[امارت اسلامیہ کی فتح پر کابل میں امریکیوں اور افغان انٹیلی جنس ادارے ’این ڈی ایس‘ کی قید میں رہ چکی ایک بہن کے تاثرات]
میری زندان کی ساتھی، تمہیں تو یاد ہی ہو گا! کچھ زیادہ وقت تو نہیں گزرا… ابھی کابل میں عالمی کفریہ طاقتوں اور ان کے ٹکڑوں پر پلنے والی افغان فوج کا دور دورہ تھا۔ ان کی شان و شوکت کو جب قریب سے دیکھا تو پس از زنداں ہی دیکھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی جب دل ان کی طاقت سے مرعوب ہونے لگتا تو دل ہی کے کسی کونے سے یاد دہانی ہو جاتی:
﴿ لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيْلٌ ۣ ثُمَّ مَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمِھَادُ﴾
میری زندان کی ساتھی، تمہیں تو یاد ہی ہو گا! کس قدر بے بسی کا عالم تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال تھی۔ ہم پر پہرہ دینے والی کابل کی وہ عورتیں جو ہمارے برقع اور نقاب کو حقارت سے دیکھتی تھیں، طالبان اور مجاہدین کے نام سے ہی انہیں نفرت تھی۔ جیل کا یہ عملہ ’نوکریوال‘ کہلاتا تھا۔ ان میں سے کچھ تو ہم پر ترس کھا کر ہی رہ جاتی تھیں۔ اب جب کابل میں احتجاج ہوتا ہے، ’عورتوں کے حقوق‘ مانگے جاتے ہیں، تو انہی ’نوکرانیوں‘ کا خیال آتا ہے۔ ان کی ’آمرہ‘ (سپریٹنڈنٹ) اور بڑی افسران تو شاید ذلت و رسوائی کی زندگی گزارنے بھاگ گئی ہوں گی۔ باقی شاید اب بھی کابل میں بیٹھی ہوں گی۔ اوریہی وہ طبقہ ہے جو ’اسلام‘ سے آزادی کے لیے سڑکوں پرنکلتا ہے۔ چونکہ ان کی وہ ’مادر پدر آزادی‘ سلب ہو گئی ہے جو امریکہ کی موجودگی میں انہیں حاصل تھی۔
میری زندان کی ساتھی! تم سے بھی ’تحقیقات‘ ہوئی ہوں گی۔ جس طرح ہم سے ہوا کرتی تھیں۔ سوچتی ہوں کہ ’این ڈی ایس‘ کے وہ افسران کہاں ہوں گے جو روز ہم سے ہماری رہائی کے بارے میں اور ہمارے بچوں کے بارے میں جھوٹ بولا کرتے تھے۔ جھوٹ بولنے میں ’این ڈی ایس‘ کا کوئی ثانی نہیں۔ شاید اس نے اس معاملے میں ہمارے ملک کی ’سی ٹی ڈی‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہو گا۔ کتنا ناز تھا انہیں اپنی طاقت پر… ایک افسر تو کابل کو ’ناقابل تسخیر‘ کہا کرتا تھا۔ اس کے خیال میں طالبان پورے افغانستان کو بھی فتح کر لیں تو بھی کابل فتح نہیں کر سکتے۔ اب شاید وہ بھی امریکیوں کے جوتے چاٹتا ہوا امریکہ فرار ہو گیا ہو گا۔
﴿ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ﴾
میری زندان کی ساتھی! کس قدر دل دکھتا تھا جب سلاخوں کے پیچھے موجود باپردہ دینی بہنوں کو دیکھتے تھے… جب ہمارے پاس نقاب نہیں تھے، تو انہوں نے ہمارے پردے کا خیال کر کے ہمیں نقاب بنا کر دیے۔ ہمارے پاس کپڑے نہیں تھے، تو جن کے پاس دو جوڑے تھے انہوں نے ایک جوڑہ ہمیں دے دیا۔ سردیوں میں جب ہمارے پاس گرم کپڑے نہیں تھے، تو انہوں نے کمبلوں کی جرابیں بنا کر ہمیں دیں اور گرم چادریں دیں۔ ان کے لیے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ اب وہ بھی ان شاء اللہ اپنے بچوں سمیت آزاد ہوں گی۔ وہ معصوم بچے جنہوں نے آنکھ ہی قفس میں کھولی… جو کھڑکی سے کان لگا کر گاڑیوں کی آواز سن کر خوش ہوتے تھے… جن کے رونے کی آوازیں سن کر خود ہمارے دل اپنے بِچھڑے ہوئے بچوں کے لیے تڑپ جاتے تھے…
میری زندان کی ساتھی! تم کہا کرتی تھی ناں! ہم تو کابل کے بھی دل میں قید بیٹھے ہیں۔ ان شاء اللہ جلد جب طالبان کابل فتح کریں گے تو ہم آزاد ہو جائیں گے۔ بالآخر تمہاری دعائیں قبول ہوئیں اور وہ دن بھی آگیا…
میری زندان کی ساتھی! کس قدر افتادگی کا عالم تھا، جب چاروں طرف اونچی اونچی خار دار فصیلیں، فضا میں ہیلی کاپٹروں کی آمدورفت اور قید میں پڑے بھورے رنگ کی وردیوں میں ملبوس قیدیوں کو دیکھتے تھے… شاید وہاں موجود ہم سب کا ایک ہی جرم تھا کہ اللہ کے دین کی نصرت کے لیے اللہ کے راستے کے راہی تھے…
’این ڈی ایس‘ کے ایک افسر سے جب پوچھا کہ تمہاری فوج رات کو چھاپہ مارتی ہے اور اتنے وسائل اور ٹیکنالوجی کے ساتھ آتی ہے، لیکن راتوں رات فرار بھی ہو جاتی ہے۔ آخر کیوں طالبان سے مقابلہ نہیں کر پاتی۔ جن کے پاس صرف ایک کلاشن کوف ہوتی ہے اور کچھ نہیں؟ تو جواباً کہنے لگا:
’’طالب تو لڑتا ہی شہادت کے لیے ہے (اس کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہوتا) جبکہ ہمارے فوجی مرنے کے لیے نہیں لڑتے۔ انہوں نے اپنی زندگیاں آگے بڑھانی ہوتی ہیں۔‘‘
میری زندان کی ساتھی! کچھ زیادہ وقت تو نہیں گزرا، جب دل میں آتا تھا کہ یہ سرزمین کتنی قربانیاں مانگے گی کہ اللہ کی نصرت آجائے… کیا ہماری زندگیاں بھی فتح کی بہاریں دیکھ سکیں گی؟ کیا ہماری اگلی نسلیں بے خوف و خطر دین کی عظمت و شوکت کا نظارہ کر سکیں گی؟ کیا وہ دن بھی آئے گا کہ یہ قفس توڑ دیے جائیں گے؟
اور وہ دن بھی آگیا… اور کابل فتح ہو گیا…
عالمِ کفر شش و پنج کے عالم میں خود اپنی ہی انگلیاں چباتے ہوئے فرار ہو گیا۔ ساتھ ہی اپنے اُن چیلوں کو بھی لے گیا، جن کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ اور اقوامِ عالم نے ایسی عظیم فتح دیکھی کہ فتح مکہ کی یاد تازہ ہو گئی۔
یہ فتح ان لاکھوں شہداء کی فتح ہے، جنہوں نے نظامِ کفر و کفّار کو شکست دینے کے لیے جان کی بازی لگا دی۔ یہ فتح ان ہزاروں قیدیوں کی فتح ہے جنہوں نے اللہ کے راستے میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ یہ فتح اُن جری و بہادر شاہینوں کی فتح ہے جو آخر تک باطل کے آگے ڈٹے رہے اور غازی بن کر لوٹے۔ اور یہ فتح امت مسلمہ کے ہر اُس فرد کی فتح ہے جو اللہ کے دین کی سربلندی کا خواب دیکھتا ہے۔
لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی… اصل قصہ تو اب شروع ہوا ہے…
وقتِ فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
٭٭٭٭٭