آبادکاروں کی دہشت گردی صہیونی خواب کی جدید شکل

انیسویں صدی کے اواخر میں صہیونی تحریک کے باقاعدہ آغاز سے کئی دہائیاں پہلے، جرمن یہودی مفکر موسیٰ ہیس(Moses Hess) نے اپنے متنازع مسودے “Rome and Jerusalem: The Last National Question (1862)” میں تجویز پیش کی کہ فلسطین میں آباد کاری کے ذریعے ایک یہودی ریاست قائم کی جائے، جسے ’’سوشلسٹ زرعی برادریوں‘‘(socialist agricultural communities) کی شکل دی جائے۔

اس نے فلسطین کی نوآباد کاری کی حمایت کی اور ارضِ مقدس کو سلطنتِ عثمانیہ کے ایک فراموش شدہ گوشے کے طور پر دیکھا، محض ایک ایسی خالی سرزمین کے طور پر جسے ’’یہودی قوم‘‘ کے مفاد میں استعمال کیا جانا چاہیے۔

بیس برس بعد، 1882ء میں، روسی یہودی مفکر لیون پنسکر(Leon Pinsker) نے ’’خود آزادی‘‘ (Auto-Emancipation) کے عنوان سے ایک کتابچہ شائع کیا، جس میں اس نے لکھا: ’’ہم جو زمین خریدنے والے ہیں، وہ زرخیز اور اچھی جگہ پر واقع ہونی چاہیے، اور اس کا رقبہ اتنا وسیع ہو کہ کئی ملین افراد کو آباد کیا جا سکے‘‘۔

صہیونیت کے بڑے نظریہ سازوں کے ہاں مقامی فلسطینی قوم کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ ان کے نزدیک فلسطین ’’ایک خالی سرزمین‘‘ تھا۔

حتیٰ کہ پنسکر کے ہاں بھی اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ وہ یہ زمین کس سے خریدنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ بنیادی مقصد تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے ایک یہودی آبادکارنوآبادیاتی ریاست قائم کرنا تھا۔

ہگانا (Haganah) اور لیحی (Lehi) جیسی نیم فوجی تنظیمیں، جو اپنی نوعیت میں دہشت گرد تنظیمیں تھیں، فلسطین میں اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کرتی رہیں۔ نکبہ کے دوران 500 سے زائد فلسطینی شہروں اور دیہات کی نسلی تطہیر، بڑے پیمانے پر قتلِ عام، نسل کشی اور مکمل تباہی کا سلسلہ جاری رہا، اس عمل میں تاریخی فلسطین کا بیشتر حصہ چھن گیا اور 750,000 سے زیادہ فلسطینیوں کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

جب 1948ء میں اسرائیل قائم ہوا تو یہ دہشت گرد تنظیمیں، ان کے ارکان اور رہنما، سب اس میں ضم ہو گئے جسے آج اسرائیلی فوج کے نام سے جانا جاتا ہے۔

1948ء تک اسرائیل دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے تاریخی فلسطین کے 78 فیصد حصے کو پہلے ہی نوآبادیاتی قبضے میں لے چکا تھا۔ دو دہائیوں سے بھی کم عرصے بعد، بالخصوص 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے دوران، اسرائیل نے باقی ماندہ فلسطینی علاقوں، یعنی غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے، بشمول مشرقی یروشلم، کو بھی نوآبادیاتی قبضے میں لے لیا۔

اسرائیلی کمانڈروں نے اسے 1948ء میں ادھورا رہ جانے والے کام کی تکمیل کے طور پر دیکھا۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع 1967ء سے مسلسل جاری ہے، حتیٰ کہ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے ساتھ نام نہاد ’’امن عمل‘‘ کے دوران بھی۔

بیشتر مین سٹریم اسرائیلیوں اور صہیونیوں کے نزدیک اسرائیل کو ایک خالصتاً یہودی ریاست ہونا چاہیے جو تمام فلسطینی سرزمین پر کنٹرول رکھتی ہو۔ فطری طور پر، مغربی کنارہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ صہیونی نظریہ سازوں کے لیے اسرائیل، یا نام نہاد ’’عظیم تر اسرائیل‘‘، کا ایسا تصور تقریباً مضحکہ خیز ہے جس میں مغربی کنارے کی مکمل محکومی اور مکمل نوآباد کاری شامل نہ ہو۔

قانونی اعتبار سے اسرائیل نے فلسطینی علاقوں پر اپنے فوجی کنٹرول اور نوآبادیاتی قبضے کو کبھی ’’قبضہ‘‘ تسلیم نہیں کیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقے، غزہ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم، متنازع علاقے ہیں، جہاں فلسطینی محض رہائشی ہیں، شہری نہیں۔

1967ء کی چھ روزہ جنگ کے بعد سے فوجی احکامات کے ذریعے فلسطینیوں کی محکومی میں بتدریج اضافہ کیا گیا ہے۔ ایسے 2,500 سے زیادہ احکامات جاری کیے جا چکے ہیں جن کے ذریعے فلسطینی زمین ضبط کی گئی، یہودی بستیاں تعمیر اور وسیع کی گئیں، سڑکیں بند کی گئیں اور زندگی کے تمام پہلوؤں کو کنٹرول کیا گیا۔ مقصد فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق، بشمول نقل و حرکت، تعلیم اور آزادی، سے محروم کرنا ہے۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران اسرائیل نے فلسطینی زمین کی غیر قانونی ضبطی اور بستیوں کی توسیع میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس وقت تقریباً 750,000 اسرائیلی آبادکار مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں رہتے ہیں۔ یہ توسیع صرف انفرادی سطح پر تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے نہیں بلکہ زیادہ نمایاں طور پر ریاست کی مکمل مالی اور فوجی سرپرستی میں کی جا رہی ہے۔

7 اکتوبر 2023ء سے مغربی کنارے میں آبادکاروں کی دہشت گردی میں غیر معمولی شدت آئی ہے، جسے اسرائیلی فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ آبادکاروں کی دہشت گردی کی منظم مہمات، جن کے ساتھ علاقے کے نوآبادیاتی انتظامی اور قانونی ڈھانچے میں ریاست کی جانب سے کی جانے والی نمایاں تبدیلیاں بھی شامل ہیں، نے بدوی آبادیوں کی بے دخلی، مویشی چرانے کے لیے قائم چوکیوں کے پھیلاؤ اور فلسطینی برادریوں کی بڑھتی ہوئی تقسیم و انتشار کو جنم دیا ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیاں فلسطینی دیہات اور شہروں کو ایک دوسرے سے کاٹ کر انہیں منتشر اور منقسم کر دیتی ہیں۔ ریاستی پالیسیاں اور اقدامات اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں، جن میں سینکڑوں فوجی چیک پوسٹوں، دروازوں اور سڑکوں پر دیگر رکاوٹوں کی تنصیب اور نگرانی شامل ہے۔

یہ حالات کسی ایک فلسطینی شہر یا گاؤں کو دوسرے سے ملانا تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں، جس سے امن کے امکانات اور ایک قابلِ عمل مستقبل کی فلسطینی ریاست کے امکانات دونوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

آبادکار فلسطینیوں کی زمین چوری کرتے ہیں اور انہیں اس پر کاشت کرنے سے روکتے ہیں، اور یہ سب کچھ اسرائیلی فوج کے تحفظ میں ہوتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی پالیسیاں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں، جن میں نسلی امتیاز اور ایذا رسانی شامل ہیں۔

اسرائیل کا حتمی مقصد مقبوضہ علاقوں کے مکمل الحاق اور تمام فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے، یا متبادل طور پر انہیں بکھرے ہوئے اور ایک دوسرے سے الگ جغرافیائی علاقوں میں محصور کر دینا ہے۔

روایتی صہیونی نظریہ سازوں نے اسرائیل کے قیام سے بہت پہلے فلسطینی قوم کے وجود ہی سے انکار کر دیا تھا۔ آج اسرائیلی پالیسی اور آبادکاروں کی دہشت گردی انسانیت کے مرتبے سے گرانے کے ایک جاری عمل کے ذریعے فلسطینیوں کے وجود اور شناخت سے انکار کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس کا ایک نمایاں اظہار اسرائیل کے سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے اس بیان میں ہوا، جب اس نے اکتوبر 2023ء میں غزہ کا مکمل محاصرہ کرنے کا حکم دیا اور کہا: ’’بجلی نہیں ہو گی، خوراک نہیں ہو گی، ایندھن نہیں ہو گا، سب کچھ بند ہے۔ ہم انسان نما جانوروں سے لڑ رہے ہیں اور اسی کے مطابق عمل کر رہے ہیں‘‘۔

ابتدائی صہیونی مفکرین نے، ہیس (Hess) سے لے کر پنسکر (Pinsker) اور زیو جابوٹنسکی (Zeev Jabotinsky) تک، مقامی آبادی کے خلاف دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے فلسطین کو نوآبادیاتی قبضے میں لینے کی راہ ہموار کی۔ آج مقبوضہ مغربی کنارے میں منظم اسرائیلی آبادکار دہشت گردی، جسے ریاستی پالیسی کی پشت پناہی حاصل ہے، مزید فلسطینیوں کی بے دخلی اور یہودی بستیوں کی مزید توسیع کا سبب بن رہی ہے۔

سوال یہ ہے کہ فلسطینی اس سخت اور نسل پرستانہ اسرائیلی اپارتھائیڈ اور جارحیت کو آخر کب تک برداشت کر سکتے ہیں؟ مغربی کنارے کی جدید تاریخ کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فلسطینیوں پر بڑھتا ہوا اور شدید ہوتا دباؤ بالآخر ایک نئی انتفاضہ کا باعث بن سکتا ہے۔

[یہ مضمون ایک معاصر آن لائن جریدے میں شائع ہو چکا ہے۔ مستعار مضامین، مجلے کی ادارتی پالیسی کے مطابق شائع کیے جاتے ہیں۔ (ادارہ)]

٭٭٭٭٭

Exit mobile version