نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home فکر و منہج

حربِ ظاہری کا حربۂ باطنی | پانچویں قسط

بڑھتے ہوئے الحاد و شرک کے تناظر میں ایک دعوتِ فکر

by ابن عمر عمرانی گجراتی
in مئی 2026ء, فکر و منہج
0

اسلامی علمیات (Islamic Epistemology)

گزشتہ قسط میں قدر تفصیل سے مغربی علمیات (Western Epistemology) پر کچھ عرض کیا گیا تھا، اب آئیں بطور موازنہ اسلامی علمیات کا جائزہ لیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کون سے تعلیمی نظام کے اصول انسانی روحانیت سے ہم آہنگ ہیں جن کا تقاضا فطرت سلیمہ کرتی ہے اور کون سے اصول انسانی نفسانیت سے ہم آہنگ ہیں جن کا تقاضا خواہشات شہوانیہ کرتی ہیں جو صرف آخرت نہیں بلکہ اس دنیاوی زندگی کو بھی تباہی میں بدل دیتی ہیں۔

یہ بات تو پچھلی قسط میں واضح ہوئی کہ مغرب کے نزدیک علم کی معروف حقیقت یہ ہے کہ علم ایک جواز یافتہ یقینی حقیقت کا نام ہے جس کے حصول کا اصل ذریعہ حواس اور عقل انسانی ہے جس کا نتیجہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان محض لذت پسند جانور، مادہ پرست مشین بن کر رہ جاتا ہے، نہ درد نہ جذبات، نہ کوئی زندگی کا مقصد نہ کوئی جینے کی واقعی غرض، نہ کوئی تربیتی معیار نہ کوئی تہذیبی اقدار، ایسے انسان کے نزدیک اخلاقاً صحیح یا غلط بس وہ ہوتا ہے جسے عقل یا اس سے آگے کہا جائے تو جسے علاقے کی تہذیب (Culture) صحیح یا غلط سمجھے۔

اس فکر اور تربیت کا انجام کیا ظاہر ہوا ؟ یہ کہ Epstein Files جیسی خباثتین دنیا کو دیکھنے ملیں، امریکی صہیونی مظالم کا مشاہدہ کرنے کو ملا، پہلی عالمی جنگ سے اب تک اسلامی و غیر اسلامی تمام زمینوں پر عمومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ، آبادیوں کے قتل عام، فحاشیت و عریانیت کی عالمی ترویج جیسے بدنما فسادی کارناموں کے پیچھے یہی تو چہرے ہیں جو اس مادہ پرست تعلیم کے دلدادہ اور علم بردار ہیں اور اب تو دنیا دن بہ دن اس کا بخوبی تجربہ کر رہی ہے۔ یہ Epstein Files جیسے چہرے تو اس مکروہ نظام کا در حقیقت ایک ادنیٰ سا منظر ہیں، اس غلیظ فائل کا جتنا حصہ ابھی تک سامنے آیا وہ اس پوری Epstein Files کا دسواں حصہ ہے (جیسا کہ میڈیا رپورٹس کا دعویٰ ہے)،اب تو بہت بڑا پٹارا باقی ہے جو اگر سامنے آ جائے تو اقوامِ عالم خود آج کے تخت نشین بد کردار و بدبودار شاہوں کو تختۂ دار پر چڑھانے میں دریغ نہیں کرے گی۔

 یہ مغربی تعلیم و تہذیب کے کچھ نمایاں آثار و مظاہر ہیں، جن کی بنیاد قائم ہوتی ہے مذکورہ Epistemology پر، لیکن اسلام چونکہ ایک ضابطۂ حیات ہے، نظامِ تربیت ہے اور راہنمائے فطرت ہے لہذا اسلام کا موضوعِ بحث اصولاً صرف مادی و ظاہری دنیا نہیں ہے بلکہ غیر مادی (Meta Physical) حقائق پر بھی گفتگو ہوتی ہے، اسی لیے اسلام کے نزدیک علم اور اسباب علم (بالخصوص وحی اور اس کے متعلقات) ظاہر پرست طبقوں کو سمجھ نہیں آتے۔ ہم اپنے اس سلسلے میں اسی غرض سے وحی اور اس کے متعلقات کی صداقت، ضرورت اور واقعیت کو عام فہم انداز میں سمجھانے کی کوشش کریں گے (و باللہ نستعین)۔

اسلام میں علم کیا ہے ؟

اسلام میں علم دراصل ایک راہنمائے روشنی و نور سے عبارت ہے جس کے ذریعے کسی چیز کو اس کی واقعی حقیقت کے مطابق جانا جاتا ہے۔ امام فخر الدین رازی، غزالی، شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہم اللہ اور دیگر علماء نے علم کی تعریف کرتے ہوئے یہی کہا ہے ”ادراک الشیء علی ما هو به“ ، یعنی کسی چیز کو ویسا جاننا جیسی وہ حقیقت میں ہے۔ اور اس کو علم کا بنیادی مفہوم قرار دیا ہے۔ اس مفہوم کا نچوڑ یہ نکلتا ہے کہ چاہے حواس و عقل ابتدائی طور پر کسی حقیقت کو مانے یا نہ مانے لیکن حقیقت جو ہے وہ ہے اسے ویسا تسلیم کیا جائے گا خواہ وہ بظاہر غیر معقول ہو یا غیر محسوس ہو، مثلاً غیبیات، معجزات وغیرہما جیسے امور کو عقل ابتداءً تسلیم نہیں کرتی اور انسانی حواس ماننے تیار نہیں ہوتے لیکن انہیں ماننا یہ اسلامی ایپسٹیمولوجی میں تعریفِ علم کا ایک مصداق ہے، کیونکہ اسلام اس بات کو باور کرا دیتا ہے کہ انسانی حواس اور عقل محدود ہے، ہر چیز اور معاملہ اس کی عقلی بساط میں آ جائے اس کے حواس میں سما جائے ضروری نہیں۔

تاہم،مغربی ایپسٹیمولوجی میں ڈیکارٹ، لاک، ہیوم اور بعد کے تجزیاتی فلاسفہ[1] (Analytic Philosophers) کے ہاں علم زیادہ تر  Subject-Object Relation[2]  کے دائرے میں سمجھا گیا وہاں بنیادی سوال یہ بن گیا کہ: ’’ہم کیسے یقین کریں کہ ہمارا Belief درست ہے؟‘‘ چنانچہ ’’Justified True Belief‘‘ کی تعریف سامنے آئی۔ افلاطون کے مکالمہ ’’Theaetetus‘‘[3] سے لے کر جدید Analytic Epistemology[4] تک یہی تصور غالب رہا، اگرچہ Gettier Problems[5] کے بعد اس تعریف پر شدید اعتراضات بھی ہوئے، لیکن اسلام میں علم کی بنیاد صرف Justification نہیں بلکہ ’’حق سے اتصال‘‘ ہے۔

اسلام میں اسبابِ علم

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر معاملات و اشیاء کو اپنی حقیقت کے مطابق جاننا و ماننا کیسے و کس طرح ممکن ہوتا ہے۔ جب حواس بھی محدود عقل بھی خطا پذیر تو اسلام میں ایسے کیا اسبابِ علم ہیں جو حقیقت سے معرفت فراہم کرتے ہیں ؟

سب سے پہلا اور سب سے اعلی سبب علم وحی

یہ ایک مسلم اور فطری ضابطہ ہے کہ کسی بھی چیز کی حقیقت کا اصل علم اس چیز کے بنانے والے کو ہو ہی سکتا ہے اور پھر اس بنانے والے کے بتانے سے اس کو ہو سکتا ہے جس کو وہ بتائے۔ لہذا اسلام اسی فطری ضابطے کے تحت یہ کہتا ہے کہ کائنات کی حقیقت اس کا مقصد اس کا بنانے والا ہی اصل جانتا ہے لہذا اسی کا خبر دینا معاملے کی حقیقت میں معتبر ہو گا چاہے وہ انسانی ناقص عقل سے بظاہر متصادم ہو[6]، پھر اسی سلسلے میں اسلام وجودِ خدا کا بھی تصور دیتا ہے (اگلی قسطوں میں وجود خدا اور ضرورتِ وحی اور صداقتِ قرآن پر عقلی طور پر مسلم چند واضح دلائل عرض کیے جائیں گے ان شاء اللّٰہ)۔

پس اسی لیے اسلام نے علم کو خدا کے ساتھ مربوط کیا۔ اسلام میں علم کا آغاز ’’انسان‘‘ سے نہیں بلکہ ’’اللہ‘‘ سے ہوتا ہے۔ قرآن کا پہلا نزول ہی ’’اقْرَأْ‘‘ سے شروع ہوا، لیکن ساتھ ہی فرما دیا:

بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَق (سورۃ العلق: ۱)

’’پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘

یہاں علم کو خدا سے جدا نہیں کیا گیا، اسی واسطے اسلام میں Secular Knowledge نہیں ہے جو مذہب و خدا سے بالاتر کر کے علم سے جوڑے اور اسلام صرف خدا کے تصور کو نہیں بلکہ خشیت و خوف خدا کو علم سے وابستہ کرتا ہے۔ اس حساب سے علم کا مقصدِ اصلی یہ ہے کہ خدا کی پہچان اور اس کی عظمت حاصل ہو۔ جیسا کہ فرمان باری ہے:

اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا     ۭ (سورۃ فاطر:

’’اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ ‘‘

الغرض، Islamic Epistemology میں بنیادی سببِ علم وحی ہے جو تصورِ خدا اور خشیت کو مستلزم ہے اور اس سے Western Epistemology عاری ہے جس کے فاسد نتائج کا اوپر تھوڑا سا ذکر ہوا اور پچھلی قسط میں کافی کچھ تذکرہ ہوا۔

یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مذکورہ فاسد اخلاقیات اور مجرمانہ حرکات اور Epstein Files جیسی دستاویزات صرف آج کے امریکہ و اسرائیل کا شیوہ نہیں رہا بلکہ تاریخ میں جو قوم بھی طاقت و زور پر قابض ہوئی اور نورِ وحی سے دور ہوئی، صحیح تصور ِخدا سے جدا ہوئی یا وحی اور خدا سے آشنا تو ہوئی لیکن خشیت و خوف خدا سے لا تعلق ہوئی یعنی وحی کے حقیقی علم سے درکنار رہی، (جیسے یہود و نصاری اہل کتاب کے فسادی گروہ) ان سب قوموں کا یہ شیوہ رہا۔

وحی سے دور اور خدا سے بے زار ہو کر ہی انسان فرعون بنا، خود کو بھول گیا اور درندہ بشکل انسان بن گیا۔ اور آج تو خواہشات کی غلامی میں اندھا اور بہرا بن کر اس سطح تک گرا کہ باقاعدہ لذت خواہی میں اپنی ذاتی جنسیت تبدیل کرنے کی راہ پر چل پڑا، مرد کو مردانگی پسند نہیں تو عورت بننے کے لوازمات اختیار کرنے لگ گیا اور اسی طرح عورت (یہ حقیقت محتاج بیان نہیں)، پھر یہاں تک کہ تنوع کے طور جانور بننے کی بھی کوششیں کرنے لگا (جیسا کہ 2024ء میں دس لوگوں کے معاملے منظر عام پر آئے کہ انہوں نے خود کو مختلف سرجریز کروا کر اپنی پسند کے جانور میں تبدیل کر دیا)۔ یہی ہے وہ حالت جس کو قرآن ضلال بعید سے تعبیر کرتا ہے:

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا؁ (سورۃ النسآء: ۱۶۷)

’’ یقین جانو کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا ہے وہ بھٹک کر گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ ‘‘

اس کے برخلاف جب قومیں وحی ربانی سے حاصل ہونے والی خشیت و معرفتِ الٰہی پر مبنی علم سے وابستہ ہوئی تو انسانی تاریخ نے ایسی محبت و مودت کا منظر دیکھا کہ ماقبل میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی جیسا کہ عربی قبائل کی اسلام کے بعد آپسی اخوت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے، وہ قومیں جو آپس میں دہائیوں اور صدیوں کی دشمنی رکھتی تھی ایک دوسرے پر جان دینے والی بن گئی، اپنا سب کچھ لٹانے والی بن گئی۔ یہی وحی اور خشیت الٰہی والا علم تھا جس نے شراب اور نشے کی وہ عادتوں کو جو گویا فطرت اور گتھی میں بسی ہوئی تھی بنا کسی بڑی تحریکی مہم کے ختم کیا۔

پھر اس منور علم سے معمور طبقوں نے جب قوت و زور سنبھالا تو تاریخ نے امت کے مال و وسائل میں امانت داری اور زہد و قناعت کا یہ عالم دیکھا کہ خلیفۂ رسول ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ جب خلیفہ بنے تو کاروبار چھوٹ گیا، جس پر صحابہ کرام کے مشورے سے آپ کے اور اہل و عیال کے لیے بیت المال سے ایک معمولی یومیہ وظیفہ مقرر کیا گیا تاکہ آپ یکسوئی سے خلافت کے امور سرانجام دے سکیں اور جب آپ کا وقتِ وصال قریب آیا تو آپ نے اپنی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا:

’’دیکھو! جب سے میں مسلمانوں کا خلیفہ بنا ہوں، میں نے بیت المال کے اموال میں سے ایک دینار یا درہم بھی اپنے لیے حلال نہیں سمجھا، البتہ ہم نے ان کے اموال میں سے موٹا جھوٹا کھانا کھایا اور معمولی لباس پہنا۔ اب میرے پاس بیت المال کی اشیاء میں سے صرف یہ چیزیں موجود ہیں: ایک حبشی غلام (جو بچوں کی دیکھ بھال کرتا اور تلواریں صیقل کرتا تھا)، ایک اونٹنی (جس کا دودھ پیا جاتا تھا)، اور ایک پرانی چادر یا مخملی بچھونا۔ میری وفات کے بعد یہ تمام چیزیں فوراً نئے خلیفہ (حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ) کو بھیج دینا۔‘‘

اس کے ساتھ ہی آپ نے وصیت فرمائی کہ خلافت کے دوران انہوں نے بیت المال سے جو کل رقم (وظیفہ) حاصل کی تھی (جو کہ تقریباً چھ ہزار درہم تھی)، ان کی ذاتی زمین فروخت کر کے وہ رقم بھی بیت المال میں واپس جمع کروا دی جائے۔ چنانچہ آپ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ تمام اشیاء نئے خلیفہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھجوا دیں۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان چیزوں کو دیکھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور انہوں نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:

رَحِمَ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَهُ

’’اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنے بعد آنے والے خلفاء کو بہت بڑی آزمائش اور تھکا دینے والی مشقت میں ڈال دیا ہے کہ کوئی ان کے معیار تک کیسے پہنچے گا۔‘‘

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب خلافت سنبھالی تو آپ نے دیگر صحابہ (بشمول حضرت عبدالرحمن بن عوف اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم) کو ساتھ لے کر سرکاری بیت المال کے اس مکان کا تالا کھلوایا جہاں مال جمع ہوتا تھا۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وہاں کیا چھوڑا ہے۔ جب بیت المال کھولا گیا تو وہاں ایک درہم یا ایک دینار بھی موجود نہ تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جوں ہی زکوٰۃ، جزیہ یا فتوحات کا مال آتا، وہ اسے اسی وقت تمام مسلمانوں میں برابر تقسیم فرما دیتے تھے اور بیت المال کو ہمیشہ خالی رکھتے تھے تاکہ وہ خلق خدا کی امانت ان تک پہنچ جائے۔ یہ دیکھ کر تمام صحابہ زار و قطار رو پڑے کہ خلیفہ وقت نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت ایک درہم بھی پیچھے نہیں چھوڑا ۔[7]

عوام اور رعایا کی فکر گیری کی دنیا نے یہ مثال دیکھی کہ خلیفہ دوم حضرت عمرؓ رات کے وقت مدینہ کی گلیوں میں خود گشت کیا کرتے تھے تاکہ معلوم ہو کہ کوئی بھوکا یا مظلوم تو نہیں۔ ایک مرتبہ انہوں نے ایک خیمے میں بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ اندر ایک عورت ہانڈی میں صرف پانی ابال رہی تھی تاکہ بچے بہل جائیں اور سو جائیں، کیونکہ گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ حضرت عمرؓ فوراً بیت المال گئے، اپنے کندھے پر آٹے اور گھی کی بوری اٹھائی، خادم نے عرض کیا: ’’میں اٹھا لیتا ہوں‘‘۔  تو قابل ذکر جملہ ارشاد فرمایا: ’’کیا قیامت کے دن میرا بوجھ بھی تم اٹھاؤ گے؟‘‘ ( یہ گفتار و کردار اسی وحی الٰہی سے حاصل ہونے والے علم کی عکاسی کرتے ہیں۔) پھر خود کھانا پکایا، بچوں کو کھلایا۔ آج کوئی حاکم و گورنر چھوڑیں ایک عام معمولی رئیس سے بھی یہ عاجزی یہ خبر و فکر گیری کا تصور بعید ہے۔[8]

حکمت کے ساتھ غیر جانبدارانہ فیصلے کا نمونہ یہ نظر میں آیا کہ خلیفہ ثالث عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ متعین ہونے کے دنوں میں امت ابھی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے غم میں ڈوبی ہوئی تھی کہ ایسے میں حضرت عمر کے صاحبزادے عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے شدید جذبات میں چند ایسے افراد کو قتل کر دیا جن پر انہیں حضرت عمرؓ کے قتل کی سازش کا شبہ تھا، حالانکہ شرعی طور پر جرم ثابت نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک نہایت حساس معاملہ تھا، سوال یہ تھا کہ کیا خلیفۂ وقت کے بیٹے کو قانون سے بالاتر سمجھا جائے گا یا انصاف سب کے لیے برابر ہو گا؟ حضرت عثمانؓ نے اس واقعے کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ اسے باقاعدہ شرعی و اجتماعی مسئلہ بنایا۔ صحابۂ کرامؓ سے مشورہ ہوا، مختلف آراء سامنے آئیں، اور یہ واضح کیا گیا کہ قانون (قانونِ شرعیت) شخصیات سے بڑا ہے، بعض صحابہؓ قصاص کے قائل تھے جبکہ بعض نے حالات اور تاویل کی بنا پر نرمی کی رائے دی۔

آخرکار حضرت عثمانؓ نے اجتہادی فیصلہ کرتے ہوئے بیت المال سے دیت ادا کرنے کا حکم دیا تاکہ امت ایک نئے داخلی فتنے سے محفوظ رہے۔[9]

یہ واقعہ خلافتِ راشدہ کے اس عدل کی جھلک دکھاتا ہے جہاں حکمران کے خاندان کو بھی احتساب سے بالاتر نہیں سمجھا جاتا تھا، اور جہاں قانون، مشاورت اور امت کے اجتماعی مفاد کو ملحوظ رکھا جاتا تھا۔

اسی طرح کی ایک جھلک دور علوی میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علیؓ کی زرہ گم ہو گئی۔ بعد میں وہ ایک یہودی کے پاس دیکھی گئی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ یہ زرہ میری ہے، نہ میں نے بیچی ہے اور نہ کسی کو ہبہ کی ہے۔ معاملہ قاضی شریح کی عدالت میں پہنچا۔

قاضی شریحؒ نے حضرت علیؓ سے فرمایا: ’’آپ کے پاس کوئی گواہ ہے؟‘‘ حضرت علیؓ اپنے صاحبزادے حضرت حسنؓ اور اپنے غلام کو بطور گواہ لائے مگر قاضی شریحؒ نے اصولِ عدالت کے تحت فرمایا کہ بیٹے کی گواہی والد کے حق میں کافی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ شرعی معیار کے مطابق گواہی مکمل نہ ہونے کی وجہ سے فیصلہ یہودی کے حق میں کر دیا گیا۔

سوچیے! ایک طرف وقت کے خلیفۂ مسلمین کھڑے ہیں، اور دوسری طرف ایک عام یہودی، لیکن عدالت میں دونوں برابر ہیں۔ نہ قاضی نے منصب دیکھا، نہ طاقت، نہ حکومت۔ روایات میں آتا ہے کہ یہودی اس عدل سے اس قدر متاثر ہوا کہ پکار اٹھا: ’’یہ انبیاء کا انصاف ہے!‘‘ پھر اس نے اعتراف کیا کہ زرہ واقعی حضرت علیؓ ہی کی تھی اور اسلام قبول کرلیا۔[10]

یہ واقعہ بھی اسلامی عدل کی اس عظیم بنیاد کو ظاہر کرتا ہے کہ قانون حکمران اور عام آدمی کے درمیان فرق نہیں کرتا، بلکہ حق و دلیل کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے۔

ان خلفاء کے علاوہ عموماً سلاطین و فاتحین اسلام بالخصوص عمر بن العزیز، ہارون الرشید، طارق بن زیاد، محمد بن قاسم، نور الدین زنگی، صلاح الدین ایوبی، سلطان محمود غزنوی، اورنگزیب عالمگیر رحمہم اللہ کا مطالعہ کیا جائے تو قریب ایسے ہی عدل، احتیاط، امانت و دیانت، وسائل کی عمدہ تقسیم کی وہ بے نظیر داستانیں ملیں گی جو یہ ماننے پر مجبور کر دیں گی کہ طاقت و اقتدار سنبھالنے والے کا یہ سلوک و انداز کسی نظامِ بالا کی تربیت کا اثر ہے۔

زیادہ دور نہ جائیں تو موجودہ وقت میں امارت اسلامیہ (حماها اللّٰه من كل شر و سوء) بھی اسی انداز حکومت کا نمونہ پیش کر رہی ہے جس کا آج 70 سالوں سے سرمایہ دارانہ نظام اور ظالمانہ ورلڈ آرڈد کے تحت پیسی گئی عوام اور اقوام عالم شدت سے انتظار کر رہی ہے۔

کئی مغربی مبصرین (باوجود اپنےبغض و کراہت کے) لکھ رہے ہیں کہ:

’’طالبان کی قیادت اور بہت سے کمانڈر نسبتاً سادہ زندگی گزارتے ہیں، خاص طور پر افغانستان کے سابقہ بدعنوان سیاسی طبقے کے مقابلے میں، طالبان  وزراء یا امیر شاہانہ پروٹوکول یا ذاتی دولت کے بجائے سادہ ماحول میں رہتے ہیں۔ افغانستان کے پچھلے امریکہ حمایت یافتہ دور میں کرپشن ایک بڑا مسئلہ مانا جاتا تھا اور طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض علاقوں میں رشوت ستانی اور لوکل Warlord Culture کم کیا، اسی طرح بعض افغان شہریوں اور رپورٹس کے مطابق سڑکوں پر جرائم، Kidnapping، اور کھلے بدامنی کے واقعات میں  کمی آئی۔ کئی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کے عدالتی فیصلے تیز ہوتے ہیں جبکہ پہلے نظام میں مقدمات سالہا سال چلتے تھے۔‘‘[11]

خلاصہ یہ کہ جب قومیں وحی الٰہی سے دور ہوتی ہیں، خدا سے ناآشنا ہوتی ہیں تو درندوں سے بدتر شیطان بن جاتی ہیں اور جب وحی سے روشناس خدا کے خوف سے معمور ہوتی ہیں تو دنیا جہاں کے لیے رحمت بن جاتی ہے۔

لہذا اسلامی علمیات (Islamic Epistemology) میں پہلا اور ابتدائی سببِ علم وحی ہے، ایک مسلمان کی کسی چیز کے کرنے یا ماننے میں اساسی وجہ محض عقلی حکمت یا حسی تجربہ نہیں ہوتا بلکہ وحی الٰہی کی ارشاد ہوتا ہے۔

حجاب و پردہ اصل صرف اس لیے نہیں ہے یہ حفاظت و امن کا ضامن ہے یا حیاء کا تقاضا، بلکہ اس لیے ہے کہ وحی الہی کی تعلیم ہے۔ زنا محض اس لیے حرام نہیں ہے کہ یہ عصمت دری ہے یا ظلم ہے یا بے حیائی ہے بلکہ اس لیے حرام ہے کہ وحی الہی سے ممنوع ہے۔ اسی وجہ سے چاہے وہ بالرضا ہو بالجبر نہ ہو، بند کمرے میں ہو اعلانیہ نہ ہو اور زانی اس پر مزنیہ کو بھاری معاوضہ بھی دے دے تو بھی حرام ہے۔ اس کی قطعی گنجائش نہیں، کوئی تاویل نہیں، اسی طرح لگ بھگ سارے معاملات میں بنیادی وجہ وحی ہے۔[12]

اگر کوئی انسان وحی کو واقعی مان لے، ضروری مان لے اور اپنے حق میں خیر خواہ مان لے تو اسلام پر جزوی اعتراضات، شریعت کے ذیلی امور میں چوں چرا اور بے اطمینانی غالباً ختم ہو جاتی ہے، اسی لیے کفار و ملحدین کو ہماری پہلی دعوت یہی ہوتی ہے کہ وہ اسلام کے فروعی امور پر اعتراض کرنے سے پہلے اسلام کے بنیادی ستونوں (وجود خدا، صداقت و قیمت وحی) کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ مغربی ایپسٹیمولوجی سے اسلام کو دیکھنے سے باہر آئیں۔

تاہم وحی کو سبب علم ماننے سے پہلے اس کی صداقت کو تسلیم کرنا اور اس سے بڑھ کر وحی کرنے والے خدا کو سمجھنا بنیادی مرحلہ ہے اسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان شاء اللّٰہ اگلی قسط میں وجود باری پر اور صداقت وحی پر کچھ عرض کرنے کی کوشش کی جائے۔

وما توفیقی الا باللہ،علیہ توکلت و الیہ انیب۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

٭٭٭٭٭

[1] (تجزیاتی فلاسفہ/Analytic Philosophers) وہ مفکرین تھے جنہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں فلسفے کو روایتی پیچیدہ نظریات سے نکال کر زبان کی صفائی، منطق (Logic)، اور سائنسی درستگی پر استوار کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ فلسفے کے زیادہ تر مسائل حقیقت میں الجھی ہوئی اور غیر واضح زبان استعمال کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے جملوں اور الفاظ کا باریک بینی سے تجزیہ (Analysis) کریں، تو فلسفے کی بہت سی گتھیاں خود بخود سلجھ جائیں گی۔ یہ مکتبہ فکر آج بھی برطانیہ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں سب سے زیادہ حاوی ہے۔ اس تحریک کی بنیاد رکھنے والے چار سب سے اہم فلاسفہ درج ذیل ہیں:

  1. برٹرینڈ رسل (Bertrand Russell: 1872–1970) یہ برطانوی ریاضی دان اور فلسفی تھا، جسے تجزیاتی فلسفے کا سب سے بڑا بانی مانا جاتا ہے۔
  1. گوٹلوب فریگے (Gottlob Frege: 1848–1925): یہ ایک جرمن ریاضی دان اور لاجیشن (Logician) تھا اگرچہ وہ خود کو خالص فلسفی نہیں کہتے تھا، لیکن اس کے کام نے اس پورے فلسفے کی بنیاد رکھی۔
  1. لوڈوگ وٹگنسٹائن (Ludwig Wittgenstein: 1889–1951):  یہ آسٹریا میں پیدا ہوا اور برٹرینڈ رسل کے شاگرد بنا، اسے بیسویں صدی کا سب سے جینیئس اور اثر انگیز فلسفی مانا جاتا ہے۔
  1. جی ای مور (G. E. Moore: 1873–1958) یہ بھی کیمبرج یونیورسٹی کا ایک مایہ ناز برطانوی فلسفی اور رسل کا ساتھی تھا۔

[2] Subject-Object Relation: اس کا سیدھا مطلب ہے عالم اور معلوم (جاننے والے اور جانی جانے والی چیز) کا باہم تعلق، اس کو بالکل سادہ زبان میں یوں سمجھیں کہ جب بھی کوئی انسان کسی دوسری چیز کو دیکھتا ہے، چھوتا ہے، یا اس کے بارے میں سوچتا ہے، تو وہاں یہ تعلق بن جاتا ہے۔ جیسے جب آپ اپنے سامنے رکھی ہوئی چائے کی پیالی کو دیکھتے ہیں، تو آپ Subject (محسوس کرنے والے) ہیں اور چائے کی پیالی Object (محسوس ہونے والی چیز) ہے۔ آپ کے دماغ اور اس پیالی کے درمیان دیکھنے اور سمجھنے کا جو رشتہ بن رہا ہے، وہی Subject-Object Relation  ہے۔

مغربی نظریہ علم (Western Epistemology) اور اسلامی نظریہ علم (Islamic Epistemology) میں بنیادی فرق یہی ہے کہ مغرب نے علم کو انسانی حواس و عقل (Subject) تک محدود کر کے کائنات (Object) کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، جبکہ اسلام میں علم کا دائرہ وحی، غیب اور تزکیہ نفس کے ذریعے کہیں زیادہ وسیع اور مربوط ہو جاتا ہے۔ اسلامی علمیات میں انسان کسی بھی چیز کو محض ایک مادی شے کے طور پر نہیں دیکھتا، بلکہ اسے اللہ کی نشانی (آیت) کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس طرح مادی چیزوں کا علم بھی انسان کو ان کے خالق کی معرفت تک لے جاتا ہے۔

[3]  افلاطون کا یہ مکالمہ ’’علم کیا ہے؟‘‘ (What is Knowledge?) کے سوال پر فلسفیانہ بحث کی سب سے پہلی اور مضبوط بنیاد ہے۔ یہ بحث مشہور یونانی مفکر سقراط اور ایک نوجوان ریاضی دان تھیاٹیٹس(Theaetetus) کے درمیان ہوئی۔ سقراط تھیاٹیٹس سے پوچھتا ہے کہ تم ریاضی کے ماہر ہو، یہ بتاؤ کہ علم کی اپنی حقیقت کیا ہے؟ تھیاٹیٹس پہلے مختلف علوم (جیسے جیومیٹری یا موچی کا کام ) گنوانے لگتا ہے، سقراط اسے ٹوکتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے علوم کی فہرست نہیں چاہیے، بلکہ یہ بتاؤ کہ ان سب میں مشترک ’’علم کی تعریف‘‘ کیا ہے، اس پر تھیاٹیٹس باری باری تین تعریفیں پیش کرتا ہے، اور سقراط اپنی مشہور جراحی کے ذریعے ان تینوں کو رد کرتا ہے اور حیرت انگیز طور پر، اس طویل بحث کے بعد یہ مکالمہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو جاتا ہے (فلسفے میں اسے Aporia کہتے ہیں)۔ سقراط ثابت کرتا ہے کہ تھیاٹیٹس کی دی گئی کوئی بھی تعریف مکمل نہیں ہے۔ افلاطون کا بالواسطہ اس سے اشارہ یہ تھا کہ حقیقی علم مادی اور بدلتی ہوئی دنیا سے حاصل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کے لیے “عالمِ مثال” (World of Forms) کی ابدی حقیقتوں کو سمجھنا ضروری ہے۔

[4] جو تجزیاتی مفکرین کا پیمانہ اور اصول علم ہے۔

[5] یہ ایڈمنڈ گیٹیئر (Edmund Gettier) کی طرف منسوب ہے جو بیسویں صدی کا ایک امریکی فلسفی اور پروفیسر تھا، جس نے 1963ء میں محض تین صفحات کا ایک مختصر ترین مقالہ لکھ کر پورے مغربی نظریۂ علم (Epistemology) میں تہلکہ مچا دیا۔ اس مقالے سے پہلے ڈھائی ہزار سال تک افلاطون کی پیش کردہ علم کی تعریف (Justified True Belief) کو حرفِ آخر سمجھا جاتا تھا۔ لیکن گیٹیئر نے اپنے چند فکری تجربات کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ یہ تعریف ادھوری ہے۔ اس نے فلسفے کی دنیا کو ایک نیا رخ دیا اور اس کے اسی اعتراض کو آج فلسفے کی تاریخ میں ’’گیٹیئر پرابلم‘‘ (Gettier Problem) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

[6] دراصل وحی اور اسلامی امور انسان کی عقل سے متصادم ہیں بھی نہیں، جو بظاہر ہے تو وہ دراصل عقل سے بالا ہے عقل کے خلاف نہیں، جیسے برقیاتی نظام، سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی وغیرہ سے چلنے والی آج کی دنیا میں ایک عام عقل کو اس کا Mechanism سمجھ نہیں آتا لیکن اس کی وجہ سے اسے عقل کے خلاف نہیں کہا جائے گا بلکہ عقل سے بالا کہا جائے گا اور پھر جب اس کے اسرار معلوم ہو جائیں گے اور مناسبت ہو جائے گی تو رہی سہی اجنبیت بھی ختم ہو جائے گی ایسا ہی معاملہ امور اسلام کا ہے۔ علامہ ابن تیمیہ اپنی مشہور کتاب درء تعارض العقل و النقل میں یہ فرماتے ہیں کہ ’’صحیح عقل صحیح نقل (وحی) سے متعارض ہی نہیں ہوتی اگر ہوتی ہے تو اس بناء پر کہ یا تو عقل کمزور ہے یا نقل صحیح نہیں ہے‘‘ یعنی جب عقل  نفسانی خواہشات سے ہٹ کر فطرت سلیمہ کے عینک سے شریعت کو دیکھے گی تو کوئی بات وحی کی خلاف نہیں نکلے گی اور اسی کو مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ یوں فرماتے تھے کہ عقل کی کوئی بات شریعت سے ہٹ کر نہیں ہونی چاہیے۔

[7] طبقات ابن سعد (جلد 3، صفحہ 192-194، ذکرِ خلافتِ ابوبکر)،تاریخ الطبری (جلد 3، صفحہ 427، حوادثِ سنہ 13 ہجری)

[8] ابن الجوزي في “التبصرة” (ص: 427)، بقوله: [وروى ثابت عن أنس قال: بينما عمر يعس بالمدينة]، هكذا معلقاً

[9] منهاج السنة النبوية لِابن تيمية: شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب کی جلد 6، صفحہ 281 پر اس واقعے کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے

[10] حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء: جلد 4، صفحہ 139

[11] مذکورہ تبصروں کے شواہد:

  • پاکستان کے معروف انگریزی اخبار Dawn نے ایک UN Security Council Monitoring Assessment کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ طالبان کے اقتدار کے بعد: ’’Petty Corruption‘‘ میں نمایاں کمی اور ’’امن و استحکام میں بہتری‘‘ دیکھی گئی۔
  • ایک Peer-Reviewed تحقیقی مقالہ Rebel Governance: An Analysis of the Taliban’s Governance from 2001–2021 (یونیورسٹی آف ایکسیٹر کے محققین) یہ نتیجہ دیتا ہے کہ طالبان نے اپنے زیرِ اثر علاقوں میں Taxation، Security، Justice، اور Education جیسے شعبوں میں متبادل Governance Structures قائم کیے، اور بعض مقامی آبادیوں سے’’Pragmatic Legitimacy‘‘ بھی حاصل کی۔ (یہ اس معنی میں اہم ہے کہ یہ صرف صحافتی تبصرہ نہیں، بلکہ علمی تحقیق ہے، اگرچہ یہ ’’طالبان کی تعریف‘‘ نہیں بلکہ ایک Analytical Study/تجزیاتی مطالعہ ہے)۔
  • بروکنگز (Brookings Institution) – وانڈا فیل باب-براون: معروف امریکی پالیسی ادارہ Brookings کی اسکالر Vanda Felbab-Brown نے لکھا کہ افغانستان کی سابق حکومت میں Predatory Corruption (لوٹ مار قسم کی کرپشن) اور مقامی Warlords کی زیادتیوں نے طالبان کو عوامی حمایت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
  • افغانستان اینالسٹس نیٹ ورک (AAN): یہ افغانستان پر ایک سنجیدہ تحقیقی ادارہ ہے۔ اس کی رپورٹس بار بار یہ بتاتی رہی ہیں کہ سابقہ امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت میں کرپشن ایک بہت بڑا مسئلہ تھا اور Anti-Corruption ادارے کمزور تھے۔
  • مزید امریکی تھنک ٹینک Brookings Institution کی رپورٹس کے مطابق، گزشتہ چار دہائیوں (40 سال) میں افغانستان میں اگر سب سے زیادہ امن اور سفری تحفظ دیکھا گیا ہے تو وہ اب ہے، کیونکہ ہائی ویز پر ڈکیتیوں اور دھماکوں کا سلسلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ مغربی صحافی اور ادارے یہ تمام مثبت باتیں کسی ہمدردی میں نہیں لکھ رہے، بلکہ وہ یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر پچھلی مغربی ساختہ حکومت اتنی جلدی کیوں گر گئی؟
  • Cairn International کے تحقیقی مضمون کے مطابق، پچھلی حکومت کی بے لگام کرپشن اور وار لارڈ ازم سے افغان عوام اس حد تک تنگ آ چکے تھے کہ انہوں نے طالبان کے سخت قوانین اور امن کو کرپٹ جمہوریت پر ترجیح دی۔

[12] رہا یہ سوال کہ حرمت اور حلت میں حکم کی علت بھی تو سبب کے طور پر مانی جاتی ہے، تو بات یوں ہے کہ وہ علتیں بھی در حقیقت سبب حقیقی نہیں ہیں بلکہ مجازی ہیں سبب حقیقی فی الواقع وحی اور شارع کا قول ہی ہے۔ بہت سارے نظائر فقہ میں ایسے ملتے ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ علت پائی گئی حکم نہیں پایا گیا اور حکم پایا گیا علت نہیں پائی گئی۔ تقریباً اہل فقہ اور اصولیین کا یہی نظریہ ہے۔

Previous Post

مدرسہ و مبارزہ | تیرہویں قسط

Related Posts

مدرسہ و مبارزہ |  پانچویں قسط
فکر و منہج

مدرسہ و مبارزہ | تیرہویں قسط

25 مئی 2026
اَلقاعِدہ کیوں؟ | چوتھی قسط
فکر و منہج

اَلقاعِدہ کیوں؟ | نویں قسط

25 مئی 2026
جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | پہلی قسط
فکر و منہج

جنگی اسٹریٹیجی کے ۳۳ رہنما اصول | چھٹی قسط

25 مئی 2026
نشریات

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس ﷬کا سانحۂ شہادت

25 مئی 2026
جہادِ مالی: مختصر تاریخ و جائزہ
فتح مالی

جہادِ مالی: مختصر تاریخ و جائزہ

25 مئی 2026
امت مسلمہ بالخصوص اہل صومالیہ کے نام پیغام
فتح مالی

ساحلِ افریقہ میں موجود اپنے بھائیوں کو مبارکباد

25 مئی 2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مئی 2026ء
مئی 2026ء

مئی 2026ء

by ادارہ
25 مئی 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • عالمی جہاد
  • ناول و افسانے
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو عمر عبد الرحمن
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version