حق اور باطل کی اس بیس سالہ جنگ میں مبارک کامیابی قرون اولیٰ کی طرح بالآخر اسی گروہ کا مقدر ٹھہری، جو حق پر ثابت قدم رہے، اور بڑی سے بڑی آزمائش ان کے پایۂ استقلال کو نہ ڈگمگا سکی۔ وہ ہمیشہ کی طرح اپنے پیش رؤوں خالد ابن ولید اور محمد بن قاسم اور اسی طرح کے دیگر اسلام کے جانباز سپاہیوں کی مثل راہِ حق پر چلتے ہوئے شمعِ ایمان سے مشعل جلاتے رہے۔ اور ان کے اپنے رب پر توکل اور عین الیقین نے ہی آج انھیں اس جدید ٹیکنالوجی کے مقابل عالمِ اسلام کی عظیم فتح سے ہمکنار کیا۔
دورِ حاضر کے ہر بینا و نابینا نے چشمِ تصور سے نہیں، بلکہ اپنی ظاہری آنکھوں سے اسلام کے جانبازوں کی فتح دیکھی، کہ کس شان سے اسلام کے جیالے لا الہ الا اللہ کا پرچم تھامے ملکِ افغانستان میں گھومتے پھرتے نظر آئے۔
جی ہاں! قرآنِ کریم نے آج سے چودہ سو سال پہلے اعلان کردیا تھا کہ حق نے بہر حال غالب رہنا ہے اور باطل نے مٹ جانا ہے۔ قرآنِ عظیم الشان نے واضح اعلان کیا ہے:
﴿اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا﴾ [الإسراء:۸۱]
’’باطل تو ہے ہی مٹ جانے کے لیے‘‘۔
چنانچہ ایمان اور کفر کے مابین اس بیس سالہ معرکے میں فقط ایمانی طاقت سے مالا مال افراد جدیدٹیکنالوجی اور مادی طاقت و قوت سے ٹکراگئے۔ دنیا نے لاکھ ڈرایا دھمکایا کہ کہاں افغانستان جیسا پسماندہ ملک اور کہاں وقت کا فرعون اور سپر پاور، مقابلہ کا کوئی جواز بنتا ہے کیا؟ امریکہ کے حکم پر لبیک کہو اور اس کے آگے سر کو جھکادو، اس کے فرمان کو سر آنکھوں پر رکھو، چند ڈالروں کی خاطر ذلت و رسوائی اٹھاؤ۔ امریکہ نے بھی نتیجہ خیز دھمکیاں دیں کہ مٹ جاؤ گے، ختم ہوجاؤ گے، کیونکہ وہ طاقت کے نشے میں دھت تھا، اسکو اپنی قوت پر فرعونِ موسیٰ کی طرح غرور تھا۔
لیکن! مردِقلندر امیرالمومنین ملا محمد عمر اپنی دور رس نگاہوں سے اس کی بربادی بھانپ چکے تھے، فرمایا کہ ’بش نے ہم سے شکست کا وعدہ کیا ہے جبکہ اللہ نے ہم سے مدد و نصرت کا وعدہ کیا ہے، عنقریب ثابت ہوجائے گا کہ کس کا وعدہ سچا ہے ‘۔
اللہ رب العزت نے بھی ان کے اس قول کو پورا کر دکھایا۔ حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ ’اللہ کے بعض نیک بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تو اللہ ضرور ان کی قسم کو پورا فرماتے ہیں‘۔
چنانچہ ان مٹھی بھر مجاہدین کی جماعت نے اللہ سے کیے گئے عہد کو نبھایا اور ﴿فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ﴾ کا مصداق ٹھہرے۔ إما الفتح أو الشهادة… مذکورہ بالا دونوں کامیابیاں ہی اس گروہ کا مقدر ٹھہریں۔
وقت کا فرعون اپنی ہی قوت کے نشے میں منہ کے بَل جا گرا اور اس کی تباہی و بربادی کا تماشہ دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ واپسی کے راستے تلاشنے لگا، باعزت واپسی کےلیے مذاکرات کی میز سجائی، یوں اپنی واپسی کی راہیں ہموار کیں۔ خیال ہوگا کہ طالبان اتنی جلدی تو برسر اقتدار نہ آئیں گے، کیونکہ اپنی غلام فوج پر بھی تو ناز ہوگا نا! لیکن آقا کی وفاداری میں ان کےغلاموں نے بھی سر منہ لپیٹ کر بھاگنے کی ٹھانی، اور اکثر نے تو تسلیم ہونے میں عافیت جانی۔
بالآخر بنا کسی خانہ جنگی کے، بغیر ہتھیار چلائے پورا کا پورا افغانستان ایک بار پھر طالبان کے ہاتھ آگیا۔ اور امارتِ اسلامی ایک بار پھر معرضِ وجود میں آگئی۔ طالبان نے یہ جنگ محض ایک خطہ کے حصول کے لیے نہیں لڑی تھی، بلکہ یہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے تھی، اللہ کے کلمہ کی سربلندی، رب کی زمین پر رب کا نظام نافذ کرنے، اور نظامِ شریعت کے لئے تھی۔ تو یوں اس جنگ کے للہ فی اللہ ہونے کی بدولت ان سرفروشوں کے قدم قدم پر نصرتِ رب ساتھ رہی۔ شہدا نے اپنے مبارک خون کے ساتھ اس کی مٹی کو سیراب کیا، تو اسیروں کی آہیں اور سسکیاں اور ان کا صبرو توکل اور نیم شب کی گریہ وزاری بھی اس کی آزادی میں شامل رہیں، اور غازیوں کی شب وروزکی طویل جدوجہد، منصوبہ بندی اور دعائیں رنگ لائیں۔ شہداء کے اہلِ خانہ اور یتیموں کے گذرے لمحات، بےکسی اور کسمپرسی میں بِیتے دن، اور صبر ورضا کے ساتھ وقت گزارنا بھی اس سرزمین کی نوخیزی اور آبیاری میں معاون رہے۔
امریکہ کا اصل ہدف ہمیشہ سے اسلام اور اسلام پسند ہی رہے ہیں، اور ان کو ختم کرنے، ان کی طاقت کو زائل کرنے میں وہ ہر دم مصروف رہتا ہے۔ طاقت کےذریعے، سازشوں کے جال بن کر، ہر صورت اسلام کو مٹانا، مسلمانوں کی شان و شوکت کو بزورِ طاقت تلف کرنا دشمنانِ اسلام کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔ لیکن اللہ کے چنے ہوئے منتخب بندوں کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے دین کو بچانے اور اللہ کے کلمہ کی سربلندی کے لئے جہاد جیسی عظیم عبادت میں مصروف رہے گی۔ فرمانِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ’الجھاد ماض إلی یوم القیامۃ‘ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔
دینِ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری رب العالمین نے خود لی ہے، ﴿وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ﴾ کے نزول کے ساتھ اس کی حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔ جس دین کی حفاظت کی ذمہ داری رب العالمین لے رہے ہوں تو اس دین پر چلنے والے، عمل کرنے والے، اور اسکے نفاذ کے لئے سر ڈھر کی بازی لگانے والے کے محافظ و نگہبان بھی تو اللہ تعالی ہی کیوں نہ ہوں گے۔ جو ذات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور میں بدری صحابہ کو اپنے سے تین گنا زیادہ کفار پر فتح دے سکتی ہے تو وہ آج کے مسلمانوں کو بھی دشمنانِ اسلام پر فاتح بناسکتی ہے۔ وہ قادر ذات ہے، امتحان و آزمائش تو ہمارے ایمان کے معیار پر ہے۔
طالبان کے اس مبارک گروہ نے اپنے ایمان کو کامل بنایا اور اللہ سے سب کچھ ہونے کایقین اور اس کی مخلوق سے کچھ نہ ہونے کے یقین کو دلوں میں راسخ کیا تو آج فاتح بن کر ابھرے۔ اس بیس سالہ جنگ میں… جس کے اختتام میں طالبان فاتح قرار دئیے گئے… اس کے اولین دنوں میں قربانیوں کی اَن گنت مثالیں تاریخ کے صفحات پر رقم ہوئی ہیں، لیکن نہ یہ جنگ پیسوں کے حصول کے لئے تھی، نہ اقتدار کا لالچ تھا، بلکہ ایک واضح نظریہ تھا کہ رب کی زمین ہو اور قانون غیر کا چلے، یہ کسی صورت گوارا نہیں۔ پہاڑوں کی سی مضبوط استقامت نے دشمن کے حوصلے پست کردیئے اور وہ سرنگوں ہوا۔ اسلام کا علم، لا الہ الا اللہ کا پرچم ایک بار پھر بلند ہوا۔ دشمنانِ اسلام ایک دفعہ پھر شکست سے دوچار ہوئے۔ توحید کی فضا پھر عام ہونےکی نوید ہے، صحابہ کے متوالے صحابہ کے نقش قدم پر چلنے کو تیار ہیں، چہار اطراف میں شرعی نظام کے لئے کوشاں ہیں۔
یاد رہے کہ اسلام دشمن عناصر کی آنکھوں میں کھٹکنے والی واحد چیز اسلام کا عملی طور پر نفاذ ہی ہے۔ طالبان کی یہ فتح درحقیقت عالمِ اسلام کی فتح ہے۔ طالبان تو ایک آئینہ ہیں، امت کے ہر ہر فرد، گروہ اور مسلم ممالک کے ہر طبقے کے لئے جس میں ہر ایک اپنے آپ کو بخوبی دیکھ سکتا ہے کہ کونسا وہ واحد حل ہے جو ہمیں نظامِ مصطفوی سے ملاسکتا ہے اور خلافت علی منہاج النبوة کو لانے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔
طالبان نے ہم کو فتحِ مکہ کی یاد بھی دلادی اور عام معافی کا اعلان کرکے نبوی اخلاق کو اپنایا۔ باوجود اس عالمگیر کامیابی کے اپنے دشمن کے لئے لچک دار رویہ ہی اختیار کیا اور ایفائے عہد کیا۔ یہ بھی نبی کی سیرت سے حاصل کردہ ایک سبق ہے۔ نظامِ حکومت پر مقرر افراد ہمہ تن کوشاں و مصروف ہیں کہ ہم وہ شرعی نظام لائیں گے جو منہجِ نبوت و خلافت کے مطابق ہوگا۔
پس مبارکباد کے مستحق ہیں یہ لوگ جو نبوی راہ پر چل کر سر بلند ہوئے، احکاماتِ الٰہی کی پیروی کرکے کامران ہوئے، بے مثال قربانیوں کے نتیجہ میں راہرو ہوئے۔ نتیجتاً آخرت میں اجرِ عظیم کے مستحق ہوئے۔ اے طالبان!
تمہی ہو وہ!
شبِ تاریک میں جو روشنی کی جستجو ٹھہرے!
وہ فرزندان ملت ہو،
جو اپنی ملتِ اسلام کی خاطر…
سرِ میداں، عدو کے روبرو ٹھہرے!
رہِ حق پر ثبات واستقامت سے کھڑے ہوکر…
خدا کی نصرتوں کو اپنی جھولی میں لیے…
دنیا کے آگے سرخرو ٹھہرے !
گراں خوابی، خزاں خیزی کے اس آخر زمانے میں
مری مظلوم امت کی تمہی تو آرزو ٹھہرے!