توحیدِ عملی

مجددِ جہاد، شہیدِ اسلام، فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن یوسف عزام رحمۃ اللہ علیہ نے زیرِ نظر خطبہ ساڑھے تینچار دہائیاں قبل ارشاد فرمایاتھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب افغانستان میں مجاہدینِ عالی قدر نے طاقت کے اعتبار سے دو قطبی دنیا کے ایک قطب سوویت روس کو شکستِ فاش دی تھی۔ جبکہ آج مجاہدینِ امت نے امارتِ اسلامیہ افغانستان کی قیادت میں بفضل اللہ یک قطبی دنیا کی ’انا ربکم الاعلیٰ‘ ڈکارنے والی سپر پاور ’امریکہ‘ کو بھی شکستِ فاش دے دی ہے ۔ کل جب یہ خطبہ دیا گیا تھا تو یہ نہایت ’اہم‘ تھا، جبکہ آج یہ ’اہم تر‘ ہو گیا ہے اور اس خطبے کو تحریری حالت میں پڑھتے ہوئے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ گویا ابھی، آج اور آج ہی کی صورتِ حال کو مدِ نظر رکھ کر اس خطبے کو ارشاد کیا گیا ہے۔

اللہ پاک ہمیں اہلِ توحید میں شامل رکھیں اور خاتمہ کلمۂ ’لا الٰہ الا اللہ‘ پر نصیب فرمائیں، آمین۔ (ادارہ)


افغانستان میں اپنے قیام کے دوران میں نے یہ محسوس کیا ہے کہ انسانی روح میں توحید اس طرح داخل ہو ہی نہیں سکتی، نہ ہی اس میں وہ شدت اور مضبوطی آسکتی ہے جو جہادکے میدانوں میں آتی ہے۔یہ وہ توحید ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مجھے قیامت سے پہلے تلوار کے ساتھ مبعوث کیا گیا۔ ‘کیوں؟’تاکہ اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی جائے۔‘ (بحوالہ ٔحدیث، مسند احمد)

یعنی دنیا میں توحید کا قیام تلوار کے ذریعے ہوتا ہے،کتابیں پڑھنے اور عقیدے کے متعلق علم حاصل کرنے سے نہیں ہوتا۔

بے شک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنہیں بھیجا ہی اس لیے گیا تھا کہ اس دنیا میں توحید ِ الوہیت قائم ہو، انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ یہ توحید اسباق پڑھ کر نہیں سیکھی جا سکتی۔ بلکہ یہ روحوں میں صرف تربیت کے ذریعے پروان چڑھتی اور بڑھتی ہے، معرکوں میں مقابلے کے ذریعے، اور طواغیت کے خلاف اقدامات کرنے کے نتیجے میں جوحالات در پیش ہوتے ہیں ان کے ذریعے ……ان قربانیوں کے ذریعے جو انسانی جان اس راہ میں پیش کرتی ہے……جب کبھی انسان اس دین کے لیے کوئی قربانی دیتا ہے، یہ دین اس کے لیے اپناپوشیدہ حسن ظاہر کردیتا ہے، اور اس کے لیے اپنے خزانے کھول دیتا ہے۔

اور اس بحث میں اس بات کا ذکرموزوں رہے گا، کہ کچھ لوگ جو اس توحید کی حقیقت اور فطرت کو نہیں سمجھتے، وہ ان لوگوں(یعنی افغانوں) جن کے ذریعے اللہ نے مسلمانوں کو عزت بخشی ہے، جن کے ذریعے اللہ نے دنیا کے ہر مسلمان کی اہمیت بڑھا دی ہے، جن کے ذریعے اسلام اتھاہ گہرائیوں سے بلندیوں کی جانب محو پرواز ہے اور عالمی پلیٹ فارم پران قوتوں کے مقابل آ کھڑا ہوا ہے جنہیں لوگ آج کی دنیا میں ’سپر پاور‘ کہتے ہیں، وہ جنہوں نے اسلام کی ہیبت کو لوٹا یا ہے، جو جہادکی غیر موجودگی کی وجہ سے مفقودہوچکی تھی۔

اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب اور خوف نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا۔‘ہم نے سوال کیا’یہ وہن کیا ہے؟‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’ دنیا سے محبت اور موت سے نفرت۔ ‘(بحوالۂ حدیث ، امام احمد،ابوداود)اور یہ خوف اور رعب جو ہمارا دشمن پر ہونا چاہیے کبھی ہمارے پاس واپس نہیں آسکتا مگر تلوار، لڑائی اور قتال کے ذریعے۔

اور جیسا کہ میں کہہ رہا تھا کچھ لوگوں نے واقعتاً اس توحید کی اصل فطرت کو نہیں سمجھا، انہوں نے محض اس کے بارے میں چند الفاظ پڑھ لیے ہیں اور اب کہنے لگے ہیں کہ’افغانوں کے عقیدے میں کچھ شرک اور بدعت وغیرہ موجود ہے۔‘

اور ہم میں سے کچھ نے ان سے کہا:تمہارے عقیدے میں کچھ خرابی ہے

ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ایسی بہتان طرازی سے

شرک کے شعلے نہیں بجھتے مگر خون کی بارش سے

اور کیا توحید قائم ہوسکتی ہے سوائے(تلوارکی) تیز سفید دھارکی بدولت؟

تم پیچھے بیٹھ رہنے والی عورتوں کی مانند ہو!

لہٰذابیٹھے رہو کیونکہ یہ تمہاری نظر ہے جس میں خرابی ہے

جو لوگ اصلاً سمجھتے ہیں کہ توحید کیا ہے، توحیدِ عملی کیا ہے……صرف اللہ پر توکل،صرف اللہ کا خوف، صرف اللہ کی عبادت……یہ بات محض چند کتابوں میں کچھ الفاظ پڑھ کر نہیں سمجھی جاسکتی۔ ہاں، توحید ربوبیت(جو مشرکین ِ قریش بھی تسلیم کرتے تھے)ایک یا دو دروس میں شرکت سے سمجھی جاسکتی ہے۔

ہم یہ بات سمجھتے ہیں کہ بے شک اللہ کا ہاتھ ہے جو ہمارے ہاتھوں کی مانند نہیں ہے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ اسماء و صفات کے اصول کے تحت ہم اللہ کے اسماء الحسنیٰ اور صفاتِ کریمہ کااقرارکرتے ہیں جن کی تصدیق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اور قرآن مجید نے کی ہے…… اور ہم ان سب کا بغیر کسی تاویل، تحریف، تعطیل(انکار)، تشبیہ اورتمثیل کے اقرار کرتے ہیں۔ اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ’عرش پر بلند ہوا‘ اور ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ اس پر’ غالب آیا‘۔ اور استواء(اللہ کا عرش پربلند ہونا)معلوم ہے لیکن اس کی کیفیت(کہ کیسے بلند ہوا) یہ معلوم نہیں، اس پر ایمان لانا فرض ہے اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔

لہٰذا ہم میں سے ہر کوئی اسے یادکرتاہے۔ آپ نے یاد کررکھا ہوگا ، صحیح؟ یا نہیں؟ یہ تو بہت آسان ہے، آپ کو پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ یہ ایمان کا علمی پہلو ہے( جس میں عمل کی ضرورت نہیں ہوتی)……اس کا تعلق جاننے اور اقرار کرنے سے ہے۔ اور کبھی کوئی نبی اس غرض کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا۔ بلکہ انہیں صرف اس مقصد کے لیے بھیجا گیا تھا کہ توحید الوہیت، توحیدِ عملی کا قیام ہو۔اس بات پر ایمان کہ اللہ، اور میرا مطلب ہے اللہ پر خالص اور مضبوط بھروسہ کہ حقیقتاً وہی خالق ہے، وہی پالنہار اور رازق ہے، وہی موت اور زندگی دینے والا ہے(اور یہ ایمان انسان کی زندگی کے مختلف مواقع پر اعمال سے ظاہر ہو)……یہ محض کوئی نظری عقیدہ نہیں ہے، وہ تو توحید ِ ربوبیت ہے۔بلکہ دراصل توحیدِ الوہیت کا اقرار تو صرف ان اعمال سے ہوتا ہے جو زندگی میں کیے ہوں۔ اور توحیدِ الوہیت کا عقیدہ انسانی روح میں پیوست نہیں ہوسکتا خصوصاً اللہ پر توکل ، رزق کے معاملے میں، (موت کے)وقتِ مقررہ کے بارے میں، منصب اور درجات کے معاملے میں…… انسانی روح توحید پر قائم نہیں ہوسکتی سوائے اس کے کہ جب وہ ان طویل واقعاتِ جنگ سے گزر رہی ہو، اور اس طویل سفر سے گزر رہی ہو، اور بڑی بڑی قربانیوں سے گزر رہی ہو، صرف تبھی روح میں اس توحید کی تعمیر شروع ہوگی، روز بروز، ایک ایک اینٹ کرکے، اور پھر توحید کی یہ عمارت روحِ انسانی میں بلند ہوتی چلی جائے گی۔

میں آپ سے پوچھتا ہوں:کون توحید کا زیادہ ادراک رکھتا ہے؟ وہ عمر رسیدہ شخص،ساتھیوں نے ایک مرتبہ مجھے بتایا کہ ایک دن طیارے ہم پر بمباری کررہے تھے اور ہم سب چھپ گئے سوائے ایک عمر رسیدہ شخص کے جس کا نام محمد عمر تھا۔ جب طیارہ مجاہدین پر بمباری کر رہا تھا اس نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: اے اللہ ! کون زیادہ بڑا ہے؟ آپ یا یہ طیارہ؟ کون زیادہ طاقتور ہے؟ آپ یا یہ طیارہ؟ کیا آپ اپنے ان بندوں کو ان طیاروں کے لیے چھوڑ دیں گے؟‘‘۔اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ اس طرح آسمان کی طرف اٹھائے اوراللہ تعالیٰ سے اپنی فطرت پر گفتگو کی۔ اس سے پہلے کہ اس کے الفاظ ختم ہوئے وہ جہاز گر گیا حالانکہ اس کو کچھ بھی مارا نہیں گیا تھااور کابل ریڈیو سٹیشن نے یہ اعلان کیا کہ جو طیارہ گرا یا گیا تھا اس میں ایک روسی جرنیل سوار تھا۔چنانچہ یہ (توحید) ایک عقیدہ ہے، انسانی روح کی خوف سے آزادی ہے،موت اور مقام کے خوف سے۔

اوریہ ہمارے درمیان شیخ تمیم العدنانی موجود ہیں۔ شیخ تمیم ،۱۴۰۶ھ کی تیسویں رمضان کو جب روسیوں نے تین کمیونسٹ برانچوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آپریشن کیا، یعنی تین ہزار افواج مع ٹینکوں، طیاروں اور میزائل لانچروں کے……اور ایک لانچر میں بیک وقت اکتالیس (۴۱) میزائل ڈالے جاسکتے ہیں جو بیک وقت داغے جاتے ہیں، آپ کی طرف اکتالیس میزائل آئیں جس سے آپ کے پیروں کے نیچے جو پہاڑ ہو وہ بھی ہلنے اور کانپنے لگ جائے۔ مارٹر، مشین گنیں اور بھاری توپیں، پانچ روسی بریگیڈیں جن میں سے ایک سپیکناز بریگیڈ بھی تھا،حد درجے تیز رفتار بریگیڈ جسے ’روسی بجلی ‘کہا جاتا ہے۔اور شیخ تمیم اس جنگ میں موجود تھے اور ان کا وزن کوئی ۱۴۰ کلو ہے، اسی لیے جب شیخ کو کسی پر غصہ آتا ہے وہ کہتے ہیں ’میں تمہارے اوپر بیٹھ جاؤں گا!‘بس ! اور اس کا مطلب یہ کہ وہ آپ کو ماردیں گے!

چنانچہ شیخ تمیم عدنانی ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے ’اے موت دینے والے میں رمضان کے آخری دن شہادت چاہتا ہوں۔‘تیسویں رمضان تھی، آخری دن تھا، انہوں نے قرآن کی تلاوت شروع کردی، اور پورا ایک پارہ پڑھ لیا جبکہ ان کے چہرے کے سامنے سے ، اور کان کے پاس سے گولیاں گزر رہی تھیں۔ کوئی یہ یقین بھی نہیں کرسکتا تھا کہ وہ ابھی تک اس درخت کے نیچے زندہ ہوں گے، جبکہ طیارے بمباری کررہے تھے، اور دشمن کے گولے اور میزائل ان کی جانب داغے جارہے تھے۔وہ درخت پوری طرح جل گیا، شعلے بھڑک اٹھے، ایسے میں آپ اپنے پاس بیٹھے شخص کو بھی پورا جملہ نہیں کہہ سکتے۔ اگر آپ کہنا چاہیں’ تمہارے پاس گولیاں ہیں؟‘ تو آپ نے اتنا ہی کہا ہوگا کہ’تمہارے پاس‘ کہ اگلا لفظ اپنی جانب آنے والے راکٹ یا مارٹر یا بم کی وجہ سے نہیں کہہ سکیں گے،اور آپ کا جملہ کبھی پورا نہیں ہوسکے گا(حالت اتنی سخت تھی)!

جب بھی شیخ تمیم کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں جنت کا ذکر ہو مثلاً أُولَـئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ،’’یہ اہل ِ جنت ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘‘، تو اس کو بار بار دہراتے کہ شاید جب میں جنت کہوں تب مجھے گولی لگے۔تو اسی طرح انہوں نے پہلا پارہ ختم کرلیا، دوسرا بھی ختم کرلیا اور جب وہ ایسی آیت سے گزرتے جس میں جہنم کا ذکر ہوتو اس سے جلدی سے گزرتے اس ڈر سے کہ کہیں دوزخ کے بارے میں پڑھتے ہوئے انہیں گولی نہ لگ جائے۔انہوں نے تیسرا پارہ پڑھ لیا، چوتھا پڑھ لیا، پانچواں پڑھ لیا، یہ سب ایسی ہولناک حالت میں جو انسان کو اس کا نام بھی بھلا دے۔واللہ ! میرے بھائیو! ہمارے لیے مشکل ترین بات استنجا کے دوران ہوتی تھی، کیونکہ کسی کے لیے یہ سوچنا ناممکن تھا کہ وہ استنجا کے لیے جائے گا اور زندہ بچ جائے گا، اس بات کا خوف ہوتا کہ اسی دوران شہید نہ ہوجائیں،یہ ہمارے اوپر ایک بوجھ ہوتا تھا۔

چنانچہ پھر شیخ نے کہا،’’اے اللہ!اگر شہادت نہیں تو کم از کم ایک زخم ہی سہی!‘‘،چھ منٹ گزر گئے، سات منٹ، مسلسل چارگھنٹے گزر گئے جبکہ وہ لگاتار بمباری کے نیچے تھے گویا بارش ہورہی ہو……

شیخ تمیم کہتے ہیں،’’اس دن مجھے یہ سمجھ آیا کہ کوئی موت نہیں ہے، کوئی مر نہیں سکتا مگر اس خاص لمحے میں جو رب العالمین نے مقدر کر رکھا ہے۔ اور کوئی بھی خطرے میں ڈالنے والا خوفناک اقدام مقررہ وقت کو قریب نہیں لاتا ، نہ ہی تحفظ اور امن موت کو دور بھگاتا ہے‘‘۔

یہ وہ چیز ہے جو انہوں نے ابن تیمیہؒ ؒ کے فتاویٰ میں پڑھی تھی، جن کی شریانیں جل رہی تھیں اور جن کی روح اپنے دور کے میزائلوں سے پِس رہی تھی……توحید کاعقیدہ، موت اور سازوسامان کی عدم فراہمی سے بے خوفی کا عقیدہ……

آپ کو ایسا شخص ملے جو ایک عام زندگی گزار رہا ہو، اگر اس سے کہا جائے کہ انٹیلی جنس ایجنٹ تمہارے گھر آئے تھے تو وہ ، اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے، مفلوج ہوجائے۔ یا آپ اس کو یہ بتادیں کہ میں نے  CIA کے ایجنٹوں کو تمہارے گھر کے دروازے پر کھڑے دیکھا تھا ، تو بس یہی کافی ہوگا ! پورا ہفتہ وہ سو نہیں سکے گا، آرام نہیں کرسکے گا اگر اس کی فجر کی نماز بھی سات دن قضا ہوجائے!تب بھی وہ اللہ سے اتنا نہیں ڈر سکتا جتناوہ اس بات سے ڈرتا ہے کہ’ میں نے تمہارے گھر کے سامنے ایجنٹ دیکھاہے!‘۔

وہ ایجنٹ سے کیوں خوفزدہ ہوتا ہے؟کیونکہ وہ اپنے رزق کے لیے خوفزدہ ہے یا اس بات سے کہ اس کا مقررہ وقت آجائے گا۔کیا کوئی اور وجہ ہے؟قطعاً نہیں ،یا موت کا خوف ہے یا معاش کے نقصان کا۔لہٰذا یہ خیال ، لوگوں کے دلوں میں ایک ایسا ڈراؤنا بھوت بن گیا ہے جو ان کے بستروں پر جھپٹتا ہے کہ وہ خوف سے آنکھیں بند نہیں کرسکتے۔

لیکن اگر آپ کو معاش کا یا موت کا خوف نہیں ہوگا، تو آپ کو ان سے ڈربھی نہیں لگے گا۔ جیسے اگر آپ کو ابھی یہ کہا جائے کہ ’روسی انٹیلی جنس آپ کے پیچھے پڑی ہوئی ہے ‘۔تو کیا آپ پر کوئی اثر ہوگا؟حتیٰ کہ افریقی انٹیلی جنس بھی آپ کو کچھ خوفزدہ کرے گی کیونکہ ان کے پاس آپ کے گھر تک پہنچنے کے طریقے ہیں(مصر، الجیریا، سوڈان وغیرہ میں)۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جہاد ہی اس بیماری کا علاج ہے…… ایجنٹوں کے خوف ، موت کے خوف اور رزق کی کمی کے خوف کی بیماری کا۔

انسان کی سب سے قیمتی چیز جو اس کے پاس ہے وہ اس کی روح ہے……اور جب آپ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دن رات اللہ کے سامنے گریہ وزاری کرتے ہیں، اس کو قبول کرلے…… اگر وہ اسے نہیں چنتاتو اس پر غمگین ہوتے ہیں:پھر اس کے بعد آپ کو اللہ کے سوا کس چیز کا ڈر رہ جائے گا؟

جب ایک نوجوان پرخطر وادیوں سے گزرنے کا عادی ہوجائے
تو پھر سب سے آسان چیز جس پر سے وہ گزرتا ہے کیچڑ ہے

جو روزانہ موت کے منہ میں ہو کیا کیچڑ اس پر کوئی اثر کرے گا؟کیچڑ اس کو کچھ بھی پریشان نہیں کرے گا۔لہٰذا توحید، اور اس کا انسان کی روح میں پیوست ہونا……اب آپ یہ سمجھ چکے ہیں کہ یہ روح میں پروان نہیں چڑھ سکتا،یعنی روح میں مضبوطی سے جم نہیں سکتا، سوائے جہاد کے ذریعے۔

اور ایک بنیادی اصول ہے کہ دین کا اکثر علم جہاد ہی کے ذریعے گرفت میں لایا جاسکتاہے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُواْ فِیْ الدِّیْنِ وَلِیُنذِرُواْ قَوْمَہُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُونَ؀ (سورۃ التوبۃ:۱۲۲)

’’پس کیوں نہ ایسا ہو کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت نکلے تاکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرسکیں اور جب اپنی قوم کی طرف لوٹیں تو انہیں ڈرائیں تاکہ وہ ڈرجائیں۔‘‘

تاکہ وہ حاصل کریں‘ میں لفظ’وہ‘دین کے فہم کے حصول میں نکلنے کے لیے آیا ہے۔ کچھ علما نے دوسری رائے اپنائی ہے اور یہ کہا ہے کہ ’نہیں ، جو جماعت پیچھے بیٹھتی ہے وہ دراصل دین کا فہم حاصل کرتی ہے‘‘۔ لیکن ابن عباس ،طبری اور سید قطب کے نزدیک زیادہ مستند رائے یہ ہے کہ جو دستہ اللہ کی راہ میں نکلتا ہے وہ دراصل دین کا فہم حاصل کرتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اس کا پوشیدہ حسن محسوس کرسکتے ہیں اور دین ان کے سامنے اپنے جواہر کھول دیتا ہے۔سید قطبؒ کہتے ہیں:

’’بیشک یہ دین اپنا پوشیدہ حسن آرام سے بیٹھ رہنے والے فقیہ پر ظاہر نہیں کرتا جو دین کو دنیا پر نافذ کرنے کی سعی نہیں کرتا۔ یہ دین کوئی کیک نہیں ہے جسے دماغ میں فریز کیا جاسکے۔بلکہ یہ دین صرف اسی صورت میں سمجھا جاسکتاہے جب اس کو زندگی کے دائرے میں واپس لانے اور اس کے معاشرے کی ازسرنو تعمیر کی کوشش کی جائے۔‘‘

ہاں……یہ دین،آپ اسی قدر اس کا ادراک کرسکتے ہیں جتنا آپ اس کی خاطر قربانی دیتے ہیں۔آپ اس کی خاطر کچھ دیں تو یہ بھی آپ کو دے گا۔’کچھ دو اور کچھ لو‘والا معاملہ……قربانی دیجیے اور تمام جہانوں کا رب آپ کے لیے دروازے کھول دے گا۔اس دین کی راہ میں قربانیاں پیش کریں اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی آیات اور احادیث سکھائے گا۔ یہ تو ایک بنیادی اصول ہے کہ آپ بہت ساری آیات نہیں سمجھ سکتے جب تک کہ آپ اس حقیقت سے نہ گزر رہے ہوں، یعنی حقیقتِ جہاد۔اور اس میں کوئی شک نہیں۔ مثلاً سورۂ توبہ ، سورۂ انفال،سورۂ آل عمران ، آپ ان سورتوں کو جہا د کے بغیر کیسے سمجھ سکتے ہیں؟کیا ان کو سمجھنا ممکن ہے؟

اور یہ جہاد کے فوائد میں سے پہلا فائدہ ہے یعنی انسانی نفس کو توحیدِ الوہیت یعنی توحیدِ عملی کے ذریعے آزادی دلانا!اس توحید کو دل اور روح میں راسخ کرنایہاں تک کہ انسان رب العالمین سے اس طرح کا طرزعمل رکھنا شروع کردے گویا اسے دیکھ رہا ہو۔

ارسلان نامی قصبہ چہارجانب سے ٹینکوں کے گھیرے میں تھااورایک چھوٹا سا مجاہدین کا دستہ تھاجو اسلحے کے ذخائرکی حفاظت پر مامور تھا۔ ٹینک ان کے قریب آرہے تھے اورانہیں زندہ گرفتار کرنا چاہتے تھے اور کوئی بھی ان کی مددکو باقی نہیں تھا سوائے اللہ کے…… انہوں نے کہا ’اے اللہ کسی کافر کو ہم پر غلبہ نہ دینا!‘پھر یکایک جنگ کا پانسہ پلٹتا ہے،ٹینکوں کے خلاف!آوازیں سنائی دیتی ہیں لیکن کوئی بھی علاقے میں نظر نہیں آتا، اور اس علاقے میں کوئی ہے بھی نہیں سوائے ان چند بھائیوں کے۔ٹینک جل جاتے ہیں اور روسی افواج پسپا ہوجاتی ہیں۔ان پر ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی تھی، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو لوگ اس سے گزریں وہ اللہ پر بھروسہ نہ کریں؟

وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإِنِّیْ قَرِیْبٌ أُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ(سورۃ البقرۃ:۱۸۶)

’’اور (اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم )جب میرے بندے میرے متعلق آپ سے سوال کریں تو( کہہ دو) بیشک میں قریب ہوں ، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔‘ ‘

جلال الدین حقانی (رحمۃ اللہ علیہ) کہتے ہیں:

’’جہاد کے ابتدائی سالوں میں لوگ ہماری مدد نہیں کرسکتے تھے۔ ہم تعداد میں تھوڑے تھے اور پہاڑ کی چوٹی پر تھے ، کوئی ہمارے پاس نہیں آسکتا تھا نہ ہماری مدد کرسکتا تھا…… ہم چائے گرم کرنے کے لیے آگ تک نہیں جلا سکتے تھے، کہ کہیں اس سے دھواں نہ ہو(اور دشمن ہمارے مورچے دیکھ لے)اوریہ اس حد تک تھا کہ سلطنت کو بھی نہیں پتہ تھا کہ ہم کہاں ہیں،اور زمین ہم پر تنگ ہورہی تھی……کھانا ختم ہوگیا،اگر آپ بیمار ہوجائیں تو صبر سے برداشت کرسکتے ہیں لیکن اتنا کم درجۂ حرارت اور بھوک، کہاں؟ وہ کیسے برداشت ہوسکتی ہے؟آپ بغیر کچھ کھائے پیے کیسے رہ سکتے ہیں؟میں نے نمازِ فجر ادا کی اورپریشانی کے عالم میں جائے نمازپہ بیٹھا ہوا تھا کہ مجھ پر اونگھ اور نیند طاری ہوگئی، اور پھر اچانک کسی نے اس طرح میرا کندھا ہلایا(کرکے دکھاتے ہیں)، وہ جائے نماز پہ اس طرح بیٹھا تھا جیسے نماز میں جلسے کے دوران بیٹھتے ہیں۔اور اس نے کہا: اے جلال الدین! تمہارے رب نے تمہیں تیس سال تک کھلایا توتم نے اس کی راہ میں جہاد نہیں کیا، تو اگر وہ تمہیں بھول جائے، کیا تب تم جہاد کروگے؟‘‘

اسی لیے ایک مصری بھائی جو ہمارے ساتھ تھے(افغانستان آنے سے پہلے)ان کی بیوی نے ان سے پوچھا:آپ کہاں کام کریں گے؟انہوں نے کہا:میں براہِ راست رب العالمین کے ادارے میں کام کروں گا!فلاں، فلاں تجارتی ادارے کے تحت کام کرتا ہے ، فلاں فلاں گورنر کے لیے کام کرتا ہے…… اورمیں تمام جہانوں کے رب کے لیے کام کروں گا!کون مجھ سے بہتر ہے؟ کون مجھ سے زیادہ بلند ہے؟کس کی زندگی اس زندگی سے زیادہ عزت والی ہے؟

اور اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قول حقیقت میں اتنا سچا ہے جب آپ نے کہا کہ:

’’لوگوں میں سے بہترین زندگی اس شخص کی ہے جو اللہ کی راہ میں گھوڑے کی باگیں تھامے ہوئے ہے، اس کی پشت پر اڑتا پھرتا ہے؛جب کبھی وہ (جنگ کی)پکار یا دشمن کی طرف پیش قدمی کی پکار سنتا ہے تو اڑ کر اس کی طرف جاتا ہے، شوق سے اس کی راہ میں مرنے اور موت کی تلاش میں۔‘‘( مسلم)

چنانچہ سب سے پہلا فرض توحید ہے ، اللہ کو ایک ماننا۔ توحیدِ عبودیت، اور اللہ سے اس کے نام اور صفات کے مطابق طرزعمل رکھنا۔ اللطیف سے اس کی نرمی اور بردباری کے مطابق رویہ رکھنا، اور القریب سے اس کے قرب کی مناسبت سے رویہ رکھنا اور السمیع سے اس کی سماعت کی مناسبت سے عمل کرنا وغیرہ۔

دوسرا یہ کہ عزت کی تربیت لوگوں کو دی جائے(یعنی امت کی شان اور مرتبے کو پروان چڑھانا)۔یہ اس لیے کیونکہ بے عزتی اور شکست خوف کا نتیجہ ہے……اور بے خوفی اور شجاعت عزت اور شرف ساتھ لاتے ہیں۔ لیکن اس زندگی، مال اور جاہ کا خوف شکست اور ذلت ہمراہ لاتے ہیں، اور اپنے آپ کو ان چیزوں سے آزاد کرنے سے عزت کا پھل ملا کرتا ہے۔

’’عزت تو گھوڑوں کی سخت پیٹھوں پر ہے
اور عظمت راتوں کے جاگنے اور راتوں کے سفر کی کوکھ سے پیدا ہوتی ہے‘‘

٭٭٭٭٭

Exit mobile version