8- افواج میں کفایت شعاری کی اسٹریٹجی
نہ فضول خرچی اور نہ ہی کنجوسی بلکہ کفایت شعاری
کفایت شعاری کا مطلب ہے، کنجوسی اور فضول خرچی دونوں سے بچنا، کیونکہ دونوں ہی ناکامی کا سبب بن سکتے ہیں۔ کفایت شعاری وسائل اور صلاحیتوں کے دانشمندانہ انتظام کا نام ہے۔ فتح و کامیابی اس سے حاصل نہیں ہوتی کہ آپ کے پاس کیا ہے، بلکہ اس سے کہ آپ اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ دولت کی کثرت اور وسائل کی فراوانی انسان کو حدود (Limits) کے احساس سے دور کر دیتی ہیں۔ مجاہدین، حقیقت (Reality) اور اس کی حدود (Limits) سے وابستہ ہوتے ہیں۔ جب آپ ’کم‘ (وسائل) کے مالک ہوتے ہیں تو آپ سیکھتے ہیں کہ انہیں کیسے بہتر طور پر استعمال کرنا ہے اور تب وقت آپ کا اتحادی بن جاتا ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا (سورۃ الاسراء: ۲۹)
’’ اور نہ تو (ایسے کنجوس بنو کہ) اپنے ہاتھ کو گردن سے باندھ کر رکھو، اور نہ (ایسے فضول خرچ کہ) ہاتھ کو بالکل ہی کھلا چھوڑ دو جس کے نتیجے میں تمہیں قابل ملامت اور قلاش ہو کر بیٹھنا پڑے۔‘‘
جو کچھ آپ چاہتے ہیں اس کا خواب دیکھنا اور پھر اس کے حصول کے ذرائع تلاش کرنے کی کوشش کرنا، یہ سب تھکن، ضیاع اور شکست کا ایک تیار نسخہ ہے۔ دشمن کے پاس جو کچھ ہے اسے قبل از وقت حاصل کرنے کی کوشش آپ کو ایک کمزور حالت میں بدل دیتی ہے جس سے آپ تخلیق و جدّت کے جذبے سے محروم ہو جائیں گے۔ جدّت پیدا کریں اور ایسے خیالات و وسائل ایجاد کریں جو دشمن کی قوت کی رفتار کو کمزور کر دے اور اسے جنگ و تنازع میں بے اثر کر دیں۔ جو کچھ آپ کے پاس ہے اس پر غور کریں اور اسے مہارت سے استعمال کریں۔
٭٭٭٭
جنگی قوت کا تحفظ (Saving Military Forces) جنگ کے اہم ترین اصولوں میں سے ایک ہے۔ تاریخ ایسے اسباق و واقعات سے بھری پڑی ہے جب کئی ماہر جنگی جرنیل، تمام معرکوں میں فتح حاصل کرنے کے باوجود جنگ ہار گئے اور انہیں رکنے اور پسپا ہونے پر مجبور ہونا پڑا کیونکہ انہوں نے اس اصول کا لحاظ نہ رکھا۔ ایسی فتوحات جو شکست کے ذائقے والی یا شکست کے ہم پلہ ہوتی ہیں، انہیں ’پائریک فتح‘ (Pyrrhic Victories) کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اگرچہ یونانی شہر ایپیرس (Epirus) کے بادشاہ پائرس (Pyrrhus) نے رومیوں کے خلاف اپنی لڑائیوں میں کامیابی حاصل کر لی تھی، مگر ان معرکوں کی قیمت تباہ کن تھی، کیونکہ فاتح افواج اب مادی و معنوی اعتبار سے ایک ایسی مہم شروع کرنے کے لیے کافی نہ تھیں جو جنگ کے نتائج کا فیصلہ کرتیں، جس نے انہیں مہم ختم کرنے پر مجبور کر دیا، تجربہ کار اور ماہر کمانڈروں کی موت جنگی اخراجات کے سب سے اہم عناصر میں شامل تھی۔ یہ ایسی قیمت ہے جس کی فوری تلافی ممکن نہیں ہوتی۔
٭٭٭٭
معرکوں کے آغاز سے پہلے اور دورانِ جنگ، ایسی ’علامات‘ پائی جاتی ہیں جو ممکنہ یا متوقع حالات کی رہنمائی اور پیش گوئی کرتی ہیں۔ دشمن کی قوت یا اپنے اتحادیوں میں پائے جانے والے فساد کے بارے میں جاسوسی اور انٹیلی جنس یونٹوں کی رپورٹیں اس بات کی رہنمائی کرتی ہیں کہ معرکے کی تیاری میں مزید وقت صرف کیا جائے یا اسے مؤخر کیا جائے یا مکمل طور پر منسوخ کر دیا جائے اور دستیاب قوت کو مذاکرات کا ماحول ہموار کرنے میں بروئے کار لا کر مناسب تصفیہ حاصل کیا جائے۔ جنگ میں اخراجات کا حساب ان اہم ترین ’علامات‘ میں سے ہے جو آپ کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ کب آگے بڑھنا ہے اور کب رک جانا ہے۔ تب آپ اپنے وسائل اور ساز و سامان بچا سکتے ہیں اور مہارت و تجربات اور جانوں کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
وہ قائد یا کمانڈر جو اپنے آپ کو قابو میں رکھنے اور اپنی خواہشات کو لگام ڈالنے سے قاصر ہو اور اپنی قسمت کے پیچھے بہہ جائے، اتحادیوں کی خوش نما باتوں پر کان دھرے، ہدف اور ممکنہ فوائد کے لالچ میں آ جائے، جو دیکھنا چاہے وہی دیکھے اور ممکنہ مشکلات و نقصانات سے چشم پوشی کرے یا یہ گمان کرے کہ ان کی تلافی ممکن ہے، جتنا زیادہ وہ حساب کتاب اور لاگت کو نظر انداز کرتے ہوئے جاگتی آنکھوں کے خوابوں میں آگے بڑھتا جاتا ہے، اتنا ہی وہ خساروں کی ڈھلوان میں اترتا جاتا ہے اور مزید غلطیاں کرتا جاتا ہے، جو نئی پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہیں اور ایسے نئے اخراجات و تکالیف پیدا کرتی ہیں جو پہلے حساب میں نہ تھیں۔
اس کے علاوہ ایسے اخراجات بھی ہوتے ہیں جو نظر نہیں آتے اور کچھ غیر محسوس ہوتے ہیں مگر نہایت مہنگے ثابت ہوتے ہیں، بشمول: معاشرتی استحکام کے لیے خطرہ، چاہے وہ حامی طبقہ ہو یا عوام، اچھی سیاسی ساکھ (Political Credibility) کا زیاں، وقت کا ضیاع جسے بڑے اور گہرے اسٹریٹجک اہداف کے حصول میں لگایا جا سکتا تھا، وسائل کا بے مقصد استعمال اور ضیاع جس سے کوئی قابلِ ذکر فائدہ یا مناسب تلافی حاصل نہ ہو، اس قوم کی نفسیاتی کیفیت جس نے تمہاری صلاحیتوں پر بھروسہ کیا، ان بہت سے لوگوں میں انتقام کی خواہش جنہیں تم نے نظر انداز کیا یا استعمال کر کے دھوکہ دیا، حتیٰ کہ وہ بھی جو معرکے میں ہار گئے، تاریخ اور لوگ اُنہیں معاف نہیں کرتے جو لاگتوں، تکالیف اور اخراجات کو نظر انداز کرتے ہیں۔
کوئی بھی فتح جو جانوں، ساز و سامان اور وسائل کی بھاری قیمت پر حاصل ہو، بے معنی ہے۔ لہذا آج ہی اپنا تمام حساب کتاب مکمل کریں اور اچھی تیاری کریں تاکہ آپ آنے والے کسی دن لڑ سکیں۔
٭٭٭٭
دشمنوں کی فہرست قیادت کی نگاہ میں ہمیشہ واضح رہے گی، اس قیادت کی نگاہ میں جو ان دشمنوں کو بھی پہچانتی ہے جو اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے بھیس میں چھپے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی ادارہ یا فرد تین بنیادی فہرستیں رکھتا ہے: دوستوں اور وفاداروں کی فہرست، گھات لگائے بیٹھے غیر جانب داروں کی فہرست اور سخت ترین دشمنوں کی فہرست۔ دانا وہ ہے جو ان فہرستوں کی حرکت پر نظر رکھے تاکہ دوستوں کی تعداد بڑھائے، اپنے مخالفین کی تعداد کم کرے اور یہ سمجھے کہ فہرستوں کے اندر اوپر سے نیچے جانا یا ایک فہرست سے دوسری میں منتقل ہونا بنیادی طور پر ہماری ذہنی و نفسیاتی صلاحیتوں پر منحصر ہے جن سے ہم تصادم کا انتظام کرتے ہیں۔ ہم کسی بھی تصادم میں محض اس وقت نہیں پھسلتے جب اس کے نقارے بجیں، جنگ میں شامل ہونے سے پہلے ایک طویل سفر طے کرنا ہوتا ہے اور جب ہمیں جنگ لڑنی ہی پڑے تو یہ لازماً ہماری شرائط پر ہونی چاہیے۔
٭٭٭٭
وقت سب سے زیادہ اہم عنصر ہے اور اس کا درست استعمال، دشمن کے نظام کو توڑنے والے عناصر میں اضافہ کرتا ہے اور اس کے بالمقابل ہمیں خود کو مضبوط کرنے کے قابل بناتا ہے۔ دشمن کا مطالعہ اور اس کی ظاہری زبردست طاقت کے پیچھے چھپی کمزوریوں کو سمجھنا، وقت سے کم اہم عنصر نہیں ہے، کیونکہ اسی کی روشنی میں ہم تصادم کے انتظام کے لیے ایک کامیاب اسٹریٹجی تشکیل دے سکتے ہیں۔ جنگ میں فتح، سخت اور نرم طاقت، دونوں کے مجموعے سے حاصل ہوتی ہے۔
مؤثر انٹیلی جنس فتح کی راہ میں ایک اور عنصر ہے اور اس کے ذریعے دشمن کے ارادوں کو جاننے کی کوشش اتنی ہی اہم ہے جتنی اس کی ظاہری قوت اور کمزوری کے عناصر کو جاننا، ساتھ ہی ذہین قوتوں اور ’’ماہر دماغوں‘‘ کو انتہائی خفیہ نفسیاتی چالوں کے لیے آگے بڑھانا تاکہ دشمنوں کے حوصلے پست کیے جائیں، ان کے درمیان شکوک کے بیج بوئے جائیں اور عدمِ اعتماد کا ایسا ماحول تیار کیا جائے جو ان کے اتحاد کو توڑ دے (غزوۂ خندق میں دشمن کے اتحاد کو کمزور کرنے اور ان کے درمیان شکوک کے بیج بونے میں حضرت نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کردار بطور نمونہ)۔
دشمن کے کلیدی جوڑوں پر ضرب لگانے، اس کی کمزوریوں کو گہرا کرنے اور اس کے غرور کو بھڑکانے کے لیے معیاری خفیہ کارروائیاں انجام دی جائیں، یہ کارروائیاں دشمن کے نظام کو اندرونی طور پر توڑنے کے عمل کو بڑھا دیتی ہیں۔
جنگ لڑنے کے لیے موزوں عسکری قوت کی تعمیر کا تعلق حجم اور جسامت سے نہیں بلکہ نقل و حرکت کی تیزی اور مختلف میادینِ جنگ میں تدبیر و چال بازی کی صلاحیت سے ہے، آئیے اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام کے واقع کا تصور کریں جب وہ محض غلیل کے ساتھ ہتھیاروں سے لیس دیو قامت جالوت کا سامنا کرتے ہیں اور اسی سے اسے پچھاڑ دیتے ہیں۔
وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ (سورۃ البقرۃ: ۲۵۱)
’’اور داودؑ نے جالوت کو قتل کر دیا۔‘‘
دشمن کے عوام کے اندرونی رائے عامہ کے ماحول میں انتشار پیدا کرنے کے لیے میڈیا کی جنگ، اس کے اندرونی بحرانوں کا سبب بنتی ہے (جو منفی مخالفت سے شروع ہو کر حقیقی بغاوت تک پہنچ سکتی ہے)، جس سے دشمن، ہم سے توجہ ہٹا کر، اپنی کوششیں داخلی کنٹرول کی طرف موڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور اسی میں الجھ جاتا ہے یا جنگ روکنے کے لیے دباؤ والا ماحول پیدا ہو جاتا ہے (ویتنام کے جنرل گیاپ کی مثال)۔ اس سے ہمیں مزید وقت ملتا ہے یا یہ میڈیا پر دباؤ ڈالتا ہے کہ وہ ہمارے قضیے کی عدالت، سچائی اور شرافت کو اجاگر کرے اور یہ کہ ہمارا مبنی برانصاف موقف بلا امتیاز پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے ہے، نیز دشمنوں کی جارحیت، ظلم، فساد اور ان کی لالچ کو بے نقاب کرے جو اپنی مادی خواہشات کی تسکین کے لیے پوری انسانیت کو تباہ کر رہے ہیں۔
دشمنوں کے اتحاد کو توڑنے یا ان میں سے بعض کو غیر جانبدار کرنے کے لیے معاشی چالوں میں پیش قدمی کرنا (مثلاً غزوۂ احزاب کے دوران غطفان کو پھلوں کا ایک تہائی پیش کرنے کی تجویز)، کسی بھی دشمن کے نازک مالیاتی ڈھانچے پر ’’اقتصادی عسکری‘‘ ضربیں اسے کھا جاتی ہیں، نچوڑ دیتی ہیں اور اس کے غرور کے پروں کو ایک ایک کر کے نوچ لیتی ہیں۔
عسکری معرکے، معاشی دباؤ، نفسیاتی حربے، معاشرتی بدامنی، سکیورٹی خطرات اور میڈیا یلغار سیاسی قیادت کے ہاتھوں میں ایسے اوزار ہیں جنہیں وہ ’’اعلیٰ ترین اسٹریٹجی کے منصوبے‘‘ کے مطابق چلاتی ہے اور متواتر مراحل سے گزر کر تنازع کے مجموعی مقصد کے حصول کے لیے کام کرتی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اُس مرحلے کو سمجھیں جس سے ہم گزر رہے ہیں تاکہ ہم یکے بعد دیگرے ایسے اہداف حاصل کر سکیں جو ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں اور مجموعی ہدف تک پہنچنے میں مدد دیں۔ کمزوری کے مرحلے میں ہمارا مقصد، دشمن کے ساتھ ایک حقیقت پسندانہ اسٹریٹیجک توازن قائم کرنا ہوتا ہے، توازن کے مرحلے میں ہمارا ہدف دشمن پر اسٹریٹیجک برتری حاصل کرنا ہوتا ہے اور فیصلہ کن مرحلے میں ہم دشمن کے لڑنے کے ارادے کو ختم کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ مراحل، چاہے ان کا دورانیہ طویل ہو یا مختصر، کسی بھی اسٹریٹجی یا ذرائع سے قطع نظر، تنازع کے ساتھ باضابطہ طور پر جڑے ہوتے ہیں۔
قوت میں اقتصاد یا کفایت شعاری کا مطلب یہ ہے کہ تصادم کو دانش مندی سے منظم کیا جائے، یعنی مناسب منصوبے کے تحت مناسب قوت استعمال کی جائے تاکہ ایک متعین ہدف حاصل ہو، یوں تلوار کو لاٹھی کی جگہ استعمال نہ کیا جائے۔ اگر ہم مذکورہ شرائط کی پابندی کے ذریعے تصادم کو بہتر انداز میں سنبھالیں اور اس میں اعتدال پیدا کریں، تو وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے دشمن غیر جانبداری کی فہرست میں شامل ہونا پسند کرتے ہیں اور مزید وقت کے بعد وہ وہاں سے دوستوں کی فہرست میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ ہمیں وقت کی اہمیت پر توجہ دینی چاہیے تاکہ سیاسی چال بازیوں اور ان کے اوزاروں کے لیے گنجائش پیدا ہو، نرم قوت (Soft Power) کو مزید تقویت دی جا سکے اور سخت قوت (Hard Power) کا مظاہرہ بھی کیا جا سکے، خواہ جنگ کا پہیہ چلے یا نہ چلے۔
٭٭٭٭
عسکری اصول ہے کہ: ’’دشمن کی کمزور جگہوں پر اپنی قوت کے ذریعے حملہ کرو‘‘ اگر ہم قوت میں اقتصاد یا کفایت شعاری کے اصول کو اپنائیں، تو یہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم دشمن کے لیے جنگ کے اخراجات میں اضافے کا سبب بنیں اور ساتھ ہی ہمیں اس بات پر بھی آمادہ کرتا ہے کہ ہم ایک باشعور اور حقیقت پسندانہ، قابلِ عمل اسٹریٹجی اپنا کر اپنے لیے جنگ کی لاگت کم رکھیں۔ دنیا میں کوئی طاقت ایسی نہیں جس کی کمزوریاں نہ ہوں یا اس کے کوئی غیر محفوظ یا نا مکمل پہلو نہ ہوں، حتیٰ کہ طاقت کی وسعت اور اس کے بلند اخراجات بھی ایک ایسی کمزوری میں بدل سکتے ہیں جو اسے شکست دے دے (سابقہ سوویت یونین اس کی بہترین مثال ہے)۔
سب سے پہلے ہمارا مطلوب، دشمن کی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا اور ان پر کام کرنا ہے جن میں یہ چیزیں شامل ہیں: داخلی سیاسی عدم استحکام، معاشرتی انتشار، اخلاقی انحراف، نسلی تنوع اور ان کے درمیان تنازعات، کمزور معاشی وسائل، اس کے لیڈروں میں فرعونیت کا جنون، اس کے معاشی حامیوں (Businessmen/Corporations) کو غیر مؤثر کرنا، یا ان بنیادوں کو نشانہ بنانا جو اس کی معیشت کو سہارا دیتی ہیں، مثلاً: تجارتی اشیاء اور تیل کے لیے بحری راستوں (Maritime Silkroad) پر حملہ کرنا تاکہ اسے لوٹ مار کی اُن کارروائیوں کے ثمرات سے محروم کیا جا سکے جو اس کی معیشت کو سہارا دیتی ہیں (جیسا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ دنیا کے وسائل کی لوٹ مار کرتی ہے)۔
ہمارا دوسرا تقاضا، اپنی کمزوریوں کو معرکے سے باہر رکھنا اور طویل مدت تک اپنی قوت کو برقرار رکھنا ہے۔
جب ہم اپنے دشمنوں کی کمزوریوں کو بے نقاب کر کے انہیں نشانہ بنائیں گے تو یہ ایک بڑا وار ہو گا جو ان کے حوصلے پست کر دے گا اور انہیں تھکا دے گا، اُس وقت ان میں نئی کمزوریاں ظاہر ہوں گی جن سے فائدہ اٹھانا لازم ہو گا اور یوں یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
٭٭٭٭
قوت میں اقتصاد یا کفایت شعاری کے اصول کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ غریب انسانی معاشروں کی نفسیات اور ان کے پاس موجود وسائل کے انتظام کے انداز کا موازنہ امیر انسانی معاشروں کی نفسیات اور ان کے انتظامی انداز سے کیا جائے۔ ضرورت کا احساس اور حقیقت و حدود کا ادراک ہمیں ان کا بہتر استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے، اس احساس کا فقدان ہمیں خوابِ خرگوش کی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں نہ حقیقت ہوتی ہے نہ ہی حدود۔ اقتدار و کنٹرول کے خواب دیکھنے والے (بن زاید اور بن سلمان جیسے لوگ)، دن کے خوابوں اور وہموں میں بھٹکتے ہیں اور اپنی وہمی خواہشات کی تکمیل کے لیے امت کی جمع پونجی اس کے دشمنوں پر خرچ کرتے ہیں، ایسے لوگ ان خوابوں سے اس وقت جاگیں گے جب، ان شاء اللہ، ان کی جگہ لے لی جائے گی، پس ان کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔
(یمن اور صومالیہ میں) حقیقت سے جڑے ہوئے مجاہدین کو چاہیے کہ وہ خلیجی شاہی خاندانوں پر مستقبل میں آنے والے زوال کے موقع کو اللہ اور امت کے دشمن یہودی امریکی اتحاد کے ہاتھوں میں نہ جانے دیں، اور مجاہدین کو چاہیے کہ وہ خود کو تیار کریں اور وقت آنے پر حالات پر قابو پانے اور موقع سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کریں۔
جو کچھ ہمارے ہاتھ میں ہے ہمیں اُس پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور اس کا بہترین انتظام کرنا چاہیے، یعنی کب ظاہر ہونا ہے اور کب غائب ہو جانا ہے، کب حملوں کی شدت بڑھانی ہے اور کب ان میں کمی کرنی ہے، محض اپنے قدموں کے نیچے دیکھنے سے آزاد ہو کر افق کی حدود تک دیکھنا اور اس کے پار موجود حقیقت کو سمجھنا۔
دشمن کی صلاحیتوں جیسی صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے اخراجات کا جنون، ہمیں نچوڑ دیتا اور کھپا دیتا ہے، اور ہمیں دشمن کی ایک چھوٹی نقل (Smaller Version) میں بدل دیتا ہے جو اسی کے بنائے ہوئے میدان میں اور اسی کی تکتیک (Tactics) کے مطابق کھیلتی ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ کے پاس موجود صلاحیتیں محدود ہیں اور یہ اخراجات وسائل کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں اور نہ ختم ہونے والی پسپائیوں تک لے جاتے ہیں (اس کی مثال ’شام‘ کا محاذ ہے)۔
جو کچھ ہمارے ہاتھ میں ہے اسے ایسی اسٹریٹجی اور تکتیک (Tactics) کے مطابق بروئے کار لانا جو ہمارے لیے موزوں ہو، ہماری کمزوری کو طاقت میں بدل دیتا ہے چاہے تصادم کی مدت کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو (اس کی مثال صومالیہ کا محاذ ہے)۔
جب دشمن کو فضائی برتری حاصل ہو، تو ہمیں معیاری حملوں کے ذریعے زمینی برتری حاصل کرنی چاہیے جو دشمن کے حوصلے پست کریں اور جنگ روکنے کے حق میں عوامی رائے پیدا کریں (اس کی مثال ویتنام کی جنگ ہے)۔
٭٭٭٭
اسٹریٹجی وسائل اور اہداف کے درمیان توازن کا نام ہے۔ ہمیں اپنے اور دشمن کی فوج کے دستیاب حقائق (اعداد و شمار) کو پیشِ نظر رکھنا ہو گا۔ اگر ہم باقاعدہ جنگ لڑ رہے ہوں تو دونوں افواج کے درمیان تناسب، ہماری قوت اور اس زمین کے درمیان ہم آہنگی جس پر ہم لڑیں گے، انٹیلی جنس اور پروپیگنڈے کے فن کے ذریعے دھوکے اور فریب کا استعمال، ہمارے سپاہیوں کا حوصلہ، موسم سے فائدہ اٹھانا، دستیاب سیاسی فوائد، یہ تمام عوامل نہ صرف منصوبے کی بنیاد رکھتے ہیں بلکہ اس معرکے سے حاصل کیے جانے والے نتائج کا تعین بھی کرتے ہیں۔
جو چیز ہمیں جنگ میں فتح یاب اور تنازع میں کامیاب بناتی ہے وہ عسکری طاقت کا محض انبار نہیں، بلکہ:
- اللہ پر ہمارا ایمان، اس کی شریعت اور روحانیت سے ہمارا التزام و وابستگی، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر ہمارا بہترین توکل:
’’فتح تو کسی اور کی طرف سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے جو مکمل اقتدار کا بھی مالک ہے، تمام تر حکمت کا بھی مالک۔ ‘‘
- صحیح اسلامی منہج (جو انحراف اور کمزوری سے پاک ہو)، اور اس کا وہ انسانی ماڈل جو انسانیت اور شائستگی کے ساتھ اس جدوجہد کی قیادت کرتا ہے، اور جو رائج الوقت استحصالی منہج اور اس کے منحرف انسانی ماڈل کے متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
- اسباب کی دنیا میں ہماری جدوجہد، یعنی استطاعت کے مطابق طاقت کے اسباب حاصل کرنے کی کوشش:
وَاَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْـتَـطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ (سورۃ الانفال: ۶۰)
’’اور جس قدر طاقت تم سے بن پڑے ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو۔‘‘
- اپنے دشمن کی سمجھ، اس کے کمزور نکات سے فائدہ اٹھانا اور تنازع کا بہتر انتظام اس طرح کرنا کہ کفایت کے ساتھ دشمن کی ان کمزوریوں کو گہرا کیا جائے اور اسے تباہی و انہدام کے لیے تیار کیا جائے۔
- تمکین کے حصول کے لیے نئی سرزمین میں دین کا قیام ناگزیر ہے اور فتح اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک نئی سرزمین کا حسنِ انتظام نہ ہو۔ اس مرحلے میں تلوار نہیں بلکہ بیان درکار ہوتا ہے، اور اس مرحلے میں طاقت کے کفایتی استعمال میں یہ شامل ہے کہ نرم طاقت (Soft Power) کو اس کے میدان میں فعال کیا جائے، اور سخت طاقت (Hard Power) کو اس کے مقام پر رکھا جائے تاکہ وہ نرم طاقت کے سفر کی حفاظت کرے۔ حق تعالیٰ نے فرمایا:
اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَـبِيْلِهٖ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ ۭوَلَىِٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصّٰبِرِيْنَ وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ (سورۃ النحل: ۱۲۵– ۱۲۸)
’’ اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو ، اور (اگر بحث کی نوبت آئے تو) ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔ یقیناً تمہارا پروردگار ان لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گئے ہیں، اور ان سے بھی خوب واقف ہے جو راہ راست پر قائم ہیں۔ اور اگر تم لوگ (کسی کے ظلم کا) بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنی زیادتی تمہارے ساتھ کی گئی تھی۔ اور اگر صبر ہی کر لو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں کے حق میں بہت بہتر ہے۔ اور ( اے پیغمبر) تم صبر سے کام لو، اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ اور ان (کافروں) پر صدمہ نہ کرو، اور جو مکاریاں یہ لوگ کر رہے ہیں ان کی وجہ سے تنگ دل نہ ہو۔ یقین رکھو کہ اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور جو احسان پر عمل پیرا ہیں۔‘‘
میدانِ جنگ میں فتح ایک چیز ہے اور عسکری فتح کے بعد کے مرحلے کے انتظام میں کامیابی ایک دوسری چیز ہے، کیونکہ تصادم کے اور بھی میدان ہوتے ہیں، شاید وہ خونریز نہ ہوں مگر اپنی سختی میں کم نہیں ہوتے۔ یہ نرم طاقتوں کی جنگ ہے اور اس کی بنیاد دعوت ہے، جو عدل کے راستے پر چلتی ہے اور حسنِ اخلاق کو اپنا پرچم بناتی ہے۔
أحمد الهادي إلى سبل الهدى
كم بدا منه لأهل الأرض نصح
هاشمي قرشي طاهر حسن
الأخلاق زكي الأصل سمح
جاء بالدين الحنيفي وقد طبق
الأرض من الإشراك جنح
فأرى الناس الهدى بعد الردى
فإذا الحق تجلى منه صبح
فانجلى الشرك وولى دبره
وعلت للدين آطام وصرح
احمدؐ ہدایت کے راستوں کی رہنمائی کرنے والے،
اہلِ زمین کے لیے ان سے کتنی نصیحت ظاہر ہوئی
ہاشمی و قریشی، پاکیزہ و حسین،
اخلاق میں عالی، اصل میں پاک، نرم خو
وہ دینِ حنیف لے کر آئے اور انہوں نے،
زمین کو شرک سے ہٹا کر پاک کر دیا
پس میں لوگوں کو ہلاکت کے بعد ہدایت پر دیکھتا ہوں،
گویا حق انؐ سے صبح کی طرح روشن ہوا
یوں شرک چھٹ گیا اور پیٹھ پھیر کر چل دیا،
اور دین کے قلعے اور ایوان بلند ہوئے
٭٭٭٭
9- جوابی حملے کی اسٹریٹجی
دفاعی گہرائی اور احتیاطی افواج یا ریزرو فورسز
(Depth in Defense and Reserve Forces)
’’جنگ کے لیے صرف وہی شخص موزوں ہے جو محتاط، بردبار اور ثابت قدم ہو۔‘‘ (حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ)
دفاع میں مہارت کی انتہا یہ ہے کہ ہم تیزی اور حسابی رفتار کے ساتھ جوابی حملے میں تبدیل ہو جائیں، اس طرح کہ دشمن کو سانس لینے اور اپنی افواج کو دوبارہ منظم کرنے کا موقع نہ ملے۔ عبقری و نابغہ قائد وہ ہوتا ہے جو صبر، ٹھنڈے اعصاب اور فولادی ارادے کے ساتھ [نقطۂ انقلاب] (Turning Point) کا انتظار کرتا ہے، جہاں ترازو کے دو پلڑے اپنی جگہ بدل لیتے ہیں۔ تب ہم دفاع سے نکل کر جوابی حملے کی طرف بڑھتے ہیں، دشمن کی افواج کو تباہ کرتے ہوئے، ان میں انتشار و انہدام کی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں۔
اور حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) ہمیشہ نقطۂ انقلاب (Turning Point) کی تلاش میں ماہر رہے ہیں۔
جنگ کے عبقری و نابغہ لوگ وہ ہوتے ہیں جو دفاع اور حملے کے درمیان امتزاج میں مہارت رکھتے ہیں اور دشمن کو کھینچنے یا للچانے کے لیے چال چلتے ہیں، تاکہ وہ جوابی حملے کے لیے موزوں مقام کی طرف بڑھ آئے اور اسے ختم کیا جا سکے۔ حملے سے دفاع اور پھر دوبارہ حملے میں تبدیلی ایک نہایت باریک اور حساس عمل ہے۔ جوابی حملہ اُن احتیاطی افواج یا ریزرو فورسز (Reserve Forces) کی موجودگی پر منحصر ہوتا ہے جن میں نقل و حرکت کی اعلیٰ صلاحیتیں ہوں۔
٭٭٭٭
جوابی حملہ دفاعی منصوبے کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ دشمن کی افواج کو اس کامیابی سے فائدہ اٹھانے سے روکا جائے جو اس نے کسی دفاعی مورچے میں شگاف ڈال کر حاصل کی ہو، تاکہ وہ اسے فیصلہ کن کامیابی میں نہ بدل سکے۔ یہ مقصد اس وقت زیادہ آسانی سے حاصل ہوتا ہے جب دشمن دفاعی جال میں الجھ کر پھنسا ہوا ہو۔ احتیاطی افواج یا ریزرو فورسز کو جوابی حملے کے لیے اسی وقت جھونکا جاتا ہے جب اس بات کی تصدیق ہو جائے کہ شگاف کسی حقیقی حملے کا نتیجہ ہے، کیونکہ جوابی حملہ دفاعی جنگ میں فورسز کے پاس محفوظ آخری پتا (Card) ہوتا ہے۔
جوابی حملہ دوسرے درجے کےیونٹوں کے ذریعے، مشترکہ ہتھیاروں کے ذخائر کو جھونک کر کیا جاتا ہے، جس کا مقصد دفاعی صورتِ حال کو سابقہ حالت میں بحال کرنا ہوتا ہے یا اگر موقع میسر ہو اور کامیابی کے اسباب موجود ہوں تو عمومی جوابی حملے کی طرف منتقل ہونا ہوتا ہے۔
دفاعی منصوبہ اور جوابی حملہ، دفاعی گہرائی اور ایسے خطوط (لائنوں) کے ایک نیٹ ورک پر انحصار کرتے ہیں جو حملے کی شدت کو جذب کریں اور دشمن کی نقل و حرکت کو مفلوج کر دیں۔ یہ بلاشبہ وقت کے عنصر کا تقاضا کرتا ہے تاکہ اسے بہتر طریقے سے تعمیر کیا جا سکے، فورسز کو معرکے کی اچھی تیاری کے لیے یہ وقت دینا ناگزیر ہے۔
٭٭٭٭
دفاعی جنگ میں جوابی حملے کی کامیابی میں شامل عناصر
- مؤثر جوابی حملہ انجام دینے کے لیے دفاعی منصوبہ درست میدانی جاسوسی کی معلومات (ریکی) پر، نیز دیگر انٹیلی جنس معلومات پر منحصر ہوتا ہے تاکہ دشمن کے حملے کے ارادے کی تصدیق کی جا سکے (جیسا کہ 1943ء میں کورسک کی جنگ میں روسیوں نے جرمنوں کے حملے کے دوران کیا)، یا فریب کی ایسی منصوبہ بندی کے ذریعے جس میں دشمن کو حملے پر اُکسانے والی معلومات اس تک پہنچائی جائیں (یعنی دانستہ طور پر اپنی معلومات لیک کی جائیں)۔ دشمن کا مطالعہ کرنا، اس کی صلاحیتوں، اس کے کمانڈروں کے طریقِ کار اور نفسیات کو جاننا اور سمجھنا ضروری ہے۔ اسی طرح ریزرو فورسز کی تیاری، ان کی اچھی تربیت اور ان میں خندقوں میں دفاع کی ذہنیت سے ہٹ کر جارحانہ حملے کی روح برقرار رکھنا بھی لازم ہے۔
- زمین کا درست انتخاب جو ہماری فورسز کو تحفظ فراہم کرے، دشمن افواج کے مشن کو مشکل بنائے، اس کی پیش قدمی میں رکاوٹ ڈالے اور اسے ایسے محاذ تک محدود کر دے جو جوابی حملہ کرنے والی فورسز کو برتری دے اور اسے آسانی سے ختم کرنے میں مددگار ہو۔
- دفاع اور جوابی حملے میں مشترکہ ہتھیاروں کے درمیان تعاون اور کوششوں کی تقسیم، تاکہ درج ذیل مقاصد حاصل ہوں:
- دشمن کی حملہ آور افواج پر مضبوط اور حوصلہ شکن فائر سپورٹ فراہم کرنا۔
- دشمن کی ریزرو افواج کو نشانہ بنا کر انہیں معرکے میں شریک ہونے سے محروم کرنا۔
- دشمن پر جوابی حملہ کرنے والی فورسز کے لیے حفاظتی اقدامات انجام دینا۔
- دفاعی معرکے میں سییورٹی کے اہم ترین نکات میں سے ایک ’’پوشیدگی اور کیموفلاج‘‘ کا منصوبہ تیار کرنا ہے جو انتہائی خفیہ ہو، دو امور کے لیے:
- اوّل: جوابی حملے کی تیاری کے لیے دفاعی فورسز کے ارادوں کو پوشیدہ رکھنا۔
- دوم: جوابی حملہ کرنے والی فورسز کو دشمن کے جاسوسوں کی نظروں سے اوجھل رکھنا۔
- جوابی حملے کے نفاذ کا فیصلہ بروقت کیا جانا چاہیے، اس طرح کہ دشمن کی افواج دفاعی جال میں تھک چکی ہوں اور ہماری جوابی حملہ آور فورسز دشمن کے اطراف اور عقب میں مناسب مقامات پر موجود ہوں۔
٭٭٭٭
’حملہ‘ ظاہر کر دینے والا (Revealing) ہوتا ہے، کیونکہ جو فریق سب سے پہلے حرکت کرتا ہے وہ اپنی اگلی حرکات کی پیش گوئی کا دروازہ کھول دیتا ہے، اور جو کچھ اس نے حیرت (Surprise) کے طور پر چھپا رکھا ہو وہ دفاعی کمانڈروں کے ذہن میں ’ممکن‘ بن جاتا ہے۔ حملہ آور دشمن کی پہلی ضرب کو کامیابی سے روک لیا جائے تو وہ انتہائی کمزور حالت میں آ جاتا ہے جو جوابی حملے کی تیاری کے کام کو آسان بنا دیتا ہے۔ چاہے دشمن کا حملہ زمینی طور پر حقیقی ہو یا محض امکان کے درجے میں ہو، ایک اچھی دفاعی منصوبہ بندی میں تمام منظرناموں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔
ایک متوازن اور بردبار سیاسی و عسکری ذہن، عسکری کارروائیوں (آپریشنز) کی گہری سمجھ کے ساتھ لچک رکھتا ہے اور انہیں معرکے میں فتح کے حصول کے لیے بروئے کار لاتا ہے۔ وہ دفاع سے حملے، پھر پسپائی سے دفاع، اور دوبارہ حملے تک مہارت، قوت، دل کی مضبوطی اور سکونِ اعصاب کے ساتھ سلسلہ وار کارروائیاں انجام دے سکتا ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگی میں ایسے چھوٹے کمانڈروں کا سلسلہ ہوتا ہے جو تجربہ و مہارت رکھتے ہیں، نیز ایسے سپاہی جو مختلف ذمہ داریاں قریبی اوقات (یعنی تھوڑے وقفوں) میں انجام دینے کے لیے تیار کیے گئے ہوں۔
اور میدانِ جنگ سے بلند تر سطح پر ہم اس ذہن کی پختگی اور مہارت دیکھتے ہیں کہ وہ تنازع کی نوعیت کے مطابق مناسب نظریۂ جنگ کا تعین کرتا ہے، چنانچہ وہ کہیں گوریلا جنگ کے نظریے پر عمل کا انتخاب کرتا ہے اور اس کے مراحل کو مضبوطی سے آگے بڑھاتا ہے اور کہیں دوسرے علاقوں میں باقاعدہ (روایتی) جنگ کے اصولوں کو استعمال کرتا ہے۔ اس کی نفسیاتی و ذہنی صلاحیتیں اسے اتنی لچک فراہم کرتی ہیں کہ وہ مراحل کے درمیان منتقل ہو سکے یا معروضی غلطی (Theoretical Mistake) سے بچ نکلے اور راستہ درست کر لے۔
شام میں جہادی تجربہ جس جمود اور سکڑاؤ سے گزرا ہے اور ماضی کے ساتھیوں اور شراکت داروں کا باہمی لڑائی میں الجھ جانا، ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ سیاسی و عسکری قیادتیں اس ذہنی لچک سے کتنی دور ہیں جو انہیں کم از کم ٹھہر کر ازسرِنو سوچنے سے بھی روکتی ہے: مسلسل ناکامیوں کی وجوہات پر، جہاں جنگ کی اسٹریٹجی پر نظرِ ثانی ضروری ہے، یا ان کی باہمی لڑائی کے نتیجے میں اندرونی صف کے کمزور پڑنے، امت کے دلوں کے ٹوٹنے اور ان کے دشمن کی برتری قائم ہونے پر، یا اس روح اور اُن اسباب کو دوبارہ زندہ کرنے پر جو ان کی سابقہ فتوحات میں معاون تھے۔ میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ انہیں رشد و ہدایت سے نوازے اور اسلام کے لیے خیر کے کاموں کی طرف ان کا ہاتھ تھام لے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَوَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِھٖ ۚ حَتّٰى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَآ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ ۭ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْھُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ ۚ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ ۭ وَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ (سورۃ آل عمران: ۱۵۲)
’’ اور اللہ نے یقینا اس وقت اپنا وعدہ پورا کردیا تھا جب تم دشمنوں کو اسی کے حکم سے قتل کر رہے تھے، یہاں تک کہ جب تم نے کمزوری دکھائی اور حکم کے بارے میں باہم اختلاف کیا اور جب اللہ نے تمہاری پسندیدہ چیز تمہیں دکھائی تو تم نے ( اپنے امیر کا) کہنا نہیں مانا (٤٩) تم میں سے کچھ لوگ وہ تھے جو دنیا چاہتے تھے، اور کچھ وہ تھے جو آخرت چاہتے تھے۔ پھر اللہ نے ان سے تمہارا رخ پھیر دیا تاکہ تمہیں آزمائے۔ البتہ اب وہ تمہیں معاف کرچکا ہے، اور اللہ مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔‘‘
٭٭٭٭
جب دشمن کے پاس ایسی طاقت یا امتیاز ہو جو ہمارے پاس نہیں، تو ہماری منصوبہ بندی کے بنیادی ستونوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم اس طاقت کو غیر مؤثر (Neutralize) بنانے کے لیے کام کریں، اس طرح کہ ایسا ماحول تیار کیا جائے جو دشمن کو اس طاقت کے استعمال سے روکے یا اس کی تاثیر کو کم کر دے اور ساتھ ہی ساتھ ہم اپنی اس کمزوری کا علاج دستیاب وسائل کی روشنی میں اپنی مہارت بڑھا کر کریں۔
عام طور پر دشمن کی طاقت اور ہماری کمزوری نقل و حرکت (Mobility) میں ہے۔ دشمن کے پاس فضائی ہتھیار ہیں، لہٰذا ہمیں غیر فعال اور فعال (منفی اور مثبت) دونوں طرح کی پوشیدگی میں مہارت حاصل کرنی ہو گی۔ جب لڑائی کے لیے پیش قدمی کی جائے تو حملے کے دوران رابطہ قائم کرنا ضروری ہے، جبکہ انخلاء کے وقت تیزی سے غائب ہونا، منتشر ہونا اور مہارت اختیار کرنا لازم ہے۔ یہ منصوبہ اس دستیاب وقت کے حساب پر منحصر ہے جو دشمن کی افواج کے رابطہ قائم کرنے، اپنے اڈوں سے فضائی مدد طلب کرنے اور اس کے حملے کے مقام تک پہنچنے کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ بھی تجربے کے ذریعے حاصل ہونے والی مہارت اور دشمن کے مقام اور ان فضائی اڈوں کے درمیان فاصلے سے جڑے وقت کے حساب پر منحصر ہے جہاں سے وہ پرواز کرتے ہیں۔ بغیر پائلٹ (ڈرون) طیاروں کی افادیت و تاثیر زمین پر ہمارے غلط طرزِ عمل سے جڑی ہوتی ہے، جیسے سرگرم جاسوسوں تک معلومات کی رسائی یا مواصلاتی ٹیکنالوجی (سیٹلائیٹ، موبائل اور انٹرنیٹ وغیرہ) کا بے قابو استعمال۔
دشمن کی طاقت کے عناصر میں سے ایک انٹیلی جنس معلومات ہیں، اس لیے ہمارے لیے طاقت کا عنصر ’’سکیورٹی اور پیشہ ورانہ مہارت‘‘ ہونا چاہیے۔
دشمن کی طاقت کے اہم نکات میں سے ایک اس کا میڈیا ہے اور عوامی رائے کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی اس کی صلاحیت ہے۔ چنانچہ دشمن اپنی جارحیت اور حملوں کو،جنہیں وہ چھپانے کی بھرپور سعی کرتا ہے، میڈیا کے ذریعے اس انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ خود کو مظلوم (Victim) ظاہر کر سکے۔ اس کے برعکس ہمارا میڈیا، (آگاہی و تعمیری) کردار ادا کرنے کے بجائے الٹا ہمارے خلاف عوامی رائے بنانے میں حصہ ڈالتا ہے، اس طرح کہ وہ دشمن کو ایک ایسے بے ضمیر قاتل کے طور پر پیش کرتا ہے جو مقتولوں اور مظلوموں کے معاشرتی تعلقات اور جذبات کا لحاظ نہیں رکھتا، نتیجتاً دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے میں حصہ ڈالتا ہے، مزید یہ کہ ہمارا میڈیا دشمن کے عوام سے ایسی زبان میں مؤثر خطاب بھی نہیں کر پاتا جو ہمارے مؤقف کی دیانت، عدالت اور حقیقت کو واضح طور پر بیان کر سکے۔ ویتنام کے جرنیل دشمن کی سرزمین پر اور خود اپنے ماحول میں عوامی رائے جیتنے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے میڈیا کو اپنی قضیے کی خدمت کرنے والا ہتھیار بنا دیا۔ (اس کے برعکس) عراق کے تجربے میں جو کچھ ہوا اس نے پوری دنیا، حتیٰ کہ جہادی تحریکوں کو بھی، ان کے خلاف صف آرا کر دیا، یوں وہ ساکھ (Reputation) اور میدان (Battlefield) دونوں کی جنگ ہار گئے، اور ہر وہ اخلاقی و معنوی حمایت کھو بیٹھے جو کارروائیوں کے بعد کی نقل و حرکت (یعنی پوشیدگی (Concealment)، پناہ (Shelter) ، علاج (Treatment) وغیرہ) کو آسان بناتی تھی۔
٭٭٭٭
عسکری و پروپیگنڈا ذرائع سے اشتعال انگیزی، دشمن کو اکسانا اور بھڑکانا، ایک ہوشیار فریب کی منصوبہ بندی اور نہایت درستگی سے تیار کیے گئے چارے کے ساتھ، دفاع، حملے اور پسپائی کے درمیان آپریشنل تنوع کے دائرے (فریم ورک) میں، اور ایک حفاظتی چھتری کے تحت جو ہمارے ارادوں کو چھپائے اور ہماری نقل و حرکت پر پردہ ڈالے، یہ سب مل کر ایک پرکشش استدراجی منصوبہ پیدا کرتے ہیں، جس کا نتیجہ دشمن کو اس زمین پر کھینچ لانا ہوتا ہے جہاں ہم بہتر کام کر سکتے ہیں، تاکہ اسے کھپا کر اور گھِسا کر بالآخر ختم کر دیا جائے۔
اشتعال انگیزی، اکسانا اور بھڑکانا حریف کو ذہنی عدم توازن کی حالت میں لے آتا ہے، یہ اسے غلط فیصلوں کے ایک سلسلے کا ارتکاب کرنے پر آمادہ کرتا ہے جن کی تلافی مشکل ہوتی ہے اور اس صورت میں دشمن کا حملہ عموماً کمزور ہوتا ہے جو عجلت میں تیار کیا گیا ہوتا ہے۔ اس طرح کے فریب ؍ لالچ کے ذریعے دشمن کی طاقت اسی کے خلاف استعمال کی جاتی ہے، کیونکہ اگرچہ اس کے پاس بڑی عسکری قوت ہوتی ہے، مگر وہ مشتعل اور جلد باز قیادت کے ذریعے چلائی جاتی ہے جو ناقص منصوبہ بندی کرتی ہے اور ہم نے پہلے سے جس کا منصوبہ بنایا ہوتا ہے اس کی طرف غیر معقول انداز میں لپکتی ہے، جہاں جوابی حملے کی یونٹس اس کی منتظر ہوتی ہیں۔
ہر حال میں جوابی حملے کی اسٹریٹجی نافذ نہیں کی جا سکتی، بعض حالات ہمیں انتظار کے بجائے حملے میں پہل کرنے پر مجبور کرتے ہیں جبکہ بعض حالات ہمیں غیر دانشمندانہ ثابت قدمی (درحقیقت ضد) کے ذریعے خود کو تباہ کرنے کے بجائے انخلا (پسپائی اختیار کرنے) پر مجبور کر دیتے ہیں، یوں ہم اپنے لشکر کی جانیں بچاتے ہیں اور اپنی قوت کو محفوظ رکھتے ہیں تاکہ کسی اور دن لڑ سکیں۔
حِلم (یعنی سکون، متانت اور صبر) دشمن کی غلطیوں سے فائدہ اٹھانے کی گنجائش پیدا کرتا ہے اور بہت سے اختیارات (آپشنز) کے دروازے کھولتا ہے۔ نفسیاتی سطح پر کامیابی کی کنجی یہ ہے کہ ایسے حریف کے ساتھ اعصاب کی ٹھنڈک برقرار رکھی جائے جس پر اس کی انسانی فطرت غالب آ جائے اور وہ جذبات میں آ کر بھڑک اٹھے۔
میں آج بھی (یمن کے ساحلی شہر) المُکلَّا سے مجاہدینِ القاعدہ کی فوری انخلا والی شاندار چال کا معترف ہوں اور ان کے میدانی معرکوں اور میڈیا جنگ میں کامیابی کی دعا کرتا ہوں، نیز میں اس وقت ان کے جوابی حملے کا منتظر ہوں جب (ان شاء اللہ) اسباب مہیا ہوں اور وقت آ جائے، کیونکہ (حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق) ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے۔
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
