فرعونی لشکر

إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعاً يَّسْتَضْعِفُ طَاۗىِٕفَةً مِّنْهُمْ(سورۃ القصص: ۴)1

اور بے شک فرعون نے زمین میں اپنی بڑائی (Supremacy) کا اعلان کیا تھا اور لوگوں کو گروہوں یعنی بنی اسرائیل اور قبطیوں کوادنیٰ (Inferior)اور اعلیٰ(Superior)میں تقسیم کیا تھا۔فرعون نے اپنی قوم قبطیوں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کو ’شودر‘ کا درجہ دے رکھا تھا۔ان پر بے پناہ مظالم ڈھاتا تھا۔ہر سڑک پران کے لیے فوجی چوکیاں قائم کر رکھی تھیں جہاں ان کو بدترین مظالم وتشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ ان کی نسل ختم کرنے کی خاطران کی نرینہ اولاد کو قتل کردیتا تھا تاکہ کل کو ئی داعی و مجاہد بن کر بنی اسرائیل کو اپنا بھولا ہوا سبق یاد نہ دلا دے۔ اس سب کا مقصد یہ تھا کہ یوں بنی اسرائیل قبطیوں (خدا سے پھری ہوئی قوم )کے غلام بنے رہیں۔جب اللہ کا ایک برگزیدہ بندہ موسیٰ (علیہ السلام) اسے تقوی ٰ اختیار کرنے اور اپنی حالت سدھارنے کی دعوت لے کے آیا تو اس کا غرور اور زیادہ بڑھ گیا۔پھر اس نے تکبر میں اعلان کیا ،’’وما ربّ العالمین؟‘‘۔ اپنے امرا اور کور کمانڈروں سے پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ ربّ العالمین کون ہے؟حالانکہ وہ خدا کے منکر نہ تھے، پوجا پاٹ کے حوالے سے تو وہ سورج کے اوتار کی حیثیت سے فرعون کی پوجا پاٹ کرتے تھے اور سورج دیوتا کی بھی اسی باطل سوچ کی بنا پر پوجا پاٹ کرتےتھے کہ وہ خدا کا نمائندہ و عظیم مخلوق ہے۔ لیکن ان کو خوف رب العالمین سے آیا، یعنی ملک کے سیاسی و تمدنی فیصلے چھن جانے کے خوف سے ،اس لیے کہ رب کے معنی ٰاور مفہوم سے وہ واقف تھے کہ اس کے کیا لوازمات ہیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام سے مزید گفتگو میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ ’’ يُرِيدَانِ أَن يُخْرِجَاكُم مِّنْ أَرْضِكُم ‘‘یہ ہمیں اور تمہیں اس سرزمین سے (ہماری حکومت اور باطل سیاست سے )بے دخل کرنا چاہتا ہے اور ربّ العالمین کی حاکمیت( فیصلے کا اختیار)قائم کرنا چاہتا ہے۔بالفاظِ دیگر موجودہ طاغوتی اصطلاح میں حکومتی رٹ کو چیلنچ کرنا چاہتا ہے۔ کورکمانڈروں کو اعتماد میں لیتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومتی رٹ کو ضرور قائم رکھا جائے گا۔ ساتھ میں یہ وارننگ بھی دی ’اے موسی(علیہ السلام) ٰ!باز آجاؤ اپنے بیانیے سے ورنہmissing personsمیں شامل ہوکر جیلوں میں سڑتے رہ جاؤگے۔‘، لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ۔ اس نے اپنے کور کمانڈراور ظالم قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش بھی کی کہ یہ تو ایک چھوٹی سی minority ہے، دہشت گرد گروہ ہے، ’ إِنَّ هَؤُلَاء لَشِرْذِمَةٌ قَلِيلُونَ ‘، یہ اس چھوٹی سی جماعت نے ہماری قوم کو ویسے ہی پریشان کر رکھا ہے ۔ہمارے ملکی قانون اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرکے چھیڑا ہے ۔ پھر چیف آف سٹاف بن کر خوف کے عالم میں یہ دھمکی بھی دی کہ ہماری فوج ہر قسم کی دہشت گردی ،مجاہدین کا راستہ کاٹنے کے لیے مستعد ہے یعنی میرے پاس ایک professional army ہے۔ کوئی نکل آئے اور سرنڈر کر دے تو ٹھیک اورسرنڈر نہیں کرتے تومارے جائیں گے۔ ’وَإِنَّا لَجَمِيعٌ حَاذِرُونَ ‘، اور فوج دہشت گردوں کو کچلنے کے لیے ہروقت چوکنارہتی ہے۔اور یوں اس کی فوج مسلمانوں کے تعاقب میں اپنے جنتوں،خزانوں اور قیام گاہوں ،ہیڈکوارٹر کے باغوں،بیرکوں،کنٹومنٹ اداروں،آفیسر میسوں،عیش ونشاط کی محفلوں سے نکل کرایک لشکر جرارکے ساتھ مجاہدین کے تعاقب میں نکل آئی۔’’ فَأَخْرَجْنَاهُم مِّن جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ۝ وَكُنُوزٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ۝‘‘ ۔ یوں فرعونی لشکردریائے نیل میں غرق کردیا گیا۔

آج کا پینٹا گونی لشکر تو شکست کھا کر واپسی کی راہیں ڈھونڈ رہا ہے۔جبکہ ان کے قلی و ہرکارے، ہراول دستے (فرنٹ لائن) کاتمغہ سینے پر سجائے بیرکوں کے اندرخوف و سراسیمگی کی حالت میں اپنی باری کے منتظر ہیں۔ اگلے مورچوں میں ہلاک ہونے والوں کو تو تب بھی شرم نہیں آئی تھی جب جدید ترین اسلحے سے لیس ہونے کے باوجود نوّے ہزارکی تعداد میں پلٹن میدان میں سرینڈر ہوکر، بزدلی کا ایک نیا باب رقم کرگئے تھے، جب یہ کارگل کے میدان سے بھاگ نکل آئے تھے، جب یہ اپنی شہ رگ کشمیر کا سودا کرچکے تھے، جب انہوں نے چند ڈالروں کی خاطر صلیبیوں کے کرائے کے ٹٹوبن کر حاضرسروس افغان سفیرملاعبدالسلام ضعیف اور سینکڑوں مہمان مجاہدین کو امریکیوں کے حوالے کیا تھا۔جب ان دیوثوں نے قوم کی بیٹی عافیہ صدیقیکو صلیبی کتوں کے آگے ڈال دیا تھا۔

یہ فرعونی لشکر ہے، ہاں با لکل یہی فرعونی لشکر ہے ان کو تو ڈوبنا ہی ہے، لیکن یہ کام اللہ مجاہدینِ غزوۂ ہند و سندھ کے ہاتھوں کروائے گا۔ جب اس خطے کے مغرورومتکبر حکمران اپنے دجالی لشکراوراس کے بزدل جرنیلوں سمیت زنجیروں میں جکڑے جائیں گے،ان شاء اللہ۔

مرگ بر لشکرِ فرعون!

٭٭٭٭٭


1 ’’واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا تھا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا۔‘‘

Exit mobile version