امام کے ساتھ گزرے ایام | ساتویں نشست

بسم اللہ والحمدللہ، والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ

دنیا بھر میں بسنے والے میرے مسلمان بھائیو!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

یہ سلسلۂ گفتگو ’’امام کے ساتھ گزرے دن‘‘ کی ساتویں قسط ہے، جس میں میں امامِ مجاہد، شہید (نحسبہ کذلک) شیخ اسامہ بن لادن ﷫ کے ساتھ گزرے ہوئے خوش گوار دنوں کی یادیں بیان کر رہا ہوں۔

گزشتہ قسط میں تورا بورا میں ان کے ساتھ گزرے وقت کی کچھ یادیں بیان کی تھیں اور دوستوں اور دشمنوں کا ذکر کیا تھا۔ دوستوں اور ان شہداء کا بھی تذکرہ کیا تھا جنہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے اذن سے تورا بورا میں قبول فرمایا۔

یہاں میں اپنی ایک غلطی کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں۔ مَیں نے شہید محمد محمود کا نام ذکر کیا تھا، لیکن بعد میں غور کرنے پر یاد آیا کہ تورا بورا میں وہ ’’علی محمود‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ اللہ ان پر اور تمام مسلمان شہداء پر رحم فرمائے۔

آج میں ان یادوں کا سلسلہ کچھ مزید آگے بڑھانا چاہتا ہوں۔ دوستوں کا ذکر کرنے کے بعد اب میں ان دشمنوں کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جن سے تورا بورا میں ہمارا سامنا ہوا تھا، اور ان میں سے چند کا بطورِ مثال تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔ ان دشمنوں میں ایک شخص، جو بڑے غداروں میں شمار ہوتا تھا اور تورا بورا میں ہمارا محاصرہ کیے ہوئے تھا، حضرت علی نامی شخص تھا۔

یہ حضرت علی، شیخ محمد یونس خالص ﷫ کی تنظیم حزبِ اسلامی میں شامل تھا، لیکن مجاہدین کی باہمی لڑائیوں سے افغانستان میں پیدا ہونے والے فتنے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والی مبارک تحریکِ طالبان کے ظہور کے بعد وہ طالبان کے مخالف شمالی اتحاد میں شامل ہو گیا۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، اس کے امریکہ سے روابط تھے۔ شمالی اتحاد کے سربراہ احمد شاہ مسعود کے بھی امریکی انٹیلی جنس کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اور ہم نے السحاب کی مطبوعات میں، گیارہ ستمبر کے واقعات سے متعلق امریکی کانگریس کی سرکاری رپورٹ کی روشنی میں اس کی وضاحت کی ہے۔ ہم یہ بھی جانتے تھے کہ شیخ اسامہ بن لادن اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے کی کوششوں میں وہ امریکیوں کے ساتھ ساز باز کر رہا تھا۔

غرض، جب افغانستان میں امارتِ اسلامیہ کے خلاف یہ جنگ شروع ہوئی تو حضرت علی بھی اسی خائن گروہ میں شامل ہو گیا۔ اس جنگ سے کچھ عرصہ پہلے احمد شاہ مسعود کو قتل کیا جا چکا تھا۔ وہ یورپی پارلیمان گیا تھا اور اس نے افغانستان میں اسلامی بنیاد پرستی، القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے کے خلاف جنگ میں یورپیوں سے تعاون کا وعدہ کیا تھا، کیونکہ اس کے بقول، وہ امریکہ کے مفادات کا محافظ تھا۔

ہم نے یہ باتیں دو ویڈیو ریکارڈنگز، ’’قراءة للأحداث‘‘ اور ’’حقائق الجهاد وأباطيل النفاق‘‘ میں واضح کی تھیں، جنہیں ادارہ السحاب نے جاری کیا تھا۔

جب امریکی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا، تو حضرت علی ان کے ساتھ جلال آباد میں داخل ہوا اور وہاں کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی۔ وہ جلال آباد میں امریکی قیادت کے سامنے جواب دہ تھا۔ جب تورا بورا میں مجاہدین کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو اسے مجاہدین کا محاصرہ کرنے والے دستوں کے ایک حصے کی کمان سونپی گئی۔

وہ محاصرہ کرنے والے دستوں کے کمانڈروں کو اس بات پر اُکساتا تھا کہ وہ مجاہدین کے ساتھ تعاون نہ کریں۔ ایک مرتبہ بھائیوں نے اسے اپنے ایک کمانڈر سے بات کرتے سنا، وہ اسے خبردار کر رہا تھا اور خود بھی خوف زدہ تھا، میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ ہمارا محاصرہ کرنے والوں کا ہمارے بارے میں رویہ کس قدر متزلزل تھا، اور ان میں بہت سے لوگ کس قدر تذبذب کا شکار تھے۔ چنانچہ عرب بھائیوں نے اسے اپنے ایک کمانڈر سے یہ کہتے سنا: ’’اگر عرب تمہارے علاقے سے گزر گئے تو میں تمہیں قتل کر دوں گا۔‘‘ اس کے ساتھی نے جواب دیا: ’’عرب میرے علاقے سے نہیں گزرتے، دیکھو تو سہی، وہ کہاں سے گزر رہے ہیں!‘‘

ان کے باہمی تعلقات کی نوعیت یہی تھی۔ یہ تعلقات مفاد پرستی اور منافقت پر قائم تھے۔ ان میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی کا احترام نہیں کرتا تھا، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فضل سے ان کے درمیان شک و شبہ اور بداعتمادی بہت شدید تھی۔

دوسرا غدار شخص، جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں، محمد زمان تھا۔ شیخ ﷫ نے ہمیں بتایا تھا کہ جلال آباد میں ان کے قیام کے دوران محمد زمان نے شیخ اور ان کے ساتھیوں کو قتل کرنے کے لیے سازباز کی کوشش کی تھی۔

اس کے بعد جب افغانستان پر صلیبی حملہ آور ہوئے تو محمد زمان تورا بورا میں مجاہدین کا محاصرہ کرنے والے دستوں کے ایک حصے کا ذمہ دار تھا۔ امریکیوں کی خدمت کرنے میں اس کے اور حضرت علی کے درمیان سخت مقابلہ تھا۔

بہرحال محمد زمان نے شیخ اسامہ بن لادن کو دھوکا دینے کی کوشش کی اور ان کے نام ایک خط دے کر اپنا قاصد بھیجا۔ میں نے خود وہ خط پڑھا تھا۔ پہاڑ کے کنارے پر موجود بھائیوں نے اس قاصد کو روک کر پوچھا: ’’تم کس لیے آئے ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’یہ محمد زمان کی طرف سے شیخ اسامہ بن لادن کے نام خط ہے‘‘۔ انہوں نے کہا: ’’ہم اسامہ بن لادن کو نہیں جانتے کہ وہ یہاں ہیں بھی یا نہیں، البتہ خط ہمیں دے دو‘‘۔

بہرحال، وہ خط شیخ تک پہنچ گیا۔ تقریباً دو صفحات پر مشتمل اس خط کا خلاصہ یہ تھا: ’’اے شیخ اسامہ! آپ اسلام کی امانت ہیں اور اسلام کا فخر ہیں‘‘ ۔اس طرح اس نے خوب تعریف و توصیف کی، پھر لکھا: ’’آپ کی حفاظت میں امتِ مسلمہ کا بہت بڑا مفاد ہے‘‘۔ اس نے بڑی بڑی قسمیں کھا کر یقین دلایا: ’’اپنی حفاظت کیجیے۔ میں آپ کی خدمت کے لیے حاضر ہوں۔ میرے ساتھ چلیے، میں آپ کو اپنی گاڑی میں لے جاؤں گا اور اپنے گھر میں، اپنے اہل و عیال کے درمیان ٹھہراؤں گا۔ جس طرح اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتا ہوں، اسی طرح آپ کی بھی حفاظت کروں گا۔ اپنی جان خطرے میں نہ ڈالیے، مجھے اندیشہ ہے کہ امریکی آپ کو قتل کر دیں گے‘‘ ۔اس کے علاوہ بھی اس نے اسی مفہوم کی بہت سی باتیں لکھی تھیں۔

شیخ اسامہ کو جنگوں اور تجربات نے صیقل کر کے معاملہ فہم بنا دیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے ہمارے اور اس قاصد کے درمیان واسطہ بننے والے بھائی سے کہا: ’’اس سے کہہ دو کہ اسامہ بن لادن یہاں موجود نہیں ہیں اور ہمیں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں!‘‘

آخر کار قاصد محمد زمان کے پاس واپس چلا گیا۔ محمد زمان نے اسی قاصد کو قید کر دیا، کیونکہ اسے شک ہوا کہ وہ اس سے جھوٹ بول رہا ہے۔ ان کے باہمی تعلقات کی نوعیت ایسی ہی تھی۔

بعد میں یہی محمد زمان پشاور میں قتل کر دیا گیا۔ امریکیوں کو اس پر شک ہو گیا تھا، ممکن ہے حضرت علی نے اس کے خلاف چغلی کھائی ہو۔ امریکیوں کو اس کے خلاف کوئی ثبوت تو نہیں ملا، لیکن انہیں اس پر بھروسہ نہ رہا، چنانچہ انہوں نے اسے نکال کر پشاور بھیج دیا۔ وہیں سے اس کے قتل کی خبر ہمیں ملی۔ واللہ اعلم

ان غداروں میں تیسرا شخص، جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں، حاجی دین محمد تھا، جو جلال آباد میں مشہور تھا۔ یہ شخص شیخ یونس خالص﷫کی تنظیم میں ان کا معاون تھا۔ جب شیخ اسامہ جلال آباد آئے اور شیخ یونس خالص کے مہمان بن کر ٹھہرے تو وہ خود کو شیخ کا خیرخواہ، معاون اور مدد گار ظاہر کرتا تھا۔ بہرحال، جب افغانستان پر صلیبی جنگ مسلط ہوئی تو یہی دین محمد ان انصار پر دباؤ ڈالنے لگا جو ہماری مدد کرتے تھے کہ وہ ہمیں چھوڑ دیں اور ہماری مدد نہ کریں۔ وہ ان سے کہتا تھا: ’’تورا بورا میں موجود ان لوگوں کو چاہیے کہ خود کو اقوامِ متحدہ کے حوالے کر دیں، پھر وہ انہیں ان کے ملکوں میں بھیج دے گی‘‘۔الحمدللہ، ہم نے اللہ سبحانہ  و تعالیٰ کے فضل سے خود کو کسی کے حوالے نہیں کیا۔

بہرحال، شیخ اسامہ ﷫ کی اس سے پہلے سے جان پہچان تھی، مگر کوئی گہرا تعلق نہیں تھا، بس عام سی واقفیت تھی۔ اسی واقفیت کی بنا پر شیخ نے اسے ایک خط بھیجا، جس میں اسے نصیحت کی اور سمجھایا بجھایا، کیونکہ وہ جلال آباد میں گویا دوسرے درجے کی بااثر شخصیت سمجھا جاتا تھا۔ آگے میں اس کا اور اس کے بھائی کا ذکر کروں گا، جو طالبان کے جلال آباد سے نکلنے کے بعد وہاں کا گورنر بنا تھا۔

شیخ نے اسے خط میں لکھا:

’’حاجی دین محمد! ہم دونوں عمر رسیدہ ہو چکے ہیں اور ہمارے بال سفید ہو گئے ہیں۔ نہ جانے اللہ سے ہماری ملاقات کب ہو جائے؛ ممکن ہے ہم میں سے کسی کو کل ہی اللہ کے حضور پیش ہونا پڑ جائے۔ تم ہمارے خلاف امریکیوں کی مدد کر رہے ہو، کیا تم یہ گناہ لے کر اللہ کے حضور جاؤ گے؟ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ ہم کسی صدارت، وزارت، گورنری، امارت یا کسی بھی منصب کے لیے تمہارے حریف نہیں ہیں۔ ہم گزشتہ جہاد کے تمہارے بھائی ہیں۔ ہم مسلمان ہیں، مہاجر ہیں، مسافر ہیں اور روزے کی حالت میں ہیں۔ ہماری تم سے نہ کوئی جنگ ہے، نہ کوئی جھگڑا۔ تنازع ہمارے اور امریکیوں کے درمیان ہے، اس لیے ہمیں اور امریکیوں کو آپس میں معاملہ طے کرنے دو، ہمارے خلاف ان کی مدد نہ کرو۔‘‘

جواب میں حاجی دین محمد نے اس خط کو حقارت سے لیا۔ یہاں تک کہ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ اس نے کہا: ’’اسامہ بن لادن نے مجھے پیغام بھیجا ہے کہ ہم دونوں بوڑھے ہو گئے ہیں اور آپس میں بھائی ہیں۔ آخر اسامہ بن لادن مجھ سے چاہتے کیا ہیں؟ طالبان جا چکے ہیں اور امریکیوں نے حکومت اور صوبے کا انتظام میرے سپرد کر دیا ہے، تو کیا میں حکومت اور گورنری چھوڑ دوں؟‘‘ یوں اس نے اپنے سابقہ جہادی کردار کو داغ دار کر دیا۔

حاجی دین محمد کے دو بھائی تھے، ایک کا نام عبدالحق اور دوسرے کا عبدالقدیر تھا۔ عبدالحق امریکیوں کے بڑے کارندوں میں سے تھا، اور امریکی کرزئی سے بھی زیادہ اس پر بھروسہ کرتے تھے۔ اس صلیبی جنگ کے آغاز میں وہ افغانستان میں داخل ہوا تو اس کے پاس بہت زیادہ رقم اور مواصلاتی آلات تھے۔ حتیٰ کہ کولن پاول نے بھی اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا: ’’افغانستان میں ہمارا آدمی فلاں شخص ہے اور ہمیں اس سے اچھے نتائج کی امید ہے‘‘۔

اللہ سبحانہ  و تعالیٰ کے فضل سے طالبان نے اسے ان تمام چیزوں سمیت گرفتار کر لیا اور اسی جنگ کے آغاز میں ہی اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

دوسرے بھائی کا نام عبدالقدیر تھا۔ طالبان تحریک کے ابتدائی دور میں، جلال آباد میں ان کے داخل ہونے سے پہلے، وہ وہاں کا گورنر تھا۔ پھر جب طالبان جلال آباد سے نکل گئے اور پسپا ہو گئے تو وہ دوبارہ وہاں کا گورنر بن گیا۔

اس کے بعد وہ کابل میں کرزئی کی حکومت کا وزیر بنا۔ وہ احمد شاہ مسعود کی قیادت میں قائم شمالی اتحاد میں شامل رہا تھا، لیکن اس کے اور اتحاد کے لوگوں کے درمیان سخت دشمنیاں تھیں۔ ظاہر ہے، یہ دنیا کے طلب گار لوگ تھے اور ان کی باہمی عداوتیں شدید تھیں۔ چنانچہ کابل میں اسے گھات لگا کر قتل کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ شمالی اتحاد ہی نے اسے قتل کیا تھا، اصل حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔

یہ تھا اس خاندان کا انجام، جو امریکیوں کے ساتھ تعاون کرتا رہا تھا۔ الحمدللہ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان فتنوں اور ایسے انجام سے محفوظ رکھا، ہم برے خاتمے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں، ہمارا محاصرہ کرنے والوں میں سے بہت سے لوگ ہمارے معاملے میں تذبذب کا شکار تھے۔ میں اس شخص کا قصہ بھی پہلے بیان کر چکا ہوں جو ہمارا محاصرہ کیے ہوئے تھا۔ وہ طالبان کے دور میں ایک انتظامی عہدے پر فائز تھا اور بعد میں طالبان کے بعد قائم ہونے والی حکومت میں بھی عہدے دار بن گیا۔ اس نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ میری طرف سے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

عجیب اور مضحکہ خیز معاملات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہمارے ساتھ موجود ایک انصاری کے کچھ دوست اس فوج میں شامل تھے جس نے ہمارا محاصرہ کر رکھا تھا۔ وہ بکتر بند دستے میں تھے۔ ہمارا ساتھی ان سے وائرلیس پر رابطہ کرتا اور ان سے کہتا: ’’فلاں! کیسے ہو؟ اور فلاں! تم خبردار رہنا، ورنہ ہم ٹینک شکن میزائلوں سے حملہ کر کے تمہیں مار ڈالیں گے‘‘۔ پھر وہ آپس میں ہنسنے لگتے۔ یوں معاملات عجیب طرح سے گڈمڈ تھے۔

حاجی دین محمد سے متعلق ایک اور اہم واقعہ بیان کرنا بھول گیا۔ وہ ہماری مدد کرنے والے انصار پر دباؤ ڈالتا تھا۔ ان میں سے ایک انصاری ہماری بہت مدد کرتا تھا، اللہ اسے جزائے خیر دے۔ وہ حاجی دین محمد کو جانتا تھا۔ حاجی دین محمد نے اس سے کہا: ’’ان عربوں کو چھوڑ دو، ورنہ امریکی تمہارے گاؤں پر پچاس طیارے بھیج کر اسے بالکل تباہ کر دیں گے‘‘۔ اس نے جواب دیا: ’’میں عربوں کو کیسے چھوڑ دوں؟ وہ میرے جہادی بھائی ہیں، مسافر اور پردیسی ہیں، مہاجر اور روزے سے ہیں۔ میں انہیں کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟‘‘ بہرحال، امریکیوں نے واقعی اس کے گاؤں پر فضائی حملے کیے، جن میں پچاس افراد شہید ہو گئے۔ خود اس کے گھر کے اٹھارہ افراد شہید ہوئے۔ شاید میں یہ واقعہ پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔

ہمارا محاصرہ کرنے والوں کے تذبذب کا ایک اور واقعہ بیک وقت مضحکہ خیز بھی، گریہ انگیز بھی ہے۔ ایک رات ہم نے دیکھا کہ ہمارے سامنے ایک پہاڑی ٹیلے پر ان منافقوں میں سے کچھ لوگ موجود ہیں۔ وہ مغرب سے پہلے اس ٹیلے پر چڑھ آئے تھے، جس پر ایک کمرہ بھی بنا ہوا تھا۔ وہ وہاں بیٹھ گئے اور آگ جلا لی۔ اس پر بھائیوں نے کہا: ’’ہم انہیں کیسے چھوڑ دیں؟ انہیں یہاں سے ہٹانا ضروری ہے۔ اگر ہم نے انہیں چھوڑ دیا اور یہ یہاں جم گئے تو پہلے ہی دن ہم پر حملہ کر دیں گے۔ ہمیں مشین گنوں سے ان کا مقابلہ کرنا ہو گا، تاکہ یہ اس ٹیلے سے اتر جائیں‘‘۔

تب ہمارے ایک افغان انصاری بھائی نے کہا: ’’انہیں قتل نہ کرو، میں ان کے کمانڈر سے رابطہ کرتا ہوں‘‘۔ پھر اس نے ان کے کمانڈر سے رابطہ کیا۔ یہ بھی عجیب تعلقات تھے!

اس نے ان کے کمانڈر سے رابطہ کرکے کہا: ’’یہ کیا معاملہ ہے؟ تمہارے ساتھی ہمارے سامنے والے ٹیلے پر کیوں چڑھ آئے ہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’نہیں، ان شاء اللہ، صبح میں انہیں نیچے اتار دوں گا۔ دراصل چند لوگ جو ہماری قوم کے نہیں ہیں، غیر لوگ ہیں، اور اس علاقے کے باشندے بھی نہیں۔ انہوں نے اس ٹیلے پر چڑھنا چاہا تو یہاں کے لوگوں کی قومی حمیت جاگ اٹھی۔ انہوں نے کہا: یہ ہماری زمین ہے اور یہ لوگ ہماری قوم کے نہیں، اس لیے اس ٹیلے پر ہم قبضہ کریں گے۔ صبح میں انہیں اتار دوں گا۔ گھبراؤ نہیں، گھبراؤ نہیں!‘‘ بھائی یہ سن کر حیران رہ گئے۔

اور واقعی، سبحان اللہ! وہ رات کے وقت ٹیلے کی چوٹی پر آگ جلائے بیٹھے تھے۔ یہ بھی عجیب بات تھی! ہم سوچ رہے تھے کہ شاید یہ ان کے اور امریکیوں کے درمیان کوئی طے شدہ اشارہ ہو یا ایسی ہی کوئی بات ہو۔

بہرحال، رات کو امریکی طیارے آئے اور انہی پر بمباری کر دی۔ وہ خوف زدہ ہو کر ٹیلے سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس پر ہم نے کہا: ’’الحمدللہ! اللہ نے مومنوں کو لڑائی سے بے نیاز کر دیا‘‘۔

اہم بات یہ ہے کہ جب ایک بھائی نے کہا تھا کہ ہمیں ان سے لڑنا اور ان پر حملہ کرنا چاہیے، تو ایک انصاری بھائی نے کہا: ’’انہیں مت مارو، یہ ہمارے ساتھی ہیں!‘‘ بھائیوں کو اس کے منہ سے ’’ہمارے ساتھی‘‘ کی بات سن کر بڑا تعجب ہوا۔ پھر یہ بات ہمارے ہاں مذاق بن گئی: ’’یہ ہمارے ساتھی ہیں!‘‘ یہاں تک کہ میں بھی بھائیوں سے ہنسی مذاق میں کہنے لگا: ’’ان شاء اللہ، جب یہ جنگ ختم ہو گی تو میں عقیدے پر ایک کتاب لکھوں گا اور اس میں ایک باب کا عنوان رکھوں گا: ’یہ ہمارے ساتھی ہیں‘ کہنے والے کی تردید!‘‘

ہمارا محاصرہ کرنے والوں میں سے بعض لوگ لڑائی سے الگ بھی ہو گئے۔ ان میں سے ایک نے کہا: ’’عرب ہمارا بُرا نہیں چاہتے اور ہمیں قتل کرنے کے لیے جان بوجھ کر ہم پر گولہ باری نہیں کرتے‘‘۔ پھر وہ اپنے پورے گروہ سمیت وہاں سے چلا گیا۔

میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ محاصرے کے حالات ایسے تھے، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فضل سے ہمارا محاصرہ کرنے والے لوگ اس قدر تذبذب کا شکار تھے۔

جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں، میں جنگ کی قیادت اور انتظام میں شیخ اسامہ ﷫ کی حکمت و تدبر کو خاص طور پر نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔ شیخ اسامہ بن لادن ﷫کی یہ معاملہ فہمی کئی پہلوؤں سے ظاہر ہوئی۔

شیخ اسامہ بن لادن ﷫ رابطوں کے معاملے کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ اسی اہتمام کے تحت وہ افغانستان میں موجود بھائیوں کے مواصلاتی رابطوں پر نظر رکھتے تھے، یہاں تک کہ افغانستان بھر کے تمام بھائیوں کی خبریں ان تک پہنچتی رہتی تھیں۔

مجھے یاد ہے کہ ہم شاہی کوٹ میں موجود بھائیوں کی خبریں بھی مسلسل معلوم کرتے رہتے تھے، جہاں بعد میں وہ مشہور جنگ ہوئی۔ مزار شریف کے بھائیوں کے حالات سے بھی باخبر رہتے تھے، پھر ان لوگوں کی خبریں لیتے رہے جنہیں قلعہ جنگی کی لڑائی پیش آئی۔ خوست میں موجود بھائیوں کے حالات بھی معلوم کرتے رہتے تھے۔ شیخ ان تمام علاقوں کی خبروں سے باخبر رہتے تھے۔ اگرچہ وہ خود براہِ راست رابطہ نہیں کرتے تھے، لیکن افغانستان میں پیش آنے والے واقعات پر مسلسل نظر رکھتے تھے۔

شیخ دشمن کے مواصلاتی رابطوں کی نگرانی بھی کرتے تھے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فضل سے یہ نگرانی بہت مفید ثابت ہوئی۔ مختلف گروہوں کے کمانڈروں میں سے ایک بھائی نے ہمیں خبردار کیا تھا کہ دشمن ہمارے درمیان گھسنے کی کوشش کر رہا ہے۔

وہاں ربیع الیمنی ﷫ نامی ایک بھائی تھے، جو نہایت عمدہ ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ قحطان نامی ٹیلے پر موجود تھے۔ بھائیوں نے ان سے کہا کہ ابن الشیخ اللیبی ﷫ کے عقب میں واقع علاقے کا جائزہ لیں، کیونکہ یہ ٹیلہ ابن الشیخ اللیبی کے پیچھے تھا۔

ربیع پہاڑ کی چوٹی پر تھے، جبکہ ابن الشیخ پہاڑ کی ڈھلوان پر تھے۔ ربیع نے علاقے کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ منافقین ابن الشیخ اور ان کے ساتھیوں کے عقب سے چپکے چپکے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے چند بھائیوں کو بلایا تاکہ ان پر حملے میں ان کی مدد کریں۔ چنانچہ انہوں نے ان پر دستی بم پھینکے اور پیکا مشین گن سے ان کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ کیا۔

یہیں سے ان مذاکرات کا آغاز ہوا جن کے نتیجے میں محاصرے سے نکلنے کی راہ کھلی۔ یہ بھی شیخ ﷫کی حکمت و تدبر کا ایک اور پہلو تھا۔

امریکی کہتے ہیں کہ عربوں ہی نے مذاکرات کی درخواست کی تھی، نکلنے کا راستہ مانگا تھا اور معافی طلب کی تھی۔ یہ سب جھوٹ اور فریب ہے۔ مذاکرات کی درخواست تو منافقین نے اس وقت کی تھی جب ان کا یہ گروہ مجاہد بھائیوں کی گھات میں پھنس گیا تھا۔

جنگ بندی ۲۷ رمضان ۱۴۲۲ھ، یعنی ۱۲ دسمبر ۲۰۰۱ء کو ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ منافقین اپنی بار بار کی یلغاروں کی ناکامی سے مایوس ہو چکے تھے، پھر امریکیوں کی بزدلی بھی اس کا سبب بنی۔ منافقین کو پہنچنے والے بھاری نقصانات کے بعد وہ تورا بورا کی پہاڑیوں پر چڑھائی کرنے سے خوف زدہ تھے۔ کوئی حملہ ایسا نہ تھا جس سے وہ اپنے مقتولوں اور زخمیوں کو لے کر واپس نہ لوٹتے ہوں۔

فضائی بمباری بھی مجاہدین کو ان کے ٹھکانوں سے ہٹانے میں ناکام رہی۔ اس لیے انہوں نے دھوکے اور فریب کے ذریعے بھائیوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، بالکل اسی طرح جیسے امریکیوں نے قندوز، مزار شریف اور قلعہ جنگی کی لڑائی میں کیا تھا۔

جنگ بندی دوپہر تقریباً ایک بجے شروع ہوئی۔ جیسا کہ میں نے بتایا، اس کی وجہ یہ تھی کہ منافقین نے پہاڑ پر چڑھ کر عقب سے گھیرنے کی ایک ناکام کوشش کی تھی، جس پر مجاہدین نے دستی بموں اور پیکا مشین گنوں سے ان کی خوب خبر لی۔

ایک اور گروہ بھی تھا، جس میں اندازاً سو منافق شامل تھے۔ وہ وادیٔ تورا بورا میں داخل ہو کر مجاہدین کے مقابل آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن مجاہدین کے ٹھکانوں کے درمیان پھنس گئے۔

اس موقع پر منافقین نے ہم سے رابطہ کر کے کہا: ’’ہم تمہارا بُرا نہیں چاہتے، تم ہمارے بھائی ہو‘‘۔ انہوں نے اپنا لہجہ بدل لیا اور کہنے لگے: ’’ہمارے اور تمہارے درمیان لڑائی کیوں ہو؟ ہم اس مصیبت میں کیوں پڑیں؟‘‘ اور اسی طرح کی دوسری باتیں کرنے لگے۔ پھر کہا: ’’ہم تم سے مذاکرات کرنا اور لڑائی بند کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

شیخ نے اصولی طور پر جنگ بندی قبول کر لی۔ اس وقت تقریباً سو منافق، مجاہد بھائیوں کے نشانے پر تھے۔ بھائیوں نے شیخ سے ان کے ساتھ لڑائی جاری رکھنے کی اجازت مانگی، مگر شیخ نے انکار کرتے ہوئے فرمایا: ’’نہیں، ہم لڑائی بند کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں‘‘۔ یہ شیخ کے اعلیٰ اخلاق کی ایک مثال تھی۔

منافقین کا مقصد اپنے لوگوں کو بحفاظت نکالنا، فائرنگ بند کروانا اور ہمارے ساتھ مذاکرات شروع کرنا تھا۔ انہوں نے اپنی نفری واپس نکالنے کے بعد ملاقات کی درخواست کی۔ اس پر شیخ نے، اللہ انہیں جزائے خیر دے، رابطے کے ذمہ دار سے کہا: ’’ان سے کہہ دو کہ عرب بھائی تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور ان کے قائدین بھی کئی ہیں۔ وہ ایک لمحے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے، انہیں جمع ہو کر باہمی مشورہ کرنا ہو گا، اور اس میں وقت لگے گا۔ اس لیے ہم کل صبح سے پہلے مذاکرات کے لیے تمہارے پاس نہیں آ سکتے‘‘۔

انہوں نے کہا: ’’اچھا، کل صبح فلاں گاؤں میں، فلاں جگہ ملتے ہیں اور اپنے درمیان اس فتنے کو ختم کرتے ہیں‘‘۔دراصل وہ بھائیوں کے ساتھ دغا کرنا چاہتے تھے، جیسا کہ آگے بیان کروں گا۔

بہرحال، اسی رات بھائی تورا بورا سے نکل گئے، جس کی تفصیل آگے آئے گی، لیکن سوال یہ ہے کہ مجاہدین نے جنگ بندی کیوں قبول کی؟

مجاہدین نے جنگ بندی اس لیے قبول کی کہ رسد تقریباً بند ہو چکی تھی، سردی بہت شدید تھی اور برف باری ہونے ہی والی تھی، یعنی ایک ہفتے یا اس سے کچھ زیادہ عرصے میں برف پڑنا شروع ہو سکتی تھی۔ چاروں طرف سے محاصرہ سخت ہو چکا تھا اور پانی جم گیا تھا۔ ہم پہاڑی چوٹیوں پر تھے، جبکہ پانی تقریباً پانچ سو میٹر نیچے تھا۔ جس جگہ میں شیخ کے ساتھ موجود تھا، ہمارے قریب پانی کا ایک چشمہ تھا، لیکن اس کی پوری سطح جم چکی تھی۔ اگرچہ اس میں سے پانی نکلتا تھا، مگر اوپر کی سطح پوری طرح برف سے ڈھکی ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ، بھائیوں پر دن رات مسلسل بمباری ہو رہی تھی۔

منافقین جلال آباد اور پورے صوبہ ننگرہار پر بھی قابض ہو چکے تھے۔ چنانچہ شیخ نے تورا بورا خالی کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ ہم گوریلا جنگ کا ایک نیا مرحلہ شروع کریں۔

پس اسی رات، یعنی ستائیس رمضان کی رات، بھائی تورا بورا سے نکل گئے۔ اگلے دن، اٹھائیس رمضان کی صبح، منافقین کو معلوم ہوا کہ یہاں سے مجاہدین نکل چکے ہیں۔ جب انہوں نے بھائیوں کو پکارا تو رابطے کے ایک ذمہ دار نے جواب دیا: ’’کیا چاہتے ہو؟‘‘ انہیں یقین ہو گیا کہ مجاہدین، سب کے سب یا ان کی بڑی تعداد، وہاں سے نکل چکی ہے۔ اس پر انہوں نے اپنا لہجہ بدل لیا۔ پہلے کہتے تھے: ’’ہم یہ معاملہ حل کرنا چاہتے ہیں‘‘، مگر اب کہنے لگے: ’’ہم تمہارا خون بہانا چاہتے ہیں!‘‘ جب انہیں احساس ہوا کہ وہ بھائیوں کو اپنے جال میں پھنسانے میں ناکام رہے ہیں تو ان کا جواب یہ تھا۔

امریکی یہ کہتے ہیں کہ ہم تورا بورا میں موجود تھے، حالانکہ وہ انتہائی بزدلی اور خوف کا شکار تھے اور تورا بورا پر چڑھائی کرنے سے ڈرتے تھے۔ وہ مجاہدین کے ٹھکانوں میں اس وقت تک داخل نہیں ہوئے جب تک وہ وہاں سے نکل نہیں گئے۔ پہلے منافقین اندر گئے، پھر دو دن بعد امریکی داخل ہوئے۔

یہاں تک کہ ایک مرتبہ ہم نے وائرلیس پر ایک منافق کو دوسرے سے بات کرتے سنا۔ وہ اس سے کہہ رہا تھا: ’’خچر بھیجو، مہمان تھک گئے ہیں، انہیں سردی لگ رہی ہے اور ان کے لیے پیدل چلنا بہت دشوار ہے‘‘۔ مہمانوں سے اس کی مراد امریکی تھے!

تو یہ ہے امریکی خصوصی دستوں، بیاسویں فضائی ڈویژن، فضائی اور پہاڑی کارروائیوں کے اس پورے رعب و دبدبے اور ان کھوکھلے قصوں کی حقیقت! اگر مجاہدین ثابت قدم رہیں، اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے مدد مانگیں اور مرتے دم تک لڑنے کا عزم کر لیں، تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ، ان شاء اللہ، اپنے اذن سے انہیں فتح عطا فرمائے گا۔

تورا بورا سے نکلنے کے بعد میں نے محمد زمان کو بی بی سی کے ایک نامہ نگار کے سوالوں کے جواب دیتے سنا۔ نامہ نگار نے اس سے پوچھا: ’’حاجی صاحب! عرب کہاں ہیں؟ آپ کہتے تھے کہ وہاں پانچ سو یا ایک ہزار عرب ہیں، تو وہ کہاں گئے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’عرب سب مر گئے ہیں۔‘‘ نامہ نگار نے پوچھا: ’’کیسے؟‘‘ اس نے کہا: ’’ہاں، تورا بورا میں تقریباً دو سو لاشیں پڑی ہیں‘‘ ۔

میں شیخ سے پہلے وہاں سے نکل آیا تھا، جیسا کہ آگے بیان کروں گا۔ میں نے یہ سنا تو کہا: ’’سبحان اللہ! دو سو لاشیں؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

بعد میں واضح ہو گیا کہ یہ سب سراسر جھوٹ، فریب اور دجل تھا۔ وہ محض اپنے وصول کردہ پیسوں کا جواز پیش کرنا چاہتے تھے، جبکہ امریکی افواج بھی اپنی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اس طرح کے بیانات پر خاموش رہتے تھے۔

یہی جھوٹ انہوں نے شاہی کوٹ میں بھی بولا۔ اگر آپ کو شاہی کوٹ کا واقعہ یاد ہو تو وہ کہتے تھے کہ شاہی کوٹ میں اتنے عرب ہیں، ایک ہزار عرب ہیں، دو ہزار عرب ہیں، ہم ان پر چڑھائی کریں گے، انہیں ختم کر دیں گے اور یہ کریں گے، وہ کریں گے۔ مگر آخر میں کہنے لگے کہ امریکی افواج واپس چلی گئی ہیں اور شاہی کوٹ پر بمباری ترک کر دی ہے۔

پس ان واقعات سے جہادی ذرائع ابلاغ کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

بھائیو! اس جنگ میں جہادی ذرائع ابلاغ نے امریکیوں کا جھوٹ بے نقاب کیا، صلیبی اتحاد، یعنی نیٹو، اور ان کے منافق مدد گاروں کی حقیقت بھی کھول کر رکھ دی۔

ذرا صدام حسین کے خلاف عراق کی پہلی اور دوسری جنگ، اور سی این این کی جانب سے ان کی پیشکش کا موازنہ گیارہ ستمبر سے آج تک جاری صلیبی جنگ سے کیجیے۔ پھر دیکھیے کہ جہادی ذرائع ابلاغ نے اپنی ان محدود کوششوں سے مغربی ذرائع ابلاغ کا پردہ کیسے چاک کیا اور وہ تصویر سامنے لائے جسے مغربی ذرائع ابلاغ کبھی دکھا ہی نہیں سکتے تھے۔

یہاں میں جہادی ذرائع ابلاغ کے بارے میں چند مختصر باتیں کہنا چاہتا ہوں۔

بھائیو! جہادی ذرائع ابلاغ کے شہسوارو! آپ امریکہ پر رعب بٹھاتے تھے، اسے خوف زدہ کرتے تھے اور ابلاغ کے میدان میں اسے شکست دیتے تھے۔ مجاہدین اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فضل سے گیارہ ستمبر کے مبارک حملوں، لندن، میڈرڈ اور بالی کے حملوں کے ذریعے جنگ کو عملی طور پر صلیبی اتحاد کی سرزمین کے اندر لے جانے میں کامیاب ہوئے۔ ہم اپنی مطبوعات، بیانات، فلموں اور ان کی سرزمین پر تیار کردہ مواد کے ذریعے ابلاغ کے میدان میں بھی ان پر غالب آئے۔ لیکن بھائیو! اب، جبکہ ہم امریکی ذرائع ابلاغ اور امریکی دشمن کو خوف زدہ کیا کرتے تھے، امریکی ذرائع ابلاغ نے جواباً جنگ ہمارے اپنے درمیان منتقل کر دی ہے! اب جہادی ذرائع ابلاغ جہادی صفوں کو تباہ کرنے کا ایک ذریعہ بن گئے ہیں!

اب جہادی ذرائع ابلاغ ہر ایک کے خلاف گالم گلوچ، دشنام طرازی اور عیب جوئی سے بھر گئے ہیں، مجاہدین کے قائدین اور مشائخ سے لے کر ان کے سب سے چھوٹے فرد تک، کوئی اس سے محفوظ نہیں! اب یہ ہر ایرے غیرے کی آماج گاہ بن گئے ہیں۔

میں جہادی ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والے اپنے بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے الفاظ کی ذمہ داری کا احساس کریں۔ لفظ امانت ہے اور ابلاغ بھی امانت ہے، لہٰذا:

ہم امیرالمؤمنین ملا محمد عمر کے پرچم تلے ایک صف میں کھڑے تھے، اور اسی پرچم کے تحت شیخ اسامہ بن لادن ﷫کی قیادت بھی تھی۔ ہم متحد ہو کر جنگ لڑتے تھے، اس لیے ہم پر برکتیں نازل ہوتی تھیں۔

اب کسی کی رائے کچھ ہے اور کوئی کسی اور سمت جا رہا ہے، اور ہمارے درمیان لڑائی شروع ہو گئی ہے! اس طرح ہم فتح سے محروم ہو جائیں گے اور ہم سے برکت اٹھ جائے گی۔ لہٰذا میں جہادی ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والے اپنے بھائیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے الفاظ کی ذمہ داری کا احساس کریں اور کسی گروہ کو دوسرے گروہ پر طعن و تشنیع کی اجازت نہ دیں،  یہ کہنے کی اجازت نہ دیں کہ یہ کافر ہیں، وہ غدار ہیں، یہ دشمنوں کے آلہ کار مسلح گروہ ہیں اور وہ سر میں گولی مارے جانے کے مستحق ہیں! یہ ساری باتیں بند ہونی چاہییں۔ جو شخص ان میں حصہ لیتا ہے، وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور جواب دہ ہے۔

میں اور میرے مجاہد بھائی ہر قسم کے ذاتی معاملے میں درگزر کر سکتے ہیں، لیکن ایسی کسی بات کو معاف نہیں کر سکتے جو مجاہدین کی صفوں میں انتشار پیدا کرے۔

امید ہے کہ یہ پیغام پہنچ گیا ہو گا۔

اب ہم جنگ کی قیادت میں شیخ کی حکمت و تدبر کے تذکرے کی طرف لوٹتے ہیں۔ اسی رات، یعنی ستائیس رمضان کی رات، شیخ نے بھائیوں کو تورا بورا سے نکالا۔ شیخ اسامہ بن لادن نے ان کے نکلنے کا انتظام کیا تھا۔ جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں، خود شیخ کو تورا بورا سے نکالنے والے کمانڈر مولوی نور محمد ﷫ اور ان کے ساتھی تھے۔ اللہ انہیں بہترین جزا عطا فرمائے۔

شیخ اسامہ بن لادن، کمانڈر ابن الشیخ اللیبی کے ٹھکانے پر گئے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر بھائیوں کے انخلا کے مالی اور زمینی انتظامات طے کرتے رہے۔ مولوی نور محمد انہیں جلدی کرنے کو کہتے ہوئے بار بار کہہ رہے تھے: ’’ہمارے سامنے ایک طویل سفر ہے، ہمیں اب نکلنا چاہیے‘‘۔ مگر شیخ رات گیارہ بجے ہی تورا بورا سے نکلے۔ یہ تاخیر ان کے لیے بہت خطرناک تھی، لیکن انہوں نے بھائیوں کی سلامتی کی فکر میں ایسا کیا۔

فی الحال اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔ ان شاء اللہ، اگلی قسط میں یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔

وصلی اللہ علی سیدنا محمد وآلہ وصحبہ وسلم

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

٭٭٭٭٭

Exit mobile version