ایبٹ آباد میں اسسٹنٹ کمشنر نے نمازِ جمعہ کے دوران مسجد کے قریب بازار میں پارک کی گئی 27 گاڑیوں کے ٹائروں میں چاقو گھونپ دیے۔ فیس بُک پر وائرل ویڈیو میں ملتان سے فیملی کے ہمراہ آنے والے ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ وہ سفر میں ہیں اور 27 ہزار کا ایک ٹائر ہے۔ یہ کام تو ٹریفک پولیس کا ہے کہ وہ غلط پارکنگ پر جُرمانہ کرے۔ اب تک کمشنر حضرات اپنی پہچان ریڑھیاں الٹانے اور دکانیں سیل کرنے تک کے لیے بنا پائے تھے، جسے سوشل میڈیا پر عرصہ دراز سے ہدف تنقید بنایا جاتا رہا ہے ۔ پہلے ریڑھیاں ضبط کی جاتی تھیں تو اب بہت سی ویڈیو میں نظر آنے لگا ہے کہ ریڑھیوں کو موقع پر توڑا جاتا ہے اور ریڑھی پر موجود سامان ضائع کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی اکا دکا واقعات بھی نہیں ہیں ۔ عقل حیران ہے کہ کوئی کیسے اتنا پتھر دل ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد سے ایڈووکیٹ حبیب کریم ایک کیس کے متعلق لکھتے ہیں:
”اسلام آباد رمنا تھانے کے بادشاہ حضور اسسٹنٹ کمشنر صاحب نے غریب مزدور ریڑھی بانوں کو ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکے نہ جمع کرا سکنے پر چودہ روز کے لیے جوڈیشل کسٹڈی میں اڈیالہ جیل بھیج دیا۔ مجھے علی الصبح ریڑھی بان ایسوسی ایشن کے صدر نے آرڈر بھیجا۔ انہیں لے کر میں موصوف اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر گیا۔ ان سے درخواست کی کہ جناب آپ کی ریٹ لسٹ ان کے پاس آپ کے عملے نے پہنچائی ہی نہیں تھی۔ اور نرخ نامے کے پہنچنے سے قبل ہی آپ نے نرخ نامہ آویزاں نہ کرنے کی پاداش میں انہیں گرفتار کیا اور ایک ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے بھرنے کا آرڈر جاری کیا ہے۔ حضور، ان مزدوروں کے پاس ایک لاکھ روپے ہوتے تو یہ ریڑھی لگاتے؟ یہ تو ایک سال تک جیل میں پڑے رہیں مگر ایک لاکھ روپے جمع نہ کرا سکیں۔ رمضان کا مہینہ ہے۔ یہ ایک دن کام نہ کریں تو ان کے خاندان فاقہ کشی پہ مجبور ہو جائیں۔ لہذا، جناب مہربانی کریں اور شخصی ضمانت پہ انہیں رہا کر دیں۔ جس پر موصوف نے نہایت رعونت سے جواب دیا کہ ’’میں نے ایک لاکھ روپے کا آرڈر بھی اسی لیے کیا ہے کہ یہ جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ میں نے آرڈر کر دیا ہے۔ آپ جائیں چیلنج کریں۔ مجھ سے بات نہ کریں‘‘۔ یہ ان اسسٹنٹ کمشنرز کا روز کا معمول ہے۔ نوآبادیاتی باقیات بیورو کریسی جوڈیشل اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے روزانہ سینکڑوں غریبوں، مزدوروں کی عزتِ نفس کو مجروح کرتی ہے۔ یہی اسسٹنٹ کمشنرز اکثر تو معمولی سے الزام پہ کسی ریڑھی بان کو گرفتار کر کے، سارے شواہد جانچ کر ایک ہی دن میں تین تین مہینے قید بامشقت کی سزا کے فیصلے سنا چکے ہیں۔ یہ بادشاہ سلامت نہ قانون کا علم رکھتے ہیں، نا اِن کا کوئی لیگل اکیومن ہے، اور نا ہی اِن کے سینے میں دل ہوتا ہے۔ بجائے کہ ان سے تمام تر جوڈیشل اختیارات واپس لے لیے جائیں، وفاقی اور صوبائی حکومتیں اِنہیں آئے روز مزید عدالتی اختیارات دے رہی ہیں۔“
گزشتہ دسمبر میں پاکستان اور یورپی سرمایہ کاری بینک (EIB) نے کراچی کو صاف پانی کی فراہمی کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے 20 ارب روپے ( 6کروڑیورو ) قرض کے لئے معاہدے پر دستخط کیے۔ صحافی فیض اللہ خان اپنے یوٹیوب چینل Faizyar digital میں اس سرمایہ کاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں کہ اس پراجیکٹ کے لیے ورلڈ بینک کتنا دے رہا ہے، صوبائی اور وفاقی حکومت کتنا دے رہی ہے، سارا حساب جوڑیں گے تو کیلکولیٹر عاجز آ جائے گا ۔ 20 ارب میں ہو گا کیا؟ اصل مزے بیورو کریسی کے ہونے والے ہیں ۔ نئے دفاتر بنیں گے، نئی گاڑیاں، نئے آئی فون اور گیجٹس، ان کی بیگمات کے مزے، ان کے بچوں کے مزے، ان کی شاپنگز، ان کے بھائی وغیرہ پلاٹ بھی لے لیں گے۔ اس طرح یہ بیس ارب ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے جا رہے ہیں۔
……پاکستان کے عدالتی نظام میں کسی پر کرپشن ثابت کرنا ایسے ہی ہے جیسے اونٹ کو رکشے میں بٹھانا ( سوائے ان کیسز کے جہاں نیب اور دیگر اداروں کے مقاصد سیاسی ہوتے ہیں اور حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مخالفین کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا مقصود ہو)۔‘‘
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے:
’’وطن عزیز کی آدھی سے زیادہ بیوروکریسی پرتگال میں پراپرٹی لے چکی ہے اور شہریت لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اور یہ نامی گرامی بیوروکریٹس ہیں ۔ مگر مچھ اربوں روپے کھا کے آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بزدار کا ایک قریب ترین بیوروکریٹ بیٹیوں کی شادی پر چار ارب صرف سلامی وصول کر چکا ہے اور آرام سے ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہا ہے۔ سیاستدان تو ان کا بچا کھچا کھا تے اور چولیں مارتے ہیں، نہ پلاٹ نہ غیر ملکی شہریت، کیونکہ الیکشن لڑنا ہوتا ہے۔ پاک سر زمین کو یہ بیوروکریسی پلید کر رہی ہے۔‘‘
یہاں یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ پاکستانی عوام کا خون اور ہڈیاں تک نچوڑنے والے بیوروکریٹس کیا ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے بھی زیادہ طاقتور ہیں؟ یا بیوروکریٹس کٹھ پتلی سیاستدانوں کی مانند اس ڈیپ سٹیٹ ہائبرڈ نظام میں سیاستدانوں اور ملٹری اسٹبلشمنٹ کی خدمت گزاری کے صلے میں ہی بلا خوف یہ لوٹ مار کرتے ہیں ؟
پاکستان کی بیوروکریسی کی ساخت اور خرابیوں کو سمجھنے کے لیے اس کی تاریخ جاننا ضروری ہے۔ بیوروکریسی کی جڑیں برطانوی نوآبادیاتی دور میں پیوست ہیں، جہاں انڈین سول سروس (ICS) کو ہندوستان پر حکمرانی اور کنٹرول کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس نظام کی بنیاد عوام کی خدمت کے بجائے اقتدار اور کنٹرول پر رکھی گئی تھی جیسا کہ مختلف مصنفین اور دانشوروں نے بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر، رالف برائبانٹی (Ralph Braibanti) اپنی کتاب “Research on the Bureaucracy of Pakistan” (1966ء) میں لکھتا ہے کہ یہ نظام نوآبادیاتی حکمرانی کا تسلسل تھا، جہاں بیوروکریٹس کو سیاسی عمل میں مرکزی کردار دیا گیا تھا۔
لارنس زائرنگ (Lawrence Ziring) نے “The Pakistan Bureaucracy” (1974ء) میں بیان کیا ہے کہ برطانوی ICS نے پاکستان کو ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ دیا جو سیاسی اداروں سے زیادہ مضبوط تھا، جو نوآبادیاتی میراث کی وجہ سے تھا۔
چارلس ایچ کینیڈی (Charles H. Kennedy) نے “Bureaucracy in Pakistan” (1987ء) میں لکھا کہ یہ نظام پاکستان کی سیاسی تاریخ کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے، جو برطانوی راج سے ورثے میں ملا۔
مورخین اور دانشور متفق ہیں کہ نوآبادیاتی بیوروکریسی کا مقصد آبادی کو کنٹرول کرنا تھا، نہ کہ اقتصادی ترقی یا خدمت فراہم کرنا۔
قیام پاکستان کے بعد، بیوروکریسی نے نوآبادیاتی ڈھانچے کو برقرار رکھا اور ابتدائی سالوں میں یہ سیاسی اداروں سے زیادہ غالب رہی۔ ایوب خان کے دور (1958ء-1969ء) میں بیوروکریسی کو مزید طاقتور بنایا گیا، لیکن یہ نوآبادیاتی طرز کی ہی رہی۔
خالد بن سید کے مطابق ایوب خان کا سیاسی نظام درحقیقت بیوروکریٹک تھا، نہ کہ سیاسی۔ بیوروکریسی کو عوام کے سیاسی استحصال کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ ایوب خان کی طاقت کو برقرار رکھا جائے اور معاشی استحصال کے لیے مفاد پرست طبقات کی حفاظت کی جائے۔ ان کے مطابق، بیوروکریسی نے کمزور سیاسی قیادت کے خلا کو پر کیا، خود کو سیاسی بنا لیا اور سیاستدانوں کو جدیدیت کی راہ میں رکاوٹ سمجھا۔ فوجی بیوروکریٹک اشرافیہ نے مخالفین کو کچلنے کے لیے آمرانہ اقدامات کیے، جو اختیارات کے ناجائز استعمال کی ایک واضح مثال تھی۔ مزید برآں، ایوب خان نے فوج اور بیوروکریسی کے کردار کو وسعت دی، صوبائی خودمختاری کو ختم کیا اور فیصلہ سازی کو صدر اور اس کے مشیروں تک محدود رکھا، جو نوآبادیاتی مرکزییت کی عکاسی کرتا تھا۔1Politics in Pakistan; The nature and direction of change Page 55 & 70
الہان نیاز استدلال کرتے ہیں کہ 1960ء کی دہائی میں ترقیاتی اخراجات میں اضافہ اور سول افسران کی طرف سے مقامی حکومتوں کی ہیرا پھیری نے ایوب خان کی فوجی حکومت کو جائز قرار دینے میں مدد دی، جو کرپشن کی سطح میں نمایاں اضافے کا سبب بنا۔ بیوروکریسی نے روزمرہ امور کے لیے حکومت کو عوامی مزاج سے الگ تھلگ رکھا، جو نوآبادیاتی طرز کے انتظامی کنٹرول کی یاد دلاتا ہے۔ یہ نظام اشرافیہ کی معاشی پالیسیوں کو سپورٹ کرتا تھا جو ترقی کو منصفانہ تقسیم پر ترجیح دیتا تھا، اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو فروغ دیتا تھا۔2Corruption and the Bureaucratic Elite in Pakistan, Ilhan Niaz
ذوالفقار علی بھٹو نے بیوروکریسی میں سیاسی بھرتیوں کو پروموٹ کیا، جس نے بیوروکریسی کی کرپشن میں مزید اِضافہ کیا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھٹو کی اس روایت کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اگر آج پاکستان کے چاروں صوبوں میں بیوروکریسی کی کرپشن کا مقابلہ ہو تو سندھ سب سے آگے ہی ہو گا ۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی سال 2025ء کے سروے کے مطابق سندھ میں رشوت دینے کی شرح سب سے زیادہ ہے (46% لوگوں نے پبلک سروسز تک رسائی کے لیے رشوت دی)، پھر پنجاب (39%)، بلوچستان (31%)، اور خیبر پختونخوا (20%)۔ یہاں سندھ واضح طور پر آگے ہے، جو بیوروکریسی کی کرپشن کی ایک اہم علامت ہے۔
پاکستان میں ان دنوں سنٹرل سپیریئر سروسز (CSS) امتحان پاس کرنے کے بعد، کامیاب امیدواروں کو پرویژنری آفیسرز کے طور پر اپائنٹ کیا جاتا ہے اور ان کی تربیت شروع ہوتی ہے۔ یہ تربیت دو مراحل میں تقسیم ہے: کامن ٹریننگ پروگرام (CTP) اور اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام (STP)۔ تربیت کا کل وقت عام طور پر 18 سے 24 مہینے ہوتا ہے۔ CTP سول سروسز اکیڈمی (CSA) لاہور میں ہوتا ہے اور اس کی مدت 6 سے 9 مہینے ہوتی ہے اس کے بعد STP متعلقہ گروپ کی مخصوص اکیڈمیز میں ہوتا ہے، جو 9 سے 12 مہینے کا ہوتا ہے۔ یہ پورا عرصہ پروییشن پیریڈ کا حصہ ہوتا ہے، جو 2 سال کا ہے۔ تربیت مکمل ہونے کے فوراً بعد امیدواروں کی پوسٹنگز کی جاتی ہیں، جہاں وہ BS-17 گریڈ کے آفیسرز کے طور پر ڈیوٹی شروع کرتے ہیں (انڈر ٹریننگ کے طور پر)۔
پاکستان کی سول سروس (خاص طور پر PAS، PSP، FSP وغیرہ) میں ریٹائرڈ یا سابق فوجی افسران کی انڈکشن کا عمل الگ سے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ افسران CSS کے مکمل تحریری امتحان سے مستثنیٰ ہوتے ہیں اور انہیں بائی پاس کر کے نفسیاتی جائزہ (Psychological Assessment) اور انٹرویو (Viva Voce) کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے۔ یہ 10 فیصد کوٹہ کے تحت ہوتا ہے جو مسلح افواج کے افسران کے لیے آسان راستہ ہے، اور یہ عمل 1980ء کی دہائی سے چلا آ رہا ہے۔ تربیت کے حوالے سے، یہ افسران CSS کے ذریعے آنے والے افسران کی طرح دو سالہ مکمل ٹریننگ (CTP اور STP) سے نہیں گزرتے۔ بلکہ ان کی انڈکشن براہ راست ہوتی ہے۔ یہ امتحان اور ٹریننگ کو بائی پاس کر کے عہدوں پر تعینات کیے جاتے ہیں۔ یہ عمل کئی دہائیوں سے جاری ہے اور اس پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے کہ یہ میرٹ کی خلاف ورزی ہے۔
اسد علی طور لکھتے ہیں:
’’پاکستان کی سول سروس اکیڈمی جتنا کوڑا پیدا کر رہی ہے اُس کے تعفن سے پورے مُلک کا سانس لینا مُشکل ہوتا جا رہا ہے اور پھر روز یہ سی ایس ایس یافتہ جاہل اپنی چھچھوری ٹِک ٹاک وڈیوز سے قوم کے زخموں پر نمک بھی چھڑکتے ہیں!‘‘
ایک اور جگہ CSS اور PSP افسران پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’یہ افسران ٹیکس پیئرز کی تنخواہوں پر پروٹوکول اور گاڑیاں استعمال کرتے ہیں مگر عوام کے بیٹوں کی زندگیاں برباد کرتے ہیں، جو شرمناک ہے۔‘‘
حسن خاور لکھتے ہیں کہ عوام کا خیال ہے کہ سول سروس کرپٹ ہے، غیر جوابدہی، بے حسی، اشرافیہ اور تکبر کی ثقافت کو فروغ دیتی ہے، اور افسران کو حد سے زیادہ مراعات حاصل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بیوروکریسی پر اشرافیہ کا الزام بے بنیاد نہیں ہے، اور یہ برطانوی راج کی ’’افسر شاہی‘‘ کی یاد دلاتی ہے جہاں سینئر افسران کے کمروں کے باہر سرخ اور سبز لائٹس لگی ہوتی تھیں۔ ڈان اخبار میں ایک مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ بیوروکریسی، بشمول ڈسٹرکٹ کمشنرز سے لے کر میونسپل افسران تک، اختیارات کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرتی ہے اور خود کو بادشاہ سمجھتی ہے، جبکہ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کی بھیک مانگتی ہے۔ یہ رویہ خود غرضی، nepotism اور کرونیزم کو فروغ دیتا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون میں ایک آرٹیکل میں پاکستان کے پبلک سیکٹر کے تکبر کی جڑوں کو نوآبادیاتی دور سے جوڑا گیا ہے، جہاں سرکاری افسران عوام کو غلام سمجھتے تھے۔ مصنف کہتے ہیں کہ یہ تکبر آج بھی جاری ہے، اور سرکاری ’’خدمت گزار‘‘ عوام کو حقیر سمجھتے ہیں۔ ڈان میں ایک اور جگہ تنقید میں CSS افسران کے متکبرانہ اور توہین آمیز رویے کی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں وہ عام آدمی اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں۔ مصنف پوچھتے ہیں کہ CSA میں انہیں ایسا سخت رویہ کیوں سکھایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سید فیصل بخاری نے CSS امیدواروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر دکھاوے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جو عوام کو سول سروس سے مزید دور کرتا ہے۔
بیوروکریسی نے کرپشن ، اختیارات کے ناجائز استعمال ، سیاسی و فوجی قیادت کی ہر دور میں سہولت کاری کے ساتھ ان کے مظالم میں بھرپور ہاتھ بٹایا ہے۔ حال ہی میں پاکستان افغان جنگ و کشیدگی کے دوران کے پی کے میں افغان مہاجرین کی پکڑ دھکڑ کے لیے سرکاری مشینری کو جس بے رحم طریقے سے استعمال کیا گیا یہ پی ٹی ایم اور دیگر قوم پرست گروہوں کے لیے غور و فکر کا مقام ہونا چاہیے، کیونکہ اس ظلم کے عمل درآمد میں جو لوگ شامل ہیں وہ سارے آپ کے ہم وطن، ہم قبیلہ اور ہم زبان ہی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ بیوروکریسی میں جو ظلم نہیں بھی کررہے یا رشوت نہیں لیتے تب بھی اس بھاری بھرکم نظام میں شامل افراد کو جو مراعات دی جاتی ہیں، جو آسائشیں فراہم کی جاتی ہیں کیا قرضوں میں ڈوبا یہ ملک اس کا متحمل ہو سکتا ہے؟ کیا اس نظام کا موازنہ امارت اسلامیہ افغانستان کے نظام سے نہیں ہونا چاہئے کہ وہاں پانی، بجلی، توانائی اور دیگر عوامی نوعیت کے اداروں میں کام کرنے والے افراد کی تنخواہیں کیا ہیں اور ان کی کارکردگی کیا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر ان کی طرز زندگی کیا ہے؟ پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے میں جرنیل بٹھا رکھے ہیں ۔ ایک جرنیل پاکستانی قوم کو کتنے میں پڑتا ہے یہ الگ، اور وہ ادارہ جو بجٹ لیتا ہے وہ الگ، اور حالت یہ ہے کہ قدرتی آفت ہو یا کوئی بڑا حادثہ یہ ادارے ریسکیو جیسی بنیادی سروس دینے میں ناکام رہتے ہیں ۔ حال ہی میں کراچی میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ اس کی واضح مثال ہے ۔ کرکٹ میچ کے دوران پچ سکھانے کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال تو ہو سکتا ہے، اپنی ہی عوام پر بمباری کے لیے بھی یا تفریحی دوروں کے لیے بھی، لیکن ریسکیو کے لیے نہیں۔ جبکہ افغانستان میں سیلاب، قدرتی آفات یا حادثوں میں سول و عسکری انتظامیہ کس طرح فوری حرکت میں آتی ہے یہ تو سب ہی کے سامنے ہے۔
٭٭٭٭٭
- 1Politics in Pakistan; The nature and direction of change Page 55 & 70
- 2Corruption and the Bureaucratic Elite in Pakistan, Ilhan Niaz
