امریکی سینٹ کام کا اپنے اڈوں کے آپریشنل نظام کو اسرائیل منتقل کرنے پر غور
|
وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی وسطی کمان (CENTCOM) بحرین، کویت اور سعودی عرب میں اپنے فوجی اڈوں کے آپریشنل نظام کو اسرائیل منتقل کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ مزید ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے اپنا فاصلہ بڑھایا جا سکے۔ ایک آپشن یہ ہے کہ صحرائے نقب میں ایک نیا اڈہ قائم کیا جائے جو اتنا بڑا ہو کہ امریکی فوج کو کافی ہو، یا صحرائے نقب کے ائیربیسز میں سے ایک کو بڑھا کر وہاں ایک امریکی کمپاؤنڈ مختص کیا جائے۔
اسرائیل کے صحرائے نقب (Negev Desert) میں کئی اہم ترین اور اسٹریٹیجک (Strategic) ائیر بیسز واقع ہیں، جو اسرائیلی فضائیہ (IAF) کے بنیادی ستون سمجھی جاتی ہیں۔
1۔ نواتیم ائیر بیس (Nevatim Airbase)
یہ اسرائیل کے سب سے بڑے فوجی اڈوں میں سے ایک ہے۔ یہ اڈہ اسرائیل کے جدید ترین امریکی F-35I (Adir) سٹیلتھ لڑاکا طیاروں کا بنیادی گھر ہے۔ یہاں ٹرانسپورٹ اور ری فیولنگ طیارے بھی موجود ہیں۔ یہ شمالی صحرائے نقب میں بئر السبع (Beersheba) شہر کے مشرق میں واقع ہے۔
2۔ حاتزیرم ائیر بیس (Hatzerim Airbase)
یہ ائیر بیس اسرائیلی فضائیہ کی فلائٹ اکیڈمی (Flight Academy) کا مرکز ہے جہاں پائلٹوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ یہاں مشہور ’IAF میوزیم‘ بھی واقع ہے۔ یہاں F-15I اور F-16I جیسے لڑاکا طیارے اور تربیتی طیارے تعینات ہیں۔ یہ بئر السبع شہر کے مغرب میں واقع ہے۔
3۔ ریمون ائیر بیس (Ramon Airbase)
اسے باضابطہ طور پر نیگیو ائیر بیس بھی کہا جاتا ہے۔ اسے مصر کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد سینا سے واپسی پر امریکی کمپنیوں نے تعمیر کیا تھا۔ یہاں F-16I صوفا (Sufa) لڑاکا طیاروں کے اسکوڈرنز اور اپاچی (AH-64 Apache) ہیلی کاپٹرز تعینات ہیں۔ یہ بئر السبع کے جنوب میں مصری سرحد کے قریب واقع ہے۔
4۔ اوودا ائیر بیس (Ovda Airbase)
یہ اسرائیل کے انتہائی جنوب میں واقع اڈہ ہے جو بنیادی طور پر پائلٹوں کی تربیتی مشقوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں مشہور بین الاقوامی فضائی مشق ’بلو فلیگ‘(Blue Flag) بھی منعقد ہوتی رہی ہے۔ یہ ایلات (Eilat) شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔
ان کے علاوہ دیگر دفاعی تنصیبات میں مشابیم ائیر بیس (Mashabim Airbase) اور سائٹ 512 نقب کے پہاڑی علاقے ہار قرن (Har Qeren) پر قائم ایک امریکی ریڈار بیس ہے، جو اسرائیل کو بیلسٹک میزائلوں کے حملوں سے قبل از وقت آگاہی (Early Warning) فراہم کرنے کا کام کرتی ہے۔ ان کے علاوہ یہاں ایک ایٹمی ریسرچ سینٹر بھی ہے جسے ایران حالیہ جنگ میں نشانہ بنا چکا ہے۔
کیا عوامی دباؤ نیدر لینڈز کو اسرائیل کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گا؟
|
الجزیرہ کے لیے مریم باہ اپنے مضمون میں لکھتی ہیں کہ نیدرلینڈز میں عدالتوں سے لے کر ثقافتی بائیکاٹ تک، حالیہ پیش رفت ڈچ معاشرے کو فلسطینی کاز کے حوالے سے زیادہ حامی دکھا رہی ہے، اگرچہ حکومت اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ امین ابو راشد، جو ایک پناہ گزین سے ہیومن رائٹس کارکن بنے، پر حماس کی فنڈنگ کا الزام تھا، لیکن انہیں بری کر دیا گیا۔ یہ فلسطین حامی تحریک کے لیے ملک میں ایک نایاب فتح ہے۔ فلسطین حامی تحریکیں امید کر رہی ہیں کہ یہ فیصلہ اسرائیل کے خلاف سرگرمیوں کو نشانہ بنانا مشکل بنا دے گا۔ اس کیس میں ابو راشد پر غزہ میں یتیموں کی مالی مدد کرنے کے بعد حماس کو فنڈز منتقل کرنے کا الزام لگا تھا۔ ابو راشد نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’’آج جب میں اس کیس کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ اس کا بنیادی مسئلہ مجرمانہ نہیں بلکہ سیاسی تھا‘‘۔ الزامات سے بری ہونے کے باوجود، ابو راشد کی جدوجہد نے ان کی جان کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ تقریباً ایک سال قیدِ تنہائی میں رہنے کے دوران ان کی صحت اتنی خراب ہو گئی کہ ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ 59 سالہ شخص کو گھر میں مرنے کے لیے رہا کر دیا جائے۔ کئی ماہ بعد رہائی ’’اس حقیقت کی فتح تھی جس پر میں نے پہلے دن سے قائم رہا‘‘ اور یہ ملک میں فلسطین حامی سرگرمیوں کے لیے اہم مثال بن سکتا ہے۔ ہند رجب فاؤنڈیشن کے شریک بانی ہارون رضا نے اس فیصلے کو نیدرلینڈز میں نایاب فتح قرار دیا، جہاں حکومتیں مسلسل اسرائیل کی شدید حمایت کرتی رہی ہیں۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ انسانی امداد کے کام پابندیوں کے دائرے میں نہیں آتے۔ یہ فیصلہ حتمی ثبوت ہے کہ استغاثہ کا کوئی جواز ہی نہیں تھا۔یورپی لیگل سپورٹ سنٹر کی نیدرلینڈز مانیٹر ایوالین سٹاپر کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اور مالی ضوابط کا استعمال فلسطینیوں کے خلاف بار بار کیا جاتا رہا ہے، چاہے وہ غزہ میں رشتہ داروں کو پیسے بھیج رہے ہوں یا انسانی امداد کر رہے ہوں۔ نیدرلینڈز فلسطینیوں کے خلاف مقدمات چلانے میں تیزی دکھاتا ہے، لیکن نسل کشی اور غیر قانونی قبضے میں مالی طور پر شریک رہتا ہے۔
نیدرلینڈز یورپی یونین میں اسرائیل کا سب سے مضبوط حامی رہا ہے جبکہ عوامی تاثرات تبدیل ہو رہے ہیں خاص طور پر غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے بعد۔ یورپی یونین کی اسرائیل میں سرمایہ کاری کا تقریباً دو تہائی حصہ نیدرلینڈز سے آتا ہے۔ بہت سے ایکٹوسٹ اور تجزیہ نگاروں کی رائے یہ بھی ہے کہ نیدرلینڈ کی ٹیکس فری پالیسیوں کے سبب اور اپنے تعلقات اور تجارت کو پوشیدہ رکھنے کے لیے یورپی ممالک اور اسرائیل نیدرلینڈ کو استعمال کر رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز (Rafael Advanced Defense Systems) اسرائیل کی سب سے بڑی سرکاری دفاعی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ یہ کمپنی جدید ترین میزائل شکن نظام، جنگی گاڑیاں اور فضائی دفاعی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے عالمی سطح پر شہرت رکھتی ہے۔ رافیل نیدرلینڈز میں ہولڈنگ اور لیٹر باکس کمپنیوں (letterbox companies) کا استعمال کرتی ہے جو برطانوی، جرمن اور ہسپانوی مارکیٹ میں اثاثے رکھنے کے لیے بطور کور کام کرتی ہیں۔ سنٹر فار ریسرچ آن ملٹی نیشنل کارپوریشنز (SOMO) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، رافیل کمپنی یورپ میں اپنی سرمایہ کاری کے لیے ڈچ فرنٹ کمپنیوں کا استعمال کرتی ہے۔ یہ کوریج یورپی ممالک کے ساتھ کاروباری اور تجارتی تعلقات کو آسان بنانے، یورپی ممالک سے دفاعی معاہدے کرنے، اور بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ لہذا جب ہم کسی یورپی ملک کے متعلق سنتے ہیں کہ اس نے اسرائیل پر فلاں تجارتی یا اسلحے کی پابندی لگا دی تو اس صورت میں یہ راستے اختیار کیے جاتے ہیں۔
صومالی لینڈ میں افریقی نسل کے اسرائیلیوں کی تعیناتی
|
ایک اعلیٰ صومالی حکومتی عہدیدار نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ اسرائیل نے افریقی نژاد 50 اسرائیلی فوجیوں کو افریقہ کے ہارن آف افریقہ میں واقع علیحدگی پسند ریاست صومالی لینڈ میں بھیج دیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی معاہدوں کا حصہ ہیں۔ اسرائیل نے دسمبر میں صومالی لینڈ کو بطور آزاد ملک تسلیم کرنے والا پہلا ملک بننے کے بعد، اپریل میں مائیکل لوٹیم کو ہارگیسا میں اپنا پہلا سفیر مقرر کیا۔ اس اقدام پر خطے کے تقریباً تمام ممالک نے شدید مذمت کی۔ اب ایک اعلیٰ صومالی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے دسمبر میں تسلیم کیے جانے اور فروری کے آخر میں ایران کے ساتھ جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے فوراً بعد صومالی لینڈ میں 50 فوجیوں کا دستہ بھیجا۔ اعلیٰ صومالی عہدیدار نے کہا: ’’ہماری انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوج نے افریقی نسل کے اسرائیلی فوجیوں کا انتخاب کیا، خاص طور پر ایتھوپیا کے، تاکہ وہ توجہ نہ کھینچیں اور مقامی آبادی کے ساتھ آسانی سے گھل مل جائیں‘‘۔ اسرائیلی فوج نے مڈل ایسٹ آئی کے رابطے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ’’متعلقہ حکام سے چیک کرنے کے بعد، یہ سیاسی سطح کا معاملہ ہے‘‘۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے تین دن تک تبصرہ سے گریز کے بعد ’’فیک نیوز‘‘ کا بیان جاری کیا۔ اسرائیلی دفاع وزیر اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیل اور صومالی لینڈ کئی سال سے خفیہ طور پر تعاون کر رہے ہیں۔ صومالی لینڈ کے وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل وہاں کوئی فوجی اڈہ نہیں بنا رہا، البتہ پولیس اور فوج کی تربیت میں مدد دے رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسرائیل بحیرۂ احمر میں بحری اڈہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ حوثیوں کے ممکنہ خطرات سے نمٹ سکے۔
برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی نئی لہر
|
انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر مسلمان تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ میں اسلاموفوبیا (مسلمانوں کے خلاف تعصب) پر مبنی تشدد عام ہوتا جا رہا ہے۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران ہی انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں مساجد اور گھروں پر فائر بم حملوں، نسل پرستی پر مبنی حملوں اور توڑ پھوڑ کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے واقعات میں سے ایک 19 جون کو ایڈنبرا میں ہونے والا حملہ تھا، جس میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔ مسلم کونسل آف برطانیہ (MCB) نے جون میں ایسے 18 واقعات ریکارڈ کیے۔ ایک بریفنگ میں یہ واقعات دستاویزی شکل میں پیش کیے گئے جن میں مساجد پر نسل پرستانہ گرافٹی، آگ لگانے کے حملے، نمازیوں پر حملے، اماموں کے گھروں پر حملے اور مسلمان خاندانوں کو دھمکیاں شامل ہیں۔ بریفنگ کے مطابق چالیس فیصد سے زیادہ واقعات میں آگ لگانے یا فائر بم حملوں کا الزام ہے۔ ان میں سے بہت سے واقعات کو قومی میڈیا میں محدود توجہ ملی۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم ایشو مسلمانوں کے خلاف تشدد اور نفرت کو ابھارتی فلم کا ہے۔ برطانوی میڈیا ریگولیٹر Ofcom پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ ایلون مسک کی طرف سے فلم “Citizen Vigilante” کی پروموشن کی تحقیقات کرے۔ مسلمان تنظیمیں (MEND اور Muslim Council of Britain) کا کہنا ہے کہ یہ فلم اینٹی مسلم نفرت کو بھڑکاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ جرمن ڈائریکٹر Uwe Boll کی فلم ہے، جس میں کہانی ایک امیر امریکی لینڈ لارڈ کی ہے جو یورپ میں مسلمان تارکین وطن کو ’’جرائم، ریپ اور ویلفئیر فنڈ میں دھوکہ دہی کرنے والے سمجھتے ہوئے انہیں قتل کرتا ہے اور عوام میں ہیرو بن جاتا ہے۔ 25 جون کو ایلون مسک نے فلم کو اپنے X (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر مکمل طور پر اپ لوڈ کیا، جو 48 گھنٹوں تک 240 ملین سے زیادہ فالوورز کو بغیر کسی پابندی کے دستیاب رہی۔ فلم میں ایک مسلمان فیملی کے قتل کے سین اور قرآن و اسلامی اقدار سے خواتین پر تشدد کا الزام لگانے والے ڈائیلاگ شامل ہیں۔ مسلم تنظیموں نے Ofcom کو خط لکھ کر Online Safety Act کے تحت X پلیٹ فارم کے ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ مسلم کمیونٹیز کے تحفظ کا سوال اٹھا رہے ہیں۔ فلم کو تارکین وطن مسلمانوں کے خلاف تشدد بھڑکانے والا سمجھا گیا ہے۔ مسلمان گروپس کا کہنا ہے کہ یہ فلم موجودہ تناؤ (جیسے بیلفاسٹ اور سکاٹ لینڈ میں واقعات) کے وقت مسلمانوں کے خلاف نفرت کو نارملائز کر رہی ہے۔
یورپی یونین امریکی ادارے ’’آئس‘‘ کی طرز کا امیگریشن انفورسمنٹ سسٹم بنا رہا ہے
|
گارڈین کی خبر کے مطابق یورپی یونین کے سیاست دانوں نے دستاویز شدہ مہاجرین کی deportations بڑھانے کا وعدہ کیا ہے، ایک نئے قانون کے تحت جو ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن کریک ڈاؤن کی نقل میں بنایا گیا ہے، یورپی یونین کے پناہ اور امیگریشن سسٹم کی بڑی اصلاح کا آخری حصہ مکمل کرتے ہوئے، سیاست دانوں نے ایک ریگولیشن پر اتفاق کیا ہے جس سے قومی حکام کو deportation آرڈرز نافذ کرنے کے لیے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارنے کی اجازت ملے گی۔ جن لوگوں کے حوالے سے deportation آرڈر ہے اور جو تعاون نہ کرنے والے یا فرار ہونے والے سمجھے جائیں، انہیں موجودہ قانون کے تحت 18 ماہ کی بجائے دو سال (قابل توسیع 30 ماہ تک) تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ deportation آرڈر کی تعمیل سے انکار کرنے والوں کی سہولیات یا الاؤنسز کاٹے جا سکتے ہیں۔ یہ ریگولیشن آف شور ریٹرن ہبز (یورپی یونین سے باہر مراکز) بنانے کی بھی اجازت دے گا، جہاں دستاویزات کے بغیر لوگوں کو نامعلوم مدت تک روکا جا سکے گا، جب تک انہیں ان کے آبائی ملک واپس نہ بھیجا جائے۔ یورپی یونین کے کئی رکن ممالک (زیادہ تر افریقہ میں) ریٹرن ہبز بنانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں، اگرچہ ابھی کوئی معاہدہ کا اعلان نہیں ہوا۔ وہ بچے جن کے ساتھ ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو اور بچوں والے خاندانوں کو ’’آخری حربے کے طور پر‘‘ اور ’’بچے کے بہترین مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے سب سے کم مناسب مدت کے لیے‘‘ حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ سکیورٹی رسک سمجھے جانے والے لوگوں پر یورپی یونین میں داخلے پر تا حیات پابندی لگ سکتی ہے، جبکہ موجودہ زیادہ سے زیادہ 10 سال کی پابندی ہے۔ یورپی یونین کو امید ہے کہ یہ اقدامات ان لوگوں کی deportations بڑھا دیں گے جنہیں پناہ کا حق نہیں ملا، جن کی ویزہ مدت ختم ہو چکی ہے یا جن کے پاس رہائشی حقوق نہیں ہیں۔ فی الحال یورپی یونین میں رہنے کا حق نہ رکھنے والوں میں سے صرف تقریباً بیس فیصد ہی واپس بھیجے جاتے ہیں۔ ناقدین نے یورپی یونین پر الزام لگایا کہ وہ US Immigration and Customs Enforcement (ICE) کی پریکٹسز کی نقل کر رہی ہے، جو ٹرمپ کی صدارت کے تحت دستاویزات کے بغیر مہاجرین پر سخت اور پرتشدد کریک ڈاؤن کر رہا ہے۔
یہ معاہدہ مارچ میں سینٹر رائٹ European People’s Party (EPP) کے دائیں بازو کے متشدد گروہوں کے ساتھ مل کر ووٹ دینے کے بعد ممکن ہوا، تاکہ undocumented لوگوں کی واپسی پر سخت اقدامات پاس کیے جا سکیں۔
پلیٹ فارم فار کوآپریشن اِن ان ڈاکومینٹیڈ مائیگرینٹس کی Silvia Carta نے کہا کہ یہ قانون ’’لاکھوں لوگوں کو نقصان اور تشدد کا شکار کرے گا، 30 ماہ تک حراست سے لے کر خاندانوں کو الگ کرنے اور انہیں اجنبی ممالک بھیجنے تک۔ بحر اوقیانوس کے پار، ہم ICE کے پرتشدد امیگریشن انفورسمنٹ سے پیدا ہونے والا تشدد اور خوف دیکھ رہے ہیں۔ یورپ کو اس ماڈل کے نقصانات سے سیکھنا چاہیے، نہ کہ اپنا ورژن بنانا چاہیے‘‘۔
ایران امریکہ جنگ کے اثرات کے سبب فلپائن امریکہ تعلقات تنقید کی زد میں
|
فلپائن میں ایران امریکہ جنگ کے دوران پیدا ہونے والے ایندھن کے بحران نے بہت سی بحثوں کو جنم دیا ہے۔ جس میں ایک بحث فلپائن امریکہ تعلقات کے حوالے سے بھی ہے کہ ان تعلقات سے اصل فائدہ کس کو ہے؟ اس حوالے سے جرمن نشریاتی ادارے نے بھی ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’80 سال پہلے فلپائن نے امریکہ سے آزادی حاصل کی۔ تب سے تجارت، دفاع اور گہرے ثقافتی تعلقات کے ذریعے یہ رشتہ قائم رہا۔ لیکن یہ کبھی کامل رشتہ نہیں رہا۔ 80 سال بعد یہ اتحاد اصل میں کس کے لیے ہے اور کس کو فائدہ پہنچ رہا ہے؟ عوامی حلقوں کی رائے اس وقت منقسم ہے کچھ مبصرین کی رائے میں ’فلپائنی خود مختاری کا دفاع فلپائنیوں کے سوا کوئی نہیں کرے گا۔ کچھ کی رائے میں جنوبی چین سمندر میں جو صورتحال ہے، اس کی وجہ سے دفاعی تعاون بہت اہم ہے‘‘۔
فلپائن امریکہ کا ایشیا میں سب سے پرانا اتحادی ہے۔ امریکہ فلپائن کی سب سے بڑی برآمداتی منڈی اور بڑا سرمایہ کار ہے۔ امریکہ میں 40 لاکھ سے زیادہ فلپائنی نژاد امریکی رہتے ہیں جو ہر سال اربوں ڈالر گھر بھیجتے ہیں۔
لیکن امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کی حقیقت یہ بھی ہے کہ اس کے فیصلے آپ کو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایران جنگ ، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور آبنائے ہرمز بند ہو گئی تو دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ فلپائن نے توانائی ایمرجنسی کا اعلان کیا۔ ایک فلپائنی سکیورٹی تجزیہ نگار کہتے ہیں: ’’صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کہتی ہے کہ وہ دنیا کے لیے کر رہے ہیں کیونکہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں رکھنے چاہیے۔ لیکن فلپائنیوں کو یہ سمجھنا ہو گا کہ دنیا بھر میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ہمیں متاثر کرتا ہے۔ واشنگٹن جو کرتا ہے اس کے اثرات باہر نکلتے ہیں اور منیلا کو ان کے نتائج برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ فلپائنی پوچھ سکتے ہیں کہ ’اور کیا غلط ہو سکتا ہے؟‘ مثال کے طور پر سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جن میں مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کی تباہی دکھائی جا رہی ہے، اور لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ’کیا EDCA اڈوں کے ساتھ بھی یہی ہو گا؟‘‘‘
1951ء کی Mutual Defense Treaty دونوں ملکوں کو مسلح حملے کی صورت میں ایک دوسرے کا دفاع کرنے کا پابند کرتی ہے۔ لیکن EDCA معاہدہ امریکی فوج کو فلپائنی اڈوں تک رسائی بھی دیتا ہے۔ جنوبی چین سمندر میں چینی جہاز فلپائنی کشتیوں سے ٹکراتے رہتے ہیں۔ تائیوان صرف 100 میل شمال میں ہے۔ خارجہ سیکریٹری Tess Lazaro کہتے ہیں کہ ’’لوگ خوش ہیں کہ معاہدہ ہے، امریکہ ہماری حفاظت کرے گا۔ یہ اعتماد دیتا ہے۔ Mutual Defense Treaty provocative نہیں بلکہ deterrent ہے‘‘۔ لیکن فلپائن میں بہرحال یہ رائے بھی موجود ہے کہ امریکہ ہمارا دفاع کم اور exploitation زیادہ کر رہا ہے۔ دوسری بات چین اسے خطرہ سمجھے گا کیونکہ فلپائن امریکی فوجیوں، میزائلوں اور جنگی جہازوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ یہ فلپائنی پوزیشن کمزور کرتا ہے۔
دفاعی معاہدے کے تحت امریکی فوج کو فلپائن کے 9 فوجی اڈوں پر رسائی حاصل ہے۔ ان مقامات کو ’’ان ہانسڈ ڈیفنس کوآپریشن ایگریمنٹ‘‘ (EDCA) کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکی فوجیوں کو مشترکہ مشقوں، ہنگامی امداد اور رسد کی فراہمی کے لیے باری باری ان مقامات کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ فلپائن میں مسلم آبادی کل آبادی کا تقریباً 6.4 فیصد ہے (تقریباً 7 ملین افراد)، جو ملک کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ زیادہ تر مسلمان منڈاناؤ اور بانگسامورو کے جنوبی علاقوں میں بستے ہیں۔
آکٹاگون : مصر کی اسٹریٹیجک قیادت کا ہیڈ کوارٹر |
یہ مصر کے نئے ایڈمنسٹریٹو کیپیٹل (العاصمۃ الإداریہ) میں سب سے اہم فوجی پروجیکٹس میں سے ایک ہے۔ یہاں مسلح افواج کی قیادت کے مراکز اور متعدد فوجی محکموں اور اداروں کو ایک مربوط نظام میں قائم کیا گیا ہے جو جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر مبنی ہے۔ اس کا باضابطہ افتتاح 4 جولائی 2026ء کو کیا گیا، جو کئی سالوں کی تعمیر اور نگرانی کے بعد مکمل ہوا۔ اس مرکز کو “آکٹاگون” (Octagon) کا لقب اس کے آکٹاگونل (آٹھ پہلو والے) جیومیٹریکل ڈیزائن کی وجہ سے ملا۔ کمپلیکس تقریباً 22 ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں 8 اہم آٹھ پہلو والی عمارتیں ہیں جو مسلح افواج کے مختلف شعبوں اور اداروں کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان کے درمیان ایک مرکزی قیادت کا مرکز ہے جو تمام یونٹس کو جوڑتا ہے۔ اسے محفوظ ڈیجیٹل ڈیٹا سینٹرز، جدید سروس سہولیات، اور خود مختار بجلی اور پانی کے نیٹ ورکس سے لیس کیا گیا ہے تاکہ مختلف حالات (بشمول ایمرجنسی اور بحران) میں بھی مسلسل آپریشن اور تیاری برقرار رہے۔ یہ امریکی وزارتِ جنگ کے ’’پینٹاگون‘‘ (پانچ پہلو والی) عمارت کی طرز کی نقل بھی ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ پینٹاگون کی سستی کاپی نہیں بلکہ پینٹاگون سے کئی گنا بڑا پروجیکٹ ہے۔ اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی طرح بدترین معاشی مسائل سے دوچار ملک کا اتنے بڑے عسکری منصوبے کا قومی دفاع یا امت کے دفاع سے کوئی تعلق ہے؟ سبھی جانتے ہیں ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ امت کے وسائل کے اس طرح بے دریغ استعمال کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا تعلق اپنے اقتدار اور قبضے کو مستحکم کرنا ہے لیکن اس زاویے سے بھی دیکھا جائے تو یہ پروجیکٹ کئی گنا بڑا ہے ۔ تو پھر کیا اس غیر معمولی پروجیکٹ کے پیچھے اسرائیل اور امریکہ اور ان کے مستقبل کے لیے منصوبے ہیں جن پر وہ مسلمانوں کے ہی خون پسینے کو جھونک رہے ہیں؟
قومی ائیرلائن پر جرنیلی قبضہ اور آئی ایم ایف
|
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل 180 ارب روپے میں باضابطہ طور پر مکمل ہو چکا ہے، جس کے تحت عارف حبیب کنسورشیم کے ذیلی ادارے ’’پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ‘‘ نے اس کا انتظام سنبھال لیا ہے۔
اس نجکاری میں سب سے زیادہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب عسکری فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام چلنے والی کمپنی فوجی فرٹیلائزر (FFC) نے اس کنسورشیم میں شمولیت اختیار کی۔ نجکاری مکمل ہونے کے بعد فوجی فاؤنڈیشن کے ایم ڈی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر کو متفقہ طور پر پی آئی اے کے نئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔ ناقدین کا اعتراض ہے کہ نجکاری کا مقصد کارپوریٹ سیکٹر کو فروغ دینا تھا، لیکن عسکری اداروں کی آمد سے سویلین معیشت میں فوج کا اثر و رسوخ مزید بڑھ گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ خالصتاً ’’نجی شعبے کی نجکاری‘‘ نہیں رہی۔ 180 ارب روپے کے مجموعی سودے کی اندرونی شقوں پر معاشی جریدوں اور ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ 180 ارب روپے میں سے حکومت کے قومی خزانے کو براہِ راست صرف ایک چھوٹا حصہ مل رہا ہے۔ سودے کی شرط کے مطابق 125 ارب روپے خریدار کنسورشیم کو لازمی طور پر پی آئی اے کے فضائی بیڑے کی اپ گریڈیشن، جدید کاری اور آپریشنز پر ہی خرچ کرنے ہوں گے۔ یہ بالکل اسی طرح ہی ہے کہ ایک مکان ایک کروڑ میں فروخت کیا جائے اور رقم وصولی کے وقت طے ہو کہ خریدار دس لاکھ کیش دے گا اور باقی 90 لاکھ اس گھر کی تزئین و آرائش پر خرچ کرے گا۔ یہ کس قسم کا سودا ہوا؟ تجزیہ کاروں کے مطابق، حکومت کے لیے یہ سودا فوری مالی فائدے کے بجائے پی آئی اے کے سالانہ اربوں روپے کے خسارے سے جان چھڑانے کا ذریعہ بنا ہے۔ یہ اعتراض بھی ہے کہ پی آئی اے کے پاس موجود بین الاقوامی روٹس اور قیمتی اثاثوں کے مقابلے میں یہ قیمت کم ہے۔ ڈان کی اداریاتی رپورٹ کے مطابق، نجکاری کا اصل امتحان اب شروع ہو گا، معاہدے کے تحت پی آئی اے کے ملازمین کی ملازمتیں اور تنخواہیں فی الحال ایک سال کے لیے محفوظ کی گئی ہیں۔ طویل مدت میں کارپوریٹ کلچر آنے سے ملازمین کی چھانٹیاں نا گزیر ہو سکتی ہیں کیونکہ پی آئی اے میں فی طیارہ ملازمین کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ نجکاری مکمل ہونے سے قبل قومی اسمبلی میں یہ معاملہ زیر بحث آیا کہ پی آئی اے کی جانب سے 15 سالہ ٹیکس چھوٹ کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا جس پر کمیٹی اراکین کی جانب سے جب برہمی کا اظہار ہوا تو بتایا گیا آئی ایم ایف سے اس متعلق اجازت لے لی گئی ہے ۔ جی ہاں وہی آئی ایم ایف جو بجلی گیس کے بلوں میں قسم ہا قسم کے ٹیکس لگوانے کے بعد بھی حکومت پر زور ڈالتی ہے کہ مزید ٹیکس بڑھایا جائے پی آئی اے کی فوجی ادارے کی تحویل میں جانے کے بعد پندرہ سالہ ٹیکس چھوٹ کی اجازت دے رہی ہے۔ اجلاس میں یہ مسئلہ بھی زیر بحث آیا کہ ملک میں ایوی ایشن سیکٹر کے اندر 5 سے 6 کھلاڑی (دیگر نجی ایئرلائنز) موجود ہیں، اگر ہم صرف ایک کمپنی کو یہ استثنیٰ دیں گے تو دوسرے مارکیٹ میں مقابلہ کیسے کریں گے؟ لہذا طے کیا گیا کہ ترمیم کے ذریعے باقی سب کو بھی ٹیکس استثنی دے دیا جائے۔
کاروباری پابندیاں دوبارہ لگائیں تو ملک گیر احتجاج ہو گا: مرکزی انجمن تاجران |
پاکستان کی ایک نمایاں تاجر تنظیم نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر بازاروں کو جلد بند کرنے کا فیصلہ دوبارہ نافذ کیا گیا تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ تاجروں نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ توانائی کی بچت کے لیے لگائی گئی کاروباری پابندیوں کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔ اپریل کے اوائل میں پاکستانی حکومت نے مہنگے درآمدی ایندھن کی بچت کے لیے کفایت شعاری منصوبے کے تحت دکانوں، بازاروں اور شاپنگ مالز کو رات آٹھ بجے تک بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم ریستورانوں، بیکریوں، کریانہ سٹورز اور شادی ہالز کو رات 10 بجے تک استثنیٰ حاصل تھا۔ یہ کفایت شعاری اقدامات امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے بعد نافذ کیے گئے تھے۔ تاجروں نے بازاروں کو جلد بند کرنے کی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے شکایت کی کہ ان اقدامات سے ان کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تاجروں کے کہنا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں کاروباری سرگرمیاں شام سات بجے کے بعد شروع ہوتی ہیں، دکانوں کو رات آٹھ بجے بند کرنے پر مجبور کرنا کاروبار کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ اسلام آباد میں کبھی احتجاجوں کو روکنے کے نام پر حکومت راستے بند کر دیتی ہے تو کبھی میچز کی سکیورٹی کے نام پر۔ حال ہی میں امریکہ ایران مذاکرات کے لیے جس طرح پورے اسلام آباد کو سیل کیا گیا تھا اس سے تو یہی لگتا ہے کہ حکمرانوں کی نظر میں عام انسانوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ کاروبار جلد بند کرنے کی پابندیاں توانائی کے استعمال میں کمی، بجلی کی پیداوار کی لاگت کو قابو میں رکھنے اور کم آمدنی والے طبقات کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے لگائی گئی تھیں ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت واقعی بچت میں سنجیدہ ہے تو ملک بھر میں وزراء کے ساتھ تیس چالیس گاڑیوں کا لشکر کیوں ہوتا ہے؟ عرصہ دراز سے بیوروکریسی اور سرکاری افسران کو ملنے والی فری بجلی گیس پٹرول پر تنقید ہوتی رہی ہے ان معاملات کو کیوں درست نہیں کیا جاتا؟
چنیوٹ میں لوہے اور تانبے کے ذخائر، اور مقامی آبادی کی پریشانی
|
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر چنیوٹ کے علاقے حکیم کالونی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے گھروں سے محروم ہونے کا خدشہ ہے جہاں وہ دہائیوں سے سے مقیم ہیں۔
اس تشویش کی وجہ مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں کی جانب سے ان علاقوں میں کیا جانے والا حالیہ سروے اور علاقے کے رہائشیوں سے ملکیت سے متعلق سوالات ہیں جس کی تصدیق متعدد افراد نے کی ہے۔ جب گھر آنے والے سرکاری اہلکاروں سے پوچھا کہ وہ یہ معلومات کیوں لے رہے ہیں تو اُنہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں سٹیل مل بننی ہے جس کے لیے سروے کیا جا رہا ہے۔ سنہ 2015ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے چنیوٹ میں لوہے اور تانبے کے ذخائر دریافت ہونے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد اُس وقت کے وزیرِاعظم نواز شریف نے دیگر حکام کے ہمراہ چنیوٹ کے علاقے رجوعہ کا دورہ کیا تھا۔ مقامی رہائشی اورنگزیب ملک ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پہلے تو یہ کام سست روی کا شکار تھا لیکن گزشتہ برس اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ نے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کی سیکشن چار کے تحت 108 ایکڑ زمین حاصل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ ان کے بقول حاصل کی گئی زمین میں کوئی زیادہ آبادی نہیں تھی بلکہ صرف کچے مکانات اور زرعی اراضی تھی۔ اس حد تک تو ٹھیک تھا لیکن چند روز قبل ایک نیا مجوزہ نقشہ آیا ہے جہاں سروے کیا جا رہا ہے۔ پنجاب منرل کمپنی (پی ایم سی) سے منسلک ماہرِ ارضیات حیدر نیاز کہتے ہیں کہ چنیوٹ کے علاقے میں 26 کروڑ ٹن لوہے جبکہ 90 لاکھ ٹن تانبے کے ذخائر ہیں۔ حیدر نیاز کا کہنا تھا کہ ’اس منصوبے کے لیے 107 ایکڑ اراضی حاصل کر لی گئی ہے اور اگر ہم سٹِیل مل کی طرف جاتے ہیں تو پھر ہمیں 600 ایکڑ زمین مزید درکار ہو گی اور کان کنی کے لیے بھی 100 ایکڑ اضافی زمین کی ضرورت پڑے گی۔ لوگوں کے تحفظات سے متعلق اُن کا کہنا تھا کہ جو بھی سرمایہ کار ہو گا یہ اُس کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ ماحولیاتی معاملات اور آبادی کے تحفظات دُور کرتے ہوئے ری لوکیشن پلان بنائے۔ ماضی میں ملک کے کئی شہریوں میں جس طرح پاکستان بننے سے قبل کی آبادیوں کو مسمار کر کے لوگوں کو بے گھر کیا جاتا رہا اور متبادل جگہیں بھی نہیں دی گئیں ایسے میں لوگوں کے خدشات درست معلوم ہوتے ہیں کہ انہیں اس منصوبے کی وجہ سے بے گھر ہونا پڑے گا۔ یہ بھی واضح رہے کہ نواز شریف خاندان کا اسٹیل کا کاروبار تاریخی طور پر پاکستان اور بیرونِ ملک دونوں جگہوں پر رہا ہے، جن میں اتفاق گروپ، گلف اسٹیل ملز (دبئی) اور العزیزیہ اسٹیل ملز (سعودی عرب) نمایاں ہیں۔ کاروبار سے منسلک سیاستدانوں کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ حکومتی وسائل اور اختیارات کو اپنے کاروبار کے پھیلاؤ کے لیے بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ اس میں زمینوں کا ارزاں نرخوں پر حصول ایک اہم ہتھکنڈہ تصور کیا جاتا ہے۔
بجلی پیدا کیے بغیر آئی پی پیز کو 5 سال میں 7275 ارب روپے ادائیگی
|
دنیا نیوز میں شائع ہونے والی ذیشان یوسفزئی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بجلی گھروں کو 13 ہزار 397 ارب روپے ادا کیے گئے ۔ دستاویزات کے مطابق حکومت نے پانچ سالوں کے دوران مالی سال 2022ء سے مالی سال 2026ء کے مارچ تک مجموعی طور پر بجلی کی پیداواری کمپنیوں کو 13۳ کھرب 97 ارب روپے سے زائد کی ادائیگیاں کیں۔ ان ادائیگیوں میں صرف۱ 6 کھرب 21 ارب روپے سے زائد رقم بجلی کی اصل قیمت تھی، جبکہ باقی۲ 7 کھرب 75 ارب روپے سے زائد رقم آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹس(Capacity Payments) کی مد میں ادا کی گئی۔ یعنی 7۲ کھرب 75 ارب روپے سے زائد رقم صارفین سے وصول کر کے بجلی گھروں کو اس لیے ادا کی گئی کہ انہوں نے بجلی پیدا ہی نہیں کی۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بجلی کی پیداواری لاگت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ کیپسٹی پیمنٹس میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔ بجلی گھروں نے جو اصل بجلی پیدا کی اس کے نرخ کم ہوتے گئے لیکن انہیں کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادائیگیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ ان معاہدوں کے سبب بجلی کی بڑھتی قیمتوں نے جہاں ایک طرف پیداواری لاگت بڑھا کر پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مقابلے کے قابل نہیں چھوڑا، صنعتوں کو اور معیشت کو تباہی سے دوچار کیا وہی غریب عوام کی بھی کمر توڑ ڈالی۔ ایسے بے تحاشا واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں غریب افراد نے بجلی کے بل سے تنگ ہو کر خودکشیاں کیں۔ حکومت تا حال اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام نظر آتی ہے یا شاید حکومت کی اپنی مرضی ہی نہیں ہے کہ اس معاملے کو درست کیا جائے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ پاکستان سے بہت سی غیر ملکی کمپنیاں چھوڑ کر جاچکی ہیں لیکن آئی پی پیز جونک کی طرح چمٹی ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ وہ بجلی فروخت نہ کر کے بھی معاہدے کے تحت بھاری کپیسٹی پیمنٹ لے رہی ہیں۔
سینیٹر اور عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے حوالے سے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ایک آئی پی پی پی کمپنی جس کی ملکیت حکومت پاکستان کی ہے، اس نے عالمی عدالت میں حکومت پاکستان پر کیس کیا ہے۔
نیپال میں ہندتوا نظریے کا پھیلاؤ اور مسلمانوں پر منظم حملے |
نیپال سنساری ضلع میں ہندتوا ہندو انتہا پسند تنظیموں کی ریلی میں اونچا میوزک بجانے پر پیدا ہونے والا تنازعے کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کی املاک ، دکانوں اور گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندو انتہا پسند جتھے نے ایک مسلمان جوڑے کو جو اپنے چھوٹے بچوں کے ہمراہ موٹر سائیکل پر تھے کو روک کر انہیں جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا جب مذکورہ فیملی نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ہندتوا اور ہندو قوم پرست نظریہ نیپال میں کافی عرصے سے موجود ہے اور بڑھ رہا ہے۔ اگرچہ نیپال 2008ء سے ایک سیکولر جمہوریہ رہا ہے، لیکن ہندو نواز نیٹ ورک سیکولرازم کو تبدیل کرنے اور نیپال کو ایک ہندو قوم کے طور پر بحال کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی (RPP) اور چھوٹے دھڑے نیپالی پارلیمنٹ اور عوامی زندگی میں ہندو نواز ریاستی ایجنڈے کو فعال طور پر آگے بڑھاتے ہیں۔ ہندوستانی ہندو قوم پرست تنظیموں بشمول آر ایس ایس نے اس کی مقامی الحاق، ہندو سویم سیوک سنگھ (HSS) کے ذریعے وشو ہندو پریشد (VHP) جیسے گروپوں کے ساتھ مل کر نچلی سطح پر ڈھانچے قائم کیے ہیں اور سرحدی شہروں میں ریلیاں نکالتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ آن لائن سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی مسلمانوں کے خلاف نفرت کے بیانیہ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ مشہور صحافی سی جے ویرلیمین نیپال کے ان حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ واقعات کوئی اتفاقیہ یا بے ساختہ نہیں تھے بلکہ اس کے پیچھے بھارتی ہندتوا کی ایک صدی کی محنت ہے ۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ہندو انتہا پسند ایک منصوبے کے تحت اپنے ہندو تہواروں کی ریلیاں مسلمانوں کی آبادیوں اور مساجد کے سامنے سے گزارتے ہیں اور وہاں فساد کر کے یہ ثبوت دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے جارحیت کا ارتکاب کیا۔ یہی ایودھیا میں ہوا، پھر اسے گجرات میں دہرایا گیا اور اب انڈیا کے بارڈر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر نیپال میں ہو رہا ہے۔
٭٭٭٭٭
