بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ وکفیٰ والصلاۃ والسلام علیٰ أشرف الأنبیاء.
اللّٰھم وفقني کما تحب وترضی والطف بنا في تیسیر کل عسیر فإن تیسیر کل عسیر علیك یسیر، آمین!
(۱۳) …… احادیثِ ملاحم کے سبب
کیونکہ ملاحم یا شدید جنگوں کے بارے میں وارد احادیث نے تین مقامات کے بارے میں گفتگو کی ہے، اور وہ ہیں:
- شام
- خراسان
- عدنِ أبین
عن ابن حوالة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
’’سيصير الأمر إلى أن تكونوا جنوداً مجندة، جند بالشام وجند باليمن وجند بالعراق‘‘، قال ابن حوالة ’’خر لي يا رسول الله إن أدركت ذلك‘‘، فقال: ’’عليك بالشام فإنها خيرة الله من أرضه يجتبي إليها خيرته من عباده، فأما إن أبيتم فعليكم بيمنكم واسقوا من غدركم فإن الله توكل لي بالشام وأهله.‘‘ (رواه أحمد.)
ابن حوالہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عنقریب معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا کہ تم الگ الگ لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے، ایک لشکر شام میں، ایک لشکر یمن میں اور ایک لشکر عراق میں ہوگا‘‘۔ ابن حوالہ نے کہا: ’’ اے اللہ کے رسول! اگر میں وہ زمانہ پاؤں تو میرے لیے انتخاب فرما دیجیے(کہ میں کس طرف کو جاؤں)‘‘۔ آپؐ نے فرمایا ’’ تم شام کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ اللہ کی زمین میں سے اس کی منتخب زمین ہے، وہ اپنے بندوں میں سے اپنے چنے ہوئے لوگوں کو وہاں جمع کرے گا۔ پھر اگر تم یہ نہ کرو تو اپنے یمن کو لازم پکڑو اور اپنے حوضوں سے پانی پلاؤ، کیونکہ اللہ نے میرے لیے شام اور اس کے باشندوں کی ذمہ داری لی ہے۔‘‘
اگر ہم تین چار دہائیاں پہلے اور آج ان مقامات کے حالات کو دیکھیں، تو ہمیں بہت بڑا فرق نظر آئے گا، کیونکہ گزشتہ سالوں میں حالات بہتری کی طرف مائل ہوئے ہیں۔ شام ایک ڈیڑھ دہائی قبل آج کے مقابلے میں زیادہ انحراف اور دین سے دور تھا، خراسان میں چند دہائیوں قبل اشتراکیت غالب تھی، اس کے بعد وہاں امریکہ کی استبدادی جعلی جمہوریت اور قبضہ تھا، اسی طرح عدن أبین کی بھی ابتر حالت تھی۔
آج اللہ کے فضل سے خراسان دنیا کا سب سے بڑا مرکزِ جہاد اور جہادی ڈپو (arsenal) ہے۔ وہاں اہلِ اسلام کے سب سے بڑے جہادی لشکر موجود ہیں بلکہ امارتِ اسلامی کے قریباً پانچ سال قبل دوبارہ قیام کے بعد وہاں ہر ہر صوبے میں ایسے مدارسِ دینیہ کا قیام کیا گیا ہے جن کا نام ہی ’جہادی مدارس‘ ہے۔ خراسان میں اللہ کی نصرت کے سبب مجاہدین کے پاس ایسا اسلحہ و بارود موجود ہے جو پچھلے سو سال میں کسی دینی و جہادی تحریک کے پاس نہیں رہا۔
شام میں بشار الاسد کے دھڑن تختے کے بعد عموماً اہلِ سنت کی حالت آج بہت بہتر ہے، علماء و دعیانِ دین کی محنتوں سے دین داری عام ہو رہی ہے۔ دمشق و حلب میں قرآنی حلقہ جات، حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسیں، فقہی مجالس جگہ جگہ قائم ہیں۔ اگرچہ آج بھی شام یعنی سوریا کی حکومت للاسف کوئی دینی حکومت نہیں، لیکن اب بھی وہاں جہادی تحریکیں موجود ہیں اور انہی جہادی تحریکوں سے امریکہ و اسرائیل کو وہ خطرہ لاحق ہے جس کے سدِ باب کے لیے سوریا کو نارملائزیشن کی طرف کہیں عالمی بدمعاش ٹرمپ کی طرف سے واضح و براہِ راست اور کہیں سعودی عرب، قطر و متحدہ عرب امارت کے ذریعے لے جایا جا رہا ہے۔ شام تاریخی لحاظ سے صرف آج کا ملکِ شام یا سوریا یاSyria نہیں ہے، بلکہ اس میں اردن و لبنان و فلسطین بھی داخل ہیں۔ اور اہلِ فلسطین نے، فلسطین کے قسامی بیٹوں اور حماس کے جانثاروں نے آج سے تین سال قبل جو طوفان الاقصیٰ کا معرکہ برپا کیا ، تو بقول اس معرکے کے معمار دماغ، شہیدِ اسلام یحییٰ سنوار کے کہ ’یہ معرکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا‘، آج یہی ہو رہا۔ ارضِ شام، ملکِ فلسطین انبیاء کی سرزمین ہے اور نصرتِ قدس نصرتِ شام ہی ہے، جہادِ قدس جہادِ ارضِ شام ہی ہے۔ ملکِ شام یعنی سوریا کی فتح کے پیچھے معرکۂ طوفان الاقصیٰ ہی کھڑا ہے، جس نے ایسے حالات پیدا کیے جس کے نتیجے میں شامی مجاہدین نے ظالم نصیری رافضی رجیم سے خلاصی حاصل کی۔
بے شک عنقریب ان مقامات میں اسلام کے لیے ایسی فتوحات ہوں گی یا ایسے لشکر یہاں سے روانہ ہوں گے جو کالے جھنڈے بلند کریں گے اور فرمانِ مخبرِ صادق علیہ الصلاۃ والسلام کے مطابق اس وقت تک نہ رکیں گے جب تک کہ ان جھنڈوں کو مقامِ ایلیاء یعنی القدس میں نصب نہ کر دیں۔ یہ کامیابیاں مجاہدین و انصار و حامیانِ مجاہدین ہی حاصل کریں گے، اور القاعدہ آج بھی ان مقامات میں موجود ہے۔
عدنِ أبین یعنی یمن میں اسلامی بیداری آج موجودہے۔ یہی وہ خطہ ہے جہاں سے نصرتِ اسلام کے لیے بارہ ہزار مجاہدین کا لشکرِ جرار روانہ ہو گا، جن کےبارے میں بشارت ہے کہ یہ امت کے بہترین لوگوں میں سے ہوں گے۔ یہاں یہ بات قابلِ ملاحظہ ہے کہ ۲۰۲۶ء کی نام نہاد ’امریکی انسدادِ دہشت گردی کی اسٹریٹیجی‘ میں امریکہ کے سب سے بڑے دشمنوں میں سے ایک القاعدہ جزیرۃ العرب کی شاخ ہے، جس کا مرکز یمن ہے اور عدنِ ابین کی سب سے معروف جہادی جماعت القاعدہ ہی ہے۔
رہا خراسان تو کالے جھنڈوں کی بشارت بھی اسی خطے کے لیے ہے اوراسی خطے کو بعض روایات میں اللہ ﷻ کا ترکش کہا گیا ہے۔عالمی جہاد کے قائد شیخ اسامہ بن لادن شہید رحمۃ اللہ علیہ نے بھی عالمی طاغوت و اسرائیل کے سب سے بڑے پشت پناہ امریکہ کے خلاف اسی خطے سے جہاد کا اعلان و انتظام کیا، جس کے نتیجے میں کفر کے سرغنہ کی شکست، آج سارے عالم پر عیاں ہے۔ اسی بابرکت خطے سے مجاہدین چہار دانگِ عالم میں پھیلے، صومالیہ و مالی کی فتوحات کا فیض بھی اسی خطے سے جاری ہوا۔
(۱۴)……کیونکہ وہ فتح کی بشارتوں کے بارے میں
سب سے زیادہ پُرامید لوگ ہیں
اس امت کو اپنے دشمنوں پر فتح، ذلت کے بعد عزت کی واپسی، کمزوری کے بعد اقتدار اور اقوامِ عالم کی قیادت میں اپنے پہلے مقام کی طرف واپسی کی کئی بشارتیں دی گئی ہیں۔ اور ان بشارتوں کی کئی قسمیں ہیں، جن میں سے چند ایک یہ ہیں:
أ)قرآن و سنت میں موجود بشارتیں
اللہ پاک کا فرمان ہے:
وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا ۭ (سورۃ النور:۵۵)
’’ تم میں سے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ان سے اللہ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں ضرور زمین میں اپنا خلیفہ بنائے گا، جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے اس دین کو ضرور اقتدار بخشے گا جسے ان کے لیے پسند کیا ہے، اور ان کو جو خوف لاحق رہا ہے، اس کے بدلے انہیں ضرور امن عطا کرے گا۔ ‘‘
اور اللہ پاک نے فرمایا:
وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْۢ بَعْدِ الذِّكْرِ اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصّٰلِحُوْنَ (سورة الانبياء:105)
’’ اور ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد یہ لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے ۔ ‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عن النعمان بن بشير عن حذيفة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم تكون النبوة فيكم ما شاء الله أن تكون ثم يرفعها الله تعالى ثم تكون خلافة على منهاج النبوة ما شاء الله أن تكون ثم يرفعها الله تعالى ثم تكون ملكا عاضا فتكون ما شاء الله أن تكون ثم يرفعها الله تعالى ثم تكون ملكا جبرية فيكون ما شاء الله أن يكون ثم يرفعها الله تعالى ثم تكون خلافة على منهاج نبوة ثم سكت. (رواه أحمد والبيهقي في دلائل النبوة.)
’’ تمہارے درمیان، نبوت کا وجود اور اس کا نور اس وقت تک باقی رہے گا جب تک اللہ چاہے گا، پھر اللہ اپنے نبی کو اپنے پاس بلا لینے کے ذریعہ نبوت کو اٹھا لے گا۔ اس کے بعد نبوت کے طریقے پر خلافت قائم ہوگی اور وہ اس وقت تک قائم رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا، پھر اللہ تعالیٰ خلافت کو بھی اٹھا لے گا۔ اس کے بعد کاٹ کھانے والی بادشاہت کی حکومت قائم ہوگی ،اور وہ بادشاہت اس وقت تک قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اس بادشاہت کو بھی اس دنیا سے اٹھا لے گا، اس کے بعد قہر وتکبر اور زور زبردستی والی بادشاہت کی حکومت قائم ہوگی اور وہ اس وقت تک باقی رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اس بادشاہت کو بھی اٹھا لے گا، اس کے بعد پھر نبوت کے طریقہ پر یعنی عدل و انصاف کو پورے طور پر جاری کرنے والی خلافت قائم ہوگی ، اتنا فرما کر آپؐ خاموش ہوگئے۔ ‘‘
اور اللہ پاک کا فرمان ہے کہ ﯘوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَﯗ ، یعنی آخرِ انجام متقی لوگوں ہی کا اچھا ہو گا، اور اس کے علاوہ بھی بہت سی آیات اور احادیث ہیں، لیکن یہ تفصیل کا مقام نہیں۔
ب) کائناتی بشارتیں، کیونکہ اللہ کی کائناتی سنتیں ثابت ہیں
اللہ پاک نے فرمایا ﯘوَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًاﯗ، یعنی اور تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔ پس کائناتی اعتبار سے جب اندھیرا شدید ہوتا ہے تو صبح نمودار ہوتی اور چمکتی ہے، اور رات کی آخری گھڑیاں سب سے زیادہ تاریک ہوتی ہیں جن کے بعد صبح طلوع ہوتی ہے۔ جب رسی زیادہ کھینچی جاتی ہے تو ٹوٹ جاتی ہے۔ جب تنگی بڑھتی ہے تو اس سے متصل ساتھ ہی کشادگی آ جاتی ہے۔ بالیقین ہم ان زمانوں میں شدید انحراف، رب العالمین کے منہج سے دوری، امت کی کمزوری، اور یہود و نصاریٰ کے دنیا پر خصوصاً امتِ مسلمہ پر تسلط کا سامنا کر رہے ہیں، لہٰذا ہم سختی کے بعد آسانی، تنگی کے بعد کشادگی، اور مشکل کے بعد راحت کی امید رکھتے ہیں، اور یہ اللہ کے لیے کچھ دشوار نہیں۔
ج) واقع شدہ حالات سے حاصل ہونے والی بشارتیں
واقع شدہ حقائق میں سے یہ بھی ہے کہ سوویت یونین، جو امریکی قطب کے مقابل ایک دوسرا قطب تھا، مجاہدینِ اسلام جن میں سرِ فہرست افغان مجاہدین ہیں کے ہاتھوں زوال پذیر ہوا، تو اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں کہ دوسرا قطب بھی پہلے قطب کی طرح زوال پذیر ہو جائے۔ واقع شدہ بشارتوں میں سے یہ بھی ہے کہ دینی جذبہ گزشتہ ادوار کی نسبت زیادہ پھیلنے لگا ہے ، جہاد کے جھنڈے بلند ہو رہے ہیں، قومیت و سیکولرازم کے جھنڈے پست ہو رہے ہیں، اور مسلمانوں پر یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ان کی عزتوں کا دفاع مجاہدین کے سوا کوئی نہیں کرے گا، اور وہ اپنی قومی افواج پر اعتماد کھونے لگے ہیں۔ مسلمان آج اپنے سروں پر مسلط حکمرانوں سے نفرت کرتے ہیں اور مسلمانوں کی ایک کافی تعداد یہ پہچان گئی ہے کہ یہ حکمران دراصل امریکہ کے غلام و خادم ہیں ۔
واقع شدہ بشارتوں میں سے امریکہ کی عراق اور افغانستان میں ناکامی بھی ہے اور امریکی معیشت کو لگنے والا اقتصادی دھچکا بھی، ساتھ ہی افغانستان ویمن، صومالیہ و مالی، پاکستان و بنگلہ دیش میں مجاہدین کا منظم ہونا اور سب سے بڑھ کر طوفان الاقصیٰ! قاعدة الجہاد ان بشارتوں کے بارے میں مسلمانوں میں سب سے زیادہ پُرامید ہے۔ خبردار! انہیں سطحی نظر اور اوپری سی ظاہری نظر کا حامل قرار نہ دیجیے، اور یہ نہ کہیے کہ یہ لوگ جلد باز ہیں کیونکہ حقیقت میں شاید مایوسی نے آپ کے دل کو بھر دیا ہے، اور اللہ پر آپ کا اعتماد کمزور ہو گیا ہے، تو آپ نے اس شخص کو جس کا اللہ پر اعتمادِ عظیم ہے، بے احتیاطی کا الزام دے دیا۔
جان لیجیے کہ کمزوری کے زمانے میں فتح کی بشارت دینا منافقین کے لیے فتنہ اور مومنین کے لیے ثابت قدمی کا سبب ہوتا ہے۔ اور آپ سے یہ مخفی نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودتے وقت اسلام کے پھیلنے کی بشارت دی تھی، تو وہ بشارت منافقین کے لیے فتنہ بن گئی اور وہ اپنی گمراہی میں اور بھی بڑھ گئے ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا:
وَاِذْ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اِلَّا غُرُوْرًا (سورۃ الاحزاب:۱۲)
’’ اور یاد کرو جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے، یہ کہہ رہے تھے کہ : اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں ۔‘‘
اور اس عسرت و تنگی میں اہلِ ایمان کی حالت کیا تھی؟ اللہ پاک نے فرمایا:
وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ ۙ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ ۡ وَمَا زَادَهُمْ اِلَّآ اِيْمَانًا وَّتَسْلِيْمًاۭ(سورۃ الاحزاب:۲۲)
’’ اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں، جب انہوں نے (دشمن کے) لشکروں کو دیکھا تھا تو انہوں نے یہ کہا تھا کہ : یہ وہی بات ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا۔ اور اس واقعے نے ان کے ایمان اور تابع داری کے جذبے میں اور اضافہ کردیا تھا۔ ‘‘
آج مجاہدینِ القاعدہ کے حال کو دیکھیے، جب آپ ان کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو ان کا اللہ پر اعتماد بہت عظیم نظر آتا ہے۔ جبکہ بعض جماعتیں جو یہ تسلیم کرتی اور سمجھتی ہیں کہ یہ حکمران عین مسلمان ہیں اور صرف علم پھیلانے کی دعوت دیتی ہیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ مایوسی نے ان کے دلوں میں بڑا مقام حاصل کر لیا ہے۔ ان کے لائحۂ عمل میں، ان کے پروگرام میں جہاد شامل نہیں، حتیٰ کہ ان میں سے بعض لوگ تو اپنے مجاہد بھائیوں کے حال احوال بھی نہیں جانتے، آج کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کو یہ بھی نہیں معلوم کہ یوسف بن تاشفین کے بیتے ارضِ ساحل میں ایک بہت بڑی فتح حاصل کر چکے ہیں ۔ پس مبارک ہو اس کے لیے جو فتح کی بشارتیں دیتا ہے اور امت کے دلوں میں امید پیدا کرتا ہے۔ پھر ہم کیوں بشارتیں حاصل نہ کریں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قہر وتکبر اور زور زبردستی والی حکومت کے بعد دوبارہ وہ خلافت آئے گی جو نبوت کے منہج پر ہوگی، اور جبری حکومت وہی عسکری و آمرانہ و بادشاہانہ حکومتیں ہیں جو اس وقت ہم پر مسلط ہیں۔ ہم کیوں ان حالات سے بشارتیں حاصل نہ کریں اور مسلمانوں کو آنے والے زمانے کی خوشخبریاں نہ دیں جبکہ بعض علماء یہ رائے رکھتے ہیں کہ ہم جبری حکومت کے آخری دور میں ہیں اور اس کے بعد ایک بار پھر خلافت علی منہاج النبوۃ کا زمانہ ہے، واللہ اعلم۔
پس القاعدہ فتح کے بارے میں پُرامید ہے، اس کا جہاد کسی خطے میں محدود جہاد نہیں، بلکہ پوری بصیرت و بصارت بلکہ فراستِ ایمانی کے ساتھ اس طاغوت کے خلاف جاری ہے، جس طاغوت کا خاتمہ سب مقامی طواغت کے دھڑن تختے کی صورت میں منتج ہو گا، بحول اللہ!جان لیجیے فتح وہی حاصل کرتا ہے جو جہاد کا راستہ اختیار کرے، خواہ منافقین کے خلاف جہاد ہو یا یہود و نصاریٰ کے خلاف۔
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
اس قدر ہوگی ترنم آفریں باد بہار
نگہت خوابیدہ غنچے کی نوا ہو جائے گی
آ ملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک
بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہو جائے گی
شبنم افشانی مری پیدا کرے گی سوز و ساز
اس چمن کی ہر کلی درد آشنا ہو جائے گی
دیکھ لو گے سطوتِ رفتار دريا کا مآل
موج مضطر ہی اسے زنجیر پا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آ جائے گا پیغام سجود
پھر جبیں خاک حرم سے آشنا ہو جائے گی
نالۂ صیاد سے ہوں گے نوا سامان طیور
خون گلچیں سے کلی رنگیں قبا ہو جائے گی
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہو گا نغمۂ توحید سے
اللھم اجعلنا هادين مهتدين، غير ضالّين ولا مضلّين، سلماً لأوليائك، وحرباً علی أعدائك، نحب من أحبك، ونعادي بعداوتك من خالفك. اللهم هذا الدعاء ومنك الإجابة، اللهم هذا الجهد وعليك التكلان، ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم، آمين!
(جاری ہے، ان شاء اللہ)
٭٭٭٭٭









![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)



