پاکستانی شی جن پنگ

وسعت اللہ خان ایک سیکولر صحافی ہے، لیکن زیرِ نظر تحریر میں اس نے نظامِ پاکستان اور پاکستان کے حکمرانوں کی جو ’منافقانہ‘ تصویر عیاں کی ہے اس سے اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ نوجوان مجاہد واسلامی صحافی ’سیلاب خان‘ نے وسعت اللہ خان کے بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر شائع ہونے والے ایک کالم کے منتخب حصے اپنے حاشیوں کے ساتھ مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ کی مجلسِ ادارت کو ارسال کیے، جنہیں شائع کیا جا رہا ہے۔برادر سیلاب خان کے حاشیوں کے آگے (س خ) کے دستخط درج ہیں۔ (ادارہ)


چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی ایک صدی مکمل ہونے پر وزیرِ اعظم عمران خان نے چینی نظامِ ریاست و حکومت کو جس طرح خراجِ تحسین پیش کیا اگر وہ انہی جذبات کا اظہار اب سے پچاس برس پہلے کرتے تو نہ صرف سرخوں کے کاسہ لیس بلکہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بھی کہلاتے۔ سی آئی ڈی ان کے پیچھے ہوتی اور وہ انڈر گراؤنڈ ہوتے۔1

مگر وقت کی یہی خوبصورتی ہے کہ کل جو ناخوب ہوتا ہے وہ آج خوب ہو جاتا ہے۔

خان صاحب نے چینی صحافیوں سے گفتگو میں چینی نظام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا ’اب تک ہمیں یہ بتایا گیا کہ مغربی جمہوریت سماج سدھارنے کا بہترین نسخہ ہے مگر چینی کمیونسٹ پارٹی نے ایک متبادل مثالیہ متعارف کروایا جس نے سماج میں میرٹ کے اصول کو بالا رکھتے ہوئے تمام مغربی جمہوریتوں کو مات دے دی۔‘

اب تک ہم یہی سمجھتے تھے کہ انتخابی جمہوریت ہی اہل و قابل قیادت کو اوپر لانے اور اسے جوابدہ بنانے کا بہترین راستہ ہے مگر چینی کمیونسٹ پارٹی نے اس تصورِ جمہوریت کے بغیر زیادہ بہتر نتائج حاصل کیے۔ ان کا باصلاحیت افراد کو پرکھ کر اوپر لانے کا طریقہ جمہوری نظام سے کہیں بہتر ہے۔‘2

ہمارا سماج ہو کہ مغربی جمہوریتیں، ان کے ذریعے تبدیلی لانا اس لیے مشکل ہے کیونکہ وہ قوانین و ضوابط کے تابع ہیں۔ جمہوریت میں صرف اگلے پانچ برس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔‘3

چینی صدر شی جن پنگ نیچے سے جد و جہد کرتے ہوئے اوپر تک آئے۔ کوئی شخص ایک طویل جدو جہد اور محنت کے نتیجے میں ہی لیڈر بنتا ہے۔ اس عمل سے مغربی جمہوریتیں محروم ہیں۔ ایک امریکی صدر اس طرح کی آزمائش اور محنت سے نہیں گزرتا۔‘4

جب شی جن پنگ جیسی شخصیات عمل کی بھٹی سے گزر کر اوپر تک پہنچتی ہیں تو پھر وہ نظام کو مکمل طور پرسمجھتی ہیں اور یہ چینی نظام کی ایک انمول خوبی ہے۔‘

اب مجھ جیسے لال بھجکڑ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیا خان صاحب ریاستِ مدینہ چینی ماڈل پر استوار کرنا چاہتے ہیں یا چینی ماڈل اور ریاستِ مدینہ کے تصور کو ایک ہی شے سمجھتے ہیں اور پھر اس میں ان کا پسندیدہ ’قائدِ اعظم اور علامہ اقبال‘ کا خواب کہاں ایڈجسٹ ہوتا ہے اور اسی ماڈل میں اسکینڈے نیویا کی فلاحی ریاست کا ماڈل کیسے گھسایا جا سکتا ہے۔

آسٹریلیا میں ’پلیٹی پس‘ نام ایک جانور پایا جاتا ہے۔ یہ واحد دودھ دینے والا جانور (ممالیہ) ہے جو بچے کے بجائے انڈے دیتا ہے۔ اس کی شکل بطخ جیسی ہوتی ہے جبکہ دھڑ لومڑی کی طرح۔ انگلیوں کی جگہ سمندری سِیل جیسے پنجے ہوتے ہیں۔

گویا پلیٹی پس ایک ایسا جانور ہے جسے دیکھ کر چوں چوں کے مربے کے معنی بخوبی سمجھ میں آسکتے ہیں۔ امید ہے خان صاحب نے کبھی نہ کبھی پلیٹی پس کی تصویر ضرور دیکھی ہو گی۔ یہ صرف اور صرف آسٹریلیا میں پایا جاتا ہے۔

آج کل ویسے بھی دماغ کام نہیں کر رہا۔ جانے میں کیسے خان صاحب کے انٹرویو سے پلیٹی پس تک پہنچ گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خان صاحب کتنے دن اور چینی نظام کے اسیر رہتے ہیں اور انہیں کل کلاں کوئی اور ماڈل اچھا نہ لگنے لگے۔

٭٭٭٭٭


1 وسعت اللہ خان جوانی سے اب تک کے بڑھاپے تک ایک لادین سیکولر ہے۔ جوانی میں وسعت اللہ کا اندر باہر ’سرخہ‘ ہوتا تھا جبکہ حالات اور تقاضائے عمر کے تحت اب صرف اندر سے سرخہ ہے۔ (س خ)

2 ایک لمحے کو ’جمہوریت‘ بمقابلہ ’اسلام‘ کی بحث کو بھول جاتے ہیں۔ اب دنیا میں غلغلہ محض یہ ہے کہ آج ’اینڈ آف ہسٹری‘ کے زمانے میں انسانوں نے مشترکہ طور پر جو بہترین نظام تشکیل دیا ہے وہ جمہوریت ہے(مغربی و مشرقی ، صدارتی و پارلیمانی، اسلامی وِسلامی کی بحث بھی چھوڑ دیجیے)۔ ابھی ڈیڑھ دو ماہ پہلے باجوہ کی زیرِ سربراہی ہونے والے اجلاس میں (جس میں تمام پارٹیوں نے شرکت کی) باجوہ نے (بابائے جمہوریت بنتے ہوئے) امارتِ اسلامیہ افغانستان، القاعدہ اور دیگر ’شدت پسند؍ قدامت پسند؍ دہشت گرد تنظیموں‘وغیرہ کے نظریات کی بات کی اور ساتھ میں امارت اسلامیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’طالبان کے طرزِ عمل نے ثابت کیا ہے کہ ان میں اور القاعدہ میں نظریاتی طور پر کوئی فرق نہیں ہے اور طالبان قوت کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، یہ جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے ۔ اگر طالبان کا یہی رویہ رہا تو ہمیں ان کے متعلق اپنی پالیسی بدلنی ہو گی‘‘ (جیسے کرائے پر کام کرنے والوں کی اپنی بھی کوئی پالیسی ہوتی ہے، بہر کیف!)۔

یہ سب باتیں ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ’جمہوریت‘ وہ دین و نظام ہے جس کے بارے میں گفتگو منع ہے اور امریکہ سے لے کر پاک فوج کے حوالداروں اور صوبیداروں تک کا یہی نظریہ ہے کہ جمہوریت ہونی چاہیے اور جو جمہوریت کے خلاف بات کرے وہ مجرم۔ لیکن عمران خان نے بھی غالباً کمیونسٹ پارٹی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے جمہوریت ہی کی نفی کی ہے۔ کوئی اعتراض یا رِٹ وِٹ چیلنج ہوئی یا نہیں۔ یا قومی مفاد کے تقاضے میں ’چین اپنا یار ہے‘ اور ’امریکہ مائی باپ ہے‘، جیسا دیس ویسا بھیس؟! (س خ)

3 یہاں انہی قوانین و ضوابط کی ’توہین‘ ہوئی ہے جن کے متعلق صوفی محمد صاحبؒ بات کریں تو قابلِ گردن زدنی اور عمران خان کرے تو وژنری لیڈر؟ مجاہدین اس قانون کے بارے میں بات کریں تو ان کی لاشیں ڈیموں اور بیراجوں کے گیٹوں اور دیو ہیکل گراریوں سے قیمہ بن کر نہروں میں ملیں اور ایف اے ٹی ایف سے لے کر حوالداروں تک کا مفاد ہو تو کہیں مدارس و مساجد کو منی لانڈرنگ سے مطعون کر کے اور کہیں ’حرمتِ پاک فوج‘ میں قوانین کی منظوری؟ اسی قانون کے متعلق اہلِ دین بات کریں اور اس کو غیر اسلامی قرار دیں تو وہ خوارج اور باغی، جبکہ قانونِ پاکستان کے مقابلے میں قانونِ چین کی تعریف اور قانونِ پاکستان کو بے کار کہا جائے تو ’ما شاء اللہ و سبحان اللہ!‘؟ (س خ)

4 یہ کہنے والا خود بھی محنت کر کے ’نیچے‘ سے ’اوپر‘ پہنچا ہے۔ لیکن نیچے جو محنت کی ہے وہ بوٹ پالش کر کے چمکانے کی اور بشریٰ بی بی کی جوتیاں سیدھی کرنے کی کی ہے۔ (س خ)

Exit mobile version