بھارت: ریاست اتر پردیش کے وزیر کا لاؤڈ سپیکر سے اذان پر اعتراض
عالمی خبر رساں ادارے وائس آف امریکہ کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے وزیر آنند سروپ شکلا نے ضلع بَلیا کے مجسٹریٹ کے نام ایک خط میں تحریر کیا ہے کہ پورے دن اذان ہوتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں یوگا، پوجا اور دفتری امور میں خلل ہوتا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوؤں کی جانب سے بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف پُر تشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ۔ ان پُرتشدد واقعات کو ریاستی اداروں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے اور حالیہ بیان مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کے عزائم اور نفرت کی عکاسی کرتا ہے ۔
قرآن عظیم الشان میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:
لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الْيَھُوْدَ وَالَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا(سورۃ المائدۃ: ۸۲)
’’تم اہلِ ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے۔‘‘
اپنے آپ کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہنے والا بھارت آج مسلمانوں کے وجود ہی کو مٹانے کے در پے ہے، آئے روز میڈیا اور سوشل میڈیا میں مسلمانوں پر تشدد اور قتل کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں اور مسلمانوں کو ان کی مذہبی عبادات و رسومات تک کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا ہے ۔ یہ وہی بھارت ہے جو کبھی عظیم اسلامی برصغیر کا حصہ ہوا کرتا تھا اور جس پر سینکڑوں برس تک مسلمانوں کی حکومت رہی۔ مسلمان ہی اس خطے کے اصل وارث ہیں اور مخبرِ صادق محمد رسول اللہﷺ کی پیشن گوئی کے مطابق آخری زمانہ میں غزوۂ ہند لڑا جائے گا جس میں فتح مسلمانوں کی ہوگی اور یہ فاتح لشکر سندھ و ہند کے بادشاہوں کو زنجیروں میں جکڑ کر لائے گا۔
پس، ضرورت اس امر کی ہے کہ برِّ صغیر پاک و ہند کے مسلمان اپنے آپ کو اس غزوۂ ہند کے لیے تیار کریں اور اس کی صدا لگانے والوں کی پکار پر لبیک کہیں ۔ہر ممکن طریقہ سے ان کی مدد کریں اور اس عظیم جد و جہد میں اپنے آپ کو کھپانے اور گھلانے کا عزم لیے میدانوں کا رُخ کریں۔ اللہ پر توکل کرتے ہوئے اپنے آج کو امت کے کل پر قربان کرنے کے لیے نکل آئیں۔
آپ کے سامنے افغانستان کی سرزمین پر جہاد فی سبیل اللہ کی برکت سے بے سر و سامان مجاہدین کو اللہ تعالیٰ نے عظیم فتح سے نوازا اور کفر کے سردار آج امارت سلامی افغانستان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نظر آرہے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب دنیا ایک بار پھر برِّ صغیر میں ایک عظیم اسلامی سلطنت کے قیام کو اپنی آنکھوں سے دیکھے گی اور گائے اور بندر کے پجاری اہلِ ایمان کے ہاتھوں رسوا ہو کر رہیں گے،ان شاء اللہ!
امریکی کمپنی بوئنگ کو امریکی انتظامیہ کی جانب سے اجازت دی گئی ہے کہ وہ F15EX جیٹ طیارے بھارتی فضائیہ کو بیچ سکے
حال ہی میں یہ خبر نظر سے گزری کہ امریکی کمپنی بوئنگ کو امریکی انتظامیہ کی جانب سے اجازت دی گئی ہے کہ وہ F15EX جیٹ طیارے بھارتی فضائیہ کو بیچ سکے۔ جدید ہتھیاروں سے لیس یہ طیارہ خراب موسم میں بھی پرواز اور حملے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس سے قبل گزشتہ سال ماہِ اکتوبر میں بھی امریکہ اور بھارت کے وزرائے داخلہ و خارجہ کی ملاقاتیں ہوئی تھیں جن میں امریکہ کی جانب سے بھارت کو ڈرون طیارے، ان کے نقشے اور دیگر لوازمات دینے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔
امریکہ کی جانب سے بھارت کے لیے یہ نوازشات ایک ایسے وقت میں سامنے آرہی ہیں جب امریکہ شکست کھا کر افغانستان اور اس خطے سے اپنی افواج نکالنے پر مجبور ہے لیکن جاتے جاتے وہ اس خطے میں مسلمانوں کے خلاف جاری عالمی جنگ کی کمان بھارت کےہاتھوں میں دینا چاہتا ہے۔ دوسری جانب کشمیر میں شریعت یا شہادت کے نعرہ اور منہج کو اپنانے والے مجاہدین آئے روز ہندو افواج اور اداروں کی ناک میں دم کیے ہوئے ہیں اور ان مجاہدین کی عددی قوت، صلاحیت اور عوامی حمایت و پذیرائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ تیسری طرف عالمی جہادی تحریک بھی ہندوستان کے مکروہ اور غاصبانہ وجود کے خلاف کمر بستہ ہے اور غزوۂ ہند کی دعوت روز بروز پھیلتی جارہی ہے ۔
اس بدلتے منظر نامہ میں کفر و شرک کے علمبردار خوفزدہ بھی ہیں اور پریشان بھی، اور اسی عالَم میں ایک دوسرے کے لیے عسکری امداد اور تعاون کو بڑھا رہے ہیں۔
ماسکو: امارت اسلامی افغانستان کے سابق آرمی چیف ملا محمد فضل اور امریکی غلام افغان فوج کا آرمی چیف رشید دوستم آمنے سامنے
۱۸ مارچ کو روس کے شہر ماسکو میں افغان امن کے حوالہ سے ایک بڑی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں دیگر ممالک کے ساتھ بنیادی طور پر امارتِ اسلامیہ کے قطر دفتر کے معزز اراکین بھی شریک ہوئے ۔ ان ارکان میں ایک عظیم شخصیت ملامحمدفضل کی بھی تھی ۔ ملامحمدفضل امارتِ اسلامیہ کے پہلے دور ِاقتدار میں آرمی چیف تھے۔ امریکی حملہ کے وقت وہ افغانستان کے شمالی شہروں میں داخلی شورشوں سے نمٹنے کے لیے اپنی فوج سمیت وہاں کے غداروں سے برسرِپیکار رہے اور پھر وہیں سے گرفتار ہوکر بدنام ِ زمانہ امریکی جیل گوانتنامو میں تیرہ سال قید رہے۔ ۲۰۱۴ ء میں ایک امریکی فوجی کے تبادلہ میں اپنے پانچ ساتھیوں سمیت رِہا ہوئے اور قطر آگئے۔ ملامحمدفضل امارت اسلامیہ افغانستان کے سیاسی دفتر کے رکن ہیں اور امارت کے دیگر اراکین کے ساتھ متعدد ممالک کے اسفار اور دوروں میں بھی شریک رہے ہیں ۔
گزشتہ دنوں جب وہ روس میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کے لیے ماسکو پہنچے تو اس کانفرنس میں کابل انتظامیہ کی جانب سے امریکی غلام افغان ملی فوج کا آرمی چیف رشید دوستم بھی پہنچا ہوا تھا ۔ آج سے بیس سال پہلے یہی ملا فضل تھے جنہوں نے امریکی یلغار کے بعد شمالی افغانستان میں وہاں کے وحشی کمانڈر رشید دوستم سے معاہدہ کیا ۔ یہ معاہدہ اس بات پر طے ہوا کہ امارتِ اسلامیہ کے تمام مجاہدین کو باعزت جانے کا راستہ دیا جائے گا جس کے بدلے میں تمام مجاہدین دوستم کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے۔ اس معاہدہ میں رشیددوستم نے اپنی ایمانداری اور عہد کی پاسداری کی خوب یقین دہانی کرائی ۔ مگر جب عہد ووفا کے پیکر،آزادی وحریت کے علمبردار اور اسلامی تشخص کے رکھوالے مجاہدین ِ امارت نے شرط کے مطابق اپنا اسلحہ دوستم کے حوالے کردیا تو ہَوَس کے پجاری اور غلامی کی دلدل میں پھنسے رشیددوستم اور اس کے اہلکار مجاہدین پر جھپٹ پڑے اور خونخوار بھیڑیے بن کر ظلم ووحشت کی انتہا کردی۔
جس ملافضل نے دوستم کے وعدہ پر یقین کیا ،دوستم نے بذاتِ خود اُسی کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر بڑی بے دردی اور بے رحمی سے محض اپنی غلامی کو پختہ کرنے کے لیے امریکہ کے حوالہ کر دیا ، جس کی وجہ سے وہ تیرہ سال موت وحیات کی کشمکش میں، انتہائی وحشیانہ جیل میں کفار کے ظلم و ستم کا شکار رہے ۔
تاریخ نے پلٹا کھایا اور اللہ کے فضل سے آج وہی ملا فضل ایمانی رعب و دبدبہ کے ساتھ کفر کے دیگر سرداروں کی موجودگی میں اسی رشید دوستم کے سامنے موجود ہیں۔
ایک تاریخ وہ تھی جس میں رشید دوستم اپنی اسلام دشمنی اور فرعونیت کا اظہار کرتے ہوئے ملافضل کی زندگی اور موت کا مالک بنا ہوا تھا۔ اس نے ملافاضل کے ساتھ کیے گئے وعدے کو اسی لیے پسِ پشت ڈالا کہ اسے یقین نہیں تھا کہ یہ لوگ دوبارہ سراٹھانے کے قابل ہو جائیں گے۔
اور ایک تاریخ آج کی ہے جس میں وہی ملا فضل سراٹھائے،آزادی وحریت کے علمبردار اور اسلامی امت کا فخر بن کر چلے آرہے تھے اور بلند سر سے اپنی نشست پر تشریف فرما تھے ۔ جبکہ ان کے مدمقابل وہی رشیددوستم غلامی و ذلت کا لبادہ اوڑھے موجود تھا اور اس کے بیٹھنے کی کیفیت سے اندازہ ہورہاتھا کہ وہ اس موقع پر اپنی ذلت خوب ہی محسوس کر رہا ہے اور حالات کا یہ منظر،تاریخ کا یہ پلٹا کس قدر اسے کوسے جارہا ہے!
یہ ایک سبق ، ایک درس ، ایک عبرت ہے ۔ ایک چشم کشا حقیقت ہے ان لوگوں کے لیے جو کفار کی طاقت سے متاثر ہو کر ’مٹھی بھر‘ مجاہدین کو ہی ملامت کیے جاتے ہیں اور جن کے ذہن کفار اور ان کے حواریوں کی ظاہری برتری سے خوفزدہ ہی رہتے ہیں ۔ حالانکہ اصل طاقت کا مالک تو وہی رب ِ کائنات ہے اور اُسی کے ہاتھوں میں زندگی اور موت ہے۔ وہی اپنے دین کی سربلندی کے لیے نکلنے والوں کا نگہبان و کارساز ہے اور وہی عزت اور ذلت دینے والا ہے۔ بے شک! اسی کے لیے ساری حمد و ثنا ہے۔
بھارت: ایودھیا کی بابری مسجد کے بعد اب بنارس کی گیان وپی مسجد کے انہدام کی ابتدا کر دی گئی
بھارت میں ایودھیا کی بابری مسجد کے بعد اب بنارس کی گیان واپی مسجد کے انہدام کی ابتدا کر دی گئی ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش ضلع ورانسی (بنارس کا نیا نام)کے سول جج نے بنارس میں گیان وپی مسجد احاطے کا آثار قدیمہ سروے کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔
انتہا پسند ہندو فریق سمبھو لارڈ وشویشور نے عدالت میں دعویٰ دائر کیا تھا کہ گیان وپی مسجد ۱۶۶۹ ء میں غیرقانونی طور پر تعمیر کرائی تھی۔ مسجد کی بنیادوں کے سو (۱۰۰) فٹ نیچے مندر کی باقیات موجود ہیں۔ مسجد کی دیواروں پر دیوی دیوتاؤں کی تصاویر بھی ابھر آئی ہیں۔ محکمۂ آثار قدیمہ کے ذریعے گیان وپی مسجد معاملہ کی تحقیق کرائی جائے۔ دوسری جانب یوپی سُنی سینٹرل وقف بورڈ نے اس معاملہ پر سماعت نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔
عدالت نے آثار قدیمہ کو سروے کا حکم دے دیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ آرکیالوجیکل سروے کے لیے پانچ افراد پر مشتمل ایک ٹیم بھی تشکیل دی جائے، سروے کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔ واضح رہے کہ بابری مسجد کے انہدام کی ابتدا بھی نام نہاد سروے سے کی گئی تھی۔
ہندوؤں کے مقدس شہر بنارس میں کشی وشوا ناتھ احاطے کے قریب ہی واقع گیان واپی مسجد موجود ہے۔ دونوں عمارتوں کو لوہے کے جنگلے اور باڑیں علیحدہ کرتی ہیں۔ یہ دونوں مذہبی عمارتیں صدیوں سے اکٹھی رہی ہیں۔ مگرہندوؤں کی جانب سے انتہا پسندی اور اسلام مخالفت کی جو تحریک ایک عرصہ سے شروع کی گئی ہے اس کا حالیہ نشانہ گیان وپی مسجد بنی ہے۔
ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے معروف مجاہد عالمِ دین اور القاعدہ برِّ صغیر کے بانی امیر مولانا عاصم عمر کے یہ الفاظ جھجوڑنے اور بیدار کرنے کے لیے کافی ہیں، کہ:
’’میرے غیور مسلمان بھائیو!
آپ اپنے ذہنوں سے یہ خیال نکال دیجیے کہ ہندوستان ہندوؤں کا ہے ، یہ جب چاہے ہمیں ہندوستان سے باہر نکال دیں گے۔ اپنے اللہ کی قوت پر بھروسہ کیجیے، یہ زمین تمہارے اللہ کی ہے ، برہمن کے بتوں کی نہیں ۔ اس زمین پر آپ نے صدیوں حکومت کی ہے ، لیکن آج یہ کمزوری، یہ ضعف ، یہ مجبوری اور غلامی کیوں ہے؟ اس کی وجہ تمہارے رسول ﷺ نے بیان فرمادی، فرمایا:
إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ وَتَرَکْتُمْ الْجِهَادَ سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْکُمْ ذُلًّا لَا يَنْزِعُهُ حَتَّی تَرْجِعُوا إِلَی دِينِکُمْ
جب تم کاروبار میں پڑ جاؤ گے، تمہاری زندگی کا مقصد ہی کاروبار بن جائے گا۔ اور تم زراعت پر راضی ہو جاؤ گے ۔ گائے کی دُم پکڑ کر بیٹھ جاؤ گے یعنی جہاد چھوڑ دو گے، جہاد کو خیر باد کہہ دو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسی ذلت مسلط فرمائے گا جو اس وقت تک نہیں ہٹے گی جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف نہ لوٹ آتے یعنی اپنے جہاد کی طرف نہ لوٹ آتے۔
اے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ماننے والو! ان بزدلوں کو بتا کیوں نہیں دیتے کہ ہندوستان کا مسلمان ہندوستان ہی میں رہے گا اور مسلمان بن کر رہے گا ۔ ایک اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا غلام بن کر رہے گا۔ افغانستان، عراق و شام ، صومالیہ و یمن میں اللہ کے شیر تمام دنیا کی طاقتوں کو مل کر مار رہے ہیں۔ تم ہندوستان میں پینتیس (۳۵)کروڑ سے زیادہ ہو، تمہارے پاس ہندوستان کا بہترین علاقہ موجود ہے ، ملک کے ہر صوبہ میں تمہاری آبادیاں ہیں ۔ تاریخ گواہ ہے، یہ بزدل ہندو تمہارے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتا ، اس کی فطرت اور طبیعت کو سمجھنے کی کوشش کیجیے ، یہ پٹتے ہوئے دشمن کو مزید پیٹتا ہے ، کمزور دشمن کے خلاف یہ شیر بن جاتا ہے ۔یہ وہ کمینہ دشمن ہے جو شرافت اور اخلاق کو نہیں سمجھتا لیکن جب کوئی اس کو مارنا شروع کر دے ، اس پر غالب آجائے ، تو یہ اس کے قدموں میں گر کر زندگی کی بھیک مانگنے لگتا ہے۔ ‘‘
افغانستان: طالبان مجاہدین کے ہاتھوں میں اللہ جلّ جلالہٗ نے ایک نیا ہتھیار دے دیا
گزشتہ سال کے اواخر میں عالمی میڈیا پر یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ افغانستان میں طالبان مجاہدین ایک نئے ہتھیار سے امریکی کٹھ پتلی افغان فوج پر حملے کر رہے ہیں، اور وہ نیا ہتھیار ڈرون تھا۔ افغان حکومت کے مطابق طالبان نے اب تک ڈرون کی مدد سے قندوز، لوگر، بلخ، پکتیا اور فاریاب صوبوں میں حملے کیے ہیں۔
تاہم افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مجاہدین کی جانب سے ڈرون حملوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر نہ اس کی تردید کی نہ تصدیق۔ ان کا کہنا تھا،’ میں سکیورٹی خدشات اور دیگر وجوہات کے باعث ڈرونز کے حوالے سے کسی قسم کا بیان نہیں دوں گا۔ لیکن یہ کہنا ضروری ہے کہ طالبان نے فروری ۲۰۲۰ء میں ہونے والے دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ تو پہلے کی ہے، نہ کر رہے ہیں اور آئندہ بھی نہیں کریں گے۔‘
افغان حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان افغان فورسز کے خلاف کمرشل ڈرون استعمال کر رہے ہیں جن کو تبدیل (customise)کر کے عسکری مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہ اہے۔ اس ڈرون کے ساتھ مارٹر یا ہلکی توپ کے گولے نصب کر کے ریموٹ سے چلائے جاتے ہیں ۔
افغان حکام کے مطابق ۷؍ نومبر کو صوبہ لوگر کے ضلع چرخ میں مسلح ڈرون کے ذریعہ سکیورٹی فورسز پر بم گرائے گئے اور اس کے بعد طالبان نے چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا۔
افغان طالبان کمرشل ڈرون نگرانی کے لیے تو استعمال کرتے رہے ہیں لیکن گزشتہ سال کے اواخر میں پہلی بار تھا کہ انہوں نے کمرشل ڈرونز میں ترمیم کر کے اس کے ساتھ کم بم نصب کیے اور سکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کیے۔
اگرچہ افغان سکیور ٹی فورسز کے پاس بھی امریکہ کے فراہم کردہ ڈرون موجود ہیں اور یہ ڈرون کہیں زیادہ جدید ہیں لیکن طالبان کی جانب سے ڈرونز کے استعمال سے افغان سکیورٹی فورسز کو اب فضائی حملوں کا بھی خطرہ لاحق ہے جو ان کے پہلے ہی سے پست حوصلوں کو مزید پست کرنے کے لیے کافی ہے۔
طالبان کی جانب سے ڈرونز کا استعمال ایسے وقت میں کیا گیا جب دوحہ امن معاہدہ کے مطابق امریکی انخلا کا وقت قریب آ پہنچا ہے اور ایسے وقت میں ڈرون حملوں کا مقصد یہ ہی ہو سکتا ہے کہ امریکہ اور امریکی غلام حکومت و فوج کو یہ پیغام دیا جائے کہ اگر دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو وہ لڑنے کے لیے نہ صرف تیار ہیں بلکہ اپنی جنگ میں جدت بھی لا رہے ہیں۔
افغانستان کی سکیورٹی فورسز ہزاروں کی تعداد میں چھوٹی چھوٹی چیک پوسٹوں کی صورت افغانستان بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان کے لیے ڈرون حملے کے خلاف دفاع کرنا نہایت مشکل ہے۔
گزشتہ سال نومبر میں افغان انٹیلی جنس کے سربراہ احمد ضیا نے پارلیمنٹ میں تسلیم کیا کہ طالبان ترمیم شدہ ڈرونز استعمال کر رہے ہیں۔ اس نے کہا، ’طالبان مارکیٹ میں بکنے والے سادہ کمرشل ڈرون استعمال کر رہے ہیں جس میں کیمرہ بھی نصب ہوتا ہے۔ نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی چاہتی ہے کہ کیمرے سے لیس کمرشل ڈرونز کی درآمد بند کی جائے۔‘
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان کو غیر ملکی جنگجوؤں سے تربیت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ہم گزشتہ ۲۰سالوں سے جنگ لڑ رہے ہیں اور ہم سے پہلے افغان قوم نے ۲۰ سال جنگ لڑی۔ اسی وجہ سے ہم ہی ماسٹر مائنڈ ہیں اور ہم ہی تربیت دینے والے ہیں۔ ہمیں بیرونی سپورٹ، گائیڈنس، تربیت، سمت نہیں چاہیے۔ ہم اس حوالے سے خود کفیل ہیں۔‘
اگرچہ ان ڈرون حملوں میں نقصان زیادہ نہیں ہوا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ہدف کو صحیح نشانہ بنانے کا تجربہ آنے سے یہی کم شدت کے مارٹر گولے یا بم افغان سکیورٹی فورسز کا زیادہ نقصان کریں گے۔ اور عین ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں بڑے ڈرونز کا استعمال کیا جائے جن میں زیادہ شدت کے مارٹر یا بم نصب کیے جانے لگیں۔
لیکن ایسے وقت میں جب ایک جانب مذاکرات ہو رہے ہیں اور دوسری جانب طالبان نے حملوں میں تیزی کر دی ہے، سکیورٹی فورسز کے حوصلے پست ہوتے جا رہے ہیں۔
لیکن اصل مسئلہ ترمیم شدہ ڈرون حملوں میں نقصان زیادہ یا کم کا نہیں ہے بلکہ سکیورٹی فورسز پر نفسیاتی اثر کا ہے۔ ایک اور ملنے والی رپورٹ کے مطابق صرف طالبان کے ڈرون کی آواز ہی سے اہلکار اپنی پوزیشنیں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہو رہے ہیں۔
چینی کمپنی کو پاکستان میں شراب تیار کرنے کا لائسنس مل گیا
گزشتہ دنوں ملکی خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس پر یہ خبر گردش کرتی رہی کہ چینی کمپنی ’’ہوئی کوسٹل بروری اینڈ ڈسٹیلری لمیٹڈ ‘‘ کو پاکستان میں شراب تیار کرنے کا لائسنس مل گیا۔ ذرائع کے مطابق چینی کمپنی حب بلوچستان کے ایڈریس پر ۳۰ اپریل ۲۰۲۰ء کو رجسٹر ہوئی اور لسبیلہ انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی حب میں بلوچستان جوائنٹ وینچر کے ذریعے قائم ہوئی۔ جس جگہ پر یہ شراب تیار کی جانی ہے وہاں پروڈکشن بھی شروع ہوگئی ہے۔
پاکستانی مسلمانوں کے لیے یہ خبر صرف ایک خبر نہیں بلکہ تنبیہ بھی ہے کہ چین پاکستان میں اپنی بدبودار تہذیب اور گندی ثقافت سمیت آرہا ہے اور اس کے اس سارے شیطانی عمل کے پیچھے پاکستان کے بے حمیت اور دین فروش حکمرانوں اور کفر کی غلام فوج کا ہاتھ ہے ۔ پاکستان بھر کی جامعات اور جدید تعلیمی اداروں میں چینی زبان کی کلاسز ہو رہی ہیں اور ان کورسز کی تعلیم دینے والی زیادہ تر نوجوان چینی خواتین ہیں اور وہ ایسے لباس پہن کر آتی ہیں جو چین کی ننگی تہذیب کی عکاسی کرتا ہے ۔ اگر چین کو پاکستان میں اسی طرح آزادانہ سرگرمیوں کی اجازت ملی رہی تو وہ وقت دور نہیں جب پاکستان کے گلی کوچوں میں شراب اور زنا عام ہوتا جائے گا اور آنے والی نسلیں اخلاقی پستی کا مزید شکار ہو جائیں گی۔ معیشت کی زمام ِ کار چین کے ہاتھ میں چلی گئی تو پھر وہی اس خطے کا پالیسی ساز بن جائے گا اور پھر یہاں وہ اپنی مادر پدر آزاد ثقافت کو رائج کرے گا۔
پاکستان میں بسنے والے مسلمان اگر اپنی آنے والی نسلوں کی دنیا و آخرت کے لیے فکرمند ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی اولادیں ایک پاکیزہ اور خرافات و لغویات سے پاک معاشرہ میں زندگی گزاریں تو انہیں چاہیے کہ اسلامی تہذیب اور ثقافت کے احیا اور اسلامی خلافت کے قیام کے لیے ان مجاہدین کا دست و بازو بنیں جو آپ ہی کے کل کی خاطر اپنا آج قربان کرنے نکلے ہیں اور امت کی سربلندی کے لیے میدان ِ عمل میں اپنا سب کچھ لٹا رہے ہیں ۔