الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | بارہویں قسط

شیخ یحیٰ السنوار شہید رحمۃ اللہ علیہ کا شہرۂ آفاق ناول

مجلّہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ بطلِ اسلام، مجاہد قائد، شہیدِ امت، صاحبِ سیف و قلم شیخ یحییٰ ابراہیم السنوار رحمۃ اللہ علیہ کےایمان اور جذبۂ جہاد و استشہاد کو جلا بخشتے، آنکھیں اشک بار کر دینے والے خوب صورت ناول اور خودنوشت و سرگزشت ’الشوک والقرنفل‘ کا اردو ترجمہ، قسط وار شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ یہ ناول شیخ نے دورانِ اسیری اسرائیل کی بئر سبع جیل میں تالیف کیا۔ بقول شیخ شہید اس ناول میں تخیل صرف اتنا ہے کہ اسے ناول کی شکل دی گئی ہے جو مخصوص کرداروں کے گرد گھومتا ہے تاکہ ناول کے تقاضے اور شرائط پوری ہو سکیں، اس کے علاوہ ہر چیز حقیقی ہے۔ ’کانٹے اور پھول‘ کے نام سے یہ ترجمہ انٹرنیٹ پر شائع ہو چکا ہے، معمولی تبدیلیوں کے ساتھ نذرِ قارئین ہے۔ (ادارہ)


سترہویں فصل

جمال اور اس کے کئی بھائی الخلیل شہر سے اپنی گاڑیوں میں سوار ہو کر صوريف جا رہے تھے تاکہ اپنے دوست عبد الرحمٰن سے ملاقات کر سکیں۔ جب انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو عبد الرحيم دوڑتا ہوا دروازے کی طرف آیا اور اپنے چچا کے دوستوں اور اپنے بڑے دوستوں کو دیکھا، جن میں سے اکثر کو وہ جانتا ہے کیونکہ بچپن سے ہی وہ اپنے چچا کے ساتھ ان سے ملنے آتا رہتا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے خوش آمدید کہا، ’’خوش آمدید، خوش آمدید‘‘ اور اندر کی طرف مڑ کر چیخا:  ’’چچا! کچھ نوجوان آپ سے ملنے آئے ہیں‘‘، پھر ان کی طرف مڑا اور کہا، ’’آئیں، آئیں‘‘ اور ان کی مہمان خانے کی طرف رہنمائی کرنے لگا، اتنے میں عبد الرحمٰن تیزی سے آیا اور اس نے بھی خوش آمدید کہا۔ وہ سب بیٹھ کر گفتگو کرنے لگے۔ عبد الرحيم خود کو ان میں سے ایک سمجھ رہا تھا، حالانکہ عمر کا فرق پچیس سال سے زیادہ کا ہو گا۔

خواتین نے دوپہر کا کھانا تیار کیا اور کمرے کے دروازے تک لے آئیں، پھر عبد الرحمٰن اور عبد الرحيم اسے اندر لے آئے۔ کھانا کھانے کے بعد وہ گاؤں کے اطراف میں سیر کرنے نکل گئے اور عبد الرحيم ان کے ساتھ ہو لیا، زمین ہموار اور زرخیز تھی، لیکن اس میں اچھی فصلیں نہیں تھیں  اور دور تک پھیلی ہوئی تاروں کی باقیات تھیں۔ عبد الرحمن نے ان تاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ حد بندی کی لائن ہے، جس کے مغرب میں فلسطینی علاقے ہیں جو 1948ء اور 1967ء میں قبضے میں چلے گئے تھے اور اس تار کے مغرب میں ہمارے گاؤں کی زمین کا بھی ایک حصہ ہے، جو ہماری خاندان کی چالیس دونم1دونم فلسطین میں زرعی زمین کی پیمائش کا پیمانہ ہے۔ ایک دونم ایک ہزار مربع میٹر یا  تقریباً ایک چوتھائی ایکڑ کے برابر ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے چالیس دونم  چالیس ہزار مربع میٹر یا تقریباً دس ایکڑ کے برابر زمین بنتی ہے۔ (ادارہ) زمین ہے، جو 1948ء میں ضبط ہو گئی تھی اور یہ حصہ ہماری زمین کے چند دونمات کو مکمل کرتا ہے، لیکن ہم اسے سرحدی لائن کے قریب ہونے کی وجہ سے کاشت نہیں کر سکتے۔ اسے یاد رکھنا عبد الرحيم! عبد الرحيم سر ہلاتے ہوئے کہتا ہے، ’’کیسے بھول سکتا ہوں، چچا، کیسے بھول سکتا ہوں‘‘۔  جمال نے بھی کہا، ’’کیسے بھول سکتا ہوں، کیسے بھول سکتا ہوں، اور انسان اپنے دل اور اعضا کے بغیر کیسے جی سکتا ہے؟‘‘  وہ گاڑی میں سوار ہو کر الخلیل کی طرف روانہ ہو گئے، اور عبد الرحيم اپنے چچا کے ساتھ بیٹھ گیا۔ راستے میں درجنوں گاڑیاں زرد رنگ کی لائسنس پلیٹ کے ساتھ نظر آ رہی تھیں جو کہ اسرائیلی ہونے کی علامت ہے۔ گاڑیاں دونوں سمتوں میں آ جا ر رہی تھیں۔ جمال غصے میں گرم سانس لیتے ہوئے کہتا ہے، ’’پھر ان آباد کاروں کا کیا ہو گا؟ انہوں زمین ہڑپ کر لی ہے پھر بھی وہ نہ تو مطمئن ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی حد پر رکتے ہیں۔

یہ سب شہر میں داخل ہو گئے، مغرب کی اذان کا وقت قریب تھا اور مسجد الحرم الابراہیمی الشریف کے مؤذن کی اذان کی آواز آنے لگی۔ ڈرائیور نے حرم کی طرف گاڑی موڑ لی۔ گاڑی بھیڑ کی وجہ سے بمشکل آگے بڑھ رہی تھی، وہاں سینکڑوں آبادکار اور قابض فوجی ان کی حرم تک کے راستے میں نگرانی کر رہے تھے۔ اسی حال میں وہ مسجد میں داخل ہوئے، درجنوں بندوقیں قابض فوجیوں کے ہاتھوں میں تیار حالت میں تھیں، آبادکار یہودی اپنے سروں پر چھوٹی رنگین ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے، لمبی غیر منظم داڑھیاں تھیں، اور وہ اپنے جسموں کو دھاری دار کپڑوں میں لپیٹے ہوئے تھے جن میں بہت سارے دھاگے لٹک رہے تھے جو ان کے گھٹنوں کے قریب  تک جاتے تھے۔ وہ مسجد کی طرف دوڑنے لگے، اس کے نمازیوں کو دھکا دینے لگے۔ وہ ہر رکاوٹ پر کو روک رہے تھے۔ نوجوان مسجد میں داخل ہونے لگے۔ مسجد کے پچھلے حصے سے قالین اٹھا دیے گئے تھے اور رکاوٹیں لگا دی گئی تھیں، لوہے کے ستونوں کے درمیان موٹی رسیوں سے نماز کے لیے جگہ مختص کی گئی تھی۔ صرف مسجد کا چوتھائی حصہ نماز کے لیے تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ اس کے تین چوتھائی حصے کے علاوہ باہر کی جگہ اور دو ہالوں میں یہودی بھرے ہوئے تھے، کیونکہ یہ ہفتے کا دن تھا۔ جمال نے بڑبڑاتے ہوئے کہا :  ہر گوشے میں ایک یہودی کتاب ہاتھ میں لیے، تیزی سے پڑھ رہا ہے اور اپنا جسم آگے پیچھے ہلا رہا ہے۔

مؤذن نے نماز کے لیے اقامت کہی، جمال نے امامت کے لیے قدم بڑھایا، نمازی صف بستہ ہوئے، اس نے تکبیر تحریمہ کہی، اور سورہ فاتحہ پڑھی، نمازیوں کی آواز اس دعا کے جواب میں گونج اٹھی ’’غیر المغضوب علیہم ولا الضالین‘‘ آمین۔  پھر اس نے خوبصورت بلند آواز میں پڑھنا شروع کیا ’’سبحان الذی اسری بعبده لیلاً‘‘ یہاں تک کہ اس آیت پر پہنچا ’’وجعلنا جهنم للكافرین حصیرا‘‘، اللہ اکبر، وہ رکوع میں جھکا اور نمازی بھی جھکے، جبکہ ان کے پیچھے یہودی اپنے جسموں کو ہلا رہے ہیں اور تورات پڑھ رہے ہیں۔

٭٭٭٭

میں آخری لیکچر ہال سے نکلا، جو شام کے قریب ختم ہوا تھا، اور سورج قریب الغروب تھا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ ابراہیم، میرے چچا زاد بھائی قریب کے ہال میں ہے، میں نے اسے سلام کیا، اس نے جواب دیا، ہاں، اور ہم ایک ساتھ نکلے۔ ہر ایک اپنی کتابیں اٹھائے ہوئے تھا، اور ہمارے ارد گرد بہت سے طلباء اپنے گھروں کی طرف جا رہے تھے، اور یونیورسٹی کے دروازے پر ایک بس کھڑی تھی، جو جنوبی علاقوں کے طلباء کو ان کے گھروں تک پہنچاتی تھی۔ ہم پیدل چلتے ہوئے گھر واپس جا رہے تھے کہ ہمیں دور سے ایک فوجی جیپ کھڑی نظر آئی جو یونیورسٹی سے نکلنے والے طلبہ کو دیکھ رہی تھی۔ ابراہیم نے ان کی طرف دیکھا اور کہا :  ’’کون یقین کرتا کہ غزہ میں واقعی ایک یونیورسٹی بنے گی جیسی اب ہے؟ احمد، کیا تمہیں یاد ہے جب تم نے اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا تھا تو تمہاری والدہ کا کیا جواب تھا؟  میں نے سر ہلایا، سڑک کے دوسرے کنارے ایک گاڑی رکی جس میں اسلامی بلاک کے چند کارکن، جو ابراہیم کے دوست تھے، موجود تھے۔ انہوں نے اسے بلایا، اس نے چند الفاظ میں گفتگو کی اور واپس آ کر مجھے اپنی کتابیں دیتے ہوئے کہا : یہ اپنے ساتھ لے جاؤ، میں دوستوں کے ساتھ جا رہا ہوں اور شاید دیر ہو جائے۔ حکومت (امی) کو مطمئن کر دینا۔

میں نے مسکرا کر اس کے کاغذات اور کتابیں لیں اور چلتے ہوئے اپنی امی اور ابراہیم کے ساتھ اس کے تعلقات کے بارے میں سوچنے لگا۔ انہی خیالات میں گم تھا کہ ایک کار کا ہارن سنائی دیا، جو قریب تھی کہ مجھے ٹکر مار دیتی۔ میں نے جلدی سے سڑک پار کی اور اس حادثے میں میری کتابیں زمین پر گر گئیں، میں نے انہیں بجلی کے کھمبے کے نیچے جمع کرنا شروع کیا، میری کتابیں اور ابراہیم کی کتابیں آپس میں مل گئیں، میں نے انہیں الگ کرنے کی کوشش کی۔

مجھے ایک کاغذ نے متوجہ کیا جو ابراہیم کا تھا، جب میں نے اسے اس کی کتابوں میں رکھنے کی کوشش کی، تو میری نظر اس کے عنوان پر پڑی: ’’حسن الصالح کی حرکات اور اعمال کی رپورٹ‘‘  میں اپنے تجسس پر قابو نہ رکھ سکا اور اس رپورٹ کو پڑھنے لگ گیا جو ابراہیم کے پاس تھی اور جس پر دستخط تھے: ’’آپ کا بھائی (٢٣)‘‘  ۔اس کا مطلب تھا کہ  ابراہیم اور اس کے ساتھیوں کا معاملہ صرف طلبہ کی سرگرمیوں اور مسجد کی نمازوں تک محدود نہیں تھا۔

اس رات ابراہیم غیر معمولی طور پر دیر سے آیا، میں نے امی کو اس کی طرف سے تسلی دی۔ امی نے کہا : ’’میرا دل کہتا ہے کہ ابراہیم خطرناک راستے پر چل نکلا ہے اور مجھے اس کے انجام کا خوف ہے‘‘، میں نے کہا : امی، ابراہیم سمجھدار اور بالغ ہے، آپ اس کے بارے میں فکر نہ کریں، اسے کیا ہو سکتا ہے؟ امی نے کہا: میرا دل یہی کہتا ہے۔ میں نے کہا : آپ دل کی نہ سنیں، یہ شیطان کی طرف سے ہے جو آپ کو پریشان کر رہا ہے۔  امی نے  کہا : ایک ماں کا دل کبھی غلط نہیں ہوتا احمد! میں نے ان کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، جیسے انہوں نے میرے حیرت کو سمجھ لیا ہو۔ کہا : وہ میرا بیٹا ہے، بالکل تمہاری طرح، کیا میں نے اسے بچپن سے نہیں پالا؟  میری ماں عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد تقریباً تین گھنٹے جاۓ نماز پر بیٹھی رہیں، پریشانی ان کے چہرے پر واضح تھی اور وہ اسے چھپا نہیں پا رہی تھیں، یہاں تک کہ دروازے پر دستک سنائی دی اور دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ ابراہیم داخل ہوا تو ماں اس کی طرف بھاگتے ہوئے چیخیں: تم کہاں تھے؟ اتنی دیر کیوں لگا دی؟ ابراہیم نے جواب دیا: حکومت کو تحریری رپورٹ چاہیے یا زبانی؟ ماں نے پھر چیخ کر کہا کیونکہ ابراہیم ان کا غصہ کم نہیں کر پا رہا تھا : میں تم سے پوچھ رہی ہوں تم کہاں تھے؟ اور دیر کیوں ہوئی ؟  ابراہیم نے صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے جواب دیا: میرے ایک دوست کو مسئلہ تھا، ہم اسے حل کرنے گئے تھے اور ہمیں دیر ہو گئی کیونکہ ہمیں اس کے والد کو منانا پڑا۔ ماں نے کہا : کیا یہ کام دن میں نہیں ہو سکتا تھا؟ آئندہ اس طرح دیر نہ کرنا، سمجھ گئے؟ ابراہیم نے مذاق میں جواب دیا: سمع و طاعت، اے جلالت مآب سلطانہ! ماں اس کے لیے کھانا تیار کرنے کے لیے جانے لگی، تو ابراہیم نے اسے روک کر کہا کہ وہ خود ہی کھانا تیار کر لے گا۔

میں یہ سب دیکھ رہا تھا اور میرے اندر ایک آتش فشاں پھٹنے والا تھا۔ مجھے ابراہیم کو بتانا پڑے گا کہ میں نے وہ کاغذ پڑھا ہے اور اسے معاملے کی وضاحت کرنی ہو گی۔ خاموش رہنا صحیح نہیں۔ ہو سکتا ہے وہ ناراض ہو اور چلا جائے، کوئی بات نہیں، لیکن مجھے اسے بتانا ضروری ہے۔ ماں اپنے کمرے میں سونے چلی گئیں اور ابراہیم اپنے لیے کھانا تیار کرنے کے بعد میرے پاس واپس آیا کیونکہ ہم دونوں ایک ہی کمرے میں سوتے تھے۔ وہ کھانا کھانے بیٹھا، تو میں نے کرسی کھینچ کر اس کے قریب بیٹھا اور اپنے منہ کو اس کے کان کے قریب لے جا کر کہا : مجھے معاف کر دینا، تمہاری فائل میرے ہاتھ سے گر گئی تھی اور جب میں نے بکھرے ہوئے کاغذات جمع کیے تو میں نے حسن کے بارے میں لکھی ہوئی رپورٹ دیکھی۔ ابراہیم نے کھانا چھوڑ دیا اور اس کے حلق میں پھنسا ہوا  نوالہ اسے مارنے کے قریب تھا۔ اس نے کہا : کیا؟ میں نے کہا : پریشان نہ ہو، میں احمد ہوں اور تم مجھے جانتے ہو، تمہارا راز  اس کنویں میں محفوظ ہے، پھر میں    اپنے تجسس کو قابو نہ کر سکا تو  میں نے کاغذ پڑھ لیا ۔

ابراہیم کی پریشانی واضح تھی اور وہ صحیح طور پر رد عمل نہیں دے پا رہا تھا، یہ ابراہیم کا سب سے مشکل لمحہ تھا جو میں نے دیکھا تھا۔ میں نے مزید کہا : سمجھ لو کہ کسی نے کچھ نہیں پڑھا اور نہ ہی دیکھا، ابراہیم نے کوئی جواب نہیں دیا اور جلدی سے کھانا ختم کیا، پھر ہم سونے چلے گئے۔

اگلے دن وہ یونیورسٹی لے جانے کے لیے میرا انتظار کر رہا تھا۔ ہم دونوں یونیورسٹی کے لیے نکلے، راستے میں ابراہیم نے بات شروع کرتے ہوئے کہا : سنو احمد، میں جانتا ہوں کہ تم کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گے، لیکن جان لو کہ حسن کا معاملہ مجھے پریشان کر رہا ہے۔ میں نے اپنے کچھ دوستوں کو اس کی نگرانی پر لگا دیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کیا کر رہا ہے، میں نے اسے گہری نظر سے دیکھا اور کہا: ابراہیم !یہ بات کسی اور کو بتاؤ، رپورٹ کا کام کسی عام لڑکوں یا دوستوں کا نہیں، یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو جانتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ معلومات عام لوگوں کے ہاتھ نہیں آ سکتیں، یہ ماہرین کی معلومات ہیں، لیکن میرے لیے اہم یہ ہے کہ تم حسن کے ساتھ کیا کرو گے؟ ابراہیم نے گہری سانس لی اور کہا: میں قسم کھاتا ہوں کہ میں اسے مار دوں گا اور لوگوں کو اس کے شر سے بچاؤں گا۔ میں سب سے پہلے اسے ماروں گا، لیکن ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اور وقت پر سب کچھ اچھا ہوتا ہے۔

اپنی ضرورت سے  زائد جو پیسے بچتے تھے، ابراہیم  انہیں  ماں کے پاس جمع کراتا تھا، جنہیں وہ تعمیراتی کام سے کماتا تھا۔ اُس دن جب وہ یونیورسٹی سے واپس آیا، تو اُس نے  ماں سے ان جمع شدہ پیسوں میں سے پندرہ سو دینار مانگے، کیونکہ وہ ایک گاڑی خریدنا چاہتا تھا جو اُسے نقل و حرکت میں اور کام کے اوزار لے جانے میں مدد دے گی، اور کام اور پڑھائی کے دوران وقت کی بچت کرے گی۔ میں جانتا تھا کہ وہ اپنے بھائی حسن کے معاملے کو ختم کرنے کی گہرائی سے منصوبہ بندی کر رہا ہے، ماں نے اُسے پیسے دیے اور بتایا کہ تقریباً پندرہ سو دینار باقی ہیں۔ ابراہیم نے ایک پیجو براویٹ (٤٠٤) گاڑی خریدی، جو کہ ایک مشہور گاڑی ہے اور علاقے میں بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے، لیکن یہ سب گاڑیاں پرانی اور کم از کم پندرہ سال پرانی ہوتی ہیں، مگر کیمپ کے معیار کے مطابق یہ ایک عیاشی کی چیز تھی۔

٭٭٭٭

محمد اپنے کرائے کے کمرے سے جہاں وہ اور کچھ طالب علم رہتے تھے، بیرزیت یونیورسٹی کے لیے نکل پڑا۔ یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی اُس نے محسوس کیا کہ ماحول میں غیر معمولی طور پر تناؤ  ہے، کیونکہ طلباء اور طالبات حسب معمول قابض فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں کے لیے تیار ہو رہے تھے، وہ مختلف کونوں میں پتھر اکٹھے کر رہے تھے، ماسک پہن رہے تھے، اور رکاوٹیں لگا رہے تھے۔ پھر وہ ایک بڑے  مظاہرے میں شامل ہو گئے جس میں لوگ یونیورسٹی سے نکل کر قبضے اور آبادکاری کے خلاف اور فلسطین کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔ زیادہ وقت نہ گزرا کہ قابض فوجیوں کی گاڑیاں آئیں اور جھڑپ شروع ہو گئی، فوجی اپنی گاڑیوں کے پیچھے چھپ گئے، اور طلباء پیچھے ہٹ کر پتھریلی دیواروں کے پیچھے چھپ گئے۔ پتھر فوجیوں پر برسنے لگے، جو جواب میں طلباء پر گولیاں اور آنسو گیس برسانے لگے۔ تمام طلباء تنظیمیں ان واقعات میں شامل تھیں، ایسے واقعات میں جب تمام طلباء تنظیمیں شامل ہوتی ہیں، تو جھڑپ زیادہ سخت اور شدید ہو جاتی ہے کیونکہ طلباء اور طالبات کا جوش و خروش بڑھتا ہے اور ان کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ جھڑپیں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں، جس دوران فوجیوں کو کئی بار پیچھے ہٹنا پڑا، اور وہ اپنے ان زخمی ساتھیوں کو کھینچتے ہوئے لے جا رہے تھے، جن کے سر یا چہرے سے خون بہہ رہا تھا، کیونکہ وہ پتھروں سے زخمی ہو گئے تھے۔ فوجیوں نے نہ صرف مظاہرین کو منتشر کرنے یا زخمی کرنے کے لیے، بلکہ واضح طور پر قتل کرنے کے ارادے سے گولیاں چلانا شروع کر دیں۔ کچھ ہی منٹوں میں، دو طلباء ’’جواد ابو سلمیہ‘‘ اور ’’صائب ذهب‘‘ شہید ہو گئے۔ حسب معمول طلباء کا جوش بڑھ گیا اور وہ فوجیوں کا پیچھا کرنے لگے، جنہیں یونیورسٹی اور طلباء سے دور شہر کے کنارے پر پناہ لینی پڑی۔ لاشوں اور زخمیوں کو رام اللہ کے ہسپتال منتقل کیا گیا، رات ہو چکی تھی، صبح ہوتے ہی بیرزیت کی جھڑپوں اور شہداء کی خبریں پورے وطن میں پھیل چکی تھیں، تو ہر علاقے میں مظاہرے شروع ہو گئے اور عام ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ مظاہرین اور قابض فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہر جگہ پھیل گئی، یہاں تک کہ اسلامی یونیورسٹی میں بھی، طلباء نے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے، اور اپنے پتھروں کو قابض فوج کی گشت کرنے والی گاڑیوں پر پھینکا۔ یہ واقعات پھیل کر کیمپ سے شہر کے ہر حصے میں پہنچ گئے، خاص طور پر الشجاعیہ محلہ جہاں شہید صائب ذهب رہتا تھا، اور جنوبی علاقے خان یونس جہاں شہید جواد ابو سلمیہ رہتا تھا، تک پھیل گئے۔

واقعات اگلے دنوں میں بھی جاری رہے، اور جب پتھر قابض فوج کی گاڑیوں پر پھینکے گئے جو جامعہ کے پاس کھڑی تھی اور وہاں سے گزر رہی تھی، تو قابض فوج کی بڑی تعداد نے جامعہ کو گھیرے میں لے لیا۔ یہ واضح ہو گیا کہ وہ ہمیں سبق سکھانا چاہتے ہیں تاکہ ہم اچھے اور خاموش بچے بن جائیں۔ سینکڑوں فوجیوں نے جامعہ کو گھیر لیا اور اس میں بار بار داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن ہر بار ان پر پتھروں کی بارش ہوتی اور وہ پیچھے ہٹ جاتے۔ وقت گزرتا گیا اور شام قریب آ گئی، یہ واضح ہو گیا کہ رات جامعہ میں گزارنی پڑے گی۔

لیکن کچھ معززین کی گاڑی آئی اور اسے جامعہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے طلباء کے سرگرم کارکنان اور جامعہ کے منتظمین سے مذاکرات کیے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ فوجی حکام کو کوئی اعتراض نہیں کہ طلباء جامعہ سے مخصوص گروپوں میں باہر نکلیں، ہر پانچ منٹ میں دس طلباء، تاکہ کوئی اجتماع نہ ہو اور مظاہرے شہر میں نہ پھیل سکیں۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ فوجی طلباء کو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ سب نے اس پر اتفاق کیا اور ہم نے دس دس کے گروپوں میں نکلنا شروع کیا اور فوجی ہمیں ایک سڑک کے کنارے کی طرف لے جا رہے تھے۔ جیسے ہی ایک گروپ نکلتا، دوسرا گروپ اس کی پیروی کرتا، میں بھی ایک گروپ میں باہر نکلا اور جب ہم اس سڑک کے ایک موڑ پر پہنچے، تو فوجیوں نے ہمیں مڑنے کا اشارہ دیا اور وہاں سینکڑوں فوجی کھڑے تھے جن کے ہاتھ میں ڈنڈے تھے اور ان کی گاڑیاں سڑک کو بند کر کے ایک قید خانے میں تبدیل کر چکی تھیں۔ وہاں ہمیں مار پیٹ کر مجبور کیا گیا کہ ہم اپنے گھٹنوں پر بیٹھیں، اپنے ہاتھ سر پر رکھیں اور دیوار کی طرف منہ کر کے بیٹھیں۔ ہمارے شناختی کارڈز لے کر تفتیش کی گئی اور ایسا لگتا تھا کہ ان کے پاس سرگرم کارکنوں کی فہرستیں تھیں، جنہیں وہ مار پیٹ کر ایک قریبی میدان میں لے جا رہے تھے۔ پھر باقیوں کو ان کے شناختی کارڈ واپس دے کر جانے کی اجازت دے رہے تھے۔ میں کسی بھی طالب علم تنظیم کا سرگرم کارکن نہیں تھا، مجھے اپنا شناختی کارڈ ملا اور میں وہاں سے جلدی نکل گیا۔

ابراہیم کو تقریباً سو دیگر طلباء کے ساتھ تین دن تک حراست میں رکھا گیا، انہیں بری طرح مارا پیٹا گیا اور ایسی ذلت برداشت کرنی پڑی جو تصور سے باہر تھی۔ فوجی حاکم نے سوچا کہ اس نے ہمیں سبق سکھا دیا ہے اور ہمیں ’اچھے بچے‘ بننے کی تعلیم دے دی ہے۔ چند دنوں بعد میں یونیورسٹی میں داخل ہوا اور پہلی نظر میں ہی ظاہر ہو گیا کہ آج جنگ چھڑنے والی ہے۔ سرگرم کارکنان کے ایک گروپ کی قیادت ابراہیم کر رہا تھا اور وہ تصادم کی تیاری کر رہے تھے۔ جب طلباء کا مجمع اکٹھا ہوا تو پتھر پولیس کی گاڑیوں اور فوجی گاڑیوں پر برسنے لگے جو یونیورسٹی کے قریب سے گزر رہی تھیں۔ آدھے گھنٹے کے اندر ہی یونیورسٹی کو محاصرے میں لے لیا گیا اور فوجی بسوں سے سینکڑوں فوجیوں کی آمد شروع ہو گئی۔ یہ بالکل واضح تھا کہ اس بار ہمیں پچھلی بار سے کہیں زیادہ مار پڑنے والی ہے، مگر ہر حادثے کا الگ حال ہوتا ہے۔ ابھی تو مقابلہ کرنا ہے تو مقابلہ کریں، زیادہ تر طلباء نے کیمروں اور دوربینوں سے بچنے کے لیے اپنے چہرے ڈھانپ لیے، جو ایک اونچی عمارت پر نصب تھے۔  پتھر فوجیوں پر برسنے لگے جو اپنی گاڑیوں اور پلاسٹک کی ڈھالوں کے پیچھے چھپے ہوئے تھے۔ جواب میں وہ گولیاں اور آنسو گیس کے شیل برسانے لگے۔ واضح تھا کہ طلباء اس بار پچھلے دنوں کی مار کا بدلہ لے رہے تھے، وہ ایک بڑی گاڑی لائے جو گرم پانی کا چھڑکاؤ کر رہی تھی، یہ گاڑی یونیورسٹی کے دروازے کی طرف بڑھی اور فوجی اس کے پیچھے چھپے ہوئے تھے، اس گاڑی نے دروازہ اکھاڑ دیا اور پتھروں کی بارش بھی اسے نہ روک سکی اور وہ ہمارے قریب آ گئی۔ فوجی اس کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکے اور پیچھے ہٹ گئے، صورتحال یہی رہی کہ کبھی وہ ہم پر حملہ کرتے اور کبھی ہم ان پر، یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا اور پھر اچانک ایک فوجی ٹینک کی آواز آئی جو زمین کو کپکپاتا ہوا یونیورسٹی کے پچھلے دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہو گیا۔ ایک طالب علم نے لاؤڈ اسپیکر پر چلا کر کہا : ایک ٹینک پچھلے دروازے سے یونیورسٹی میں داخل ہو گیا ہے، تقریباً سات سو سے زائد طلباء ایک ساتھ ٹینک کی طرف مڑ گئے، بجائے اس کے کہ وہ اس سے بھاگتے، وہ اس کی طرف دوڑنے لگے۔ یہ منظر کسی جنون سے کم نہ تھا، ٹینک اور ہمارے مجمع کے درمیان سو میٹر سے زیادہ کا فاصلہ تھا، لیکن یہ واضح تھا کہ ٹینک کے اندر موجود لوگ جانتے تھے کہ یہ مجمع ان کی کھال ادھیڑ دے گا۔

ٹینک نے واپس مڑ کر یونیورسٹی سے باہر کا راستہ لیا، مجمع ٹوٹے ہوئے دروازے تک پہنچا اور انہوں نے پتھروں، کنکریٹ کے ٹکڑوں، ڈرموں اور درختوں کے تنے جیسی ہر چیز سے اسے بند کرنا شروع کر دیا، پھر ان کی اکثریت واپس آ گئی۔ جبکہ کچھ لوگ دیوار پر چڑھ کر فوجیوں کی حرکات کو دیکھنے لگے۔ وقت گزرتا گیا اور وقت مغرب قریب آ گیا، معتبر لوگوں نے ثالثی کی کوشش کی، لیکن ان کی ثالثی کو مسترد کر دیا گیا اور انہیں سخت باتیں سنائی گئیں۔ ہم انتظار کرتے رہے اور سوچتے رہے کہ اب کیا ہو گا؟ ابراہیم اپنے چہرے پر مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر ناکام رہا۔ تھوڑا سکون ہوا اور پھر غزہ شہر کی مساجد کے درجنوں لاؤڈ اسپیکرز ایک ساتھ بلند ہونے لگے : حی علی الجہاد…… قابض فوج نے آپ کے بیٹوں اور بیٹیوں کو یونیورسٹی میں محاصرے میں لے لیا ہے، انہیں بچانے کے لیے باہر نکلیں، اللہ اکبر ……اللہ اکبر۔

اچانک شہر کے تمام محلوں کے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے،  ہجوم بڑے بڑے جلوسوں اور مظاہروں میں تبدیل ہو کر ہر جانب سے یونیورسٹی کی طرف بڑھنے لگے، اور اچانک غزہ شہر پورے کا پورا نکل آیا۔ اللہ اکبر…… اللہ اکبر اور قابضین کی موت کا نعرہ لگایا۔ اس صورتحال میں بدامنی پھیل گئی اور فوراً ہی یونیورسٹی کا محاصرہ کرنے والی افواج کو حکم ملا کہ وہ یونیورسٹی کو چھوڑ دیں اور شہر میں امن بحال کرنے کے لیے پھیل جائیں۔ افواج نے رخ بدلا اور بکھر گئی،  تو ان کے سامنے غصے سے بھرے لوگوں کے لشکر تھے اور ان کے پیچھے غصے سے بھرے یونیورسٹی کے ہزاروں طلباء و طالبات تھے۔

ابراہیم اپنی کار میں یونیورسٹی کے دروازے سے نکلا اور مجھے دیکھ کر رک گیا، اس نے کہا کہ وہ گھر نہیں جا رہا بلکہ شہر کی صورتحال دیکھنے کے لیے چکر لگانا چاہتا ہے۔ پورا شہر، اس کے مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے سڑکوں پر تھے، ہر جگہ جلتی ہوئی گاڑیوں کے ٹائر تھے، رکاوٹوں سے راستے بند کیے جا رہے تھے اور وہاں پریشان حال فوجی تھے جو اطراف میں گھوم رہے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ ابراہیم کے چہرے پر بڑی مسکراہٹ تھی اور وہ اسے چھپانے کی کوشش نہیں کر رہا تھا، میں نے کہا کہ واقعی تم لوگوں نے معاملات کو اچھے سے ترتیب دیا ہے۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا : الحمد للہ، الحمد للہ، لوگ خیریت سے ہیں، الحمد للہ لوگ خیریت سے ہیں۔ ہم نے ہزاروں شہریوں اور طلباء کے ہجوم کو الحاکم سرائے کی طرف بڑھتے دیکھا، وہ اسے پتھروں سے مار رہے تھے اور فوجی اپنے سروں کو بچانے میں ناکام تھے اور اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے۔

٭٭٭٭

محمود کے چند دوست اس کے گھر آئے اور واضح تھا کہ وہ فکر مند ہیں۔ وہ بیٹھے اور کچھ دیر بعد میں ان کے لیے چائے لایا جو محمود کی بیوی نے بنائی تھی۔ میں نے ان کو چائے پیش کی، تو وہ بات کر رہے تھے۔ وہ ایک فتح کے نوجوان  کے بارے میں بات کر رہے تھے جو حال ہی میں گرفتار ہوا تھا اور ایک خصوصی عسکری گروہ کا ذمہ دار تھا، اور اس نے تفتیش میں سب کچھ قبول کر لیا تھا۔ محمود نے پوچھا کیسے؟ میں نے سنا تھا کہ وہ ایک مضبوط اور ضدی نوجوان ہے۔ ان میں سے ایک نے جواب دیا کہ ہاں وہ مضبوط اور ضدی ہے، لیکن وہ اسے ’’العصافیر‘‘ لے گئے تو اس نے وہاں قبول کر لیا۔ میں نے سوال کیا : ’’العصافیر‘‘ کیا ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ جاسوسوں کا ایک بڑا گروہ ہے جو تفتیش میں انٹیلی جنس کی مدد کرتے ہیں، انہیں جیل کی طرح کے کمروں میں رکھا جاتا ہے۔ اگر انٹیلی جنس کسی سے اقبال جرم  نہیں کرا سکتی تو اسے ان کے پاس لے جاتے ہیں، یہ جاسوس ظاہر کرتے ہیں کہ وہ عام قیدی ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اس قیدی سے اس کی معلومات حاصل کر لیں۔

وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ وہ ان کو افسروں کے سامنے لانا چاہتے ہیں تاکہ اس گروہ کو گرفتار ہونے سے بچایا جا سکے، یا کسی اور وجہ سے، اور کبھی کبھار جب وہ دیکھتے ہیں کہ قیدی اپنی عزت بچانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کوئی جاسوس نہیں ہے تو وہ اس پر الزام لگانا جاری رکھتے ہیں۔ بعض اوقات قیدی کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اپنے رازوں کو ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ وہ جاسوس نہیں ہے، اور وہ اس طرح کی چالوں اور دھوکہ دہی کے طریقے استعمال کرتے ہیں۔

اسلامی یونیورسٹی میں طلباء اور طالبات کے درمیان مکمل علیحدگی ہے، ہر گروہ اپنے مخصوص شعبوں میں پڑھتا ہے اور یونیورسٹی میں طلباء اور طالبات کا اختلاط نہیں ہوتا۔ لیکن جب طلباء اور طالبات یونیورسٹی جاتے یا واپس آتے ہیں تو وہ سڑکوں، گلیوں، پارکنگ اور بس اسٹاپوں میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ راستے کے آداب اور عمومی قواعد کا خیال رکھتے ہیں بلکہ ان میں مبالغہ بھی کرتے ہیں، حالانکہ کچھ طلباء یا طالبات جب یونیورسٹی سے نکلتے ہیں تو بغیر کسی پابندی کے آزادانہ طور پر چلتے ہیں جیسا کہ معاشرتی عادات میں ہوتا ہے۔ تمام یونیورسٹی کی طالبات حجاب پہنتی ہیں کیونکہ یہ یونیورسٹی کا قانون ہے اور بغیر حجاب کے داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ زیادہ تر طالبات سنجیدگی سے حجاب پہنتی ہیں، لیکن کچھ طالبات یونیورسٹی میں داخل ہونے پر ہی حجاب پہنتی ہیں اور فوراً یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد اتار دیتی ہیں یا کچھ اپنے سر کا دوپٹہ پیچھے کر دیتی ہیں جس سے ان کے بالوں کا کچھ حصہ ظاہر ہو جاتا ہے۔

پڑوس کے کیمپ کی ایک طالبہ جو یونیورسٹی میں پڑھتی تھی، کئی بار ایسا ہوا کہ میں یونیورسٹی جاتے یا واپس آتے وقت اسے راستے میں دیکھتا تھا۔ کبھی کبھار میں اس کی طرف دیکھتا تھا جب وہ زمین کی طرف دیکھتے ہوئے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنی منزل کی طرف جا رہی ہوتی، میرا دل بار بار مجھ سے کہتا کہ شاید مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے۔ میں ہمت نہیں کر سکا کہ اسے سلام کہہ سکوں، شرم اور خوف کی وجہ سے۔ ایک دن اتفاق سے میری نظر اس کی نظر سے ٹکرا گئی تو میرے جسم میں ایک عجیب سی سنسنی دوڑ گئی اور میرے دل میں محبت کے جذبات بھر گئے۔ ایک مختصر نظر پھر اس نے فوراً اپنی نظر جھکا لی۔ میں نے ارادہ کر لیا کہ اسے یونیورسٹی جاتے یا واپس آتے ہوئے ملوں، چاہے میں اس پر نظر نہ بھی ڈالوں، بس اس کا سڑک پر ہونا مجھے سکون دیتا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ کیا میں اس سے محبت کرنے لگا ہوں ؟ اور کیا یہ واقعی محبت ہے جس کا اتنا ذکر ہوتا ہے؟ ایک بار پھر ہماری نظریں دور سے ملیں اور میرا دل تیز دھڑکنے لگا۔ تیسری بار جب نظریں ملیں تو میں مسکرایا اور اس کا چہرہ شرم سے لال ہو گیا اور وہ تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے دور چلی گئی۔

میں بعد میں اس سے زیادہ کی امید کے بغیر اس کے یونیورسٹی جانے کا انتظار کرتا تھا تاکہ اسے دور سے دیکھ سکوں، یہاں تک کہ نظر ڈالنے کی بھی خواہش نہیں تھی، مجھے بس اتنا ہی کافی تھا کہ میں نے محبت کی اور یہ کافی تھا کہ وہ یہ بات بخوبی سمجھ گئی تھی۔ وہ ہر بار یہ سمجھتی جب وہ میری کوشش کو محسوس کرتی کہ میں اسے ہر روز یا دو دن میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں اور مجھے اس کی حفاظت کرنی چاہیے، اس مرحلے پر زیادہ کی خواہش نہیں ہونی چاہیے، اس سے پہلے کہ میں یونیورسٹی سے فارغ ہو جاؤں اور شادی کے لیے اس کے پاس جاؤں، جیسا کہ مجھے بچپن سے سکھایا گیا تھا۔

میرے چچا زاد حسن کے معاملے نے ابراہیم کو بہت پریشان کر دیا تھا اور اس نے کئی بار میرے دماغ میں یہ بات بٹھا دی تھی۔ وہ مجھے اپنے ساتھ حسن کی حرکات کا پتہ لگانے کے لیے لے گیا تاکہ اس رپورٹ کی سچائی کی تصدیق ہو سکے۔ ہم نے کئی معلومات کی تصدیق کی، ہم نے دیکھا کہ وہ مخصوص اوقات میں ’’ابو وديع‘‘ سے ملنے جاتا تھا۔ اپنی گاڑی کو سرايے کے قریب روکتا، پھر گاڑی سے اترتا اور سرايے میں داخل ہو جاتا۔ اس کے پاس ایک خاص کارڈ ہوتا تھا جو وہ گیٹ پر موجود فوجیوں کو دکھاتا تھا۔ وہ اندر جاتا اور ایک گھنٹے یا کچھ دیر کے بعد باہر آتا تھا۔ ہم نے اسے کئی ایسی دکانوں پر جاتے ہوئے دیکھا، جن کے مالکان کا مخبر ہونا معروف تھا۔

ہم نے اسے سڑکوں پر عورتوں کو تنگ کرتے ہوئے بھی دیکھا اور ان کے ساتھ ہر طرح کی بد تمیزی کرتے دیکھا۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کچھ فاحشائیں اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتی تھیں اور دور دراز کے مقامات پر چلی جاتی تھیں۔ بعض اوقات وہ ان میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا اور کسی نوجوان کو بھی ایسے مقام پر لے جاتا تھا جو ویران ہوتا تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس نوجوان کو پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے، معاملات بالکل صاف ہو گئے تھے اور کسی شک یا تاویل کی گنجائش نہیں تھی۔

میری ماں ہمیں رات دیر تک گھر سے باہر رہنے کی اجازت نہیں دیتی تھیں اور اگر ہم میں سے کوئی رات دیر سے باہر جانا چاہتا تو وہ اور بھی سخت ہو جاتیں۔ ہمیں لگتا تھا کہ وہ سو رہی ہیں یا مصروف ہیں، لیکن جیسے ہی ہم میں سے کوئی دروازے کے قریب جاتا، وہ چیختی ہوئی پوچھتیں: احمد، کہاں جا رہے ہو؟ ابراہیم، کہاں جا رہے ہو ؟ پھر ہمیں ان کے سوالات اور استفسار سے بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔

ابراہیم جانتا تھا کہ حسن کے خلاف کچھ کرنے کی کوششوں میں ماں اس کے لیے مشکلات کھڑی کریں گی، اس لیے اس نے میرے ساتھ یہ منصوبہ بنایا کہ ہم جلدی گھر واپس آ جائیں، پڑھائی کریں اور محنت کریں، پھر جلد سو جائیں۔ آدھی رات کو میں اس کی مدد کرتا  تاکہ وہ گھر سے نکل جائے اور واپس آنے کا انتظار کرتا۔ وہ ہر ہفتے ایک یا دو بار باہر جاتا اور واپس آ کر میرا شکریہ ادا کرتا اور سونے چلا جاتا۔ میں نے کبھی اس سے نہیں پوچھا کہ کیا ہوا ؟ کہاں گیا تھا ؟ کیا کیا ؟

ایک رات جب ابراہیم واپس آیا تو اس کا چہرہ بگڑا ہوا تھا اور صاف ظاہر تھا کہ اس نے بہت مشکل صورتحال کا سامنا کیا ہے، اس نے اپنے کپڑے بدلے اور بغیر کسی بات چیت کے بستر پر لیٹ گیا۔ اس رات کے بعد اس نے مجھے کبھی کسی اور مشن پر ساتھ نہیں لیا ۔

ایک ہفتے بعد ایک رات اس نے مجھ سے کہا : احمد، اب اس پروگرام پر رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آرام سے جیسے چاہو ویسے کرو۔ مجھے یہ بات بہت عجیب لگی، لیکن میں نے اس کے پیچھے کی وجوہات نہیں پوچھیں۔ کچھ راتوں بعد جب میں دیر سے گھر واپس آ رہا تھا، اور ایک ذیلی راستے پر مڑ گیا، تو میں نے دیکھا کہ انٹیلی جنس افسر ’’ابو ودیع‘‘ کی گاڑی سڑک کے کنارے کھڑی ہے، وہ اپنے عام شہری لباس میں گاڑی سے باہر آیا اور مسجد کی دیوار کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ اس کے ہاتھ میں کچھ تھا جس سے وہ دیوار کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ میں ایک اور گلی میں مڑ گیا تاکہ اس سے سامنا نہ ہو اور مجھے کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور اس کے چلے جانے کا انتظار کرنے لگا۔ پھر جب میں واپس اپنے راستے پر گیا اور اسی جگہ سے گزرا تو دیکھا کہ اس نے دیوار پر کچھ نشان بنائے اور کچھ نمبر لکھے ہیں۔ جب میں گھر پہنچا اور کمرے میں داخل ہوا، تو ابراہیم اپنے بستر پر بیٹھا اپنے کالج کی کتابیں پڑھ رہا تھا، میں نے اسے اس واقعے کے بارے میں بتایا تو اس نے جانے کی تیاری کی۔ پھر گھڑی کی طرف دیکھا اور کہا : اگر وقت زیادہ نہ ہوتا تو میں جا کر دیکھ لیتا، لیکن اس وقت باہر جانے سے حکومت مجھے پکڑ لے گی، صبح تک انتظار کرتے ہیں۔

فجر کی اذان کے وقت ہم مسجد جانے کے لیے نکلے، دیوار کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی اس نے مجھے خبردار کیا کہ نہ رکنا اور نہ ہی دیوار کی طرف اشارہ کرنا، بلکہ بات کرتے ہوئے صرف اسے مقام کے بارے میں بتانا۔ میں نے اس کی ہدایت پر عمل کیا، اور اس نے وہ مقام بخوبی دیکھ لیا۔ اس مقام سے گزرتے ہوئے اس نے سرگوشی کی، ’’ایسی بہت سی نشانیاں مختلف مقامات پر ہیں، جو پہلے بھی میری نظر میں آئی تھی، میں نے سوچا تھا کہ یہ بلدیہ کے نشانات ہیں، جیسے سیوریج یا بجلی کے۔ لیکن یہ انٹیلی جنس کے لیے ہیں، یعنی یہ خفیہ اور بہت خطرناک جاسوسوں کی ملاقاتوں کے نشانات ہیں۔ اگر یہ عام جاسوس ہوتے تو اتنی محنت اور رازداری کی ضرورت نہ ہوتی۔ ہم نے فجر کی نماز ادا کی اور واپسی کے وقت دوبارہ ان نشانات کو دیکھا۔ ابراہیم نے کچھ بڑبڑاتے ہوئے کہا : آج یہ وقت اور یہ مقام۔ میں نے پوچھا : کیا کہہ رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا : کچھ نہیں۔

اس دن شام کو اس نے مجھے اپنی گاڑی میں ساتھ لیا اور کہا : ڈائری اور قلم نکالو اور کچھ چیزیں نوٹ کرنے کے لیے تیار رہو۔ ہم نے گاڑی میں بیٹھ کر کیمپ کی گلیوں میں چکر لگائے، اور جب بھی ہم کسی دیوار سے گزرتے، وہ رفتار کم کرتا اور کہتا، ’’دائیں طرف دیوار کو دیکھو، یہ نشان پچھلی رات کی نشانی جیسا ہے، اسے نوٹ کرو۔ ہم نے بہت سی نشانیاں جمع کی، اور مغرب کی اذان کے وقت ایک مسجد میں نماز ادا کی، پھر واپس گھر آئے۔

کمرے میں داخل ہوا تو اُس نے مجھ سے ڈائری لے لی اور میز پر رکھ کر اعداد و شمار کا موازنہ کرنے لگا، اور سرگوشی میں کہا: کیا تم یہ مماثلت نہیں دیکھ رہے؟ یہ نمبر آج کی تاریخ ہے، کیونکہ سارے نمبر (١) سے (٣١)  تک کے درمیان ہیں، کیا ایسا نہیں ہے؟ میں نے جواب دیا: صحیح ہے، پھر اُس نے دوسرے نمبر کا موازنہ شروع کیا اور کہا :  یہ لگتا ہے کہ یہ گھنٹے ہیں، دیکھ رہے ہو کہ یہ (١) سے (٢٤) کے درمیان ہیں اور دن کے گھنٹوں کی تعداد کے برابر ہیں، کیا یہ ایسا نہیں؟ میں نے جواب دیا : صحیح ہے، اُس نے  کہا :  اور یہ نمبر منٹوں کو ظاہر کرتے ہیں، دیکھو یہ بڑے نمبروں کے مقابلے میں چھوٹے ہیں  جو گھنٹے ظاہر کرتے ہیں اور یہ یا تو (١٥) یا (٣٠) یا (٤٥) ہوتے ہیں، میں نے کہا : سو فیصد۔

وہ مسکرایا اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ پر مارنے کے لیے اٹھایا، میں نے ہاتھ بڑھایا اور اس نے ہلکی آواز میں میرے ہاتھ پر مارا، پھر کہا : یہ خفیہ ادارے کی اپنے ایجنٹوں کے ساتھ شِفر2شِفر Cipher ایک مخصوص طریقہ کار  ہوتا ہے جسے معلومات یا پیغامات کو خفیہ کرنے یا ان کی حفاظت کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، شِفر کے ذریعے معلومات کو ایسے طریقے سے تبدیل کیا جاتا ہے کہ غیر مجاز افراد اس کو سمجھ نہ سکیں۔ شِفروں کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔ ہے، احمد۔ ہم نے اسے حل کر لیا ہے اور اب اہم بات یہ ہے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں۔

مجھے موقع مناسب لگا کہ ایک موضوع کھولوں جس پر میں کافی عرصے سے غور کر رہا تھا۔ میں نے کہا: ہاں، اب اہم بات یہ ہے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھائیں، اب اپنے کمپیوٹر پر اس کو چلاؤ۔ اُس نے تیز نظروں سے اور غصے سے دیکھتے ہوئے کہا: تم کس بارے میں بات کر رہے ہو؟ میں نے کہا: اُن کے بارے میں جنہوں نے تمہارے لیے حسن کی رپورٹ تیار کی، اُس نے ناراضگی سے دیکھا اور کہا: کیا ہم نے اس بات پر اتفاق نہیں کیا تھا کہ ہم اسے بھول جائیں؟ میں نے کہا : نہیں، ہم نے بھولنے پر اتفاق نہیں کیا تھا، بلکہ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ میں کسی اور سے اس بارے میں بات نہیں کروں گا اور میں  تم سے بات کر رہا ہوں، کسی اور سے نہیں۔ اُس نے غصے سے کہا: اور تم کیا چاہتے ہو؟ میں خود حیران ہو گیا کیونکہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ میں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم، مجھے نہیں معلوم، اس بات کو ابھی چھوڑ دو۔ ہم سونے چلے گئے اس سے پہلے ابراہیم نے کاغذات کو اچھی طرح ضائع کر دیا۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version