بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم
إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَّهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَنَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَنَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُه . أمابعد
گزشتہ اقساط میں ہم نے ’لامتناہی کھیل‘ (infinite game) کی جن بنیادی خصوصیات پر بات کی تھی، آئیے اب انہیں زندگی کی چند مزید عملی مثالوں سے سمجھتے ہیں۔ اس تحریر کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ ان تصورات کو بالکل آسان اور قابلِ اطلاق انداز میں آپ کے سامنے پیش کیا جائے۔
جیسا کہ پچھلی اقساط میں ہم یہ باتیں جان چکے ہیں کہ:
- انفینٹ گیم میں اصل مسئلہ ہار جیت کا ہوتا ہی نہیں۔ یہاں سب سے اہم چیز اپنے کام اور سفر کو مسلسل جاری رکھنا ہے۔
- اس لامتناہی کھیل کو آپ چند مخصوص قواعد و ضوابط کی زنجیروں میں نہیں باندھ سکتے۔
- اس میں دشمن کا کبھی مکمل طور پر خاتمہ نہیں ہوتا۔ آپ ایک حریف کو شکست دیتے ہیں، تو فوراً کوئی دوسرا اس کی جگہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔
- اس لامتناہی کشمکش میں بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کو بیک وقت کئی دشمنوں کے خلاف مختلف محاذوں پر جنگ لڑنی پڑتی ہے۔ اس کے برعکس ’محدود کھیل‘ (finite game) میں آپ کا حریف پہلے سے متعین اور محدود ہوتا ہے۔
انہی باتوں کو سمیٹتے ہوئے، ہم پہلے اور دوسرے نکتے کی تھوڑی مزید وضاحت کریں گے، اور پھر ان شاء اللہ گفتگو کے اگلے حصے کی جانب بڑھیں گے۔
آئیے، ایک بار پھر گریجویشن والی مثال کی طرف چلتے ہیں۔ ذرا سوچیے، جب ہم گریجویشن کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں چند مخصوص مضامین پڑھنے پڑتے ہیں۔ انہیں پڑھ کر ہی ہمیں ڈگری مل جاتی ہے، یا یوں کہہ لیجیے کہ ہماری ’فتح‘ یقینی ہو جاتی ہے۔ مگر علم حاصل کرنے کے اس لامحدود میدان میں کچھ بھی پہلے سے طے شدہ یا محدود نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، فرض کر لیجیے کہ آپ نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ ’’مجھے جہاد میں خدمت کے لیے مطالعہ کرنا ہے‘‘۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ کو کیا کیا پڑھنا چاہیے؟
دیکھیے، اس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ آپ محض کوئی ایک مضمون پڑھ کر مکمل علم حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ کوئی ایسا کام نہیں کہ آپ نے صرف ’مینجمنٹ‘ (انتظامی امور) پڑھ لی اور آپ کو کامل علم حاصل ہو گیا۔ بلکہ، اس مینجمنٹ کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے آپ کو نفسیات کا مطالعہ کرنا پڑے گا، فلسفے کو سمجھنا ہو گا۔ آپ کو ’کریٹیکل تھنکنگ‘ (تنقیدی سوچ) کے زاویے سیکھنے ہوں گے، آداب سمجھنے ہوں گے، اور ظاہر ہے کہ شرعی علم بھی حاصل کرنا ہو گا۔ یہاں دراصل کسی چیز کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ آپ کو ہر پہلو سے، ایک ہمہ جہت مطالعہ مسلسل جاری رکھنا ہو گا۔
اب ایک دوسری مثال کی طرف آتے ہیں۔
ذرا اپنے والدین، شریکِ حیات، دوستوں یا کسی دینی بھائی کے ساتھ اپنے تعلق کے بارے میں غور کیجیے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان رشتوں میں ہار یا جیت نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں۔ اور نہ ہی یہ رشتے کسی مادی لین دین یا کچھ پانے کی غرض سے بنائے جاتے ہیں۔
ہم میں سے ہر شخص جب زندگی کے اس مرحلے تک پہنچتا ہے، تو بے شمار لوگوں سے اس کی دوستی ہو چکی ہوتی ہے۔ یاد کیجیے، زندگی کے ابتدائی دور میں ہم میں سے اکثر کا مزاج یہی ہوتا تھا کہ ہم خاندانی رشتوں پر بھی اپنی دوستی کو ترجیح دیتے تھے۔ اس وقت دوستی کے رشتے سے زیادہ قیمتی چیز ہمارے نزدیک کوئی اور نہیں تھی۔ اس سفر میں ہمیں ایسے بہت سے دوست ملے جن میں سے کئی ایک کے ساتھ ہماری دوستی آج تک قائم ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آج ان کے ساتھ ہماری نظریاتی ہم آہنگی نہ رہی ہو، لیکن دوستی کا وہ رشتہ اب بھی برقرار ہے۔ آج بھی ہم انہیں اپنے قریب محسوس کرتے ہیں اور وہ ہمیں محسوس کرتے ہیں۔ نظریاتی اختلافات کے باوجود وہ ہماری خیر خبر لیتے رہتے ہیں ۔ (یہ لامحدود ذہنیت ہے۔)
لیکن دوسری جانب، ہمیں ایسے دوست بھی ضرور ملے جنہوں نے محض کسی خاص مفاد کی خاطر دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ مال و دولت، شہرت، عمدہ کھانوں کی محفلیں یا کوئی اور مخصوص غرض، یہ وہ مقاصد تھے جن کے تحت وہ ہمارے قریب آئے۔ اور جیسے ہی ان کا وہ مفاد پورا ہوا یا ان کا اصل چہرہ سامنے آیا، تو دوستی کا وہ رشتہ بھی وہیں دم توڑ گیا، اور وہ ہم سے دور ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دوستی کا جو حقیقی مقصد تھا، وہ کبھی حاصل ہی نہ ہو ۔ (اسے ہم محدود ذہنیت کہتے ہیں۔)
اب ذرا ازدواجی زندگی پر بھی ایک نظر ڈالتے ہیں۔ ’’میری بیوی میری ماتحت ہے، میں بادشاہ ہوں اور وہ میری رعایا ہے‘‘، اگر سوچنے کا انداز ایسا ہو، تو پھر ازدواجی تعلق کا جو اصل مقصد ہے، وہ کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔ ایسی سوچ کے ساتھ تو رشتے کا برقرار رہنا ہی ایک مشکل امر بن جاتا ہے (یہ محدود ذہنیت کی ایک اور واضح مثال ہے)۔
لیکن اس کے برعکس، اگر ہم یہ سوچیں کہ یہ مبارک رشتہ تو ہمیں جنت تک لے جانے میں ہمارا معاون ہے۔ اس شریکِ حیات کے ساتھ میرا یہ تعلق ایک لامتناہی سفر ہے۔ مجھے اسے بالکل آخر تک نبھانا ہے۔ زندگی میں نشیب و فراز تو آتے ہی ہیں، اس لیے ظاہر ہے کہ اس رشتے میں بھی اتار چڑھاؤ ضرور آئیں گے۔ کبھی رشتے میں محبت کی گرمجوشی ہو گی تو کبھی تھوڑی بہت کشیدگی، لیکن ان تمام رویوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے ہم ان شاء اللہ آگے بڑھتے رہیں گے۔ بس اسی صورت میں ازدواجی تعلق کا وہ عظیم اور اصل مقصد حاصل ہو سکے گا (اور یہی لامحدود ذہنیت ہے)۔
اسی طرح، دوستی اور دینی اخوت کے معاملے میں بھی ہمارے تعلقات ہمیشہ ایک ہی ڈگر پر نہیں چلتے۔ ان میں بھی اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ روٹھنے منانے کا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔ مگر ہمیں ان سب چیزوں کو ساتھ لے کر ہی آگے کا سفر طے کرنا ہے۔ البتہ یاد رکھیے، محض تعلق کو برقرار رکھنے کی خواہش دل میں پال لینا ہی کافی نہیں ہوتا۔ ہمارے اردگرد بہت سے لوگ ایسے ہیں جو زبانی دعوے تو خوب کرتے ہیں کہ ہم تعلقات کو جوڑے رکھنا چاہتے ہیں، لیکن عملاً وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح پر بالکل تیار نہیں ہوتے۔ بعض لوگ تو اپنی غلطی تسلیم کرنا ہی گوارا نہیں کرتے۔ ہاں، مجموعی طور پر وہ یہ فلسفہ ضرور بیان کریں گے کہ ’’ہم بھی اولادِ آدم ہیں، ہم سے بھی تو غلطی ہو سکتی ہے‘‘، لیکن اگر کوئی خاص طور پر ان کی کسی غلطی کی نشاندہی کر دے، تو وہ اسے ماننے کے لیے قطعاً تیار نہیں ہوں گے۔ وہ یہ تسلیم ہی نہیں کریں گے کہ فلاں مخصوص کام میں ان سے واقعی کوئی چوک ہوئی ہے۔ ہمیں اس پہلو پر بہت سنجیدگی سے توجہ دینا ہو گی۔ کیونکہ، اس لامتناہی کھیل کا ایک بنیادی جزو ’مسلسل بہتری‘ (Continuous improvement) ہے۔ اگر ہم کھلے دل سے اپنی غلطی تسلیم ہی نہیں کریں گے اور اسے سدھارنے کی کوشش نہیں کریں گے، تو پھر اپنے معیار اور رشتوں میں بہتری لانا کبھی ممکن نہیں ہو سکے گا۔
چنانچہ، ازدواجی تعلق، دوستی اور دینی اخوت جیسے ان رشتوں کے معاملے میں اگر ہم واقعی مخلص ہیں، اور سچے دل سے چاہتے ہیں کہ انہیں مرتے دم تک خوبصورتی سے نبھائیں، اور بات صرف دنیا تک ہی محدود نہ رہے، بلکہ ہم جنت میں بھی ایک ساتھ رہیں، تو پھر ہمیں ان رشتوں کے نشیب و فراز اور تمام تر انسانی غلطیوں و کوتاہیوں کو کھلے دل سے تسلیم کرنا ہو گا۔ ان کوتاہیوں کو مانتے ہوئے ہمیں ان رشتوں کے معیار کو مسلسل بہتر بنانے کا سلسلہ جاری رکھنا ہو گا۔ ہمیں اپنی ذات کے اندر جھانک کر غلطیاں تلاش کرنی ہوں گی اور ان کی اصلاح کرنی ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، ہم کچھ ایسے پیشگی اقدامات بھی کریں گے تاکہ غلطیوں کی نوبت ہی نہ آئے۔ اور اگر غلطی ہونے کا ذرا سا بھی امکان نظر آئے، تو ہم فوراً ایسے مؤثر قدم اٹھائیں گے تاکہ اس رشتے کو تاحیات بحسن و خوبی نبھایا جا سکے۔ مجھے پوری امید ہے کہ رشتوں کے حوالے سے لامحدود ذہنیت (Infinite Mindset) دراصل کیسی ہوتی ہے، یہ بات اب ہم بخوبی سمجھ چکے ہیں۔
آپ دیکھیے، ازدواجی تعلق، خاندانی رشتے، دوستی اور یہ دینی اخوت، درحقیقت یہ رشتے تو ایک لامتناہی اور نہ ختم ہونے والے سفر کی مانند ہیں۔ یہ ۵ سال یا ۱۰ سال جیسی کسی مخصوص مدت کے دائرے میں قید نہیں کیے جا سکتے۔ یہ کوئی ایسا مخصوص ایونٹ یا واقعہ نہیں جو گزر جائے۔ کورونا کی وبا آئی، عالمی جنگیں ہوئیں، یہ سب محض واقعات تھے۔ امریکہ اور افغانستان کی جنگ ۲۰ سال تک جاری رہی۔ لیکن ذرا غور کریں تو یہ سب محدود (Finite) چیزیں تھیں۔ ایک مخصوص وقت گزرنے کے بعد بالآخر ان کا اختتام ہو گیا۔ مگر جب تک موت نہیں آ جاتی، ہمارے اس اقامتِ دین کے سفر کا کوئی اختتام نہیں ہے۔ اوپر بیان کی گئی مثالوں ہی کی طرح، یہ بھی لامحدود ذہنیت کا ایک بہت وسیع اور اہم میدان ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ رشتوں کے معاملے میں لامحدود ذہنیت کا کیا مطلب ہے، مجھے قوی امید ہے کہ ہماری اس گفتگو سے ہم یہ باآسانی سمجھ چکے ہیں۔ اب ہماری زندگی کی اس جنگ میں، اور اسی طرح نظریاتی، عسکری، معاشی اور سیاسی جنگوں کے اندر بھی لامحدود ذہنیت کے جو مختلف میدان ہیں، ہمیں ان کو بھی اسی گفتگو کے تناظر میں عملی طور پر سمجھنا ہو گا، اور پھر ان تصورات کو حقیقی عمل کے سانچے میں ڈھالنا ہو گا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
واللہ تعالیٰ اعلم!
٭٭٭٭٭
