رمضان المبارک میں بھارتی مسلمانوں کی حالتِ زار

 رمضان المبارک کا مہینہ (وسط فروری سے وسط مارچ تک) معاصر ہندوستانی تاریخ میں مسلمانوں کے لیے سب سے تکلیف دہ ثابت ہوا ہے۔ براہ راست تشدد کے واقعات کے علاوہ، مسلمانوں کو مذہبی حقوق کے ریاستی و ادارہ جاتی سطح پر انکار، نقل و حرکت کی آزادی پر پابندیاں اور  ذریعہ معاش پر منظم حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں ہم  گزشتہ مہینے کے دوران پیش آنے والے متعدد واقعات کا جامع جائزہ پیش کر رہے ہیں کہ یہ کہاں پیش آئے اور ان تشدد کے واقعات کی نوعیت کیا تھی،  یہ واقعات ایک بار پھر یہ اشارہ کرتے ہیں کہ انڈیا میں مسلمانوں کا مستقبل پہلے سے بھی زیادہ تاریک نظر آ رہا ہے۔ ہجومی قتل (ماب لنچنگ)، مار پیٹ اور گائے کا گوبر کھلانا اور ملک بھر میں مسلمانوں پر کئی جسمانی حملے ہوئے، خاص طور پر بہار، اتر پردیش، مہاراشٹر اور دارالحکومت دہلی کے علاقوں میں۔ یہ جاننا مشکل ہے کہ پہلا حملہ کب ہوا۔ لیکن ہم فروری کے آخر سے شروع کر سکتے ہیں۔

رمضان کے مہینے میں مسلمانوں پر حملے سڑک سے نکل کر نجی اجتماعات تک پہنچ گئے۔ اور چونکہ یہ مقدس رمضان کا مہینہ تھا، ان میں سے بہت سے واقعات غروب آفتاب کے وقت مسلمانوں کے روزہ افطار کرتے ہوئے پیش آئے۔ مثال کے طور پر:

Centre for the Study of Organized Hate نے 2025ء میں انڈیا میں نفرت انگیز تقریروں کی رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ چند سالوں میں ملک بھر میں نفرت انگیز تقریروں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔2023ء میں 668 واقعات ریکارڈ ہوئے جبکہ 2024 میں 1,165 اور 2025 میں 1,318۔ یہ 2023ء سے 97 فیصد اضافہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق نفرت انگیز تقریریں اب وقفے وقفے سے نہیں بلکہ روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں، اوسطاً روزانہ چار واقعات۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان میں سے 98 فیصد واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بہت سے مواد میں درج ذیل شامل تھے:

گزشتہ مہینے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے کی شدت عروج پر تھی۔ لیکن چند واقعات نے اسے مزید ہوا دی۔

یہ چند واقعات تو وہ ہیں جو سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر ہونے کے سبب رپورٹ ہوئے، جبکہ مسلمانوں کے خلاف تشدد مار پیٹ کے واقعات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

٭٭٭٭٭

Exit mobile version