موت وما بعد الموت | بتتیسواں درس

قیامت کے دن متقین صالحین کے احوال

جہنم کی صفات

جہنم کا حجم

اللہ تعالیٰ نے کفار اور منافقین کے لیے، نیز مسلمانوں میں سے ان لوگوں کے لیے جہنم تیار کر رکھی ہے کہ جنہوں نے اپنے اعمال نامے گناہوں سے سیاہ کر ڈالے ہیں۔  ہمیں کسی ذریعے  سے بھی جہنم کے حقیقی حجم کا علم حاصل نہیں ہوتا،  البتہ بعض روایات سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت بڑی ہے، جس کی ایک نشانی یہ ہے کہ جب بھی اس میں انسانوں کے کسی گروہ کو ڈالا جائے گا، یہ بھرنے کی بجائے مزید طلب کرے گی اور کہے گی، ھل من مزید؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ؀ (سورۃ  ق: ۳۰)

’’ جس دن ہم پوچھیں گے جہنم سے کہ کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے ؟  ‘‘

پس وہ ہمیشہ ہی مزید مانگتی رہے گی یہاں تک  کہ اللہ رب العزت اسے حکم فرمائیں گے اور وہ مزید کی طلب بند کر دے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا حجم اس قدر بڑا ہے کہ کتنی ہی مخلوق کو اپنے اندر سمو کر بھی وہ مزید طلب کرے گی۔

اس کے حجم کی دوسری نشانی اس کی گہرائی ہے اور جس حدیث سے یہ ہمیں معلوم ہوتی ہے وہ حدیث فی ذاتہ ایک معجزہ ہے۔ بندہ اس حدیث کی کوئی سائنسی توجیح پیش کر ہی نہیں سکتا۔

صحیح مسلم  کی یہ حدیث بیان کرتی ہے کہ:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ وَجْبَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَدْرُونَ مَا هَذَا قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا حَجَرٌ رُمِيَ بِهِ فِي النَّارِ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا فَهُوَ يَهْوِي فِي النَّارِ الْآنَ حَتَّی انْتَهَی إِلَی قَعْرِهَا

’’ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ  ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے کسی بہت وزنی چیز کے گرنے کی آواز سنی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم جانتے ہو کہ  یہ کیسی آواز تھی ؟‘‘  ہم نے عرض کی:  اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) زیادہ جاننے والے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:  ’’یہ ایک پتھر تھا جس کو ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا گیا تھا، یہ اب اس میں گرا ہے ، یہاں تک کہ اس کی گہرائی تک پہنچ گیا ہے ‘‘۔

اب یہ بات کہ یہ آوا ز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تک کیسے پہنچی، یہ اپنی ذات میں ایک معجزہ ہے۔ نیز یہ کہ کیا یہ آواز زمین کی تمام مخلوق نے سنی یا اسے سننے والا صرف یہی ایک گروہ تھا، یہ بھی صرف اللہ ہی جانتے ہیں۔ البتہ اس حدیث سے ہمیں جہنم کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے کہ ایک پتھر کو جہنم کی تہہ تک پہنچنے میں ستّر برس لگے۔ پس یقیناً جہنم کی گہرائی بہت زیادہ ہے۔

جہنم کے حجم کی تیسری نشانی ان فرشتوں کی تعداد ہے جو اسے کھینچتے ہوئے لائیں گے۔ صحیح مسلم کی ایک حدیث ہے:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَی بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ مَعَ کُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ يَجُرُّونَهَا

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہنم کو لایا جائے گا اس دن، اس کی ستّر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر ایک لگام کو ستّر ہزار فرشتے پکڑے ہوئے کھینچ رہے ہوں گے۔ ‘‘

جہنم کے عظیم حجم کی چوتھی نشانی یہ ہے کہ سورج اور چاند کو بھی اس میں پھینک دیا جائے گا اور  چونکہ ہم سورج اور چاند کے حجم سے واقف ہیں لہٰذا ہمارے لیے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اس جہنم کا حجم کتنا ہو گا کہ جس میں سورج اور چاند بھی سما جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سورج اور چاند جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ کسی کو تعجب ہو سکتا ہے اس بات پر کہ بالخصوص سورج اور چاند ہی کو جہنم میں کیوں ڈالا جائے گا؟ کیا یہ ان کے لیے بطور سزا ہو گا؟ یا پھر اس کی کیا وجہ ہو گی؟ یہ حدیث بخاری اور مسلم میں مذکور ہے:

الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُکَوَّرَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

’’ چاند اور سورج قیامت کے دن لپیٹ (کر جہنم میں ڈال) دیے جائیں گے۔  ‘‘

وجہ اس کی یہ ہے کہ ہر وہ مخلوق کہ جسے پوجا جاتا تھا، جہنم کی آگ میں ڈال دی جائے گی اور سورج اور چاند بھی انہی مخلوقات میں سے ہیں کہ جنہیں ہر زمانے میں پوجا جاتا رہا ہے، پس انہیں بھی ، ان کی پوجا کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔

جہنم کے درجات

جنت کی طرح جہنم کے بھی درجات ہیں۔ جنت کا معاملہ یہ ہے کہ جس قدر اوپر چڑھتے جائیں گے اسی قدر بہتر سے بہترین درجات پائیں گے، جبکہ جہنم میں جس قدر نیچے کی طرف گرتے جائیں گے اسی قدر عذاب شدید تر ہوتا جائے گا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتے ہیں:

اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ  (سورۃ النساء: ۱۴۵)

’’ یقیناً منافقین آگ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔ ‘‘

منافقین جہنم کے سب سے نچلے یعنی سب سے شدید عذاب والے درجے میں ہوں گے۔ پھر دیگر درجات بھی ہیں جہنم میں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابو طالب آگ کے ایک ایسے گڑھے میں ہوں گے کہ آگ صرف ان کے ٹخنوں کو چھو رہی ہو گی، جبکہ بہت سے دیگر وہ ہوں گے کہ جنہیں آگے نے ہر طرف سے ڈھانپ رکھا ہو گا، مگر جہنم کے اس سب سے کم عذاب والے درجے میں ہونے کے باوجود، آگ جن کے ٹخنوں تک پہنچے گی ان کے دماغ اس کی حدت اور شدت سے ابلنے لگیں گے۔ اگر سب سے کم عذاب ایسا ہو گا تو پھر بدترین عذاب کی کیا شکل ہو گی! (ہم اللہ کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔)

جہنم کے دروازے

جہنم کے سات دروازے ہیں جبکہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم بارے فرمایا:

لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ  ۭ (سورۃ الحجر: ۴۴)

’’اس (جہنم) کے سات دروازے ہیں۔‘‘

وَسِيْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا  ۭ حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَــتُهَآ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَتْلُوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ رَبِّكُمْ وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاۗءَ يَوْمِكُمْ ھٰذَا  ۭ قَالُوْا بَلٰى وَلٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ؀ (سورۃ الزمر: ۷۱)

’’اور ہانک کر لے جائے جائیں گے کافر جہنم کی طرف، گروہ در گروہ، یہاں تک کہ جب وہ پہنچ جائیں گے جہنم پر تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے: کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں سناتے تھے تمہارے رب کی آیات اور تمہیں خبردار کرتے تھے تمہاری آج کے دن کی اس ملاقات سے؟ وہ کہیں گے: کیوں نہیں ! لیکن کافروں پر عذاب کا حکم ثابت ہو کر رہا ۔‘‘ 

جہنم کا ایندھن

جہنم کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ جہنم اپنے اندر سے ہی ایندھن حاصل کرے گی۔ وہ لوگ جو جہنم میں ہوں گے وہی جہنم کے لیے ایندھن بھی بنیں گے گویا وہ ایک دوسرے کو جلائیں گے اور ایک دوسرے کے عذاب میں شریک ہوں گے۔ نیز جہنم کے پتھر بھی جہنم کے لیے ایندھن ہوں گے۔ اللہ رب العزت فرماتے ہیں:

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ ۝ (سورۃ التحریم: ۶)

’’ اے ایمان والو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے، جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں،  اس پر تند خو، بڑے مضبوط فرشتے (مقرر) ہیں، وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں، جو وہ ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسے (فوراً) بجا لاتے ہیں۔ ‘‘

جہنم کی آگ کی حرارت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ مَآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ۝ فِيْ سَمُوْمٍ وَّحَمِيْمٍ۝ وَّظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ۝  لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيْمٍ؀  (سورۃ الواقعۃ: ۴۱ تا ۴۴)

’’ اور وہ جو بائیں والے ہیں، وہ بائیں والے کیسے برے (حال میں) ہیں ، لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے ، اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں،  جو نہ ٹھنڈا ہو گا نہ فرحت بخش ۔‘‘

پانی، ہوا اور سایہ وہ چیزیں ہیں کہ جن سے انسان گرمی میں راحت حاصل کرتا ہے۔ جہنمیوں کے پاس بھی یہ تینوں چیزیں موجود ہوں گی، مذکورہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان تینوں چیزوں کا ذکر فرمایا ہے۔

سموم ایسی ہوا کو کہتے ہیں جو انتہائی خشک اور  جھلسا دینے کی حد تک گرم ہوتی ہے، پس ہوا تو انہیں ملے گی مگر وہ انہیں راحت اور ٹھنڈک دینے کی بجائے  ان کی تکلیف اور عذاب میں اضافہ ہی کرے گی اور انہیں جھلسا کر رکھ دے گی۔ ریاح سموم ایسی ہوا کو کہتے ہیں جو عرب میں شمال کی جانب سے چلتی ہے، جب یہ ہوا صحرا کے اوپر سے گزرتی ہے تو اس کی ساری کی ساری نمی ختم ہو جاتی ہے لہٰذا یہ انتہائی خشک اور گرم ہو جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ اہل جہنم کے لیے ایسی ہی ہوا کا تذکرہ فرما رہے ہیں کہ جو انتہائی خشک، انتہائی گرم اور جھلسا دینے والی ہو گی۔

حمیم پانی ہے، مگر ابلتا ہوا اور یہی کھولتا ہوا پانی جہنمیوں کو ملے گا۔ اور جب وہ سایہ چاہیں گے تو انہیں سایہ ملے گا، وَّظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ، مگر یہ سایہ کالے سیاہ دھویں کے گہرے بادلوں کا ہو گا۔ جب وہ اس سائے میں داخل ہوں گے تو اس کی بدبو اور اس کی خشکی ان  کے سانس روک دے گی۔ نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ؀ لَا تُبْقِيْ وَلَا تَذَرُ؀ لَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِ؀ (سورۃ المدثر: ۲۷ تا ۲۹)

’’اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ سقر کیا ہے؟ وہ نہ تو باقی رہنے دے گی اور نہ چھوڑے گی، انسان کی کھال کو جھلسا ڈالنے والی۔‘‘

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، صحیح مسلم کی حدیث ہے:

نَارُکُمْ هَذِهِ الَّتِي يُوقِدُ ابْنُ آدَمَ جُزْئٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْئًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ قَالُوا وَاللَّهِ إِنْ کَانَتْ لَکَافِيَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعَةٍ وَسِتِّينَ جُزْئًا کُلُّهَا مِثْلُ حَرِّهَا

’’ تمہاری یہ آگ، جس کو ابن آدم روشن کرتا ہے، جہنم کی گرمی کے ستر حصوں میں سے ایک حصے (کی حرارت ) کے برابر ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا :  یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ! اللہ کی قسم، یہ آگ بھی تو کافی تھی! آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :  اسے انہتر حصے زیادہ رکھا گیا ہے، ہر حصہ اس (دنیا کی آگ) کی مانند گرم ہے ۔‘‘

اندازہ کریں کہ دنیا کے اندر وہ  غایت درجے کی حرارت جو ہم حاصل کر سکتے ہیں، اس کے مقابلے میں جہنم کی آگ انہتر گنا زیادہ گرم ہو گی، پس اس کی تپش کیسی ہو گی؟ اللھم انا نعوذبک من ذلک۔

جہنمیوں کے لیے سب سے بری خبر

اس کا تذکرہ قرآن کریم میں کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جہنمیوں سے کہا جائے گا:

فَذُوْقُوْا فَلَنْ نَّزِيْدَكُمْ اِلَّا عَذَابًا  ؀ (سورۃ النبا: ۳۰)

’’ اب مزہ چکھو ! اس لیے کہ ہم تمہارے لیے سزا کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کریں گے۔‘‘

جہنمی عذاب کی شدت کی شکایت کریں گے تو انہیں یہ جواب ملے گا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ  یہ عذاب شدید تر ہوتا جائے گا۔ ذرا تصور کریں کہ ان کی حالت بہتر ہونے کی بجائے ابتر سے ابتر ہوتی جائے گی اور یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا، بلکہ یہ ہمیشہ ہمیشہ  جاری ہی رہے گا۔ غور و فکر کرنے والے انسان کے ڈرنے کے لیے تو بس یہی ایک آیت کافی ہے جو اس کے ان اعمال کا  انجام آنکھوں سے دکھا رہی ہے  کہ جن کی بنا پر وہ جہنم کی آگ کا مستحق ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اسی کی پناہ چاہتے ہیں۔

جہنم کی سماعت اور بصارت

ہمیں قرآن یہ بتاتا ہے کہ جہنم سانس لیتی  ہے ، نیز حدیث سے بھی ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے۔

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا ؀ (سورۃ الفرقان: ۱۲)

’’ جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اس کے بپھرنے اور پھنکارنے کی آوازیں سنیں گے۔‘‘

پس وہ غصے سے پھنکار رہی ہو گی۔

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَخْرُجُ عُنُقٌ مِنْ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ وَلِسَانٌ يَنْطِقُ يَقُولُ إِنِّي وُکِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ بِکُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَبِکُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَبِالْمُصَوِّرِينَ (جامع ترمذی)

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی جس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گی، دو کان ہوں گے جن سے وہ سنے گی اور زبان ہو گی جس سے وہ بات کرے گی۔ وہ کہے گی مجھے تین آدمیوں کو نگلنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پہلا،  سرکش ظالم،  دوسرا،  مشرک اور تیسرا  تصویریں بنانے والا (مصور)۔ ‘‘

جہنم دائمی ہے

جہنم دائمی اور ابدی ہے، ایک لمحہ بھی ایسا نہ ہو گا جب یہ ختم ہو جائے، یہ ہمیشہ رہے گی۔ امام طحاویؒ  اپنی کتاب العقائد میں لکھتے ہیں:

’’جنت اور جہنم، دونوں  ایسی مخلوق ہیں   جو ہمیشہ ہمیشہ رہیں گی اور کبھی فنا نہ ہوں گی۔‘‘

اور ابن حزمؒ فرماتے ہیں کہ اس بات پر علمائے امت کا اجماع ہے۔

وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد وعلی صحبہ وسلم

٭٭٭٭٭

Exit mobile version