نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

یہ تاثر غلط ہے کہ ایٹمی ہتھیار کسی ملک یا قوم کے دفاع کو نا قابل تسخیر بنا دیتے ہیں ، اور اگر کوئی ملک دشمن کے نرغے سے بچا ہے تو یہ اس ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے۔اگر چہ وَأَعِدُّواْ لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم کامسلم قاعدہ ضرور موجود ہے لیکن یہ مومن کا کل ہتھیار نہیں بلکہ ایک جزو ہے۔اصل قوت تو قوت ایمانی ہے۔ اورتاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے ساری جنگیں اسی قوت ایمانی سے جیتی ہیں۔

إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُواْ مِئَتَيْنِ (سورۃ الانفال: ۶۵)

’’ اگر تمہارے بیس آدمی ایسے ہوں گے جو ثابت قدم رہنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے۔ ‘‘

یعنی کم عددی قوت ہو مگر قوت ایمان سے معمور ہوتو باطل پرغالب آئے گی ۔اس مضمون کو اقبال مرحوم نے اس طرح بیان کیا ہے:

؏بازو تیراتوحید کی قوت سے قوی ہے

مسلما نان پاکستان کے ذہن میں یہ غلط بات ڈال دی گئی ہے کہ ایٹم بم وطن عزیز کے دفاع کا ضامن ہے۔اگر ایسا ہی ہے تو جشن ’’یوم تکبیر‘‘منانے والے ایٹم بم کے ہوتے ہوئے کارگل کی جیتی ہوئی جنگ کیوں ہار گئے۔روس اپنے ہزروں ایٹمی اثاثوں کی موجودگی کے باوجود مجاہدین سے شکست کیوں کھا گیا۔امریکہ اوراس کے حواری ،نیٹو،ایٹم بموں ،ڈرون طیاروں اورجدید ترین ٹیکنالوجی سمیت کیوں طالبان سے شکست کھا گئے اور صلح کی شرائط میں ایک شرط یہ بھی رکھی کہ ہماراتعاقب نہیں کیا جائے گا۔امریکہ عراق میں بھی شکست سے دوچار ہوا اور وہ جس مقصد کے لیے آیا تھا وہ بسائے آرزو کہ خاک شد کے مصداق ٹھہرا۔

اصل میں تو یہ جدید ٹیکنالوجی ہی مجاہدین کے ہاتھ عالم کفر سےروکے ہوئی ہے۔ بلکہ ایک منظم سازش کے تحت ایٹم بم کو خود طاغوتی اداروں نے راہ جہاد میں رکاوٹ بنا رکھا ہے۔سادہ لوح مسلمانوں کو شب وروزدجالی میڈیا یہ تاثر دیتے نہیں تھکتا کہ ایٹم بم آپ کا تحفظ کررہا ہےخواہ شریعت ہو یا نہ ہو،قرآن دستور ہو یا نہ ہو ۔عدالت وتجارت شیطان کے مطیع ہوں۔بس آرزو یہ ہو کہ تم نرم بستروں پر اپنے اہل وعیال کے درمیان عیش کے چند دن گزارودرآنحالیکہ ایسی زندگیاں تو دارالکفر میں بھی بہت سےمسلمان بے وقعت ہو کر جی رہے ہیں۔

اگرچہ حقیقت حال یہ ہے کہ یہ ایٹم بم اور میزائل بھی صرف ایک مخصوص شیطانی گروپ کے مفادات کی حفاظت کررہے ہیں۔ یہ مسلمانوں اور مسلم امت کی حفاظت کے لیے ہرگزنہیں ہیں۔ایک ہی ٹیلی فون کال پر ڈھیر ہونے والا ایمان وایقان سے محروم بدبخت لشکرکاسیاہ کار جرنیل لاکھوں افغان مجاہدین کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کرپوری دنیا کے سامنے فخریہ کہتا ہے کہ ’جب طوفان چل رہا ہوتو سر نیچے کرلینا چاہیے کہیں سر ہی نہ اُڑ جائے‘۔جبکہ اس کے پاس ایٹم بم اورجدید ہتھیار موجود تھے۔اس بد طینت نے عالم کفر کے لیے قلی کا کردار اداکیا۔یہ ایک ایسا شرمناک فعل تھاجوتاریخ میں پہلے بنو قریظہ کے حصے میں آیااور بعد میں اس فوج کے ماتھے کاجھومر بنا۔وطن نامی بت کے پجاری اورسب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگانے والے اس ادارے اور امریکہ کی زرخرید ایجنسیوں نے اپنے ہی ملک کے ستّر ہزارمظلوم پاکستانی مسلمانوں کو ،محض ڈالروں کے حصول کی خاطر صلیب کی بھینٹ چڑھا دیا۔

بدلے میں ملنے والی خون مسلم کی یہ اجرت ،اجرتی قاتلوں کے ایک مخصوص شیطانی گروپ کے مفاد کے لیے ہے ۔یہ ایٹم بم اور میزائل پاکستان کے معصوم شہریوں پر بمباری کرنے والے پائلٹ ابھی نندن کو چوبیس گھنٹے تک اپنے پاس قید کرنے سے عاجز رہےاوربقول ایاز صادق جب ہندوستان نے حملےکی دھمکی دی توپیشہ وراوراجرتی قاتلوں کے پاؤں کانپنے لگے اور پسینے میں شرابور ہوکرلاکھوں مسلمانوں کے قاتلوں سے امن کی بھیک مانگنے لگے۔یہ ایک سلطانی گواہ کی زبانی ’سجیلے جوانوں ‘کے بزدل جرنیلوں کی بزدلی کی داستان ہے۔اسی ایٹمی ملک اور اس کی حفاظت پر مامور فوج نے اپنی بیٹی عافیہ صدیقی (فک اللہ اسرھا)کو دن دہاڑے برسر عام صلیبیوں کے ہاتھوں بیچ ڈالا۔محض بزدلی اور ڈالر کی حرص میں۔اس سے زیادہ بے غیرتی تو ہو ہی نہیں سکتی۔اس جھوٹے ایٹم بم اور طاغوتی فوج نے غزوۂ ہند کا دروازہ بند کر رکھا ہے۔ اورسادہ لوح مسلمانوں اور سادہ لوح مجاہد گروہوں کویہ یقین دلایا جارہاہے کہ اس ایٹم بم کی بدولت ہم کشمیر آزاد کرائیں گے۔حالانکہ اس بم کے ہوتے ہوئے انہوں نے درپردہ ہندوستان سے کشمیر کا سودا کیا اور بات یہاں تک پہنچی کہ اب محض چند منٹ کی خاموشی بلکہ سال بھر بھارتی فوج کی درندگی پر خاموش رہنے کے بعد ۵ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منانے سے کشمیر آزاد ہوگا۔کیا اب بھی بعض سادہ لوح لوگوں کے گروہ اس شیطانی لشکر کے دامِ فریب میں آئیں گے؟

یہ بم اور میزائل نہ تو اسلام کے دفاع کے لیے ہیں اورنہ بھاری بھرکم ٹیکس اداکرکے جرنیلوں کی توندیں پالنے والے مظلوم مسلمانوں کے دفاع کے لیے ،یہ توبس صرف ان بھگوڑوں کی حفاظت اور دیوثی کے لین دین کے لیے ہے کہ ان کے بل بوتے پر درہم و دینار (ڈالر اور یورو) کے سودے کرکے اللے تللے اُڑاتے رہیں ۔

جب تک مسلمانان پاکستان خصوصاً دینی طبقات اورمجاہدین حالات کا سطحی مشاہدہ کرتے رہیں گے۔ان دجالوں کے فریب کا شکار ہوتے رہیں گے۔اللہ کے دین کو سربلند دیکھنے کی خواہش دل میں پالنے والے مسلمانوں کو اس جھوٹے طلسم سے نکلنا ہوگا۔

یہ بدبخت ٹولہ ہندوستان کو بھی یقین دہانی کراچکا ہےکہ یہ بم اور میزائل ہی غزوۂ ہند کا دروازہ بندکیے ہوئے ہیں اور مجاہدین کو روک رکھا ہے ورنہ تو وہ کب کے دہلی کے لال قلعے پر قابض ہوچکے ہوتے۔بیس سال تک صلیبیوں کی ہمکاروہم رکاب رہنے والا یہ بدبخت لشکر قرآن پاک کی اس آیت وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ،کا صحیح مصداق ٹھہرا ہے ؛یعنی تم مسلمانوں میں سے جو بھی ملت کفر کا ہم کار بن گیا وہ بھی ملت کفر میں شامل ہوگیا۔جہاداور شریعت مقدسہ میں ان کو ویسے بھی اپنی موت نظر آتی ہے کہ ان کے عشرت کدے اورشراب وکباب سے بھرپور آفیسرمیس، کنٹومنٹ کی راجدھانیاں ،گالف کے میدان ،رقص و سرود کی محفلیں اسی وطنی بت کے پاؤں تلے محفوظ ہیں۔اور یہ سات لاکھ کا لشکر لاالہ الا اللہ کے نام پر حاصل ہونے والی کسی پاک سرزمین یا کسی اسلام کے قلعے کی رکھوالی پر نہیں بلکہ صرف اورصر ف ان عشرت کدوں کی حفاظت پر مامورہیں ۔

بقول استاد احمد فاروقؒ:’’برصغیرکے بے چارے عوام تو انگریز کی غلامی سے نکل کر انگریز کے غلاموں کے غلام بن گئے۔آزاد تو بس انگریز کا آلۂ کارحکمران طبقہ ہوا۔کیونکہ انہیں ۱۹۴۷ء کے بعد ہمارے وسائل لوٹنے اورزمین میں فساد مچانے کی مکمل آزادی مل گئی ۔ہر سال منایا جانے والاجشن آزادی ،ہماری نہیں،ان کی آزادی کا جشن ہوتا ہے۔ہمیں تو ایک اورتحریک آزادی سے گزرنا ہوگا،خون کاایک اوردریا پار کرنا ہوگا‘‘۔

٭٭٭٭٭

Exit mobile version