۶- خود کفیل اکائیوں(یونٹوں) کی اسٹریٹجی
بڑے، سخت جتھوں کے میدانوں میں چھوٹی لچک دار اکائیوں کی چال بازیاں اور تدبیریں
ایک ہی محاذ پر سرگرم فوج کی تقسیم یوں کی جائے: مناسب حجم کی خود کفیل اور خود مختار عسکری اکائیاں؍ یونٹس، انہیں استعمال کر کے دشمن کے گرد و نواح کے شعبوں اور محوروں میں یا اس کی پیش قدمی کے راستے پر آپ کی چال بازی (Maneuver) کی صلاحیت دو چند ہو جاتی ہے اور جس سے ایسی حیرت (Surprise) حاصل ہوتی ہے جو دشمن کو ناکام بنا دیتی ہے اور اس کے سپاہیوں اور نچلی قیادت (Junior Officers) کو نفسیاتی طور پر کھپا دیتی ہے۔
ان یونٹوں کی خطرناکی ان کی لچک اور ضرورت پڑنے پر ایک ہی قیادت کے تحت کسی بڑی کور (Corps) میں جمع ہونے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے، یہ اجتماع اور پھیلاؤ کی حیرت (Surprise) کو نہایت قلیل وقت میں حاصل کر لیتی ہیں۔
حیرت (المفاجأة؍Surprise) یہ ہے کہ وہ کرنا جس کی دشمن توقع نہ کرے۔ حیرت (Surprise) کا تعلق وقت، جگہ اور نفاذ کے منصوبے سے ہوتا ہے، اور اس کی کامیابی دشمن میں انتشار اور صدمہ (Shock) پیدا کرتی ہے جو زمین پر جاری کارروائیوں کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے۔ بعض دشمنوں پر اس حیرت (Surprise) کا صدمہ اس حد تک ہوتا ہے کہ وہ بغیر لڑے ہی ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔
حیرت (المفاجأة؍Surprise) کے حصول میں مددگار عوامل درج ذیل ہیں:
- دشمن کی صلاحیتوں اور امکانات سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔
- نیز سامنے والے کمانڈر کی نفسیات اور اس کی ردِعمل کی صلاحیت کو سمجھنا۔
- اسی طرح مرکزیت سے غیر مرکزیت کی طرف منتقل ہونے کے لیے آپ کی تیاری۔
- اور اس منتقلی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے میں آپ کے سپاہیوں کی ردِعمل کی صلاحیت اور رفتار۔
- اور تخلیقی (شیروں جیسے)قائدین کی موجودگی، جو عمل درآمد کے دوران نظر آنے والی کسی بھی خرابی یا خلا کا خود کار طور پر علاج شروع کر دیتے ہیں۔
٭٭٭٭
قائدانہ نظام عموماً سائنسی اور تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ تشکیل پاتا ہے، لیکن بعض میدانوں میں قائدانہ نظام کو اس انداز میں ڈیزائن کرنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ تکنیکی ترقی سے مکمل طور پر فائدہ اٹھا سکے، یہ وہ میدان ہے جہاں مسابقت (Competition) اب بھی اسلامی تحریکوں سے خاصی دور ہے۔
اس کمی کی تلافی ایک نہایت منظم ادارہ قائم کر کے کی جاتی ہے، جو اعلیٰ عسکری نظریہ (Military Doctrine) کا حامل ہو، اور ایسی قیادت کے زیرِ اثر ہو جو جرات، تخلیقی صلاحیت، اور اسٹریٹیجک و تکنیکی سطح پر متحرک رہنے کی اہلیت رکھتی ہو، ایسی قیادت جو صرف عمومی خطوط سے وابستہ رہے اور نوجوان میدانی کمانڈروں (Junior Officers) کے لیے تخلیق (Innovation) کے دروازے کھلے رکھے۔
دشمن کی صلاحیتوں، امکانات، حجم اور اس کے تکنیکی درجے کے بارے میں ہماری آگاہی اور علم ہمیں ایسا تنظیمی ڈھانچہ وضع کرنے پر آمادہ کرتا ہے جو ہمارے اہداف کے حصول کے لیے موزوں ہو، ہمیں دشمن پر حرکی برتری دلائے، اس تک پہنچنے اور اس پر ضرب لگانے کی اجازت دے، اور کنارہ کشی اس طرح ممکن بنائے کہ ہمارے وجود کو خطرہ لاحق نہ ہو، اور دشمن کو الجھا کر اسے امکانات کی بھول بھلیوں میں شک و تردد کی حالت میں ڈال دے۔
٭٭٭٭
کامیاب افواج یا (کامیاب جہادی جماعتیں)وہ ہوتی ہیں جو میدانی کمانڈروں کے سامنے حرکت کی وسیع گنجائش کھول دیں۔ آج کا تصادم بڑے، سخت جتھوں کے میدانوں میں چھوٹی لچک دار اکائیوں کی چال بازیوں اور تدبیروں پر مشتمل ہے۔ اس چال؍تدبیر (Maneuver) کے لیے اچانک نمودار ہونے اور تیزی سے غائب ہو جانے کی مہارتیں درکار ہوتی ہیں، اور حرکت کی ایسی صلاحیت کسی مرکزی جسم کے ذریعے پیدا نہیں کی جا سکتی۔ حرکت کی اس صلاحیت کے لیے پھیلاؤ کی نہایت اعلیٰ اور دقیق صلاحیت درکار ہوتی ہے تاکہ چھپ کر حرکت کی جا سکے، نیز جمع ہونے، محاصرے اور ضرب لگانے میں مہارت، پھر انخلاء اور دوبارہ غائب ہو جانا۔ اور یہ تمام مہارتیں ایک غیر مرکزی تنظیم کا تقاضا کرتی ہیں جو ماہر شیروں پر انحصار کرتی ہے، جو اس فن میں کمال رکھتے ہیں، اس میں مہارت دکھاتے ہیں اور جدت پیدا کرتے ہیں۔1اس طرح کی غیر مرکزی تنظیم کی ایک اعلیٰ مثال، امارتِ اسلامیہ افغانستان کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ۲۰۰۱ء تا ۲۰۲۱ء بیس سالہ جہاد ہے۔ شیخ سیف العدل کی اصطلاح کے مطابق نیچے مجموعات (گروپس؍ یونٹس؍ جنہیں مقامی پشتو میں دلگئ کہتے) کی قیادت ایسے شیروں کے پاس تھی جو خودکار، فطرتی قائدین تھے اور انہوں نے نت نئے طریقوں سے دشمن کو کئی سال تک پچھاڑا ۔ ۲۰۱۵ء میں قطعات یا بریگیڈیز کا نظام امیر المومنین ملا محمد اختر منصور شہید کی قیادت میں شروع ہوا، پھر ۲۰۱۵ء تا ۲۰۲۱ء مختلف مواقع پر ان یونٹس کو مرکزی نظم و فوج کا حصہ بنایا اور تحلیل کیا جاتا رہا ہے، اور جولائی ۲۰۲۱ء تا ۱۵ اگست ۲۰۲۱ء تک کی آخری و فیصلہ کن جنگ میں ان سب یونٹس کو ضم کر کے مرکزی کمان کے تحت ملک بھر میں مشترکہ جنگ لڑی گئی ۔ بے شک کامل فتح سے قبل اعلیٰ تدبیر کی توفیق مل جانا ایک نصرتِ الٰہی ہے اور فتح تو واضح نصرت ہے ہی! (ادارہ)
(یمن کے ساحلی شہر) المُکلَّا سے القاعدہ کی جھکاؤ والی چال (یعنی فوری انخلاء) اس بات کے اظہار کی ایک مثال تھی جو میں یہاں کہنا چاہتا ہوں، کیونکہ پوری تنظیم اپنے تمام وزن اور قوت کے ساتھ ٹھوس حالت (یعنی شہر پر کنٹرول) سے نہایت تیز رفتاری اور انتہائی دقیق مہارت کے ساتھ ہوا کی طرح منتشر حالت (یعنی انخلاء) میں منتقل ہو گئی، حتیٰ کہ یوں محسوس ہوا گویا وہ ہوا میں غائب ہو گئے ہوں۔ اور جب ٹکراؤ کا خطرہ ٹل گیا تو وہ مائع حالت میں ڈھل گئے (اور واپس آ گئے)، جو برسنے پر زمین کی چٹانوں اور مٹی کو تراشتی ہوئی اپنے لیے ایسا وادی نما راستہ بناتی ہے جو اس کے مزاج کے مطابق ہو اور محاصرے کی اجازت نہ دے، تاکہ ضرورت پڑنے پر وہ بغیر کسی شور کے، نرمی اور ہلکے پن کے ساتھ اس میں بہہ سکے۔ یہ ایک پارے (Mercury) جیسی کیفیت ہے، جو توازن اور دانائی کے ساتھ متعدد محاذوں سے دوبارہ پیش قدمی کرتی ہے، حملے کے وقت کامل ہم آہنگی کے ساتھ یکجا ہو جاتی ہے، اور اس کے اختتام پر مہارت، تخلیق اور حسن کے ساتھ پھر سے پھیل جاتی ہے۔
یہاں اللہ کی عطا کردہ توفیق عظیم تھی، اور قیادت نہایت ماہر اور اس تصادم کے معیار کے مطابق تھی۔
٭٭٭٭
اسٹریٹجی کا جوہر ، مقاصد کے حصول کے لیے بہترین اسالیب، طریقوں اور اوزاروں کی تلاش میں پوشیدہ ہے، جبکہ اسٹریٹیجک فکر کی گہرائی آپ کو ایسی حالت میں لے آتی ہے جہاں آپ کے پاس دشمن سے زیادہ اختیارات (Options) ہوتے ہیں، اس کے برعکس کہ آپ کسی ایسی منصوبہ بندی کے محض مقلد بن جائیں جو مشابہ ماحول میں کسی ماہر کمانڈر کے ذریعے پہلے ہی نافذ کی جا چکی ہو اور وہ آپ کے لیے واحد انتخاب بن جائے۔ پس اللہ پر حسنِ توکل آپ کو توفیق عطا کرتا ہے، درست اور گہری سوچ کے دروازے کھولتا ہے، اور حالات کے مطابق دیگر آپشنز اختیار کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ ۭ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ (سورۃ البقرۃ: ۲۸۲)
’’اور اللہ کا خوف دل میں رکھو، اللہ تمہیں تعلیم دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘
منصوبوں کی تکرار ایک پروگرام شدہ طرزِ عمل سمجھا جاتا ہے، ایسے راستے جن پر ماضی کی لڑائیاں لڑی جا چکی ہوں، انہیں ناکام بنانے یا سبوتاژ کرنے کے طریقے پہلے سے معلوم اور دشمن کی ذہنیت میں بھی پروگرام شدہ ہوتے ہیں۔ درست طرزِ عمل اس بات پر منحصر ہے کہ کمانڈر کس حد تک تقلید سے آگے بڑھ کر اجتہاد کر سکتا ہے۔
تصادم کے حقیقی میدان کی مکمل تصویر دیکھنے کی صلاحیت er(براہِ راست دشمن کی شناخت، زمین، آب و ہوا، ہماری صلاحیتیں، دونوں فریقوں کے اتحادی، دونوں کے پاس دستیاب وسائل، مقامی، علاقائی اور عالمی تینوں دائروں میں قوت کا توازن وغیرہ) درست اسٹریٹجی کی تشکیل میں مدد دیتی ہے۔ کمانڈر کی ذہانت صرف سامنے والے قائد کی نفسیات کو جاننے اور اس کی اسٹریٹجی کی درست پیش گوئی کرنے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ ایسی اسٹریٹجی اور حکمتِ عملی ایجاد کرنے تک پھیلی ہوتی ہے جو اس کے سپاہیوں کو ایسے اختیارات دے جو دشمن کی چالوں پر سبقت لے جائیں۔
کمانڈر کی مہارت دشمن کی اچانک اسٹریٹیجک یا میدانی کارروائیوں کے مقابلے میں درست اور تیز ردِعمل سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ یہ برتری اسے فوجی ڈھانچے کے اپنے مقاصد کے مطابق تجزیے اور تشکیلِ نو سے حاصل ہوتی ہے۔ لشکر کو خود مختار اور خود کفیل دستوں یا بریگیڈز میں تقسیم کرنا سپہ سالار اعلیٰ (Commander-in-Chief) کو لچک فراہم کرتا ہے، اس کے لیے وسیع تر گنجائشِ تدبیر (Maneuver) کھولتا ہے، اور حکام اعلیٰ (Executive Leadership) کے ہاتھ کھول دیتا ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔
یہ اس پختگی کے مرحلے سے مشابہ ہے جس میں شیر کا ایک بچہ، نوجوان شیر بنتا ہے اور وقت کے ساتھ ایک بالغ اور دانا ببر شیر بن جاتا ہے۔
٭٭٭٭
فتح ہو یا شکست، دونوں ہی پر فریب ہیں، کیونکہ فتح کے شور و غل میں اس کے ساتھ چلنے والی بہت سی غلطیاں گم ہو جاتی ہیں اور شکست اپنی پسپائی میں درست اقدامات کو بھی اوجھل کر دیتی ہے۔ وہ تنظیمیں اور جماعتیں جو اپنے سفر یا اپنی جنگوں کے حوالے سے خود احتسابی سے چشم پوشی کرتی ہیں، ان میں ٹوٹ پھوٹ اور زوال کے عوامل پھیل جاتے ہیں، اور بلاشبہ سب سے شدید پسپائی انہی جماعتوں کی ہوتی ہے جو اپنی خامیوں کو جانتی تھیں مگر انہیں درست کرنے کی کوشش نہ کی۔
جب ہم عسکری نظام کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں دو بنیادی امور درکار ہوتے ہیں: پہلا، ایک درست اور موزوں تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل، اور دوسرا، اس ڈھانچے کو اہل اور باصلاحیت افراد سے بھرنا۔ لازم ہے کہ ہیئتِ ارکانِ جنگ (General Staff) ایسے عسکری گروہ کے ذریعے چلائی جائے جنہیں خصوصی تربیت دی گئی ہو، جنہوں نے عسکری تاریخ کا مطالعہ کیا ہو اور جو اسٹریٹجی، حربی تدابیر اور قیادت کے فنون میں مہارت رکھتے ہوں۔
نرمی (Softness) اور لچک (Elasticity)کے حصول کے لیے اس ادارے کی ساخت جامد نہیں ہونی چاہیے، اور لشکر کے اعلیٰ ترین کمانڈر (Commander-in-Chief) پر لازم ہے کہ وہ اس کے حجم اور تشکیل میں ایسی تبدیلیاں کرے جو مطلوبہ اہداف کے حصول کے مطابق ہوں اور موجودہ معرکے کی نوعیت سے بھی ہم آہنگ ہوں۔ ہر مہم کے بعد مبصرین (Observers) کے ذریعے کارکردگی کا سختی سے جائزہ لینا ضروری ہے، تاکہ جنگی قیادت (General Staff) اپنی غلطیوں اور دوسروں کی غلطیوں سے سیکھ سکے۔ اس طرح یہ ادارہ اور اس کا خصوصی تربیت یافتہ عملہ (کوادر؍ Cadre) مسلسل اصلاح کے عمل میں اور ہمہ وقت ترقی کی حالت میں رہتا ہے۔
٭٭٭٭
قیادت کی ذہنیت کی تعمیر اور اس کی پرداخت، تاکہ وہ یہ جان سکے کہ کیسے سوچنا ہے، تنازع کے نظم و نسق کا سب سے اہم کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح انہیں ایسے تربیتی سلسلوں میں شامل کرنا جو آزادانہ طور پر درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو فروغ دیں۔ حکم کے متن، اس کی روح، یا حکم سے مطلوبہ مقصد کو سمجھنے کی پابندی ایک ذہنی صلاحیت ہے، جو اسلام کے احکامات کی بنیاد پر، نتائج کے حصول اور انہیں درست طریقے سے حاصل کرنے کے درمیان توازن قائم کر سکتی ہے۔2ہم مسلمان ہیں اور ہم پر لازم ہے کہ ہم جس عظیم مقصد کی تلاش میں ہیں اس کے حصول کے لیے راستے کی صحت کو یقینی بنائیں، لہٰذا نتائج کے حصول کو اس طریقے یا وسائل پر ترجیح نہیں دی جا سکتی جن کے ذریعے ہم پہنچتے ہیں، کیونکہ شرعی صحت ایک ایسی شرط ہے جس میں کوئی چال بازی یا سودےبازی ممکن نہیں۔
ہمیشہ احکامات کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ایک وہ جس کی لفظ بلفظ اطاعت لازم ہوتی ہے اور دوسری وہ جس کی روح کے مطابق عمل ضروری ہوتا ہے۔ جو شخص ان دونوں کے فرق کو سمجھنے میں ہوشیار اور باخبر ہو، وہی وہ کمانڈر ہے جس سے ہمیں امید ہوتی ہے کہ وہ لڑائیوں کا انتظام کرے گا۔ ایسا کمانڈر جو بغیر کسی تردد یا سوال کے، حالاتِ حاضرہ کے تقاضوں کے مطابق، مناسب طریقے سے اور احکامات کے انتظار کے بغیر عمل کرے۔ غزوۂ اُحد دونوں طرح کے احکامات کی ایک مثال ہے: مسلمانوں کے لشکر میں تیراندازوں کو پہاڑ پر جمے رہنے اور اسے نہ چھوڑنے کا حکم واضح او اجتہاد سے بالاتر تھا، جبکہ کفار کے لشکر میں خالد بن ولید کو گھڑ سواروں کی قیادت سونپی گئی۔ خالد نے اعصاب کو قابو میں رکھا، کمزوریوں کی تاک میں رہے اور معرکے کے دوران مناسب وقت پر مداخلت کی۔
احکامات کا فہم کبھی کبھی اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ فوجی کمانڈر میدان کی تحریکات کے مطابق عمل کرے، جب حکم معرکے کی بدلتی صورتِ حال سے ہم آہنگ نہ رہے۔ نابغہ و ذہین کمانڈر حکم کی روح کو سمجھتا ہے اور جنگ کے ایک نازک لمحے میں فتح کے ادراک اور شکست کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے درمیان لچک دار طریقے سے کام کرتا ہے۔
٭٭٭٭
خلاصہ
- ایک نرم (Soft) عسکری ڈھانچہ جو تقسیم اور مناسب تشکیل کے قابل ہو۔
- غلطیوں کی تصحیح اور بہتر اصلاح کے لیے خود احتسابی کا عمل۔
- اس فلسفے کو چھوٹے کمانڈروں تک پہنچانا تاکہ نچلے درجوں میں اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
- حکم کی دو حالتوں (لازمی اور لچک دار) میں تمیز کرنے اور ان پر عمل کرنے کی صلاحیت۔
- اور آخر میں، تنازع کی مجموعی تصویر کے فریم ورک میں مختلف تشکیلات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت تاکہ مطلوبہ مقصد حاصل ہو سکے۔3دیکھیں: چنگیز خان کے عظیم شکار کے بارے میں مشق۔
اور ایک نقطہ باقی ہے، نظم و ضبط اور ٹیم کی روح۔
وَمَا النَّصْرُ اِلَّامِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ (سورۃ الانفال: ۱۰)
’’ ورنہ مدد کسی اور کے پاس سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے۔ یقیناً اللہ اقتدار کا بھی مالک ہے، حکمت کا بھی مالک۔ ‘‘
اور فتح کے حصول کے عوامل میں سے یہ بھی ہے کہ اسباب اختیار کیے جائیں، جن میں شامل ہیں: اعلیٰ معیار، تربیت اور نظم و ضبط۔
جب نظم و ضبط قائم کرنے کی بات ہو تو کمانڈروں کو چاہیے کہ وہ اپنے سپاہیوں میں سے باقاعدہ فوج اور رضاکار فوجیوں (مجاہدین) کے درمیان تعلقات و احکامات میں فرق کریں۔ یہاں ہمارا موضوع ’قبائل سے آنے والے اور مختلف ماحول سے تعلق رکھنے والے مجاہدین کے لشکر‘ ہے۔ یہاں کمانڈروں کو مختلف نوعیت کے لوگوں کا سامنا کرنا پڑے گا، اور ہر نوعیت کے لیے ایک مخصوص انداز اپنانا ضروری ہے تاکہ وہ احکامات کو قبول کریں اور ٹیم اسپرٹ کے ساتھ کام کریں۔ مکمل فوجی نظم و ضبط کا طریقہ کار ان (مجاہدین)کے ساتھ عملی طور پر کام نہیں کرے گا، اور اس کے نتیجے میں نظم و ضبط جو پہلے ہم آہنگی کا سبب بننا چاہیے تھا، وہ جھگڑے، کشیدگی اور بے ترتیبی کا باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے کمانڈروں کی مہارت یہ ہے کہ وہ اپنے (مجاہدین)فوجیوں کے ساتھ تعلق مضبوط کریں، انہیں واضح طور پر سمجھیں، اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا عملی طور پر اظہار کریں:
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ (سورۃ الحجرات: ۱۰)
’’حقیقت تو یہ ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے دو بھائیوں کے درمیان تعلقات اچھے بناؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جائے۔‘‘
پس کمانڈر ان کے درمیان حسنِ ظن کو عام کرے، نصیحت کے ذریعے ان کی خبر گیری کرے، انہیں مکارمِ اخلاق کی ترغیب دے، تجسس، بد گمانی ، شکاور غیبت سے روکے، ان کے درمیان صلح کرائے، تمسخر (طنز) اور طعن و تشنیع کے درمیان حائل ہو اور ان کے مابین بہتر تعارف پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ اس پر لازم ہے کہ وہ میدان میں بھی نماز کی طرح ان کے قریب اور ان کے ساتھ موجود رہے، اجتماعی عبادات میں بھی ان کے ساتھ شریک ہو جیسے وہ انہیں فوجی مشقوں میں شریک کرتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق وقتاً فوقتاً ان کے ساتھ دسترخوان پر جمع ہو۔ اسے چاہیے کہ ان کے ساتھ یا ان کے لیے مباح تفریح اور جائز مقابلوں کی بعض اقسام میں حصہ لے یا انہیں منظم کرے۔ بسا اوقات زیادہ مفید یہ ہو سکتا ہے کہ پناہ گاہوں اور جنگی دستوں میں اختلاط پیدا کرے، مختلف نسلوں یا معاشروں کو ایک ہی جگہ جمع کرے یا انہیں ان کے معاشروں کے اعتبار سے تقسیم کرے، تاہم مسجد اور میدانِ قتال سب کے اجتماع کی اصل بنیاد رہیں۔ اس پر لازم ہے کہ وہ کچھ ظاہری نظم و ضبط (مثلاً لباس، اندازِ گفتگو اور اسی نوعیت کی چیزوں) میں نرمی برتے، اور اس کے بدلے ٹیم اسپرٹ اور اخلاقیات کو محفوظ رکھے۔ اسے نرمی کے ساتھ اُن ساتھیوں کے رویّوں کو سنوارنے کی کوشش کرنی چاہیے جو مختلف معاشروں سے آئے ہوں اور جو کبھی کبھار اجنبی محسوس ہوں اور انہیں بہتر سمت میں آگے بڑھائے۔
کمانڈروں کو اسلامی اخوت اور احساسِ ذمہ داری کی روح کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے جو شرعاً ان پر لازم کرتی ہے کہ وہ اپنے ماتحتوں کی خبرگیری کریں، ان کو نصیحت کریں اور ان کی زندگی اور معاشرتی حالات کے انسانی پہلو کا خیال رکھیں اور اس کے ساتھ جڑے رسم و رواج کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح انہیں روح کی غذا اور پرورش پر توجہ دینی چاہیے، وعظ کرنے والوں کو پھیلانا چاہیے تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کی یاد دلائیں اور انہیں اللہ سے جوڑیں، ان کو اللہ کی آیات سنائیں، ان کا تزکیہ کریں اور انہیں کتاب و سنت کی تعلیم دیں۔
اور یہ سب سورۃ الحجرات کی روح ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
- 1اس طرح کی غیر مرکزی تنظیم کی ایک اعلیٰ مثال، امارتِ اسلامیہ افغانستان کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ۲۰۰۱ء تا ۲۰۲۱ء بیس سالہ جہاد ہے۔ شیخ سیف العدل کی اصطلاح کے مطابق نیچے مجموعات (گروپس؍ یونٹس؍ جنہیں مقامی پشتو میں دلگئ کہتے) کی قیادت ایسے شیروں کے پاس تھی جو خودکار، فطرتی قائدین تھے اور انہوں نے نت نئے طریقوں سے دشمن کو کئی سال تک پچھاڑا ۔ ۲۰۱۵ء میں قطعات یا بریگیڈیز کا نظام امیر المومنین ملا محمد اختر منصور شہید کی قیادت میں شروع ہوا، پھر ۲۰۱۵ء تا ۲۰۲۱ء مختلف مواقع پر ان یونٹس کو مرکزی نظم و فوج کا حصہ بنایا اور تحلیل کیا جاتا رہا ہے، اور جولائی ۲۰۲۱ء تا ۱۵ اگست ۲۰۲۱ء تک کی آخری و فیصلہ کن جنگ میں ان سب یونٹس کو ضم کر کے مرکزی کمان کے تحت ملک بھر میں مشترکہ جنگ لڑی گئی ۔ بے شک کامل فتح سے قبل اعلیٰ تدبیر کی توفیق مل جانا ایک نصرتِ الٰہی ہے اور فتح تو واضح نصرت ہے ہی! (ادارہ)
- 2ہم مسلمان ہیں اور ہم پر لازم ہے کہ ہم جس عظیم مقصد کی تلاش میں ہیں اس کے حصول کے لیے راستے کی صحت کو یقینی بنائیں، لہٰذا نتائج کے حصول کو اس طریقے یا وسائل پر ترجیح نہیں دی جا سکتی جن کے ذریعے ہم پہنچتے ہیں، کیونکہ شرعی صحت ایک ایسی شرط ہے جس میں کوئی چال بازی یا سودےبازی ممکن نہیں۔
- 3دیکھیں: چنگیز خان کے عظیم شکار کے بارے میں مشق۔
