مسجدِ اقصیٰ خطرے میں!

مسلمانوں کا قبلۂ اول، مسجد الاقصیٰ اس وقت جس خطرے میں گھری ہوئی ہے بحیثیت امت  ہمیں اس کا ادراک ہی نہیں ہے۔  اسراء و معراج کی سرزمین، جہاں رحمت للعالین ﷺ نے تمام انبیاء کی امامت کروائی ، جسے حضرت عمر ﷜اور پھر صلاح الدین ایوبی ﷫ نے کفار کے شکنجے سے آزاد کروایا، آج اس کا وجود ایسے خطرے میں ہے جیسا پہلے کبھی نہیں تھا۔

مغربی کنارے اور بیت المقدس میں فلسطینیوں کی جان، مال، زمینوں اور املاک پر صہیونیوں کے تیزی سے بڑھتے ہوئے حملے  اور غزہ میں جاری نسل کشی کے ساتھ ہی قابض صہیونیوں کی طرف سے مسلسل مسجد اقصیٰ کی حرمت پامال کرنے میں بھی بہت تیزی آ گئی ہے جس کی وجہ سے حرم الشریف کی بقا خطرے میں ہے۔ اس  معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نصف ستمبر سے ۲ اکتوبر تک (یعنی یہودیوں کے سال نو اور اس کے بعد آنے والے مذہبی تہواروں کے دوران) گیارہ ہزار تین سو سے زائد یہودیوں نے  قابض فوج کی حصار میں مسجد کے احاطے میں داخل ہو کر اپنی مذہبی رسومات انجام دیں۔

اس دوران ہر روز ہزاروں کی تعداد میں قابض یہودی آبادکار گروہوں اور جتھوں کی شکل میں مسجد میں داخل ہو کر حرم الشریف کے  احاطے میں تلمودی رسومات، ناچ گانا اور مذہبی نعرے یہاں تک کہ خاص نباتاتی نذرانے وہاں لا کر مسجد کی مقدس سرزمین کی بے حرمتی کرتے رہے ، لیکن جواب میں امت مسلمہ کے حکمران وہی گھسے پٹے مذمتی بیانات تک ہی محدود رہے۔

مسجد اقصیٰ میں جاری صہیونی شر انگیزی اور ان کے مذموم مقاصد کو سمجھنے کے لیے اسرائیلی قبضے کی ۷۹ سالہ تاریخ کے دوران مسجدِ اقصیٰ کے حوالے سے اہم واقعات پر نظر ڈالتے ہیں :

حرم الشریف کے نیچے سرنگیں

مسجد اقصیٰ  کمپاونڈ یا حرم الشریف ۳۵اعشاریہ ۶ ایکڑ (۱۴۴ دونم) رقبے پر محیط ہے ۔ جس میں قابل ذکر قخرہ اور قبلی مسجد (جسے حضرت عمر نے تعمیر کروایا) ہیں اس کے علاوہ بھی چند چھوٹی مساجد (مسجد البراق، مصلی مروان وغیرہ) ، مدرسہ اور صحن کا بڑا احاطہ، اور وضو کے لیے پانی کے کنوئیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ مسجد کے احاطے کے  گیارہ دروازے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے پرانے شہر کے مختلف حصوں کو مسجد سے جوڑتے ہیں جو اسرائیلی فوج کے زیر قبضہ ہیں۔

یوں تو مسجد الاقصیٰ سمیت مشرقی یروشلم کی تمام تاریخی مساجد اور عیسائی عبادت گاہوں کا  انتظام اردن کے محکمہ اوقاف کے پاس ہے، اور اقوام متحدہ میں اسے ایک قانونی حیثیت دی گئی ہے جسے سٹیٹس کو کا قانون (status quo law) کہتے ہیں۔  لیکن ۱۹۴۸ء میں ناجائز صہیونی ریاست کے قیام سے ہی صہیونیوں نے اپنی گندی نظریں ہماری مقدس مسجد الاقصٰی پر نہ صرف گاڑھی ہوئی ہیں بلکہ اس وقت سے ہی مسجد اقصٰی کے خلاف سازشوں کا سلسلا شروع کر رکھا ہے۔

۱۹۶۷ء میں مشرقی بیت المقدس پر قبضے کے ساتھ ہی  حرم کے ارد گرد زیر زمین کھدائیاں شروع کر دی گئیں جن پر  بین الاقوامی سطح پر تنازعات بھی ہوئے لیکن ’’آثار قدیمہ‘‘ کے نام پر کھدائیاں نہیں رکیں اور آج حال یہ ہے کہ حرم کی  جنوبی دیوار  ،دیوار براق اور عین مساجد کی تعمیرات  کے نیچے طویل سرنگیں موجود ہیں جو زیر زمیں مسجد کے احاطے کے کافی اندر تک آتی ہیں جبکہ یہ سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب تک ساٹھ سے زائد سرنگیں کھودی جا چکی ہیں جبکہ ان کی اصل تعداد چھپائی جاتی ہے۔

۱۹ ستمبر ۲۰۲۶ء  یوم کپور کے موقع پر بنیامین نیتن یاہو نے اپنی بیوی کے ساتھ حائط البراق کے نیچے سرنگوں میں موجودگی کی ویڈیو  نشر کی جس میں کہا کہ

 ’’ہم قدس الاقداس (Holy of Holies) کے بہت قریب ہیں ہم یہاں پہنچ گئے ہیں اور یہاں ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

واضح رہے کہ یہودیوں کی روایات میں ہیکل کے سب سے اندرونی مقدس حصے کا ذکر ہے جہاں تابوت سکینہ رکھا ہوتا تھا اور وہاں داخلے کی اجازت نہیں تھی، قدس القداس اسی جگہ کا نام ہے۔

نیتن یاہو کی اس اشتعال انگیز حرکت کو ایک اشارہ سمجھا جا رہا ہے ۔حماس نے مسجد اقصیٰ اور اس کے گرد و نواح سے متعلق صیہونی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ اپنی پوری گنجائش ، صحنوں، مصلوں، فصیلوں اور دروازوں سمیت ایک خالص اسلامی مسجد ہے اور صیہونی کھدائیاں، در اندازیاں اور رسومات اس جگہ کی شناخت کو ہرگز تبدیل نہیں کر سکتے۔

۱۹۶۹ء کی آتشزدگی کا واقعہ

حرم الشریف کی قبلی مسجد میں آتشزدگی کی مذموم حرکت بھی صہیونیوں نے منظم انداز میں کی۔ ۲۱ اگست ۱۹۶۹ء کو قابض صہیونیوں نے مسجد اقصیٰ کا پانی بند کر دیا اور مسلمان شہریوں کو مسجد کے قریب آنے سے روک دیا، اسی دوران ایک صہیونی نے قبلی مسجد کو آگ لگا دی، مسجد میں آگ بھڑک اٹھی  جس کی وجہ سے صلاح الدین ایوبی کا تاریخی منبر ، جنوبی گنبد کی چھت اور مشرقی جانب کی چھت کا کچھ حصہ جل گیا۔

یوں تو پوری دنیا کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ تھا لیکن بات پھر چند قرار دادوں اور ’’سخت‘‘ مذمتی بیانات ، اسلامی تعاون کی تنظیم اور القدس کمیٹی کے قیام تک ہی محدود رہا۔

مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر  حملے اور مسجد اقصیٰ کی بندش

یوں تو پوری ۷۸ سالہ تاریخ میں متعدد مرتبہ مسجد اقصیٰ اور مسلمان نمازیوں کے خلاف سازشیں اور حملے کیے گئے لیکن۱۹۶۹ء کے بعد دوسری دفعہ ۱۴ سے ۱۶ جولائی ۲۰۱۷ء میں مسجد کو مکمل طور پر بند کیا گیا۔

۲۰۲۱ء کے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے آنے والے مسلمانوں اور معتکفین پر مسلسل ۷ سے ۱۰ مئی تک ہر روز مسلح قابض فوج مسجد میں گھس کر حملے اور تشدد کرتی رہی جس کی وجہ سے نہ صرف ڈھائی سو سے زائد مسلمان زخمی ہوئے بلکہ مسجد کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔

۲۰۲۳ء میں قبلی مسجد پر دھاوا بولا اور بہت سے نمازیوں کو گرفتار اور زخمی کیا۔ اس کے بعد سے نہ صرف قابض فوج بہانے بہانے سے فلسطینیوں اور اوقاف کے محافظوں کو مسجد میں داخلے پر پابندی لگاتی ہے بلکہ آنے والے نمازیوں کو سکیورٹی کے نام پر ہراساں بھی کرتی ہے۔

مسجد اقصیٰ کی طویل ترین بندش اسی سال ایران اسرائیل جنگ کے دوران صہیونیوں کی طرف سے مسلط کی گئی جس میں چالیس روز تک مسجد اقصیٰ میں کوئی جماعت نہ ہو سکی ، نصف رمضان اور عیدالفطر میں بھی مسجد بند رہی۔ اردن کا محکمہ اوقاف تو ہے ہی معذور لیکن اس دفعہ بھی کسی مسلمان ملک نے عملی طور پر کچھ نہ کیا۔ ان تمام سازشوں، حملوں ،بندشوں کے باوجود مسلمانوں کے جمود نے صہیونیوں کی بہت حوصلہ افزائی کی۔

مسجد اقصیٰ کی حدود میں صہیونی آباد کاروں کی یورش اور دوسری انتفاضہ

۲۰۰۰ء میں ایرل شارون کی مسجد اقصیٰ میں  دراندازی کے ردعمل میں دوسری انتفاضہ، انتفاضۃالاقصیٰ ، شروع ہوئی، جس میں پورے فلسطین میں صہیونیوں کے خلاف نہ صرف عوامی سطح پر بڑے مظاہرے ہوئے بلکہ فلسطینی جہادی تنظیموں نے جہاں موقع پایا صہیونیوں کو نشانہ بنایا ۔ چار سالہ اس تحریک میں ۳ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جبکہ ہزار کے لگ بھگ صہیونی مارے گئے  اور یہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار ہیں۔  اس طرح مسجد اقصیٰ کی حرمت کی حفاظت فلسطینیوں کی مزاحمت کا استعارہ بن گئی۔

لیکن اس کے بعد ہر سال آہستہ آہستہ صہیونی آباد کاروں کی مسجد کے احاطہ میں در اندازی ہر سال بڑھتی ہی چلی گئی، کبھی سیاحوں کی شکل میں اور کبھی سخت گیر انتہا پسند صہیونیوں کی جانب سے مسجد کے احاطے میں اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کی شکل میں۔  ان کی بڑھتی ہوئی جرات اور ہٹ دھرمی کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگائیں کہ ۲۰۱۶ء میں آن ریکارڈ تقریباً چودہ ہزار آٹھ سو صہیونی آباد کار مسجد میں داخل ہوئے۔ جبکہ ۲۰۲۲ء میں ساٹھ ہزار سے زائد آبادکار مسجد میں داخل ہوئے۔

 ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۵ء تک ہر سال یہ تعداد لاکھوں تک پہنچتی تھی اور اردنی محکمہ اوقاف کے تعین کردہ محافظین حرم ،جو کہ پہلے ہی بے اختیار اور صہیونی آباد کاروں کی در اندازیوں کو روکنے میں ناکام تھے، پوری طرح صہیونی قابض فوج کے رحم و کرم پر آ گئے کہ جب چاہیں جسے چاہیں نکال دیں یا مسجد میں داخل ہی نہ ہونے دیں۔

ایسے میں ان فلسطینی نمازیوں نے جو مسجد کے قرب و جوار میں مقبوضہ بیت المقدس  سے تھے  اور ان کی عمریں ۲۰ سے ۷۰ کے درمیان تھیں،  ۲۰۰۰ء میں  مرابطین اور مرابطات کی ایک تنظیم بنائی جو باقاعدہ حرم کی حفاظت اور آباد کاروں کی وہاں مشکوک نقل و حرکت پر نظر رکھتی تھی۔ لیکن ۲۰۱۵ء میں اسرائیل نے ان پر پابندی لگا کر ان تمام مردوں اور خواتین کے خلاف کریک  ڈاون کیا اور ان کی مسجد میں داخلے پر ہی پابندی لگا دی۔

اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ میں اسرائیلی حملے کے بعد تو یہ صہیونی پہلے سے کہیں زیادہ آزادی سے مسجد کی حدود میں اسرائیلی فوج کی حفاظت میں در اندازی کرنے لگے اور علی الاعلان وہاں مذہبی رسومات کی ادائیگی  اور ہیکل کی تعمیر سے متعلق اشتعال انگیز نعرے لگانے لگے۔

تیسرے ہیکل کی تیاریاں اور ’’سٹیٹس کو‘‘  تبدیل کرنے کی سازشیں

یوں تو تیسرے ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے سلسلے میں ایک تحریک (The Third Temple movement) کے نام سے چل رہی ہے جس کے تحت بیس سے زیادہ صہیونی تنظیمیں کام کر رہی ہیں (اس تحریک کی تمام معلومات آن لائن موجود ہیں)۔ انتہا پسند صہیونی وزراء ،جن میں اتمار بن گور کا نام سب سے زیادہ آتا ہے، باقاعدگی سے مسجد اقصیٰ کی حرمت کو پامال کرتے ہوئے دھاوا بولتے ہیں اور فلسطینیوں اور مسجد اقصیٰ کے خلاف صہیونیوں کو اکساتے ہیں۔

ذرا غور کریں تو یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے اسرائیل کی ناجائز ریاست کے قیام سے اب تک کس طرح صہیونی بتدریج اپنے مقاصد میں آگے بڑھتے آئے ہیں اور اب حال یہ ہے کہ غزہ کو مکمل تباہ اور ایک اندازے کے مطابق چھ لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کر دیا، غرب اردن اور مقبوضہ بیت المقدس  میں  فلسطینیوں کی املاک ، زمینوں اور گھروں سے بے دخل کر کے ان پر قبضہ کرنے کی شدت میں اب کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے، یہ محض اتفاقی یا حادثاتی نہیں ہوا۔ اس کے پیچھے ایسی یہودی سازشیں کارفرما ہیں جنہوں نے انبیا، کو نہ بخشا۔

اب ان کا ہدف مسجد اقصیٰ کی حیثیت  (status quo) کو بدلنا ہے جیسا کہ انہوں نے الخلیل میں واقع تاریخی مسجد ابراہیمی کے ساتھ کیا کہ سازش کے ذریعے مسجد کا آدھے سے زیادہ حصہ (63%)یہودیوں کی عبادت گاہ (synagogue) میں تبدیل کر دیا ساتھ ہی بقیہ مسجد (37%)میں آنے والے نمازیوں پر بھی عملاً صہیونی قابضین کا ہی تسلط قائم ہے۔ اور اب ان کی سازشی نظریں مسجد اقصیٰ کے شمالی حصے خصوصا باب الرحمہ پر یہودی معبد قائم کرنے کی ہیں۔ فلسطینی نمازیوں پر سخت پابندیاں ہیں جبکہ صہیونی آباد کاروں کو اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کی پوری آزادی ہے۔

اس متعلق مڈل ایسٹ آئی چند ماہ پہلے ہی پورٹ کر چکی ہے کہ مسجد اقصیٰ کے موجودہ ’’سٹیٹس کو‘‘ کو ختم کر کے اسے اسرائیل کے ماتحت (multi-faith center) کہلوانے اور مسلمانوں اور یہود کا مشترکہ ورثہ کے طور پر تسلیم کروانے ،جہاں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہود بھی اپنے مذہبی مراسم اجتماعی حیثیت میں آزادی سے ادا کر سکیں، کی کوششیں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی وفد، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مائیک ہکابی کی قیادت میں تفصیلی لائحہ عمل پیش کر چکا ہے،  اور سرکاری طور پر بحرین، مراکش، مصر اور متحدہ عرب امارات کو بریفنگ بھی دی جا چکی ہے جن سے کسی مخالفت کی امید نہیں۔ اردن اور سعودی عرب کو بھی اس سارے منصوبے کا علم ہے لیکن یہ دو ممالک اب تک خاموش ہیں ۔ اس منصوبے کے تحت مسجد اقصیٰ میں آئمہ اور دیگر عملہ کی تقرری  اور خطبات جمعہ و عیدین  کا مسودہ اسرائیلی منظوری سے ہی طے پا سکے گا۔

اس متعلق حماس کے راہنما خالد مشعل نے مسجد اقصیٰ کی نصرت کے عنوان سے ہنگامی اجتماع میں خبردار کیا کہ قابض اسرائیل القدس اور مسجد اقصیٰ پر نئے مذہبی، انتظامی اور مکانی حقائق مسلط کرنے کے ناپاک عزائم رکھتا ہے۔ انہوں نے صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے چار اہم ترین حکمت عملیوں (اسٹریٹجیز) کا خاکہ پیش کیا، جن میں عسکری مزاحمت، فلسطینی عوامی تحریک، عرب اور اسلامی دنیا کی اجتماعی بیداری اور سرکاری سطح پر اقدامات شامل ہیں۔

اسی طرح کی بات مسجد اقصیٰ کے امام شیخ عکرمہ صبری نے بھی کہی کہ موجودہ صہیونی یلغار ’’سٹیٹس کو‘‘ (الوضع القائم) کو تبدیل کرنے کے لیے ہے جس پر انہوں نے مسلمانوں اور عربوں سے درخواست کی ہے کہ وہ سمجھیں کہ مسجد اقصیٰ بہت زیادہ خطرے میں ہے اور انہیں اقصیٰ کے دفاع کے لیے حرکت میں آنا چاہیے۔

’’بالروح بالدم نفدیک یا اقصٰی‘‘

یہ فلسطینیوں کا مشہور و معروف نعرہ ہے۔ لیکن یہ محض ایک نعرہ ہی نہیں ہے اس کے پیچھے مسجد اقصیٰ کی حرمت اور اس کی آزادی کے لیے دی جانے والی لا تعداد قربانیاں ہیں ۔ فلسطین کی پوری کی پوری مزاحمتی تحریک کا بنیادی محرک مسجد اقصیٰ کی آزادی اور اس کی حفاظت ہی ہے۔  یہاں تک کہ ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں کیے گئے ’’معرکۃ طوفان الاقصیٰ‘‘ کے مبارک حملے بھی مسجد اقصیٰ کو صہیونی شکنجے سے آزاد کروانے کے لیے ہی کیے گئے اور اس بات کا اظہار شیخ ابو عبیدہ ﷫ نے بھی اپنی تقریر میں کیا ۔Reutersکے مطابق ان مبارک حملوں کے ماسٹر مائنڈ محمد الضیف نے ان حملوں کی منصوبہ بندی ۲۰۲۱ء کے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں قابض صہیونی فوج کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور نمازیوں اور معتکفین پر مسلسل چار روز تک تشدد اور فائرنگ کے جواب میں اسی وقت سے ہی شروع کر دی تھی۔

لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ چاہے وہ غزہ کے باسی ہوں یا مغربی کنارے کے، صہیونی فلسطینیوں پر ہر جہت سے حملہ آور ہیں ۔ اپنے ہی وطن میں ان کی نسل کشی جاری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ پر بھی صہیونی یلغار بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ایسے میں قبلۂ اول کا دفاع صرف فلسطینیوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ بار پوری امت پر آتا ہے۔  لیکن سوال یہ ہے کہ جو امت تین سال سے غزہ میں مسلمانوں کے قتل عام کو نہ رکوا سکی کیا وہ اپنے قبلۂ اول کا دفاع کر نے کی سکت رکھتی ہے؟

مسلم ممالک کے حکمران اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں کھڑے ہو کر اسرائیل کے خلاف دھواں دار تقاریر کر کے کس ’’عالمی برادری‘‘ کی منت سماجت کرتے ہیں کہ وہ کچھ کرے؟ کیا کسی ’’عالمی برادری‘‘ کا کوئی وجود ہے؟ سوائے امریکہ سمیت گنتی کے چند ممالک کے ہر ملک کے حکمرانوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر آواز اٹھا کر ’’عالمی برادری‘‘ کو عمل پر اکسایا ہے۔  شاید عالمی برادری سے مراد ’’امریکہ‘‘ ہے، جو خود ناجائز صہیونی ریاست کا محافظ ہے۔  حقیقت تو یہ ہے کہ یہ حکمران یا تو کفار ہیں جن کے پس پردہ اپنے مفادات ہیں یا پھر وہ منافقین و مرتدین ہیں جو امت کے اوپر مسلط ہیں۔ وہ سرے سے کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے، جبکہ کچھ تو بے غیرتی کی انتہاؤں کو چھو کر علی الاعلان صہیونیوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ لیکن اگر یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور فلسطینیوں کی آہوں سے بچ جائیں گے تو یہ بہت بڑی بھول ہے ان کی۔ اب تو حالات ہی اس ڈگر پر چل پڑے ہیں کہ ایک ایک کر کے یہ سب اسی جنگ کی زد میں آ رہے ہیں۔

مسجد اقصیٰ کی حفاظت کی اس کے بعد ذمہ داری امت کے علماء پر آتی ہے کہ وہ اس کے لیے کیا عملی اقدام کرتے ہیں، اور ذمہ داری ان تمام دینی و جہادی تنظیموں پر آتی ہے جو اعلائے کلمۃاللہ کے لیے دنیا کے مختلف خطوں میں نبرد آزما ہیں کہ قبلۂ اول کی حفاظت ان کی ترجیحات میں کس مقام پر ہے۔ اور پھر ہم میں سے ہر فرد اس بات کا جوابدہ ہے کہ اپنی اپنی استطاعت میں ہم  کیا کر رہے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک جوابدہ ہے۔ لہذا اپنی دعاؤں میں اپنے مال سے اور اپنی توجہ اور آواز سے اور اگر موقع ملے تو اپنی جان سے مسجد اقصیٰ کی حفاظت اور فلسطینی بھائیوں کی مدد کے لیے اٹھیں۔

بالروح بالدم نفدیک یا اقصٰی

٭٭٭٭٭

Exit mobile version