ڈی پی سی بناتے ہیں، پاکستان عوامی تحریک (طاہر القادری) کے چلے ہوئے کارتوس میں نیا بارود بھر کر پھر پٹاخہ بجاتے ہیں، پی ٹی آئی بناتے ہیں، تحریک لبیک کا ’فیض‘ آباد دھرنا دلواتے ہیں، وہاں کارکنوں کو عین موقع پر پہنچ کر پانچ پانچ ہزار روپے دیتے ہیں، گال تھپتھپاتے ہیں اور پھر کہتے کہ یہ سب ’oath of a soldier‘ کے خلاف نہیں۔ مسئلہ دھوکے اور فریب کاری کا ہے۔
دین کو ایک لحظے کے لیے چھوڑ دیجیے، یہی سیاست اگر ملکی و قومی مفاد کے لیے ہو تو ملک کی شہ رگ کشمیر ہے وہاں خیانت کیوں اور قوم میں تو بنگالی بھی تھے اور بلوچ بھی ہیں وہاں سوتیلے باپ والا سلوک کیوں؟ مسئلہ عسکری بینک و فوجی فاؤنڈیشن سے عسکری و ڈیفنس ہاؤسنگ سکیموں کا ہے۔ حالیہ لڑی گئی وار آن ٹیرر کے بعد اس کو کچھ کچھ عقیدوی غلامی کا مسئلہ نہ سمجھیں، یقیناً یہ بھی ہے اور یہ سب کھلا ارتداد ہے لیکن اس نکتے پر غور فرمائیں تو سراج الدولہ سے لے کر ٹیپو کو مارنے والا ایسٹ انڈیا کمپنی کا بازوئے شمشیر زن کلمہ گو ہی تھا۔ ۱۸۵۷ء میں علما سے لڑنے والے کلمہ گو تھے۔ ایوب خان بطور لیفٹیننٹ کرنل برما میں جنگ عظیم دوم لڑتا رہا، یحییٰ خان نے جنگِ عظیم دوم میں شمالی افریقہ، اٹلی اور عراق میں دادِ ’شجاعت‘ دی(وہ بھی اس لیے کہ میڈم نور جہاں اور جنرل رانی جیسیاں پردیس میں نہیں مل سکیں ورنہ وہاں بھی دیس جیسے گل ہی کھلانے اور گل چھرے اڑانے تھے)، ضیاء الحق جنگ عظیم دوم میں برما میں لڑا اور ۱۹۷۰ء کی سیاہ ستمبر کی جنگ میں اس نے کئی ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا، یہ سب جرنیل کلمہ گو تھے۔ وہی بات کہ مسئلہ عقیدے کا ضرور نکلے گا لیکن کرائے پر کام کرنے والے مردان و زنانِ بازاری عقیدہ نہیں پیسہ دیکھتے ہیں، یہ فوجی جاگیریں، پوسٹ ریٹائرمنٹ جاب اور بچوں بھائیوں وغیرہ کا مستقبل دیکھتے ہیں۔ مشرف کے یزمان (بہاولپور) میں مربعے، کیانی کے بھائی کے پاس رنگ روڈ لاہور کے ٹھیکے، شجاع پاشا کی خلیج میں نوکری، راحیل کے پاس برکی روڈ لاہور میں فارم ہاؤس کے لیے اراضی اور سعودی اتحادی فوج کی حوالداری، جنرل رمدے اور گوادر، عاصم باجوہ اور سی پیک کی ٹھیکے داری، اسی کی چند مثالیں ہیں۔
کھلاڑی جتنا کھیلتا ہے اتنا ہی زیادہ مشاق ہوتا جاتا ہے۔ پاک فوج بھی ایسی ہی ہے۔ پاک فوج جس ایسٹ انڈیا کمپنی سے شروع ہوئی انہوں نے بہت سی غلطیاں کیں اور پھر بہت کچھ سیکھ سیکھ کر بہتر کھلاڑی بنے۔ پاک فوج کو جب اقتدار ملا تو انہوں نے اپنے آپ کو گورا صاب کا وارث سمجھا اور پایا۔ جس طرح گوروں نے مقامیوں کو ہانکا تھا، اسی طرح ان رنگ کے کالوں اور دل و ذہن کے گورے ’ناریلوں‘ نے اپنے لوگوں کو ہانکا۔ اسکندر مرزا، ایوب خان، یحییٰ خان چند نام ہیں۔ پاک فوج ایک سیکولر پروفیشنل آرمی تھی اور ہے اور سیکولر کا سب سے سادہ مطلب پیٹ اور پیٹ کے اوپر نیچے کے متعلقات کی غلامی ہے۔ ایسے میں سقوطِ مشرقی پاکستان ہوا۔ فوج اپنی شراب نوشی اور بدکاری کے سبب بدنام ہوئی تو اسی منڈی میں اب فوجیوں نے میلاد منانا شروع کر دیا۔ آج بھی فوجی میسوں میں بنے بارز (bars)جہاں ’اعلانیہ‘ جوس اور کوک ملتی ہے ، اعلانیہ شراب سرو (serve)ہونے کے زمانے کی یاد ہیں۔ یحییٰ اور نیازی کے بعدنیا چہرہ ضیاء الحق تھا۔ ممکن ہے کہ ضیاء اپنی ذاتی زندگی میں تہجد گزار ہی ہو۔ اور تہہ در تہہ اندھیرے میں شاید ایک چراغ ہو لیکن ہر شے کو ماپنے کا ایک پیمانہ ہوتا ہے اور شریعتِ محمدی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کسوٹی پر ضیاء الحق ایک مسلم سلطان قرار نہیں پاتا، سو اس کی ذاتی زندگی جو بھی ہو اس سے فرق نہیں پڑتا، بعض حضرات کا خیال ہے ہرقل قیصرِ روم مسلمان ہو گیا تھا، لیکن کیا اس کی ذاتی زندگی کا اسلام و قیام اس کی قوم، بلکہ حکمرانوں سے شریعت کو جو کردار مطلوب ہے اس اعتبار سے اس کے اپنے لیے بھی کامیابی کا سبب بنا؟ زیادہ سے زیادہ ضیاء الحق نے کچھ کاسمیٹک تبدیلیاں کیں، لیکن کیا میک اپ سے چہرے کے اصلی داغ دھبے مٹ بھی جاتے ہیں؟ اس بات کا ذکر کیے بغیر بھی چارا نہیں کہ بعض لوگ دین دار بھی اور سیکولر بھی ضیاء کو اورنگ زیب عالم گیرؒسے ملاتے ہیں، جو سراسر کم فہمی اور کوتاہ نظری ہے۔ عالم گیرؒ کے نفاذِ شریعت اور شرعی اقدامات کی باس اور برکات آج چار صدیوں بعد بھی موجود ہیں بلکہ مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کی بات میں کچھ اضافے کے ساتھ، ’اکبر کے زمانے میں جو جھکڑ چلا تھا اس کے بعد جن تن آور درختوں کے سبب دین برِّ صغیر میں بچ پایا ان میں مجدد الفِ ثانی، خانوادۂ شاہ ولی اللہ، سیّد احمد شہید اور اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہم کا بنیادی کردار ہے‘۔ یہ بات بھی لائقِ اعتنا ہے کہ عالم گیرؒ نے محض قرآن پاک کی تفاسیر ہر فوجی چھاؤنی میں نہیں رکھوائی تھیں بلکہ فتاوئ عالمگیری ملک کا قانون تھا۔ جب کہ ضیاء کے طیارے کی تباہی کے ساتھ اور روس کے افغانستان سے جانے کے بعد ہمیں مشرف جیسے لوگ نظر آتے ہیں، یادش بخیر: مشرف کو ضیاء نے خود اپنی پسند پر بریگیڈئیر کے رینک پر ترقی دی اور اس کی deployment سیاچن محاذ پر کی۔
مفاد داڑھی میں تھا تو داڑھی اور اگر شراب میں ہو تو شراب۔ اگر مشرف کو بنی اسرائیل جیسے علما بسیار مل جاتے تو وہ پرویزی–غامدی ٹائپ شریعت نافذ بھی کر دیتا(گو کہ غامدی بیانیے کے مطابق تو امریکہ میں بھی ’شریعت‘ ہی نافذ ہے)، لیکن مفادات و حالات دونوں موافق نہ تھے، جیسے ضیاء نے کہا تھا کہ ’آپ آٹو کریسی کو نہ لائیے، پلوٹو کریسی کو نہ لائیے، ڈیمو کریسی کو نہ لائیے…… ڈیموکریسی کی ’کریسی‘ لے لیجیے اور ’شوریٰ کریسی‘ کو تو لائیے کہ یہ (شوریٰ کریسی) اسلام کا نظام ہے!‘۔
ایوب، یحییٰ، ضیاء، یہ سب بیڈ فیس (bad face)ہیں۔ اب فوج میں لوگوں نے سوچا کہ ’وہ مزا شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں‘، تو پیچھے بیٹھ کر ہی سارے کام کیے جائیں۔ سو کیانی، امریکہ کا من موہنا آ بیٹھا۔ اب سب کام محض سیاست یعنی پالیٹکس سے ہونے لگے، بقولِ امیرِ شریعت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کہ پالیٹکس کا دین میں کوئی وجود نہیں اور سیاست الشرعیہ ایک بالکل مختلف چیز ہے۔سو شطرنج بازوں کا قبضہ ہو گیا۔
پریس کلبوں اور نیوز ڈیسکوں پر گردش کرتی ایک سٹوری کے مطابق (جو اب تک کہیں پبلش نہیں ہوئی اور یہ سٹوری غالباً آبپارہ سے ہی لیک ہوئی) مشرف نے افتخار چودھری کے خلاف جو ریفرنس بھیجا تھا اس میں خفیہ محرک کیانی تھا اور کیانی نے یہ کام امریکی ایما پر کیا تا کہ مشرف کو گرایا جا سکے اور مشرف دیگر عوامل کے سبب گرا بھی، مشرف کے عوام میں غیر مقبول ہونے کے تار پتر اس زمانے میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹریسن نے بھی امریکہ روانہ کیے۔ مشہور سیکولر سیاست دان اور صحافی ایاز امیر کے مطابق (اور اس نے بھی لکھا کہ’’ اگر یہ بات درست ہے تو) طاہر القادری اور پی ٹی آئی کے حالیہ لانچ کے پیچھے جنرل پاشا کا ہاتھ ہے‘‘ (مینارِ پاکستان پر پی ٹی آئی کا مشہور جلسہ ان دنوں نیا نیا ہوا تھا)۔ یہی بات پھر پچھلے سال چودھری پرویز الٰہی نے سلیم صافی کو انٹرویو میں کھلم کھلا کہہ بھی دی۔ پھر ۲۰۱۳ء میں اسٹیبلشمنٹ کی رضا مندی سے ہی نواز شریف اقتدار میں آیا، لیکن اس نے آنے کے بعد پھر فوج کو آنکھیں دکھائیں، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ، لیٖتیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے ’بول‘ لانچ کیا (میڈیا ہاؤس کی بات ہو رہی ہے)، نواز شریف نے اس کی ہوا مشاہد اللہ خان جیسے جیالوں سے نکلوا دی۔ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید (جو اس وقت میجر جنرل تھا)نے فیض آباد، اسلام آباد میں اتنا بڑا دھرنا دلوا دیا 1۔ آخر کار پرانے سارے پیادے مہرے فوج نے باہر نکال دیے اور بشریٰ بی بی کے نقاب میں آبپارہ کے جادو گروں نےعمران خان کو وزیر اعظم بنوا دیا۔ یہ سب شطرنج بازوں کا کمال ہے، جو شطرنج کھیل کھیل کر اب مشاق کھلاڑی بن چکے ہیں۔
حامد میر کو سات سال پہلے گولیاں ماریں (مقصد قتل کرنا نہیں تھا ورنہ حملہ آور پیٹ کے بجائے سر پر گولیاں مارتے، گو کہ ہمیں حامد میر سے بہر حال ہمدردی ہے لیکن جس صحافت سے حامد میر جیسے لوگ تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور جس جمہوریت کے لیے کوشاں ہیں یہ سب خود سراب ہیں)۔ لیکن وہ باز نہ آیا۔ میر شکیل الرحمٰن بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا، بلکہ میڈیا اور انٹیلی جنس کی عالمی تاریخ میں اتنا بڑا واقعہ ہو گیا کہ موجود (in service)انٹیلی جنس چیف (ظہیر الاسلام) کی تصویر (حامد میر پر بطورِ حملہ آور) جیو ٹی وی پر چلتی رہی۔ نتیجتاً پورا جنگ–جیو گروپ زیرِ عتاب آ گیا، پھر بھی یہ سارے ڈٹے رہے2۔
اس کے بعد کے سالوں کے شطرنجی ہلے میں نصرت جاوید گیا، طلعت حسین اور مطیع اللہ جان کی وکٹیں گریں لیکن حامد میر خود بھی اور جنگ –جیو کی سپورٹ کے ساتھ کھڑا رہا۔
شطرنج بازوں نے اب اگلی چال چلی۔ تین چار دہائی پرانا کیس نکال کر نیب کو دیا اور میر شکیل کو اندر کیا اور جنگ –جیو کا کاروبار آدھا کر دیا۔
حامد میر پچھلے مہینے فوج کے خلاف بولا تو شطرنج بازوں نے پیچھے بیٹھ کر حامد میر کو بھی مات کر دیا۔ جیو نیٹ ورک کے ایڈیٹوریل بورڈ نے (جو شاید پہلے آبپارہ دربار میں حاضر ہوا تھا)حامد میر پر ادارتی پالیسی کے تحت پابندی لگا دی۔ کچھ دن مزید گزرے تو بقول حامد میر کے کہ بدترین آمر پرویز مشرف نے مجھے ٹی وی سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن میرا کالم اس نے بھی بند نہ کروایا، موجود (عمران –باجوہ) راج نے کالم پر بھی پابندی لگوا دی۔اب حامد میر ٹی وی پر آئے یا نہ آئے ، اس نے جس ’قلم‘ سے ’جنگ‘ میں ’کمان‘ بنا کر تیر چلائے تھے وہ قلم کمان اس کو واپس لوٹائی جائے یا نہیں، بہر کیف شطرنج کی یہ بازی، گولی، اغوا، گمشدگی وغیرہ سے زیادہ پکی ثابت ہوئی۔
امریکہ کے غلام شطرنج بازوں سے ہی مجھے ہمدردی ہے اور نہ پروین شاکر سے، لیکن پروین شاکر کی شطرنج بازوں پر لکھی ایک آزاد نظم کے چند مصرعے یاد آ گئے:
…… اذانوں سے پہلے جو بیدار ہوتے تھے (نماز کے لیے نہیں پروفیشنل ڈرل کے لیے)
اب دن چڑھے تک
چھپر کھٹ سے نیچے اترتے نہیں
دُھوپ اگر سخت ہو جائے
بارش ذرا تیز ہو جائے تو
یہ جواں سال
گھر سے نکلتے نہیں
سرحدوں کے نگہبان اب کرسیوں کے طلب گار ہیں
اپنے آقا کے دربار میں (شاید پروین شاکر کا اشارہ بھی بطرفِ امریکہ ہے)
جنبشِ چشم و ابرو کی پیہم تلاوت میں مصروف ہیں
سر خمیدہ ہیں
شانے بھی آگے کو نکلے ہوئے
بس نصابِ تملّق کی تکمیل میں منہمک!
میرا دل رو پڑا ہے
اے خدا!
میرے پیارے وطن پر یہ کیسی گھڑی ہے (جو دراصل، چوہتّر برس سے ٹلی نہیں ہے)
تراشے ہوئے جسم
آسائشوں میں پڑے
اپنی رعنائیاں کھو رہے ہیں
ذہن کی ساری یکسوئی مفقود ہے
اہلِ طبل و عَلَم
اہلِ جاہ و حشم بن رہے ہیں
اور اِس بات پر
دیکھتی ہوں کہ مغرور ہیں!
(ذرا سوچئے)……پاک فوج ’زندہ باد‘ (ہو تو) پاکستان ’پائندہ باد‘ (ہو گا)؟!
٭٭٭٭٭
1 اس کے متعلق راقم نے اپنے فہم کے مطابق ان دنوں لکھا بھی تھا، ملاحظہ ہو ’فیض آباد دھرنا: ایک جائزہ‘، مطبوعہ مجلہ ’نوائے افغان جہاد‘ (شمارہ: دسمبر ۲۰۱۷ء)
2 ان کے اس ڈٹنے میں اہلِ دین کے لیے بھی غیرت کا سامان ہے کہ یہ سب اپنے باطل نظریات اور دنیوی مقاصد کی خاطر ڈٹے رہے تو اہلِ دین کو تو لازماً ہر مشکل میں ڈٹا رہنا چاہیے۔