محمد ابراہیم لَڈوِک (زید مجدہ) ایک نو مسلم عالمِ دین ہیں جنہوں نے عالَمِ عرب کی کئی جامعات میں علم دین حاصل کیا۔ موصوف نے کفر کے نظام اور اس کی چالوں کو خود اسی کفری معاشرے اور نظام میں رہتے ہوئے دیکھا اور اسے باطل جانا، ثم ایمان سے مشرف ہوئے اور علمِ دین حاصل کیا اور حق کو علی وجہ البصیرۃ جانا، سمجھا اور قبول کیا، پھر اسی حق کے داعی بن گئے اور عالَمِ کفر سے نبرد آزما مجاہدین کے حامی اور بھرپور دفاع کرنے والے بھی بن گئے (نحسبہ کذلك واللہ حسیبہ ولا نزکي علی اللہ أحدا)۔ انہی کے الفاظ میں: ’میرا نام محمد ابراہیم لَڈوِک ہے ( پیدائشی طور پر الیگزانڈر نیکولئی لڈوک)۔ میں امریکہ میں پیدا ہوا اور میں نے علومِ تاریخ، تنقیدی ادب، علمِ تہذیب، تقابلِ ادیان، فلسفۂ سیاست، فلسفۂ بعد از نو آبادیاتی نظام، اقتصادیات، اور سیاسی اقتصادیات امریکہ اور جرمنی میں پڑھے۔ یہ علوم پڑھنے کے دوران میں نے ان اقتصادی اور معاشرتی مسائل پر تحقیق کی جو دنیا کو متاثر کیے ہوئے ہیں اور اسی دوران اس نتیجے پر پہنچا کہ اسلام ایک سیاسی اور اقتصادی نظام ہے جو حقیقتاً اور بہترین انداز سے ان مسائل کا حل لیے ہوئے ہے اور یوں میں رمضان ۱۴۳۳ ھ میں مسلمان ہو گیا‘، اللہ پاک ہمیں اور ہمارے بھائی محمد ابراہیم لڈوک کو استقامت علی الحق عطا فرمائے، آمین۔جدید سرمایہ دارانہ نظام، سیکولر ازم، جمہوریت، اقامتِ دین و خلافت کی اہمیت و فرضیت اور دیگر موضوعات پر آپ کی تحریرات لائقِ استفادہ ہیں۔ مجلہ ’نوائے غزوۂ ہند‘ شیخ محمد ابراہیم لَڈوِک (حفظہ اللہ) کی انگریزی تالیف ’Islamic Boycotts in the Context of Modern War ‘ کا اردو ترجمہ پیش کر رہا ہے۔ (ادارہ)
شبہات
بائیکاٹ اور بائیکاٹ کرنے کے حوالے سے متعدد عام اعتراضات پائے جاتے ہیں۔ دوسروں کو بائیکاٹ کی ترغیب دیتے وقت ان دلائل سے واقف ہونا مفید ہے، اور اس سے اپنے عزم کو بھی مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
۱۔ حاکم کو بائیکاٹ کا اعلان کرنا چاہیے
سعودی نظامِ حکومت کے حامیوں کی جانب سے ایک عام دلیل یہ دی جاتی ہے کہ بائیکاٹ کا اعلان حاکم کو کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ حاکم ہی اس بات کو جاننے کی بہترین پوزیشن میں ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے کیا چیز مفید ہے اور کیا نقصان دہ۔ لہٰذا مسلمانوں کو صرف اسی صورت میں بائیکاٹ کرنا چاہیے جب حاکم بائیکاٹ کی اپیل کرے۔ سعودی حکومت سے ہم آہنگ علماءکے بارے میں یہ بات معروف ہے کہ وہ صہیونی قبضے یا امریکہ کے خلاف بائیکاٹ کی اہمیت کو کم کر کے پیش کرتے ہیں، لیکن ترکی اور قطر کے خلاف سعودی قیادت میں کیے جانے والے بائیکاٹ کی حمایت کرتے ہیں، کیونکہ یہ دونوں ممالک اخوان المسلمون کی تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔
اسے اس دلیل کی ایک ذیلی صورت سمجھا جا سکتا ہے کہ جہاد صرف امیر کی موجودگی میں ہی کیا جا سکتا ہے۔ معاشی جنگ جہاد کا ایک حصہ ہے، اور اگرچہ امیر کی قیادت میں جہاد کہیں زیادہ مؤثر ہوتا ہے، لیکن شریعت یا منطق، دونوں میں سے کسی اعتبار سے بھی امیر کی موجودگی اس کے لیے ایک لازمی شرط نہیں ہے۔ یہ بات بالخصوص دفاعی جہاد کے معاملے میں درست ہے، جہاں بچے پر بھی والدین کی اجازت کے بغیر لڑنا لازم ہو جاتا ہے اور غلام پر بھی اپنے مالک کی اجازت کے بغیر لڑنا لازم ہے، جیسا کہ پہلے باب میں ذکر ہو چکا ہے۔
متعدد علماءنے ہر صورتِ حال میں جہاد جاری رکھنے کے فرض پر گفتگو کی ہے۔ ابن قدامہ، ، نے فرمایا:
فإن عدم الإمام لم يؤخر الجهاد لأن مصلحتة تفوت بتأخيرة1المغنی: 8: 253
’’امام کی عدم موجودگی جہاد کو مؤخر نہیں کرتی، کیونکہ اسے مؤخر کرنے سے اس کے بہت سے فوائد ضائع ہو جاتے ہیں۔‘‘
المیمونی نے فرمایا:
لو اختلفوا على رجلين لم يتعطّل الغزو والحج. هذان بابان لا يدفعهما شيءٌ أصلاً2الفروع وتصحيح الفروع: 10: 27
’’اگر وہ دو آدمیوں میں سے کسی ایک کو قائد بنانے کے معاملے میں اختلاف کریں تو فوجی مہمات اور حج ہرگز نہیں رکتے۔ یہ ایسے دو امور ہیں جنہیں کسی بھی صورت میں نہیں رکنا چاہیے۔‘‘
المروزی نے فرمایا:
يجب الجهاد بلا إمام إذا صاحوا النّفير3ایضاً
’’ہنگامی صورتِ حال میں امام کے بغیر جہاد واجب ہے۔‘‘
ابو داود سے جب امام کے بغیر جہاد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:
الغزو دفع عن المسلمين لا يترك لشيء4ایضاً
’’عسکری مہمات مسلمانوں کے دفاع کے لیے ہوتی ہیں اور انہیں کسی بھی وجہ سے ترک نہیں کیا جاتا۔‘‘
فطری طور پر امیر کی قیادت میں جہاد کرنا زیادہ پسندیدہ اور زیادہ مؤثر ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ سنت سے ثابت ہے۔ تاہم، عسکری اعتبار سے مؤثر اقدامات کا از خود کیا جانا بھی سنت سے ثابت ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَکْوَعِ يَقُولُ خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالْأُولَی وَکَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَی بِذِي قَرَدَ قَالَ فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ قَالَ فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ يَا صَبَاحَاهْ قَالَ فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَی وَجْهِي حَتَّی أَدْرَکْتُهُمْ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنْ الْمَائِ فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي وَکُنْتُ رَامِيًا وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعْ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ وَأَرْتَجِزُ حَتَّی اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً قَالَ وَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَائَ وَهُمْ عِطَاشٌ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ السَّاعَةَ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَکْوَعِ مَلَکْتَ فَأَسْجِحْ قَالَ ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی نَاقَتِهِ حَتَّی دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ5صحیح بخاری
’’قتیبہ بن سعید، حاتم، یزید بن ابی عبید، سلمہ بن اکوعؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں صبح کی اذان سے پہلے (جنگل کی طرف) نکلا۔ مقام ذی قرد میں نبی ﷺ کی دودھ والی اونٹنیاں چر رہی تھیں۔ مجھ سے عبدالرحمن بن عوف کا غلام ملا اور بتایا کہ آنحضرت ﷺ کی اونٹنیاں پکڑی گئیں۔ میں نے پوچھا کس نے پکڑا ؟ اس نے جواب دیا کہ (قوم) غطفان نے۔ تو میں نے تین آوازیں یا صبا حاہ (یہ کلمہ دشمن کی آمد کی اطلاع پر لوگوں کو جمع کرنے کے لیے بولا جاتا ہے) کہہ کر لگائیں جس سے قیام اہل مدینہ کو خبر ہو گئی۔ پھر میں فورا سیدھا چلا حتیٰ کہ ان کافروں کو جا پکڑا وہ ان اونٹنیوں کو پانی پلانے لگے تو میں ان پر تیر چلانے لگا اور میں (بڑا) تیر انداز تھا۔ میں یہ رجز پڑھتا رہا کہ میں ابن اکوع ہوں آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے، حتیٰ کہ میں نے ان سے اونٹنیوں کو چھڑا لیا اور میں نے ان سے تیس چادریں بھی چھین لیں۔ سلمہ کہتے ہیں کہ پھر آنحضرت ﷺ اور دوسرے لوگ بھی آگئے، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں نے ان لوگوں کو پانی بھی نہیں پینے دیا حالانکہ وہ پیاسے تھے لہٰذا فوراً ان کے تعاقب میں لوگوں کو بھیج دیجیے۔ آپ نے فرمایا : اے ابن اکوع ! تم نے انہیں بھگا دیا ہے لہٰذا اب چھوڑو بھی، سلمہ کہتے ہیں پھر ہم واپس آ گئے اور رسول اللہﷺ اپنی اونٹنی پر مجھے پیچھے بٹھا کر لائے حتیٰ کہ ہم مدینہ میں داخل ہو گئے۔ ‘‘
کویتی فقہی انسائیکلوپیڈیا اس موضوع کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے:
صرح الشافعية والحنابلة بأنه يكره الغزو من غير إذن الإمام أو الإمير المولى من قبله, لإن الغزو على حسب حال الحاجة, ولإمام أو الأمير أعرف بذلك, ولا يحرم, لأنه ليس فيه أكثر من التغير بالنفس, والتغير بالنفس يجوز في الجهاد. ولأن أمر الحرب موكول إلى الأمير, وهو أعلم بكثرة العدو وقلتهم, ومكامن العدو وكيدهم, فينبغي أن يرجع إلى رأيه, لأنه أحوط للمسلمين, إلا أن يفجأهم عدو يخافون تمكنه, فلا يمكنهم الاستئذان, فيسقط الإذى باقتضاء قتالهم, والخروج إليهم لحصول الفساد بتركهم انتظارا للإذن.
ودليل ذلك أنه لما أغار الكفار على لقاح النبي صلى الله عليه وسلم صادفهم سلمة بن الأكوع خارجا من المدينة فتبعهم وقاتلهم من غير إذى, فمدحه النبي صلى الله عليه وسلم وقال: خير رجالتنا سلمة بن الأكوع, وأعطاه سهم فارس وراجل.
’’شافعی اور حنبلی مذاہب نے صراحت کی ہے کہ امام یا اس کے مقرر کردہ کمانڈر کی اجازت کے بغیر جہاد کرنا مکروہ ہے، کیونکہ جہاد کی ضرورت حالات کے مطابق مختلف ہوتی ہے اور امام یا کمانڈر اس معاملے کو زیادہ بہتر جانتا ہے۔ تاہم، یہ حرام نہیں ہے، کیونکہ زیادہ سے زیادہ اس میں انسان کی اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا لازم آتا ہے، اور جہاد میں اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا جائز ہے۔
جنگ کا حکم کمانڈر کے سپرد ہے، اور وہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ دشمن تعداد میں زیادہ ہے یا کم، اور وہ کس طرح گھات لگاتا اور جنگی تدبیریں اختیار کرتا ہے۔ لہٰذا اس کے فیصلے پر اعتماد کرنا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے زیادہ محتاط طریقہ ہے۔ البتہ اگر دشمن اچانک حملہ کر دے اور اجازت لینا ممکن نہ ہو، اس خوف سے کہ دشمن کو اپنی طاقت بڑھانے کا موقع مل جائے گا، تو اس سے لڑنا ناگزیر ہونے کی وجہ سے اجازت کی شرط ختم ہو جاتی ہے، اور اجازت کے انتظار سے ہونے والے نقصان کو روکنے کے لیے دشمن کے خلاف نکلنا جائز ہو جاتا ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ جب کفار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کیا تو سلمہ بن اکوع مدینہ سے نکلتے ہوئے ان سے جا ملے اور بغیر اجازت ان کا تعاقب کیا اور ان سے جنگ کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف کی اور فرمایا: ’ہمارے پیادوں میں سب سے بہترین سلمہ بن اکوع ہیں‘، اور انہیں گھڑ سوار اور پیادے، دونوں کا حصہ عطا فرمایا۔‘‘
اس طرح کے اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ قیادت اہم ہے، لیکن کسی بھی صورتِ حال میں جہاد کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ یہ مسلمانوں کی بہبود کے لیے ناگزیر ہے۔ درحقیقت، مشرق سے مغرب تک آج مسلمانوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے، وہ جہاد ترک کرنے کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح کفار کو جو تحفظ حاصل ہے، وہ ان کے جہاد کا نتیجہ ہے، اگرچہ وہ طاغوت کی راہ میں جہاد ہے، اللہ کی راہ میں نہیں۔
مغربی طاقتیں ہر اس شخص کو سزا دینے کے لیے بڑی مقدار میں دولت اور وسائل صرف کرتی ہیں جو ان کے شہریوں کو دھمکائے یا انہیں نقصان پہنچائے۔ یہی وجہ بھی ہے کہ لاکھوں مسلمان مغربی ممالک کی شہریت حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں، حالانکہ اس شہریت کے ساتھ ملنے والا تحفظ دین کے حوالے سے فتنوں کے ساتھ آتا ہے۔ کفار کو اپنا ولی بنا کر مسلمانوں کو مرتد ہونے کی اس ترغیب کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان، مسلمانوں کو سیاسی اور عسکری تحفظ فراہم کریں۔
یہ بحث براہِ راست جنگی کارروائی سے متعلق ہے، جو خرید و فروخت سے کہیں زیادہ سنگین معاملہ ہے۔ جیسا کہ پہلے باب میں بیان کیا گیا تھا، معاشی جنگ جدید جنگ کا ایک بنیادی حصہ ہے، لہٰذا اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے لیے بھی جنگ کے ان حصوں میں اپنی استطاعت کی حد تک حصہ لینا نہ صرف جائز، بلکہ ضروری ہو گا۔
یہ مفروضہ کہ قومی رہنما مسلمانوں کے بہترین مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہیں، مضحکہ خیز ہے۔ ایک متحد اسلامی سلطنت کا امام امت کے مفادات کے مطابق فیصلے کر سکتا ہے، لیکن مسلمان آج درجنوں الگ الگ حکمرانوں کے زیرِ اقتدار ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنے ذاتی مفادات اور ان چھوٹی چھوٹی علاقائی اکائیوں کے مفادات کے حصول میں لگا ہوا ہے جنہیں نوآبادکاروں نے امت کو کمزور اور تقسیم کرنے کے لیے تشکیل دیا تھا۔
قوم پرستانہ سیاسی شناختیں اور طریقۂ کار مسلمانوں کی سرزمین پر موجودہ قبضے اور نوآبادیاتی تسلط کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ اللہ اس جدوجہد میں صرف انہی لوگوں کی مدد کرے گا اور انہیں فتح عطا کرے گا جو قرآنی اور سنت کے اصولوں کے مطابق اسلامی شناخت کی بنیاد پر عمل کریں گے۔ وحی اور زمینی حقیقت، دونوں اس کی گواہی دیتے ہیں۔
اگر کوئی ایسا رہنما، جو بظاہر اسلام اور مسلم امت کے مفادات کے مطابق حکومت کر رہا ہو، اپنی رعایا سے بائیکاٹ نہ کرنے کا مطالبہ کرے تو اس کے حکم کی اطاعت درست ہو سکتی ہے۔ تاہم، بیشتر مسلمانوں کی موجودہ صورتِ حال اس منظر نامے سے اتنی دور ہے کہ یہاں اس کا ذکر کرنا بھی شاید ہی ضروری ہو۔
یہ اصول درست ہے کہ بعض اقسام کے بائیکاٹ، اہل اور با صلاحیت قیادت کے بغیر نافذ کیے جائیں تو نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس خطرے سے بچنے کے لیے ہمیں ایسے افراد کے ساتھ فعال شوریٰ میں مشغول ہونا چاہیے جو شریعت اور موجودہ حالات کا علم رکھتے ہوں اور جن کے بارے میں ہمیں یقین ہو کہ وہ پوری امت کے بہترین مفادات کے خواہاں ہیں۔ یہ کتاب اسی طرح کی مشاورت میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے لکھی گئی ہے۔
۲۔ نبی ﷺ نے کفار کے ساتھ لین دین کیا
بائیکاٹ کے بعض مخالفین مغربی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو یہ دلیل دے کر درست قرار دیتے ہیں کہ کفار سے خرید و فروخت کرنا حلال ہے۔ کفار کے ساتھ کاروباری معاملات کے جواز پر متعدد دلائل موجود ہیں۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ مُشْرِکٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعًا أَمْ عَطِيَّةً أَوْ قَالَ أَمْ هِبَةً قَالَ لَا بَلْ بَيْعٌ فَاشْتَرَی مِنْهُ شَاةً6صحیح بخاری
’’عبدالرحمن بن ابی بکر سے روایت کرتے ہیں انھوں نے بیان کیا کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے پھر ایک مشرک آدمی آیا جو لمبا تھا اور اس کے سر کے بال یشان تھے بکریاں ہانک رہا تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا بیچنا چاہتا ہے یا عطیہ یا ہبہ کے طور پر دینا چاہتا ہے اس نے کہا نہیں بلکہ بیچتا ہوں تو آپ نے اس سے بکری خرید لی۔‘‘
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَی مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا إِلَی أَجَلٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ7سنن ابن ماجہ
’’عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا کہرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک یہودی سے ادھار اناج خریدا اور اپنی زرہ گروی رکھ دی۔‘‘
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَدِرْعُهُ رَهْنٌ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ8سنن ابن ماجہ
کفار کے ساتھ کاروباری معاملات کے جواز کے لیے پیش کیا جانے والا ایک اور ثبوت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ وہ خیبر کی زمینوں پر کاشت کاری کریں گے اور اس کے بدلے زمین کی پیداوار کا نصف انہیں دیا جائے گا۔
ان دلائل کی بنیاد پر علمائے دین اس بات پر متفق ہیں کہ اصولی طور پر کفار کے ساتھ تجارت جائز ہے۔ تاہم، جن اشیا کی خرید و فروخت ہو، وہ کسی بھی طرح کفار کو مسلمانوں کے خلاف جنگی کوششوں یا ان کے مذہب میں مدد دینے والی نہیں ہونی چاہییں۔ اس میں خام مال بھی شامل ہے، مثلاً مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کفار کو لوہا فروخت کرے، کیونکہ وہ اسے ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
بعض علماء نے جنگ اور امن کے زمانے میں بھی فرق کیا ہے۔ ہارون الرشید کے زمانے میں مدینہ کے مفتی ابن الماجشون نے کہا کہ دارالحرب کے کفار کو اس وقت خوراک فروخت کرنا جائز ہے جب جنگ بندی ہو، لیکن جنگ کے زمانے میں یہ ممنوع ہے۔9منح الجليل شرح مختصر خليل: 4: 443
جہاں تک خدمات کا تعلق ہے، علماء اس بات پر متفق ہیں کہ کسی کافر کا مسلمان کے لیے کام کرنا جائز ہے، لیکن اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ آیا مسلمان کسی کافر کے ہاں ملازم کی حیثیت سے کام کر سکتا ہے۔ کویتی فقہی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق، احناف نے کفار کی خدمت کرنے کی اجازت دی ہے، لیکن اسے ناپسندیدہ قرار دیا ہے، کیونکہ ملازمت کرنا ایک طرح کی ذلت ہے، اور مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے، خصوصاً کسی کافر کے سامنے۔
مالکیوں نے کفار کے لیے کام کرنے کو چار اقسام میں تقسیم کیا ہے: جائز، مکروہ، ممنوع اور حرام۔ جائز کام وہ ہے جو مسلمان کافر کے لیے ایسی جگہ انجام دے جو مسلمان کی ملکیت ہو، مثلاً گھر میں قائم اپنی ورکشاپ میں کافر کے لیے کوئی چیز تیار کرنا۔ کسی کافر کے لیے ایسے طریقے سے کام کرنا مکروہ ہے جس میں کافر کو مسلمان کے کام پر مکمل اختیار حاصل ہو، اگرچہ مسلمان براہِ راست اس کے ماتحت نہ ہو، مثلاً کافر کا مقروض ہونا یا اس سے کوئی چیز کرائے پر لینا۔ محظور (عارضی حالات کی بنا پر ممنوع) کام وہ ہے جس میں مسلمان کافر کے اختیار اور کنٹرول میں ہو، جبکہ حرام (بذاتِ خود ممنوع) کام وہ ہے جس میں کسی حرام کام کا ارتکاب شامل ہو، مثلاً شراب نچوڑنا یا خنزیر چرانا۔
یہاں ’’ممنوع‘‘ اور ’’حرام‘‘ کے درمیان فرق یہ ہے کہ ممنوع کام کی صورت میں اجرت حلال ہوتی ہے، اگرچہ ذلت کی وجہ سے خود کام کرنا جائز نہیں، لیکن حرام کام کی صورت میں حاصل ہونے والی اجرت صدقہ کرنا ضروری ہے۔
شافعیوں کا مؤقف ہے کہ مسلمان کے لیے کسی کافر کے ہاں ملازم بننا جائز نہیں، اور حنبلیوں کا بھی یہی موقف ہے۔
ان آرا سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں:
- معاشی سرگرمیوں سے کفار کی جنگی صلاحیت کو تقویت نہیں ملنی چاہیے۔
- معاشی سرگرمیوں کے نتیجے میں مسلمانوں کو ذلت کی حالت میں نہیں ڈالا جانا چاہیے۔
علماءنے ان شرائط کے لیے متعدد دلائل پیش کیے ہیں، جن میں یہ آیت بھی شامل ہے:
وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا (سورۃ النساء: ۱۴۱)
’’اور اللہ کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کا ہرگز کوئی راستہ نہیں رکھے گا۔ ‘‘
مسلمانوں اور کفار کے درمیان موجودہ معاشی تعلقات ان دونوں شرائط پر پورے نہیں اترتے۔ مسلمانوں اور کفار کے درمیان بہت سے معاشی تعلقات کفار کی جنگی کوششوں کو براہِ راست اور بالواسطہ دونوں طرح تقویت دیتے ہیں، اور ان تعلقات کا مجموعی ڈھانچہ مسلمانوں کی تذلیل کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مسلمانوں اور کفار کے درمیان موجودہ معاشی تعلقات کا ماڈل حلال ہے۔ اگرچہ انفرادی طور پر بعض خریداریوں کو بظاہر بے ضرر سمجھا جا سکتا ہے، لیکن وہ مسلمانوں کی مجموعی ثقافتی اور معاشی محکومی کے ایک وسیع تر ڈھانچے کا حصہ ہیں، اور ہمیں اس ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
کفار کے ساتھ تجارت کے جواز کے لیے پیش کی جانے والی احادیث میں غلے اور بھیڑ جیسی ضروری اشیا کا ذکر ہے، نہ کہ میک ڈونلڈز یا کوکا کولا جیسی تعیشاتی مصنوعات یا ثقافتی علامتوں کا۔ اسی طرح خیبر سے متعلق روایات مسلمانوں کے غلبے کے تناظر میں ہیں، زمین یہودیوں کو ایک ایسے طریقے سے ٹھیکے پر دی گئی تھی جو جاگیردارکے مزارعین سے مشابہ تھا۔ اس صورتِ حال نے واضح طور پر مسلمانوں کی عزت و وقار کو بلند اور کفار کو ذلت کی حالت میں رکھا تھا۔
مسلمانوں پر کفار کا غلبہ تجارت کے ایسے ڈھانچے پر منحصر ہے جس میں مسلم ممالک بنیادی طور پر خام مال اور انسانی سرمایہ برآمد کرتے ہیں، جبکہ قدر میں اضافہ شدہ اشیا درآمد کرتے ہیں، مثلاً تیار شدہ غذائیں اور مشروبات، فیشن، کاسمیٹکس، پرفیوم، حفظانِ صحت کی مصنوعات، طرزِ زندگی سے متعلق مصنوعات، مشینری اور گھریلو سامان، نیز تعلیم، مشاورت اور تفریح جیسی خدمات۔ کفار کی معیشتیں مسلم ممالک کی منڈیوں تک رسائی پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، اور یہ مسلم سرزمینوں اور مغرب کے درمیان تجارت کی ایک ساختی خصوصیت بن چکی ہے۔
یہ رجحان گزشتہ چند صدیوں کے دوران ابھرا اور مغرب کی جنگی حکمتِ عملی کا ایک حصہ تھا۔ جس طرح جنگ میں ہونے والی کسی نئی پیش رفت کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم نئی تکنیکیں وضع کریں گے، اسی طرح اس حکمتِ عملی کا بھی مقابلہ کرنا ضروری ہے۔
یہ دلیل کہ کفار کے ساتھ تجارت جائز ہے، بائیکاٹ کی بحث سے متعلق نہیں، کیونکہ یہاں مسئلہ کفار سے خریداری کو ممنوع قرار دینے کا نہیں ہے۔ بلکہ اصل مسئلہ ان کفار کو، جو مسلم سرزمینوں پر غلبہ رکھتے ہیں، نکال باہر کرنے یا ان کے غلبے کو ختم کرنے کی ذمہ داری کا ہے۔ کفار سے خریداری ممنوع نہیں، اور بہت سے معاملات میں یہ اب بھی ضروری ہو سکتی ہے، لیکن ساتھ ہی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا بھی انہیں کمزور کرنے اور ان کے خلاف جدوجہد کا ایک حصہ ہونے کی حیثیت سے ضروری ہے۔
یہ بات پہلے باب میں بیان کیے گئے اصولوں کی طرف واپس لے جاتی ہے:
الوسائل لها أحكام المقاصد
’’ذرائع کے احکام بھی وہی ہوتے ہیں جو مقاصد کے احکام ہوتے ہیں۔‘‘
أن ما لا يتم الواجب إلا به فهو واجب
’’جس چیز کے بغیر کسی واجب کی تکمیل ممکن نہ ہو، وہ چیز بھی واجب ہو جاتی ہے۔‘‘
واجب صرف یہ نہیں کہ ہماری سرزمینوں پر قابض دشمن افواج کو پسپا اور مغلوب کیا جائے، بلکہ ثقافتی اور معاشی نوآبادیات کے ذریعے پہنچائے گئے نقصان کی تلافی بھی واجب ہے، کیونکہ جدید دور میں یہ عوامل ان کی جنگی کوششوں کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کا مشاہدہ کرتے ہوئے ایک مبصر نے ایک مرتبہ کہا تھا: ’’راک موسیقی اور نیلی جینز میں پوری سرخ فوج سے زیادہ طاقت ہے‘‘ ۔امریکی ثقافت سوویت یونین کی آبادی کے لیے اس قدر پرکشش تھی کہ اس نے حکومت کے لیے عوام کی حمایت کو کمزور کر دیا۔ جب آپ اپنے دشمن کی ثقافت سے محبت اور اس سے لطف اندوز ہوتے ہوں تو آپ جنگ نہیں لڑ سکتے اور نہ ہی اسے جیت سکتے ہیں۔ آج بہت سے مسلمان مغربی ثقافت کے دلدادہ ہو چکے ہیں، اس کی ایک وجہ مغرب کی عسکری اور معاشی طاقت ہے، لیکن دوسری وجہ چمک دمک سے بھرپور اور لوگوں کو متاثر و گمراہ کرنے والی مارکیٹنگ مہمات بھی ہیں۔
یہ اس حقیقت کا ایک حصہ ہے جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبردار کیا تھا:
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّی لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَی قَالَ فَمَنْ10صحیح بخاری
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ پیروی کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘ ہم نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہ! کیا آپ کی مراد یہود و نصاریٰ ہیں؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’اور کون؟‘‘
اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود براہِ راست بائیکاٹ کی مہمات نہیں چلائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت سی عسکری کارروائیوں کا مقصد مشرکین کو معاشی نقصان پہنچانا تھا۔ اسلامی تاریخ کی ابتدائی بیشتر عسکری مہمات قریش کے تجارتی قافلوں کو نشانہ بناتی تھیں، جس سے ان کی معاشی قوت متاثر ہوتی تھی۔ یہ ایک ایسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا جس کا نقطۂ عروج مکہ کو اسلام کے لیے فتح کرنا تھا۔ اس لحاظ سے کفار کی معاشی شہ رگوں کو نشانہ بنانا سنت کا حصہ ہے، اگرچہ بعض اوقات ان سے خریداری کرنا بھی جائز یا ضروری ہو سکتا ہے۔
3۔ بائیکاٹ مؤثر نہیں ہوتا
بائیکاٹ کے خلاف ایک اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ اس کا اثر نہایت معمولی ہوتا ہے۔ جب دشمن کو بمشکل ہی نقصان پہنچتا ہے تو پھر ہم خود کو تکلیف میں کیوں ڈالیں؟
یہ درست ہے کہ اکثر بائیکاٹ مؤثر ثابت نہیں ہوتے، لیکن اگر کوئی بائیکاٹ منظم انداز میں اور مسلسل جاری رکھا جائے تو وہ انتہائی مؤثر ہو سکتا ہے۔ اس کے اثرات کا اندازہ صرف آمدنی میں ہونے والی کمی سے نہیں لگایا جا سکتا۔ بائیکاٹ کی خبریں اکثر ان کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت گرا دیتی ہیں جن کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہو۔ اس کے نتیجے میں ایک سلسلہ وار ردِ عمل شروع ہو سکتا ہے، جہاں سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکال لیتے ہیں اور شیئرز کی قیمت مزید گر جاتی ہے۔ غزہ میں طوفان الاقصیٰ آپریشن کے بعد اسٹاربکس کے خلاف چلنے والی بائیکاٹ مہم ان عوامل میں سے ایک تھی جس کے باعث کمپنی کے شیئرز کی مالیت میں تقریباً گیارہ ارب امریکی ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔
آمدنی میں کمی اور شیئرز کی گرتی ہوئی قیمت کا مطلب یہ بھی ہے کہ معاند حکومتوں کو کم ٹیکس ملتا ہے اور کمپنیوں کے پاس اپنے کاروبار کو وسعت دینے یا قرض حاصل کرنے کے لیے کم آپریٹنگ سرمایہ رہ جاتا ہے۔ بائیکاٹ کے گرد پیدا ہونے والی عوامی توجہ کسی برانڈ کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ برانڈ ویلیو اکثر کسی کمپنی کی مجموعی قدر کا ایک اہم حصہ ہوتی ہے، اس لیے اگر کسی کمپنی کے ساتھ مستقل طور پر منفی تاثر وابستہ ہو جائے تو وہ اس کی مارکیٹ میں پوزیشن کو دیرپا نقصان پہنچا سکتا ہے۔
اگرچہ اس کا کفار کی حقیقی جنگی صلاحیت پر براہِ راست اثر محدود ہوتا ہے، لیکن یہ دوسری کمپنیوں کو صہیونی قبضے کے ساتھ علانیہ تعاون یا اس کے لیے عطیات دینے سے باز رکھ سکتا ہے۔ اخلاقی حمایت میں یہ کمی ایک اہم نفسیاتی اثر بھی پیدا کرتی ہے۔ اگر صہیونی یا دیگر ظالم کفار خود کو تنہا محسوس کریں، یا انہیں یہ احساس ہو کہ دنیا انہیں ویسا ہی درندہ سمجھ رہی ہے جیسے وہ حقیقت میں ہیں، تو اس سے ان میں شرمندگی اور ندامت پیدا ہو سکتی ہے۔ اگر وہ اللہ سے نہیں ڈرتے تو ان میں سے بہت سے لوگ انسانوں کی مذمت سے ضرور ڈرتے ہیں۔
تاریخ میں ملکوں کے خلاف بائیکاٹ بھی مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ نپولین کی جنگوں کے دوران فرانس نے یورپ میں تجارتی برتری حاصل کرنے کے لیے برطانیہ کی تمام درآمدات پر پابندی لگا دی۔ اگرچہ اس سے برطانوی معیشت تباہ نہیں ہوئی، لیکن اس نے فرانسیسی کاروبار کو فروغ دیا۔ جنگ کے ساتھ ساتھ اس کے نتیجے میں برطانیہ میں مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا، جس سے شہری بے چینی اور بغاوتیں پیدا ہوئیں، اور برطانوی فوج کو انہیں کچلنے کے لیے بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔
دوسری عالمی جنگ سے پہلے دنیا بھر کے یہودیوں نے جرمن مصنوعات کا بائیکاٹ کیا، جس کے نتیجے میں امریکہ میں جرمنی سے درآمدات تقریباً 25 فیصد کم ہو گئیں۔ اس پر نازی وزیرِ پروپیگنڈا جوزف گوئبلز نے کہا:
’’ہم آج بھی اپنے آپ کو اس نہایت چالاکی سے تیار کی گئی سازش کے ہاتھوں جکڑا ہوا اور خطرے میں محسوس کرتے ہیں…… یہ بائیکاٹ ہمارے لیے شدید تشویش کا باعث ہے، کیونکہ یہ ہمارے سروں پر بادل کی طرح منڈلا رہا ہے۔‘‘
اس بائیکاٹ نے قابلِ ذکر نقصان پہنچایا، حتیٰ کہ ہیمبرگ امریکن شپنگ لائن کے پورے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو استعفیٰ دینا پڑا۔
جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز (Apartheid) رکھنے والی حکومت کے دوران دنیا بھر کے بہت سے افراد اور حکومتوں نے جنوبی افریقی کمپنیوں اور مصنوعات کا بائیکاٹ کیا۔ یہی بائیکاٹ ان اہم عوامل میں سے ایک تھا جس نے بالآخر نسلی امتیاز کے خاتمے کے فیصلے میں کردار ادا کیا۔
ایک مضبوط، منظم اور مسلسل جاری رہنے والا بائیکاٹ شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، اور اگر اس کا براہِ راست فائدہ محدود بھی ہو تو اس کے ساتھ وہ بہت سے دوسرے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جن کا ذکر باب ۳ میں کیا جا چکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر پوری مسلم امت اجتماعی اور منظم انداز میں بائیکاٹ کرے تو وہ ایک زبردست سیاسی اور معاشی قوت بن سکتی ہے۔ اس کتاب میں پیش کی گئی تجاویز پر عمل کرتے ہوئے اور بائیکاٹ کے دائرے اور شدت کو بڑھا کر اس کے اثر میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
۴۔ آخر سب کچھ تو ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے
بعض لوگ جدید معیشت کی نوعیت کی بنا پر یہ استدلال کرتے ہیں کہ بائیکاٹ ناقابلِ عمل یا بے مقصد ہیں۔ اس بات میں کسی حد تک حقیقت ہے۔ جیسا کہ دوسرے باب میں بیان کیا گیا ہے، ایک برانڈ کو چھوڑ کر دوسرے برانڈ کو اختیار کرنے کا اثر بہت محدود ہو سکتا ہے۔
کسی بڑی کارپوریٹ چین کے بجائے مقامی کافی شاپ سے کافی خریدنے سے بڑی کافی کمپنی کے منافع میں کمی آئے گی، لیکن ممکن ہے کہ وہ چھوٹی دکان بھی کافی کے دانے انہی جہازوں کے ذریعے منگواتی ہو،ممکن ہے ان دانوں کی پروسیسنگ اور کافی کی تیاری بھی انہی کارخانوں میں بنی مشینوں سے ہوتی ہو، اور وہ کارخانے اپنے آلات اور بجلی کے لیے انہی کارپوریشنوں سے خدمات حاصل کرتے ہوں۔ ممکن ہے مقامی دکان بھی وہی مالیاتی خدمات اور اکاؤنٹنگ سافٹ ویئر استعمال کرتی ہو جو بڑی کارپوریٹ کافی شاپ استعمال کرتی ہے۔ بہت سے معاملات میں بڑی کارپوریشنیں قانونی سقم، بیرونِ ملک ٹیکس پناہ گاہوں اور سیاسی لابنگ سے فائدہ اٹھا کر مؤثر ٹیکس کی کم شرح ادا کرتی ہیں، چنانچہ چھوٹی دکان سے کافی خریدنے کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی کافی کی قیمت کا زیادہ حصہ کسی اسلام مخالف حکومت کے پاس چلا جائے۔
بالخصوص جب آپ انتہائی پروسیس شدہ اشیا خریدتے ہیں تو ان کے اجزا دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کارپوریشنوں کے ایک عالمی جال سے حاصل کیے جاتے ہیں، جن میں سے بیشتر، اگر سب نہیں، صہیونیت نواز کارپوریشنوں اور حکومتوں کے ساتھ متعدد تعلقات رکھتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں قائم کسی صہیونیت نواز برانڈ یا کارپوریشن کو چھوڑنے کا مطلب صرف یہ ہو کہ آپ بالواسطہ طور پر ان بہت سے اجزا ہی کو خرید رہے ہیں جو آپ کی بائیکاٹ کی جانے والی کمپنی استعمال کرتی ہے۔
اسی لیے یہ کتاب بائیکاٹ کے لیے ایک زیادہ جامع طریقۂ کار کی وکالت کرتی ہے۔ مقصد محض مٹھی بھر کارپوریشنوں کا بائیکاٹ کرنا نہیں، بلکہ بتدریج یا بڑی جست کے ذریعے صہیونی غلبے پر قائم پوری عالمی نظامِ معیشت سے دستبردار ہونا اور اسلامی معیشت کو تشکیل دینا ہے۔ یہ تصور صرف اسی وسیع تر منصوبے کے تناظر میں معنی رکھتا ہے جس کا مقصد جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے شریعت پر مبنی سیاسی اور معاشی نظام قائم کرنا ہو۔ روایتی کارپوریٹ بائیکاٹ یقیناً بہت کم مؤثر ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی قابلِ تحسین ہیں، کیونکہ وہ دشمن ریاستوں کی مجموعی آمدنی کو، خواہ معمولی مقدار ہی میں، کم کر سکتے ہیں۔
ربا پر مبنی معاشی نظام اللہ کے وعدے کے مطابق بالآخر ناکام ہونے والے ہیں:
يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَيُرْبِي الصَّدَقٰتِ ۭ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ (سورۃ البقرۃ: ۲۷۶)
’’ اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ ہر اس شخص کو ناپسند کرتا ہے جو ناشکرا گناہ گار ہو۔ ‘‘
کفار کی بظاہر دولت اور طاقت ایک فریب اور ہمارے لیے ایک آزمائش ہے، اور دنیا و آخرت میں ان کی ناکامی یقینی ہے۔ تاہم، ان کی معاشی طاقت میں حصہ ڈالنا ان کی ناکامی کو مؤخر کرتا ہے، جبکہ ان کے زوال کو تیز کرنے میں مدد دینا بڑی برکت کا ذریعہ ہے، اس کا مطلب اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی مرضی کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اور اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر کے زندگی گزارنا ہے۔ ان کے جنگی خزانے سے نکالا گیا گندم کا ایک دانہ بھی قیامت کے دن میزان میں بہت وزنی ہو سکتا ہے۔ اللہ جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔
بہت سی بائیکاٹ کی کوششوں کے غیر مؤثر ہونے کا حل یہ نہیں کہ ہاتھ کھڑے کر دیے جائیں اور کوشش ترک کر دی جائے، بلکہ یہ ہے کہ بائیکاٹ کے نئے اور زیادہ مؤثر طریقے تلاش کیے جائیں۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے کوشش کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے اپنی ذات کی معمولی سی قربانی بھی دیتا ہے، وہ حوصلہ افزائی اور تعاون کا مستحق ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’نیکی میں کسی بھی چیز کو حقیر نہ سمجھو اگرچہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی (خوش روی) سے ہی ملے۔ ‘‘
بائیکاٹ کے بعض طریقوں میں موجود مسائل کی نشاندہی کرنا درست ہے، لیکن بہترین نصیحت وہ ہے جو لوگوں کو حق کی طرف رہنمائی کرے۔ بہتر طریقے پیش کیے بغیر محض خامیوں پر تنقید لوگوں کو مایوس کر سکتی ہے اور ممکنہ فوائد کے دروازے بند کر سکتی ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
