مجاہد جہاد کیوں چھوڑ جاتا ہے؟ | وجہ نمبر: انتالیس (۳۹)

انتالیسویں وجہ: خاندان یا دیگر افراد کے دباؤ میں آنا

بعض جوان جب فی سبیل اللہ نکل پڑتے ہیں تو ان کا خاندان یا قبیلہ ان پر دباؤ ڈالتا  ہے کہ وہ جہاد کے راستے کو چھوڑ دیں۔ اس دباؤ کے  تحت وہ  جوان واپس چلا جاتا ہے، اپنے راستے سے بھٹک جاتا ہے اور عذر پیش کرنے لگتا ہے کہ اس پر دباؤ ڈالا گیا تھا، یا اس کی امی رو پڑی تھیں اور اسے والدین کی نا فرمانی کا  خدشہ تھا۔ حالانکہ جہاد دفع میں  والدین کی اجازت  شرط ہی نہیں ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:

ققُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ  ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ؀ (سورۃ التوبۃ: ۲۴)

”کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ “

نیز اللہ تعالی ٰفرماتے ہیں:

وَاِنْ جَاهَدٰكَ عَلٰٓي اَنْ تُشْرِكَ بِيْ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۙفَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوْفًا (سورۃ لقمان: ۱۵)

”اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہا نہ ماننا ہاں دنیا (کے کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا ۔“

مفسرین لکھتے ہیں  کہیہ آیت حضرت سعد بن أبی وقاص   کے بارے میں نازل ہوئی۔  کیونکہ جب وہ مسلمان ہوئے تھے توا ن کی والدہ حَمنہ نے  ان سے کہا :

”اے سعد، مجھے خبر ملی ہے کہ تم بے دین ہو گئے ہو۔ تو اللہ کی قسم، دھوپ اور آندھی سے  مجھے کسی گھر کی چھت سایہ نہ دے گی، نہ ہی میں کھاؤں گی نہ پیوؤں گی ، یہاں تک کہ تم محمدؐ کا کفر نہ کردو، اور جس پر تم پہلے تھے اسے دوبارہ اختیار نہ کر لو۔ “

حضرت سعد  اپنی والدہ  کے سب سے محبوب بیٹے تھے لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کی والدہ نے  تین دین صبر کرتے ہوئے نہ کھایا، نہ پیا اور نہ کسی چیز کا سایہ لیا یہاں تک کہ ان کے مرنے کا خدشہ  پیدا ہو گیا۔ حضرت سعد   پیغمبر پاک ﷺ کے ہاں گئے اور  انہیں اپنا دکھڑا سنایا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی جو سورہ لقمان اور سورہ احقاف میں  ہے۔ امام واحدی ﷫نے  یہ قصہ حضرت ابو یعلی ﷫کے واسطے اپنی سند سے نقل کیا ہے  جنہوں  نے  یہ روایت حضرت ابو خیثمہ ﷫سے  کی ہے۔ حضرت ابو خیثمہ  کا نام زہیر بن حرب ہے اور وہ امام مسلم  ﷫کے شیخ ہیں۔  امام مسلم نے بھی یہ قصہ  حضرت ابو خیثمہ کے واسطے اپنے سند سے  نقل کیا ہے  ۔ جس میں حضرت ابو خیثمہ نے  حضرت سعد بن  أبی وقاص   سے  روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یہ آیت  ……… اس بارے میں نازل ہوئی ……“۔

ایک روایت میں یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ حضرت سعد   نے اپنی والدہ سے کہا:

”اے میری امی جان! ایسا نہ کریں۔ کیونکہ میں اپنا  یہ دین کسی بھی چیز کے بدلے نہیں چھوڑوں گا۔ “

پھر فرمایا کہ:

”میری امی نے پورا ایک دن اور رات بغیر کھانے کے گزار دیا۔ جب صبح ہوئی تو ان کی کمزوری شدید ہو گئی۔  “

فرماتے ہیں:

”جب میں نے  یہ  دیکھا تو ان سے کہا: آپ کو  پتہ ہے میری امی جان !اللہ کی قسم اگر میری سو  100جانیں ہوتیں اور  ایک ایک کر کے سب جانیں نکل جاتیں  پھر بھی میں اپنا یہ دین کسی بھی چیز کے بدلے نہ چھوڑتا۔ اب آپ کی مرضی ہے آپ  کھائیں یا نہ کھائیں۔ جب والدہ نے  میرا یہ رویہ دیکھا تو کھانا شروع کر دیا۔“

اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں:

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ؁ (سورۃ البقرۃ: ۲۰۷)

”اور کوئی شخص ایسا ہے کہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور اللہ بندوں پر بہت مہربان ہے۔“

اس آیت  کا سبب نزول یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ حضرت صہیب   مکہ سے  نبی اکرم ﷺ کے پاس مدینہ ہجرت کرنے کے لیے نکلے تو مشرکین نے انہیں آ لیا جبکہ وہ اکیلے تھے۔  حضرت صہیب نے اپنے ترکش سے تیر نکالا اور فرمایا:

”اللہ کی قسم تم میں جو بھی آگے آئے گا میں اسے  تیر ماروں گا۔“

گویا اکیلے ہی لڑنے کا ارادہ کر لیا تھا۔  اور فرمایا:

”اگر تم لوگ مکہ میں میرا مال لینا چاہتے ہو تو  لے سکتے ہو۔ میں خود تمہیں اس  کی نشاندہی کر دیتا ہوں۔ “

پھر  وہ نبی اکرم ﷺ سے  جا ملے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

رَبِحَ الْبَيْعُ أَبَا يَحْيَى

”ابو یحیی! سودا نفع بخش ٹھہرا۔“

امام صنعانی  ﷫اپنی کتاب ’سبل السلام‘ میں لکھتے ہیں:

’’اس حدیث سے یہ دلیل بنتی ہے  کہ  والدین یا ان میں سے کسی ایک کی موجودگی میں  جہاد کا فرض ساقط ہو جاتا ہے۔  جیسے کہ  امام احمد اور امام نسائی نے  حضرت  معاویہ بن جاہمہ ﷫سے روایت کی ہے کہ  ان کے دادا ابو جاہمہ   نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور ان سے کہا: ’یا رسول اللہ! میں نے  غزا کا  ارادہ کیا ہے‘۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:  ’کیا  تمہاری والدہ ہیں؟‘۔  حضرت ابو جاہمہ نے  کہا: ’جی‘۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’تم ان کی خدمت کو اپنے اوپر لازم کر لو‘۔

اس حدیث کے ظاہری الفاظ سے  یہ معلوم ہوتا ہے کہ حکم یہی ہے چاہیے جہاد فرض عین ہو یا فرض کفایہ، اور چاہے  کسی شخص کے والدین کو اس کے نکلنے سے  نقصان پہنچے یا نہ پہنچے۔  جمہور علماء کا موقف یہ ہے کہ  (اگر جہاد فرض کفایہ ہو تو) بیٹے پر جہاد حرام ہو جاتا ہے اگر اس  کے والدین یا  ان میں سے کوئی ایک منع کر دے۔ بہ شرط یہ کہ وہ مسلمان ہوں۔  کیونکہ والدین  کے ساتھ  حسن سلوک  بالخصوص اس شخص پر فرض ہے جبکہ  جہاد فرض کفایہ ہے۔ البتہ اگر  جہاد فرض عین ہو جائے تو  پھر یہ حکم نہیں ہے۔

اگر کوئی یہ کہے کہ  والدین کی خدمت  بھی فرض عین ہے اور جہاد بعد میں فرض عین ہوا ، اور اس طرح دونوں عمل برابر ٹھہرے۔  اس صورت میں جہاد کو کیوں  ترجیح  دی گئی ہے؟

میں کہتا ہوں کہ کیونکہ جہاد کی مصلحت  عمومی ہے۔ جہاد کی مصلحت  دین کی حفاظت اور مسلمانوں  کا دفاع ہے۔  یہ عمومی مصلحت  دیگر  مصلحتوں پر  مقدم  ہے۔ اس لیے اسے جسم  کی حفاظت پر  ترجیح  دی گئی ہے۔‘‘

امام ابن قدامہ ﷫’المغنی‘ میں فرماتے  ہیں:

’’جب جہاد کے لیے  اعلان کر دیا جائے تو  والدین کی اجازت نہیں لی جاتی۔ اسی طرح تمام  فرض  اعمال ہیں۔  والدین کی اطاعت کرتے ہوئے انہیں نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ یعنی جب جہاد واجب ہو جائے تو  والدین کی اجازت کا کوئی اعتبار نہیں رہتا  کیونکہ  جہاد  فرض عین ہو جاتا ہے اور اسے چھوڑنا معصیت  بن جاتی ہے۔ اور اللہ کی معصیت میں کسی شخص کی اطاعت جائز نہیں۔ اسی طرح  تمام واجبات ہیں جیسے کہ  حج،  نماز با جماعت، جمعہ کی نماز،  واجب علم  کے حصول کے لیے سفر۔

امام اوزاعی  ﷫نے فرمایا: ’فرائض، نماز جمعہ، حج اور  قتال کو  ترک کرنے میں  والدین کی اطاعت نہیں کی جاتی۔ کیونکہ یہ  ہر شخص  پر متعین عبادتیں ہیں۔ اس لیے ان میں والدین کی اجازت کا  اعتبار نہیں  ہو گا جیسے کہ نماز میں نہیں ہوتا۔  اور اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَلِلّٰهِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا  (سورۃ آل عمران: ۹۷)

’اور لوگوں پر اللہ کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے۔‘

اور اس میں  بھی والدین کی اجازت شرط نہیں ٹھہرائی‘۔‘‘

امام ابن حزم ﷫’محلی‘ میں فرماتے ہیں:

’’والدین کی اجازت کے بغیر جہاد جائز نہیں ما سوائے جب  دشمن کسی مسلمان قوم پر حملہ آور ہو جائے۔  تب جو بھی ان کی مدد کر سکے اس پر  فرض ہے کہ  وہ ان کی نصرت کے لیے  روانہ ہو  جائے  چاہے والدین اجازت دیں یا نہ دیں۔ البتہ اگر  اس کے جانے کے بعد دونوں والدین یا ان میں سے کسی ایک کو شدید نقصان کا خدشہ ہو  تو  اس کے لیے جائز  نہیں کہ وہ انہیں اکیلا چھوڑ دے۔‘‘

امام محمد بن الحسین  آجری  ﷫ اپنی کتاب ’الغرباء‘ میں لکھتے ہیں:

’’جسے یہ پسند ہو کہ وہ  غرباء کے مرتبوں تک پہنچ  جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے والدین، بیوی، بھائیوں اور رشتہ داروں کی  ناراضگی  اور اعراض پر صبر کرے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ وہ مجھ سے کیوں  کنارہ کش ہوتے ہیں جبکہ میں  انہیں محبوب بھی ہوں اور میری دوری کا غم  ان کے لیے  سخت  بھی ہے۔  تو کہا جائے گا کیونکہ دنیا سے محبت اور اس کے شدید حرص  کی جس حالت میں وہ مبتلا ہیں تم نے اس بارے میں ان سے مخالفت کی۔ اور چونکہ  خواہشات نے  ان کے دلوں پر گرفت کر رکھی ہے  اس لیے  انہیں پرواہ نہیں کہ تمہارے یا ان کے دین میں  کیا کمی آتی ہے جب تک تمہارے ذریعے ان کی دنیا سلامت ہے۔ اگر تم اس حالت میں ان کی پیروی کرو گے تو  تم ان کے  محبوب ترین اور  انتہائی قریب ہو گے۔ لیکن اگر تم نے ان کی مخالفت کی اور حق کو بروئے کار لاتے ہوئے آخرت والوں کی راہ اختیار کی تو وہ تمہاری حرکت  سے ناراض ہو جائیں گے۔  والدین تمہارے کاموں پر زچ ہو جائیں گے۔ اور بیوی تم سے  تنگ  پڑ جائے گی اور چاہے گی کہ تم  دور ہو جاؤ۔ بھائی اور رشتہ دار تمہاری ملاقات کی خواہش نہ کریں گے۔ تم ان کے درمیان  غم زدہ  اور  تکالیف میں مبتلا ہو گے۔  اس وقت تم  اپنے آپ کو اجنبیت کی نگاہ سے دیکھو گے۔ تب تمہیں  اپنے آپ سے ملتے جلتے غرباء  سے  انس و مودت پیدا ہو گی۔ جبکہ  بھائیوں اور رشتہ داروں سے  وحشت پیدا ہو گی۔  اس طرح تم اللہ کی کریم ذات کی طرف پہنچانے والے راستے پر اکیلے چل پڑو گے۔ اگر  تم  اس راستے کی دشواری پر  چند دن صبر کر لو گے،  تھوڑی دیر کے لیے ذلت  اور بے توجہی برداشت کر لو گے، اس حقیر دنیا  کو ہیچ جان لو گے،  تو یہ صبر  نتیجے میں  تمہیں  عافیت کی دنیا میں پہنچا دے گا۔ جس کی زمین پاک ہے،  باغ ہرے بھرے ہیں،  درخت پھلدار ہیں،  نہریں  میٹھی ہیں اور اس میں ہر وہ چیز ہے جس کی جی خواہش کرے اور آنکھ  لطف اندوز ہو۔ اُس دنیا والے اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں  گے۔  جہاں  ان کو خالص شراب سربمہر پلائی جائے گی جس کی مہر مشک کی ہو گی۔ تو  نعمتوں کے شائقین کو چاہیے کہ اسی سے رغبت کریں۔‘‘

٭٭٭٭٭

Exit mobile version