مجھے سہل ہوگئیں منزلیں کہ ہوا کے رُخ بھی بدل گئے
ترا ہاتھ ہاتھ میں آلگا تو چراغ راہ کے جل گئے
حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
یٰاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ
اے ایمان والو! تقویٰ اختیار کرو اور تقویٰ کی راہ آسان ہونے کا نسخہ کاملین کی صحبت اختیار کرنا ہے۔
کاملین کی صحبت کتنی ہو؟
علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ روح المعانی میں تحریر فرماتے ہیں کہ کاملین کی صحبت میں اس اہتمام سے رہو کہ اخلاق و اعمالِ حسنہ تمہارے اندر جذب ہوجائیں۔
’’خَالِطُوْہُمْ لِتَکُوْنُوْا مِثْلَہُمْ فَکُلُّ قَرِیْنٍ بِالْمُقَارِنِ یَقْتَدِیْ.‘‘
’’باب مخالطہ اختیار کیا تاکہ معلوم ہو کہ طالب اور شیخ دونوں ہی کی طرف سے افادہ اور استفادہ کے لیے مصاحبت کا اہتمام ہو اور طالب مرشد کے کمالات کو جذب کرسکے ۔‘‘
یہاں تک جذب کرلوں کاش تیرے حسنِ کامل کو
تجھی کو سب پکار اُٹھیں گزر جاؤں جدھر ہوکر
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’اَلْمَرْءُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ فَلْیَنْظُرْ أَحَدُکُمْ مَنْ یُّخَالِلُ .‘‘
’’ہر آدمی اپنے گہرے دوست کے دین پر ہوجاتا ہے، اس لیے غور کرلے ہر ایک کہ ہم کس سے دوستی کرتے ہیں۔‘‘
ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ ہر آدمی اپنے دوست کے دین پر کیوں ہوجاتا ہے؟ اس کی تفہیم اور توضیح کے لیے حق تعالیٰ کا ارشاد کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ نقل فرماکر الامام الغزالی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل فرمایا ہے:
’’ مُجَالَسَۃُ الْحَرِیْصِ وَمُخَالَطَتُہٗ تُحَرِّکُ الْحِرْصَ ، وَ مُجَالَسَۃُ الزَّاہِدِ وَمُخَالَطَتُہٗ تَزْہَدُ فِی الدُّنْیَا لِاَنَّ الطِّبَاعَ مَجْبُوْلَۃٌ عَلَی التَّشَبُّہِ وَالْاِقْتِدَاءِ بَلِ الطَّبْعُ یَسْرِقُ مِنَ الطَّبْعِ مِنْ حَیْثُ لَا یَدْرِیْ ہٰذَا.‘‘
’’مجالست حریص کی حرص کو اُبھارتی ہے اور زاہد کی مجالست دنیا کی بے رغبتی پیدا کرتی ہے کیوں کہ انسان کی طبیعت نقل اور اقتدا کے فطری تقاضے پر پیدا کی گئی ہے بلکہ طبیعت دوسری طبیعت کے عادات اور خصائل کو غیرشعوری اور غیرارادی طور پر چوری کرلیتی ہے۔‘‘
اہل اللہ کی صحبت فرضِ عین ہے
حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ تزکیہ فعلِ متعدی ہے فعلِ لازم نہیں جو خود اپنے فاعل سے تمام ہو۔ پس تزکیہ کوئی بھی اپنے نفس کا خود نہیں کرسکتا جب تک کہ کوئی تزکیہ کرنے والا نہ ہو۔ فعل متعدی فاعل اور مفعول بہٖ دونوں کا محتاج ہوتا ہے۔ ایک مقام پر فرمایا اہل اللہ کی صحبت فرضِ عین ہے۔ حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کا فتویٰ امدادالفتاویٰ، جلد۵، صفحہ ۱۳۹ ،باب السلوک میں حسب ذیل ہے:
سوال: میری عمر چوبیس سال ہے۔ میں ایک حامل شریعت واقفِ طریقت بزرگ سے بیعت ہوں اور اصلاحِ نفس کے لیے ان کی خدمت میں جایا کرتا ہوں۔ میرے والد صاحب منع کرتے ہیں۔ کیا اس صورت میں ان کی خدمت میں جانے سے باپ کی یہ نافرمانی گناہ ہے اور باپ حق پر ہے یا خطا پر؟
جواب: منجیاتِ قلبیہ کی تحصیل اور مہلکاتِ قلبیہ کا ازالہ واجب ہے اور تجربہ سے اس کا طریق حضرات کاملین مکملین کی صحبت اور ان کی تعلیم پر عمل کرنا ثابت ہوا ہے، اس لیے بحکم مقدمۃ الواجب واجب یہ بھی ضروری ہے اور ترک واجب میں والدین کی اطاعت واجب نہیں۔قال علیہ السلام:
’’لَاطَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ .‘‘
البتہ اگر اس مرشد میں خدانخواستہ کوئی شرعی فساد ہے تو اس کی صحبت سے بچنا واجب ہے۔
اہل اللہ کی نظر کے برکات
اللہ والوں کی نظر میں برکت اور کرامت اور تاثیر کے متعلق حضرت ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب عرض کیا’یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! جعفر کی اولاد کو نظر لگ جاتی ہے‘۔أَفَاَسْتَرْ قِیْ لَہُمْ ، قَالَ: نَعَمْ؛ فَإِنَّہٗ لَوْ کَانَ شَیْءٌ سَابِقَ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْہُ الْعَیْنُ.اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نظر برحق ہے، تو جب بُری نظر لگ سکتی ہے تو اللہ والوں کی اچھی نظر کیسے نہ لگے گی؟! اکبرؔ الٰہ آبادی نے خوب فرمایا ہے
نہ کتابوں سے نہ وعظوں سے نہ زر سے پیدا
دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا
حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
نگاہوں سے بھر دی رگ و پے میں بجلی
نظر کردہ برق تپاں ہو رہا ہے
حضرت ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
’’وَضِدُّ ہٰذَا الْعَیْنِ نَظَرُ الْعَارِفِیْنَ فَإِنَّہٗ مِنْ حَیْثُ التَّاثِیْرِ الْإِکْسِیْرِ یَجْعَلُ الْکَافِرَ مُؤْمِنًا وَالْفَاسِقَ صَالِحًا وَّالْجَاہِلَ عَالِمًا وَالْکَلْبَ إِنْسَانًا وَّہٰذَا لِأَنَّہُمْ مَنْظُوْرُوْنَ بِنَظَرِ الْجَمَالِ وَالْأَغْیَارَ تَحْتَ اَسْتَارِ نَظَرِ الْجَلَالِ.‘‘
’’ جب بُری نظر لگ سکتی ہے تو عارفین، اللہ والوں کی نظر کیسی تاثیر والی ہوگی جو کافر کومؤمن، فاسق کو ولی، جاہل کو عالم، کتّے کو انسان بناتی ہے کیوں کہ یہ حضرات حق تعالیٰ کی نظرِ جمال کے منظورِ نظر ہیں اور اغیار نظرِ جلال کے پردوں کے نیچے محجوب ہیں۔‘‘
اہل اللہ کی صحبتیں جنت کے باغ ہیں
حدیث پاک میں ہے جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو کچھ کھاپی لیا کرو:
’’إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِیَاضِ الْجَنَّۃِ فَارْتَعُوْا.‘‘
’’جب تم جنت کے باغوں میں سے گزرو تو خوشہ چینی کر لیا کرو۔‘‘
حضرت ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’أَیْ إِذَا مَرَرْتُمْ بِجَمَاعَۃٍ یَّذْکُرُوْنَ اللہَ تَعَالٰی فَاذْکُرُوا اللہَ أَنْتُمْ أَیْضًا مُوَافَقَۃً لَّھُمْ فَإِنَّھُمْ فِیْ رِیَاضِ الْجَنَّۃِ.‘‘
یعنی جب گزرو تم ایسی جماعت کے ساتھ جو اللہ کا ذکر کرتے ہوں تو تم بھی ان کے ساتھ ذکر میں مشغول ہوجاؤ تاکہ ان کی موافقت کا شرف حاصل ہو کیوں کہ وہ جنت کے باغوں میں ہیں۔
صحبتِ اہل اللہ کے منکرین علامہ آلوسی کی نظر میں
وَمِنْ ہُنَا نَہٰی أَہْلُ اللہِ تَعَالَی الْمُرِیْدِیْنَ عَنْ مُوَالَاۃِ الْمُنْکِرِیْنَ لِأَنَّ ظُلْمَۃَ الْاِنْکَارِ الْعِیَاذُ بِاللہِ تَحَاکٰی ظُلْمَۃَ الْکُفْرِ وَ رُبَّمَا تَرَاکَمَتْ فَسَدَّتْ طَرِیْقَ الْاِیْمَانِ، وَمَنْ یَّفْعَلْ ذَالِکَ فَلَیْسَ مِنْ وِّلَا یَۃِ اللہِ تَعَالٰی فِیْ شَیْءٍ مُعْتَدٍ بِہٖ اِذْ لَیْسَ فِیْہِ نُوْرِیَّۃٌ صَافِیَۃٌ یُنَاسَبُ بِہَا الْحَضْرَۃُ الْاِلٰہِیَّۃُ ’’لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ‘‘ کی تفسیر کے بعد من باب الاشارات فی الآیات کے ذیل میں علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ جو لوگ منکرین ہیں اللہ والوں کے فیوض اور برکات کے، ان کی صحبت میں بیٹھنے سے بھی مشائخ اپنے مریدین کو منع کرتے ہیں کیوں کہ یہ ظلمتِ انکار نہایت شدید ہے کہ بسااوقات یہ ظلمت تہہ بہ تہہ جمتی ہوئی ورطۂ حیرت میں غرق کردیتی ہے اور ایمان کا راستہ مسدود ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو حق تعالیٰ کی بارگاہِ قرب سے کوئی حصہ معتدبہٖ نہیں حاصل ہوتا کیوں کہ یہ منکرین اس نورِ صاف سے محروم ہوتے ہیں جس کی قدرِ مشترک سے بارگاہِ حق سے ارواح کو مناسبت حاصل ہوتی ہے۔
صراطِ مستقیم اور اہل اللہ کی رفاقت
حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کے بعد صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ سے ضالین تک کی آیات صراطِ مستقیم کی تفسیر اور بیان ہے، اور انعام والوں کی نشاندہی دوسری آیت میں فرمائی گئی کہ وہ منعم علیہم انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین ہیں۔
فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا
یہ آخری جملہ بھی بتاتا ہے کہ ان حضرات سے حسنِ رفاقت حاصل کرو۔ اگرچہ جملہ خبریہ ہے لیکن ہر جملہ خبریہ میں جملہ انشائیہ بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔ بابا فرید عطار رحمۃ اللہ علیہ نے جو فرمایا تھا کہ
بے رفیقے ہر کہ شد در راہِ عشق
عمر بگذشت و نہ شد آگاہِ عشق
بدونِ رفیق و راہ بر جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں قدم رکھا تمام عمر گزر گئی مگر عشقِ حق کی حقیقت سے آگاہی نہ ہوئی۔
اس شعر میں لفظ رفیق اسی آیت سے لیا ہے۔ اللہ والوں کے الفاظ الہامی ہوتے ہیں۔
حسنِ رفاقت مطلوب ہے
حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا سے ان حضرات کا بہترین رفیق ہونا بیان ہوا لیکن ساتھ ہی یہ بھی اشارہ ہوگیا کہ ان کا نفع کامل ان ہی کو حاصل ہوگا جو ان سے دوستی اور رفاقت میں اخلاص اور جمال رکھتے ہیں یعنی حسنِ رفاقت کا تعلق رکھتے ہیں جس کو اتباع سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ وَاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ، حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ ہماری طرف متوجہ ہیں، ہمارے درباری ہیں ان کی اتباع کرو۔ معلوم ہوا کہ تعلق صرف محبت کا کافی نہیں، اتباع کا مطلوب ہے۔حضرت مرشدنا و مولانا شاہ ابرارالحق صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا کہ اتباع کی عجیب برکت ہے کہ اصل تو متبوع اور حسن رفاقت کے اہل انبیا علیہم السلام ہیں مگر ان کی اتباع کی برکت سے ان ہی کی ذاتِ مقدسہ پر صدیقین اور شہدا و صالحین کو بھی عطف کردیا گیا ہے۔ اتباع کی شان اور اس کے برکات دیکھو کہ معصومین پر غیرمعصومین کو عطف کیا گیا اور پھر پورے مجموعہ کے لیے وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا کا حکم لگایا گیا ہےکہ یہ تمام حضرات بڑے اچھے رفیق ہیں۔ سبحان اللہ! معطوف کا قواعدِ نحو سے ایک ہی حکم ہوتا ہے۔ پس منعم علیہم کا صدق ہر ایک پر الگ الگ ہوسکتا ہے۔ عشق اور محبت اور اتباع کا یہ انعام ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے
؏اب مرا نام بھی آئے گا ترے نام کے ساتھ
منعم علیہم صراطِ مستقیم کے بدل الکُل ہیں
تفسیر بیان القرآن میں حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے عربی حاشیہ میں روح المعانی کے حوالہ سے تحریر فرمایا ہے کہ صراطِ مستقیم ترکیبِ نحوی کے اعتبار سے مبدل منہ ہے اور صراط الذین انعمت علیہم بدل الکل ہے اور بدل کی ترکیب میں مقصود بدل ہی ہوتا ہے۔ پس انعام والوں کا راستہ ہی اصل مقصود ہوا جس پر چلنے کے لیے ان کے ساتھ حسنِ رفاقت کی ضرورت ہے، کیوں کہ حدیث مبارک میں ہے کہ اَلرَّجُلُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہٖ تو ان حضرات سے خُلّۃ اور دوستی اور محبت کا مطلوب ہونا بھی ثابت ہوا۔
ہمارے حضرت مولانا شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ ایک بزرگ سے کسی عالم نے دریافت کیا کہ صحبتِ اہل اللہ کیوں ضروری ہے؟ کیا کتابیں کافی نہیں؟ تو فرمایا کہ آپ صحابی کیو ں نہیں ہیں؟ کہا صحابی کے لیے نبی کی صحبت ضروری ہے۔ پھر فرمایا کہ آپ تابعی بن جائیے۔ کہا کہ تابعی کے لیے صحابی کی صحبت کی ضرورت ہے۔ فرمایا اچھا تبع تابعی بن جائیے۔ کہا اس کے لیے تو تابعی کی صحبت ضروری ہے۔ پھر ان عالم صاحب نے کہا کہ حضرت! ہم سمجھ گئے، جزاک اللہ کہ
؏چشمم باز کردی مرا باجانِ جاں ہمراز کردی
صحبت کے برکات کی حسّی مثالیں
۱) حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب دامت برکاتہم سے احقر نے عرض کیا کہ دیسی آم کی قلم جب لنگڑے آم سے لگاتے ہیں تو وہ دیسی آم بھی اس کی صحبت کے فیض سے لنگڑا آم بن جاتا ہے۔ اسی طرح دیسی دل اللہ والے دل کی صحبت سے اللہ والا بن جاتا ہے۔ مسکرا کر فرمایا کہ لنگڑا دل اور بگڑا دل جب اللہ والے دل سے پیوند رکھا جاتا ہے تو اس کے برکاتِ صحبت سے وہ تگڑا دل بن جاتا ہے یعنی نہ یہ کہ وہ صرف صالح بن جاتا ہے بلکہ مصلح بھی بن جاتا ہے۔۲) دوسری مثال تِلْ کی ہے۔ تل جب گلاب کی صحبت سے فیض پاکر گلِ روغن بن جاتا ہے تو تل کے تیل کا نام بدل جاتا ہے اور دام بھی بدل جاتا ہے۔ اب اس کو روغنِ گل کہتے ہیں۔ حضرت رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎روغنِ گل روغنِ کنجد نماندآفتا بے دیدا و جامد نماند ترجمہ:۔تِل کا تیل اب روغنِ گل ہوگیا۔ برف نے آفتاب دیکھا وہ پانی ہوگیا اب جامد نہ رہا، اس کو اب برف نہ کہو۔
صحبت کے باوجود نفع نہ ہونے کی وجہ
ہمارے حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ صحبت کے ساتھ مجاہدہ بھی ضروری ہے۔ دیکھو تل کو اگر مجاہدہ نہ کرایا جائے اور رگڑ رگڑ کر اس کی بھوسی نہ چھڑائی جاوے تو گلاب کے پھول کی خوشبو اس کے اندر جذب نہ ہوگی۔ پس سالک کو التزامِ ذکر اور گناہوں سے بچنے کا اہتمام اور اطلاع و اتباع کا تمام مجاہدہ برداشت کرنا ہوگا۔ مجاہدہ سے جذبِ فیض کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ جتنا قوی مجاہدہ ہوگا اتنا ہی جذبِ فیض قوی ہوگا۔ اَلْمُشَاہَدَۃُ بِقَدْرِ الْمُجَاہَدَۃِ اور ہوائی جہاز کی مثال دی کہ دیکھو کتنا قوی مجاہدہ ہے؟ جان اور مال دونوں کا مجاہدہ ہے، مگر پھر کتنی جلدی منزل پر پہنچادیتا ہے۔ تیسری مثال یہ دی کہ جس زمین پر محنت کی جاتی ہے مالی اور باغباں تربیت کرتا ہے، وہاں کیسے کیسے پھول پیدا ہوتے ہیں، اور جس زمین پر محنت نہ کی جاوے کوئی اس کا مربّی اور مالی نہ ہو تو وہاں گندگی اور کانٹے اور غیرمفید گھاس پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی طرح دل کی زمین کا حال ہے،جس نے اپنے دل کی زمین کو کسی اللہ والے کے سپرد کردیا اس کی تربیت کے فیض سے محبتِ الٰہیہ اور خشیتِ الٰہیہ اور تقویٰ کے کیسے کیسے پھول اور خوش نما پودے پیدا ہوتے ہیں۔ حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اسی کو فرماتے ہیں
میں رہتا ہوں دن رات جنت میں گویا
مرے باغِ دل میں وہ گلکاریاں ہیں
حضرت حکیم الامت تھانوی کا ارشاد
فرمایا کہ دو عالم ہمارے پاس ہوں، ایک تربیت اور صحبت یافتہ ہو دوسرا صحبت یافتہ نہ ہو، پانچ منٹ میں ہم خود بتادیں گے کہ یہ صحبت یافتہ ہے اور یہ صحبت یافتہ نہیں۔ بدون تربیت یافتہ مولوی کے ہر لفظ میں، آنکھوں کے تیور میں، کندھوں کے نشیب و فراز میں، رفتار میں، گفتار میں کبرِ نفس کے آثار ہوں گے، اور جس نے نفس کو صحبتِ اہل اللہ کے ذریعے مٹایا ہے اس کی ہر بات، ہر ادا میں عبدیت، فنائیت اور تواضع کے آثار ہوں گے۔
حضرت مولانا پھولپوری کا ارشاد
حضرت والا احقر سے اکثر فرمایا کرتے تھے کہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ عَالِم بدون اصلاح و تربیت کے نفس کا کُپَّا ہوتا ہے، لیکن یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ عابد جب سلوک طے کرتا ہے تو اللہ اللہ کا ذکر کرنے سے صاحبِ نور ہوجاتا ہے اور عالِم جب سلوک طے کرتا ہے تو اللہ اللہ کا ذکر کرتے کرتے نورٌ علیٰ نور ہوجاتا ہے۔ عِلم کا نور اور ذکر کا نور دونوں جمع ہوجاتے ہیں۔
علامہ انور شاہ کشمیری کا ارشاد
حضرت مولانا عبداللہ صاحب شجاع آبادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب ہم دورۂ حدیث سے فارغ ہوئے تو حضرت کشمیری صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ہم سب طلبہ کو جمع کرکے نصیحت کی اور فرمایا کہ ’دیکھو خواہ کتنی بار ختم بخاری شریف کرلو مگر جب تک اللہ والوں کی جوتیاں نہ سیدھی کروگے اور ان کی صحبت نہ اختیار کروگے حقیقت اور روحِ علم سے محروم رہوگے‘، اور جوش میں فرمایا’ اللہ والوں کی جوتیوں کی خاک کے ذرّات سلاطینِ دنیا کے تاجوں کے موتی سے افضل ہیں‘۔
علامہ قشیری کا ارشاد
امام ابوالقاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب ’’رسالہ قشیریہ‘‘ میں ضرورت صحبتِ اہل اللہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ مرید پر واجب ہے کہ شیخ سے ادبِ تعلیم و تربیت حاصل کرلے۔ اگر اس کا کوئی شیخ نہیں تو کبھی فلاح نہ پائے گا۔ اس کا راہ بر شیطان ہوگا۔ یعنی اس کے کہنے پر چلے گا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد ابوعلی دقاق رحمۃ اللہ علیہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو درخت خودرو ہوتا ہے وہ پتےّ تو لاتا ہے مگر پھل نہیں لاتا۔ یہی حال اس کا ہوتا ہے جس کا کوئی شیخ نہیں ہوتا۔ پس رفتہ رفتہ وہ اپنی خواہشِ نفسانی کا غلام بن جائے گا اور اس کو اس غلامی سے کبھی خلاصی نہیں ہوسکتی۔
حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی کا ارشاد
یہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد اور حضرت مرزا جانِ جاناں رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں۔ اپنی کتاب ’’مالابدمنہ‘‘ میں فرماتے ہیں’’نورِ باطن صلی اللہ علیہ وسلم را از سینۂ درویشاں باید جُست‘‘پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا نورِ باطن بزرگوں کے سینوں سے حاصل کرنا چاہیے۔
حضرت گنگوہی کا ارشاد
فرمایا: سو برس کی اخلاص والی عبادت سے اہل اللہ کی ایک ساعت کی صحبت کیوں افضل ہے؟ اس لیے کہ اخلاص ملتا ہی ان حضرات کی صحبت کی برکت سے ہے ۔ تو سو برس کی عبادت اخلاص والی کہاں سے ملے گی؟ انہی حضرات کی صحبت کی برکت سے تو ملے گی۔
حضرت خواجہ معصوم باللہ کا ارشاد
یہ سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قربِ خاص جس کا نام نسبت ہے ،یہ چیز اس عالمِ اسباب میں حضرات صوفیا ہی کے طریق پر چلنے سے حاصل ہوسکتی ہے۔ چناں چہ ان بزرگوں نے حق تعالیٰ کی محبت میں نہ اپنے کو دیکھا اور نہ غیر کو بلکہ سب سے یک لخت خالی ہوگئے (اور جس سے محبت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرتے ہیں اور جس سے بغض رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے رکھتے ہیں) اور جب تک نسبت مع اللہ قلب میں خوب راسخ نہ ہوجائے مرشد سے دوری اور جدائی اختیار نہ کرے ورنہ نسبت مع اللہ میں کمزوری پیدا ہوجاوے گی اور اس کمزوری کے سبب معصیت اور گناہ کا ارتکاب ہوگا جس سے دل تاریک اور اندھیرا ہوجاوے گا۔
علامہ سیّد سلیمان ندوی کا ارشاد
حضرت فرماتے تھے کہ حق تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے لیے اہل اللہ کی محبت اور صحبت سے بڑھ کر کوئی تدبیر مؤثر نہیں ۔
ان سے ملنے کی ہے یہی اِک راہ
ملنے والوں سے راہ پیدا کر
اور اپنے دعویٰ کی دلیل میں علامہ موصوف نے یہ حدیث پیش فرمائی:
’’اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُّبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ.‘‘
’’اے اللہ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کی محبت کا اور آپ کے عاشقین کی محبت کا اور اس عمل کا جو آپ کی محبت سے قریب کرنے والا ہو۔‘‘
علامہ موصوف نے فرمایا کہ اللہ والوں کی محبت کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اعمال سے مقدم فرماکر یہ تعلیم بھی ہم کو فرمادی کہ اعمال کی توفیق اور ہمت اہل اللہ ہی کی صحبت سے نصیب ہوتی ہے۔
حضرت مولانا جلال الدین رومی کا ارشاد
بے عنایاتِ حق و خاصانِ حق
گر ملک باشد سیہ ہستش ورق
حق تعالیٰ کی عنایات کے بغیر اگر کوئی فرشتہ بھی ہوجاوے اس کا نامۂ اعمال سیاہ ہے۔بے عنایاتِ حق پر خاصانِ حق کی عنایات کا عطف، عطف تفسیری اور عطف بیانی ہے۔ مولانا نے عنایاتِ حق جو عالمِ غیب سے متعلق غیرمحسوس اور غیرمبصر نظری ہے اس پر خاصانِ حق کو عطف فرماکر اس نظری کو بدیہی اور مبصر بنادیا۔ کیا علوم ہیں! عالمِ غیب کو مولانا نے عالمِ شہادت بنادیا۔ یعنی جس بندے پر دیکھو کہ اہل اللہ کی عنایاتِ خاصّہ ہیں تو سمجھ لو کہ اس پر عنایاتِ حق مبذول ہیں۔ اور اگر روئے زمین کے تمام اہل اللہ کسی مرد کو مردود کردیں تو سمجھ لو کہ یہ شخص خطرے میں ہے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی کا ارشاد
شیخ فرماتے ہیں کہ ہمارے والد ماجد نے ہم کو تحریر فرمایا کہ ’مُلّائے خشک و ناہموار نہ باشی‘‘۔ یعنی اے بیٹے! خشک مُلّا اور بدون تربیت نہ رہنا۔ شیخ نے اس نصیحت کے بعد باضابطہ تعلق مرشد سے قائم کرکے اپنی تربیت و اصلاح کا اہتمام فرمایا۔
حضرت مُلّا علی قاری کا ارشاد
محدثِ عظیم شارح مشکوٰۃ فرماتے ہیں کہ مرید اپنے شیخ کو کبھی حقارت کی نظر سے نہ دیکھے اگرچہ اپنی عبادت کی مقدار زیادہ پائے، اور جو اعتراض کرے گا اپنے شیخ پر کبھی فلاح نہ پائے گا۔ شیخ ملّا علی قاری رحمۃ اللہ نے یہ تشریح حدیث’’کَأَنَّہُمْ تَقَالُّوْہَا‘‘إِ لٰی ’’فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ‘‘کے ذیل میں ارقام فرمائی ہے۔ عبارتِ مذکورہ سے اہل اللہ کی صحبت کے حقوق کا اہتمام ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے۔ارشادِ رومیؔ رحمۃ اللہ علیہ
خُم کہ از دریا درو را ہے شود
پیشِ او جیحونہا زانو زند
جس مٹکے کو سمندر سے تعلق خفیہ حاصل ہو اس کے سامنے بڑے بڑے دریا شاگرد ہوجاتے ہیں کیوں کہ اس مٹکے کا پانی خشک نہ ہوگا اور دریا خشک ہوسکتے ہیں۔
ارشادِ حکیم الامت تھانوی
اسی حقیقت کو حضرت حکیم الامت فرماتے ہیں کہ وہ عالم جو اہل اللہ کی صحبت میں تکمیلِ سلوک کرکے صاحبِ نسبت ہوجاتا ہے اور عالم ظاہر غیرصاحبِ نسبت کے علوم میں فرق کی ایسی مثال ہے جیسے ایک حوض کا پانی ہے جو خشک ہوجاتا ہے اور ایک اس چشمہ کا پانی جس کے اندر نیچے تک گہرا کھودا گیا اور سَوتا نکل آیا تو اس کا پانی کبھی ختم نہ ہوگا۔ پس یہ دوسری مثال عالم صاحبِ نسبت کے علم کی مثال ہے اور اوّل مثال عالم ظاہر کے علم کی ہے
قطرۂ علمے کہ دادی تو ز پیش
متصل گرداں بدریا ہائے خویش
یَا غِیَاثَ الْمُسْتَغِیْثِیْنَ اہْدِنَا
لَا افْتِخَارَ بِالْعُلُوْمِ وَالْغِنٰی
اے خدا! آپ نے جو علم کا قطرہ جلال الدین رومی کی جان میں عطا فرمایا ہے اس قطرۂ علم کو اپنے غیرمحدود دریائے علم سے متصل فرمادیجیے۔ اے فریاد سننے والے فریاد کرنے والوں کی فریاد کے! مجھ کو ہدایت دیجیے اور ہدایت پر قائم بھی رکھیے۔ ہم کو اپنے علم پر کوئی بھی فخر نہیں اور نہ ہم علم کے سبب آپ کی عنایات سے مستغنی ہوسکتے ہیں۔یعنی اگر آپ کا کرم شاملِ حال نہ ہو تو علم ہوتے ہوئے بے عملی میں اہلِ علم مبتلا ہوجاتا ہے۔
تربیت اور صحبتِ اہل اللہ کی تفہیم کے لیے دو عجیب مثالیں
آملہ کے دو دانے درخت سے گرے۔ ایک حلوائی نے ایک دانے سے گزارش کی کیا آپ کو مربّہ بنادوں؟ آملہ نے سوال کیا کہ مربّہ کیسے بناتے ہو؟ حلوائی نے کہا کہ ہم آپ کے جسم کو سوئی سے چبھو چبھو کر آپ کے اندر سے کسیلا پانی نکال دیں گے۔ پھر پانی میں جوش دیں گے، یہاں تک کہ آپ کا ذرّہ ذرّہ پک کر نرم ہوجاوے گا۔ پھر شیرہ میں ڈال دیں گے اور آپ کو مرتبان میں سجاکر رکھا جاوے گا اور حکما آپ کو چاندی کے ورق میں لپیٹ کر مریضوں کو کھلائیں گے۔ مفتی اعظم اور وزیراعظم بھی کھائیں گے۔ جن کا دل کمزور ہوگا دل کی طاقت کے لیے آپ کو تجویز کیا جائے گا۔ آپ مقوئ قلب ہوں گے۔ یہ سن کر ایک آملہ نے اپنی تربیت سپرد کردی۔ دوسرے نے ازراہِ تکبر انکار کیا اور کہا یہ مجاہدہ ہم سے برداشت نہ ہوگا۔ تربیت یافتہ آملہ مربۂ آملہ بن کر ایک روپے کاایک بکے گا اور انسانوں کے دلوں کو طاقت کے لیے عزت سے استعمال ہوگا۔ دوسرا بے تربیت یافتہ سورج کی شعاعوں سے خشک اور سیاہ رو ہوکر جھاڑو سے اکٹھا ہوکر بوروں میں ٹھونس کر بنیوں کے یہاں پھینک دیا جائے گا۔ صورت اور سیرت دونوں مسخ ہوں گی۔ بہت قیمت لگے گی تو گھٹیا دام سے تر پھلا کے نام سے بکے گا اور کسی کو قبض ہوگا یا قبض سے انجراتِ رویہ اعضائے رئیسہ کی طرف صعود کریں گے تو اس کندۂ ناتراش بے تربیت آملہ کا سفوف کھلادیا جائے گا اور آنتوں سے پاخانہ دھکیلنے کی خدمت سپرد ہوگی۔ لوگوں کا قبض دفع کرنے کی خدمت مثل جمعدار سپرد کردی جائے گی۔ یہ ہے استغنا عن اہل الحق اور تکبر کا انجام ۔
ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد
ہر کہ خود را دید او محروم شد
اسی طرح دوسری مثال بھی عجیب ہے۔ چمن میں صبح صبح نسیم سحری باغوں کی کلیوں کو تھپیڑوں کا مجاہدہ کراکے ان کی سیل (مہر) توڑ دیتی ہے اور وہ شگفتہ ہوکر اپنی اندرونی خوشبو کی امانت کو اندرونِ چمن اور بیرونِ چمن پھیلاکر خرامانِ چمن کو مست و سرشار کرتی ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حقیقت کو اپنے اس شعر میں خوب بیان فرمایا ہے
بوئے گُل سے یہ نسیمِ سحری کہتی ہے
حجرۂ غنچہ میں کیا کرتی ہے آ سیر کو چل
احقر کا بھی اس مضمون پر شعر ہے
غنچہ سہتا ہے چمن میں سختیٔ بادِ سحر
اس کے دامن میں عطا ہوتی ہے پھولوں کی مہک
اس حقیقت پر احقر کے چند اشعار فارسی میں جو معارفِ مثنوی میں طبع ہوئے ہیں
بوئے خوش از غنچہ کے آمد بروں
تا نہ شد پیشِ نسیمے سرنگوں
کلی سے اچھی خوشبو کب ظاہر ہوئی جب تک بادِ نسیم کے سامنے زانوئے استفادہ نہ رکھا۔
جانِ توچو غنچہ اے طالب بداں
اندرونش دردِ حق دارد نہاں
اے طالب! تیری جان مثل کلی اپنے اندر دردِ حق کی خوشبو پوشیدہ رکھتی ہے۔
چوں بگیری صحبت اہلِ نظر
غنچہ بکشاید نسیم آں سحر
تو جب اہلِ نظر کی صحبت اختیار کرے گا تو یہ صحبت تیری روح کی کلی کو شگفتہ کردے گی، اس کی صحبت مثل نسیمِ سحری ہے۔
گر نگیری از تغافل راہ بر
کے شوی از غنچہ تو گلہائے تر
اور اگر غفلت سے کسی راہ بر کو نہ پکڑا تو تیری کلی کیسے گلِ تر ہوگی۔
غنچہ را ایں کرّ و فر در انجمن
ہست از فیض نسیمے در چمن
اے مخاطب! اگر انجمن میں تو کسی کلی کو خلعتِ گل میں آراستہ اس کا کرّوفر مشاہدہ کرتا ہے تو یقین کرلے کہ چمن میں نسیمِ سحری کا فیض اس کو پہنچا ہے۔
حضرت شاہ فضلِ رحمٰن گنج مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ تہجد کی نماز کے بعد جب خاص قربِ حق کی خوشبو اپنی جان میں محسوس کرتے تھے تو یہ شعر خاص وجہ سے گنگناتے تھے
بادِ نسیم آج بہت مشکبار ہے
شاید ہوا کے رُخ پہ کھلی زُلفِ یار ہے
حضرت رومی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس خوشبو ئے قربِ خاص کو اس طرح بیان فرمایا ہے
بوئے آں دلبر چوں پرّاں می شود
ایں زباں ہا جملہ حیراں می شود
اس محبوبِ حقیقی کی خوشبو اُڑ کر میری روح میں محسوس ہوتی ہے تو اس کی لذت کیف آفریں کے بیان کے لیے مجھے تمام زبانیں قاصر نظر آتی ہیں۔
اور حقیقت ہے کہ لطف غیرمحدود کو زبانِ محدود کیسے تعبیر کرسکتی ہے؟حضرت اصغر گونڈوی استادِ جگر نے بھی اس مقام کو خوب تعبیر کیا ہے
ترے جلوؤں کے آگے ہمتِ شرح و بیاں رکھ دی
زبانِ بے نگہ رکھ دی نگاہِ بے زباں رکھ دی
حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت سے قبل نفس کی شرارت سے یہ حال تھا
ہے شوق و ضبطِ شوق میں دن رات کشمکش
میں دل کو دل ہے مجھ کو پریشاں کیے ہوئے
پھر فیضانِ صحبت کے بعد کیا حال ہوا؟ خود حضرت خواجہ صاحب نے اپنا یہ حال اس طرح فرمایا ہے
نقشِ بتاں مٹایا دکھایا جمالِ حق
آنکھوں کو آنکھیں دل کو مرے دل بنادیا
آہ کو سوزِ دل سے کیا نرم آپ نے
نا آشنائے درد کو بسمل بنا دیا
مجذوبؔ در سے جاتا ہے دامن بھرے ہوئے
صد شکر حق نے آپ کا سائل بنا دیا
ایک سبق آموز واقعہ
ایک پٹرول کی ٹنکی والا ٹرک کا ڈرائیور پٹرول پمپ سے چند گیلن پٹرول خرید رہا تھا۔ حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب دامت برکاتہم نے فرمایا دیکھو بیس ہزار گیلن پٹرول اس کی پیٹھ پر ہے، مگر اس کے انجن میں پٹرول نہ ہونے کے سبب یہ ٹرک چل نہیں سکتا اور چند گیلن پٹرول کا استفادہ کررہا ہے۔ اسی طرح علوم کی کثرت کا حال ہے، جب تک دل میں خشیت اور محبت کا پٹرول نہ ہو اپنے علوم پر عمل کی توفیق نہیں ہوتی۔ اسی محبت اور خشیت کا پٹرول لینے کے لیے حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت حاجی صاحب کی خدمت میں گئے تھے۔
صحبتِ اہل اللہ سے متعلق حضرت تھانوی کے چند ارشادات
از: ملفوظات کمالاتِ اشرفیہ
فرمایا کہ محبتِ حق پیدا کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ محبت والوں کے پاس بیٹھنا شروع کر دے
آہن کہ بپارس آشنا شد
فی الحال بصورت طلا شد
فرمایا کہ اصل چیز اصلاح کے لیے صحبت ہے اور ہمیشہ اہل اللہ نے صحبت ہی کا التزام رکھا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو جو کچھ ملا صحبت ہی سے ملا۔
فرمایا کہ بزرگوں کی صحبت سے اگر اصلاح کامل نہ بھی ہو تو کم از کم اپنے عیوب پر نظر ہونے لگتی ہے، یہ بھی کافی ہے اور مفتاحِ طریق ہے۔
فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب اور محب بننا چاہتے ہو تو اعمال میں ہمت کرکے شریعت کے پابند رہو، ظاہراً بھی باطناً بھی، اور اللہ اللہ کرو اور کبھی کبھی اللہ والوں کی صحبت میں جایا کرو اور ان کی غیرموجودگی میں جو کتابیں وہ بتائیں ان کو پڑھا کرو۔
فرمایا کہ اہل اللہ کے واقعات اس پر شاہد ہیں کہ ان حضرات نے اپنے کو جتنا مٹایا خدا تعالیٰ نے ان کو اتناہی چمکایا۔ تواضع میں جذب و کشش کی خاصیت ہے۔ متواضع کی طرف قلوب کو خود انجذاب ہوتا ہے۔ بشرطیکہ صحیح تواضع ہو، تصنع اور بناوٹ نہ ہو۔ اہل اللہ کے اند رکشف و کرامت سے زیادہ جو چیز دلکش و دلرُبا ہوتی ہے وہ ان کے تواضع کے واقعات ہیں۔
بے شک تواضع سے وہ رفعت حاصل ہوتی ہے جو تصنع سے کبھی بھی نہیں ہوتی۔ مَنْ تَوَاضَعَ لِلہِ رَفَعَہُ اللہُ!
فرمایا کہ اصلاح کا کوئی منتہیٰ نہیں ہے، اس لیے جب ایسا خیال ہو کہ اب میری اصلاح ہوچکی ہے اور اس پر اطمینان بھی ہو تو یہ غلط ہے۔
فرمایا کہ اللہ والوں کی صحبت سے نفع ہونے کے چار وجوہ ہیں:
۱) ان کی صحبت میں برکت ہے، جو ان کو راضی رکھتا ہے اور جس کی طرف ان کے قلوب متوجہ رہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر فضل فرماہی دیتا ہے۔
۲) ان کی مجلس میں ایسے ملفوظات ہوتے ہیں جن سے نفس کے رذائل کا علم ہوتا ہے۔
۳) آنے والوں کے لیے یہ حضرات ان کی اصلاح کی دعائیں کرتے ہیں۔
۴) انسان کی طبیعت میں نقلِ اخلاق و اعمال کا خاصّہ ہے جس کے سبب بزرگوں کے پاس رہنے سے عشقِ حق اور خوفِ خدا ان کے دل سے طالب کے دل میں خودبخود منتقل ہونے لگتا ہے اور ان کے اعمالِ صالحہ کی نقل کی توفیق بھی ہونے لگتی ہے۔
فرمایا کہ شیخ کے پاس رہ کر مشغول رہنے میں اور دور رہ کر مشغول رہنے میں ایسا فرق ہے جیسے مریض ایک تو طبیب کے پاس رہ کر علاج کراوے اور دوسرے محض خط و کتابت کے ذریعے علاج کراوے۔ ظاہر ہے کہ نفع میں زمین و آسمان کا فرق ہوگا۔ ایک شخص نے دریافت کیا کہ مولویوں کو کیا ہوا کہ جو حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، یہ تو خود لکھے پڑھے ہیں۔ وہاں کیا چیز ہے جس کے لیے جاتے ہیں، وہ کون سی بات ہے جو کتابوں میں نہیں ہے؟ فرمایا کہ اس کو ایک مثال سے سمجھو۔ ایک شخص کے پاس تمام مٹھائیوں کی فہرست ہے، مگر اس نے چکھی نہیں۔ ایک وہ شخص ہے کہ نام ایک مٹھائی کا بھی نہیں جانتا، مگر ہاتھ میں سب لیے ہوئے کھارہا ہے۔ اب بتاؤ کون محتاج ہے کس کا؟
فرمایا گناہوں کی عادت چھوڑنے کے تین گُر ہیں:
۱)خود ہمت کرے۔
۲)حق تعالیٰ سے ہمت طلب کرے۔
۳)خاصانِ حق سے ہمت کی دعا کرائے۔
احقر اختر عرض کرتا ہے تیسرے جزو کے متعلق روح المعانی میں ایک عبارت ملی ہے جو اہلِ علم کے لیے قابلِ توجہ ہے۔ صَلِّ عَلَیْہِمْ کی تفسیر یوں کی ہے: أَیْ بِاِمْدَادِ الْہِمَّۃِ وَ فَیْضَانِ أَنْوَارِ الصُّحْبَۃِ، حق تعالیٰ شانہٗ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اصحاب کے لیے ہمت کی دعا کا حکم دیا ہے۔ پس خاصانِ خدا کی دعا کا مقام واضح ہوگیا۔
اہل اللہ کی صحبت میں برکت اور ان کی مجلس میں نزولِ رحمت پر تو تجربہ و مشاہدہ تواتر سے ثابت ہے۔ ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ میں رقم طراز ہیں:
’’ وَفِیْہِ اسْتِحْبَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ حُضُوْرِ الصَّالِحِیْنَ فَإِنَّ عِنْدَ ذِکْرِہِمْ تَنْزِلُ الرَّحْمَۃُ فَضْلًا عَنْ وُجُوْدِہِمْ وَحُضُوْرِہِمْ.‘‘
’’جب اللہ والوں کے ذکر سے رحمت نازل ہوتی ہے تو خود ان کی صحبت اور مجلس میں کس قدر رحمت برستی ہوگی!‘‘
صحبت کے اثرات اکبر الٰہ آبادی کے کلام سے
یکے ذی العلم در اسکول روزے
فتاد از جانب پبل بدستم
بد و گفتم کہ کفری یا بلائی
کہ پیشِ اعتقادات تو پستم
بگفتا مسلم مقبول بودم
ولے یک عرصہ با ملحد نشستم
جمالِ نیچری درمن اثر کرد
وگرنہ من ہما شیخم کہ ہستم
فیضِ مرشد کا ثبوت (قرآنِ پاک کی روشنی میں)
مشائخ کی تربیت کو مریدین کی تکمیل میں کس قدر دخلِ عظیم ہے اس کے متعلق مسائل السلوک تفسیر بیان القرآن میں ملاحظہ ہو:
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰی بِاٰیٰتِنَا اَنْ اَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ
’’اور ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنی نشانیاں دے کر بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لاؤ۔‘‘
مسائل السلوک:
’’اِسْنَادُ الْاِخْرَاجِ إِلَی النَّبِیِّ عَلَیْہِ الصَّلَا ۃُ وَالسَّلَا مُ مَعَ کَوْنِ الْمُخْرِجِ الْحَقِیْقِیِّ ہُوَ اللہُ اَقْوٰی دَلِیْلٍ عَلٰی أَنَّ لِلشَّیْخِ مَدْخَلًاعَظِیْمًا فِیْ تَکْمِیْلِ الْمُرِیْدِ.‘‘
’’ظلمات سے نور کی طرف نکالنے والا مخرجِ حقیقی تو صرف اللہ تعالیٰ شانہٗ ہیں لیکن اپنے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام کی طرف اس اخراج کی نسبت کرنا نہایت قوی دلیل ہے اس بات کی کہ مرید کی تکمیل میں شیخ اور مرشد کو عظیم دخل ہے۔‘‘
(مضمونِ ہٰذا ماخوذ از: ’کشکولِ معرفت‘)