رضیت باللہ رباً وبالاسلام دیناً وبمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نبیاً ورسولاً
’’میں اللہ تعالیٰ کو رب ماننے، اسلام کو دین ماننے اور محمد ﷺ کو نبی اور رسول ماننے پر راضی ہوں۔‘‘ (ابوداود)
’’اے رب! صرف راضی ہی نہیں ہوں دل و جان و روح کی تمام تر گہرائیوں سے راضی ہوں۔ اس قدر جس قدر کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور اپنی تعریف کے ساتھ ہے اپنی مخلوق کی تعداد کے برابر اور اپنے نفس کی رضا کے برابر اور اپنے کلمات کی تعداد کے برابر۔‘‘ (صحیح مسلم)
سوچنے، سمجھنے اور اقرار کرنے کی توفیق پر یہی کلمات کہتی ہوں۔ مگر ان کلمات کی سچائی کی گواہی تو قولی، فعلی اور عملی مطلوب ہے۔ ہمہ وقت بالخصوص راہ جہاد میں خواہ وہ دنیا کے کسی گوشہ میں ہو رہا ہو۔ جہاں ہمہ وقت اللہ کے دین کے دشمن آگ کے شعلے اگلتے ہیں۔ ان کی چنگھاڑ بچے تو کیا بڑے بھی برداشت مشکل سے کرتے ہیں۔ ان کی پروازیں ہوش اڑا دینے اور دلوں کو بے قابو کر دینے کے لیے، مدتوں گہرا اثر و خوف چھوڑ نے کے لیے کافی ہوتی ہیں ۔ جس کی قدر رب تعالیٰ نے یوں کی ’’مگر یہ تلواروں کی جھنکار ہی اسے عذاب قبر اور حشر کی سختیوں سے بچانے کے لیے کافی ہے کیونکہ دونوں خوف اکٹھے نہیں ہوتے‘‘(مفہوم حدیث)۔
یہ بات بڑے تو سمجھ سکتے ہیں مگر چار سال سے لے کر آٹھ سال کے بچے کیسے سمجھیں؟ جبکہ ان کا ہر کھیل، سوچ کا ہمہ وقت محور اللہ کے دشمنوں اور کافروں کو نشانہ ہی بنانا ہے۔ شاید یہ کبھی کہہ سکیں کہ
؏تیغوں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں
کیونکہ انہوں نے آنکھ کھولتے ہی اور ہوش سنبھالتے ہی یہی کچھ تو دیکھا ہے۔ زمانے نے صحابۂ کرامؓ کو بھی دریاؤں کے رخ موڑتے دیکھا اور یہی ہمیشہ مطلوب ہے اور رہے گا۔
یہ ننھے آج میدانِ جہاد کے معصوم جن کی عمریں چار یا چھے سال کی ہیں جب ڈرون کو اپنے اوپر سے گزرتے دیکھتے ہیں تو یک زبان کہتے ہیں اللھم اھزمھم اللھم وزلزلھم،اے اللہ انہیں شکست دے اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ مظلوم، مسافر اور ماں کی دعا رد نہیں فرماتے۔
ان سارے مظلوم، معصوم بچوں میں سے آنکھوں دیکھے مناظر ماں کے دل کو کیسے ہلا دیتے ہیں جب یہ بچے بے تابانہ اور سراپا بے بسی میں چھپ چھپ کر اور بلکتے سسکتے اپنے شہید والد کو ابا ابا کہہ کر آوازیں دینے لگتے ہیں۔ ۶ سالہ محمد بھی ان میں سے ہی ایک معصوم بچہ ہے۔ والدین کا اکلوتا، آنکھوں کا تارا، دل کی ٹھنڈک۔ جس کی زندگی میں اس کا ہر کھیل، سوچ و فکر و عمل انہی کے گرد رہتا تھا۔ دشمنوں کے لیے مل کر نت نئے منصوبے بنتے، غرض یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ابا کو اپنی کوئی بات نہ بتائی جائے وہی اس کے استاد تھے اور دل کے سب سے قریب شاید اماں سے بھی زیادہ۔ ابا کی لمحہ بھر کی بھی سرزنش یا خاموشی اس سے برداشت نہیں ہوتی تھی۔ وہ کہیں اگر کبھی کبھار باہر جاتے تو اسے بہت زیادہ گراں گزرتا۔ اللہ ہی اسے سمجھا دیں تو بات سمجھ آجاتی مگر کان ہر گزرنے والی سواری پر اور آنکھیں گیٹ پر ٹکی ہوتیں کہ شاید ابا آگئے ہوں اور واقعی آجائیں تو ننگے پاؤں دیوانہ وار بھاگ کر ان کی گود میں چڑھ جاتا اور پھر تو اس کی بھوک پیاس سب اڑ جاتی۔ آپ بیتی دونوں سناتے نہ تھکتے، نماز باجماعت ضروری تھی ورنہ خفا ہو جاتا یا کبھی رو پڑتا۔ اذان دینے کا شوق بھی ابا سے پڑا۔ کھانا، ناشتہ کوئی پھل ان کے ساتھ کھانا ساتھ لگ کر بیٹھنا، بازوؤں پر سر رکھ کر سونا تک ضروری تھا۔ اپنا ہر کام ان سے ہی کرانا اور ایسے میں میرا دل اب زیادہ ہی ڈرنے لگا کہ اگر اس کے ابا نہ رہے تو اس کا کیا بنے گا؟ یہ بھلا کیسے برداشت کر ے گا؟
ایک رات وہ ابا کے بازو پر ہی سو رہا تھا ، رات کے ایک بج گئے تھے ۔اماں حسب عادت پہرہ دے رہی تھیں کہ اچانک عجیب عجیب آوازیں آنے لگیں جیسے قریب ہی کوئی طیارہ اترا ہو اس لیے فوراً سلمان (رمزی نام ہشام) کو جگایا اور وہ فوراً اٹھے اور کہنے لگے ’سنیں سنیں غور سے سنیں‘۔ آوازیں ذرا دور تھیں، پھر سلمان بولے وہ ادھر ہی آئے ہیں۔ اعلانات کی آوازیں قریب ہو رہی تھیں ۔ ’اٹھو اٹھو محمد کافر آگئے ہیں‘، اماں نے کہا۔ ابا پوری تیاری سمیت آرام سے کرسی پر بیٹھ گئے اور کلمے کا ورد شروع کر دیا۔ وہ اٹھا ابا نے اسے ماتھے پر پیار کیا اور کہا ’بھاگ کر نانو کے کمرے میں چلے جاؤ‘۔
بچے اور خواتین سب گھر کے باہر حجرے میں چلے گئے اور اس کی اماں موقع پا کر اسے سمجھانے لگیں کہ ’بہت ممکن ہے ابا شہید ہو جائیں ‘۔ وہ سکتے کے عالم میں اندھیرے میں باہوش و حواس ساری حرکات و سکنات دیکھ رہا تھا۔ جنگ شروع تھی ۔آدھے گھنٹے بعد کوئی فوجی کہنے لگا ’میں نے اسے سنائپر سے مار دیا ہے کیونکہ اب اُدھر سے فائر نہیں آ رہا ‘۔ یہ بات سنتے ہی اس کی اماں نے مجھے بتایا کہ وہ شہید ہو گئے ہیں۔ میں نے اسے مبارکباد دی اور وہ پھر محمد کو سمجھانے لگی کے ابا شہید ہو گئے ہیں ۔ وہ جیسے بالکل ساکت تھا۔ صبح کی پو ابھی پھوٹی بھی نہیں تھی، جونہی طیارے واپس گئے تو محمد پھرتی سے اکیلا اپنے کمرے کی طرف بھاگا کہ ابا کو دیکھوں اور وہ سب سے پہلے پہنچا۔ ابھی اندھیرا ہی تھا مگر وہ پہچان گیا کہ یہ بے حس و حرکت لیٹے ہوئے ابا ہی تو ہیں۔ وہ کہتا ہے میں نے دیکھا کہ بالکل سفید کپڑوں میں لوگ دائرہ بنائے ان کے گرد ہیں ۔ پھر جب میں اندر کمرے میں گیا تو کہنے لگا ’وہاں بھی اندھیرا تھا، میں کچھ ڈرنے لگا تو کسی سفید کپڑے والے نے کہا تم ڈرو نہیں کچھ نہیں ہو گا‘۔ جبکہ وہاں کوئی فرد ویسا تھا ہی نہیں۔ شاید یہ کوئی کرامت کا معاملہ ہو۔
حیرت انگیز طور پر وہ نہیں رویا۔ مگر جب لوگ میت دکھانے کے لیے لائے دفنانے سے پہلے اور اسے جب پتہ چلا تو وہ روتا ہوا جلدی جلدی ہم سب سے پہلے گیٹ کی طرف بھاگا دیکھا کہ جان و دل سے پیارے ابا کچھ کہتے ہی نہیں اور وہ بہتی آنکھوں کے ساتھ ابا کے ساتھ لگا کھڑا تھا میں نے سلمان کا ماتھا چوما، مبارکباد دی اورمحمد سے کہا آؤ ابا کو پیار کر لو۔ وہ لپکا اور بہتے رواں آنسوؤں سے ابا پیارے کے ماتھے پر چوم رہا تھا اور آنسو تو رک ہی نہیں رہے تھے مگر ابا ابا کہتا جا رہا تھا۔ رو تو سب ہی رہے تھے مگر اماں جو خود بھی رو رہی تھیں، اسے انتہائی محبت اور لاڈ سے کہہ رہی تھیں ’پیارے بیٹے اب چلو ابا کو اللہ پاک کے پاس جانے دو‘ ۔مگر اس کا دل پھٹ رہا تھا اور وہ جانے کو تیار نہ تھا۔ جانے کیسے روتا بلکتا ابا کا لاڈلا زبردستی انہیں چھوڑ کر الگ ہوا۔ میں یہ منظر برداشت نہ کر پارہی تھی اور جلدی سے پلٹ آئی۔ تب سے میرا وہ محمد کھو گیا۔ اس کی ہنسی چھن گئی۔ بھوک اڑ گئی۔ کہیں اور ہی گم ہو گیا۔ہنسنا بھول گیا ، ناٹک بھول گیا، جیسے بے حس ہو گیا ہو۔ کسی کے قریب نہ ہوتا۔ کسی سے دل کی بات تو کرتا ہی نہیں ۔ دل کی دنیا کا سورج ڈوب جو گیا تھا۔ اس کی تو دنیا ہی تاریک ہو گئی تھی۔ ساری خوشیاں تو پیارے ابا کے ساتھ ہی چھن گئیں وہ بے حد حساس ہو گیا۔ اپنے غموں کو جیسے چھپانا سیکھ گیا ہو۔ اماں سے بھی چھپاتا۔ کھویا کھویا رہتا یا کسی کھلونے والے ہتھیار سے اکیلا کھیلتا۔ اماں مسلسل اسے مزید قریب کرتیں مگر اب تو وہ محمد ٹوٹ چکا تھا۔ بڑی خاموشی سے ان کی باتیں سنتا۔ مان بھی لیتا۔ اچانک ہلچل مچی کہ لوگ قبر پر جا رہے ہیں (گھر والے)۔ سنتے ہی وہ فوراً تیار ہو گیا کہ میں تو ضرور جاؤں گا اور واپسی پر اس پر سکینت طاری تھی۔ خوش تھا کے ابا کہہ رہے تھے کہ ’ابا کے سر کی طرف خوشبو آ رہی تھی، میں مٹی بھی تھوڑی سی اٹھا کر لایا ہوں ‘۔ اور واقعی اس مٹی سے شہید کی خوشبو آ رہی تھی۔ اور اب تو وہ خوشبو اس کی بیماری میں اور اس کی اداسی میں اس کے ساتھ اس کے پاس آتی ہے اور وہ بے حد خوش ہو جاتا ہے۔ اسے اکثر وہ خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ بلکہ ابا کی گھڑی، ٹوٹے چشمے سے بھی وہی خوشبو آتی ہے اور وہ محسوس کرتے ہی بہت خوش ہو جاتا ہے۔ اس کی اماں اور اسے تو وہ خوشبو اکثر آتی ہے، مجھے بھی آتی ہے۔ جب وہ قرآن پاک کھول کر اماں سے پڑھنے بیٹھتا ہے تو اکثر بالکل گم ہو جاتا ہے جیسے اس کا دل و دماغ یہاں نہیں ہے وہ اکثر پڑھ نہیں پاتا اور کبھی اماں اصرار سے پوچھتیں کہ کیا بات ہے؟ کیا ابا یاد آ رہے ہیں؟ تو وہ ہاں کہتے ہی اماں کی گود میں بلک بلک کر دیر تک پھوٹ پھوٹ کر روتا رہتا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید تو وہ ہی پڑھاتے تھے ۔ ایسے میں ہمارے دل بھی کرچی کرچی ہو جاتے ہیں اور آنکھیں بہہ پڑتی ہیں۔ ظالموں کے لیے بد دعائیں بھی سمجھ میں نہیں آتیں وہ بھی چھوٹی لگتی ہیں۔ ہاں بے شک کیا دنیا میں اس کا کوئی بدلہ لینا ممکن ہے؟ دنیا بھر کے محمد اور سارے بچوں بچیوں کا بدلہ لینا ممکن ہے کیا؟ ہر بد دعا اور ہر سزا ظالموں، دشمنوں اور ان کے ساتھیوں کے لیے کم اور بہت چھوٹی ہیں۔ میرا محمد کہتا ہے قیامت والے دن میں اللہ پاک سے کہوں گا لائیں اس کافر فوجی کو جس نے میرے ابا کو شہید کیا میں اسے اپنے ہاتھوں سے خود ذبح کروں گا۔ پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر رب سے مظلوم محمد دعا کرتا ہے یا اللہ کب میرا وقت پورا ہو گا مجھے جلدی بلا لیجیے۔ اور میرا یہ چھ سالہ محمد اپنی شہادت کی فریادیں اپنے رب سے کرتے نہیں تھکتا۔
دنیا کا ہر یتیم بچہ مجھے اپنا محمد لگتا ہے۔ میں ان کا بدلہ اپنے دین کے دشمنوں سے کیسے لوں کوئی تو مجھے اس کا جواب دے۔ ان بچوں کا غم مجھے مارے ڈال رہا ہے اور میرا دل ماہیٔ بے آب کی طرح دشمنان دین سے ایک ایک کا بدلہ لینے کے لیے تڑپ رہا ہے۔ کاش کوئی کیمرہ ایسا ہوتا جس سے میں ان یتیموں کا دل پڑھ پاتی، دیکھ پاتی۔ آپ بتائیں؟ میں کیسے بدلہ لوں؟ آؤ میری بہنو، میرا ہاتھ تھام کر دین کی مضبوط زنجیر بن جاؤ، اپنا کچھ بھی بچا کر نہ رکھو۔ تم بھی تو کسی محمد کی نانی ہو۔ ہم پینسٹھ سال کی عمر میں نہ بے بس ہیں، نہ کمزور نہ بےسہارا۔ ہم تو رب کے ہیں اور وہ ہمارا۔ جو سب کچھ کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ کیا اس نے ابابیلوں سے ہاتھی والوں کو بھس نہیں کر دیا ؟ کیا طوفان نوح یاد نہیں؟ کیا فرعوں جیسے ہر فرعون کو وہ آج بھی غرق نہیں کر سکتا؟ بس اس درد کو محسوس کرو۔
[اس مضمون کے آخری نثر پارے والا صفحہ پھٹ گیا تھا وہ ٹائپ نہیں ہو سکا اور ہمیں موصول نہیں ہوا، قارئین اپنے دل سے پوچھ کر اس کہانی کو خود ہی اختتامی جملے عطا کر دیں۔(ادارہ)]



![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



