عمر ِثالث | چودہویں قسط

امارت اسلامیہ افغانستان کے مؤسس عالی قدر امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد﷬ کی مستند تاریخ

امارت اسلامیہ افغانستان

افغانستان کے دارالحکومت اور مشرقی صوبوں کی فتح کے بعد ملک کے طول و عرض کا بڑا حصہ امارتِ اسلامیہ کے زیرِ کنٹرول آ چکا تھا۔ اس طرح ملا محمد عمر کی قیادت میں امارتِ اسلامیہ قومی اور عالمی سطح پر ایک معتبر اور افغان عوام کی نمائندہ حکومت کے طور پر ابھری۔ اس کا سیاسی وجود اس قدر واضح ہو چکا تھا کہ اس سے انکار ممکن نہ رہا، اگرچہ دنیا کے بہت سے ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے اسے تاحال  باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا تھا۔

افغانستان اور عالمِ اسلام کے تاریخی تسلسل میں اکتوبر ۱۹۹۶ء (جب کابل فتح ہوا) سے لے کر دسمبر ۲۰۰۱ء تک کا پانچ سالہ عرصہ امارتِ اسلامیہ کے دورِ حکومت کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ اس پورے عرصے میں ملا محمد عمر کی قیادت میں افغانستان پر ایک خالص اسلامی نظام قائم رہا، جس نے دنیا کے سامنے شریعت کے عملی نفاذ، اسلامی عدل کی بالادستی، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، جہاد، باہمی اخوت اور دیگر فراموش شدہ اسلامی اقدار کو دوبارہ زندہ کر کے پیش کیا۔

امارتِ اسلامیہ کی تاسیس، جو کہ ملا محمد عمر کا سب سے بڑا، قابلِ فخر اور تجدیدی کارنامہ تھا، کے تناظر میں ہم مختصراً امارتِ اسلامیہ کے ڈھانچے، خدمات اور اس کی نمایاں کامیابیوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

امارتِ اسلامیہ کا ڈھانچہ

امارتِ اسلامیہ کی تشکیل تدریجی طور پر مکمل ہوئی۔ قندھار کے علاقے سنگِ حصار سے ملا محمد عمر کے تحریک کے آغاز سے لے کر دارالحکومت کابل کی فتح تک، امارت کا تنظیمی ڈھانچہ مسلسل ارتقا اور تکمیل کے عمل سے گزرتا رہا۔

کابل کی فتح کے بعد، امارتِ اسلامیہ ادارہ جاتی اور تنظیمی لحاظ سے ایک مکمل حکومتی ڈھانچے میں تبدیل ہو گئی، جس میں مرکزی امیر، انتظامیہ اور عدالتیں، مختلف وزارتیں، گورنرز، فوج، میڈیا اور دیگر انتظامی ادارے شامل تھے۔

امارتِ اسلامیہ کے امیر ملا محمد عمر تھے۔ ان کی شوریٰ  جوکابل کی فتح سے پہلے ’’عالی شوریٰ‘‘ کے نام سے معروف تھی، فتح کابل کے بعد کئی اعضاء کو وزارتیں تفویض کی گئیں اور انہیں شوریٰ  وزراء یا کابینہ کے نام دے دیا گیا۔ اگرچہ یہ مشاورتی ڈھانچہ رسمی طور پر شوریٰ کہلایا نہیں جاتا تھا، لیکن عملی طور پر حکومتی فیصلوں اور سیاسی امور میں امیر کے بعد اس کی اہمیت بہت زیادہ تھی، اور تمام معاملات میں امیر کو اپنی آرا اور مشورے پیش کیے جاتے تھے۔

امارتِ اسلامیہ کے تحت قانون نافذ کرنے کے لیے مختلف وزارتیں اور مستقل ادارے موجود تھے، جو حکومت کے منصوبوں کو عملی شکل دینے کے مختلف شعبوں میں سرگرم عمل تھے۔ ادارہ جاتی نظام سے مراد وہ انتظامی ڈھانچہ تھا جو عمودی اور افقی رابطوں پر مبنی ایک مکمل مشینی نظام کے طور پر کام کرتا، روزانہ کی بنیاد پر حکومتی امور کو آگے بڑھاتا اور اسی کے ذریعے وزارتوں، محکموں، انتظامیہ، مختلف شعبوں اور دیگر اداروں کی خدمات فراہم کی جاتی تھیں۔

امارتِ اسلامیہ کے عدالتی نظام میں اضلاع اور صوبوں میں ابتدائی عدالتیں (Lower / Trial Courts) اور مرافعہ کی عدالتیں (Appellate / High Courts) شامل تھیں، ساتھ ہی تمیز کی عدالت (Supreme Court / Apex Court) اور فوجی عدالتیں بھی موجود تھیں، جو اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے صادر کرتی تھیں۔

افغانستان کے تقریباً تیس (۳۰) صوبوں میں امارتِ اسلامیہ کے والی (گورنر) مقرر تھے، جو اپنے اپنے صوبوں میں مرکزی امیر کے نمائندے اور قابلِ اعتماد، با اختیار حکمران کے طور پر اپنے امور سر انجام دیتے تھے۔

اسی طرح، امارتِ اسلامیہ کے پاس وسیع فوجی تشکیلات بھی موجود تھیں، جن کی قیادت اور نگرانی بڑی حد تک بذاتِ خود امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد کرتے تھے۔

امارتِ مقام اور وزراء کی کابینہ

اگر امارتِ اسلامیہ کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو موجودہ حکومتی عرف یعنی مقننہ، انتظامیہ اور قضائیہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ:

ان تینوں شعبہ جات (مقننہ، انتظامیہ اور قضائیہ) کا کنٹرول براہِ راست امارتِ مقام یا امیرالمؤمنین کے ہاتھ میں تھا۔

امارتِ مقام اور ریاستِ الوزراء کے درمیان اختیارات کی تقسیم رسمی فرمان کے مطابق کی گئی تھی۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر، ہم اس ذمہ داریوں کی تقسیم کو سرکاری جریدہ نمبر ۷۸۸ اور ادارہ امور کے اعلیٰ ریاستی دفتر کی ایک سرکاری دستاویز کی بنیاد پر نقل کر رہے ہیں۔

امارتِ اسلامیہ کے مرکزی مقام (امارت مقام) کے بعض خصوصی اختیارات

  1. امارتِ اسلامیہ کے مرکزی مقام کے نائب یا نائبین کا تقرر کرنا اور ضرورت کے مطابق انہیں معزول کرنا۔
  2. شوری وزراء کے رئیس(وزیرِ اعظم) اور معاونین کا تقرر کرنا اور ضرورت پڑنے پر ان کی معزولی۔
  3. وزراء اور ان کے نائبین، خصوصاً وزیر دفاع اور اس کے نائب، کے تقرر اور معزولی کے اختیارات۔ نیز ڈویژن کمانڈر، بٹالین کمانڈر اور وہ تمام عہدے جنہیں امارتِ اسلامیہ کا مرکزی مقام ضروری سمجھے، ان پر تعیناتی۔
  4. وزیر داخلہ اور اس کے نائب کی تقرری اور معزولی۔
  5. انٹیلی جنس ڈائریکٹر اور دیگر مستقل حکومتی اداروں کے ذمہ داران کی تقرری اور ضرورت کے مطابق معزولی۔
  6. قاضی القضاۃ کی تقرری اور معزولی۔
  7. عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) کی تجویز پر تمام صوبوں کی عدالتوں کے صدور کا تقرر اور معزولی۔ یہ تبدیلیاں عدالتِ عظمیٰ کی تجویز کے مطابق یا امارتِ اسلامیہ کے مرکزی مقام کی مرضی سے بھی کی جا سکتی ہیں۔
  8. امارتِ اسلامیہ کی علماء شوریٰ کا قیام، اس شوری کے صدر کا تقرر اور معزولی، اور ضرورت پڑنے پر شوری کی تحلیل۔
  9. ملکی آئین  بنانے کے لیے شوری مقرر کرنا، کام ختم ہونے یا ضرورت پڑنے پر امارت مقام کی جانب سے اسے تحلیل کرنا۔
  10. ملکی آئین کی تصدیق اور اس کی منظوری۔
  11. ضرورت پڑنے پر آئین میں تبدیلی وترمیم یا تعطیل۔
  12. آئین میں کسی ایک مادے، یا تمام مادوں میں ترمیم کی منظوری۔
  13. عام معافی کا سرکاری اعلان۔
  14. آئین کے مطابق قومی مجرم کی خیانت؍غداری کا اعلان اور اس کے لیے سزا کا تعین۔
  15. قیدیوں کی سزا میں معافی یا سزا میں کمی کرنا۔
  16. اعلان جہاد کرنا۔
  17. نئے صوبے کا قیام یا کسی موجودہ صوبے کی قانونی حیثیت ختم کرنا۔
  18. کسی وزارت یا کسی ادارہ جاتی  یونٹ کا قیام یا اسے امارت کے تنظیمی ڈھانچے سے ہٹانا۔
  19. دیگر ممالک میں سفارت خانے قائم کرنا۔
  20. دیگر ممالک اور بین الاقوامی اداروں میں امارتِ اسلامیہ کی سفارتی نمائندگیوں کے صدور اور ارکان کا تقرر۔
  21. ضرورت پڑنے پر دیگر ممالک سے سیاسی یا اقتصادی تعلقات منقطع کرنا۔
  22. شہریوں کے لیے سیاسی پاسپورٹ کے اجراء کی منظوری دینا۔
  23. دیگر ممالک کے سفیروں کا اسنادِ تقرری قبول کرنا۔
  24. امارتِ اسلامیہ افغانستان کی خارجہ پالیسی کا تعین۔
  25. بین الاقوامی غیرمعمولی حالات میں امارتِ اسلامیہ کا موقف طے کرنا۔
  26. مالی اور بجٹ سال میں تبدیلی کرنا۔
  27. مسلح افواج کی تنظیم میں تبدیلی لانا۔
  28. مسلح افواج کے لیے کسی ملک سے اسلحہ اور جنگی اسباب و آلات کی خریداری کے لیے منظوری دینا۔
  29. مسلح افواج کے اسلحے اور جنگی اسباب کی فروخت کی منظوری دینا۔
  30. کسی عسکری ادارےمیں شمولیت کی اجازت دینا۔
  31. دیگر ممالک میں زمین کے حوالے سے دعویٰ دائر کرنا۔
  32. قومی دنوں کا سرکاری اعلان اور توثیق۔
  33. نئے اعزازات اور تمغوں کی سرکاری منظوری۔
  34. ملکی اور غیر ملکی شہریوں کو سرکاری طور پر القابات اور تمغے دینا۔
  35. ملکی اور غیر ملکی اشخاص کو دیے گئے القاب کو سلب کرنا۔
  36. سکوں اور بینک نوٹوں کا اجرا، مالی ذخائر(Reserves) میں تبدیلیاں، اور امارتِ اسلامیہ کے داخلی و خارجی مالی ذخائر میں ملک کے بینکنگ اور تجارتی نظام کے مطابق ترمیمات۔
  37. مختلف اوقات میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی منظوری۔
  38. ملک سے باہر امارت اسلامیہ کی جانب سے سرمایہ کاری کی منظوری۔
  39. ملک کے بینکنگ سسٹم کی اعلیٰ کونسل کی ترکیب میں ضرورت کے مطابق ترمیم کرنا۔
  40. مالی اصلاحات کی سرکاری منظوری۔
  41. امارتِ اسلامیہ کے رئیس الوزراء کو دیے گئے اختیارات سے زیادہ اعلیٰ حکومتی اختیارات امارت مقام کے دسترس میں ہیں۔

ریاست الوزراء کے اختیارات

ریاست الوزراء کو سونپے گئے اختیارات کی تفصیل امیرالمؤمنین کے فرمان نمبر ۱۱۸ میں درج ذیل ہیں:

  1. وزارتی شوریٰ کے اجلاسوں کا انعقاد، ان اجلاسوں کے فیصلوں اور منظوریوں کی نگرانی، ان اختیارات کے مطابق جو اس فرمان میں مذکور ہیں۔
  2. قانونی احکام کے مطابق، اعلیٰ  رتبوں پر فائز ملازمین، دوسرے درجے سے لے کر سب سے اعلیٰ درجے تک، اور فوجی افسران کی بریگیڈیئر جنرل سے لے کر لیفٹیننٹ جنرل تک کے تقرر، تبادلے اور ترقی کی منظوری، خدمت کی مدت میں توسیع، ریٹائرمنٹ اور ریٹائرمنٹ کی منسوخی۔
  3. قانونی احکام کے مطابق، سروس پاسپورٹ کے اجرا کی سرکاری منظوری دینا۔
  4. قانونی اسناد کی بنیاد پر علمی اور تحقیقی اداروں کے ملازمین کی علمی درجات کی منظوری۔
  5. امارتِ اسلامیہ کے ملازمین کو تقدیر نامے اور تحسین نامے دینا۔
  6. قانونی احکام کے مطابق قواعد، بلوں اور اساس ناموں میں ترامیم کی تجویز پیش کرنا۔
  7. امارتِ اسلامیہ کی ہدایات کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے اداروں کے اقدامات کی نگرانی کرنا۔
  8. درخواستوں اور شکایات کا جائزہ لینا۔
  9. سپرد کیے گئے امور میں شریعت اور قانون کے نفاذ کے بارے میں امارتِ اسلامیہ کے مرکزی مقام کو رپورٹ تیار کر کے ارسال کرنا۔امارت مقام کو امارتی اور غیر امارتی اداروں کی نگرانی کے بارے میں سہ ماہی رپورٹ پیش کرنا۔
  10. امارت مقام کی منظوری کے بعد ملک سے باہر امارتی وفود کے سفر کی منظوری دینا اور ان وفود کے لیے سفری اخراجات اور دیگر ضروری مصارف ادا کرنا۔
  11. دیگر ممالک میں تعلیمی اسکالرشپس کی منظوری دینا۔
  12. تصدیق اور منظوری کے لیے امارت مقام کو بیرونی معاہدے اور اہم داخلی معاہدے پیش کرنا۔
  13. قانونی احکام کے مطابق امارتِ اسلامیہ کی وزارتوں اور مختلف اداروں کے معاہدوں کو منظور کرنا۔
  14. حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے امارتی اداروں کی طرف سے چند امارتی ملازمین کی تجاویز کی منظوری دینا۔
  15. رئیس الوزراء کی غیر موجودگی کی صورت میں، رئیس الوزراء کے نائب یہ اختیارات استعمال کرنے کے اہل ہوں گے۔
  16. امارت مقام ضرورت کے پیش نظر، حالات اور موقع کے مطابق اس فرمان کے علاوہ دیگر اختیارات بعض اوقات رئیس الوزراء کو تفویض کیے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version