حسنِ خاتمہ کا نسخہ نمبر ۱
ہر فرض نماز کے بعد الحاح سے یہ دعا پڑھنا:
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ہَدَیْتَنَا وَ ہَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ
ترجمہ و تفسیر از بیان القرآن:
’’ اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو کج نہ کیجیے بعد اس کے کہ آپ ہم کو حق کی طرف ہدایت کرچکے ہیں اور ہم کو اپنے پاس سے رحمتِ خاصّہ عطا فرمادیجیے (اور وہ رحمت یہ ہے کہ راہِ مستقیم پر ہم قائم رہیں)۔‘‘
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے استقامت اور حسنِ خاتمہ کی درخواست کا بندوں کے لیے سرکاری مضمون نازل فرمایا ہے اور جب شاہ خود درخواست کا مضمون عطا فرمائے تو اس کی قبولیت یقینی ہوتی ہے لہٰذا اس دعا کی برکت سے استقامت اور حسنِ خاتمہ ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور عطا ہوگا۔
تفسیر روح المعانی میں سے اس آیت کے متعلق کچھ اہم نکتے تحریر کیے جارہے ہیں جس کے پیش نظر اس دعا کا لطف کچھ اور ہی محسوس ہوگا۔
یہاں رحمت سے مراد استقامت علی الدین ہے۔ قَالَ الْاٰلُوْسِیُّ السَّیِّدُ مَحْمُوْدُ الْبَغْدَادِیُّ فِی الرُّوْحِ: اَلْمُرَادُ بِہٰذِہِ الرَّحْمَۃِ التَّوْفِیْقُ لِلْاِسْتِقَامَۃِ عَلٰی طَرِیْقِ الْحَقِّ اور وَہَبْ کے بعد لَنَا اور مِنْ لَّدُنْکَ دو متعلقات نازل فرماکر اصل مطلوب خاص یعنی نعمتِ استقامت اَلْمُعَبَّرُ بِالرَّحْمَۃِ کا کچھ فاصلہ کردیا۔ تَشْوِیْقًا لِّلْعِبَادِ تاکہ بندوں کے شوق میں اضافہ ہو۔جیسے باپ چھوٹے بچے کو لڈو دکھاکر ہاتھ کچھ اوپر کرلیتا ہے تو بچہ شوق سے کودنے لگتا ہے۔ یہ قدر نعمت کا لطیف عنوان ہے۔
لفظ ہبہ سے کیوں تعبیر فرمایا؟ اس میں کیا حکمت ہے؟ بات یہ ہے کہ حسنِ خاتمہ اور استقامت علی الدین دونوں نعمتیں مترادف ہیں اور لازم و ملزوم ہیں۔ پس یہ دو عظیم الشان نعمتیں جن کی برکت سے جہنم سے نجات اور دائمی جنت عطا ہوجاوے یہ ہماری محدود زندگی کے ریاضات کا صلہ ہر گز نہیں ہوسکتی تھیں، اس لیے حق تعالیٰ شانہٗ نے اپنے بندوں کو اس اہم حقیقت سے مطلع فرمادیا کہ خبردار! اپنے کسی عمل کے معاوضہ کا تصور بھی نہ کرنا۔
یہ استقامت جس کو حسنِ خاتمہ لازم ہے یہ وہ عظیم اور غیرمحدود دولت ہے جو دخولِ جنت کا سبب ہے جس کا تم کوئی معاوضہ ادا نہیں کرسکتے کیوں کہ مثلاً اسّی برس کے نماز روزوں سے اسّی برس کی جنت ملنے کا قانون اور ضابطہ سے جواز ہوسکتا تھا، لیکن ہمیشہ کے لیے غیرفانی حیات کے ساتھ جنت کا عطا ہونا اور محدود عمل پر غیرمحدود اجر و انعام صرف حقِ رابطہ اور عطائے حق ہے۔ پس لفظ ہبہ سے درخواست کرو کیوں کہ ہبہ بدون معاوضہ ہوتا ہے اور ہبہ میں واہب اپنے غیرمتناہی کرم سے جو چاہے دےدے۔
علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ اسی نکتے کو بیان فرماتے ہیں وَفِی اخْتِیَارِ صِیْغَۃِ الْہِبَۃِ إِیْمَاءٌ أَنَّ ہٰذِہِ الرَّحْمَۃَ أَیْ ذَالِکَ التَّوْفِیْقَ لِلْاِسْتِقَامَۃِ عَلَی الْحَقِّ تَفَضُّلٌ مَحْضٌ بِدُوْنِ شَائِبَۃِ وُجُوْبٍ عَلَیْہِ تَعَالٰی شَانُہٗ یعنی اور صیغۂ ہبہ سے تعبیر میں اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمادیا کہ اس رحمت سے مراد وہ توفیقِ حق ہے جس کی برکت سے بندہ دین پر قائم رہتا ہے اور جو کہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور ان کا کرم ہے جس کو عطا فرمائیں۔اِنَّکَ اَنْتَ الْوَہَّابُ یہ معرضِ تعلیل میں ہے کہ تم کو ہم سے ہبہ مانگنے کا کیا حق ہے اور کیوں حق ہے کیوں کہ ہم بہت بڑے داتا اور بخشش کرنے والے ہیں۔
حسنِ خاتمہ کا نسخہ نمبر ۲
حسنِ خاتمہ کے لیے کثرت سے پڑھیں ’یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیْثُ‘، یعنی اے زندہ حقیقی کہ جس کی برکت سے تمام کائنات قائم ہے اور ہر ذرّۂ کائنات کا بقا جس کے فیض پر منحصر ہے آپ کی رحمت سے فریاد کرتا ہوں۔یَاحَیُّ: اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی سے انسان نفس کے شر سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ أَزَلًا اَبَدًا وَّحَیَاۃُ کُلِّ شَیْءٍ بِہٖ مُؤَبَّدًا،حی کے معنیٰ ہیں جو ازل سے ابد تک حی ہو اور ہر شے کی حیات اس سے قائم ہو۔ حی اور قیوم میں اسمِ اعظم کا اثر ہے۔یَاقَیُّوْمُ: أَیْ قَائِمٌ بِذَاتِہٖ وَیُقَوِّمُ غَیْرَہٗ بِقُدْرَتِہٖ، قیوم وہ ہے جو اپنی ذات سے قائم ہو اور تمام کائنات کو اپنی قدرتِ غالبہ کاملہ سے قائم رکھنے والا ہو۔اَسْتَغِیْثُ: أَیْ أَطْلُبُ الْاِغَاثَۃَ وَأَسْأَلُ الْاِعَانَۃَ، طلب کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے فریاد رسی کو اور اس کی اعانت کو۔ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ کا وِرد استقامت اور حسنِ خاتمہ کے لیے اور ہر بلا اور غم سے نجات کے لیے اکسیر ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی غم اور صدمہ اور کرب و اضطراب لاحق ہوتا تھا تو آپ اس وِرد کو کثرت سے پڑھتے تھے۔
عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا کَرَبَہٗ أَمْرٌ یَّقُوْلُ یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ أَسْتَغِیْثُ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر ایک لمحہ بھی انسان نفس کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ۔ ترجمہ و تفسیر از بیان القرآن:نفس تو ہر ایک کا بُری بات بتلاتا ہے بجز اس نفس کے جس پر میرا رب رحم کرے۔ جیسا کہ انبیا کے نفوسِ مطمئنہ ہوتے ہیں جن میں حضرت یوسف علیہ السلام کا نفس بھی داخل ہے۔ خلاصہ یہ کہ میری عصمت میرا ذاتی کمال نہیں بلکہ رحمت و عنایتِ الٰہیہ کا اثر ہے۔اَمَّارَۃٌ: کَثِیْرَۃُ الْأَمْرِ (لِلْمُبَالَغَۃِ) یہاں الف لام عَلَی السُّوْءِ لِلْجِنْسِ ہے۔ پس قیامت تک کے معاصی کے تمام انواعِ موجودہ اور مستقبلہ اس لفظ میں شامل ہیں کیوں کہ جنس انواع مختلف الحقائق پر مشتمل ہوتی ہے۔ پس وہ نئے نئے ایجادات و آلاتِ معاصی بھی اس سوء میں شامل ہوگئے جو قیامت تک ایجاد کیے جائیں گے۔
روح المعانی میں ہے کہ مارحم میں مامصدریہ، ظرفیہ، زمانیہ ہے۔ جس کی تفسیر یہ ہے کہ نفس ہر وقت بُرائی کی طرف راہ دکھاتا ہے، مگر جب تک بندہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور رحمت کے سائے میں رہتا ہے نفس اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے
گر ہزاراں دام باشد بر قدم
چوں تو بامائی نباشد ہیچ غم
ترجمہ:اگر ہزاروں گناہ کے جال ہر قدم پر ہوں، مگر اے خدا! آپ کی عنایت کے ہوتے ہوئے کوئی غم نہیں۔
رَحِمَ جو ماضی تھا ما مصدریہ نے اسے مصدر بنادیا۔ پس علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر روح المعانی کے مذکورہ مضامین سے معلوم ہوا کہ کسی کا نَفْس اگر ایک نَفَسْ بھی عصمتِ حق اور رحمتِ حق سے محروم ہوجاوے تو جس سوء میں بھی مبتلا ہوجاوے سب کا خوف ہے۔ (روح المعانی، پارہ: ۱۳، صفحہ: ۲)
حسنِ خاتمہ کا نسخہ نمبر ۳
مسواک کرنا ہے۔علامہ شامی ابنِ عابدین رحمۃ اللہ علیہ جلد۱، صفحہ۸۴ پر رقم طراز ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: مسواک کرنے والے وضو سے جو نماز ادا کی جائے گی اس کا ثواب ستّر گنا ان نمازوں سے زیادہ ہوگا جو بغیر مسواک والے وضو سے پڑھی جاویں گی۔
سنتِ مسواک کی برکت سے موت کے وقت کلمۂ شہادت یاد آجاوے گا۔ اور مسواک کی سنت کے منافع سے موت کے وقت کلمۂ شہادت کا یاد آنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرماویں احسان و کرم سے، آمین۔ مسواک پکڑنے کا مسنون طریقہ:بحوالہ شامی جلد۱، صفحہ۸۵ بروایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ ہے کہ چھنگلیا (چھوٹی انگلی) کو مسواک کے نیچے رکھے اور انگوٹھا مسواک کے اوپری حصے کے نیچے رکھے اور باقی انگلیاں مسواک کے اوپر رکھے۔
حسنِ خاتمہ کا نسخہ نمبر ۴
ایمانِ موجودہ پر شکر کرنا ،یعنی ہر روز موجودہ ایمان پر شکر ادا کرنا، اور وعدہ ہے: لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ، اگر تم لوگ شکر ادا کروگے تو ہم اپنی نعمتوں میں ضرور ضرور اضافہ کردیں گے۔ پس ایمان پر شکر ایمان کی بقا بلکہ ترقی کا ذریعہ ہے۔
حسنِ خاتمہ کا نسخہ نمبر ۵
بدنظری سے حفاظت پر حلاوتِ ایمان عطا ہونے کا وعدہ ہے اور حلاوتِ ایمان جب دل کو ایک مرتبہ عطا ہوجاوے گی تو پھر کبھی واپس نہ لی جاوے گی۔ پس حسنِ خاتمہ کی بشارت اس عمل پر بھی ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:إِنَّ النَّظَرَ سَھْمٌ مِّنْ سِھَامِ إِبْلِیْسَ مَسْمُوْمٌ مَنْ تَرَکَھَا مَخَافَتِیْ أَبْدَلْتُہٗ اِیْمَانًا یَّجِدُ حَلَا وَتَہٗ فِیْ قَلْبِہٖ۔یہ حدیثِ قدسی ہے جس کی تعریف ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرح فرمائی ہے:ہُوَ الْحَدِیْثُ الَّذِیْ یُبَیِّنُہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِلَفْظِہٖ وَیُنْسِبُہٗ إِلٰی رَبِّہٖ، حدیثِ قدسی وہ ہے کہ جس کو نبی اپنے الفاظ سے بیان کرے اور نسبت اس کی حق تعالیٰ شانہٗ کی طرف کرے۔ترجمۂ حدیث: تحقیق نظر ابلیس کے تیروں میں سے زہر میں بجھایا ہوا ایک تیر ہے، جس بندے نے میرے خوف سے اپنی نظر کو (نامحرم لڑکی سے یا حسین لڑکے سے) محفوظ رکھا، اس کو ایسا ایمان عطا کروں گا جس کی حلاوت وہ اپنے قلب میں محسوس کرے گا۔
ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’اور یہ حلاوت ِایمان کبھی واپس نہ ہوگی‘۔ پس اس عمل پر بھی ایمان پر خاتمہ کی بشارت ثابت ہوگئی۔ یہ دولت حسنِ خاتمہ آج کل سڑکوں پرتقسیم ہورہی ہے۔ نظر کی حفاظت کیجیے اور یہ دولت حاصل کرلیجیے۔
حسنِ خاتمہ کا نسخہ نمبر ۶
اذان کے بعد کی دعا ہےجس کو دعائے وسیلہ بھی کہتے ہیں۔ اذان کے کلمات کا جواب دے دیجیے۔ پھر جب اذان ختم ہو تو آپ درود شریف پڑھ کر دعائے وسیلہ پڑھیے:اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّامَّۃِ، وَالصَّلٰوۃِ الْقَائِمَۃِ، اٰتِ مُحَمَّدَنِ الْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ، وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَ نِ الَّذِیْ وَعَدْتَّہٗ، إِنَّکَ لَاتُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۔ ’’إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ‘‘یہ آخری جملہ مسند امام بیہقی میں ہے۔
اس دعا پر وعدہ ہے ، بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں جو اس دعا کو پڑھے گا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجاوے گی، اور جب اس دعا پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت واجب ہوگی تو ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں اس میں حسنِ خاتمہ کی بشارت موجود ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوگا کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کافر کو نہیں مل سکتی۔
حسنِ خاتمہ کا نسخہ نمبر ۷
اہل اللہ کی صحبت اختیار کرنا اور ان سے محبت کرنا صرف اللہ کے لیے۔ بخاری شریف کی دو روایتوں سے پتا چلتا ہے کہ اس عملِ مذکور سےحسنِ خاتمہ کا فیصلہ مقدر ہوجاتا ہے۔پہلی روایت: اہلِ ذکر یعنی صالحین اور اہل اللہ کی شان میں حدیث وارد ہے کہ ایک شخص مجلسِ ذکر میں صالحین اور اہل اللہ کے مجمع میں کسی حاجت سے جاتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ گیا، اللہ تعالیٰ نے ملائکہ سے ان ذاکرین کی مغفرت کا اعلان فرمایا۔ تو ایک فرشتہ نے کہا کہ یااللہ! مگر فلاں شخص تو کسی ضرورت سے آیا تھا اور ان میں بیٹھ گیا اور وہ خطاکار بھی ہے۔ ارشاد ہوا کہ ہُمُ الْقَوْمُ لَا یَشْقٰی بِہِمْ جَلِیْسُہُمْ یہ ایسےمقبولانِ حق ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا محروم اور شقی نہیں رہ سکتا، وَلَہٗ قَدْ غَفَرْتُ میں نے اس کو بھی بخش دیا۔
حضرت ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ شرح بخاری فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ تحقیق اللہ والوں کے پاس بیٹھنے والا ان ہی کے ساتھ درج ہوجاتا ہے، تمام ان نعمتوں میں جو ان پر اللہ فضل فرماتا ہے اور یہ اہل اللہ کا اکرام ہے۔ (جیسےمعزز مہمان کے ساتھ ان کے ادنیٰ خدام کو بھی اعلیٰ نعمتیں ان کی خاطر دے دی جاتی ہیں)۔ دوسری روایت: بخاری و مسلم میں ہے کہ تین خصائص جس میں ہوں گے وہ ان کی برکت سے ایمان کی حلاوت پائے گا:۱) جس کے قلب میں اللہ تعالیٰ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام کائنات سے زیادہ محبوب ہوں۔ ۲) جو کسی بندے سے محبت کرے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے۔۳) اور جو ایمان عطا ہونے کے بعد کفر میں جانا اتنا ناگوار سمجھے جیسا کہ آگ میں جانے کو۔
ایمان پر خاتمہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے کسی سے محبت کرنا ایک عظیم ذریعہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہ محبت اللہ والوں ہی کے ساتھ اعلیٰ اور کامل درجہ کی ہوتی ہے۔ پس اس کا کامل نسخہ کسی اللہ والے سے محبت کرنا ہے۔ حضرت ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ، جلد۱، صفحہ۷۴ پر تحریر کرتے ہیں کہ ایمان کی حلاوت جب ایک مرتبہ عطا ہوجاتی ہے تو کبھی واپس نہیں لی جاتی (یہ شاہی عطیہ ہے، شاہِ کریم عطیہ دے کر کبھی واپس نہیں لیا کرتا ہے) پس اللہ والوں کی محبت سے حلاوتِ ایمانی کا عطا ہونا اور اس پر حسنِ خاتمہ کا عطا ہونا نہایت واضح ہوگیا۔
اللہ والی محبت کی پانچ شرطیں
حضرت ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ محبت خالص اللہ والی جب ہوتی ہے: لَایُحِبُّہٗ لِغَرَضٍ وَ عَرَضٍ وَعِوَضٍ وَلَا یَشُوْبُ مَحَبَّتَہٗ حَظٌّ دُنْیَوِیٌّ وَلَا أَمْرٌ بَشَرِیٌّ۔
۱)یہ محبت غرض سے نہ ہو۔ ۲)سامانِ دنیوی مطلوب نہ ہو۔۳) معاوضہ مطلوب نہ ہو۔ ۴) دنیوی لطف مطلوب نہ ہو۔ ۵) بشری تقاضے سے پاک ہو۔
حلاوتِ ایمانی کی پانچ علامات
۱) اِسْتِلْذَاذُ الطَّاعَاتِ عبادات میں لذت ملتی ہے۔۲) اِیْثَارُہَا عَلٰی جَمِیْعِ الشَّہَوَاتِ تمام خواہشات پر طاعات کو ترجیح دیتا ہے۔۳) تَحَمُّلُ الْمَشَاقِّ فِیْ مَرْضَاۃِ اللہِ اپنے رب کو راضی کرنے میں ہر تکلیف کو برداشت کرتا ہے۔۴) تَجَرُّعُ الْمُرَارَاتِ فِی الْمُصِیْبَاتِ ہر مصیبت میں صبر و رضا کا گھونٹ پی لیتا ہے۔۵) اَلرِّضَاءُ بِالْقَضَاءِ فِیْ جَمِیْعِ الْحَالَاتِ ہر حال میں اپنے مولیٰ کی قضا پر راضی رہتا ہے۔ اعتراض اور شکایت نہیں کرتا نہ زبان سے نہ قلب میں۔
وعظ ’’محاسنِ اسلام‘‘ میں ہے کہ ہندو آریوں نے جب سارے مسلمانوں کو ہندو مذہب میں لانے کی تحریک چلائی تو وہ لوگ جو اللہ والوں سے تعلق رکھتے تھے ان کو سخت مایوس کرتے تھے۔
چناں چہ کانپور میں ایک موقع پر کسی نے کہا کہ اتنے جوتے سر پر لگاؤں گا اگر تم نے اسلام کے خلاف کوئی بات کی۔ تم لوگ جانتے نہیں ہو کہ ہم مولانا گنگوہی (رحمۃ اللہ علیہ) کے مرید ہیں۔ اور دہلی کے آریہ مرکز کے دفتر میں رپورٹ آئی کہ ہمارا اثر ان لوگوں پر بالکل نہیں ہوا جو کسی اللہ والے سے تعلق رکھتے ہیں
یک زمانہ صحبتے با اولیا
بہتر از صد سالہ طاعتِ بے ریا
ترجمہ:۔ایک زمانہ اولیاء اللہ کی صحبت سو سال کی اخلاص کی عبادت سے افضل ہے۔ اس لیے کہ ان کی صحبت سے ایسا یقین اور ایمان عطا ہوتا ہے کہ جو مرتے دم تک سلب نہیں ہوتا۔ حکیم الامت مجدد الملت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس شعر کا یہی مطلب بیان کیا ہے کہ صحبتِ اہل اللہ سے قلب میں ایسی بات پیدا ہوجاتی ہے جس سے خروج عن الاسلام کا احتمال نہیں رہتا۔ خواہ فسق و فجور ہوجاوے، مگر دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ مردودیت تک نوبت نہیں پہنچتی، لیکن اس کے برعکس ہزار برس کی عبادت شیطان کو مردود ہونے سے نہ روک سکی۔ یہی معنیٰ ہیں اس شعر کےکہ
یک زمانہ صحبتے با اولیا
بہتر از صد سالہ طاعتِ بے ریا
کیوں کہ ظاہر ہے کہ ایسی چیز جو مردودیت سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کردے وہ ہزار سال کی اس عبادت سے بڑھ کر ہے جس میں یہ اثر نہ ہو۔
حسنِ خاتمہ کا نسخہ نمبر ۸
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصَّدَقَۃَ تُطْفِیُٔ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِیْتَۃَ السُّوْءِ۔ صدقہ اللہ تعالیٰ کا غضب ٹھنڈا کرتا ہے اور بُری موت کو دفع کرتا ہے۔حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لمعات میں تحریر فرمایا ہے کہ بُری موت کے دفع کرنے سے مراد سوئے خاتمہ سے حفاظت ہے۔
ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صدقہ بُری موت سے حفاظت کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ موجودہ بلا و ناگوار امور سے محفوظ رکھتا ہے اور انجام میں سوئے خاتمہ کو دفع کرتا ہے یعنی حسنِ خاتمہ کا ذریعہ ہے۔
حسنِ خاتمہ کا نسخہ نمبر ۹
اللہ تعالیٰ کی محبت سیکھنا ہے اور محبت کے اعمال اختیار کرنا ہے اور ان دونوں کا ذریعہ اہلِ محبت اللہ والوں سے محبت کرنا ہے۔
حدیثِ نبوی میں ارشاد ہے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُّبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ، اے اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کی محبت کا اور آپ سے محبت کرنے والوں کی محبت کا اور ان اعمال کا جو آپ کی محبت کا ذریعہ بنیں۔ محبتِ حق اور محبتِ اعمال برائے محبتِ حق کے درمیان میں اللہ والوں کی محبت کی درخواست کی گئی ہے جو دونوں کا ذریعہ ہے یعنی اللہ والوں کی محبت سبب ہوگا ان کی صحبت اور مجالست کا اور یہ سبب ہوگا محبتِ حق اور اعمالِ صالحہ کا۔
اہلِ محبت سوئے خاتمہ سے محفوظ ہوں گے۔ اس کی دلیل کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے ایمان والو! جو تم میں سے مرتد ہوگا دینِ اسلام سے تو اللہ تعالیٰ جلد ایسی قوم پیدا فرمائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ محبت فرمائیں گے اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت کریں گے۔ اپنی محبت کی تقدیم میں اشارہ فرمادیا گیا کہ تمہاری محبت اصل نہیں ہماری محبت کا عکس اور ظل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارتداد کے مجرمین کے مقابلے میں اہلِ محبت کو بیان فرمانا واضح دلیل ہے کہ یہ ارتداد سے محفوظ ہوں گے۔ پھر اہلِ محبت کی تین علامات بیان فرمائیں:۱) اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ……الٰخ، ایمان والوں سے اپنے کو مٹاکر نہایت تواضع سے ملتے ہیں اور کفار پر سخت ہوتے ہیں۔۲)یُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ، اللہ کی راہ1 میں ہر مجاہدہ کو برداشت کرتے ہیں ۔۳) وَلَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ملامت کرنے والوں کی ملامت سے اندیشہ نہیں کرتے،ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو فنائیت اور عبدیت کی تعلیم دی ہے کہ محبت کی مذکورہ نعمتیں جن کو عطا ہوں وہ اپنا کمال نہ سمجھیں بلکہ ہمارا فضل سمجھیں۔ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان القرآن کے مسائل السلوک میں فرمایا ہے: بعض صوفیادھوکے میں مبتلا ہو کر اپنے کمالات کو بجائے فضلِ حق سمجھنے کے اپنے مجاہدات کا ثمرہ سمجھتے ہیں اور یہ عین ناشکری ہے۔ کیوں کہ حق تعالیٰ کی عظمت غیرمحدود ہے اور اس کے حقوق غیرمحدود ہیں۔ پس ہمارا کوئی مجاہدہ خواہ کتنا ہی عظیم الشان ہو وہ محدود اور ناقص ہوگا اور واجب الاستغفار ہوگا اور ناقص پر ثمرات کا عطا ہونا عقلاً بھی محض فضل ہے۔علمِ عجیب:حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ سلاطین جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے معزز لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ پس حق تعالیٰ جس کے قلب کی بستی میں اپنا نورِ خاص داخل کرتے ہیں تو اس کے قلب کے تکبر اور عجب کے چودھریوں کو فنا کردیتے ہیں۔ پس تعلق مع اللہ کے لیے فنائیت لازم ہے۔ اِنَّ الْمُلُوْکَ ……الخ (سورۃ النمل:۲۴)۔
(مضمونِ ہٰذا ماخوذ از: ’کشکولِ معرفت‘)
٭٭٭٭٭
1 ’امام ابن حجر العسقلانیؒ فرماتے ہیں: ’جہاں ’فی سبیل اللّٰہ‘ کی اصطلاح آ جائے تو اس سے مراد ’جہاد‘ ہے۔‘‘ بحوالہ صوتی حلقہ جاتِ درسِ کتاب ’مشاری الاشواق‘ از شیخ انور العولقی شہید۔ (ادارہ)