نہایت رنج و افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کچھ عرصے سے ہندوستان میں بستے کچھ حضرات، زبانِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی گئی ’آخر الزمان میں غزوۂ ہند کی مبارک الہامی پیشین گوئی‘ کو مشکوک و مجہول قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانِ برحق اور مسلمانانِ برِّ صغیر خاص کر ہندوتوا مشرک سرکار کے ظلم میں پستے مظلوم مسلمان اہالیانِ ہندوستان کے دفاع میں، مولانا ابو ہُما مسعود قاسمی نے ایک مولانا محترم کے کالم ’غزوۃ الہند پیشن گوئی اور اس کا مصداق‘ کا علمی رد تالیف کیا ہے۔ چونکہ مذکورہ مولانا محترم نے ’غزوۂ ہند‘ کے متعلق گفتگو کی بنیاد فنِ حدیث کے علم پر رکھی ہے، لہٰذا زیرِ نظر ’رد‘ کو بھی فنِ حدیث کے اعتبار سے مولانا ابو ہُما مسعود قاسمی نےمرتب کیا ہے۔ (ادارہ)
جمعہ ۷؍اگست ۲۰۲۰ء کو ’ مینارۂ نور‘ میں ہندوستان کے ایک معروف عالمِ دین کا ایک مضمون ’’غزوۃ الہندپیشن گوئی اور اس کا مصداق‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ۔ اس مضمون کے پیشِ نظر جو بات تھی اس کی وضاحت مولانا محترم نے تمہید میں پیش کی کہ یہ مسلمانوں کے خلاف سنگھ پریوار کے پراپیگنڈوں میں سے ایک پراپیگنڈا ہے اور اس پراپیگنڈا کو مسلمانوں اور غیر مسلم بھائیوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے لیے بہت ہی شدت کے ساتھ پھیلایا جارہا ہے، لہٰذا اس کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایک نبوی پیشن گوئی کو موصوف نے بڑی جرأت کے ساتھ سنگھ پریوار کا پراپیگنڈا بتایا ہے یہ جرأت من حیث المجموع ذہنی، فکری اور نظریاتی غلامی کی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ غلامی کا طوق نہ صرف ہم نے اپنی گردنوں میں ڈالا ہوا ہے بلکہ برضا ور غبت اور دل و جان سے اسے قبول بھی کرلیا ہے اور اب کسی ایسی بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں (اگرچہ کہ وہ نبوی پیشن گوئی ہی کیوں نہ ہو) جس سے حکمران طبقے کے ماتھوں پر شکن بھی پڑجائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و احادیث کے بے شمار نصوص کی غلط تشریحات و بے جا تاویلات کا رحجان ایسے طبقہ میں عام ہوتا جارہا ہے خصوصاً آیاتِ جہاد و قتال کو غلط معنی و مطلب پہنائے جارہے ہیں اور احادیث جہاد و قتال کو ضعیف قرار دینے کی سعیٔ ناکام کی جارہی ہے، اس طرح صریحاً جہاد کا انکار کیا جارہا ہے ۔اسی سلسلہ کی ایک کڑی غزوات موعودہ کا انکار بھی ہے۔ موصوف نے اس سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے غزوۃ الہند کی نبوی پیشن گوئیوں کو غلط اور نامعتبر ثابت کرنے کی مذمو م کوشش کی ہے۔ انہوں نے پورا زور لگایا ہے کہ احادیث کو ضعیف قرار دے کر نامعتبر کا ٹیگ لگادیا جائے اور جس پر زور نہ چلے اس کے مفہوم کو توڑ مروڑ کر اس طرح بیان کیا جائے کہ ایک طرف تو حکمرانوں کی تسلی کرادی جائے اور دوسری طرف عام مسلمانوں کو تذبذب میں ڈال دیا جائے اور انہیں اپنے دفاع سے غافل کردیا جائے۔
مولانا محترم نے اس پراپیگنڈا کی حقیقت کو سمجھانے کے لیے تین نقاط پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔
’’۱) اس سلسلہ میں جو حدیثیں منقول ہیں وہ فنی اعتبار سے معتبر ہیں یا نہیں ہیں۔ ان کا درجہ کیا ہے؟
۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ’’ہند‘‘ سے کون سا علاقہ مراد تھا؟
۳) یہ واقعہ پیش آچکا ہے یا پیش آنے والا ہے؟
ان تینوں نقاط پر غور کیا جائے تو مسئلہ اچھی طرح واضح ہوجائے گا اور اس اعتراض کی حقیقت معلوم ہوجائے گی۔‘‘
ان تین نقاط میں سے ہم صرف پہلے نقطے کا جائزہ لیں گے تا کہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے نام پر احادیثِ مبارکہ کو ضعیف قرار دے کر انہیں مسترد کردینے کا جو چلن عام ہوگیا ہے، اس کی حقیقت سے عام مسلمانوں کو واقف کرایا جائے۔ دوسرے اور تیسرے نقطے کے متعلق ہم صرف یہ کہیں گے کہ جب غزوۃ الہند کی حیثیت آپ کے نزدیک محض ایک پراپیگنڈا سے زیادہ کچھ نہیں تو یہ نقطہ اٹھانا ہی فضول ہے کہ ’’ہند سے کون سا علاقہ مراد ہے؟‘‘ کوئی بھی علاقہ ہند کہلائے اس سے کسی کو کیا فرق پڑسکتا ہے اور تیسرا نقطہ کہ ’’یہ واقعہ پیش آچکا ہے یا پیش آنے والا ہے؟ ‘‘ یہ بھی بے فائدہ ہے کیونکہ جب آپ کے نزدیک احادیث نا معتبر ہیں تو پھر یہ واقعہ نہ پیش آیا ہوگا اور نہ آئندہ پیش آنے کا امکان ہوسکتا ہے۔ پھر اس بات میں فکر کرنے کا تردد کیوں کیا جائے؟ لہٰذا ہماری بحث صرف پہلے نقطے تک محدود رہے گی۔
أ.
مولانا محترم نے غزوۂ ہند سے متعلق منقول جن چار احادیث کا جائزہ لیا ہے ان میں سے پہلی حدیث کے متعلق موصوف کا کہنا ہے کہ ’’بعض راویوں پر کلام کے باوجود ‘‘جو روایت فی الجملہ معتبر تسلیم کی گئی ہے وہ حضرت ثوبانؓ کی ہے۔ اس روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’حضرت ثوبانؓ سے مروی ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا : میری اُمت کے دو گروہوں کو اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے گا ایک وہ گروہ جو ہندوستان سے غزوے میں شریک رہے گا۔ دوسرے وہ جو (دجال کے مقابلہ میں) حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے ساتھ ہوگا۔(مسند احمد ۵: ۲۷۸، حدیث نمبر:۲۲۴۴۹، نسائی، حدیث نمبر : ۳۱۷۵)‘‘
مولانا محترم نے اس حدیث کے بارے میں ’’بعض روایوں پر کلام کے باوجود‘‘ کے الفاظ کہہ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اسے بغیر کسی قاعدے قانون کے معتبر تسلیم کیا گیا ہے جبکہ اس حدیث کی تحقیق یہ ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ اور صدوق ہیں سوائے ایک راوی ابوبکر الزبیدی کے۔ اس کو امام ابن حجر عسقلانی ؒ نے مجہول کہا ہے۔ لیکن اس کو ایک اور ثقہ راوی عبداللہ بن سالم سے امام احمد نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے لہٰذاعبداللہ بن سالم کی متابعت کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے۔ علامہ البانی ؒ (جن کا حوالہ مولانا محترم نے دوسری روایتوں میں دیا ہے) نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے سلسلۃ الصحیحۃ، حدیث نمبر ۱۹۳، صحیح الجامع حدیث نمبر ۴۰۱۲۔
پھر اس صحیح حدیث کو ذکر کرنے کے بعد مولانا محترم نے کچھ سوالات اٹھائے ہیں جن کے جوابات اس حدیث مبارکہ میں انہیں نہیں مل پائے ہیں۔ گویا کہ حدیث تشفی بخش نہیں ہے۔ پھر ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا ہے کہ ’’اس روایت میں حکم نہیں ہے کہ مسلمانوں کو حملہ کرنا چاہیے بلکہ صرف خبر ہے کہ ایسی صورت پیدا ہوجائے گی کہ مسلمان فوج کشی کریں گے اس وقت اس میں شرکت باعث ثواب ہوگی۔‘‘
جب یہ حدیث معتبر تسلیم کرلی گئی ہے تو کسی کے اعتراضات سے اس حدیث کی صحت پر کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے، بلکہ آپ یہ سوچیں کہ اب سنگھ پریوار کو کیا جواب دیا جائے گا اور ان کی غلط فہمی کیسے دور کی جائے گی کہ ’’مسلمان آئیں گے، ہندوستان کے ہندوؤں کو قتل کریں گے۔‘‘
میں بڑے ادب و احترام کے ساتھ مولانا محترم سے کہنا چاہوں گا کہ اس حدیث میں اصل درس نبوی بشارتوں سے اپنے دلوں کو مسرور کرتے ہوئے اللہ کے دین کی سربلندی اور شرک کے سب سے بڑے گڑھ کے قلع قمع کے لیے حتی الوسع تن من دھن لگا دینے کی ترغیب ہے۔ اس حدیث کے ضمن میں یہ سوال کہ ’’یہ فوج کشی کیوں ہوگی؟ اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے؟؟‘‘اس کے جواب میں یہ کہہ دینا کافی سمجھتا ہوں کہ ’’ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِله (سورۃ الانفال:۳۹)، لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (سورۃ التوبۃ : ۳۳، سورۃ الصف : ۹) اور لتکون کلمۃ اللہ ھی العلیا، اس کے علاوہ بھی اسلامی فوج کشی (جس کی نبوی پیشن گوئی بھی موجو د ہے) کا کوئی اور مقصد ہوسکتا ہے؟!! اس غزوۂ موعودہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بے شمار اکابر محدثین و علمائے اسلام اور مورخین نے اس حدیث کو تواتر کے ساتھ بیان کرکے اس امانت و بشارت کو ہر دورمیں آئندہ آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ امام بخاریؒ نے التاریخ الکبیر : (۱۷۴۳) میں، امام طبرانیؒ نے المعجم الاوسط (۶۹۳۰) میں امام ہیشمیؒ نے مجمع الزوائد باب غزوۃ الہند میں، امام نسائیؒ نے السنن المجتبیٰ اور السنن الکبری (۳۱۷۵) میں، امام بیہقیؒ نے السنن الکبری (۱۸۳۸) میں، امام جلال الدین سیوطیؒ نے جمع الجوامع (۱۱۵) میں، امام مناویؒ نے الجامع الکبیر کی شرح فیض القدیر (۵۴۳۶)میں، امام ابن عدیؒ نے الکامل (ج:۲؍ص ۱۶۱) میں، امام دیلمیؒ نے مسند الفردوس میں، امام مزیؒ نے تہذیب الکمال میں اور ابن عساکرؒ نے تاریخ دمشق میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔
ب.
دوسری حدیث جو بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے:
’’حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ فرمایا، تو اگر میں اس میں شہید ہوگیا تو بہترین شہدا میں ہوں گا اور اگر لوٹ آیا تو ابوہریرہ دوزخ سے آزاد ہوگا۔ (مسند احمد : ۲؍۲۲۹، نسائی ۳۱۷۳، ۳۱۷۴باب غزوۃ الہند)‘‘
مولانا محترم اس حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی یہ روایت سند کے اعتبار سے ضعیف ہے کیونکہ ایک راوی جبر بن عبیدہ آئے ہیں اور ان کے بارے میں اہل فن جیسے علامہ مزیؒ کا خیال ہے کہ وہ معتبر نہیں ہیں، علم رجال کے بڑے ماہر حافظ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں بھی ان کی حدیث کو منکر یعنی ناقابل قبول قرار دیا ہے اسی کے ساتھ مولانا محترم نے موجودہ دور کے دو بڑے محدثین شیخ البانی ؒ اور ارنا دؤطؒ کے حوالے بھی دیے ہیں جنہوں نے اس حدیث کو سند کے اعتبار سے ضعیف قرار دیا ہے۔
لیکن مولانا محترم نے قاضی احمد شاکر ؒ کے قول کو بیان نہیں کیا جنہوں نے مسند احمد کی شرح و تحقیق میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (۱۲؍۹۷حدیث نمبر ۷۱۲۸) اور نہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ کے قول کو بیان کیا ہے جنہوں نے اپنی کتاب التقریب میں اس حدیث کو مقبول تسلیم کیا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی درجے کے لحاظ سے اس حدیث کو مقبول یعنی صحیح یا حسن قرار دیا ہے۔
ج.
حضرت ابو ہریرہؓ کی ایک اور حدیث مسند احمد کے حوالے سے مولانا محترم نے ذکر کی ہے:
’’حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ مجھ سے میرے خلیلِ صادق رسولﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس امت میں ایک فوج سندھ اور ہند کی طرف جائے گی۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے کہا تو اگر میں نے اس کو پالیا (اور اس میں شہید ہوگیا) تو یہی مقصود ہے، اور اگر میں واپس آگیا تو میں وہ ابو ہریرہ ہوں گا، جس کو اللہ نے دوزخ سے آزاد کردیا۔ (۲؍۳۶۹) ‘‘
اس روایت میں محترم مولانا نے دو خامیاں بتاتے ہوئے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ’’ایک تو اس میں ایک راوی ہیں براء بن عبداللہ غنوی، ان کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ یحییٰ بن معینؒ نے کہا ہے کہ : لم یکن حدیثہ بذاک، یعنی ان کی حدیث قابل قبول نہیں ہے اور ضعیف کا لفظ بھی ان کے لیے استعمال کیا ہے۔ امام نسائیؒ بڑے پائے کے محدث اور ناقدِ رجال ہیں انہوں نے بھی ان کو ضعیف کہا ہے اور حافظ ابن حجرؒ نے بھی تقریب التہذیب میں ان کا ضعیف ہونا نقل کیا ہے دوسرے اس روایت کو حسن بصری ؒ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے نقل کرتے ہیں لیکن ایک بڑے پائے کے محدث امام ابو حاتمؒ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے حسن بصریؒ کا سماع ثابت نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر ڈاکٹر شعیب ارنا دؤطؒ نے مسند امام احمد کی تعلیق میں کہا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے اور ضعیف کی وہی دو جہتیں بیان کی ہیں جن کا ابھی اوپر ذکر کیا گیا ہے‘‘۔
یہاں پر بھی مولانا محترم نے قاضی احمد شاکرؒ کے اس قول کا ذکر نہیں کیا جنہوں نے مسند احمد کی شرح و تحقیق میں اس حدیث کو صحیح ؍حسن قرار دیا ہے ( حدیث نمبر ۸۸۰۹)۔
اس حدیث کو مسند احمد کے حوالے سے ابن کثیر ؒ نے بھی البدایۃ والنھایۃ میں نقل کیا ہے۔
امام نسائیؒ نے اسی حدیث کو اپنی کتاب السنن المجتبیٰ (۶۲۶) اور السنن الکبری (۲۸۳) دونوں میں مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے کہ ’’نبی ؐ نے ہم سے غزوۂ ہند کا وعدہ فرمایا۔ اگر مجھے اس میں شرکت کا موقع مل گیا تو میں اپنی جان و مال اس میں خرچ کردوں گا اگر قتل ہوگیا تو میں افضل ترین شہدا میں شمار ہوں گا اور اگر واپس لوٹ آیا تو ایک آزاد ابو ہریرہ ہوں گا‘‘۔
امام حاکمؒ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے (المستدرک علی الصحیحین رقم الحدیث : ۶۲۳۴) ۔ اس حدیث کو امام بیہقیؒ نے السنن الکبری ۱۷۶/۹) میں اور دلائل النبوۃ (۳۳۶۶) میں ذکر کیا ہے اور انہیں کے حوالے سے امام سیوطی ؒ نے الخصائص الکبری (۱۹۰۲) میں ذکر کیا ہے۔
ابن کثیر نے النھایۃ فی الفتن والملاحم (ص: ۱۲) میں سعید بن منصور نے اپنی سنن (۱۷۸/۷) میں خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں بایں الفاظ : اتعبت فیھا النفس،میں اپنے آپ کو تھکا دوں گا۔ (۳۷۷/۴)
امام بخاری کے استاذ نعیم بن حمادؒ نے الفتن (۱؍۴۰۹، حدیث نمبر ۱۲۳۷) میں، ابن ابی عاصمؒ نے اپنی کتاب الجھاد میں بایں الفاظ ’’وکنت کافضل الشھداء‘‘ اور اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے (الجھاد، فضل غزوۃ البحر ۲؍۶۶۸، حدیث نمبر : ۲۹۱۰، ابن ابی حاتم نے اپنی کتاب العلل میں بایں الفاظ ’’فان اقتل اکون حیا مرزوقا وان ارجع فانا المحرر‘‘ اگر میں قتل ہوگیا تو رزق پانے والا (شہید کی حیثیت سے) زندہ رہوں گا اور واپس لوٹ آیا تو آزاد(۱؍۳۳۴)۔ ابو نعیم اصفہانیؒ نے حلیۃ الاولیاء میں (۸؍۳۱۶۔ ۳۱۷)، امام حاکم نے المستدرک علی الصحیحین میں (حدیث نمبر : ۶۱۷۷)، امام بخاری ؒ نے التاریخ الکبیر میں (رقم الحدیث : ۲۳۳۳)، امام مزی نے تہذیب الکمال میں (۴؍۴۹۴)، امام ذہبی نے تاریخ الاسلام (ج۱:؍ص۱۱۰) میں، امام ابن حجرعسقلانی نے تہذیب التہذیب میں (۲؍۵۲) اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
اکثر علمائے محدثین کے نزدیک درجے کے لحاظ سے یہ حدیث مقبول یعنی صحیح یا حسن ہے۔
مولانا موصوف نے یہ کہہ کر بات ختم کی کہ ’’اگر حضرت ابو ہریرہؓ کی دونوں روایتوں کو دیکھا جائے تو اس میں ایک اشارہ یہ بھی ملتا ہے کہ یہ واقعہ حضورؐ کے بعد قریبی دور میں پیش آنے والا تھا ……‘‘مزید کہتے ہیں کہ ’’دوسرے اس میں ایک لفظ ہے بعث الی السند والہند ایک فوج سندھ اور ہند بھیجی جائے گی تو اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اس میں ہند سے ہند کا وہ علاقہ مراد ہے جو اس وقت مغربی پاکستان کا حصہ ہے، یعنی دریائے سندھ کے دونوں کنارے ……‘‘
مولانا محترم اپنی اس تشریح سے گویا یہ تسلی کروا رہے ہیں کہ اگر حدیث کو صحیح بھی سمجھا جائے تو یہ غزوہ ہمارے اس زمانے میں پیش آنے والا غزوہ نہیں ہے اور نہ اس سے موجودہ ہندوستان مراد ہے لہٰذا ڈرنے اور گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔
د.
مولانا محترم نے صفوان بن عمرو کی روایت اس طرح نقل کی ہے۔
’’صفوان ایک صاحب سے رو ایت کرتے ہیں جنہوں نے حضور صلی للہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : ’میری اُمت کا ایک گروہ ہند میں جہاد کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو فتح عطا فرمائیں گے۔ یہاں تک کہ وہ ہند کے راجاؤں سے اس حال میں ملیں گے کہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کے گناہوں کو معاف کردیں گے، پھر وہ شام کی طرف لوٹیں گے تو شام میں حضرت عیسیٰ ابن مریم ؑ کو پائیں گے‘۔ (نعیم بن حماد فی الفتن حدیث نمبر ۱۱۸۲)‘‘
اس حدیث کے ضمن میں مولانا محترم کہتے ہیں کہ ’’بعض سندوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت ہے اس کو تین ذریعوں سے نقل کیا گیا ہے۔‘‘
مولانا نے دو ذریعوں میں ضعف کی وجہ تدلیس کو بتایا ہے اور تیسرے ذریعہ کے متعلق کہا کہ ’’سند میں اتصال نہیں ہے‘‘ اور حکم بیان کیا کہ اس لیے یہ تینوں ذریعے اہل فن کے نزدیک غیر معتبر ہیں‘‘ جبکہ اس حدیث کو حکم کے لحاظ سے مرفوع کے درجہ میں رکھا گیا ہے۔ بعض اہل علم نے اس طریق (مسند بن راھویہ : ج۱۰، ص: ۴۹۶)کی روشنی میں کہا ہے کہ ’’ان صح الحدیث بذلک‘‘ کہ اگر یہ حدیث صحیح ہواور پھر یہ کہا کہ یہ پیشن گوئی پوری نہیں ہوئی بلکہ نزول مسیحؑ کے زمانے میں پوری ہوگی۔
ہ.
مولانا محترم ایک اور حدیث ذکر کرتے ہیں :
’’ حکم بن نافع اس شخص سے نقل کرتے ہیں جس نے کعب احبار سے نقل کیا ہے کہ ’بیت المقدس کا ایک حکمران ہندوستان کو فوج بھیجے گا جو اس ملک کو فتح کرے گا وہ ہندوستان کو روند ڈالے گی۔ وہاں کے خزانے لے لے گی وہ بادشاہ بیت المقدس کو اس سے آراستہ کرے گا۔ یہ فوج ہندوستان کے حکمرانوں کو ہتھکڑیوں میں لے کر آئے گی اور مشرق و مغرب کے درمیان کے تمام علاقے اس کے لیے فتح کر لیے جائیں گے اور دجال کے نکلنے تک اس فوج کا ہندوستان میں ہی قیام رہے گا‘۔ (اخرجہ نعیم بن حماد فی الفتن، حدیث نمبر: ۱۲۱۴)‘‘
مولانا محترم نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’یہ بھی غیر معتبر روایت ہے‘‘ نیز یہ بھی کہا ہے کہ ’’صرف اسی ایک روایت میں ہندوستان کے حکمرانوں کو ہتھکڑی پہنا کر لانے کا ذکر ہے‘‘، جبکہ اس سے پہلے مذکور صفوان بن عمرو کی روایت میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے جسے خود مولانا نے بھی ذکر کیا ہے۔
مولانا نے ان احادیث کو ضعیف قرار دے کر نامعتبر ٹھہرانے کی کوشش کی ہے جبکہ علم حدیث اورفن حدیث سے واقف ہونے والے اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ جب ایک مضمون پر مشتمل کئی ضعیف احادیث موجود ہوں تو ان کا حکم حسن لغیرہ کا ہوجاتا ہے اور ان کا ضعف ختم ہوجاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں کہ حدیث ضعیف کے حسن ہونے کی صورت کیا ہے۔
’’ڈاکٹر محمد عجاج الخطیب نے اپنی کتاب ’’اصول الحدیث‘‘ میں لکھا ہے کہ :
’’ہر وہ ضعیف حدیث جس میں مرسل یا مدلس ہونے یا بعض راوی کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعف پیدا ہوا ہے تو اگر یہی حدیث دوسری سند سے آرہی ہے تو یہ ضعیف حدیث حسن ہوجائے گی اور اس کا ضعف ختم ہوجائے گا۔‘‘(اصول الحدیث، محمد عجاج الخطیب ص ۳۵۰ طبع چہارم ۱۹۸۱ء دارالفکر بحوالہ تدریب الراوی ص ۱۰۲تا ۱۰۴، قواعد التحدیث ص ۱۰۹، ۱۱۰)
اس ساری بحث و تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان احادیث کو جرح و تعدیل کے ماہرین نے تسلیم کیا ہے اور یہ احادیث اپنے راویوں کی کثرت کی بنا پر شہرت عام کے درجے پر پہنچی ہوئی ہیں اور اہل علم کے نزدیک ثابت شدہ ہیں اور علمائے امت نے اپنی کتب میں بشارت اور قیامت سے قبل واقع ہونے والی علامت کے طور پر انہیں نقل کیا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ اسلاف امت نے عملی طور پر ان بشارتوں کا مصداق بننے کی خواہش اور کوشش کی ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے کی۔ اور صحابۂ کرامؓ کے دور ہی سے یہ کوشش کی جاتی رہی ہے۔ کیونکہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک عہد کے بعد آپ ؐ کی قیادت میں جہاد کی سعادت حاصل کرنے کا موقع باقی نہ رہا تو سلف صالحین ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے تھے کہ کم از کم آپ کی پیشن گوئی والے کسی ایک معرکہ میں شرکت کی سعادت ضرور حاصل کرسکیں، چنانچہ حارث بن مرہ اور مہلب بن صفرہ سے لے کر آج تک اہل اسلام ان بشارتوں اور سعادتوں کے حصول میں لگے ہوئے ہیں اور ان شاء اللہ اس کی تکمیل امام مہدیؓ کے دست مبارک پر ہوگی۔ ان بشارتوں کی اسلاف کے نزدیک کیا اہمیت تھی اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ والی حدیث جو امام بیہقی ؒ نے نقل کی ہے اس میں حضرت امام ابو اسحق فزاری (ابراہیم بن محمد، محدث شام اور مجاہد عالم متوفی۱۷۶ھ )کا قو ل ذکر کیا ہے کہ جب انہوں نے یہ حدیث سنی تو ابن داود سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا ’’وددت انی شہدت باربد بکل غزوۃ غزوتھا فی بلاد الروم‘‘ میری خواہش ہے کہ کاش ہر اس غزوہ کے بدلے میں جو میں نے بلاد روم میں کیا ہے باربد (عرب سے ہندوستان کی سمت مشرق میں کوئی علاقہ) میں ہونے والے غزوات میں شریک ہوتا۔ (السنن الکبری للبیہقی ؒ ۱۷۶۹، کتاب السیر، باب ماجاء فی قتال الہند ۔ ۱۸۵۹۹)
امام ابو اسحق فزاری کی اس تمنا کے پیش نظر ان کی عظمت کا اندازہ ان کے مناقب میں عابد الحرمین حضرت فضیل بن عیاض کے اس خواب سے لگایا جاسکتا ہے جو امام ذہبی نے ’’سیر اعلام النبلاء‘‘۸؍۵۴۲۔۵۴۳) میں نقل کیا ہے انہوں نے خواب میں دیکھا کہ نبی ؐ کی مجلس لگی ہوئی ہے اور آپ کے پہلو میں ایک نشست خالی ہے تو میں نے ایسے موقع کو نادر اور غنیمت سمجھتے ہوئے اس پر بیٹھنے کی کوشش کی تو نبی ؐ نے یہ کہتے ہوئے منع فرمایا کہ یہ نشست خالی نہیں بلکہ ابو اسحق فزاری کے لیے مخصوص ہے۔
آخری بات یہ کہ نبی آخرالزماں (فداہ ابی و امی وصلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم)کی بشارتوں کو رجال کی بحث میں ڈال کر مشکوک بنانے کا عمل بے فائدہ ثابت ہوگا۔ کیونکہ اس سے کفار ومشرکین راضی اور مطمئن ہونے والے نہیں ہیں جب تک کہ وہ آپ کو اپنی ملت میں واپس نہ لے لیں1 اور آ پ کو آپ کے دین سے نہ پھیر دیں۔
حَتَّىَ يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُواْ (سورۃ البقرہ:۲۱۷)
’’ یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو یہ تم کو تمہارا دین چھوڑنے پر آمادہ کردیں۔‘‘
وما علینا الاالبلاغ!
٭٭٭٭٭
1 انہی کی اصطلاح میں آپ کی ’گھر واپسی‘ نہ کروا لیں۔






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



