پشتو تحریر: احمد اللہ وثیق 1 – اردو استفادہ: جلال الدین حسن یوسُف زئی
آج کے اس پُر فتن دور میں ملحدین و سیکولر دشمنانِ دین مختلف حربے آزما کر مسلمانوں کو ان کے دین سے ہٹاکرگمراہیوں کی طرف لے جانے کے لیے کوشاں ہیں۔ خصوصاً مسلمان خاتون کو دین سے گمراہی اور انحراف کی طرف دھکیلنے کے لیے مختلف قسم کے ہتھکنڈےاستعمال کیے جارہے ہیں اور بے شمار خوبصورت عنوانات کا لبادہ اوڑھے طرح طرح کے منصوبوں کو بروئے کار لایا جا رہا ہے تاکہ ہماری مسلمان ماؤں اور بہنوں کو فحاشی اور بے پردگی کی طرف مائل کیا جا سکے۔ زیرِ نظر مضمون میں ہم اپنی مسلمان بہن کی توجہ ان چند منکرات اورخرابیوں کی جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں جس میں وہ مبتلا ہو سکتی ہیں۔ ہر مسلمان بہن کو چاہیے کہ دشمنانِ دین کی ان چالوں اور منصوبوں کو سمجھ کر ان سے اپنے آپ کو بچائے اور اپنے مورچے میں تندہی اور ہوشیاری سے پہرا دے!
اے میری مسلمان بہن! اسلام تم سے مخاطب ہے، ذرا سننا اسلام تم سے کیا کہہ رہا ہے؟!
اے میری مسلمان بہن!ہماری امیدیں تم سے جڑی ہیں کہ تم ہماری نسل کی تربیت اور پرورش دینِ اسلام کے سائے میں کروگی، لیکن دن بدن بدلتے حالات ، مغربی تہذیب کی وحشی موجیں کئی بہنوں کےآنچل بہاکر لے گئی ہیں اور اسلامی تمدن کے بلند میناروں کو مسمار کرکےاسلامی حجاب کی ناموس کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے۔
اے میری مسلمان بہن! کیا تمہیں معلوم ہے کہ مغرب تمہاری بدنامی ، تمہیں بازار میں لانے کی خاطر،تمہارے سر سےمبارک حجاب ہٹانے اور تمہیں گمراہی کے گڑھے میں پھینکنے کے لیے ہر سال کتنے حیلے، منصوبے اور پروگرام ترتیب دیتا ہے؟ حقوق نسواں اور ان جیسے کئی دیگر حقوق کے ڈھول پیٹنے کا مقصد تم سے وہ مقام و منزلت چھیننا ہے جو اسلام نے تمہیں عطا کی ہے۔ یہ کفار چاہتے ہیں کہ تم سے تمہاری آبرو اور عزت چھین لیں، وہ چاہتے ہیں کہ تم سے تمہارے وہ حقوق اور واجبات چھین لیں جن کی وجہ سے اسلام نے تمہیں عظیم مقام عطا کیا ہے۔
کیا تمہیں معلوم ہے کہ اسلام نے تمہیں کتنا عظیم مقام و اعزاز عطا کیا ہے؟
اسلام نے تم کو بہن بنایا، وہ بہن جس کی آبرو کی حفاظت کی خاطر مسلمانوں نے ہر دور میں اپنی جانیں قربان کیں اور اپنے خون سے تمہاری آبرو کی حفاظت کی۔
ہاں! اسلام نےتمہیں بیوی بنایا اورگھر کی ذمہ داری کے لیے تمہارا انتخاب کرکے بے شمار حقوق عطا کیے اور ان سب حقوق کے ساتھ ساتھ اسلام نے تمہیں ایک عظیم اعزاز اور عزت دی جو کسی اور کو نہ ملی ،اور وہ یہ کہ تمہیں ماں بناکر جنت کو تمہارے قدموں کے نیچے کردیا ۔
لہٰذا اے میری بہن! جو مقام و مرتبہ اسلام نے تمہیں عطا کیا ہے اس کی حفاظت کرو، مغرب چاہتا ہے کہ مساوات کے نام پر تمہارے حقوق تم سے چھین کر تمہیں پیسے کمانے کاایک وسیلہ بنائے۔ تم نے ٹیلی ویژن، اخبارات، اشتہارات کے بورڈ اور کئی دیگر خریدوفروخت کی اشیا پر حیا باختہ عورتوں کی برہنہ تصاویر دیکھی ہوں گی، کیا یہ عورتوں کے حقوق ہیں؟کیا عورت اتنی سستی اور بے حیثیت ہے کہ اسے لوگ بازاری چیزوں کی مانند استعمال کریں؟ تو اے میری بہن! مغرب تمہیں اسی تمدن کی طرف بلاتا ہے، مغرب تمہیں یہی نام نہاد حقوق دینا چاہتا ہے جس میں دنیا و آخرت کی ذلت ہے۔ جس گھر میں تم ملکہ ہو، جہاں تمہارا شوہر تمہیں عزت و اکرام ایسے دیتا ہے کہ جیسے ایک حدیث میں آیا کہ ’شریف مرد عورتوں کی بات مان لیتے ہیں اور عورتیں ان پر غالب آ جاتی ہیں(شریعت سے غیر متصادم امور میں) اور کمینے مرد عورتوں پر غالب آ جاتے ہیں‘۔ مغرب تمہیں اس گھر سے نکال کر جس میں تم ملکہ ہو پورے معاشرے کی باندی بنا دینا چاہتا ہے۔ وہ تمہیں جنسِ بازار بنا کر تمہارے سر سے لے کر پاؤں تک ہر عضو کی قیمت ایسے لگانا چاہتا ہے جیسے قصاب کی دکان پر گوشت کے الگ الگ ٹکڑوں کی قیمت ہوتی ہے۔
اسلام تمہیں سکھاتاہے کہ بغیرضرورت کے گھر سے باہر نہ نکلو اور جب باہر نکلو تو نکلتے وقت نظریں ہمیشہ نیچی رکھا کرو، اپنی عزت اور ناموس کی حفاظت کیا کرو۔
وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى (سورة الاحزاب: ۳۳)
’’اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلے جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا۔‘‘
اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا (سورۃ الاحزاب: ۵۹)
’’اے نبی ! تم اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادریں اپنے (منہ کے) اوپر جھکا لیا کریں، اس طریقے میں اس بات کی زیادہ توقع ہے کہ وہ پہچان لی جائیں گی، تو ان کو ستایا نہیں جائے گااور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ ‘‘
اے میری مسلمان بہن! اسلام تمہیں کہتا ہے کہ کسی کے ساتھ ناجائز تعلقات نہ رکھو ، غیبت، چغلی اور مکرو فریب سے اپنے آپ کو بچاؤ، فحش و مخلوط مجالس میں نہ جاناجہاں مردوخواتین اکٹھے ہوں، چہرے اور لباس میں مردوں کی مشابہت سے بچو، ایسا لباس پہنا کرو جو نہ زیادہ چھوٹا، نہ باریک اورنہ ہی چست ہو۔
اے میری مسلمان بہن! اسلام تمہیں کہتا ہے کہ اپنے شوہر کی اطاعت کرو، اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلو، اس کے مال اور امانت کی حفاظت کرواور اس کے راز دوسروں کے سامنےنہ بتاؤ،اگر تم اپنے شوہر کی ناشکری سے بچو تو اسلام تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہے۔
مغرب تمہارے حقوق کو پاؤں تلے روندتے ہوئے یہ نعرے لگاتا ہے کہ مردوخواتین کے حقوق برابر ہیں، ان نعروں کے ذریعے وہ تم سے تمہاری وہ دینی ذمہ داری چھین لینا چاہتا ہے جس پر تم فخر کرتی ہواور ان گمراہ نعروں کے ذریعے تمہاری دنیا و آخرت کو برباد کرنا چاہتا ہے ۔
اے میری مسلمان بہن! ہمیں تم سے بہت امیدیں ہیں کہ تم اسلامی فکر کے تحت ایک ایسی نسل تیار کروگی جو اپنے دین و وطن کا دفاع و حفاظت کرے گی،ہمیں تم سے امیدیں ہیں کہ جب تم اپنے گھر میں رہو تو خدیجہ و عائشہ و فاطمہ بن کر رہو، جب دشمن تمہارے گھرپر حملہ آور ہو تو صفیہ و ام عمارہ اور خولہ بن جاؤ اور جب اپنےفرزندوں کو دین اسلام کی خاطر قربان کر دینے کا وقت آجائے تو اسماء و خنساءبن جاؤ (رضی اللہ عنہن)۔
میری محترم، عزت مآب مسلمان بہن! ایک مسلمان بھائی کی حیثیت سے میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ ہماری امیدوں کو پامال نہ کرنا، ایسی مخلوط مجالس اور پروگراموں کے قریب نہ جانا جہاں مردوخواتین اکٹھے ہوں، جہاں تمہیں ایک وسیلے کے طور پر ’استعمال‘ کیا جاتا ہو اور تمہارے اسلامی حقوق کو پاؤں تلے روندا جاتا ہو۔ میری بہن! تم یقیناً میری باتیں ضرور مانو گی کہ بہنیں ہی تو بھائیوں کی لاج رکھتی ہیں!






![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



