مَعرکے ہیں تیز تَر! | اپریل 2026

شرقِ افریقہ، مغربِ اسلامی اور پاکستان میں جاری اہم جہادی معرکوں کی خبریں اور اجمالی جائزہ (فروری تا مارچ، ۲۰۲۶)

شرقِ افریقہ  (صومالیہ)

۱۰ فروری ۲۰۲۶ء:  صومالیہ کے جنوب میں صوبہ جوبا السفلی کے شہر کسمایو کے مضافات میں حرکت شباب المجاہدین کے خلاف آپریشن کی غرض  سےامریکی افواج، صومالی سپیشل فورس اور حکومتی ملیشیا کا مشترکہ قافلہ امریکی فضائی حمایت کے ساتھ روانہ ہوا۔مجاہدین نے بارسنجونی کے مقام پر  گھات لگا کر حملہ کیا، جس کےنتیجے میں سات افسروں سمیت مشترکہ افواج کے ۳۲ اہلکار ہلاک ہوئے جن میں دو امریکی افسر بھی شامل تھے  اور کثیر تعداد میں فوجی زخمی ہوئے۔  ایک عدد ڈرون کو مار گرایا گیا۔ تین فوجی گاڑیاں جن پر بھاری مشین گنیں لگی ہوئی تھیں اور ایک عدد جرافہ بکتر بند گاڑی  مجاہدین کو غنیمت میں حاصل ہوئی۔ جبکہ ایک عدد گاڑی کو تباہ کر دیا گیا۔

۲۹مارچ ۲۰۲۶ء: صومالیہ کے جنوب میں صوبہ بایی  کے شہر بورہکبا کے مضافات میں حکومتی ملیشیا نے امریکی جنگی طیاروں کے تعاون سے حرکت شباب المجاہدین کے خلاف  آپریشن کا آغاز کیا جس کا  مجاہدین نے بھر پور مقابلہ کیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں ۱۵ فوجی ہلاک اور ۲۳ زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ متعدد گاڑیاں تباہ اور کثیر تعداد میں  اسلحہ و گولہ بارود بھی مجاہدین کو غنیمت میں حاصل ہوا۔

مغرب اسلامی (برکینا فاسو)

۱۶فروری ۲۰۲۶ء: جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین نے برکینا فاسو کے صوبہ فادانگورما  کے علاقے تانجاری میں ایک فوجی چھاؤنی پر تعارضی حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں ۵۰ اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ مجاہدین نے مختلف قسم کے ہتھیار اورفوجی سازوسامان کو غنیمت میں حاصل کیا۔

۲۲مارچ ۲۰۲۶ء:جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین نے برکینا فاسو کے صوبہ ’’کیا ‘‘کے علاقے بغادی میں ایک فوجی یونٹ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ۲۰ اہلکار ہلاک ہوئے۔ جبکہ مجاہدین کو مختلف قسم کے ہتھیار اور فوجی سازوسامان غنیمت میں حاصل ہوا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب دشمن پیش قدمی کر رہا تھا۔

۲۶ مارچ ۲۰۲۶ء: جماعت نصرت الاسلام  و المسلمین نے برکینا  فاسو کے صوبہ دیدوغو کے علاقے لیری میں فوج کے ایک یونٹ پر تعارضی حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں ۱۴ اہلکار ہلاک  ہوئے۔ جبکہ مجاہدین کو مختلف قسم کے ہتھیار اور فوجی سازوسامان غنیمت میں حاصل ہوا۔

پاکستان

۱ تا ۴ اور ۱۳مارچ ۲۰۲۶ء:  خیبر ایجنسی وادئ تیراہ میں اتحاد المجاہدین پاکستان کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں پاکستانی فوج کئی اہم چوکیاں ، پوسٹ اور کیمپ چھوڑ کر فرار ،جن میں  لال غنی پوسٹ، اکبری کلی پوسٹ، طوطی غر پوسٹ ،  خازیانے کیمپ، سید کرم، البدر، سیڑی کنڈاو پوسٹ، زاودین ژد، نوی میلہ اور پڑاک بنگلہ کیمپ شامل ہیں۔

واضح رہے  کہ چند ماہ قبل ’’پڑاک بنگلہ‘‘ کیمپ پر اتحاد المجاہدین کے ایک فدائی مجاہد، قاری عمر رحمہ اللہ نے فدائی حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں ۵۷ فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات تھیں۔یہ علاقے اس وقت فتح ہورہے ہیں جب پاکستانی فوج نے کئی ماہ سے آپریشن کے نام پروادئ تیراہ کے مظلوم عوام کو وہاں نقل مکانی پر مجبور کر رکھا ہے۔

۷مارچ ۲۰۲۶ء: اتحاد المجاہدین پاکستان  کے مجاہدین نے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے علاقے خواژکی میں فوجی ٹرک کو بارودی سرنگ میں نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں ٹرک مکمل طور پر تباہ جبکہ اس میں سوار ۲۵ سے ۳۰ کے قریب فوجی ہلاک ہوئے۔

۱۸مارچ ۲۰۲۶ء: اتحاد المجاہدین پاکستان کے مجاہدین نے گلگت بلتستان میں ضلع دیامر کے علاقے داریل میں واقع فوجی بیس پر تعارضی حملہ کیا۔ اس کارروائی کا آغاز رات کے ساڑھے بارہ بجے سے ہوا اور سوا دو بجے تک جاری رہا۔ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں ۴ فوجی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ مزید جانی نقصان کا بھی قوی امکان ہے۔

۱۹ مارچ ۲۰۲۶ء: اتحاد المجاہدین پاکستان کے مجاہدین نے شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں ’’جالیٹون چوکی‘‘ کے قریب فوج کی ایک گاڑی کو بارودی سرنگ سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوئی اور اس میں سوار ۱۰ فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔

٭٭٭٭٭

Exit mobile version