عمر ِثالث | اٹھارہویں قسط

امارت اسلامیہ افغانستان کے مؤسس عالی قدر امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد﷬ کی مستند تاریخ

چند اعتراضات اور ان کا جائزہ (۲)

کیا طالبان مجاہدین کے مقابلے میں کھڑے ہوئے تھے؟

طالبان کے مخالفین کی جانب سے یہ الزام بارہا دہرایا جاتا ہے کہ طالبان دراصل مجاہدین1یہاں مجاہدین سے مراد ہیں وہ ’مجاہدین‘ جنہوں نے روس کے خلاف جنگ لڑی اور بعد میں حکومت قائم کی اور ان کی حکومت کو مجاہدین کی حکومت کہا جاتا ہے، یعنی وہ زمانہ جو روس کے افغانستان سے انخلا کے بعد اور طالبان کے افغانستان پر حکومت سے قبل کا تھا۔ (ادارہ) کو ختم کرنے اور انہیں سیاسی منظر نامے سے بے دخل کرنے کے لیے وجود میں آئے تھے۔ بظاہر یہ دعویٰ اسی صورت میں قابلِ غور ہو سکتا تھا اگر طالبان کوئی ایسی جداگانہ جماعت ہوتے جس کا ماضی جہاد سے وابستہ نہ ہوتا، یا وہ اسلامی مزاحمت اور جہادی مقاصد کے حصول پر یقین نہ رکھتے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ طالبان دراصل انہی مجاہدین کا حصہ تھے جنہوں نے سوویت یونین کے خلاف جہاد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ مخلص، فداکار اور جان نثار مجاہدین تھے جنہوں نے افغانستان کے ہر گوشے میں جہاد کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کی تمام تر مشکلات اور قربانیوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔ جہاد کی کامیابی میں انہی گمنام اور بے لوث غازیوں کی قربانیاں بنیادی حیثیت رکھتی تھیں، اگرچہ اس کے ثمرات اور فوائد دوسروں نے حاصل کیے۔

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جس طرح کمیونزم اور سوویت جارحیت کے خلاف جہادی تحریک کی بنیاد دینی علماء اور طلبہ نے رکھی تھی، اسی طرح پورے دورِ جہاد میں بھی مختلف صوبوں میں علماء اور طلبہ ہی جہادی سرگرمیوں کا محور رہے۔ ان کے زیرِ قیادت بڑے بڑے مسلح محاذ اور جہادی گروہ سرگرمِ عمل تھے۔ ان میں مولوی محمد نبی محمدی، مولوی محمد یونس خالص، مولوی نصراللہ منصور، مولوی جلال الدین حقانی، مولوی رفیع اللہ مؤذن، مولوی عبداللہ ذاکری اور مولوی محمد میر جیسے جلیل القدر علماء شامل تھے، جن کی اپنی مستقل جہادی تنظیمیں یا مضبوط تنظیمی تشکیلات موجود تھیں۔ اسی طرح ملک کے ہر صوبے میں طلبۂ کرام کے مستقل محاذ قائم تھے، جو جہاد میں مؤثر اور نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔

جب سوویت یونین افغانستان سے نکل گیا اور کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو جہاد کی وہ علت، جس کی بنا پر اس کا فرض ہونا لازم تھا، ختم ہو چکی تھی۔ نہ کوئی حملہ آور کافر باقی رہا تھا اور نہ ہی کمیونزم کا فتنہ موجود تھا۔ چنانچہ بہت سے مخلص مجاہدین نے اپنے ہتھیار ایک طرف رکھ دیے اور معمول کی زندگی کی طرف لوٹ گئے۔ تاہم انہیں یہ اندازہ نہ تھا کہ کمیونزم کے زوال کے بعد ملک ایک ایسے فتنے کی لپیٹ میں آنے والا ہے جو وطن اور قوم دونوں کے لیے تباہ کن نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔

کمیونسٹ حکومت کے سقوط کے بعد جہادی قیادت ملک میں مؤثر نظم و نسق قائم کرنے اور ایک حقیقی اسلامی نظام نافذ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد علاقوں میں مسلح بدمعاشوں، کمیونسٹ رجیم کے باقی ماندہ عناصر اور لٹیروں نے اقتدار اور اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ نتیجتاً ملک بدامنی، لوٹ مار اور قانون شکنی کی لپیٹ میں آگیا، جبکہ عوام کی جان، مال، عزت اور آبرو ہر لمحہ خطرات سے دوچار ہو گئی۔

یہ لٹیرے اور مسلح گروہ، جنہوں نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا تھا، درحقیقت مجاہدین نہیں تھے۔ ان میں اکثریت ایسے عناصر کی تھی جو جہاد اور مجاہدین کے نام کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ اقتدار کی ہوس، گروہی مفادات، قومیت اور لسانیت پر مبنی جاہلی نعروں سے وابستگی، اور کمیونسٹ رجیم کے باقی ماندہ عناصر کا اثر و نفوذ ان میں نمایاں تھا۔

جب ان کا ظلم، فساد اور قانون شکنی حد سے تجاوز کر گئی اور عوام کی جان، مال اور عزت و آبرو غیر محفوظ ہو گئی، تو سوویت یونین کے خلاف برسرِ پیکار رہنے والے حقیقی اور مخلص مجاہدین نے ایک بار پھر حالات کی اصلاح اور جہاد کے اصل مقاصد کے حصول کے لیے میدان میں قدم رکھا۔ چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ طالبان کی اسلامی تحریک دراصل افغانستان کے سیاسی منظر نامے میں انہی صادق اور بے لوث مجاہدین کی واپسی تھی۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ امارتِ اسلامیہ کے بیشتر اہم رہنماؤں اور مرکزی شخصیات کی سوانح عمری کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثریت نے اپنی جدوجہد کا آغاز سوویت یونین کے خلاف جہاد سے کیا تھا۔

مثال کے طور پر امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد ابتدائی دور کے نمایاں مجاہدین میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح رئیس الوزراء ملا محمد ربانی قندھار کے مشرقی علاقوں کے جنگی محاذ کے معاون کے طور پر سوویت مخالف محاذوں میں سرگرم رہے۔

وزیر دفاع شہید ملا عبید اللہ اخند، عسکری کمانڈر شہید ملا محمد اخند، اور فاتح کابل شہید ملا بورجان اخند بھی انہی ابتدائی محاذوں کے سرگرم مجاہدین میں شامل تھے۔

اسی طرح ریاست الوزراء کے معاون ملا محمد حسن اخند، غزنی کے گورنر ملا یار محمد اخند، امارت کے موجودہ (نائب رئیس الوزراء) ملا (عبدالغنی) برادر، اور ٹرانسپورٹ کے وزیر و بعد ازاں امیر المومنین بننے والے شہید ملا اختر محمد منصورصاحب2شہید ملا اختر محمد منصور، ولد الحاج محمد جان، 1968ء میں صوبہ قندھار کے ضلع میوند کے علاقے بند تیمور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے امارتِ اسلامیہ کے دورِ حکومت میں فضائیہ کے علاوہ مختلف سِول اور عسکری ذمہ داریاں انجام دیں۔ امریکہ کے خلاف جاری جہاد میں ابتدا میں وہ قندھار کے جہادی مسؤل کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ بعد ازاں جب امارتِ اسلامیہ کے نائب اور وزیرِ دفاع ملا عبیداللہ اخند کو پاکستانی فوج نے گرفتار کیا تو ملا محمد عمر مجاہد کے فرمان کے مطابق ملا اختر محمد منصور کو امارتِ اسلامیہ کا نائب مقرر کیا گیا، اور وہ اس ذمہ داری کو ملا عبدالغنی برادر کے ساتھ مل کر ادا کرتے رہے۔ بعد ازاں جب امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کی وفات کا اعلان کیا گیا تو امارتِ اسلامیہ کی رہبری شوریٰ نے ملا اختر محمد منصور کو امارتِ اسلامیہ کا رہبر اور امیر المومنین منتخب کیا۔ انہوں نے انتہائی مشکل اور آزمائشی حالات میں اس ذمہ داری کو نہایت حوصلے، تدبیر اور استقامت کے ساتھ نبھایا، یہاں تک کہ 14 شعبان المعظم 1437 ہجری کو امریکی ڈرون حملے میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون۔ بھی ان شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے سوویت یونین اور کمیونسٹ رجیم کے خلاف جہاد میں صفِ اول کے مجاہدین کی حیثیت سے کردار ادا کیا۔

اسی طرح گورنر قندھار ملا محمد حسن رحمانی اور امارتِ اسلامیہ کے دیگر متعدد سیاسی و عسکری قائدین بھی انہی ابتدائی جہادی صفوں سے تعلق رکھتے تھے، جو اپنے اپنے علاقوں میں فعال اور نمایاں مجاہدین کے طور پر جانے جاتے تھے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر طالبان مجاہدین کے خلاف ہوتے تو وہ دراصل خود جہاد کے مقاصد کے بھی خلاف ہوتے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ طالبان وہی لوگ تھے جنہوں نے جہاد اسی مقصد کے لیے کیا تھا کہ ملک سے کفر اور فساد کا خاتمہ ہو اور ایک ایسا اسلامی نظام قائم ہو جو شریعت، امن، عدل اور انصاف پر مبنی ہو۔

کمیونزم کے خلاف چودہ سالہ جہاد کا بنیادی ہدف بھی یہی تھا کہ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے جس میں اسلامی اصولوں کے مطابق نظامِ حیات قائم ہو۔ امارتِ اسلامیہ ہی وہ نظام تھا اور ہے ، جس نے مجاہدین اور شہداء کی اس تمنا کو پورا کرنے کی کوشش کی، شریعت کے نفاذ کو عملی شکل دی، عدل و انصاف کو فروغ دیا اور عوام کے لیے وہ امن و سکون فراہم کیا جس سے یہ قوم طویل عرصے تک محروم رہی۔

اسی طرح سوویت یونین کے خلاف جہاد میں شریک اکثر مجاہدین نے امارتِ اسلامیہ کی تائید کی۔ سوویت مخالف جدوجہد کے نمایاں رہنماؤں میں سے کئی شخصیات نے قندھار کے متعدد اسفار کیے اور امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد سے ملاقات کے بعد امارتِ اسلامیہ کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔

مولوی جلال الدین حقانی، مولوی نصر اللہ منصور، شہید ملا مدد خان، مولوی محمد شفیق محمدی اور دیگر متعدد جہادی خاندانوں نے نہ صرف اس کی تائید کی بلکہ عملی طور پر امارتِ اسلامیہ کا حصہ بھی بن گئے۔ یہ تمام شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ امارتِ اسلامیہ مجاہدین کے خلاف کوئی ڈھانچہ نہیں تھا، بلکہ یہ انہی حقیقی مجاہدین کا مرکز تھا، جس کا مقصد جہادی مقاصد اور ان کے ثمرات کی حفاظت اور تسلسل کو یقینی بنانا تھا۔

کیا امارتِ اسلامیہ کسی مخصوص قوم کی تحریک تھی؟

کمیونسٹ رجیم کے سقوط کے بعد جب تنظیموں کے درمیان خانہ جنگی جاری تھی، اس دور میں ملک ایک سنگین بدبختی کا شکار ہو ؤگیا تھا۔ مسلح گروہوں اور مختلف تنظیموں نے نئے افراد کی بھرتی کے لیے قومیت اور لسانیت کے نام پر کشمکش شروع کر دی تھی۔ ہر گروہ، جس کا اصل مقصد اقتدار کا حصول تھا، بظاہر کسی ایک مخصوص قوم کے حقوق کا نعرہ بلند کرتا تھا۔

اگرچہ اس صورتِ حال نے قوم کو مکمل طور پر تقسیم نہیں کیا، تاہم اس سے قومی اور لسانی تعصبات میں نمایاں اضافہ ضرور ہوا۔ انہی حالات میں جب امارتِ اسلامیہ برسرِ اقتدار آئی تو اس نے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ قومیت اور لسانیت کے اس فتنہ کے خلاف بھی جدوجہد کی۔ امارتِ اسلامیہ کا بنیادی نعرہ اسلامی اخوت تھا، اسی لیے اس نے افغانستان کے ہر علاقے، ہر قوم اور ہر زبان سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی آغوش میں لیا۔

اس تمام تر پس منظر کے باوجود بعض مؤرخین اور تجزیہ نگاروں نے امارتِ اسلامیہ کو بھی جنگ پسند تحریکوں کی صف میں شامل کرنے کی کوشش کی اور یہ دعویٰ کیا کہ امارتِ اسلامیہ ایک مخصوص قوم کی نمائندہ تحریک تھی جس نے قوم پرستانہ رجحانات کو فروغ دیا۔

تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ملا محمد عمر مجاہد ذاتی حیثیت میں قومی، لسانی اور علاقائی تعصبات سے مکمل طور پر پاک شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی زندگی، کردار اور طرزِ قیادت میں تعصب کی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جسے بطورِ ثبوت پیش کیا جا سکے۔ اسی طرح امارتِ اسلامیہ کی فکر، پالیسی اور حکمتِ عملی بھی اسلامی اخوت اور وحدتِ امت کے اصولوں پر استوار تھی۔ اس کے نزدیک افغانستان کی تمام اقوام یکساں احترام اور مساوی حیثیت رکھتی تھیں، جبکہ دنیا بھر کے مسلمان، خواہ ان کا تعلق کسی بھی ملک، نسل، زبان یا رنگ سے ہو، ایک ہی دینی اخوت کے رشتے میں بندھے ہوئے سمجھے جاتے تھے۔

امارتِ اسلامیہ کی صفوں میں بدخشاں سے لے کر تخار، بادغیس، ہرات، نیمروز، پکتیا اور نورستان تک، غرض ملک کے تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے مجاہدین موجود تھے اور وہ مختلف اعلیٰ سرکاری ذمہ داریوں پر فائز تھے۔ امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد کی قیادت میں مختلف علاقوں اور مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے مجاہدین ایک ہی پرچم تلے اور ایک ہی صف میں جمع تھے۔

یہ ہم آہنگی اور وحدت اسی وقت ممکن ہو سکی جب قندھار کے مولوی احسان اللہ احسان نے ملک کے شمالی شہر مزار شریف کی آزادی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، اور تخار کے مولوی محمد سرور حق پرست نے ملک کے جنوب مشرقی صوبے خوست میں جامِ شہادت نوش کیا۔

امارتِ اسلامیہ کی جہادی کامیابیوں میں دیگر صوبوں کے مجاہدین کے ساتھ ساتھ بدخشاں، تخار اور قندوز کے طالبان نے بھی نمایاں کردار ادا کیا، ان علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسافر طالبان خالصتاً اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر اپنے گھروں سے دور ہو کر امارتِ اسلامیہ کی صفوں میں خدمات انجام دے رہے تھے۔

اس کی ایک عملی مثال صوبہ لوگر میں واقع وہ قبرستان ہے جہاں صرف بدخشاں اور تخار سے تعلق رکھنے والے وہ طالبان شہداء مدفون ہیں جو جہاد اور نفاذِ شریعت کے مقصد کے لیے یہاں آئے اور جامِ شہادت نوش کیا۔

دوسری بات یہ ہے کہ اگر امارتِ اسلامیہ اور اس کے مخالف مسلح گروہوں کے درمیان ہونے والی جنگوں کی حقیقت کو سمجھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان معرکوں کی بنیاد قومی یا نسلی نہیں تھی، بلکہ یہ اقدار کے تصادم پر مبنی تھیں۔

فساد اور شر کے علمبردار مسلح گروہوں نے نہ صرف شرعی حدود کی خلاف ورزی کی بلکہ حقوق العباد کو بھی پامال کیا، معاشرے میں بدامنی اور منکرات کو فروغ دیا، اور شرعی قوانین کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے۔ اس کے برعکس امارتِ اسلامیہ کے قیام کا بنیادی مقصد جہاد کے مقاصد کا تحفظ، شرعی احکام کا نفاذ اور معاشرے سے فساد و بگاڑ کا خاتمہ تھا۔

یہی وجہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ تمام عناصر جو شرعی قوانین کے مخالف اور معاشرتی بد امنی کے ذمہ دار سمجھے جاتے تھے، خواہ ان کا تعلق کسی بھی قوم یا علاقے سے تھا، امارتِ اسلامیہ کے مخالف کیمپ میں شامل ہو گئے۔

قندھار، غزنی، میدان وردگ، کابل اور مشرقی صوبوں سمیت مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد مسلح گروہ، جن کی اکثریت پشتون تھی، طالبان کی آمد کے بعد مختلف مقامی و علاقائی رہنماؤں کے ساتھ مل کر مخالف صف میں کھڑے ہو گئے۔ اس کے مقابلے میں شمالی صوبوں کے متعدد حلقوں نے امارتِ اسلامیہ کی حمایت کا راستہ اختیار کیا۔

لہذا اس جنگ کی اصل نوعیت قومی یا لسانی نہیں تھی، بلکہ یہ شریعتِ اسلامی کے چاہنے والوں اور اس کی مخالفت کرنے والے عناصر کے درمیان ایک تصادم تھا۔

آئندہ سالوں میں امریکی جارحیت کے مقابلے میں امارتِ اسلامیہ کا جہاد کرنا اور افغانستان کی تمام اقوام، صوبوں اور مختلف علاقوں میں امارت کا اثر و رسوخ مزید واضح ہو گیا، امریکی جارحیت کے مقابلے میں امارتِ اسلامیہ کے پرچم تلے ملک کے تمام ۳۴ صوبوں میں جہاد شروع ہوا۔

امارتِ اسلامیہ کے پرچم تلے اس جہاد میں جیسا کہ قندھار اور پکتیا کے پشتون مجاہدین شریک تھے، وہیں بدخشاں اور تخار کے تاجک، فاریاب اور جوزجان کے ازبک، نیمروز کے بلوچ، اسی طرح ترکمن، نورستانی، پشئی، عرب افغان، گجر اور دیگر تمام اقوام و علاقوں کے مجاہدین شریک ہیں۔

ملا محمد عمر مجاہد کا ایک بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے ملک بھر سے قومیت و عصبیت کی بحث ہی ختم کر ڈالی، مختلف علاقوں کے مجاہدین کو ایک پرچم تلے جمع کیا، یوں ناصرف ملک کو ٹکڑے ہونے سے محفوظ رکھا بلکہ مسلمانوں کے درمیان سے شکوک و شبہات کے عوامل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

شدت پسندی یا افراطیت کا الزام

ملا محمد عمر مجاہد کی قیادت میں امارتِ اسلامیہ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ تحریک عالمِ اسلام کے دیگر ممالک کے برعکس مختلف افکار و پالیسیوں پر عمل پیرا تھی۔ مثال کے طور پر لوگوں کو نماز کی دعوت دینا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ادارے کا قیام، جس کا مقصد دعوت و اصلاح کی سرگرمیوں کو منظم کرنا تھا۔

اسلام اور اسلامی حکومت کی حقیقت سے بے خبر بعض لوگ امارتِ اسلامیہ کے اس عمل کو شدت پسندی اور طالبان کو انتہا پسندی کا الزام دیتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ اسلامی حکومت کے بنیادی فرائض و ذمہ داریاں کیا ہیں؟

آج پوری دنیا میں سیکولر یا دین سے آزاد نظام رائج ہیں، سیکولر نظام میں حکومت کی بنیادی ذمہ داری بالعموم مادی ترقی، عوامی سہولیات کی فراہمی اور معیارِ زندگی کو بلند کرنا تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن اسلام میں مادی فوائد کا حصول دوسرے درجے میں ہے، کیونکہ اسلامی حکومت اور مسلمان حاکم کے بنیادی فرائض میں وہ امور ہیں، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحج کی آیت نمبر ۴۱ میں کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ۭ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ؀ (سورۃ الحج: ۴۱)

’’یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں، اور زکوۃ ادا کریں، اور لوگوں کو نیکی کی تاکید کریں، اور برائی سے روکیں، اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے۔ ‘‘

اس آیت کریمہ میں تمکین اور طاقت و قوت کے حصول کے بعد مسلمان حکمرانوں کے بنیادی فرائض میں چار چیزوں کا تذکرہ ہے: نماز، زکاۃ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔ ان چار کے علاوہ مسلمان حکمران کی پانچویں ذمہ داری عدل و انصاف کا قیام ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭاِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ؀ (سورۃ ص: ۲۶)

’’ اے داود ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تم لوگوں کے درمیان برحق فیصلے کرو، اور نفسانی خواہش کے پیچھے نہ چلو، ورنہ وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دے گی۔ یقین رکھو کہ جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹک جاتے ہیں، ان کے لیے سخت عذاب ہے، کیونکہ انہوں نے حساب کے دن کو بھلا دیا تھا۔‘‘

لہٰذا اگر ملا محمد عمر نماز کے اہتمام، نمازوں کے قیام، تعلیم و تعلم اور نماز باجماعت کی ادائیگی کے حوالے سے مختلف فرامین جاری کرتے تھے تو اسے کسی طور پر تشدد یا انتہا پسندی قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ ایک مسلمان حکمران کی حیثیت سے یہ ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔

نماز، جسے دین کا ستون (عماد الدین) قرار دیا گیا ہے، اسلام کی اہم ترین عبادت ہے۔ اس کی باجماعت ادائیگی کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین نے ہمیشہ نماز کی امامت اور اس کے اہتمام کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔

امارتِ اسلامیہ کے سرکاری جریدہ کا خصوصی شمارہ ۷۸۸، جو امیر المومنین کے فرامین کے لیے مخصوص تھا، اس میں سب سے زیادہ فرامین نماز سے متعلق ہیں۔ دینِ اسلام کی اس اساسی عبادت پر اس قدر توجہ دراصل خلفائے راشدین اور سلفِ صالحین کی سنت کے احیاء کے مقصد سے تھی۔

مؤطا امام مالک جلد اول چھٹے صفحے پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام نافع سے روایت ہے:

أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ:

إِنَّ أَهَمَّ أَمْرِكُمْ عِنْدِي الصَّلَاةُ، فَمَنْ حَفظَھا وحافظ عَلَيْهَا فَقَدْ حَفِظَ دِينَهُ، وَمَنْ ضَيَّعَهَا فَهُوَ لِمَا سِوَاهَا أَضْيَعُ.

حضرت عمر بن الخطابؓ نے اپنے عاملوں (گورنروں) کو لکھا:

’’میرے نزدیک تمہارے معاملات میں سب سے اہم چیز نماز ہے۔ جس نے نماز کی حفاظت کی اور اس کا خیال رکھا، اس نے اپنے دین کی حفاظت کی، اور جس نے اسے ضائع کیا وہ دیگر امور کو اور زیادہ ضائع کرے گا۔‘‘

حضرت عمر فاروقؓ کا یہ محض کوئی عمومی قول نہیں تھا بلکہ ایک باضابطہ اور رسمی فرمان تھا، جس میں نماز کے اوقات اور اس کے اہتمام سے متعلق ہدایات بھی شامل تھیں۔ اسی طرح بعد کے خلفائے راشدین، خصوصاً حضرت عثمان بن عفانؓ اور حضرت علیؓ سے بھی یہ منقول ہے کہ وہ اپنے دورِ خلافت میں لوگوں کو وضو اور نماز کی تعلیم و تلقین کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نماز ایک مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اقامتِ نماز نہ صرف انسان کے ظاہر و باطن کی اصلاح کا ذریعہ ہے بلکہ اس کے اقوال و افعال کو بھی درست سمت عطا کرتی ہے، یہاں تک کہ قرآنِ کریم کے مطابق نماز انسان کو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔

اسی طرح ’’سیاست‘‘ کا ایک مفہوم امور کی تدبیر اور معاشرتی اصلاح بھی ہے، اس لیے ایک مسلمان حکمران کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ انفرادی و اجتماعی اصلاح کے لیے اقامتِ نماز کی طرف خصوصی توجہ دے۔

قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر بھی آیا ہے، جس سے اس کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ زکوٰۃ بھی اسی طرح ایک اہم فریضہ ہے۔ اگر نماز انسان کی روحانی تربیت کا ذریعہ ہے تو زکوٰۃ فرد اور معاشرے کے لیے مالی نظام کی اصلاح کا وسیلہ بنتی ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان حکمران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس فریضے کی ادائیگی اور اس کے نفاذ کی طرف بھر پور توجہ دے۔

مسلمان حکمران کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے، مسلمان حکمران اس بات کا مکلف ہے کہ اپنی رعیت کو نیکیوں کی طرف بلائے اور برے کاموں سے روکے، یہی تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مفہوم ہے۔

بنیادی بات یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اپنے اپنے درجے میں ہر مسلمان پر فرض ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ ۭ وَلَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّھُمْ ۭمِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ؁ (سورۃ آل عمران: ۱۱۰)

’’ (مسلمانو) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لیے وجود میں لائی گئی ہے، تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا، ان میں سے کچھ تو مومن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے۔‘‘

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِﷺ يَقُولُ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَٰلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ».

’’تم میں سے جو شخص کوئی برائی (منکر) دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے (روک دے)، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنے دل سے (اسے برا جانے)، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔‘‘

فتاویٰ عالمگیری (جلد ۵، صفحہ ۳۵۳) میں مذکور ہے کہ ہاتھ (قوت و اقتدار) کے ذریعے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا نفاذ حکمرانوں اور اصحابِ اقتدار کی ذمہ داری ہے، زبان کے ذریعے اس کی ادائیگی علماء کا فریضہ ہے، جبکہ دل سے برائی کو برا جاننا عام مسلمانوں کا درجہ ہے۔

اس بنا پر، اگر ملا محمد عمر مجاہد ایک مسلمان حکمران تھے، تو شرعی اعتبار سے ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ اپنی قانونی و حکومتی قوت کے ذریعے معاشرے میں نیکی کو فروغ دیں، برائی کا سد باب کریں اور منکرات کی روک تھام کا اہتمام کریں۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی فرائض میں سے ہے۔ جب یہ فریضہ نظر انداز کر دیا جائے تو معاشرے میں فساد، بے راہ روی اور اخلاقی انتشار جنم لیتا ہے۔

جس طرح مغربی سیکولر نظامِ حکومت میں ریاستی امور قانونی اور غیر قانونی کی بنیاد پر منظم ہوتے ہیں، اور حکمران کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قانون کا نفاذ کرے اور لاقانونیت کا خاتمہ کرے، اسی طرح اسلامی شریعت میں انسانی اعمال حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے اصولوں کے مطابق تقسیم ہوتے ہیں۔ لہٰذا مسلمان حکمران کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی شرعی و قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے لوگوں کو حرام اور ناجائز امور سے روکے، نیکی اور معروف کی ترغیب دے، اور معاشرے میں اسلامی اقدار کے تحفظ کی کوشش کرے۔

اس ذمہ داری کی ادائیگی کوشدت پسندی یا انتہا پسندی قرار دینا درست نہیں، بلکہ اسلامی فقہ اور اسلامی تہذیب و تمدن کی رو سے یہ مسلمان حکمران کے بنیادی فرائض میں شمار ہوتی ہے۔

اسی طرح مسلمان حکمران کی بنیادی ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ معاشرے میں عدل و انصاف کو قائم کرے، حدودِ الٰہی کا نفاذ یقینی بنائے، اور شرعی عدالتوں کے ذریعے حقوق ان کے مستحقین تک پہنچائے، تاکہ ہر فرد کو اس کا جائز حق میسر آسکے اور ظلم و ناانصافی کا خاتمہ ہو۔

امارتِ اسلامیہ کے دورِ حکومت میں حدودِ شرعیہ کے نفاذ کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ چوری، ڈاکہ زنی اور راہزنی جیسے جرائم پر شرعی احکام کے مطابق سزائیں دی جاتی تھیں، جبکہ قتل کے مقدمات میں شرعی تقاضوں کے مطابق قصاص کا نفاذ کیا جاتا تھا۔ یہی اقدامات نظامِ عدل و انصاف کے عملی مظاہر تھے۔

اسی نظامِ قانون اور امن و امان کے نتیجے میں افغانستان، جو ایک طویل عرصے تک بدامنی اور خانہ جنگی کا شکار رہا تھا، امن و امان والے ممالک میں سرفہرست میں شمار ہونے لگا۔ حدودِ الٰہی کا نفاذ اور عدل و انصاف کی فراہمی درحقیقت کسی فردِ واحد کا ذاتی کارنامہ نہیں، بلکہ اسلامی شریعت کے بنیادی مقاصد میں سے ہے۔ ملا محمد عمر مجاہد نے، اپنے حامیوں کے نزدیک، ایک مسلمان حکمران کی حیثیت سے انہی شرعی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش کی، اور یہی ان کے منصب کے بنیادی تقاضوں میں شمار ہوتا تھا۔

جو لوگ اسلام کے نظامِ عدل و انصاف کو شدت پسندی کا نام دیتے ہیں، بعید نہیں کہ وہ دینِ اسلام کی حقیقی روح سے ناواقف ہوں، یا پھر احکامِ الٰہی، قوانینِ شریعت اور حدودِ ربانیہ کے بارے میں تعصب، عناد اور ہٹ دھرمی کا شکار ہوں۔

بت شکنی

ملامحمد عمر مجاہد پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ان کے حکم سے افغانستان کے صوبہ بامیان میں بدھ کے بتوں کے علاوہ قدیم مجسموں کو منہدم کیا گیا، یہ موضوع ان موضوعات سے میں ایک تھا، جس پر پوری دنیائے کفر نے شور و غوغا مچایا، لیکن ملا محمد عمر مجاہد ذرہ برابر بھی ان کے دباؤ میں نہ آئے اور افغانستان کی اسلامی سرزمین کو کفر اور شرک کے آثار سے پاک و صاف کر دیا۔

ملا محمد عمر مجاہد دیگر تمام مسائل کی طرح اس مسئلے کو بھی دینی نقطہ نظر سے دیکھتے تھے، اگر ہم قرآن کریم، احادیث نبویہ اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ کریں، تو صاف پتہ چلتا ہے کہ ملا صاحب کا یہ حکم اگرچہ دشمنانِ اسلام کے مزاج کے مطابق نہ تھا، مگر اسلامی تعلیمات سے بالکل مطابق اور ہم آہنگ بلکہ مقصود تھا۔

اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنا ہے، اور بتوں اور مجسموں کی تعظیم و توقیر ہی اسی لیے کی جاتی ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک گردانتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ مبغوض ترین چیزوں میں شامل ہیں، اور انبیاء کو انہیں توڑنے اور منہدم کرنے کا حکم ہوا ہے۔

قرآن کریم میں ابراہیم ﷤ کا بتوں کو توڑنے کا واقعہ، اسی طرح موسی ﷤ کی طرف سے سامری کے بنائے گئے بت کو جلا کر ذرہ ذرہ کرنے کے واقعات بیان ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے سامری کے بت والے واقعے میں موسی﷤ سے حکایت کرتے ہوئے فرمایا:

وَانْظُرْ اِلٰٓى اِلٰهِكَ الَّذِيْ ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ۭ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِي الْيَمِّ نَسْفًا؀ اِنَّمَآ اِلٰــهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا؁ (سورۃ طہ: ۹۷،۹۸)

’’ اور دیکھ اپنے اس (جھوٹے) معبود کو جس پر تو جما بیٹھا تھا ! ہم اسے جلا ڈالیں گے، اور پھر اس (کی راکھ) کو چورا چورا کر کے سمندر میں بکھیر دیں گے۔ حقیقت میں تم سب کا معبود تو بس ایک ہی اللہ ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ‘‘

اسی طرح احادیث میں آیا ہے کہ ہمارے پیغمبر محمد ﷺ کی ایک اہم ذمہ داری بتوں کو توڑنا اور ان کا انہدام تھا۔

عن عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ أنه قال للنبيﷺ: وَبِأَيِّ شَيْءٍ أَرْسَلَكَ؟ قَالَ: أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ، وَكَسْرِ الْأَوْثَانِ، وَأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ لَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ…» رواہ مسلمَ

’’حضرت عمرو بن عبسہؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ آپ کو کس مقصد کے لیے بھیجا گیا ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا: صلہ رحمی کے لیے، بتوں کو توڑنے اور اس لیے بھیجا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو اکیلا مانا جائے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔‘‘

اسی طرح صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، طبقات ابن سعد اور دیگر کتبِ احادیث و تاریخ میں متعدد روایات موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فتحِ مکہ کے موقع پر خانۂ کعبہ اور اس کے گرد و نواح میں موجود تمام بتوں کو توڑ ڈالا۔ اسی طرح مختلف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، جن میں جریر بن عبداللہ، خالد بن ولید، مغیرہ بن شعبہ، ابو سفیان بن حرب، علی بن ابی طالب، عمرو بن العاص اور طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہم شامل ہیں، کو مختلف علاقوں جیسے یمن، نخلہ، طائف، الفلس اور دیگر مقامات کی طرف روانہ کیا گیا تاکہ وہاں موجود مشرکین کے معروف بتوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔

تاریخی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو افغانستان جیسے خطے میں بھی بت شکنی کی مثالیں ملتی ہیں۔ معجم البلدان جلد دوم، صفحہ ۴۳۴ میں مذکور ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں، جب عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مجاہدین نے سیستان کے علاقے کو فتح کیا تو زمینداور کے علاقے میں ایک پہاڑ پر سونے سے بنا ہوا ایک بت موجود تھا، جس کے ہاتھ عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے توڑ دیے، اور بعد ازاں مجاہدین نے اسے مکمل طور پر منہدم کر دیا۔

اسی طرح ابن الجوزی نے تلبیس ابلیس صفحہ ۷۷ میں ذکر کیا ہے کہ جب مسلمان پہلی مرتبہ بلخ پہنچے تو وہاں موجود ایک عظیم بت کو توڑ دیا گیا۔ اسی طرح مؤرخ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں سلطان محمود غزنوی کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ۳۱۶ ہجری میں ہندوستان پر حملے کے دوران سومنات کے مشہور بت کو منہدم کیا۔

بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر بامیان کے بتوں کو توڑنا درست عمل تھا تو سابقہ مسلمان حکمرانوں نے اسے کیوں انجام نہ دیا؟

یہ سوال صرف بامیان کے بتوں تک ہی محدود نہیں بلکہ مصر کے فرعونی اہرامات اور دیگر قدیم آثار کے بارے میں بھی اٹھایا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں علامہ ابن خلدون نے مقدمہ صفحہ ۳۸۳ میں وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قدیم زمانے کے یہ بت اور آثار صدیوں کے عرصے میں اس قدر مضبوط اور عظیم الشان انداز میں تعمیر کیے گئے تھے کہ انہیں منہدم کرنا نہایت دشوار تھا۔ اسی تناظر میں ذکر ملتا ہے کہ عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے کسریٰ کے ایوان کو گرانے کا ارادہ کیا، اور مامون نے مصر کے اہرامات کو منہدم کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ عظیم الشان آثار اپنی مضبوط ساخت کے باعث مکمل طور پر ختم نہ کیے جا سکے۔

اسی طرح بامیان کے بدھ مجسموں کے بارے میں تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے خلاف مختلف ادوار میں جزوی کارروائیاں بھی ہوئیں، جن سے ان کے بعض حصے جیسے پاؤں اور بدن کے دیگر اعضاء متاثر ہوئے تھے۔ بعض روایات کے مطابق اموی دور میں ولید بن عبدالملک، بعد کے ادوار میں اورنگزیب عالمگیر اور بعد ازاں امیر عبدالرحمن کے زمانے میں بھی ان مجسموں کے بعض حصوں کو نقصان پہنچانے یا ختم کرنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم چونکہ یہ مجسمے سخت چٹانی ساخت سے تراشے گئے تھے، اس لیے قدیم وسائل کے ذریعے ان کا مکمل انہدام نہایت دشوار امر تھا۔

خلاصہ یہ ہے کہ ملا محمد عمر مجاہد بت شکنی کے موضوع کو دینی زاویۂ نظر سے دیکھتے تھے، اور اسی زاویے سے بتوں کو توڑنا ایک احسن اور تاریخی اعتبار سے بہترین عمل سمجھا جاتا تھا۔ اس تصور کے مطابق ملا صاحب نے حضرت ابراہیم ﷤، حضرت موسیٰ ﷤، رسول اللہ ﷺ، حضرت علی بن ابی طالب، خالد بن ولید، عمرو بن العاص، عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہم، اور افغان تاریخی شخصیت سلطان محمود غزنوی ﷫کے کارنامے کو دوبارہ زندہ کیا۔ اس کے نتیجے میں اہلِ ایمان و توحید خوش ہوئے، جبکہ کفر، شرک اور فسق کے پیروکار ناراض ہوئے۔

جب بامیان کے بدھ مجسموں کو توڑنے کی تیاریاں جاری تھیں تو امریکی ریاست نیویارک کے مشہور میٹرو پولیٹن میوزیم کی طرف سے طالبان کو یہ پیشکش کی گئی کہ ان بتوں کو توڑنے کے بجائے انہیں فروخت کر دیا جائے، لیکن ملا صاحب نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ تاریخ میں انہیں بت فروش کے بجائے بت شکن کے نام سے یاد کیا جائے۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

Exit mobile version