محمد رسول اللّٰہ، علیہ ألف صلاۃ اللّٰہ وسلام، کی ولادت کا با برکت مہینہ ہے۔ آپؐ تو بندۂ مومن کی زندگی کا مرکزی نقطہ ہیں۔ آپؐ کی اتباع دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ باذن اللّٰہ ،آپ کی ذاتِ اقدس پناہ ہے مصیبتوں اور پریشانیوں میں، اس دنیا میں آپؐ پر کثرتِ درود و سلام مصیبتوں کے ٹلنے کا سبب ہے اور یومِ آخرت کو داورِ محشر ﷻ نے آپؐ کو شافعِ محشر بنا کر، کائنات کی عظیم ترین مصیبت سے چھٹکارے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اللّٰہ کے بعد کوئی ذات ہے توآپؐ ہیں۔ آپؐ تو بندگانِ مومنین کو ہمیشہ یاد رہتے ہیں، لیکن پھر بھی ربیع الاول کے مہینے میں آپؐ کی یاد، آپؐ کی ولادتِ با سعادت کی نسبت سے کئی چند زیادہ ہو جاتی ہے۔ آپؐ کی مدحت کرنا ایک انتہائی اعلیٰ عمل ہے اور آپ کی اطاعت کرنا اعلیٰ ترین عمل، بلکہ آپؐ کی اطاعت کرنا مدحت کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔ دنیا آج جن گھور اندھیروں اور تاریکیوں کی شکار ہے، تو ایسے میں آپؐ کی یاد ہر قلبِ حساس و مومن میں رہ رہ کر زیادہ ہو جاتی ہے۔اللھم صل وسلم علی نبینا ومولانا وقرۃ أعیننا محمد!
ہم اداریے کی یہ سطور لکھ ہی رہے تھے کہ آج سے ایک سال پرانی ایک خبر ، ہماری نظروں کے سامنے آج ابھی گزری ، اور اس نے سب ہوش و حواس معطل کر دیے۔ خبر کا عنوان ہے “Rape them with a rusty bar: Message sent to Israeli troops…” ۔ اگر کوئی ان سطور کو جذبات سے تعبیر کرے تو یقین مانیے ہمارا مقصد بھی جذبات ہی کو برآنگیختہ کرنا ہے۔ عقل و ہوش کے لیے مجلّۂ ہٰذا کے آئندہ بیسیوں پچاسیوں صفحات موجود ہیں اور خدارا ہمیں عقل و ہوش کا دشمن نہ گردانیے، بلکہ ہمیں یہ دعویٰ کرنے دیجیے، کہ ہم سرفروش مجاہدین ہی ذی عقل و ہوش ہیں۔ لیکن ہم اس عقل کے طلب گار ہیں جو ہمارے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے جدِ امجد ابراہیم خلیل اللّٰہ علیہ الصلاۃ والسلام کی عقل تھی، وہ عقل جس نے سورج، چاند، ستاروں اور اپنے ہاتھوں تراشیدہ بتوں کا انؑ سے انتہائی بلیغ انداز میں انکار کروایا اور وہ عقل جس نے انؑ کو نارِ نمرود میں خوشی خوشی کودوا دیا، وہ عقل جو علمِ وحی کے تابع تھی۔ وہ وحی جو اعلیٰ ترین معرفت، احکام و تفقہ کا مجموعہ ہے، تو ساتھ ہی لوگوں کو ابھارنے والی، تحریض دلانے والی، برآنگیختہ کرنے والی، جذبات بھڑکانے والی، غیرت کو للکارنے والی بھی ہے۔
مذکورہ خبر، دراصل اسرائیلی فوجیوں کو اسرائیلی عوام کی جانب سے بھیجا گیا ایک پیغام ہے۔ کیسی درد ناک صورتِ حال ہے، کیسے غم و الم کے ساتھ ہم اس بات کو نقل کر رہے ہیں کہ دجّال کے پیروکار کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کی عورتوں کی عصمت دری زنگ آلود لوہے کے ٹکڑوں سے کرو!
یہ مسلمان عورتیں، محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی امتی بیٹیاں ہیں، ہماری اور آپ کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں۔وہ مائیں، بہنیں، بیٹیاں جن کے باپ، بھائی، بیٹے پہلے ہی قتل کیے جا چکے ہیں، جن کے سہاگ اجاڑے جا چکے ہیں، اب ان نیم مردہ عورتوں کو زندہ رکھ کر قتل کر دینے کے لیے یہ حربے بھی آزمائے جائیں، اس کے لیے اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ ان کی پوری یہودی قوم کھڑی ہے اور ان یہودِ نا مسعود کے ساتھ امریکہ اور اس کے سب اتحادی صف و کمر بستہ ہیں۔
غزہ میں اس انسانیت سوز تباہی کو اب تین سال پورے ہونے کو ہیں۔غزہ میں وہ تباہی لائی گئی ہے جو انسانی تاریخ میں پہلے کبھی کسی جگہ نہیں برپا کی گئی ۔ اور ایسی شدید تباہی کے بعد بھی شدید خاموشی یا خاموشی نہیں تو غیر مؤثر طریقے اور منہج، اپنی باری آنے کا انتظار اور جہاد کی من مانی و غلط تشریحات یا جہاد کی ان افواج سے امید جن کے اپنے خلاف جہاد فرض ہے، وہ رویے ہیں جو دشمن کو مزید شہہ دینے اور ہماری ناکامی کا سبب ہیں۔ یوں تو ہم نے خوب اچھی طرح سے سنا کہ فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف جہاد فرضِ عین ہے، لیکن یہ فرضِ عین کیا ہوتا ہے، یہ کیسے ادا ہوتا ہے اور فرضِ عین جہاد کی اپیلوں اور فتاویٰ کے بعد عملاً اس جہاد کو ادا کرنے کا عملی، قدم بقدم طریقہ کیا ہے؟ ان سوالوں کا جواب یا مانگا ہی نہیں گیا یا کہیں سے کوئی نحیف سی سوالیہ آواز اٹھی بھی ہے تو اس کو شرفِ شنوائی عطا نہیں ہوا۔
غزہ میں نام نہاد’جنگ بندی‘ کے بعد بھی روز و شب قتلِ عام برپا ہے، بلکہ یہی قتلِ عام مغربی کنارے تک پھیل چکا ہے۔ بس ان سطور کا اختتام اس گزارش پر کرتے ہیں، کہ زیادہ نہیں، اس بار فرضِ عین جہاد کے لیے گھروں سے قدم نکالنے کی پکار بھی نہیں، بس صرف ایک کام کرتے ہیں۔ علمائے کرام، اہلِ دانش، اہلِ دین قیادت سے بس جس جس پلیٹ فارم پر ممکن ہو تو یہ پوچھیے کہ غزہ کے مسئلے کا مؤثر حل کیا ہے، یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ حل کا مطلب ہوتا ہے وہ چیز جس سے مسئلہ ختم ہو جائے! جہاد کے فرضِ عین ہونے کا مطلب کیا ہے؟ اور اگر جہاد فرضِ عین ہو تو اس کو ادا کیسے کیا جاتا ہے؟ اور اگر جہاد فرضِ عین نہیں ہے، فرضِ کفایہ ہی ہے تو کیا کیا جائے کہ کفایت ہو رہے اور یہ فرضِ کفایہ ادا ہو سکے؟ خطوط لکھیے، بالمشافہ ملاقاتوں میں پوچھیے، سوشل میڈیا پر سوال اٹھائیے، جہاں جہاں، جس جس قدر بس ہو سکے تو پوچھیے۔ پوچھیے کہ ربیع الاول میں جسؐ رحمۃ للعالمین کی ولادت ہوئی تھی اُسؐ کا دین، اُسؐ کا غیرت مند اسوۂ حسنہ ان حالات میں ہمیں کیا کہتا ہے؟
اللھم اهدنا فیمن هدیت وعافنا فیمن عافیت وتولنا فیمن تولیت وبارك لنا فیما أعطیت وقنا شر ما قضیت إنك تقضی ولا یقضی علیك وإنه لا یذل من والیت ولا یعز من عادیت تبارکت ربنا وتعالیت!
اللھم وفقنا لما تحب وترضى وخذ من دمائنا حتى ترضى .اللھم اهدنا لما اختلف فیه من الحق بإذنك. اللھم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تھنّا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علینا وارضنا وارض عنا. اللھم إنّا نسئلك الثّبات فی الأمر ونسئلك عزیمۃ الرشد ونسئلك شكر نعمتك وحسن عبادتك. اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!
