اکتالیسویں وجہ: حجت بازی (مجادلہ) اور کج بحثی(مِراء)
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا
”میں جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں اس کے لیے جو حق پر ہونے کے باوجود بحث و تکرار چھوڑ دے۔ “
’احیاء العلوم الدین‘ میں امام غزالی نے ’مراء‘ (کج بحثی) کی تعریف یوں بیان کی ہے:
”دوسرے کی بات پر ہر قسم کا اعتراض جو لفظ، معنی یا متکلم کی نیت میں خرابی ظاہر کرے۔ “
امام صنعانی نے فرمایا:
” کج بحثی کی حقیقت دوسروں کی باتوں میں عیب ظاہر کرنے کے لیے نقص نکالنا ہے۔ جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ ہو کہ دوسرے کی تحقیر ہو اور اپنی فوقیت جتائی جائے۔ جبکہ حجت بازی کا تعلق مختلف مذاہب و آراء کو واضح کرنے اور ثابت کرنے سے ہے۔ اور خصومت مال یا کسی دوسرے مفاد کی خاطر باتوں پر ضد اور ہٹ دھرمی کا نام ہے۔ خصومت کبھی ابتدا ہوتی ہے اور کبھی اعتراض کرتے ہوئے ۔ جبکہ کج بحثی صرف اعتراض کے طور پر ہی ہوتی ہے۔ اور یہ سب قبیح باتیں ہیں۔ ما سوائے اگر مقصود حق کا بیان اور اس کا غلبہ ہو ، اور باطل کا زوال اور اس کی بیخ کنی ہو۔ “
اما شاطبی نے فرمایا:
”علماء نے دین کے معاملے میں کج بحثی اور حجت بازی کو ترک کرنا عقائد اسلام میں شمار کیا ہے۔ کج بحثی اور حجت بازی سے مراد ان موضوعات کے بارے میں بحث کرنا ہے جن کے بارے میں بحث کرنے کی اجازت نہیں ۔ جیسے کہ صفات و افعال اور دیگر متشابہات ہیں اور اسی طرح قرآن کریم کی دیگر متشابہات ۔“
حضرت عمر بن عبد العزیز کا قول ہے:
”جس نے اپنے دین کو جھگڑے کا موضوع بنایا اسے اپنا دین بار بار بدلنا پڑتا ہے۔ “
آپ نے یہ بھی فرمایا:
”جو علم کے بغیر عمل کرتا ہے وہ اصلاح سے زیادہ فساد مچاتا ہے۔ اور جو اپنی باتوں کو اعمال میں سے نہ گردانے اس کی غلطیاں زیادہ ہو جاتی ہیں۔ اور جس کے جھگڑے زیادہ ہو جائیں وہ ہمیشہ ایک دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اپناتا رہتا ہے۔“
تابعی حضرت یحیی بن ابی کثیر نے نقل کیا ہے کہ حضرت سلیمان بن داود علیہما السلام نے اپنے بیٹے سے کہا:
”میرے بیٹے! بحث مباحثے میں نہ پڑنا۔ کیونکہ اس کا فائدہ کم ہے اور بھائیوں کے درمیان عداوت بڑھاتا ہے۔ “
’فیض القدیر ‘میں کسی بزرگ کا قول نقل ہے کہ:
”میں نے خصومت سے بڑھ کر کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو دین کو تباہ کر دے، وقار کو گھٹا دے ، لذت کو ضائع کر دے اور دل کو مشغول رکھے۔“
کسی بزرگ نے فرمایا :
”جب اللہ کسی بندے سے خیر کا معاملہ ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے لیے عمل کا دروازہ کھول دیتے ہیں اور حجت بازی کا دروازہ بند کر دیتے ہیں۔ اور جب کسی بندے سے شر کا معاملہ ارادہ فرماتے ہیں تو اس کے سامنے عمل کا دروازہ بند کر دیتے ہیں اور حجت بازی کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ “
امام مالک فرمایا کرتے تھے:
”علم میں بحث مباحثے سے دل سخت ہو جاتے ہیں اور بغض و عداوت پیدا ہو جاتی ہے۔ “
حضرت حسن نے جب کسی گروہ کو جدال کرتے دیکھا تو فرمایا:
”یہ ایسے لوگ ہیں جو عبادت سے اکتا چکے ہیں ، باتوں کو ہلکا محسوس کرنے لگے ہیں اور ان کا تقویٰ کمزور ہو چکا ہے اس لیے لگے ہیں بحث کرنے۔ “
شیخ بکر ابو زید نے فرمایا:
”بازنطینی حجت بازی سے بچو، یعنی لا حاصل سے یا کمزور حجت بازی۔ اس لیے کہ بازنطینی فرشتوں کے جنس کے بارے میں مکالمے کر رہے تھے جبکہ دشمن ان کے شہر کے دروازے پر تھا۔ یہاں تک کہ ان پر حملہ کر دیا۔
اسی طرح کمزور حجت بازی راہ حق سے روکتی ہے۔
بزرگوں کا عمل یہ تھا کہ وہ خصومت اور جدال کی کثرت سے رک جاتے تھے۔ ان کے ہاں اصل یہ تھا کہ اس میں زیادتی تقویٰ میں کمی کا باعث ہوتی ہے۔ “
اگر آپ کہیں کہ ’’لیکن حقوق کی بازیابی کے لیے خصومت کے سوا کوئی چارہ نہیں!‘‘
تو اس کا جواب وہ ہے جو امام غزالی نے ’احیاء علوم الدین‘ میں فرمایا ہے :
”یقینی طور پر مذمت اس شخص کی گئی ہے جو باطل کی بنا پر یا بغیر علم کے جھگڑا کرے۔ قاضی کے وکیل کی طرح۔ کیونکہ وہ کسی بھی خصومت میں یہ جاننے سے پہلے وکیل بن جاتا ہے کہ حق کس جانب ہے ۔ پس وہ بغیر علم کے جھگڑتا ہے۔
مذمت میں وہ شخص بھی شامل ہے جو اپنے حق کا مطالبہ کرے ، لیکن ضرورت کی حد پر اکتفا نہ کرے۔ بلکہ اپنے مخالف کو اذیت دینے اور اسے زیر کرنے کے لیے سخت دشمنی اور جھوٹ کا رویہ اپنائے۔ اسی طرح وہ شخص بھی جو جھگڑے میں اذیت ناک الفاظ شامل کرتا ہے حالانکہ حق حاصل کرنے کے لیے ان کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی طرح وہ شخص جس کے جھگڑے کا محرک محض ضد ہو تاکہ وہ اپنے مخالف کو زیر دست کر کے تباہ کر دے۔ یہ مذموم قسمیں ہیں۔ رہا وہ مظلوم جو اپنے منطق کی شرعی طریقے سے تائید کرتا ہے، دشمنی برتنے ، حد سے تجاوز کرنے اور بلا ضرورت اڑی پھسی کرنے کے بغیر۔ اس کی نیت نہ ہٹ دھرمی ہوتی ہے اور نہ اذیت دینا۔ تو ایسا کرنا حرام نہیں ہے۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ اِس سے بھی اجتناب کرے جب تک اس کے سامنے کوئی دوسرا راستہ موجود ہو۔ کیونکہ جھگڑے کے دوران زبان کو حدِ اعتدال میں قابو رکھنا ممکن نہیں۔ خصومت دلوں میں کدورت پیدا کرتی ہے اور غصے کو بڑھکاتی ہے۔ جب غصہ بڑھکتا ہے تو فریقین کے درمیان بغض پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ہر ایک دوسرے کی تکلیف پر خوش ہوتا ہے اور اس کی خوشی پر غم کھاتا ہے۔ دوسرے کی عزت و آبرو پر زبان دراز کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو بھی خصومت اختیار کرے گا اسے ان آفتوں کا سامنا ہو گا۔ خصومت کا سب سے کم نقصان دل کا مشغول ہو جانا ہے یہاں تک کہ نماز کے دوران بھی اس کے خیالات حجت بازی اور جنگ و جدال میں پھنسے رہ جاتے ہیں ۔ اس طرح اسے استقامت نصیب نہیں ہوتی ۔
خصومت شر کا آغاز ہے۔ اور اسی طرح حجت بازی اور کج بحثی بھی۔ اس لیے چاہیے کہ انسان اپنے لیے خصومت کا دروازہ نہ کھولے۔ ما سوائے ایسی ضرورت کے لیے جس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو۔ اور اس وقت بھی اپنی زبان اور دل کو خصومت کی آفتوں سے بچائے رکھے۔“
امام نووی اپنی کتاب ’الاذکار‘ میں فرماتے ہیں:
”جانیں کہ حجت بازی حق پر بھی ہو سکتی ہے اور باطل پر بھی۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
وَلَا تُجَادِلُوْٓا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيْ ھِىَ اَحْسَنُ ڰ (سورۃ العنکبوت: ۴۶)
’’ اور (مسلمانو) اہل کتاب سے بحث نہ کرو، مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو۔‘‘
نیز فرمایا:
وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ (سورۃ النحل: ۱۲۵)
’’اور (اگر بحث کی نوبت آئے تو) ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔ ‘‘
اور فرمایا:
مَا يُجَادِلُ فِيْٓ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا (سورۃ غافر: ۴)
’’اللہ کی آیتوں میں جھگڑے وہی لوگ پیدا کرتے ہیں جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے۔‘‘
پس اگر حجت بازی حق کو جاننے کے لیے اور اسے ثابت کرنے کے لیے ہو تو لائق تعریف ہے۔ لیکن اگر حق کو ٹھکرانے کے لیے ہو یا بغیر علم کے ہو تو ایسا جدال قابل مذمت ہے۔ اسی تفصیل کے مطابق نصوص میں مذکورہ جدال کے بارے میں جواز اور مذمت کا اطلاق ہو گا۔ مجادلہ اور جدال کا ایک ہی معنی ہے جو ہم نے تفصیل سے کتاب ’تہذیب الاسماء واللغات‘ میں بیان کیا ہے“۔
حجت بازی بر حق بھی ہوتی ہے، امام ابو حمد ابن حزم فرماتے ہیں:
”اللہ تعالی کا فرمان ہے:
وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ (سورۃ التوبۃ: ۱۲۰)
’’یا وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں جو کافروں کو گھٹن میں ڈالے، یا دشمن کے مقابلے میں کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے اعمال نامے میں (ہر ایسے کام کے وقت) ایک نیک عمل ضرور لکھا جاتا ہے۔‘‘
کفار اور اہلِ باطل کے لیے باعث غیظ و غضب اس سے بڑھ کر کوئی اور چیز نہیں ہوتی کہ ان کے اقوال کو مضبوط دلیل سے بے نقاب کر دیا جائے۔ بڑے بڑے لشکر شکست کھا سکتے ہیں لیکن درست دلیل و حجت کبھی مغلوب نہیں کی جا سکتی۔ حق پر قائل کرنے اور دین کی حمایت میں صحیح حجت تیز دھار ہتھیار اور بڑی افواج سے زیادہ مؤثر ہے۔ افضل صحابہ ، جن کی کوئی نظیر نہیں ، جب ایمان لائے تو نبی اکرم محمد ﷺ کی نبوت کی صداقت پر قائم دلائل کو دیکھ کر ایمان لائے۔ اور اسی وجہ سے وہ ان لوگوں سے افضل ٹھہرے جو زیر دست ہو کر ایمان لائے۔ اس بات میں کسی مسلمان کو اختلاف نہیں۔ علاوہ از ایں سب سے پہلا حکم جو اللہ عز و جل نے اپنے نبی محمد ﷺ کو دیا وہ یہ تھا کہ لوگوں کو، قتال کیے بغیر ، صرف حجتِ بالغہ کے ذریعے دعوت دیں۔ پھر جب حجت قائم ہو گئی اور لوگوں نے حق کے خلاف ضد پکڑ لی تو تب اللہ تعالی نے ان پر تلوار سونتنے کی اجازت دی۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۚ (سورۃ الانعام: ۱۴۹)
’’ کہو کہ : ایسی دلیل تو اللہ ہی کی ہے جو (دلوں تک) پہنچنے والی ہو۔‘‘
نیز فرمایا:
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۭ (سورۃ الانبیاء: ۱۸)
’’ بلکہ ہم تو حق بات کو باطل پر کھینچ مارتے ہیں، جو اس کا سر توڑ ڈالتا ہے، اور وہ ایک دم ملیا میٹ ہو جاتا ہے۔‘‘
اور اس میں شک نہیں کہ ایسا حجت کے ذریعے سے ہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ تلوار تو کبھی ہمارے حق میں ہوتی ہے اور کبھی ہمارے خلاف۔ لیکن دلیل و حجت کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ وہ تو ہمیشہ ہمارے حق میں ہوتی ہے، جبکہ ہمارے مخالفین کے اقوال کو ہمیشہ توڑنے اور زائل کرنے والی ہوتی ہے۔ بے شمار دفعہ ایسا ہوا کہ طاقتِ بازو نے باطل کے ذریعے بہت سارے حق کو دبا کر اسے ختم کر دیا۔ اس میں یومِ حرۃ1جس دن یزید بن معاویہ نے مدینہ منورہ پر لشکر کشی کی۔ بھی شامل ہے ، حضرت عثمان کا مقتل بھی ہے اور حضرت حسین اور ابن الزبیر کا مقتل بھی، نیز بے شمار انبیاء علیہم السلام بھی قتل کیے گئے لیکن ان کی حجت کبھی مغلوب نہیں ہوئی۔ “
اس مطلب میں امام شافعی کے اشعار کتنے خوبصورت ہیں :
قَالُوا سَكَتَّ وَقَدْ خُوصِمْتَ قُلْتُ لَهُمْ
إِنَّ الْجَوَابَ لِبَابِ الشَّرِّ مِفْتَاحُ
فَالصَّمْتُ عَنْ جَاهِلٍ أَوْ أَحْمَقٍ شَرَفٌ
أَيْضًا وَفِيهِ لِصَوْنِ الْعِرْضِ إِصْلاحُ
أَمَا تَرَى الأُسْدَ تُخْشَى وَهِيَ صَامِتَةٌ
وَالْكَلْبُ يَخْشَى لَعَمْرِي وَهُوَ نَبَّاحُ
”لوگ کہتے ہیں کہ تم چپ رہے حالانکہ تمہارے خلاف وہ جھگڑے۔ تو میں نے کہا کہ جواب شر کے دروازے کی کنجی ہے۔
جاہل یا احمق کے مقابل چپ رہنا باعث شرف ہے۔ اور اسی میں عزت کی حفاظت کے لیے اصلاح کا پہلو ہے۔
کیا دیکھتے نہیں کہ شیر چپ رہے تب بھی اس سے ڈرا جاتا ہے جبکہ کتے کے بھونکتے ہی اسے رسوا کیا جاتا ہے۔“
٭٭٭٭٭
- 1جس دن یزید بن معاویہ نے مدینہ منورہ پر لشکر کشی کی۔ ↩︎













![مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]](https://nawaighazwaehind.org/wp-content/uploads/2026/02/مختصر-فضائلِ-جہاد-360x504.jpg)
