نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فتحِ امارتِ اسلامی

صبر و یقین سے حاصل ہوتی ہے دین کی قیادت

بنگلہ دیش، حاجی شریعت اللہ کی سرزمین سے… مولانا احمد نبیل

by مولانا احمد نبیل
in اگست و ستمبر 2021, فتحِ امارتِ اسلامی
0

1430 ہجری كے كسی ایك دن كی بات ہے، افغانستان كے پہاڑوں كے نیچے متوسط عمر كے ایك سیاہ وسفید داڑھی والے بزرگ بیٹھے ہیں، سر پر افغانی انداز میں بندھی ہوئی مشہور کالی پگڑی، جانب ہی میں ایك طرف پتھر پر ٹیك لگائے ہوئے AK-47۔ اس زمانے كے امریکی صدر اوباما كو خطاب كر كے وہ بزرگ كیمرے كے سامنے كچھ باتیں كر رہے تھے۔ بہت ہی پرسکون آواز اور شائستہ زبان میں كچھ سلیس جملے كہہ رہے تھے۔ لیكن آپ كا ہر لفظ دل كوچھو رہا تھا، بے حد اثر ڈال رہا تھا، دل كو تڑپا رہا تھا۔شیخ فرما رہے تھے كہ:

’’اے اوباما! میں افغانستان كو تاریخ كا ایك معجزہ سمجھتا ہوں، یا كہہ سكتے ہو كہ میں اس كو اس زمانے كا ایك خارقِ عادت واقعہ سمجھتا ہوں، عصر حاضر كی دو سپریم پاورز (ذرا دھیان كیجئے) كون سے دو ملك سپریم پاور كے مالك؟ روس اور امریكہ۔ وہ سپریم پاور ہونے كے باوجود افغان مجاہدین كے خلاف كامیاب نہ ہو سكے، سبحان اللہ! كیا عجیب بات ہے! حالانكہ یہ مجاہدین كمزور ہیں، قابلِ ذكر كوئی سامان ان كے پاس نہیں ہے۔ اے اوباما! تم كیا جواب دوگے؟ باقی سب ممالك نے تمہارا ساتھ دیا، تمہارے سامنے سرخم تسلیم كیا، تم كیا كہوگے؟ اگر كوئی تم سے كہے، 500 برس پہلے دنیا كے تمام ممالك مل كر ایك كمزور بے سروسامان ملك كے خلاف اكٹھا ہوئے تھے، جس كمزور ملك كے پاس قابلِ ذكر كوئی اسلحہ نہیں تھا، اس كے باوجود یہ سب ممالك مل كر اس كمزور ملك كے خلاف كامیابی حاصل نہ كر سكے، بلكہ سب سے كمزور اور بے سرو سامان ملك ان سب سپریم پاور ملكوں كے خلاف لڑائی میں جیت گیا تھا۔

اگر كوئی تم كو واقعہ سنائے تو تم اس پر یقین ركھ سكو گے؟ میں تو اس پر یقین نہیں كروں گا! میں صاف كہہ رہا ہوں كہ، میں اس واقعہ كو صحیح نہیں مانوں گا اور نہیں مان سكتا، سارے ممالك مل كر ایك بے سرو سامان كمزور ملك كے خلاف لڑائی كر كے نہیں جیتے، وہ جس كے پاس خاص كوئی اسلحہ نہیں، جو كچھ تھا بالكل ہی معمولی قسم کا تھا، بس، پھر بھی سب ملك مل كر ان كے خلاف كامیابی حاصل نہیں كرسکے، یہ ہو نہیں سكتا۔

جیسا كہ میں نے تم سے كہا كہ افغانستان تاریخ كا ایك خارقِ عادت واقعہ ہے، اس زمانے كا ایك معجزہ ہے“۔

ہم جس شیخ كی بات كر رہے ہیں وہ افغانستان كے رہنے والے نہیں تھے، یہ ایك عرب بزرگ تھے، كویت سے آئے تھے، آپ نے اس مبارك جہاد میں شركت كی، تاریخ كے اس حیرت انگیز واقعہ كے آپ ایك شاہد تھے، ایك براہ راست دیكھنے والوں میں سے تھے۔ آپ اور كوئی نہیں، آپ ہیں ہمارے شیخ ابو زید الكویتی﷫، جن كو دنیا خالد بن عبد الرحمن الحسینان کے نام سے جانتی ہے۔ شیخ ابو یحیى لیبی ﷫كی شہادت كے بعد آپ تنظیم قاعدة الجہاد كی مركزی شرعیۃ بورڈ كے رئیس بنے تھے، جو اسی جہاد میں شہادت کا جام پی كر شہداء كی بابركت جماعت سے ملے۔ اللہ رب العالمین آپ كی شہادت كو شرفِ قبولیت سے نوازے۔

شیخ ﷫جب یہ سب كہہ رہے تھے تب تك پوری فتح اور كامیابی نہیں ہوئی تھی، جہاد جاری تھا، معركہ گرم تھا، لیكن ہماری خوش قسمتی ہے كہ تاریخ كی یہ حیرت انگیز كامیابی ہم دیكھ سكے، ہم اسكے شاہد بنے، جس فتحِ مبین كی خوشی سے ہر مؤمن كا دل سكون اور چین سے بھر گیا۔

لیكن ذرا سوچیے! یہ كامیابی كس طرح كس راستے سے آئی ہے؟ اس فتحِ مبین كے پیچھے كیا راز چھپا ہے؟ دنیا كے چپے چپے میں صدیوں سے ہزاروں كوششیں ہو رہی ہیں، امت ایسی ایك كامیابی كے لئے كتنی جان، مال اور خون قربان كر رہے ہیں! لیكن خواب كی وہ كامیابی صرف افغان اور ان جیسے تھوڑے دو چار قافلوں كے سوا اور كسی كے ہاتھ نہیں آرہی۔ اكثر علاقوں میں یہ كوششیں نتیجہ خیز نہیں ہو رہیں اور فتح وكامیابی نہیں مل رہی۔ كیا وجہ ہے؟ ہم نے كبھی سوچا ہے كہ اس كا كیا سبب ہے؟ كیا وجہ ہے؟!

اصل میں امت كی فتح اور كامیابی كے سلسلہ میں اللہ رب العزت كا ایك ہی طریق ہے اور ایك ہی سنت ہے، اور وہ یہ كہ اللہ اپنے قابل بندوں كو كامیابی عطاء كرتے ہیں۔ یہ كوئی نئی بات نہیں ہے، صدیوں سے یہی ہو رہا ہے، اللہ رب العزت كی اس سنت اور عادت میں آپ كو كوئی تبدیلی نظر نہیں آئے گی۔ دیكھئے، اللہ تعالى كی كتاب قرآن مجید سے كامیابی اور فتح كا ایک قصہ آپ كو سناتا ہوں، ہزارہا سال پہلے كی امت اور ان كے دین كی كامیابی اور فتح كا قصہ سناتا ہوں، ظالم كے خلاف مظلوم كی كامیابی كا قصہ آپ كو سناتا ہوں۔ قرآن مجید كے اس قصہ كو آپ اس زمانہ كے طالبان كے ساتھ اور افغانستان كے ساتھ ذرا ملا كے دیكھئے، ان دونوں میں آپ كو مشابہت نظر آئے گی۔

وہ زمانہ ہے اللہ كے نبی شمویل علیہ السلام کی نبوت کا، اللہ كے حكم سے آپ نے طالوت كو اپنی امت پر امیر مقرر كیا تاكہ ان كی امارت كے تحت ان كی امت جہاد كرے، اس زمانہ میں جالوت نامی اللہ كا دشمن ایك كافر غیر معمولی سپریم پاور كا مالك تھا، جو اس وقت نبی كی امت پر حملہ كرنے كی تیاری كر رہا تھا، پس طالوت اپنے مجاہدین كو ساتھ لے كر جالوت كے خلاف لڑنے كی نیت سے نكلے، جس كا بیان قرآن كریم میں اس طرح آیا:

﴿فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللہَ مُبْتَلِیكُم بِنَہرٍ فَمَن شَرِبَ مِنْہ فَلَیس مِنِّی وَمَن لَّمْ یَطْعَمْہ فَإِنَّہ مِنِّی إِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِیدِہ ۚ فَشَرِبُوا مِنْہ إِلَّا قَلِیلًا مِّنْہمْ ۚ فَلَمَّا جَاوَزَہٗ ہُوَ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہٗ قَالُوا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِہ قَالَ الَّذِینَ یظُنُّونَ أَنَّہُم مُّلَاقُو اللہَ كَم مِّن فِئَةٍ قَلِیلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیرَةً بِإِذْنِ اللہِ وَاللہُ مَعَ الصَّابِرِینَ . وَلَمَّا بَرَزُوا لِجَالُوتَ وَجُنُودِہ قَالُوا رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَینَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِینَ. فَہزَمُوہم بِإِذْن اللہِ وَقَتَلَ دَاوُودُ جَالُوتَ وَآتَاہُ اللہُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَہٗ مِمَّا یَشَاء…..﴾

’’پس جب طالوت اپنا قافلہ لے كر نكلا تو كہا: بے شك اللہ ایك ندی كے ذریعے تمہارا امتحان لیں گے، پس جو اس ندی سے پانے پیئے گا وہ میرے قافلہ میں شامل نہیں، اور جو نہیں پیئے گا وہ ضرور میرے قافلہ میں سے ہے، البتہ اگر كوئی چُلّو بھر پی لے( تو مضائقہ نہیں)، پس تھوڑے آدمیوں كے سوا باقی سب نے پانی پیا، پس جب آپ اور آپ کے ساتھی مؤمنین نے ندی عبور كی تو ساتھیوں نے كہا: آج جالوت كے ساتھ لڑنے كے لئے ہماری طاقت نہیں، اور جو یہ یقین ركھتے تھے كہ ان كو اللہ كا سامنا كرنا پڑے گا انہوں نے كہا، كتنے چھوٹے چھوٹے قافلے اللہ كے حكم سے بڑی بڑی جماعتوں پر فتح مند ہوئے، اور اللہ صبر كرنے والوں كے ساتھ ہیں۔ جب وہ جالوت اور اس كے فوجیوں سے مقابلہ كرنے كے لئے نكلے تو كہا، اے ہمارے رب! ہم كو صبر كی طاقت عطاء فرما، ہم كو ثابت قدم ركھ اور كافر قوم كے خلاف ہماری نصرت فرما، پس اللہ كے حكم سے انھوں نے ان (جالوت والوں) کو ناكام كیا، اور داؤد نے جالوت كو قتل كیا، اور اللہ نے ان كو ملك، حكمت اورجتنا چاہا علم عطاء فرمایا …..” (سورة بقرة 249-251)

قرآن كریم میں بیان كردہ اس واقعہ پر ذرا گہری نظر ڈالیں، اللہ رب العزت نے سب سے پہلے مجاہدین كے صبر كا امتحان لیا، امیر كی اطاعت میں صبر سے استقامت كے ساتھ رہنے كا امتحان لیا۔ لمبے سفر كی تھكاوٹ اور پیاس كے باوجود اللہ رب العالمین كی منع كردہ باتوں سے بچے رہنے كے لئے صبر كا امتحان۔ جو حرام سے بچ كر امیر كی اطاعت میں صبر كے ساتھ رہ سكے وہی اللہ كی طرف سے منتخب ہوئے، دوسرے پھسل گئے، پانی پینے كے باوجود طاقت اور ہمت كھو بیٹھے، كیوں كہ وہ شریعت كے احكام پرمضبوط نہ رہ سكے۔

اس منتخب مجاہدین كی جو دوسری خصوصیت تھی وہ ہے اللہ پر مضبوط یقین۔دشمن كے مقابلہ كے لئے ایك بہت بڑی جمات ایك ساتھ نكلی تھی، جن كی تعداد بعض مفسرین نے اسی ہزار تك بتلائی، ان میں سے اكثر جہاد كے راستے سے ہٹ گئے تھے، تھوڑے سے مجاہدین باقی تھے، جن كی تعداد كسی نے تین سو تیرہ (313) بتلائی اور كسی نے چار ہزار (4000) بتلائی۔ ذرا غور كیجئے كہ اس نازك حالت میں تھوڑے سے مجاہدین كی ایك چھوٹی سی جماعت یہ اعلان كر رہی ہے كہ ’كتنے چھوٹے چھوٹے قافلے اللہ كے حكم سے بڑی بڑی جماعت پر فتح مند ہوئے‘۔ ایمان كتنا مضبوط ہو تو ایسی حالت میں ایسی بات كہی جا سكتی ہے! ان كے اس اعلان سے ایك اور بات واضح ہو جاتی ہے، اور وہ یہ ہے كہ کسی چھوٹی جماعت کے بڑی جماعت كو ناكام كرنے كا واقعہ یہی پہلا واقعہ نہیں تھا، بلكہ اس كا سلسلہ بہت پیچھے سے جاری ہے، شرط یہ ہے كہ مضبوط ایمان كے ساتھ صبر ہو، ان مجاہدین کا ایمان والا ہونے کا بیان اللہ رب العزت خود كررہے ہیں: ﴿قَالَ الَّذِینَ یظُنُّونَ أَنَّہم مُّلَاقُو اللّہَ﴾ یعنی آخرت پر ان كا یقین مضبوط تھا، وہ اس بات سے ڈرتے تھے كہ ایك دن ان كو اللہ كا سامنا كرنا ہی پڑے گا۔

ان كی تیسری خصوصیت تھی، وہ میدانِ جہاد میں اللہ كے ذكر كے ساتھ تھے، وہ اللہ كے حضور دعا كر رہے تھے: ’’اے ہمارے پرور دگار! ہم كو صبر كی طاقت عطاء فرما، ہم كو ثابت قدم ركھ اور كافر قوم كے خلاف ہماری نصرت فرما‘‘۔ وہ اللہ كی طرف متوجہ تھے، اللہ كی یاد سے غافل نہ تھے۔

جس كا نتیجہ یہ نكلا كہ، ان میں سے ایك نو جوان داؤد (جسے ابھی تک نبوت نہیں ملی تھی، علیہ السلام) نے جالوت جیسےطاقتور سپہ سالار كو آمنے سامنے لڑائی میں قابو كر لیا، جس كے ڈر سے سب كانپتے تھے، اور آپ كو معلوم ہونا چاہئے كہ اس نوجوان كا اسلحہ كیا تھا؟ اس كا اسلحہ تھا تین پتھر۔ پتھر كے تین ٹكڑے اس كا اسلحہ تھا۔

فتح و كامیابی كا یہی راستہ ہے، اللہ پر ایمان، یومِ آخرت پر ایمان اور ہر نازك سے نازك تر حال میں بھی شریعت كے اصول پر مضبوط رہنا، ساتھ ساتھ اللہ كی یاد سے غافل نہ ہونا۔ سابق امتوں كے بارے میں اللہ رب العالمین دوسری ایك آیت میں فرماتے ہیں:

﴿وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ أًئِمَّةً یَّہدُونَ بِأمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَكَانُوْا بِآیَاتِنَا یُوقِنُونَ﴾

’’اور ہم نے ان میں سے بہتوں كو امام بنایا جو ہماری ہدایت كے مطابق راستہ دكھلاتے تھے، (یہ اس وقت) جب وہ صبر سے رہے، اور وہ میری آیتوں پر یقین ركھتے تھے‘‘۔

اس آیت میں اللہ رب العالمین زمین پر قیادت عطاء كرنے كے دو سبب بتارہے ہیں، ایك اللہ كی ہدایات پر یقین اور دوسرا ہے دین كے راستے میں صبر سے رہنا۔ اس آیت كی تفسیر میں امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

فبالصبر والیقِین تنال الإمامَة فی الدّین، فَقیل بِالصبرِ عَن الدُّنْیا، وَقیل بِالصبرِ على البلاء، وَقیل بِالصبرِ عَن المناهي والصَّواب أنہ بِالصبرِ عَن ذَلِك كُلہ، بِالصبرِ على أداء فَرائض اللہ والصَّبْر عَن مَحارمہ والصَّبْر على أقدارہ.

’’صبر اور یقین ہی سے دین كی قیادت ہاتھ میں آتی ہے، صبر كی تفسیر میں كسی نے کہا دنیا قبول كرنے سے صبر كرنا، كسی نے کہا امتحان وابتلاءكے وقت صبر كرنا، كسی نے كہا ممنوع باتوں سے بچنے میں صبر كرنا، لیكن صحیح رائے یہ ہے کہ ان تمام باتوں میں صبر كرنا، اللہ كے فرائض كو صبر سے اداء كرنا، حرام سے بچے رہنا اور تقدیر پر صبر سے رہنا‘‘۔

ہم امارتِ اسلامیہ كی كی كامیابی اور فتح سے خوش ہیں، ساتھ ساتھ ہم حیران بھی ہیں كہ ایسی ایك كامیابی كیسے حاصل ہوئی؟ بہت سے ایسے ہیں جو اپنے بارے میں مایوسی میں مبتلاء ہیں، اپنی كتنی محنتیں بیكار ثابت ہو رہی ہیں، كتنے طور طریقے بلا نتیجہ سامنے آرہے ہیں! لیكن ہم نے كبھی تلاش كر كے دیكھا ہے كہ اس كامیابی كے پیچھے كیا راز چھپا ہوا ہے؟ اگر ہم نے اس راز كو پالیا اور اس طور طریقہ پر اپنے كاموں كو چلا سکے تو كامیابی كی یہ خوشی ہمارے لئے بھی مبارك ہوگی اور با معنى ونتیجہ خیز ہوگی۔

یہ فتح و كامیابی اسی راستہ سے آئی ہے جس راستہ سے طالوت اور ان كے مجاہدین نے كامیابی حاصل كی تھی، جس راستے پہ چل كر ہر زمانہ میں اللہ كے بندوں نے قیادت حاصل كی، وہ راستہ ہے ایمان اور یقین كا راستہ، ابتلاء اور صبر كا راستہ، اصحابِ طالوت سے لے كر اصحابِ محمدﷺ تك ہر قافلے نے اس طریقہ پر كامیابی حاصل كی، عمرِ اول سے لے كر عمرِ ثالث تك سب اسی طریقہ پر فتح وكامیابی سے سرفراز ہوئے۔ ہم ان كی كامیابی كے واقعات پڑھ كر، سن كر اور دیكھ كر فخر كرتے ہیں، محظوظ ہوتے ہیں، لیكن ان كے راستے پر چلنے كے لئے اپنے كو تیار نہیں كرتے، ان كے منہج كو قبول كرنا نہیں چاہتے، ہمارے اور ان میں یہی فرق ہے۔

عالمی تاریخ كی سب سے طاقتور فوجی متحدہ قوت كو ناكام كرنے كا واقعہ ہم نے دیكھا، لیكن ہم نے كبھی سوچا بھی ہے كہ اس كے پیچھے كیا تھا؟ زمانہ حاضر كے فرعون ،نمرود اور جالوت كی متحدہ فوجی طاقت كے سامنے پہاڑ جیسا عزم اور خون كے دریا میں تیرتے ہوئے بھی دین پر سخت استقامت۔ 20 برسوں سے زیادہ مدت تك مسلسل آگ اور خون میں كھڑی تھی ایك اسلامی امارت، سارے عالم میں صحیح معنى میں كامل دین وشریعت پر قائم ایك اسلامی خطہ زمین، ہر مؤمن كی امیدوں كا چراغ، ایك بے سرو سامان مسلم قوم۔ اسی میں فرعونِ زمانہ نے اعلان كیا تھا كہ ’ایك مؤمن كو ہمارے ہاتھ میں دے دو، اسامہ كو دے دو، ورنہ ہم آرہے ہیں اور تمہیں جڑ سےاكھاڑ دیں گے‘۔ دوسرے ملكوں كے لیڈروں سے كہہ دیا: ’یاتو تم ہمارے ساتھ ہو یا دہشت گاروں كے ساتھ‘۔ اس اعلان كے بعد سب كے سب فرعون كے سامنے سجدے میں گر پڑے، لبیك یا فرعون كہہ كر سب فرعون كے سامنے ہاتھ جوڑ كر كھڑے ہو گئے، اور كہنے لگے: ’كیا كیا تقاضا ہے؟ فرمائیے‘۔ پاكستان، تركیا، سعودی عرب سب كے سب فرعون كے سامنے سجدے میں گرے ہوئے تھے، كسی طرف سے كوئی امداد كرنے والا نہیں، تھوڑے سے مؤمنوں كی جماعت، سامان كے طور پر كچھ AK-47اور بس۔ علماء كی جماعت حاضر ہوئی: ’اے امیر المؤمنین! صرف ایك ہی دار الاسلام ہے، اس دار الاسلام كی حفاظت كے لئے کیا ایك مؤمن كو دشمن كے حوالہ نہیں كیا جا سكتا؟ ایك مؤمن كی قربانی سے دار الاسلام محفوظ رہے گا اور لاكھو مومنوں كی جان بھی بچے گی‘۔

امیر المؤمنین نے كہا: ’یہ كیسے ہو سكتا ہے كہ میں ایك مہاجر اور ایك مجاہد كو اللہ كے دشمن كفار كے حوالہ كر دوں؟! جو ہمارے دین كی حفاظت كے واسطے جہاد كے لئے عرب سے آئے! یہ كبھی نہیں ہو سكتا!!‘

آپ نے اعلان كردیا، آپ کے اس تاریخی اعلان كو ذرا سن لیجئے:

’لقد توعدنا بوش بالهزیمة ووعدنا اللہ بالنصر وسنرى أي الوعدین أوفى‘َ۔

’’بش نے ہم سےناکامی کا وعدہ كیا (یعنی دھمكی دی)، اور اللہ نے ہم سے وعدہ كیا كامیابی اور فتح كا، ہم دیكھیں گے کہ كس كا وعدہ پورا ہوتا ہے؟‘‘۔

فرعون نے حملہ كر دیا، اسلامی امارت کا سقوط ہوگیا، وہی سخت لڑائی پھر شروع ہوئی اور خون كا دریا بہنے لگا۔ تخمیناّ 2008ء یا 2009ء كا واقعہ ہے، ایك مغربی نامہ نگار طالبان كے عسکری ذمہ دار ’ملا داد اللہ‘ رحمہ اللہ كا انٹرویو لے رہا تھا۔

نامہ نگار: آپ لوگوں نے تو ایك اسامہ كے لئے اپنی امارت كو برباد كردیا، اگر یہ امارت دوبارہ آپ لوگوں كے ہاتھ میں آئے اور دوسرے كسی كے بدلے میں امارت كو ہاتھ سے چھوڑنا پڑے تو آپ لوگ یہی غلطی پھر كریں گے؟

ملا داد اللہ: اگر اس طرح سو بار بھی اسلامی امارت ہمارے ہاتھ میں آئے اور ایك مؤمن كی حفاظت كے لئے سو بار امارت كو چھوڑنا پڑے تو ہم سو بار اس سعادت كو قبول كریں گے۔

سبحان اللہ! آپ سوچ سكتے ہیں كہ یہ كیسا ایمان ہے اور كیسا مضبوط یقین ہے؟

2008ء میں الجزیرة كے مشہور نامہ نگار ’احمد زیدان‘ نے طالبان كی مجلسِ شورى كے ایك ركن اور امیر المؤمنین كے مشیرِ خاص ’ملا حسن رحمانی‘ رحمہ اللہ سے ایك انٹرویو لیا، اس انٹرویو میں انہوں نے سوال كیا كہ ’آپ حضرات نے اسامہ كو امریکیوں كے حوالے نہ كرنے كاجو فیصلہ كیا تھا، اس فیصلہ پر آپ كو افسوس ہے؟ آپ پشیمان ہیں؟‘ ملا حسن رحمانی نے فرمایا: ’آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں كہ طالبان اللہ كے راستہ كے مجاہدین ہیں، جو مضبوط ایمان اور عقیدے كے مالك ہیں، اور اسی وجہ سے وہ جہاد كرتے ہیں۔ پھر یہ كیسے ہو سكتا ہے كہ مجاہدین اسامہ بن لادن كو دشمن كے سپرد نہ كرنے پر افسوس كریں؟! حالانكہ ہمارے ایمان وعقیدہ كا اصول ہے، ہر مسلمان كو كفر اور كفار سے محفوظ ركھنا، لہٰذا یہ سوچا بھی نہیں جا سكتا كہ ان كو دشمن كے سپرد نہ كرنے كی وجہ سے ہمیں افسوس ہو۔ وہ تو ہماری عزت ہے اور ہمارا فخر ہے۔ كفر اور كفار كے خلاف كار روائی كی وجہ سے، دشمنانِ اسلام كے خلاف ان كے رویہ كی وجہ سے ہم ان كی عزت كرتے ہیں، ہم شیخ اسامہ یا اور كسی مسلمان كو دشمن كے كبھی سپرد نہیں كریں گے۔ یہ كبھی نہیں ہوگا اور ہو نہیں سكتا‘۔

یہ ہے ان كا ایمان، دین كے راستہ میں ان كی مضبوطی اور ثابت قدمی اور شریعت كےفیصلہ كے سامنے اپنے آپ كو سپرد كر دینے كا نمونہ۔

ان كو كتنی قربانیاں دینی پڑیں؟ كتنے صبر سے ان كو كام كرنا پڑا؟ اس كا ایك نمونہ دیكھئے۔ 1430 ہجری كی مذكورہ بالا گفتگو میں شیخ خالد الحسینان نےكہا:

أنا ذهبت إلى زابل وتجولت في زابل, فقط في زابل تصور یا أوباما, 40 ألف أرملة!

’’میں زابل گیا تھا، زابل میں گھوما پھرا، اوباما! ذرا سوچو! صرف زابل میں چالیس ہزار (4000) بیوہ عورتیں موجود ہیں!!‘‘

یہ ہے اب سے 12 سال پہلے زابل کی حالت، اُس وقت وہاں چالیس ہزار ایسی بیوہ ماں اور بہنیں تھیں جن كے شوہروں كو مار ڈالا گیا، اور ان كے نكاح كا كوئی انتظام بھی نہیں ہوا تھا۔ ہم ذرا سوچ سكتے ہیں؟!

آج ہم فتح اور كامیابی دیكھ رہے ہیں، اعلىٰ قسم كی ہزارہا گاڑیاں دیكھ رہے ہیں، ہم قسم قسم كے جنگی جہاز اور ہیلی كاپٹر دیكھ رہے ہیں، لیكن یہ سب كچھ حاصل كرنے كے لئے كس راستہ سے آنا پڑا اور كس كس مرحلے سے گزرنا پڑا؟! شیخ خالد الحسینان كہتے ہیں:

أنا عاشرت المجاهدین من حركة طالبان وجلست مع الأمراء والقادة, واللہ ما عندهم شيء, لیس عندهم شيء یا أوباما , واللہ إن بعضهم أحذیتهم واللہ مقطعة مخیطة , الأسلحة قدیمة۔

“میں طالبان مجاہدین كے ساتھ رہا، امراء اور قائدیں كے ساتھ میرا اٹھنا بیٹھنا ہوا، میں نے دیكھا کہ ان كے پاس كچھ نہیں، بالكل كچھ نہیں۔ اے اوباما! اللہ كی قسم! ان میں سے بہتوں كی تو جوتیاں بھی پھٹی ہوئی، پیوند لگی ہوئی تھیں، پرانے قسم كا كچھ اسلحہ تھا…‘‘

ان كے صبر كے بارے میں كہا:

الشعب الأفغاني یضرب فیہ المثل في الصبر۔

’’افغان قوم صبر میں تو ضرب المثل ہیں‘‘۔

فتح و كامیابی اسی طرح آتی ہے، ایمان، ابتلاء اور صبر كےراستے گزار كر ہی قیادت حاصل كی جاتی ہے۔ اللہ رب العالمین ابراہیم علیہ السلام كے بارےمیں فرما رہے ہیں:

﴿وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاہِیْمَ رَبُّہُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّہُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَتِیْ قَالَ لَا یَنَالُ عَہدِی الظَّالِمِیْنَ﴾

’’یاد كرو اس وقت كو جب ابرہیم كا ان كے رب نے كئی امور میں امتحان لیا، اور ابراہیم نے ان سب كو پورا كیا، تو اللہ تعالى نے فرمایا، میں تم كو لوگوں كا امام اور قائد بناؤں گا، ابراہیم نےكہا: اور میری اولاد میں سے؟ اللہ نے فرمایا: میرا عہد ووعدہ ظالموں كے لئے نہیں ہے‘‘۔

دیكھئے، اللہ تعالى نے ابراہیم علیہ السلام كو نوعِ انسان كے امام اور قائد بنانے سے پہلے بہت سارے امتحانوں میں ان كو مبتلى كیا، اور ابراہیم علیہ السلام کو ان امتحانوں میں جیتنے كے بعد ہی نوعِ انسان كا امام بنایا گیا۔ اپنی اولاد اس امامت كی مستحق ہے كہ نہیں، اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: اگر كوئی ظالم اور نافرمان ہو جائے تو وہ اس وعدہ میں شامل نہ ہوگا۔ پچھلے زمانے كے انبیاء اور اللہ والوں كے حالات بیان كرتے ہوئے اللہ تعالى نے فرمایا:

﴿وَكَاَيِّنْ مِّنْ نّبِيٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوْنَ كَثِيْرٌ ۚ فَمَا وَهَنُوْا لِمَآ اَصَابَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَكَانُوْا ۭ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ ؁ وَمَا كَانَ قَوْلَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ؁﴾

’’اور كتنے نبی تھے جن كا ساتھ دے كر اللہ والوں نے جہاد كیا۔ البتہ اللہ كے راستے میں ان پر جو مصیبتیں آئیں، ان كی وجہ سے وہ پست ہمت نہیں ہوئے، ضعیف نہیں ہوئے اور ہار نہیں مانے، اور اللہ تعالى صبر كرنے والوں كو پسند كرتے ہیں۔ ان كی زبان سے صرف یہی بات نكلی كہ: اے ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں كو معاف فرما دے، ہمارے كاموں میں جو حد سے تجاوز ہوا ہے، اس كو معاف فرما دے، ہم كو ثابت قدم ركھ اور كفار كے خلاف ہماری مدد فرما‘‘۔

پہلے زمانے كے انبیائے كرام اور اللہ والوں نے ہزارہا ركاوٹوں كے باوجود اللہ كے دین كے راستے پر قتال وجہاد كیا، صبركے ذریعہ اللہ كی محبت حاصل كی، دعاء كے ذریعہ اللہ كی رحمت كے آغوش میں رہے، اور اسی طرح انہوں نےفتح وكامیابی حاصل كی۔ اب اگر طالبان كی طرف دیكھیں تو یہی صورتِ حال آپ كو نظر آئے گی، یہی اسلحہ استعمال كركے انھوں نے یہ تاریخی كامیابی حاصل كی، دنیا كے چپے چپے میں اقامتِ دین كے لئے جتنی كوششیں جاری ہیں، ان كے لئے یہی سب سے اعلىٰ نمونہ ہے۔ اگر امت كے كچھ لوگ اب بھی عزم وہمت سے كھڑے ہو جائیں، دین كے بارے میں ذرّہ برابر تساہل نہ كرنے كا مصمم ارادہ كرلیں، صبركے ساتھ اس دریا كو پار كر لیں اور اپنے آپ كو اللہ كے ہاتھ میں سپرد كر دیں، تو ان پر بھی وہ آسمانی نصرت وامداد نازل ہوگی جو ہزارہا سال پہلے طالوت كےكمزور قافلہ پرنازل ہوئی تھی، اور اسی طرح جو نصرت بے سروسامان طالبان مجاہدین پر نازل ہوئی۔ دنیا میں ایسی كوئی ’سپریم پاور‘ نہیں ہے جو ان کا راستہ روك سكتی ہے۔اللہ جن كی مدد كرے، ان كا مقابلہ كرنے كی ہمت كسے ہو سكتی ہے؟!!

٭٭٭٭٭

Previous Post

امارت اسلامیہ کی فتح پاکستانی دانشوروں کی نظر سے

Next Post

فتحِ امارتِ اسلامی فتح مبین اور ہماری ذمہ داری

Related Posts

تزکیہ و احسان

حسد و تکبر اور ان کا علاج

26 ستمبر 2021
حلقۂ مجاہد

امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخوند زادہ نصر اللہ کی ہدایات…… مجاہدین کے نام | اگست و ستمبر ۲۰۲۱

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

قائدینِ اِمارتِ اسلامی کے پیغامات

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

افغانستان میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی فتح پر امت مسلمہ کے نام مبارکباد کا پیغام

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

ارضِ افغانستان پر امارتِ اسلامیہ کی فتح پر مبارکباد کا پیغام

26 ستمبر 2021
فتحِ امارتِ اسلامی

افغانستان میں فتح و تمکین پر مبارکباد کا پیغام | تنظيم قاعدة الجهاد في جزيرة العرب

26 ستمبر 2021
Next Post

فتحِ امارتِ اسلامی فتح مبین اور ہماری ذمہ داری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مارچ 2026ء
مارچ 2026ء

مارچ 2026ء

by ادارہ
8 مارچ 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version