بیالیسویں وجہ: حالات سے مایوسی
جب مشکلات گھمبیر ہو جاتی ہیں، آزمائشیں بڑھ جاتی ہیں اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگیں اور حملے تیز تر ہو جاتے ہیں، تو ایسے حالات میں مومن کو چاہیے کہ ناکامی یا تبدیلی حالات اور بہتری سے مایوسی کے احساسات کو اپنے اندر سرایت نہ ہونے دے۔ نبی اکرم ﷺ بھی ایسا نہ ہونے دیتے تھے۔ آپ ﷺ اپنے گرد صحابیوں اور مردان کار کے دلوں کو اعتماد اور یقین سے بھر دیتے تھے۔ آپ ﷺ خانہ کعبہ کے سائے میں اپنی چادر پر تکیہ کیے ہوئے تھے کہ حضرت خباب بن الارت ؓ آپ ﷺ کے ہاں تشریف لائے۔ اور آپ ﷺ سے کہنے لگے:
’’کیا آپ ہمارے لیے فتح ونصرت طلب نہیں کرتے ، کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا نہیں مانگتے؟‘‘
تو رسول اللہ ﷺ بیٹھ جاتے ہیں اور ان کا چہرہ مبارک سرخ ہو جاتا ہے۔ اور فرماتے ہیں:
كَانَ الرَّجُلُ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ فِي الأَرْضِ، فَيُجْعَلُ فِيهِ، فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُّ بِاثْنَتَيْنِ، وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ مِنْ عَظْمٍ أَوْ عَصَبٍ، وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَاللَّهِ لَيُتِمَّنَّ هَذَا الأَمْرَ، حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، لاَ يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ، أَوِ الذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ، وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ(متفق علیہ)
”تم لوگوں سے پہلے ادوار میں آدمی کے لیے زمین میں ایک گڑھا کھود دیا جاتا تھا، پھر اسے گڑھے میں ڈال دیا جاتا تھا، پھر ایک آرا لایا جاتا اور اسے اس کے سر پر رکھ دیا جاتا تھا، اور سر کے دو حصے کر دیے جاتے تھے، لیکن یہ سب کچھ اسے اپنے دین سے نہیں روک پاتا تھا۔ اور ایک آدمی پر لوہے کا پنجہ ایسا پھیرا جاتا کہ اس کے گوشت کے نیچے رگوں اور ہڈیوں کو کھرچ ڈالتا، لیکن یہ بھی اسے اپنے دین سے پھیرنے میں ناکام رہتا۔ واللہ! یہ معاملہ (یعنی دین اسلام کا ظہور) پورا ہو کر رہے گا۔ یہاں تک کہ سوار صنعاء سے حضر موت تک اس حالت میں سفر کرے گا کہ اسے صرف یا اللہ کا ڈر ہو گا اور یا اپنی بکریوں پر بھیڑیے کا ۔ لیکن تم لوگ جلد بازی کرتے ہو۔ “
اور سنیے کہ خندق کے دن آپ ﷺ کیا کہتے ہیں جبکہ مسلمانوں پر ہر طرف سے ہولناک حالات نے گھیر لیا تھا:
اِذْ جَاۗءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَاِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَـنَاجِرَ وَتَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا (سورۃ الاحزاب: ۱۰)
”جب وہ تمہارے اوپر اور نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل (مارے دہشت کے) گلوں تک پہنچ گئے اور تم خدا کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ “
وہ اس وقت مومنوں کو بشارتیں دے رہے تھے کہ اللہ تعالی مجھے خانہ کعبہ کی کنجیاں دے رہے ہیں، کسری و قیصر کو اللہ ضرور ہلاک کریں گے اور ان کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ ہو کر رہیں گے، اور شہر صنعاء اپنے دروازے کھول دے گا۔ اور یہ سب بشارتیں پوری بھی ہوئیں۔
جب ان لوگوں کے دلوں میں یہ بشارتیں گونجیں تو بے چینی دور ہوئی اور وہ پر سکون اور مطمئن ہو گئے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ ۙ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًا (سورۃ الاحزاب: ۲۲)
”اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہو گئی۔ “
رہے منافق، بیمار دلوں والے، تو انہیں فتح و نصرت کی اِن باتوں پر تعجب ہوا۔ جس کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:
وَاِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا (سورۃ الاحزاب: ۱۲)
ہم یہاں یہ سوال کرنے میں بجا ہوں گے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا کیا جب وہ یہ بشارتیں دے رہےتھے اور لوگوں کے درمیان اطمینان کی باتیں پھیلا رہے تھے؟ جبکہ آپ ﷺ اپنے وطن میں مطلوب تھے اور جس وطن میں پناہ لی وہاں گھیرے میں آ گئے تھے؟
در حقیقت انہیں اپنے رب (عز و جل) کے وعدے پر اعتماد حاصل تھا۔ یہ وعدہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے پشتی بان اور مددگار ہیں۔ چنانچہ ہمارے لیے ناگزیر ہے کہ یہی احساس ہمارے دلوں میں بھی منتقل ہو جائے۔
رسول اللہ ﷺ کی دسیوں احادیث ہیں جن میں آپ مومنوں کو خوش خبریاں دیتے ہیں کہ وہ اس کتاب اور اس زمین کے وارث ہوں گے، مشرق و مغرب کے فاتحین ہوں گے، اور روئے زمین کے مالک بن جائیں گے۔
حضرت تمیم الداری ؓ فرماتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا:
لَيَبْلُغَنَّ هَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَلَا يَتْرُكُ اللَّهُ بَيْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ هَذَا الدِّينَ بِعِزِّ عَزِيزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِيلٍ عِزًّا يُعِزُّ اللَّهُ بِهِ الْإِسْلَامَ وَذُلًّا يُذِلُّ اللَّهُ بِهِ الْكُفْرَ
”یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات کا چکر چلتا ہے اور اللہ کوئی کچا پکا گھر ایسا نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے، خواہ اسے عزت کے ساتھ قبول کر لیا جائے یا اسے رد کر کے ذلت قبول کر لی جائے، عزت وہ ہو گی جو اللہ اسلام کے ذریعے عطا کرے گا اور ذلت وہ ہو گی جس سے اللہ کفر کو ذلیل کر دے گا ۔“
ان مبشرات میں سے وہ حدیث بھی ہے جو امام مسلم نے حضرت ثوبان ؓ سے روایت کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ زَوَی لِي الْأَرْضَ فَرَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْکَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَأُعْطِيتُ الْکَنْزَيْنِ الْأَحْمَرَ وَالْأَبْيَضَ
سمجھدار مجاہد وہ ہے جو نبی کریم ﷺ کے منہج کی پابندی کرے۔ کیونکہ ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہم لوگوں کو بشارتیں دیں نہ کہ متنفر کریں۔ اسی طرح ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم آسانیاں پیدا کریں نہ کہ مشکلات بڑھائیں۔
ہمیں چاہیے کہ، جن حالات میں ہم آج کل رہ رہے ہیں، بد شگونی اور تبدیلی احوال سے مایوسی سے خوب بچیں۔ تاکہ ہم اپنے آپ کو وہ موقع میسر کریں جس میں ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت ، پر امید مستقبل اور بھلائی کی مختلف صورتوں پر خوش ہو سکیں۔ چاہے ہم اسلامی ممالک پر دشمنوں کی جارحانہ برتری اور غلبہ کو دیکھ کر غم و افسردگی ہی لاحق کیوں نہ ہو۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:
حَتّٰٓي اِذَا اسْتَيْــــَٔـسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَاۗءَهُمْ نَصْرُنَا ۙ فَنُجِّيَ مَنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَلَا يُرَدُّ بَاْسُـنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِيْنَ (سورۃ یوسف: ۱۱۰)
”یہاں تک کہ جب پیغمبر ناامید ہو گئے اور انہوں نے خیال کیا کہ (اپنی نصرت) کے بارے میں جو بات انہوں نے کہی تھی اس میں وہ سچے نہ نکلے تو ان کے پاس ہماری مدد آ پہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگاروں سے پھرا نہیں کرتا۔“
سید قطب فی ظلال القرآن میں فرماتے ہیں:
”یہ انتہائی نازک لمحے ہوتے ہیں۔ جب باطل پھولتا ہے، سرکشی کرتا ہے، ظلم ڈھاتا ہے اور دغا دیتا ہے۔ جبکہ پیغمبر اپنے وعدے کے انتظار میں ہوتے ہیں جو اس زمین میں پورا نہیں ہو پاتا۔ ان کے دلوں میں ہر طرح کے خیالات امڈ آتے ہیں۔ کیا ان کے وعدے جھوٹے تھے؟ یا ان کے دلوں نے دنیا کی زندگی میں فتح کی امید سے انہیں مایوس کر دیا؟
کسی بھی پیغمبر پر یہ حالت تب ہی طاری ہوتی ہے جب اس پر ایسا کرب و ابتلا، تنگی اور سختی آتی ہے جو انسان کے برداشت سے باہر ہو۔ میں جب بھی یہ آیت پڑھتا ہوں، یا یہ دوسر ی آیت:
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ (سورۃ البقرۃ: ۲۱۴)
’’کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یونہی) جنت میں داخل ہو جاؤ گے جبکہ ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعو بتوں میں) ہِلا مارے گئے یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب اللہ کی مدد آئے گی ؟‘‘
جب میں یہ یا پہلی آیت پڑھتا ہوں تو میرے اس ہولناک صورت حال کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جس سے پیغمبروں پر ایسی حالت طاری ہوتی ہے، ان اندیشوں میں پنہاں ہولناکیوں کے تصور سے، اس لڑکھڑا دینے والے کرب کے تصور سے جو پیغمبر کے دل کو اس طرح جھنجھوڑ رہا ہو، ان لمحات میں پیغمبر کی نفسیاتی کیفیت کے تصور سے اور نا قابل برداشت درد کے تصور سے جو وہ محسوس کرتے ہیں۔
ایسے لمحے میں جب کرب و بلا پوری طرح غالب آ جاتا ہے اور تنگی پیغمبر کا دم گھونٹنے لگتی ہے، جب رہی سہی قوت کا کوئی ایک ذرہ باقی نہیں رہتا۔ تو اسی لمحے مکمل، فیصلہ کن اور حتمی فتح آتی ہے:
’’تو ان کے پاس ہماری مدد آپہنچی۔ پھر جسے ہم نے چاہا بچا دیا اور ہمارا عذاب (اتر کر) گنہگاروں سے پھرا نہیں کرتا۔‘‘
دعوت دین میں یہی سنت الہٰی ہے۔ سختیاں ضرور آئیں گی، آزمائشیں ضرور سامنا کریں گی، یہاں تک کہ نہ کسی کوشش کی گنجائش باقی رہے اور نہ طاقت کا کوئی ذرہ ۔ پھر ان تمام ظاہری اسباب سے مایوس ہو جانے کے بعد فتح آتی ہے ، جن پر لوگ بھروسا کرتے ہیں ۔ اللہ کی طرف سے فتح آتی ہے۔ سو نجات کے مستحق نجات پا لیتے ہیں۔ اس ہلاکت سے نجات جو جھٹلانے والوں کو پکڑ لیتی ہے۔ اور اس ظلم و ستم سے بھی جو جابر لوگوں نے ان پر مسلط کیا ہوتا ہے۔ اور اللہ کا قہر مجرموں پر ایسا ٹوٹ پڑتا ہے کہ انہیں مٹا کر رکھ دیتا ہے جس کا وہ مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اور نہ ہی ان کا کوئی دوست اور مددگار اسے ٹال سکتا ہے۔
یہ اس لیے کہ فتح و نصرت بے قدر و قیمت نہ ٹھہرے اور دعوت حق مذاق نہ بن جائے۔ اگر فتح و نصرت سستی ہوتی تو ہر روز کوئی جھوٹی دعوت والا اپنی دعوت لے کر کھڑا ہو جاتا اور اس پر اس کا کوئی بوجھ نہ آتا، آتا بھی تو معمولی سا بوجھ آتا۔ جبکہ دعوت حق کے شایان شان نہیں کہ وہ عبث اور کھیل تماشا بن جائیں۔ وہ تو انسانی زندگی کے لیے بنیادیں اور طرز عمل وضع کرنے والے ہیں۔ جن کو جھوٹے دعویداروں سے بچانا اور محفوظ رکھنا لازم ہے۔ جبکہ جھوٹے دعویدار دعوت کی تکالیف برداشت ہی نہیں کر سکتے۔ اس لیے وہ دعوت دینے سے گھبراتے ہیں۔ اور جب وہ دے دیتے ہیں تو اس کو اٹھانے سے عاجز آ کر اسے چھوڑ پھینکتے ہیں۔ اس طرح آزمائش کی بھٹی میں حق باطل سے جدا ہو جاتا ہے۔ وہ آزمائشیں جن کے سامنے وہی ٹھہر سکتے ہیں جو پُر اعتماد ہوں، سچے ہوں، جو دعوت الہٰی کو ہرگز نہیں چھوڑتے چاہے انہیں محسوس ہونے لگے کہ اس زندگی میں انہیں فتح و نصرت حاصل نہ ہو گی! اللہ کی طرف دعوت دینا مختصر دورانیے کی تجارت نہیں ہے، کہ یا تو اس سے کوئی خاص اور محدود فائدہ اسی زمین میں حاصل ہو جائے ۔ یا اس کو اپنانے والے اسے چھوڑ کر کسی اور تجارت میں لگ جائیں جس میں فائدہ بھی جلد حاصل ہو اور آسانی بھی ہو! جو بھی جاہلی معاشروں میں اللہ کی طرف دعوت دینے کی ذمہ داری لے کر کھڑا ہوتا ہے، اور جاہلی معاشرے وہ ہیں جو کسی بھی دور میں اور کسی بھی مقام پر اطاعت اور تابعداری غیر اللہ کی کریں، تو ہر ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو خوب سمجھا دے اور اس بات پر سدھار لے کہ وہ کوئی آرام دہ سفر پر نہیں جا رہا، اور نہ ہی کوئی فوری فائدے والی مادی تجارت کرنے لگا ہے! بلکہ اسے یقین ہونا چاہیے کہ اس نے ایسے طواغیت کا سامنا کرنا ہے جن کے پاس طاقت اور پیسہ ہے، اور انہیں لوگوں کو بے وقوف بنانے کا ہنر حاصل ہے۔ یہاں تک کہ وہ سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید بنا کر دکھاتے ہیں! اور پھر یہ طواغیت انہی عوام کو داعیانِ حق کے خلاف اکسانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، ان کی خواہشات کو بھڑکا کر اور انہیں ڈرا کر کہ اللہ کی طرف بلانے والے انہیں ان خواہشات سے محروم رکھنا چاہتے ہیں! انہیں اس بات کا بھی یقین ہونا چاہیے کہ اللہ کی طرف دعوت محنت طلب کام ہے، اور جاہلیت کے مقابلے میں اس میں شامل ہونے پر انہیں بہت کچھ جھیلنا پڑے گا۔ یہ بھی جاننا چاہیے کہ اسی لیے، آغاز میں، اس میں دبے ہوئے عوام نہیں شامل ہوتے۔ بلکہ اس نسل کے بہترین چنیدہ لوگ ہی اس میں شامل ہوتے ہیں۔ جو اس دین کی حقیقت کو اپنی آسانی اور سلامتی پر اور دنیاوی زندگی کی ہر آسائش پر ترجیح دیتے ہیں۔ اور یہ بھی کہ ان چنیدہ لوگوں کی تعداد ہمیشہ بہت کم ہی ہوتی ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان تعلق کو حق کے ساتھ قائم کر دیتے ہیں۔ ایک جہاد کے بعد ، چاہے اس میں زیادہ وقت لگ جائے یا کم لگے۔ تب ہی جا کر عوام اللہ کے دین میں جوق در جوق شامل ہوتے ہیں۔
حضرت یوسف کی کہانی میں مختلف قسم کی سختیاں تھیں۔ کنویں میں، عزیز کے گھر میں اور جیل میں۔ لوگوں کی نصرت سے مختلف اقسام کی نا امیدیاں تھیں۔ پھر انجام کار بہتر تھا ان کے لیے جنہوں نے تقوی اختیار کیا ۔ جیسے اللہ کا وعدہ تھا جو کبھی غلط نہیں ہوتا۔ اور حضرت یوسف کا قصہ پیغمبروں کے قصوں کی ایک مثال ہے۔ اس میں ہر صاحب عقل کے لیے عبرت ہے۔ اس میں سابقہ نازل شدہ کتب کی تصدیق ہے۔ حالانکہ محمد ﷺ اور ان کتابوں کا آپس میں کوئی واسطہ نہ تھا۔ پس یہ ہو نہیں سکتا تھا کہ جو محمد ﷺ لائے تھے وہ من گھڑت باتیں ہوں۔ جھوٹی باتیں نہ ایک دوسری کی تصدیق کرتیں ہیں اور نہ ہی ہدایت سے سرفراز کرتی ہیں۔ اور نہ ہی ان سے مومن دل راحت او رحمت پاتا ہے۔ “
٭٭٭٭٭
