اس قدر ہی فرض ہے ہم پر

ہم تا حال اس بطلِ عظیم کا نام صحیح سے نہیں جانتے۔ وہ مردِ میدان، وہ رجل جس نے تاریخ کے روشن ترین باب میں اپنا نام درج کروایا ہے۔ ہمار ا اشارہ ، ۳۰ ستمبر ۲۰۲۶ء کو ’فلائی دبئی‘ کے جہاز پر قبضہ کر کےیہودِ نامسعود پر بربادی نازل کرنے کی کوشش کرنے والے مجاہد فی سبیل اللّٰہ عمانی پائلٹ کی جانب ہے۔ کوئی اس کا نام حمام کہتا ہے تو کوئی ہمام…… یہ حمام ہے یعنی ’کبوترِ حرم‘ حرمینِ جزیرۃ العرب سے حرمِ اقصیٰ تک کا محافظ و پاسبان…… یہ ہمام ہے تو اسم با مسمیٰ، کفر کی وسیع و عریض صہیونی سلطنت کو ڈبونے کے لیے نکلنے والا تنہا مردِ حُر، صاحبِ عزم و ہمت! تا حال اس بطلِ جلیل کا نام معلوم نہیں ہو سکا تو کیا ہوا، فرش و عرش والے اس کے کارنامے کو جانتے ہیں، زمین والے، آسمان والے کے سامنے گواہی دیتے ہیں کہ یہ بڑا پکا مجاہد اور سچا صاحبِ ایمان ہے(نحسبہ کذلك والله حسيبه)۔ جنگِ قادسیہ ہوئی تو اس میں چالیس ہزار ایرانی مجوسی کفار تہہِ تیغ کیے گئے اور ساڑھے آٹھ ہزار صحابہ و تابعین اس میں کام آئے، رضی اللّٰہ عنہم اجمعین۔ امیرِ جیش، حضرت سعد ابنِ ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ نے معرکے میں فتح یابی کے بعد امیر المومنین سیّدنا حضرت فاروقِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کو خط لکھا اور اس میں لکھا ’’وأصیب من المسلمین سعد بن عبيد القارىٔ، وفلان، وفلان، ورجال من المسلمين لا نعلمهم‘‘، کہ مسلمانوں میں سے حافظِ قرآن سعد بن عبید اور فلاں اور فلاں شہید ہوئے اور اس کے علاوہ مسلمانوں میں سے ایک تعداد ایسی شہید ہوئی جن کو ہم اور آپ نہیں جانتے۔ فاروقِ اعظمؓ نے جب یہ خط پڑھا تو رونے لگے اور فرمایا’’لا يضرهم أن لا يعرفهم، لكن الله يعرفهم‘‘، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عمر ان کو جانتا ہے یا نہیں، اللّٰہ تو اُن کو جانتا ہے!1بعض مؤرخین کے نزدیک حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے یہ الفاظ جنگِ نہاوند کے شہداء سے متعلق فرمائے۔

ابابیلیں ہیں ہم

بس اس قدر ہی فرض ہے ہم پر

کوئی کنکر

کوئی پتھر

ذرا ان ہاتھیوں کے لشکروں پر پھینک دیں اور پھر ___

اُفق کے پار جا پہنچیں

جہاں ساروں کو جانا ہے

حساب اپنا چکانا ہے!

ہمیں لیکن ___

محض زخمِ جگر اپنا دکھانا ہے

پھر اُس کے بعد کی دنیا کا ہر منظر سہانا ہے!

’فلائی دبئی‘ کی اس پرواز کا پیغام بڑا واضح اور بلیغ ہے۔ بے شک اللّٰہ ﷻ کے یہاں کوئی اور حکمت تھی کہ یہ کارروائی کامیاب نہ ہو سکی، لیکن ظاہری ناکامی کے باوجود یہ کارروائی کئی اعتبار سے کامیاب تھی، بہت سی خبرداریاں دشمن کو اور کئی پیغام امت کو دے گئی، ساتھ ہی ہمیں ہمارا وہی فریضہ ایک بار پھر یاد دلاتی ہے، فریضۂ گم گشتہ کی جانب بلاتی ہے۔ آئیے چند نکات کی صورت میں کچھ باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:

’’اگر ہمارا پیغام تم تک الفاظ کے ذریعے پہنچ سکتا تو ہمیں اس کو طیاروں میں سوار کر کے نہ بھیجنا پڑتا!‘‘

اس عمانی پائلٹ نے شیخ ابو خالد محمد الضیف شہید رحمۃ اللّٰہ علیہ کے حکم پر عمل کیا،جب آپؒ نے امت کے ہر ہر فرد کو مخاطب کر کے فرمایا تھا:

’’ اے اردن و لبنان، مصر و الجزائر، مراکش اور پاکستان، انڈونیشیا و ملائیشیا اور کُل عالمِ عرب اور عالمِ اسلام میں بسنے والے ہمارے لوگو!

آج ہی نکلو اور فلسطین کی طرف چلنا شروع کردو ۔ کل نہیں! آج اور ابھی!آج ہی روانہ ہو جاؤ! ان سرحدوں، حکومتوں اور پابندیوں میں سے کوئی بھی تمہیں جہاد میں شرکت اور مسجدِ اقصیٰ کی بازیابی کا شرف حاصل کرنے سے محروم نہ کر سکے!

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝

’(جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہو، چاہے تم ہلکے ہو یا بوجھل، اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے۔‘

آج ہی وہ دن ہے (کہ جب جہاد کے لیے نکل کھڑا ہوا جائے)۔ پس جس کسی کے پاس بندوق ہو تو وہ اسے لے کر نکلے، کہ یہی اس کا وقت ہے۔ اور جس کے پاس کوئی بندوق نہیں تو وہ اپنے خنجر اور چاقو، ہتھوڑے اور کلہاڑے لے کر نکلے، یا اپنے دیسی ساختہ بم، یا اپنے ٹرک اور بلڈوزر یا اپنی گاڑی… …کہ آج کا دن ہی وہ دن ہے(کہ جب جہاد کے لیے نکل کھڑا ہوا جائے)!

تاریخ نے اپنے سب سے روشن، ممتاز اور ذی عزت و شرف صفحات پھیلا دیے ہیں، تو کون ہے جو نور و سعادت کے ان صفحات میں اپنا، اپنے خاندان اور اپنے علاقے کا نام لکھوائے؟‘‘

یہ سبھی باتیں، ۳۰ ستمبر ۲۰۲۶ء کو فلائی دبئی کی پرواز کا پیغام ہیں۔ ایک ایسی کارروائی جو اگرچہ مرادِ اصلی کو نہ پہنچ سکی لیکن اسرائیل تا امریکہ خوف کی ایک نئی لہر صلیب و صہیون کے بیٹوں اور بیٹیوں کے دلوں میں دوڑا گئی۔ ایک ایسی کارروائی جو اسرائیل و امریکہ کی تمام ائیر لائنز کے لیے کروڑوں ڈالر کا نقصان ثابت ہو گی۔ ایک ایسی کارروائی جس کے نتیجے میں تمام ائیر لائنز کمپنیوں کو اپنی پالیسیوں میں از سرِ نو تبدیلی لانی ہوگی۔ ایک ایسی کارروائی جو ثابت کرتی ہے کہ ’مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘۔ ایک ایسی کارروائی جو دنیا بھر کے مسلمان کمرشل پائلٹوں کے لیے پیغام ہے کہ آپ کا جہاز آپ کا ہتھیار ہے، اس ہتھیار کو لے کر تل ابیب تا واشنگٹن، صہیونیوں سے بھرے جہازوں کو ان کے ائیر پورٹوں سے ٹکرا دیجیے ، اور کیا کہنے ان مسلمان جنگی جہازوں کے پائلٹوں کے، کہ اگر ان کے دل میں ادراکِ فرضیتِ جہاد پیدا ہو جائے تو گولہ بارود، بموں اور میزائلوں سے لیس جہاز لے کر العدید اور انجرلیک کے امریکی اڈوں سے جا ٹکرائیں! جب تک ہمارے لوگ امن و چین سے فلسطین میں سانس نہ لیں گے، خدائے برتر کی قسم صلیب و صہیون کے پجاری بھی چین کی نیند نہ سو سکیں گے!

اللھم اهدنا فیمن هدیت وعافنا فیمن عافیت وتولنا فیمن تولیت وبارك لنا فیما أعطیت وقنا شر ما قضیت إنك تقضی ولا یقضی علیك وإنه لا یذل من والیت ولا یعز من عادیت تبارکت ربنا وتعالیت!

اللھم وفقنا لما تحب وترضى وخذ من دمائنا حتى ترضى .اللھم اهدنا لما اختلف فیه من الحق بإذنك. اللھم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تھنّا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علینا وارضنا وارض عنا. اللھم إنّا نسئلك الثّبات فی الأمر ونسئلك عزیمۃ الرشد ونسئلك شكر نعمتك وحسن عبادتك. اللھم انصر من نصر دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم واجعلنا منھم واخذل من خذل دین محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا تجعلنا منھم، آمین یا ربّ العالمین!

٭٭٭٭٭

Exit mobile version