مدرسہ و مبارزہ | تیرہویں قسط

مدارس اور دینی جدوجہد کی تحریک

زیرِ نظر تحریر افغانستان سے تعلق رکھنے والے عالم، داعی اور فکری جنگ پر دقیق نظر رکھنے والے مفکر فضیلۃ الشیخ مولوی عبد الہادی مجاہد (دامت برکاتہم)کی پشتو تصنیف ’مدرسہ او مبارزہ‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب بنیادی طور پر افغانستان میں مدارس اور دینی تعلیم کے نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے ، لیکن کتاب میں بیان کی گئی امت مسلمہ کی حالت اور اس حوالے سے جو مطالبہ ایک افغان عالم ِاور مدرسے سے کیا گیا ہے وہ درحقیقت باقی عالمِ اسلام کے علماء اور مدارس سے زیادہ مطلوب ہے۔ اس لیے کہ افغانستان میں تو آج ایک شرعی و اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے جبکہ باقی عالَمِ اسلام اس سے کہیں پیچھے ہے۔ اس کتاب کے اصل مخاطبین علماء و طلبہ ہیں جن کی تاریخ بالاکوٹ، شاملی، صادق پور اور دیوبند کے پہاڑوں، دروں، میدانوں اور مساجد و مدارس کے در و دیوار پر نوشتہ ہے! ومن اللہ التوفیق! (ادارہ)


باب ہشتم: مدارس کے نصاب میں طلباء کے اندر انقلابی فکر و سیاسی شعور پیدا کرنے والے مضامین کا فقدان

انقلابی علماء کی تربیت کے لیے دو بنیادی امور

علماء کو انقلابی بنانے کے لیے دو بڑے اور اہم کاموں کی ضرورت ہے۔ ایک یہ کہ ایک نیا تعلیمی نصاب تشکیل دیا جائے، اور دوسرا یہ کہ ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں علماء کا علم منظم طور پر عمل میں ڈھل سکے۔ ان دونوں امور کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے:

۱۔ نیا نصاب

علماء کی نئی نسل کی تربیت کے لیے ایسا تعلیمی نصاب تیار کیا جائے جس میں درج ذیل خصوصیات ہوں:

  1. اس نصاب میں اسلامی علوم اور بنیادی دینی مفاہیم کو دیگر تمام مضامین پر فوقیت حاصل ہو۔
  2. نصاب میں موجودہ دور میں مسلمانوں کی صورتحال اور ان کے فکری، دینی، سیاسی، سماجی، عسکری اور عائلی مسائل کو خاص طور پر پیشِ نظر رکھا جائے، اور ان سے نکلنے کا راستہ بھی دکھایا جائے۔
  3. نصاب میں تدریج (مرحلہ وار تعلیم)، طلبہ کی عمر اور نفسیاتی ضروریات، دینی اعتدال (افراط و تفریط سے بچاؤ)، عبارت کی سادگی اور اسلوب کی معیاری کیفیت کا خیال رکھا جائے۔
  4. نصاب کسی ایسے علمی ادارے کی نگرانی میں تیار کیا جائے جو اسلام اور مسلمانوں کے ماضی سے مکمل آگاہ ہو، موجودہ حالات کا جامع ادراک رکھتا ہو، اور مستقبل کے بارے میں درست تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ ہر مدرسے کا ذمہ دار اپنے ذوق، مشرب اور محدود مصلحتوں کو سامنے رکھ کر چند کتابیں شامل کر کے اسے نصاب کا نام دے اور طلبہ کو ان میں مشغول رکھے اور یہ تک نہ سوچا جائے کہ اس نصاب کو پڑھ کر ان کی عملی زندگی اور معاشرے پر کیا اثرات ہوں گے۔

۲۔ انقلابی ماحول کی تشکیل:

جدید علماء کو عملی طور پر انقلابی فکر اور قیادت کی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ایک ایسے انقلابی اور سماجی عملی ماحول میں شامل کیا جائے جہاں وہ حالات اور واقعات کے ساتھ مثبت تعامل کا تجربہ حاصل کریں۔ کیونکہ اگر علماء انفرادی ماحول میں رہیں اور سیاسی و انقلابی عمل سے دور رہیں تو وہ ان مقاصد تک آسانی سے نہیں پہنچ سکتے جو ان کے لیے مطلوب ہیں۔

یہ امت اجتماعی مزاج رکھنے والی امت ہے، اور اس کا قافلہ ہمیشہ ایسے رہنما کے پیچھے چلتا ہے جو راستے کے خطرات اور منزل کے مراحل سے واقف ہو اور اپنی جماعت کو صحیح سمت میں کامیابی کے ساتھ منزل تک پہنچا سکے۔

جب انسان ایک متحرک، شخصیت ساز اور فعال ماحول میں ہوتا ہے تو وہ ماحول اس کی فکر، منہج، اخلاق اور عمل پر مثبت اثرات ڈالتا ہے۔ اس سے اس میں عملی توانائی پیدا ہوتی ہے، اور فعالیت کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، اور وہ محض فلسفیانہ مباحث تک محدود نہیں رہتا بلکہ اپنے افکار، نظریات اور منصوبوں کو عملی میدان میں نافذ بھی کر سکتا ہے۔

اس کے برعکس جب انسان ایک منظم انقلابی ماحول کے بجائے غافل، تنہائی پسند اور غیر ذمہ دارانہ ماحول میں زندگی گزارے تو ایسا ماحول اس کی فکر، عقیدے، عمل اور شخصیت پر منفی اثر ڈالتا ہے اور اسے منفی سوچ رکھنے والا بنا دیتا ہے۔

جب انقلابی تربیت کے لیے یہ دونوں امور انجام دیے جائیں تو مدرسہ و مسجد کا طالب علم، خانقاہ کا مرشد اور مرید ایک ایسے قائدانہ دائرے کا حصہ بنیں گے جس میں وہ علم، روحانیت اور معنویت کے میدان میں بھی رہنمائی کریں گے اور عوام و نظام کی سیاسی قیادت میں بھی مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے ہوں گے۔

قائدین اور انقلابی شخصیات کی تربیت کے لیے علوم کی اقسام

قائدین اور انقلابی شخصیات کی تربیت کے لیے مدرسے کے نصاب میں دو قسم کے علوم شامل ہونے چاہییں:

۱۔ خالص شرعی علوم

شرعی علوم وہ علوم ہیں جو طالبِ علم کو دین کے اعتقادی اور عملی احکام سے آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ ان میں قرآنِ کریم، علومِ قرآن، علمِ تفسیر، احادیث، احادیث کی شروح، اصولِ حدیث، علمِ فقہ، اصولِ فقہ، علمِ میراث، علمِ عقائد، تزکیہ و احسان کا علم، علمِ اخلاق اور اس جیسے دیگر شرعی علوم شامل ہیں، جو طالبِ علم کو شریعت کے احکام اور اس کے مقاصد سے روشناس کراتے ہیں۔

۲۔ دیگر ضروری علوم

دوسری قسم ان علوم پر مشتمل ہے جن کے حصول سے طالب علم میں احساسِ ذمہ داری، تدبیر، سیاسی شعور، مناسب اقدام کی صلاحیت اور زمانے کے موجودہ حالات و واقعات کا ادراک پیدا ہوتا ہے، نیز اسے معاصر فتنوں اور مشرق و مغرب سے آنے والے فکری و تہذیبی نظاموں کا مقابلہ کرنے کی استعداد حاصل ہوتی ہے۔

یہ علوم بذاتِ خود حلال و حرام کے دائرے میں آنے والے علوم نہیں ہیں، لیکن یہ ایسے علوم ہیں جو شرعی علوم کے عملی نفاذ کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں، اور طالب علم کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ دینی احکام، عقائد اور اخلاق کو محض کتاب تک محدود نہ رکھے بلکہ انہیں زندگی کے مختلف شعبوں میں نافذ کر سکے۔

اگر مدرسے کا طالب علم اس نوعیت کے علوم حاصل نہ کرے تو اس کا حاصل کردہ دینی علم عملی طور پر غیر مؤثر رہتا ہے اور اس کے نفاذ کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے، کیونکہ زندگی کے تقریباً تمام شعبوں میں دوسرے نظاموں کے احکام، افکار اور اخلاق نافذ العمل ہوتے ہیں۔ قضا اور عدلیہ کے شعبے وضعی(خودساختہ) قوانین کے تحت چلتے ہیں، سیاست اور حکمرانی کے میدان میں مغربی نظریات غالب ہیں، اور معاشرتی زندگی میں بھی مغرب یا مشرق سے درآمد شدہ نظریات اور قوانین جاری ہیں، جبکہ ہمارے دینی احکام، عقائد اور اخلاق محض کتابوں تک محدود رہ جاتے ہیں، اور عملی میدان کم از کم کمیونزم، لبرلزم، نیشنلزم، ریشنلزم، ہیومنزم اور دیگر نظریاتی نظاموں کے زیرِ اثر رہ جاتا ہے۔

یہ ضروری علوم کون سے ہیں؟ اس کی تفصیل آنے والے صفحات میں ایک ایک کر کے بیان کی جائے گی۔

بنیادی و ضروری مضمون: معاصر باطل کی پہچان

کفر کی اقسام اور اس کے نظریات کی شناخت اسی طرح ضروری ہے جس طرح ایمان کی معرفت ضروری ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے سامنے شیطان کی دشمنی کا اعلان فرمایا ہے اور اس دشمنی پر بار بار تاکید کی ہے۔ شیطان کافر ہے اور شیطان کے مکر و فریب، اس کی سازشیں، اس کے طریقے، انسان کو وسوسوں اور شبہات میں مبتلا کرنا، شیطانی افکار و نظریات، اور اسی طرح شیطان کے پیروکاروں کے عقائد و نظریات، ان کے گروہ، احزاب، سیاستیں، مختلف نظام اور فلسفے، یہ سب کفر کی مختلف اقسام اور صورتیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس مقصد کے تحت تفصیل سے بیان فرمایا ہے تاکہ اہلِ ایمان ان سے آگاہ رہیں، ان کے جال میں پھنسنے سے خود کو محفوظ رکھیں، اور ان کے خاتمے کے لیے تدابیر اور مؤثر وسائل اختیار کریں۔

لہٰذا جس طرح ایمان کی پہچان ضروری ہے تاکہ مسلمان اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرے، اسی طرح کفر کی معرفت بھی نہایت ضروری ہے تاکہ انسان اس میں مبتلا ہونے سے بچے اور اس کے ساتھ دشمنی اختیار کرے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے:

ينقض عرى الاسلام عروة عروة اذا ولد في الاسلام من لم يعرف الجاهلية

’’اسلام کی ایک ایک کڑی اس وقت ٹوٹ جائے گی جب اسلام میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو جاہلیت کو نہیں پہچانتے ہوں گے۔‘‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ جاہلیت اور کفر کی عدمِ معرفت کو اسلام کی کڑیوں کے ٹوٹنے کا سبب قرار دیتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ممکن ہے جاہلیت کو نہ پہچاننے کی وجہ سے انسان خود اسی میں مبتلا ہو جائے اور پھر اسلام سے دشمنی اختیار کر لے۔ جیسا کہ اس دور میں عالمِ اسلام میں معاصر جاہلیت کے افکار کے پیروکار، اسلام کا دعویٰ رکھنے کے باوجود، اسلام اور جہاد کے خلاف ایک بے رحم جنگ میں مصروف ہیں اور کفار کا ساتھ دے رہے ہیں۔

تاریخ کے مختلف ادوار میں اسلام کے خلاف کفر کی دشمنی نے اپنے انداز اور کیفیت کو بدلتے ہوئے مختلف صورتیں اختیار کیں، اور اس دشمنی میں ہر قسم کے مادی اور معنوی وسائل استعمال کیے گئے۔ چونکہ دینِ الٰہی کے خلاف کفر کی دشمنی مختلف شکلوں میں مسلسل جاری رہی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی ہر زمانے میں اسی دور کے حالات و ظروف کے مطابق کفر اور گمراہیوں کے مقابلے کے لیے انبیاء علیہم السلام اور شریعتیں نازل فرمائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح کفر کی اقسام، نظریات اور فلسفے بدلتے رہتے ہیں، اسی طرح ان کے خاتمے کے لیے نئے دعوتی اسلوب، نئے طرزِ تعامل اور انسانیت کی نئی نسل کی رہنمائی کے لیے نئے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی، یہاں تک کہ یہ سلسلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہو گیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد کفر کی تمام اقسام اور صورتوں کے خلاف جدوجہد اور انسانوں کو ان کے شر سے بچانے کی ذمہ داری اس امت کے علماء کے سپرد ہو گئی۔ تاریخِ اسلام میں جب تک علماء نے دین کی تعلیم کے ساتھ ساتھ کفر اور اس کی اقسام و نظریات کو بھی لوگوں کے سامنے واضح کیا، لوگ بھی کفر کو پہچانتے رہے، اپنے آپ کو اور اپنی معاشرت کو اس سے محفوظ رکھتے رہے، اور اس کے خاتمے کے لیے عملی کوششیں کرتے رہے۔ لیکن جب سے تعلیمی نصابوں میں کفر کی معاصر اقسام، اس کی مختلف صورتوں اور نظریات کی پہچان اور ان کے خلاف معاصر طرز کی فکری و عملی جدوجہد کو نظر انداز کیا گیا اور مسجد کے امام، مدرسے کے استاد، منبر کے خطیب، کتاب کے مصنف و شارح اور خانقاہ کے مرشد نے اس دور کے لوگوں کے سامنے کفر کی جدید صورتوں جیسے سیکولرازم، جمہوریت، کمیونزم، ہیومنزم، لبرل ازم، اسلام مخالف وضعی قوانین، تنصیر، استعمار، استشراق اور دیگر جدید کفر کی صورتوں اور نظریات کے بارے میں کچھ کہا اور نہ لکھا، اور اپنی سرگرمیوں میں بھی ان نظریات کے حامل افراد اور جماعتوں کے خلاف علمی و فکری جدوجہد کو جگہ نہ دی، تو نتیجتاً یہ معاصر کفر کی صورتیں اور ان کے نظریات خطرناک انداز میں عالمِ اسلام کے عوام میں پھیل گئے، اور نئی نسلوں کے لاکھوں نوجوان یا تو ان سے متاثر ہو گئے یا پھر ان کی صف میں شامل ہو کر اسلام کے خلاف ہی دشمنی شروع کر دی۔

معاصر کفر کی اقسام کی شناخت اور اس کی پیچیدگیاں

معاصر کفر کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ اسلامی معاشروں میں صریح کفر کے نام سے سامنے نہیں آتا، بلکہ مختلف دلکش اور خوشنما نعروں اور اصطلاحات کے ذریعے معاشروں میں پھیلتا ہے۔ بظاہر ان ناموں میں کفر کی کوئی علامت نظر نہیں آتی، جیسے آزادی، جمہوریت، سیاسی و دینی تکثیریت، ترقی، مساوات، سماجی تبدیلی، آزادیٔ اظہار و عقیدہ، انسانی حقوق، خواتین کے حقوق، عقلیت، قانون کی بالادستی، بین الاقوامی قوانین، عالمی اصول، سول سوسائٹی اور اس نوع کے دیگر تصورات۔ یہ تمام اصطلاحات مسلم معاشروں کی فکر پر حاکم ہو جاتی ہیں، حالانکہ ان میں سے ہر ایک کا مغربی فکر میں ایک مخصوص فلسفیانہ مفہوم ہے جو بنیادی اور صریح طور پر اسلام اور اسلامی عقائد کے مخالف ہے۔

گزشتہ ایک صدی کے دوران کفار، خصوصاً کمیونزم، سیکولرازم اور لبرل ازم کے پیروکاروں نے اپنے فکری، فلسفیانہ، سیاسی و سماجی اصولوں اور اپنے فکری و معنوی اقدار کو مختلف ذرائع اور وسائل کے ذریعے مسلمانوں پر مسلط کیا۔

ان کفریہ نظریات کے اثرات کے نتیجے میں عالمِ اسلام میں ایسی نسلیں پروان چڑھیں جو سیاست، قانون، تعلیم، ثقافت، اخلاقیات، روحانی اقدار، عسکریت اور معیشت کے میدانوں میں مغربی طرزِ فکر کی پیروی کرنے لگیں۔ سیکولر مغرب اور کمیونسٹ سوویت یونین اس بات میں کامیاب ہو گئے کہ عالمِ اسلام کو ایسی حد تک اپنا تابع بنا لیں کہ اس کے حکمران اور نظام بھی ان ہی کے پیچھے چلنے لگیں۔

معاصر کفر کی عدم شناخت اور اس سے غفلت کا نتیجہ یہ بھی نکلا کہ وہ عالم، طالب علم، مرشد اور تبلیغی داعی جو مسلمانوں کو معاصر کفر کے خطرات سے آگاہ کرنے کے ذمہ دار تھے، ان کی بڑی تعداد آج خود ہی لبرل ازم، جمہوریت، سیکولرازم، ہیومنزم، تنصیر، استشراق، وضعی قوانین، بین الاقوامی کفری سیاسی و عسکری معاہدات اور دیگر جدید کفر کی صورتوں کو علمی طور پر نہیں پہچانتی، لہٰذا نہ وہ ان کے خلاف مؤثر جدوجہد کر سکتی ہے اور نہ ہی انہوں نے اپنی دعوتی ترجیحات میں اس جدوجہد کو جگہ دی ہے۔

اگر اس میدان میں افغانستان میں طالبان کی فکری، سیاسی اور عسکری تحریک کسی حد تک ایک عملی مثال نہ قائم کرتی، تو موجودہ دور میں ہمیں دینی علماء کے نام پر معاصر کفر کے خلاف مزاحمت کی کوئی واضح مثال نہ ملتی۔ تاہم طالبان کی فکری و جہادی تحریک نے بھی اس معاملے کو علمی اور فکری سطح پر اس سنجیدگی اور گہرائی سے نہیں دیکھا۔ انہوں نے اپنے پیروکاروں، طلبہ اور عام عوام کو معاصر کفر کی اقسام و اشکال کے خلاف فکری ادب اور علمی مراجع فراہم نہیں کیے اور نہ ہی انہیں نصاب میں شامل کیا تاکہ وہ علمی مناقشے اور جدید استدلال کے میدان میں اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکیں۔

یہ بات درست ہے کہ طالبان نے عسکری جدوجہد اور قربانی کے میدان میں بڑی طاقتوں کے مقابلے میں شجاعت اور مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن کیا انہوں نے افغانستان کے موجودہ دور کے سیکولرزم اور جدید الحاد کی طوفانی لہروں کے مقابلے کے لیے نئی نسل کو ایسی کوئی ایک سو یا دو سو دینی و فکری عنوانات سے کتب فراہم کی ہیں جن کے مطالعے سے وہ فکری، عقائدی اور سیاسی فتنوں سے محفوظ رہ سکیں یا ان کے خلاف علمی سطح پر مقابلہ کر سکیں؟

ہماری دینی علماء اور مشائخ کی بڑی تعداد اگرچہ یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں کچھ معلومات رکھتی بھی ہے تو وہ بھی تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پرانی معلومات ہیں جو آج اپنی اصل شکل میں موجود نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کی یہودیت، صہیونیت اور اس سے وابستہ عالمی و مقامی تنظیمیں تقریباً پوری دنیا کو کسی نہ کسی شکل میں یرغمال بنا چکی ہیں اور اہم عالمی معاملات کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے چکی ہیں۔

اسی طرح عیسائیت بھی اب وہ پرانا خانقاہی اور رہبانیت والا دین نہیں رہا جو صرف ایک محدود عقیدے تک اثر رکھتا تھا، بلکہ اب یہ صلیبیت، تنصیر، استعمار اور ایک عالمی نظام میں تبدیل ہو چکا ہے، جس نے بین الاقوامی کیتھولک، آرتھوڈوکس اور پروٹسٹنٹ کلیساؤں اور دیگر عالمی اداروں کے ذریعے پوری دنیا کو مختلف شکلوں میں متاثر کیا ہے اور اربوں انسانوں کی زندگیوں پر اثر ڈالا ہے۔ لیکن ہمارے دینی مدارس، خانقاہوں اور علمی نصاب میں ان بڑے خطرات کا کوئی ذکر موجود نہیں۔

چونکہ سکول، یونیورسٹی، مسجد، مدرسہ، خانقاہ اور تبلیغی حلقوں میں طلبہ کو معاصر کفر کی اقسام اور ان کے نظریات کے بارے میں تعلیم نہیں دی جاتی، اس لیے ان اداروں سے فارغ ہونے والے افراد بھی عام لوگوں کو اس حوالے سے آگاہ نہیں کر پاتے، اور یوں عوام کی بڑی تعداد ان فکری و نظریاتی فتنوں کا شکار ہو جاتی ہے۔

افغانستان میں جہادی مزاحمتی تحریکوں کے سلسلے میں بڑی کامیابیوں کے باوجود ایک اہم منفی پہلو بھی موجود ہے، اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے دشمن کے مقابلے میں مزاحمت تو کی ہے، لیکن اس کے فکری اور نظریاتی پہلو کے مقابلے میں وہ مطلوبہ سنجیدگی اور صلاحیت پیدا نہیں کر سکے۔

اگر اس دعوے کے ثبوت میں مثالیں تلاش کی جائیں تو بہت سی مثالیں سامنے آتی ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

  1. افغانوں نے چنگیزی فوج کے مقابلے میں مزاحمت کی، لیکن چنگیز کے اس فکری و قانونی نظام کے خلاف، جسے یاسا کہا جاتا تھا اور جس میں حق و باطل کو باہم خلط ملط کر دیا گیا تھا، کوئی مؤثر فکری مقابلہ نہیں کیا۔ بلکہ خود افغانوں نے بھی اپنے عدالتی اور معاشرتی نظام میں ایسے عرف و قوانین کو اختیار کیا جن میں شریعت، قبائلی رسم و رواج، روایات، عرف اور ذاتی تصورات سب کچھ گڈمڈ ہو گیا۔ دین کو انہوں نے عبادات تک محدود رکھا اور دین کی کتاب کو صرف مولوی کا معاملہ سمجھا۔ جب آپس میں تنازعات پیش آتے ہیں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شریعت کی طرف رجوع کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے یہ کہا جاتا ہے: ’’کیا تم میرے ساتھ فیصلہ شریعت کے مطابق کرو گے یا پشتو (رواج) کے مطابق؟ میں دونوں کے لیے تیار ہوں۔‘‘
  2. افغانوں نے انگریزوں کے خلاف متعدد جنگیں لڑیں اور بے شمار قربانیاں دیں، لیکن انگریزوں کے عقیدے یعنی نصرانیت، اور ان کے اخلاقی، سیاسی اور ثقافتی نظام جیسے لبرل ازم، استعماری توسیع پسندی، سیکولرازم اور جمہوریت کے خلاف کوئی سنجیدہ علمی، فکری اور ثقافتی جدوجہد نہیں کی، بلکہ اس کے برعکس بہت سے اہلِ علم، مفکرین، سیاست دان اور اہلِ قلم خود انہی کے نقشِ قدم پر چل پڑے اور عوام میں مختلف میدانوں میں یورپی فکر کو فروغ دیا۔ حتیٰ کہ بعض اوقات مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد بھی بے دینی پر مبنی جمہوریت کے حامی بن گئے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے بجائے انگریزوں اور امریکیوں کو خوش کرنے کو ترجیح دی۔
  3. افغانوں نے ہندوؤں اور سکھوں کے خلاف بھی جنگیں لڑیں، ہندوستان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کیا اور دہلی کو فتح کیا، لیکن ہندومت کے اس فکری و دینی نظام کے خلاف، جسے شرک کی بدترین صورت قرار دیا جاتا ہے، نہ کوئی علمی و فکری جدوجہد کی، نہ اس کے عقائد، اخلاق اور مشرکانہ تمدن کے خلاف کوئی مؤثر آواز اٹھائی، نہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کے عزائم کو بے نقاب کیا، اور نہ ہی آئندہ نسلوں کے لیے علمی و فکری سرمایہ چھوڑا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ افغان معاشرے میں ہندو اور سکھ کو مشرک، کافر یا اہلِ ذمہ کی حیثیت سے دیکھنے کے بجائے ہندو کو ’’لالا‘‘ اور سکھ کو ’’سردار‘‘ جیسے تعظیمی القابات سے پکارا جانے لگا۔ مزید یہ کہ ہندو تہذیب کو ایک کفری و مشرکانہ تہذیب کے طور پر متعارف کرانے کے بجائے، بااثر سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ کوشش کی گئی کہ (مسلمان) افغانستان کو (کافر) ہندوستان کے ساتھ ایک دوست ملک کے طور پر جوڑا جائے اور یہاں ہندی ثقافت کے فروغ کے لیے راہیں ہموار کی جائیں۔
  4. افغانوں نے روسیوں کے خلاف بھی عظیم جہاد کیا اور طویل جنگ کے بعد بڑی قربانیاں دے کر اللہ تعالیٰ کی نصرت سے اپنی سرزمین کو آزاد کرایا، لیکن کمیونزم کے فکر و عقیدے کے خلاف کوئی سنجیدہ علمی، فکری اور ثقافتی جدوجہد نہ ہو سکی۔ ہمارے علماء اور مدارس اس بات میں کامیاب نہ ہو سکے کہ پڑھے لکھے طبقے کے سامنے کمیونزم کو ایک کفری نظریے کے طور پر واضح کریں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ افغانستان میں کمیونسٹ اور ان کے حامی خود کو مسلمان کہتے رہے، اور معاشرہ بھی انہیں کمیونزم اختیار کرنے کی بنا پر کافر قرار نہ دے سکا، حالانکہ اسلامی نقطۂ نظر سے کمیونزم بلاشبہ کفر ہے اور اس کے پیروکار کافر شمار ہوتے ہیں۔ اس غفلت کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف ہم کمیونسٹوں کو اپنے معاشرے سے الگ نہ کر سکے، بلکہ وہی لوگ بعد میں مغربی طاقتوں کے زیرِ سایہ ایک نئے انداز میں دوبارہ اقتدار پر قابض ہو گئے اور اس قوم کو اس کے ماضی کے مزاحمتی کردار کی سزا دی۔

لہٰذا مذکورہ حالات اور اسلام میں کفر کی پہچان کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ مدارس دینیہ کے نصاب میں، اہلِ السنۃ والجماعۃ کے معتدل اور مستند نقطۂ نظر کے مطابق، معاصر کفر اور گمراہیوں کی مختلف صورتوں کو واضح طور پر بیان کیا جائے، تاکہ اسلام اور کفر کے درمیان حدِ فاصل نمایاں ہو سکے اور مسجد، مدرسہ اور تعلیمی اداروں کے ذریعے کفر کے خلاف ایک شعوری، ہمہ جہت اور مؤثر جدوجہد ممکن ہو سکے۔ اس صورت میں کفار اور ان کے آلہ کار ہمارے معاشرے کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور دین سے دور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

باطل کی پہچان کی اہمیت

جس طرح دین میں حق کی پہچان ایک بنیادی اور نہایت اہم مقصد ہے، اسی طرح باطل کی شناخت بھی ایک اہم اور اساسی فریضہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک مسلمان اپنے دشمنوں اور ان کے باطل عقائد و نظریات کی معرفت حاصل نہیں کر لیتے، وہ ان کے بارے میں درست موقف اختیار کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ مناسب طرزِ عمل اپنانے کے قابل ہوتے ہیں۔

مدارس کے طلبہ کے لیے باطل ادیان، باطل مذاہب، افکار اور نظریات کی معرفت اس لیے ضروری ہے کہ حق اور باطل کے درمیان امتیاز قائم کرنا ایک شرعی تقاضا ہے۔

اسلامی مفاہیم کا مقصد

اگر اسلامی مفاہیم کو مقصد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو دو بنیادی نکات سامنے آتے ہیں:

  1. عقیدہ، تصور، اخلاق، کردار، عمل، معاملات اور زندگی کے دیگر سیاسی و سماجی شعبوں میں خیر کو پہچاننا اور اس پر عمل کرنا۔
  2. انہی تمام میدانوں میں شر کو پہچاننا، اس سے خود کو اور دوسروں کو محفوظ رکھنا، اور اس کے خلاف جدوجہد اور جہاد کرنا۔

اسلام ایک طرف لوگوں کو خیر اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے، تو دوسری طرف شر سے بچنے کے لیے حفاظتی اور اصلاحی تدابیر بھی سکھاتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے اسلامی نظام کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ معاشرے میں عقیدۂ ولاء و براء (اسلام اور مسلمانوں سے محبت اور کفر و کفار سے بیزاری)، جہاد (کفر اور ظلم کے شر کو دفع کرنے کے لیے)، حدودِ شرعیہ (جرائم کی روک تھام کے لیے)، تعزیرات (ہر قسم کے فساد کو روکنے کے لیے)، اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا) کو نافذ کرے۔

اللہ تعالیٰ کے نزدیک شر کو مٹانا اور خیر کو قائم کرنا اس قدر عظیم مقصد ہے کہ انہی دو بنیادی اہداف کے لیے تمام انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا گیا اور ان پر آسمانی کتابیں اور شریعتیں نازل کی گئیں، اور انبیاء نے بھی اپنی امتوں کو اسی فکر اور عمل پر تربیت دی۔ تاکہ مسلمانوں کے لیے اسلام اور کفر کے راستے واضح ہوں، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی احادیث میں جہاں ایمان اور اس کے تقاضوں کو بیان کیا، وہیں کفر کی اقسام، اس کے باطل ہونے کے دلائل، اس کے نقصانات، اور مسلمانوں کے خلاف کفار کی دشمنی کے طریقے بھی واضح فرمائے۔

اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اور ہر امت کو ان کے زمانے کے باطل سے آگاہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآنِ کریم میں عرب کے مشرکین، یہود، نصاریٰ، مجوس اور دیگر کفری گروہوں کے عقائد اور ان کے باطل استدلالات سے آگاہ کیا گیا، اور ان کے شبہات کے جوابات سکھائے گئے۔

اسی طرح قرآن میں پچھلی قوموں، جیسے قومِ نوح، قومِ ابراہیم، قومِ موسیٰ اور قومِ لوط کے کفر اور ان کے انجام کو تفصیل سے بیان کیا گیا تاکہ عبرت حاصل ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو باطل کی حقیقت سے آگاہ کیا اور اس کے دنیاوی و اخروی نقصانات سے خبردار کیا، یہی وجہ تھی کہ ان میں ارتداد کے واقعات نہ ہونے کے برابر تھے۔

موجودہ زمانے جیسی صورتِ حال مسلمانوں پر کبھی نہیں آئی تھی کہ وہ اجتماعی طور پر کبھی کمیونزم کو اختیار کریں، کبھی لاکھوں کی تعداد میں جمہوریت کی آغوش میں جا گریں، کبھی لبرل ازم، ہیومنزم اور جدید الحاد کو قبول کر لیں، کبھی عیسائیت کی حمایت کرنے لگیں، اور کبھی یہودیت سے نکلنے والی تحریکوں جیسے فری میسنری (Freemasonry) کے جال میں اس طرح پھنس جائیں کہ اپنی تمام تر صلاحیتیں دنیا میں یہودیت کے غلبے اور اس کے مقاصد کی تکمیل کے لیے وقف کر دیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب آپ اپنے صحابہ کو باطل کی حقیقت سے آگاہ فرما دیتے تھے تو وہ کبھی بھی باطل کے پیروکاروں کی طرف مائل نہ ہوتے تھے۔ اگر ان میں سے کسی کو کسی کافر حکمران کی طرف سے کوئی دعوت ملتی تو وہ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتے جیسا کہ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے واقعے میں مذکور ہے، جس کی تفصیل احادیث کی کتب میں اس مفہوم کے ساتھ بیان ہوئی ہے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ تین صحابہ جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے: کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تادیباً بائیکاٹ فرمایا، اور پچاس دن تک لوگوں نے ان سے بات چیت نہ کی۔ شام کے غسانی عیسائی حکمران کو جب یہ خبر ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعب بن مالک سے ناراض ہیں تو اس نے اسے ایک موقع سمجھا کہ اسلام کے خلاف فائدہ اٹھایا جائے، چنانچہ اس نے انہیں ایک خط بھیجا، جسے آج کی اصطلاح میں ایک طرح کی ’’دعوت‘‘ یا ’’اسائلم(Asylum)‘‘ کہا جا سکتا ہے، اور اس میں لکھا:

فانه قد بلغنا ان صاحبك قد جفاك، ولم يجعلك الله بدار هوان ولا مضيعة، فالحق بنا نواسك

’’ہمیں خبر ملی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تم سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے، حالانکہ اللہ نے تمہیں ذلت میں نہیں ڈالا۔ ہمارے پاس آ جاؤ، ہم تمہاری دل جوئی کریں گے۔‘‘

یہ خط ایک قاصد کے ذریعے مدینہ منورہ بھیجا گیا۔ جب قاصد بازارِ مدینہ میں پہنچا تو بلند آواز سے پکارنے لگا: ’’کعب بن مالک کون ہے؟‘‘

لوگوں نے اسے ان کی طرف رہنمائی کی۔ جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے خط پڑھا تو فرمایا: ’’یہ بھی ایک اور آزمائش ہے!‘‘ اور فوراً اس خط کو لے جا کر تنور میں ڈال دیا اور جلا دیا۔

لیکن آج اگر کسی کو کسی غیر مسلم ملک کا ویزا یا اسائلم مل جائے تو وہ اسے فخر کے ساتھ قبول کرتا ہے، خواہ وہاں جا کر اسے کفار کے قوانین کے مطابق زندگی گزارنی پڑے، ان کے لیے محنت مزدوری کرنی پڑے، اسلامی ماحول، مسجد، دینی طرزِ زندگی، عفت اور اسلامی اخلاق سے دور ہونا پڑے، اور اپنی دینی ذمہ داریوں سے غفلت برتنی پڑے۔

آج مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد حقیقی معنوں میں کفر اور باطل کو نہیں پہچانتی، اسی لیے نہ ان کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت ہے، بلکہ وہ ذہنی اور فکری طور پر اس سے جڑ چکے ہیں۔ وہ اپنی کامیابی کو انہی کے راستے پر چلنے میں سمجھتے ہیں، اور طرح طرح کی مشکلات برداشت کر کے، مہینوں کے سفر، پہاڑوں، سمندروں، صحراؤں اور جنگلوں کو عبور کر کے اپنے اہل و عیال سمیت اس لیے پہنچتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح کفر کی سرزمین میں جگہ پا جائیں اور وہاں کے نظام اور معاشرے کا حصہ بن جائیں۔

ہمارے تعلیمی نصاب، موجودہ ثقافت اور ادب میں اسلام کے ناقص تصور کے ساتھ ساتھ کفری نظریات کے بطلان کو واضح نہ کرنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ نہ صرف ہمارے نوجوان وہاں جا رہے ہیں، بلکہ یہاں رہ کر بھی پورے خلوص کے ساتھ کفار کا ساتھ دے رہے ہیں۔ وہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف لڑتے ہیں، اپنی سرزمین میں اسلامی نظام کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں، اور اسلام و مسلمانوں کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے وہ محض نام کے مسلمان ہوں۔

یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کہ ہمارے تعلیمی اور ثقافتی ذمہ داروں نے نہ انہیں باطل کی صحیح پہچان دی، نہ اس کے نقصانات سے آگاہ کیا اور نہ ہی انہیں کفر و باطل کے اخروی انجام سے درست طور پر خبردار کیا۔

معاصر کفر کی اقسام، اس کے فلسفوں اور نظریات کے بارے میں موجودہ مسلم نسلوں کا علم اس قدر سطحی، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے کہ نہ صرف ان میں اس کے فکری مقابلے کا حوصلہ پیدا نہیں ہوتا، بلکہ وہ آج کے کفر کے فریب دینے والے نظریات اور اصطلاحات کے سحر میں اس حد تک گرفتار ہو جاتے ہیں کہ پورے اطمینان کے ساتھ کفار کے ساتھ مضبوط وابستگی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی باتوں میں آ کر اپنے ہی دین، کتاب، منبر، محراب، علماء، مسجد، خانقاہ، جہاد اور مجاہدین کے ساتھ ایسی دشمنی کرنے لگتے ہیں جیسے اس میں کوئی ثواب محسوس کرتے ہوں۔ اور اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ بیرونی طاقتوں کی افواج میں شامل ہونے کے لیے درخواستیں دیتے ہیں، سفارشیں ڈھونڈتے ہیں، تاکہ حملہ آوروں کے سپاہی بن سکیں، اور پھر انہی کے حکم اور اسلحہ کے ذریعے اپنے ان مجاہد بھائیوں کو قتل کریں جو دین اور وطن کے دفاع کے لیے ان کفار کے خلاف کھڑے ہوئے ہوتے ہیں۔

کفر کی اقسام کی پہچان اس لیے بھی ضروری ہے کہ باطل ہمیشہ سے کوشش کرتا آیا ہے کہ اسلام میں در اندازی کرے اور اپنے کفری عقائد و نظریات کو پوشیدہ انداز میں اسلام میں داخل کرے، تاکہ نادان یا کم علم لوگ اس حقیقت کو نہ سمجھ سکیں۔ جیسا کہ آج مغربی فکر سے متاثر سیکولر عناصر ’’اعتدال پسند اسلام‘‘ کے نام پر مغربی نظریات کو اسلام میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسلام میں جتنے بھی باطل فرقے پیدا ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی یا ہو گی، ان میں اہلِ السنۃ و الجماعۃ کے سوا باقی سب کو باطل قرار دیا گیا ہے۔ ان تمام فرقوں کی جڑیں اور تاریخی پس منظر کسی نہ کسی طرح کفری عقائد، ادیان اور نظریات سے جا ملتے ہیں۔

باطل ادیان اور معاصر کفر کی مختلف صورتوں اور نظریات کی پہچان ہمیں اس قابل بناتی ہے کہ ہم اسلام میں باطل فرقوں کی در اندازی کو روک سکیں، اور ان کی طرف سے اسلام کو مسخ کرنے کی کوششوں سے خود بھی باخبر رہیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔ اسی طرح ہم ان پیچیدہ فلسفیانہ اور کفری تصورات کو بھی پہچان سکتے ہیں جنہیں یہ لوگ اسلامی اصطلاحات کے پردے میں مسلمانوں تک منتقل کرتے ہیں اور نئی نسلوں کو انہی پر پروان چڑھاتے ہیں۔

جب ہمارے علماء اور طلبہ کو یہ معلوم ہو جائے کہ کون سے نظریات کفری ہیں، ان کی اصل کیا ہے، ان کے کفر کی وجہ اور تکفیر کے دلائل کیا ہیں، ان کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے، اور ان کے ساتھ ہمارا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟ تو پھر معاشرے میں باطل کی عدمِ پہچان کی وہ کیفیت دوبارہ پیدا نہیں ہو گی جس کا ایک واقعہ میرے ابتدائی طالب علمی کے زمانے کے ایک استاد نے بیان کیا۔ انہوں نے کہا:

’’میں ظاہر شاہ کے دور میں ایک مسجد کا امام تھا۔ گاؤں کے کچھ نوجوان، جو بعض یونیورسٹیوں میں اور بعض کالجز میں پڑھتے تھے، جب چھٹیوں میں گھر آتے تو مسجد میں اپنے ساتھ دو اخبارات بھی لاتے جن پر ’خلق‘ اور ’پرچم‘ لکھا ہوتا تھا۔ وہ گاؤں کے لڑکوں کو جمع کر کے ان کے مضامین کی تشریح کرتے تھے۔‘‘

انہوں نے مزید بتایا:

’’ان اخبارات میں کچھ سیاسی شخصیات کی تصاویر چھپی ہوتی تھیں۔ ایک دن میں نے ان سے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ ہمارے ملک کے ہیرو ہیں۔‘‘

اس سادے دیہاتی مولوی صاحب نے مجھے کہا:

’’مجھے اس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ کمیونزم کیا چیز ہے اور کون لوگ اسے پھیلا رہے ہیں۔ اگر مجھے اس کا علم ہوتا تو میں کبھی بھی اپنی مسجد کو کفر کے فروغ اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیتا۔‘‘

انہوں نے کہا:

’’جب شہروں میں کچھ علماء اور اسلامی فکر رکھنے والے نوجوانوں نے کمیونسٹوں کے خلاف سرگرمیاں شروع کیں اور ان کے مقابلے میں ردِ عمل ظاہر کیا، تب جاکر دیہاتوں میں بھی مساجد کے ائمہ اور عام لوگ کمیونزم کے خطرے سے آگاہ ہوئے۔‘‘

افغانستان میں کمیونزم اس قدر آسانی اور وسعت کے ساتھ اس لیے پھیل گیا کہ ہماری مساجد کے ائمہ اور دینی مدارس کے اساتذہ  کی ایک بڑی تعداد  کی علمی بنیاد کمزور تھی، اور ان کی سیاسی و فکری معلومات نہایت سطحی تھیں۔ انہوں نے اپنے علمی و دینی مشغلے کو محض ایک سرکاری یا رسمی ذمہ داری سمجھ رکھا تھا کہ بس امامت کرنی ہے یا زیادہ سے زیادہ لغت اور منطق کی کتابیں پڑھانی ہیں۔ چنانچہ وہ نہ تو معاصر کفر کی اقسام، اس کی شکلوں، فلسفوں اور فکری لٹریچر سے واقف تھے، اور نہ ہی انہوں نے اس کے خلاف علمی و فکری جدوجہد کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ سیکڑوں بلکہ ہزارہا مساجد اور ائمہ کی موجودگی کے باوجود قوم میں کمیونزم اور جمہوریت کے نظریات نے اپنی جڑیں مضبوط کر لیں۔ پہلے یہ قوم کمیونزم کی آگ میں جلی اور پھر جمہوریت کے علم برداروں نے بیس سال تک امریکی تسلط کے زیرِ سایہ اپنے ہی دین اور قوم کے خلاف ایک بے رحم جنگ لڑی۔ اس دوران انہوں نے بھرپور کوشش کی کہ جمہوریت، سیکولرازم، ہیومنزم، نیشنلزم، لبرل ازم، خواتین کی مغربی طرز کی آزادی اور دیگر درآمد شدہ مغربی افکار کو ہماری نئی نسل کے ذہنوں میں راسخ کریں۔

آج ہمارے معاشرے کی ایک قابلِ ذکر تعداد کفار کے بارے میں کوئی حساسیت نہیں رکھتی، بلکہ ان کے لیے فوجی خدمات انجام دیتی رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ وہ اس دور کے کفر کو پہچاننے سے قاصر ہیں۔ درحقیقت آج کا کفر اس قدر پوشیدہ اور فریب دہ انداز میں سامنے آتا ہے کہ بظاہر وہ اسلام کی شکل اختیار کر لیتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ کفر ہی ہوتا ہے، اور اسی طرح لوگوں کے اذہان میں جگہ بنا لیتا ہے۔ آج کے کفر نے بعض مسلمانوں کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ وہ کہتے ہیں:

معاصر کفری افکار کے زیرِ اثر افغانستان کے لیے ایسا آئین بنایا گیا جس کی ابتدا تو بسم اللہ سے کی گئی، لیکن اس کے بعد دیباچے میں لکھا گیا کہ:

’’اقوامِ متحدہ کے منشور کی پابندی اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے احترام کے ساتھ…… عوام کی مرضی اور جمہوریت پر مبنی نظام کے قیام کے لیے…… یہ آئین منظور کیا گیا۔‘‘

اسی طرح اس آئین کی شق نمبر۶ میں دیگر مفاہیم کے علاوہ لکھا گیا کہ:

’’ریاست جمہوریت کے قیام کی پابند ہوگی۔‘‘

اور شق ۷ میں واضح کیا گیا کہ:

’’ریاست انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی پابندی کرے گی۔‘‘

یہ آئین صراحت کے ساتھ کہتا ہے کہ فیصلے عوام کی رائے سے ہوں گے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق۔ نظام کا مقصد جمہوریت کا قیام ہو گا، نہ کہ اسلامی شریعت کا نفاذ۔ اور وہ اس عالمی انسانی حقوق کے اعلامیے کی پابندی کرے گا جس کی ایک شق میں ہر فرد کو دین اختیار کرنے اور بدلنے کی آزادی دی گئی ہے۔

ہمارے دینی مدارس کے نصاب میں صرف، نحو، منطق اور قدیم ادب تو بکثرت موجود ہیں، لیکن موجودہ دور کے باطل کی پہچان، جو اسلام کے بنیادی مفاہیم میں سے ہے، اس کا کوئی ذکر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاکھوں افراد وقتاً فوقتاً کفر اور باطل کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں اور دین، علماء، مدارس، محراب اور خانقاہ کے خلاف برسرِ پیکار ہو جاتے ہیں، کیونکہ نصاب میں معاصر کفر کے خلاف واضح حکم اور دلائل موجود نہیں۔

آج کے کفر، جس سے قانون، نظام، میڈیا، جدید تعلیم، معاشرہ اور اخلاق سب متاثر ہو چکے ہیں، کے بارے میں کچھ بھی نہیں پڑھایا جاتا۔ جب صورتحال یہ ہو تو لوگ سیکولر نظاموں کے غلبے کے خلاف کیسے حساس ہوں گے، اور کس عقیدے اور جذبے کے تحت اس کا مقابلہ کریں گے؟

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version