شیخ ابو بصیر ناصر الوحیشی شہید’القاعدہ‘ کے عمومی نائب امیر، ’القاعدہ جزیرۃ العرب‘ کے امیر اور شیخ اسامہ بن لادن رحمہ اللہ کےقریبی ساتھیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے یہ گفتگو مجاہدین کی ایک مجلس میں فرمائی جس میں انہوں نے بامیان میں بدھا کے مجسموں کی تباہی کا آنکھوں دیکھا احوال بیان کیا، جنہیں مارچ ۲۰۰۱ء میں عمرِ ثالث ، بت شکن ، امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے حکم پر تباہ کیا گیا تھا۔ (ادارہ)
پوری دنیا کی نگاہیں افغانستان پر لگی ہوئی تھیں، بالخصوص اس وقت جب طالبان تحریک نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ بدھا کے مجسمے تباہ کریں گے۔اور آپ جانتے ہیں کہ ان مجسموں کی تباہی پر پوری دنیا میں کتنا شور مچا اور کتنا اختلاف کھڑا ہواا ور کیسے دنیا ان کی تباہی پر برانگیختہ ہوئی۔اصل واقعہ یہ ہے کہ مجاہدینِ طالبا ن کی تحریک جب بامیان کے علاقے میں داخل ہوئی تو اس نے وہاں یہ بدھا کے مجسمے دیکھے۔جنہیں دیکھتے ہی طالبان نے اسے تباہ کرنے کے لیے اس پر ٹینک کے گولے برسانے شروع کر دیے،لیکن وہ بہت طویل القامت تھے۔اس پر دنیا میں بہت شور شرابہ مچا اور بعض فتاویٰ بھی صادر ہوئے اور بعض مسلمان علما بھی اس مسئلے کے لیے مجتمع ہوئے اور مختلف اطراف سے ان مجسموں کی خریداری کی طالبان کو پیشکشیں کی جانے لگیں۔جب یہ شور شرابا امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد تک پہنچا تو انہوں نے یہ تاریخی الفاظ فرمائے کہ:
’’مجھے یہ محبوب ہے کہ میں روز ِقیامت بت فروش کی بجائے بت شکن کےنام سے اٹھایا جاؤں !‘‘
چین،جاپان اور دیگر بدھ مت کے پیروکاروں کی جانب سے بھی بہت وسیع و عریض پیشکشیں آئیں اور انہوں نے کہا کہ ہم ان مجسموں کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے یہاں سے منتقل کر لیں گے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے طالبان کو بہت ہی بڑی رقوم کی پیشکش بھی کی۔
لیکن امیر المومنین نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور فرمایا کہ :
’’وہ عبادت تو ہم ضرور سر انجام دیں گے جو تم کفار کو مبغوض کرے!‘‘
چنانچہ اسے تباہ کرنے کی تیاریاں شروع ہوئیں۔انہی دنوں شیخ اسامہ بن لادن نے بھی فیصلہ کیا کہ ہم بامیان جائیں گے۔ہم نے اپنے ہمراہ گاڑیاں، بلڈوزر اور زمین کھودنے والی مشینری تیار کیں کہ سفر میں ساتھ لے کر جائیں گے۔کہاں جانے کا ارادہ تھا ؟بامیان جانے کا!القاعدہ ساری کی ساری بامیان روانہ ہو رہی تھی۔
ہم نے اس رات گیارہ بجے تک تمام سامان تیار کیا تاکہ صبح حرکت کی جائے۔صبح جب میں بیدار ہوا تو معلوم ہوا کہ شیخ اسامہ ہم سے قبل روانہ ہو چکے تھے۔میں عبدالمجید فک اللہ اسرہ اور اپنے سسر عاصم کے ہمراہ بامیان کے لیے روانہ ہوا تو غزنی کے قریب میں نے شیخ اسامہ کی گاڑی دیکھی۔ میں نے اپنے ہمراہ ساتھیوں سے کہا کہ یہ شیخ اسامہ کی گاڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ناممکن! شیخ کو تو ابھی بامیان میں ہونا چاہیے۔لیکن جب ہماری گاڑی شیخ کی گاڑی کے قریب ہوئی تو واقعی گاڑی میں شیخ اسامہ رحمہ اللہ تھے ۔خالد شیخ محمد فک اللہ اسرہ گاڑی چلا رہے تھے۔خالد شیخ کو آپ ہر مقام پر پاتے تھے۔وہ بہت متحرک انسان تھے، اللہ انہیں رہائی عطا فرمائیں۔میں نے انہیں دروازے کے پاس کھڑا پایا تو ان سے پوچھا کہ کہ کیا گاڑی میں میری جگہ ہے؟ انہوں نے کہا نہیں! پھر انہوں نے مجھے بتایا کہ گاڑی میں شیخ اسامہ رحمہ اللہ،شیخ ایمن حفظہ اللہ،شیخ ابو ولید الانصاری فک اللہ اسرہ اور شیخ عیسیٰ رحمہ اللہ سوار ہیں۔
ہم بہت حیران ہوئے اور پوچھا کہ آپ لوگ اتنی تاخیر سے کیوں یہاں پہنچے ہیں ابھی تو اصولاً آپ کو بامیان میں ہونا چاہیے،میں نے شیخ اسامہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ (یوسف)قرضاوی قندھار آئے ہوئے ہیں،قندھار کے ایک مہمان خانے میں ان کے ہمراہ محمد عمارہ،طنطاوی اور نصر فرید ہیں جبکہ بحرین اور قطر کے بڑے عالم القرۃ داغی بھی آئے ہوئے ہیں۔یہ وفد طالبان کو قائل کرنےا ٓیا ہے اور طالبان کے ساتھ مناظرہ کرنا چاہتا ہے کہ وہ مجسمے مسمار نہ کریں۔ اس لیے ہمارے ساتھی بھی وہاں گئے ہوئے ہیں۔ شیخ ابو حفص اور شیخ سلیمان ابو غیث بھی وہیں ہیں۔طالبان کے علما بھی موجود تھے۔چنانچہ ہم لوگ بھی اس مجلس میں شریک ہوئے۔ہماری خواہش تھی کہ اس مجلس کی ویڈیو بنائیں مگر طالبان نے اجازت نہیں دی لیکن کہا کہ صوتی ریکارڈر سے ریکارڈ کر لیں ،یہ مقصد پورا کر دے گا۔
طالبان کے علما نے اس وفد کے ساتھ گفتگو کی پھر ان کی گفتگو کے اختتام پر (مجاہد)عرب علما نے گفتگو کی جنہوں نے اس وفد سے کہا یہی تو اصل ملت ابراہیم ہے اور ان بتوں کو توڑنے پر کوئی دو آدمی آپ سے اختلاف نہیں کر سکتے۔
اس کے جواب میں وفد نے کہا کہ :نہیں! ہم بتوں کو توڑنے کے مسئلے پر بات نہیں کرتے بلکہ انہیں توڑنے کا وقت مناسب نہیں ہے۔
شیخ ابو حفص المصری رحمہ اللہ نے کہا:
’’طالبان بھائی،ان کے علماء اور افغان عوام کہتے ہیں کہ ہم ان بتوں کو توڑنے کے تمام نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہیں ،تو اگر وہ لوگ تیار ہیں اور اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے یہ فیصلہ کر رہے ہیں ، اللہ انہیں جزائے خیر دیں، تو پھر ہم انہیں یہ بت توڑنے سے کیوں روکیں؟‘‘
غرض بحث و مباحثہ طویل ہوتا گیا لیکن نتیجہ یہی نکلا کہ بت توڑے جائیں گے۔اجتماع ختم ہوا،سب لوگ باہر چلے گئے اور وفد بھی ناامید واپس لوٹا۔ہم لوگوں نے اس اجتماع کےاختتام پر دوبارہ بتوں کو توڑنے میں حصہ ڈالنے کے لیے بامیان کا رخ کیا۔اس لیے اس سفر کو ہم ’رحلۃ التوحید‘ یعنی ’توحید کاسفر ‘کا نام دیتے تھے۔
بدھا کے مجسمے نہایت ہی دیو قامت تھے اور انہیں تباہ کرنے کے لیے بہت بڑی مقدار میں ’بارود‘ درکار تھا ۔افغانی ساتھی مختلف مقامات سے ان مجسموں کو تباہ کرنے کے لیے بامیان جمع ہوئے تھے۔وہاں میں نےایسے علما کو بھی دیکھا جن کی داڑھیاں سفید ہو چکی تھیں مگر وہ بامیان کا تکلیف دہ سفر کر کے وہاں پہنچے تھے۔وہ لوگ اس ۵۰ میٹر بلند مجسمے کے اوپر بارود لے کر چڑھےتاکہ اسے توڑنے میں ان کا حصہ ڈل سکے۔ہم نے بھی اسی مقام پر ایک خیمہ نصب کیا ہوا تھا۔شیخ اسامہ رحمہ اللہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ:
’’ہماری خواہش ہے کہ اس پہاڑ کو مکمل طور پر ریزہ ریزہ کر دیا جائے تاکہ بتوں اور مجسموں کے کوئی آثار باقی نہ رہیں۔‘‘
اس لیے وہ اس موقع پر اس آیت کو بار بار دہراتے تھے:
ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِي الْيَمِّ نَسْفا (سورۃ طہ: ۹۷)
’’ پھر اس کی راکھ کو اڑا کر دریا میں بہا دیں گے۔ ‘‘
[مجاہدینِ طالبان نے ان بتوں کو تباہ کرنے کے لیے سات سو (۷۰۰) کلو انتہائی طاقت ور بارود اور کئی سو بارودی سرنگیں استعمال کیں۔ ان بتوں کو تباہ کرنے کے بعد امیر المومنین نے حکم جاری کیا کہ ’افغانستان کے ہر صوبے میں دو دو گائیں بطورِ کفارہ ذبح کی جائیں کہ ہم نے بتوں کو توڑنے میں اتنی تاخیر کر دی، اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائیں‘۔ بحوالہ کتاب: لشکرِ دجال کی راہ میں رکاوٹ۔ (ادارہ)]