وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

اللہ نے انسانی ذہن کو اس انداز سے ترتیب دیا ہے کہ یہ نہ صرف اپنے اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوتا ہے بلکہ کسی معاملے کے ماضی اور مستقبل کا بھی اس پر اثر پڑتا ہے۔ معرکۂ حق و باطل میں شیطانی قوتوں نے نوجوانوں کو بالعموم اور مسلم نوجوانوں کو بالخصوص الجھائے رکھنے کا خصوصی اہتمام کیا ہے۔ انہیں وقت ضائع کرنے کے مشاغل میں سر تا پا غرق رکھنے کا پورا پورا انتظام کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو ان کے ماضی سے لاتعلق کرنے کے لیے ان کے ماضی سے لاعلم رکھنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ بھاری رقم خرچ کر کے پر زور مہم شروع کی گئی ہے جس میں مسلم تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کفار چاہتے ہیں ایسے تمام عوامل جو کسی نوجوان کو حق کے راستے پر چلانے کا ذریعہ بن سکتے ہوں ان کو ختم کر دیا جائے۔ مسلم نوجوانوں میں مایوسی کو اس قدر رواج دیا جائے کہ وہ حیوانوں کی طرح پیٹ بھرنے کو ہی واحد کامیابی سمجھنے لگیں۔ اس سلسلے میں باطل نے اس کام کو مختلف شعبوں میں بانٹ رکھا ہے۔

لہو لعب

اس میں وہ تمام وقت گزاری کے فضول مشغلے ہیں جو تفریح کے نام پر نوجوانوں میں عام کیے گیے ہیں لیکن امت کی غفلت کا اندازہ لگایے کہ ان میں ہر عمر کے لوگ نا صرف اپنا قیمتی وقت برباد کر رہے ہیں بلکہ اپنے مقاصد اپنی اصل اور نفع و نقصان کو بھی بھلائے بیٹھے ہیں۔

کھیل

یہ وہ شعبہ ہے جو فی نفسہٖ غلط نہیں لیکن اسے حدود میں رکھنا لازم ہے۔ اگر حدود میں ہو اور نیک نصب العین کے ساتھ ہو تو کئی دفعہ یہ مقصود بن جاتا ہے۔ کیونکہ کھیل کود میں ورزش اور جسمانی چستی کا راستہ بھی موجود ہے۔ کئی کھیل ایسے ہیں جو مسلم نوجوانوں کو دشمن کے خلاف مستعد رکھتے ہیں۔ لیکن بد قسمتی سے عملاً جو ہو رہا ہے اس کے مشاہدے سے یہ تکلیف دہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ نوجوانوں کے لیے کھیل کود سے مقصود اکثر محض تفریح ہے۔ ان کے ذہن و فکر میں امت کے غلبے اور ان کے فرائض کا خاکہ ہی سرے سے موجود نہیں۔ ہمیں مسلم نوجوان کی تفریح کو بھی با مقصد بنانا ہو گا۔

آج کے زمانے میں کھیل کی بھی کئی اقسام ہیں۔ جنہیں دو بنیادی زمرہ جات میں تقسیم کیا گیا ہے۔

  1. بیرونی کھیل (Outdoor Games)
  2. اندرونی کھیل(Indoor Games)

بیرونی کھیل(Outdoor Games)

بیرونی کھیل وہ ہیں جو گھر سے باہر کھلے میدانوں میں کھیلے جاتے ہیں۔ ان میں ہاکی، کرکٹ اور فٹ بال، کبڈی، نیزہ بازی، گھڑ سواری، دوڑ لگانا وغیرہ مشہور ہیں۔ ان کھیلوں سے ورزش، صحت اور جسمانی چستی مقصود ہو نیز ان کو محدود مقررہ اوقات کی پابندی کے ساتھ کھیلا جائے تو یہ مثبت سرگرمی ہو گی لیکن اگر ان کھیلوں کو مروجہ طریقوں کے مطابق وقت ضائع کرنے کا ہتھیار بنا لیا جائے اور نماز و دیگر عبادات سے غافل رہنے کا ذریعہ بنا لیا جائے تو کوئی بھی مومن اسے پسندیدہ نہیں کہے گا۔ لیکن یہ دیکھنا بھی از حد ضروری ہے کہ بظاہر سادہ سی نظر آنے والی یہ سرگرمی کہیں نوجوانوں کو دنیا کا رسیا اور آخرت سے غافل تو نہیں بنا رہی؟ ان کی یہ سرگرمی انہیں ان کے دین ، عقیدے اور ایمانی تقاضوں سے بےبہرہ تو نہیں کر رہی؟ کیا یہ کھیل کود ان کے کان مظلوموں کی چیخوں کے لیے بند تو نہیں کر رہا؟ یہ نظریاتی قلعے دشمن خاموشی سے فتح تو نہیں کر رہا؟

اندرونی کھیل (Indoor Games)

یہ وہ کھیل ہیں جو چار دیواری کے اندر کھیلے جاتے ہیں۔ ان میں بھی کافی کھیل شامل ہیں لیکن ہمیں ان کھیلوں کی افادیت پر بات کرنی ہے جو جدید جنگوں میں مجاہدین کے لیے کیسے مفید ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ڈرون آپریٹرز آج کی جنگوں کا اہم دستہ تصور ہوتے ہیں۔ کمپیوٹر یا موبائل پر کھیلے جانے والے وہ کھیل جو کسی طور اسلام کے لیے فائدہ مند ہو سکیں حدود و قیود اور ضابطے کی پابندی کے ساتھ مثبت سرگرمی ہیں۔ وہ کھیل جن میں ذہنی مشق ہو اور دماغی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہو بلاشبہ اچھے کھیل ہیں لیکن اوپر موجود نقائص سے ایسی تمام تفریحی سرگرمیوں کا مکمل پاک ہونا لازمی شرط ہے۔

یہ نفس کا ایک امتحان ہوتا ہے کہ فائدہ تو حاصل کیا جائے لیکن کھیل یا تفریح کو نشہ نہ بننے دیا جائے۔

شو بزنس

یہ مغرب کا قائم کردہ وہ شعبہ ہے جس کا تقریباً سو فیصد منفی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس شعبے میں فلمیں، ڈرامے ، گانے وغیرہ تمام خرافات داخل ہیں۔ اس شعبے کی قباحت جتنی زیادہ ہے انسانوں کو اس کی لت اتنی ہی زیادہ ہے۔ نوجوان ، بچے ، بوڑھے اور خصوصاً خواتین سبھی اس دجالی ہتھکنڈے کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس میں موسیقی، جو نہ صرف حرام اور کبیرہ گناہ ہے بلکہ مومن کی روح کو بھی نقصان پہنچاتی ہے، بکثرت استعمال ہوتی ہے۔ پھر بےپردگی ، فحاشی اور عریانی کا جیسے نہ تھمنے والا سیلاب ہے۔ ایمان کے لیے زہر قاتل یہ قبیح افعال بہت ڈھنگ اور سلیقے سے مزین کیے جاتے ہیں۔

فَلَوْلَآ اِذْ جَاۗءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَلٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ؀ (سورۃ الانعام: ۴۳)

’’ پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ان کے پاس ہماری طرف سے سختی آئی تھی، اس وقت وہ عاجزی کا رویہ اختیار کرتے ؟ بلکہ ان کے دل تو اور سخت ہو گئے اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، شیطان نے انہیں یہ سجھایا کہ وہی بڑے شاندار کام ہیں۔‘‘

ظلم در ظلم یہ کہ ایک تو سرے سے حرام کام، اللہ کی نافرمانی، گناہ عظیم اور شریعت کے واضح احکام سے روگردانی ہے اوپر سے نظریاتی یلغار بھی اسی راستے سے کی جا رہی ہے۔ غالباََ شریعت مطہرہ کا کوئی ایسا حکم نہیں ہو گا جس کے خلاف دجالی طاقتوں نے ذہن سازی نہ کی ہو، حتیٰ کہ ایک ایک سنت اور مستحبات تک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جب دین مبین کے حتمی اور متفقہ احکام اس یلغار سے محفوظ نہیں ہیں اور نوجوانوں کو تذبذب کا شکار کیا جا رہا ہے، انہیں ان کے دین و عقائد سے متعلق شکوک و شبہات کا شکار کیا جا رہا ہے، تو کیسے ممکن ہے کہ انہیں جہاد فی سبیل اللہ سے بد ظن نہ کیا جائے؟ اگر اس مہم کو دیکھا جائے تو جہاد کے مبارک فریضے کو دنیا کے سامنے ایسے گھناؤنے انداز میں توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے کہ جو مبارک عمل انسانیت کی فلاح ، ظالم کا ظلم روکنے اور مظلوم کی داد رسی کے لیے کیا جاتا ہے، جس عمل کا مقصودِ اول ہی نفاذ شریعت کے ذریعے دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے، اسے خونخوار، ظلم، زیادتی اور معصوموں و بےگناہوں کے قتل عام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وہ مسلم نوجوان جو خود تو قرآن و حدیث کی تعلیمات سے دور ہو ہی گیا ہے، اسے ہر طرح سے مجاہدین کے موقف اور اعلیٰ نصب العین سے دور رکھا جاتا ہے تا کہ کسی طرح کلمہ حق کا ایک حرف بھی اس تک نہ پہنچ سکے۔ دنیا میں آزادی اظہار کے کھوکھلے نعرے بلند کرنے والے ہمیشہ آواز حق کا گلہ گھونٹنے کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر تو جہاد کے حق میں ایک حرف تک ممنوع اور قابل تعزیر جرم ہے ہی، سوشل میڈیا ایپس پر بھی فلٹرز لگائے گیے ہیں جو آئی ڈی تک اڑا دیتے ہیں۔ جمہوریت کے دعوے کرنے والے، جن کا دعویٰ ہے کہ تمام فریقین کا مؤقف سن کر عوام کو فیصلے کا اختیار ہونا چاہیے، اس معاملے میں صرف یک طرفہ جھوٹ اور پروپیگنڈہ کے اصول پر کاربند ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایسے مسلم نوجوانوں کا کیا فریضہ ہے جب انہیں ہر طرف سے گمراہی پر مبنی نظریات کی طرف مائل کیا جا رہا ہے؟ ان کی پزیرائی میڈیا اور ریاستی سطح پر صرف گمراہی پر کی جاتی ہے۔ شیطان کی خوشنودی اور اللہ جلا جلالہ کی ناراضگی کے کام سراہے جاتے ہیں۔

چنانچہ یہی تو موقع ہے جب ایک مومن کو الوراء و البراء کے عقیدے کا اظہار کرنا ہے۔ ایسے تمام خرافات جو ویسے بھی حرام ہیں اور دین دشمنی ہر مبنی نظریات پھیلاتے ہیں جہاں دین پر طنز کیا جاتا ہے اور تمسخر اڑایا جاتا ہے، ان کا مکمل بائیکاٹ خود بھی کرنا اور اپنے حلقہ احباب کو بھی متوجہ کرنا ضروری ہے۔

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِهٖ ۭ وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰي مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ؀ (سورۃ الانعام: ۶۸)

’’اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کو برا بھلا کہنے میں لگے ہوئے ہیں تو ان سے اس وقت تک کے لیے الگ ہو جاؤ جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہو جائیں ۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں یہ بات بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو ۔‘‘

اس بھر پور بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ دین کے احکام کی حقانیت بیان کرنا اور اس کی دعوت عام کرنا بھی مسلم نوجوان کی ذمہ داریوں میں داخل ہے۔ جوں جوں اس کی دین سے محبت بڑھتی جائے گی اس کے لیے ہدایت کے دروازے کھلتے جائیں گے۔ یہاں تک اس کے اندر بھی اپنے رب کی محبت میں جان تک قربان کر دینے کا جذبہ و جرأت پیدا ہو جائے۔ قریب ہے کہ اللہ اسے راہ جہاد و قتال کا مسافر بنا دے اور اس راہ کی معراج یعنی شہادت تک عطا فرمائے۔

ذکر چل رہا تھا شوبز انڈسٹری کے ذریعے عقائد پر حملے کا، تو ظاہر ہے جو کفار عقیدے جیسی مضبوط چیز پر حملہ کریں گے وہ مسلم تاریخ کے روشن ابواب پر کیچڑ اچھالنے سے کیسے باز آ سکتے ہیں؟

اسی لیے آپ کو کہیں سلطان محمود غزنوی جیسے جری اور دلیر کو ڈاکو یا لٹیرا کہنے والے ملتے ہیں، کہیں انگریزوں کے خلاف 1857ء کی جنگ آزادی کو بغاوت کہا جاتا ہے، اسی طرح خوب بےشرمی سے کچھ لوگ راجا داہر کو ہیرو قرار دیتے نظر آتے ہیں، محمد بن قاسم ﷫ کو بھی ان بد قماشوں نے نہیں بخشا، بلکہ اس مرد جری پر بھی الزامات کے تیر تعصب کے زہر میں ڈبو ڈبو کر چلاتے ہیں۔ کچھ فرقہ پرست گمراہ گروہ بھی اس آگ پر ایندھن ڈالتے نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک بدبخت نے مسلم تاریخ کے عظیم بطل فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی ﷫، جن کے دشمن بھی معترف ہیں، ان کی عظیم شخصیت پر الزام عائد کر دیا۔ جبکہ پاکستان کے شہر جہلم سے تعلق رکھنے والے ایک معمولی شخص کی کل اوقات ایوبی ﷫ کی قابل رشک زندگی کے کسی ایک رخشندہ پہلو کو سمجھ پانے کی بھی نہیں۔

لٹریچر

یہ بھی ایک ایسا شعبہ ہے جس میں صفحات کے صفحات کالے کیے جا رہے ہیں مسلم تاریخ کو مسخ کرنے کے لیے اور مسلمانوں کو بالخصوص نوجوانوں کو تاریخ کا ایسا مسخ شدہ چہرہ دکھانے کے لیے جو انہیں بھولے سے بھی ان کے درخشاں ماضی کی بھنک بھی نہ پڑنے دے۔ چنانچہ تحقیق اور ادبی و علمی کام کے نام پر یہ طوفان بدتمیزی بپا ہے۔ جس میں سچائی اور اخلاقیات کا گلہ دبایا جا رہا ہے۔ ان کے منصوبے کا حصہ ہے کہ کل آنے والا نوجوان مسلمان فاتحین کے بارے میں صرف غلط تصور تک رسائی حاصل کر سکے۔

لہٰذا یہ بھی ایک نشانی ہے مسلم نوجوانوں کے لیے کہ ہر وہ شخص جو انہیں ان کے عظیم اسلاف اور تاریخ سے متنفر کرے، دشمن کا وظیفہ خوار ہے۔ ہر وہ کتاب آگ میں جھونک دینے لائق ہے جو ان کی روشن تاریخ پر دھول اڑانے کی جسارت کرے۔ ہر وہ ویڈیو ، ڈرامہ یا فلم جو انہیں مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلے، انہیں یہ باور کرائے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی جدوجہد لا حاصل محنت ہے، ان کے لیے زہر قاتل سے بھی مضر ہے۔

کبھی اے نوجواں مسلم ! تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

مسلم نوجوان کو سوچنا ہو گا وہ کس قوم کا فرد ہے، اس کی کیا شان ہے، اس کے کیا فرائض ہیں، اسے اس کے فرائض سے کن زنجیروں نے روک رکھا ہے اور کونسی بیڑیاں توڑنے کا وقت آ پہنچا ہے؟

مسلم نوجوان کی شان تو یہ ہے:

کفار کی صفوں میں تیزی سے گھسنے والے
دشمن کے لشکروں پر فوراً جھپٹنے واللے
چنگاریاں اڑا کر دشمن پر بولیں ہلا
والعدیت ضبحا فالموریت قدحا

باطل کی چھاؤنی پر آفت یہ ڈھانے والے
الحاد کی سپاہ میں بھگدڑ مچانے والے
چستی میں ہیں یہ طوفاں تیزی میں موجِ دریا
والعدیت ضبحا فالموریت قدحا

پیشانیوں نے ان کی برکت کا تاج پہنا
سچ سچ ہے سچ رہے گا سچے نبی کا کہنا
اعزاز ان کو حاصل یہ حشر تک رہے گا
والعدیت ضبحا فالموریت قدحا

فرسانِ دینِ قیم تبلیغ پر جب آئیں
جوشِ جہاد میں وہ دریا میں کود جائیں
لڑ جائیں موجوں سے بھی یہ گھڑ سوار دستہ
والعدیت ضبحا فالموریت قدحا

یہ غازیوں کے گھوڑے یہ غازیوں کے مرکز
یہ مجاہدین کے ہمدم یہ ان کا حسنِ منصب
مصحف میں جن کے بارے کھائے قسم خود اللہ
والعدیت ضبحا فالموریت قدحا

٭٭٭٭٭

Exit mobile version