خندقیں
الحمد للہ وکفیٰ والصلاۃ والسلام علیٰ أشرف الأنبیاء.
اللّٰھم وفقني کما تحب وترضی والطف بنا في تیسیر کل عسیر فإن تیسیر کل عسیر علیك یسیر، آمین!
ہم میران شاہ پہنچے۔ وہاں ہمارے ساتھیوں کا ایک مرکز تھا جس کے نیچے ایک خندق تھی۔ اردو میں خندق مختلف چیز ہوتی ہے جسے عموماً انگریزی میں Trench کہتے ہیں، تو یوں کہہ لیں کہ خندق سے ہماری مراد سرنگ یا Tunnel ہے۔ یہیں مولوی سراقہ شہید سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔ آخری محفلِ استاذ میں وعدہ کیا تھا کہ اگلی نشست میں مولوی سراقہ بھائی کا کچھ ذکرِ خیر کروں گا۔ لیکن یہ وعدہ شاید اس بار وفا نہ ہو سکے۔ حضرتِ استاذ سے لوگوں کی محبت ہے کہ مستقل، مختلف جہتوں سے یہ اصرار، پیغامات و خطوط ملتے رہتے ہیں کہ مع الأستاذ فاروق کے سلسلے کو جاری و ساری رکھا جائے، حالانکہ میں ان کا شاگردِ ادنیٰ ہوں، اگر کسی کو اس سلسلے کی کسی قسط کا انتظار ہے تو یہ استاذ رحمہ اللہ ہی کی مقبولیت ہے، اللہ پاک حضرت کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں بھی ان کی طرح خاتمہ بالخیر نصیب کرے، مقبلاً غیر مدبرٍ (نحسبہ کذلك والله حسيبه)۔
وقت کا دامن تنگ ہے اور ایک محفلِ استاذ چونکہ منعقد کرنی ہے لہٰذا کچھ مختصر لکھنے کے لیے خندقوں کے بارے میں کچھ لکھتا ہوں، اس لیے بھی کہ ابھی تازہ تازہ شیخ ایمن الظواہری کے سلسلۂ خطبات ایام مع الإمام کی چھٹی نشست بھی راقم نے پڑھی ہے جہاں شیخ اسامہ بن لادن کے تورا بورا میں آخری ایام اور وہاں قائم خندقوں کا ذکر ہے۔
فاروق بھائی ایک ہی وقت میں داعی و عالم بھی تھے اور مرابط و مقاتل بھی اور ایک مدبر منصوبہ ساز یا strategist بھی۔ اپنے آپ کو چھپا کر دشمن پر وار کرنا اور مستقل اور لمبی جنگ دشمن پر مسلط کیے رکھنا استاذ رحمہ اللہ کی فکر میں بہت گہرا جا گزیں تھا۔ دنیا میں برپا آج کل کی جنگوں میں خندقوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ پھر خندقوں کا جس قدر اعلیٰ و عالی نظام و انصرام مجاہدینِ قسام نے غزہ میں کیا ہے تو ایسی مثال تاریخِ انسانی پیش کرنے سے قاصر ہے، بے شک ایمان باللہ کے بعد اعلیٰ جنگی تدبیر ہی اس کا سبب ہے۔ یوں جنگی اعتبار سے قوت میں غیر متوازن دو گروہوں میں سے کمزور تر گروہ، یعنی مجاہدینِ اسلام کے لیے خندقوں کی اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ مجاہدینِ قسام کی صفاتِ عالیہ کا ذکر ہم کچھ ٹھہر کر اور بھی کریں گے۔
فاروق بھائی کے ساتھ خندقیں بنانے اور خندقوں کی باقاعدہ منصوبہ سازی میں دو تین شخصیات بہت زیادہ شریک تھیں۔ ان میں پہلی شخصیت مولانا سعید اللہ خان شہید ہیں، عملاً انہوں نے ہی اس کام کی طرف پہلا قدم اٹھایا اور پھر ان کے ساتھ ڈاکٹر محمد سربلند زبیر خان شہید یعنی ابو خالد بھائی شامل ہو گئے اور ان دونوں نے مل کر فاروق بھائی کو اس کام پر قائل کیا، بعد ازاں ابو خالد بھائی خندقوں کے اس کام کو ایک بالکل الگ اور عالی درجے پر نہایت منظم انداز سے لے گئے۔ ان دو کے بعد تیسری شخصیت انجنیئر سیّد محمد عادل شہید یعنی سہیل بھائی تھیں۔
۲۰۱۰ء کے موسمِ گرما میں، راقم الحروف کی تشکیل دورۂ بارود کے لیے کی گئی۔ جنوبی وزیرستان میں انگور اڈا کے پڑوس میں واقع پہاڑیوں اور جنگل کے علاقے ’غرلاما‘ میں ہمارا ایک مرکز تھا اور میں وہیں موجود تھا جب دورۂ بارود کے لیے قاسم بھائی (مجاہد قائد خرم سعید کیانی شہید) نے مجھے وانا بلایا اور سہیل بھائی کے زیرِ سرپرستی مرکز میں قاری عبد العزیز صاحب کے گھر کے راستے سے بھیج دیا۔
قاری صاحب کے گھر پر سہیل بھائی مجھے لینے کے لیے آئے اور کچھ وقت قاری صاحب کے ساتھ گپ شپ بھی کی۔ اسی گپ شپ کے دوران سہیل بھائی نے اپنے خندق پراجیکٹ کا ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے مرکز کے قریب پانی کے ایک خشک کنوئیں میں خندق کھودنے کا آغاز کر رکھا ہے۔ وہاں ڈرون حملوں سے بچاؤ کے موضوع پر سہیل بھائی نے کافی گفتگو کی۔
میں سہیل بھائی کے ساتھ روانہ ہوا اور ان کے مرکز پہنچا، اس مرکز کو بارود کا مرکز ہی کہا جاتا تھا۔ میں اس مرکز میں پہلے بھی رہ چکا تھا، لیکن اب پہلی بار ہنرِ بارود سیکھنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس بار یہاں پہنچا تو عمومی مرکز کے بجائے اسی عمارت کے پڑوس میں ایک اور کمرے کی طرف لایا گیا۔ یہاں دو ساتھی پہلے سے موجود تھے۔ ایک ہمارے محترم و مکرم طلحہ قَتَّال بھائی اور دوسرے محمد عسکری بھائی جو بعد میں شمالی وزیرستان کے علاقے سپین کمر میں شہید ہوئے۔ قتال بھائی سہیل بھائی کے معاونین میں سے تھے۔ یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ساتھیوں کی بود و باش کے لیے اب پرانی عمارت کو استعمال نہیں کیا جائے گا، بلکہ سہیل بھائی کی زیرِ سرپرستی خندق میں رہا جائے گا۔
اس خندق میں داخل ہونے کا راستہ سیڑھیاں تھیں جو قریباً بیس میٹر نیچے اترتی تھیں، پھر ایک دہلیز نما تھی اور اس سے آگے کنواں۔ کنویں پر ایک تختہ نما رکھا ہوا تھا اور اس سے آگے ایک سرنگ نما کمرہ بنانے کا ارادہ تھا، جس پر میرے ہوتے ہوئے ہی کام شروع ہو گیا تھا۔
یہ خندق فاروق بھائی کے مجموعے میں اس خندقوں کے منصوبے کی پہلی منظم خندق تھی۔ ورنہ اس سے قبل بھی مختلف خندقیں فاروق بھائی کے ساتھیوں کے مختلف مراکز میں موجود تھیں۔ وانا میں شاید دو خندقیں تھیں اور جس غرلاما کا ذکر ہوا تو وہاں بھی دو خندقیں تھیں۔
وانا میں خندق بنانے کے کام کا آغاز مولانا سعید اللہ رحمہ اللہ نے شروع کیا۔ ۲۰۰۸ء کے مارچ میں ڈاکٹر ارشد وحید صاحب پر امریکی ڈرون طیاروں کی بمباری اور اس کے نتیجے میں ان کی شہادت کے بعد مولانا سعید اللہ نے کہا کہ اس طرح کے حملوں کا توڑ خندقیں ہیں اور ہم کشمیر میں بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ ہمارے ایک مسئول و محترم بھائی نے راقم کو بتایا کہ ’’وانا میں ڈاکٹر ارشد وحید شہید والی بمباری کے بعد، ایک دن فجر کے فوراً بعد صبح صبح مولانا سعید اللہ نے کدال اور بیلچا اٹھایا اور ہمیں ساتھ لے کر مرکز کے پچھلے کمرے میں چلے گئے اور وہاں کھدائی شروع کر دی۔ پہلے زمین پر چوکور ایک خط کھینچا اور پھر اس کو کھودنا شروع کر دیا‘‘۔
غرلاما کی دو خندقوں کو تو ہمارے عزیم و باہمت بھائی درویش جانان قریشی رحمہ اللہ نے فاروق بھائی کے باقاعدہ خندقوں کے منصوبے کے بعد ملا دیا تھا، میرے حافظے میں غرلاما سے زیادہ بڑی خندق کوئی نہیں ہے جو اس زمانے میں بنائی گئی، شاید یہ خندق کوئی دو سو میٹر طویل تھی اور اس میں متعدد کمرے بھی تھے۔ یہاں درویش بھائی کے ذکرِ خیر کے ساتھ ہمارے بھائی عبد الاحد کا ذکر بھی لازمی ہے، جو غالباً غرلاما کی خندق سازی میں شریک رہے۔ انہوں نے خندقیں بنانے میں بے پناہ جان کھپائی اور انہی خندقوں کی کھدائیاں کر کر کے عبد الاحد بھائی کی کمر میں تکلیف بھی پیدا ہو گئی۔ بعداً عبد الاحد بھائی ۲۰۱۵ء میں قندھار کے علاقے شاہ ولی کوٹ میں شہید ہوئے، رحمہ اللہ!
بہرکیف، سہیل بھائی رحمہ اللہ نے ڈرون طیاروں کی نگرانی اور ان کے فضائی حملوں سے بچنے کی خاطر ایک کتاب بھی لکھی اور اس میں خندقوں کے نظام پر تفصیلی بحث بھی کی۔ سہیل بھائی خود سِول انجنیئر تھے تو انہوں نے بہت سے اور پہلوؤں سے بھی خندقیں بنانے کے ڈیزائن پر اس کتاب میں بحث کی؛ خندقوں کی اقسام، طرزِ تعمیر، ہوا کا بہاؤ، بیت الخلاء وغیرہ کی تعمیر، پانی پہنچانا وغیرہ۔
ابو خالد بھائی رحمہ اللہ نے بھی ایک کتاب ڈرون طیاروں اور ان سے بچاؤ کے موضوع پر لکھی، ابو خالد بھائی کا اس کتاب کے کے لیے قلمی نام غالباً ہدایت اللہ مہمند تھا۔
۲۰۱۱ء میں اس نئی خندقوں کی مہم پر فاروق بھائی نے کام کروانا شروع کیا اور بیت المال کا ایک حصہ اس کام کے لیے مخصوص کر دیا۔ اس نئی مہم میں وزیرستان کے تین علاقوں میں باقاعدہ خندقیں کھودی گئیں۔ میران شاہ شہر میں (جس خندق کے ذکر کے ساتھ آج کی محفل کا آغاز ہوا ہے، وہ)، لِواڑہ کے علاقے میں (اور اکثر خندقیں یہیں کھودی گئیں)، شوال کے علاقے میں (اور یہاں کی خندقیں سب سے زیادہ کام آنے والی، پائیدار، تمام تجربوں کا نچوڑ ثابت ہوئیں اور انہی خندقوں میں سے ایک میں تنظیم القاعدہ کی اعلیٰ ترین قیادت بھی طویل عرصہ قیام پذیر رہی، ان خندقوں میں بھی اولاً مذکور عبد الاحد بھائی کا بڑا کردار تھا، بلکہ ان خندقوں میں عبد الاحد بھائی’اصحابِ خندق‘ کے خادم بھی رہے)۔ہر ہر خندق میں ایک سرنگ نماز راہداری ہوتی اور کم سے کم دو سے تین کمرے، ہر کمرے میں تین سے چار افراد کے سونے یا کام کرنے کی جگہ ہوتی۔ ان خندقوں میں بجلی کا نظام سولر پینلز اور بجلی کے جنریٹرز کے ذریعے بنایا گیا۔ قیام و طعام، ذکر و تلاوت و نماز اور تمام جہادی امور بشمول اعلامی خدمات انہیں خندقوں میں ادا کی جاتیں۔
انہی خندقوں میں سے ایک انحٔر کس (انزر کس) کے علاقے میں بنائی گئی جہاں خندق میں داخلے کا اراستہ اس قدر وسیع تھا کہ گاڑی خندق کے اندر تک اترتی تھی اور گاڑی کا گیراج خندق ہی میں تھا۔
اللہ پاک یہ سب خدمتیں کرنے والوں، زحمتیں اٹھانے والوں، بیلچے اور کدالیں چلانے والے اولوالعزم، عالی ہمت لوگوں اور ان خندقوں کے معماروں اور معمار دماغوں کو اجرِ کثیر عطا فرمائے۔ بلکہ اللہ پاک ان خندقوں میں رہنے والوں کو بھی بے شمار اجر سے نوازے، کہ خندقوں میں رہنابھی جُوئے شیر لانے کے مترادف ہی ہے۔
اسی زمانے میں خندقوں کی اہمیت سے متعلق فاروق بھائی سے براہِ راست بھی میں نے بہت کچھ سنا۔ ۲۰۱۱ء میں لواڑہ کے علاقے میں قائم مرکزِ اعلام کی خندق میں فاروق بھائی نے خندقوں کی افادیت اور ویتنام جنگ میں خندقوں کے ذریعے ویتنامیوں کی امریکہ کے خلاف مقاومت کو تفصیل سے بیان کیا اور ویتنامیوں کی خندقوں کے نقشہ جات بھی ہمیں دکھائے۔خندقوں میں رہ کر ویتنامیوں کے طریقِ جنگ پر بھی استاذ رحمہ اللہ نے روشنی ڈالی۔
۲۰۱۳ء میں افغانستان کے صوبۂ پکتیکا کے علاقے ارگون میں امریکی و امریکی کٹھ پتلی افغان ملی فوج کے خلاف ایک تشکیل سے واپسی کے دوران امیرنا استاد اسامہ محمود صاحب نے ہمیں شیخ احسن عزیز کا ایک قول سنایا کہ وہ کہتے تھے کہ ’’دشمن ٹیکنالوجی میں جس قدر ہوا میں اونچا اڑتا جائے، اسی قدر مجاہدین کو چاہیے کہ وہ زمین کے اندر گھستے چلے جائیں‘‘۔
اس کا معنیٰ یہ نہیں ہے کہ ہم مجاہدین و اہلِ اسلام ٹیکنالوجی کے میدان میں پیچھے رہ جائیں، نہیں، بلکہ ہمارے اسلاف میں سے کسی کا قول ہے کہ:
’’إذا تفوق العدو الكافر على المسلمين في فنٍّ من الفنون، آثم جميع المسلمين ما لم يتفوقوا عليهم بفنهم.‘‘
=’’اگر کافر دشمن کسی ایک فن میں مسلمانوں سے فوقیت حاصل کر لیں تو تمام مسلمان گناہ گار ہوں گے، یہاں تک کہ مسلمان اس فن میں کفار پر فوقیت حاصل کر لیں۔‘‘1اس سے مراد جائز و مباح فنون ہیں، نہ کہ ناجائز فنون۔
شیخ احسن عزیز کی مراد کو ہم شیخ ایمن الظواہری کے اس قول سے سمجھتے ہیں:
’’ صہیونیت نواز صلیبی دشمن ہم پر اپنے فضائی کنٹرول کے ذریعے طاقتور اور متکبر ہو رہا ہے، اس لیے زمین میں پناہ لینا اس فضائی کنٹرول کے خلاف مزاحمت کرنے کے لیے بہترین وسائل میں سے ہے، لہٰذا تمام مجاہدین کو میری نصیحت ہے کہ وہ اس میں بہت زیادہ دلچسپی لیں اور خندقیں کھودنے میں مزید جدت لائیں، ان شاء اللہ یہ صہیونیت نواز صلیبی دشمن کے فضائی کنٹرول کے خطرے کو بہت بڑی حد تک کم کر دے گا۔ ‘‘
فاروق بهائی کے خندقوں کے اس منصوبے کا بہت ہی عظیم فائدہ ہوا۔ میدانِ جنگ میں اول تو جس جس جگہ خندقیں کھودی گئیں تو اس تدبیرِ مومن کے سبب اللہ جلّ شانہٗ کی جانب سے تقدیر، نصرت کی شکل میں یوں شاملِ حال ہوئی کہ کسی جگہ پر دشمن نے کبھی بمباری نہ کی اور جہاں بمباری ہوئی تو یوں ہوا کہ مجاہد ساتھی سب بخیر و عافیت رہے، یا بعض کو معمولی زخم آئے۔
خندقیں عصرِ حاضر کے جہاد کی نہایت اہم ضرورت ہیں اور دنیائے اسباب میں فتح و ظفر کا پیش خیمہ ہیں۔ یہ بات دہرانا ہمارے لیے صد بار باعثِ فخر و اعزاز ہے کہ مجاہدینِ قسام نے خندقوں کے جہاد اور خندقوں کی عالمی سطح پر جنگ کی ایک نئی تاریخ مرتب کر دی ہے۔ ایسی خندقیں جہاں سے آج وہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی حمایت سے جاری اسرائیل کی انتہائی بڑے پیمانے پر جنگ کے خلاف جہاد فی سبیل اللہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہزاروں ٹن بارود غزہ پر برسایا جا چکا ہے۔ ہیروشیما و ناگاساکی سے کئی کئی چند زیادہ بربادی غزہ میں برپا کی جا چکی ہے، لیکن مالک ِ کائنات پر بھروسہ کرتے ہوئے تدبیرِ جنگ اور مکرِ جنگ کے ماہر و فنان مجاہدینِ غزہ، اب بھی اپنی خندقوں میں موجود ہیں جہاں سے وہ دنیا کا اعلیٰ ترین کمیونیکیشن سسٹم بھی آج تک چلا رہے ہیں اور صہیونی دشمن حیران و ذلیل و شکست خوردہ ہے، وَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُوْلِهٖ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ!
محفلِ استاذ كو فی الحال یہیں روکتے ہیں۔ اللہ پاک اس سلسلے کو خیر و برکت کا سبب بنائے اور خیر سے جاری رکھتے ہوئے کما حقہ اختتام تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
وما توفیقي إلّا بالله. وآخر دعوانا أن الحمد للہ ربّ العالمین.
وصلی اللہ علی نبینا وقرۃ أعیننا محمد وعلی آلہ وصحبہ ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین.
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭
- 1اس سے مراد جائز و مباح فنون ہیں، نہ کہ ناجائز فنون۔ ↩︎
