الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور شاہیں کا جہاں اور
۱۸۴۶ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نےکشمیر پر قبضہ کیا اور اپنے وفادار ڈوگرہ سپاہی ’’ گلاب سنگھ‘‘ کو ۷۵ ہزار نانک شاہی میں بیچ دیا ۔اس طرح کشمیر ڈوگروں کے قبضے میں آگیا، پھر یہ ڈوگرہ حکمران کشمیری مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑتے رہےاور ٹیکسوں کا بھاری بوجھ ڈال کر زندگی کی سہولیات کیا ،دو وقت کی روٹی سے بھی محروم رکھا۔ ڈوگرہ سپاہی بستیوں میں آکر کشمیری مسلمانوں کو لے جاتے اور جبراً مہینوں (بیگاری ) بِلا معاوضہ مشقت کراتے ۔زمینیں کشمیری مسلمان کاشت کرتے اور جب فصل تیار ہوتی تو ڈوگرہ سپاہی آکر پوری فصل کا حاصل ضبط کرلیتے۔اس طرح کشمیریوں کو مہینوں کی محنت کے ثمرات سےمحروم کیا جاتا۔ ڈوگرہ حکومت کے جاسوس بھی کاشت کاروں پر نظر رکھے ہوتےتھے اس لیے کاشت کاروں کے لیے غلہ چھپانا بھی نہایت مشکل تھا۔اگر کوئی کشمیری کاشت کار اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کچھ انا ج رکھ لیتا تو فوراً ڈوگرہ سپاہیوں کے ظلم و تشدد کا نشانہ بن جاتا۔لیکن ڈوگرہ راج کےظلم وستم کے بے شمار ہتھکنڈےمسلمانوں پر روا رکھنے کے باوجودکشمیری مسلمان ظالم و جابر ڈوگرہ راج کے خلاف آواز اٹھاتے رہے۔اس آواز اٹھانے کی پاداش میں کشمیری مسلمانوں کو ظلم و تشدد اور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ۔
۱۹۲۵ء میں جموں و کشمیر کےنوجوانوں نے ڈوگرہ سامراج کے خلاف بغاوت کی تحریک کا آغاز کیا جس سے ڈوگرہ حکمران خوف زدہ ہوگئے اور ۱۹۳۱ء میں ہری سنگھ نے کشمیری نوجوانوں کی تحریک کے وفد کے ساتھ ملنے پر آمادگی ظاہر کردی۔ اس سلسلے میں ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔ جلسے کے آخر میں عبد القدیر نامی ایک نوجوان نے جوشیلی تقریر کی جس میں اس نے کہا کہ کشمیری نوجوان ڈوگرہ حکومت کی طرف اپنے وفود بھیجنے کے بجائے ہاتھوں میں تلوار اٹھا ئیں اور سامنے موجود مہاراجہ ہری سنگھ کے محل کو گرادو۔جلسہ اختتام پزیر ہوا تو عبد القدیر پر بغاوت کا الزام لگاکر گرفتار کر لیا گیا جس کے سبب کشمیری مسلمانوں میں ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ۔۱۳ جولائی ۱۹۳۱ء کو ڈوگرہ انتظامیہ نے حالات کی نزاکت کودیکھتے ہوئے مقدمے کی سماعت کی کارروائی عدالت کے بجائے جیل میں ہی رکھی اور اس روز ہزاروں کشمیری نوجوان سرینگر کے سنٹرل جیل کے احاطے میں جمع ہوئے ۔اس دوران نماز ِظہر کا وقت ہوا تو ایک کشمیری نوجوان اذان دینے کے لیے کھڑا ہوا ،یہاں اذان فضا میں گونجی وہاں پر گائے اور کروڑوں خداؤں کے پجاری ڈوگرہ گورنر ’’تارتلک چند‘‘ پر لرزہ طاری ہوگیا اور اس سفاک نے سپاہیو ں کو مؤذن پر گولی چلانے کا آرڈر دیا ۔ ایک نوجوان اذان دیتے ہوئے شہید ہوا تو دوسرا اذان کی تکمیل کے لیے کھڑاہوا ، اسے بھی گولی مار کر شہید کردیا گیا ۔یہاں تک کہ اذان کی تکمیل تک یکے بعد دیگرے چوبیس (۲۴)نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
دراصل اس اذان کے الفاظ اپنے حقیقی معنی و مفہوم کے ساتھ ادا کیے گئے ۔یہ اذان ظالم بادشاہ کے سامنے کلمۂ حق کہنا تھا۔ سیّدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت نبی کریم ﷺ نے اپنے پاؤں مبارک رکاب میں رکھے ہوئے تھے اور پوچھنے لگا کہ ’کون ساجہاد سب سے افضل ہے ؟‘۔ نبی کریمﷺنے فرمایا ’ظالم بادشاہ کے سامنےکلمہ حق کہنا‘۔(مسند احمد:جلد ہشتم:حدیث نمبر ۶۸۳) ۔
ان شہدا کی ’’اللہُ اَکْبَر، اللہُ اَکْبَر ،اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ‘‘ کی صدا دراصل اُس پاکیزہ کلمے کی پاکیزہ دعوت اور گواہی تھی جس کلمے کی طرف دعوت اور جس کلمے کی گواہی کے لیے انبیا و رسل مبعوث ہوئے۔در اصل ان شہدا نےجابر و ظالم بادشاہ کے سامنے وہی دعوت پیش کی جو دعوت آدم و نوح علیہماالسلام کی تھی، جو دعوت ابراہیم واسماعیل علیہماالسلام کی تھی،جو دعوت موسیٰ و عیسیٰ علیہماالسلام کی تھی،جو نبیٔ آخر الزمانﷺ کی دعوت تھی ۔ ہر دور میں اللہ والوں نے یہی دعوت دی، علمائےکرام نے اسی کی تعلیم دی، داعیانِ دین نے اسی کی طرف بلایا، مجاہدین نے اسی کی خاطر جانیں لٹائیں ۔در اصل یہ اس کلمے کی دعوت وشہادت تھی جس کی شہادت اللہ رب العزت نےدی، فرشتوں اور علمائے راسخین نے دی۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں:
شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَاۗىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ (سورۃ آل عمران: ۱۸)
’’ اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ اور فرشتے اور سب اہل علم بھی راستی کے ساتھ اس پر گواہ ہیں کہ اس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی الٰہ نہیں ہے ۔‘‘
در صل ان شہدا کی گواہی ودعوت ،وہ دعوت تھی جس دعوت کی شہادت حضرت یوسف ؑ نے جیل میں قیدیوں کے سامنےدی تھی اور اس پاکیزہ دعوت کو اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں اس طرح بیان فر مایا :
مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ(سورۃ یوسف: ۴۰)
’’اس(اللہ ) کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آبا و اجداد نے رکھ لیے ہیں ، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرمانروائی کا اقتدار (حکومت)اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو، یہی ٹھیٹھ(درست) سیدھا طریق زندگی ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘
یعنی نہ صرف یہ کہ تمام مخلوقات کا رب صرف اور صرف اللہ رب العزت ہے۔ بلکہ حاکمیت اور قانون سازی کا سزاوار بھی صرف اور صرف اللہ عظیم الشان ہی ہے۔دراصل ان شہدا کا پیغام ’’ اللہُ اَکْبَر ،اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ‘‘کی صدا بلند کرکے تمام طواغیت کی نفی تھی۔
۱۳ جولائی ۱۹۳۱ء کے دن چوبیس کشمیری نوجوانوں نے اذان کی تکمیل پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے اپنے عظیم رب کے عظیم عرش کے نیچے جگہ پائی اور پیچھے آنے والوں کے لیے یہ پیغام چھوڑا کہ ہم نے اذان کی تکمیل پر اپنی جانیں پیش کرنے سے گریز نہیں کیا ،اب اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کا نفاذ تمہارے ذمے ہے۔
۱۹۳۱ءسے کشمیر میں تحریک مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی چلتی رہی اور ۱۹۴۷ء میں ڈوگرہ ہری سنگھ کی سواگت پر ہندوستان کی غاصب فوج کشمیر میں داخل ہوئی اس طرح بربریت اور سفاکیت کا نیا چہرہ سامنے آیا جس نے دس قدم آگے بڑھ کر کشمیری مسلمانوں کو ظلم کی چکی میں پیسنا شروع کیا اور ہنوز کشمیری مسلمان اس ظلم کی چکی میں پسے جارہے ہیں ۔ وہ سرزمینِ کشمیر میں مساجد اور دیگر شعائرِ اسلام کی بے حرمتی ہو۔ وہ مسلمانوں کا قتلِ عام ہویا ہماری عفت مآب بہنوں کی عزتوں کو پامال کرنا ہو،وہ مسلمانوں کی اراضی ،باغات ،اور جنگلات پر قبضہ ہو یا معاشی استحصال کے دیگر حربے ہوں ،وہ نوجوانانِ کشمیر کو لاپتہ کرنا ہویا جوانوں ،بزرگوں اورخواتین کو کالے قوانین کے تحت زندانوں میں ڈالنا ہو۔ غرض کشمیر کا کوئی شہر ،کوئی بستی ، کوئی گھر اور کوئی وادی ، ہندو بنیے کے ظلم اور بربریت سے محفوظ نہیں رہی۔ بہرحال ۱۹۸۹ء میں شہدائے ۱۳ جولائی کے پیغام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نوجوان ِ کشمیر کی تحریک ،اعداد وقتال کے راستے پر چلی لیکن افسوس صد افسوس کہ راستے میں بیٹھے ’محسنوں ‘کے لباس میں لٹیروں نے اس تحریک کو یرغمال بنا لیا اور نہ صرف تحریک کویر غمال بنالیا بلکہ اس تحریک کے نظریےاور فکر کو ہی اغوا کرلیا اوراس تحریک کے نصب العین کو ہی دُھندلا کردیا !
بلا شبہ تحریکوں کے نظریے ،منہج، فکر اور نصب العین کواغوا ہونے سے بچانے کے لیے کڑی پہرے داری کی ضرورت ہوتی ہےاور نفاذ شریعت کی تحریک کے منہج،فکر اور نصب العین کے پہرےدار، علمائے ربانیین ہو اکرتے ہیں اور یہ علم ، فہم اور مؤمنانہ بصیرت سے مسلح ہوتے ہیں۔ یہی و ہ پہرہ داری ہے جس سے ماضی میں جہاد کشمیر کی تحریک محروم رہی۔ بہرحال مخلص شہدا کا خون رایئگان نہیں جاتا۔ بلا شبہ اللہ احکم الحاکمین کی توفیق اورنصرت کے بعد شیخ افضل گورو شہید، برہان وانی ،ذاکر موسیٰ، ریحان خان، ابو دجانہ ،حماس بھائی ، مفتی ہلال ،سبزار بٹ، ہارون عباس اور دیگر شہدا کی کوششوں اور قربانیوں سے ہی جہادِ کشمیر کا آزاد ہونا ممکن ہوا۔ اے ربِ ذوالجلال موجودہ شریعت یا شہادت کی تحریک کو درست منہج ، صحیح فکر اور واضح نصب العین کے محافظ علمائے ربانین عطا فرما اور اس تحریک کو نبوی منہج، صحابہ رضوان اللہ اجمعین کی فکر اور درست نصب العین پر ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑنے کی توفیق سے ہمکنار فرما،آمین!
بات ۱۹۸۹ء میں اٹھنے والی تحریک کی چل رہی تھی جب نام نہاد محسنوں نے اس تحریک کی فکر کو اغوا کیا ،تو مجاہد فی سبیل اللہ ’’فریڈم فائیٹر‘‘ بن گیا اور اعلائے کلِمۃ اللہ کے لیے قتال ’’جنگ آزادی ‘‘بن گئی۔اور جنگ کا مقصد یہ ٹھہرا کہ طاغوت اکبر (امریکہ )کا غلام ادارہ اقوامِ متحدہ کشمیر کی طرف متوجہ ہوجائے۔لیکن ایک لاکھ سے زائد کشمیری مسلمان شہید ہوچکے،ہزاروں مسلمان زندانوں کی نذر ہوچکے ،اور لاتعداد عفت مآب بہنوں کی عصمتیں تار تار ہوچکیں، لیکن اقوامِ متحدہ کشمیر کی طرف متوجہ نہ ہوئی ۔اورہزار سال مزید دوسروں کے تابع یہ جنگ ِآزادی جاری رہے اس نےمتوجہ نہیں ہونا ۔اگر کبھی اپنے شیطانی مقاصد کی تکمیل کے لیے ہو بھی جائے تواس نے کشمیریوں کو کفر کی ظلمتوں میں ہی دھکیلنا ہے۔
چونکہ بات ۱۹۸۹ء میں اٹھنے والی تحریک کی چل رہی ہے اس لیے اعداد و قتال کی غرض سے ہجرت کرنے والے کشمیری بھائیوں کی خدمت میں چند باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات۔وہ ہمارے بھائی جن کو والدین نے اس لیے اعدادِ جہاد کے لیے روانہ کیا تھا کہ ان نوجوانوں کےہاتھوں سایۂ اسلام کی پیاسی سرزمین ِکشمیر کی پیاس بجائی جائے۔اور بہنوں نے اپنے بھائیوں کو اس لیے روانہ کیا تھا کہ ان عفت مآب بہنوں کو نجس ہندو درندوں کے ناپاک اور برے عزائم سے بچایا جاسکے۔لیکن افسوس ہمارے ان بھائیوں کی فکر اس قدر تبدیل کی گئی کہ اب یہ ہمارے بھائی سبزی اور مرغیاں بیچتے ،پلاٹوں کی خرید و فروخت کرتے،اور سڑکوں پر ٹیکسی چلاتے نظر آتے ہیں اورکبھی کبھار اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ہمارے محبوب بھائیو یقین جانیے ہماری نظروں میں آپ ٹیکسی ڈرائیور اور سبزی فروش نہیں بلکہ وہی معسکروں میں تربیت کرنے والے نورانی چہروں کے ساتھ ایک ہاتھ میں کلاشن اور دوسرے ہاتھ میں قرآن اٹھانے والے اقبال کے شاہین ہی ہیں ۔ لیکن دکھ اس بات پر ہے کہ اب آپ نے آشیانے ہی بنالیے ۔حالانکہ شاہین کبھی آشیانہ نہیں بناتا۔اقبال نے کیا خوب کہا تھا ۔
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہین بناتا نہیں آشیانہ
دراصل محسنوں میں رہتے ہوئے شاہین کے ذہن سے ، صفاتِ شاہین ہی محو ہوگئیں! نہیں ہمارے محبوب بھائیوآپ شاہین تھے ، شاہین ہیں اور شاہین ہی رہیں گے صرف ذرا سا غور و فکر اور اللہ رب العزت سے گڑا گڑا کر مانگنے کی اور رب ذوالجلال پر توکل کرنے کی ضرورت ہے۔اور قرآن پاک کی آیات پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔ خصوصاً درج ذیل آیات پر :
﴿يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ اَرْضِيْ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعْبُدُوْنِكُلُّ نَفْسٍ ذَا ىِٕقَةُ الْمَوْتِ ثُمَّ اِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِيْنَ الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ وَكَاَيِّنْ مِّنْ دَابَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا اللّٰهُ يَرْزُقُهَا وَاِيَّاكُمْ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ
’’اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو بیشک میری زمین کشادہ ہے پس میری ہی عباد ت کرو۔ یادرکھو ہر ذی حیات کو موت کا مزہ چکھنا ہے پھر تم سب کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کو یقینًا ہم بہشت کے بالاخانوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (جن کا لطف وہ اپنے بالا خانوں سے اٹھائیں گے اور) وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ (دیکھو) کیا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صبر کیا اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کیا۔(دنیا میں مال و دولت کی فکر میں لگا رہنا مقصد حیات نہیں۔ یہ تو وسیلہ ہے، دیکھو جانوروں کو کون رزق دیتا ہے)۔ اور کتنے جانور ہیں جو اپنی روزی اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ اور وہی (تمہاری دعاؤں کو) سننے والا (تمہاری ضرورتوں کو) جاننے والا ہے۔ ‘‘(سورۃ العنکبوت:۵۶تا ۶۰)
نبی اکرم ﷺ کا فرمان، مبارک ہے:
’’ جعل رزقی تحت ظل رمحی.‘‘
’’ میرا رزق میرے نیزے کے سائے تلے رکھا گیا ہے۔‘‘(بخاری)
ہمارے محبوب بھائیوظلم و ستم کی چکی میں پسنے والی آپ کی او رہماری مائیں ،بہنیں ، بھائی اور بزرگ، شاہینوں کے ہندو درندوں پر جھپٹنے، پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کے لیے منتظرہیں!
[تعارفِ مصنف: برادرِ محترم ’میرمحب اللہ ‘ایک مجاہد فی سبیل اللہ ہیں اور آپ کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام سے ہے۔ آپ نے ۲۰۰۱ء میں جہاد میں شمولیت اور تربیت کی غرض سے ہجرت کی اور ایک کشمیری تنظیم سے وابستہ رہے۔ بعد ازاں جہادی نظم پر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے تسلط کو دیکھتے ہوئے اور ایجنسیوں کی ماتحتی سے آزاد جہاد کی غرض سے آپ جماعت القاعدہ میں شامل ہو گئے۔ (ادارہ)]
٭٭٭٭٭







![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



