نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

جمہوریت…… ایک دینِ جدید | حصہ چہارم (آخری)

فضیلۃ الشیخ حسن محمد قائد شہید(ابو یحییٰ اللیبی)﷬

by فضیلۃ شیخ ابو یحییٰ اللیبی شہید
in نومبر و دسمبر 2021, جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
0

مفسرین نے لکھا ہے کہ بعض کفارنے مسلمانوں سے بحث کرتے ہوئے یہ شبہ پیش کیا کہ تمہارا زعم ہے کہ تم اللہ کی رضا جوئی چاہتے ہو حالانکہ جس جانور کو اللہ تعالیٰ ذبح کردے(یعنی خود مر جائے) اسے نہیں کھاتے اور جسے تم خود ذبح کرتے ہو اسے کھاتے ہو؟ تو ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَاِنْ اَطَعْتُمُوْھُمْ اِنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ؀ (سورۃ الانعام: ۱۲۱)

’’اگر تم نے ان کی اطاعت کی( یعنی مردار کھایا) تو یقیناً تم بھی مشرک ہو جاؤ گے‘‘۔

یہ تو ایک مشتبہ قسم کی بات تھی جو شیاطین نے اپنے دوستوں کو سمجھائی اور ان مشرکین نے پیش کی، اور اس بات کا تعلق بھی فقط ایک مسئلے یعنی مردار کی حِلّت سے تھا۔ ممکن تھا کہ کوئی اس معاملے کو معمولی خیال کرے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ اگر تم نے ان کاکہا مانا اور مردار کو حلال سمجھنے میں ان کی پیروی کی تو تم بھی مشرک ہو جاؤ گے۔ توپھر آخر ان اسمبلیوں کی پیروی کرنے والے کو کیا کہا جائے گا جن کا قیام ہی حلال و حرام کا فیصلہ کرنے اور خود ساختہ قانون سازی کرنے کے لیے عمل میں آیا ہے۔ یہ اسمبلیاں اپنے ہی بنائے ہوئے دستور کے سوا کسی بات کی پابند نہیں ہیں۔ یہ لوگ تو جاہل و سادہ لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے ہی سہی……اپنے بنائے ہوئے قوانین اور حلال و حرام کے فیصلوں کا شریعت سے ناتا جوڑنے کی زحمت تک نہیں کرتے۔ ان کی نظر میں شریعت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ اپنی خواہشات کو قوم کی مصلحت کے نام دیتے ہیں اور پھر اس کے مطابق قانون سازی کرتے چلے جاتے ہیں۔ اقتصادی مصلحت کے نام پر سود کو حلال کرتے ہیں، شخصی آزادی کے نام پر زنا و فواحش کے اجازت نامے جاری کرتے ہیں اور سیاحت و ترقی کے نام پر شراب و کباب کو مباح گردانتے ہیں۔

مثال کے طور پر یہ ایک معلوم شدہ امر ہے کے دینِ اسلام میں شراب قطعاً حرام ہے، لیکن اگر کوئی احمق رکنِ پارلیمان یہ قرارداد پیش کرتا ہے کہ ایک دو سال یا پھر ہمیشہ کے لیے شراب کی خرید و فروخت سے پابندی اٹھائی جائے تاکہ ملک میں اقتصادی ترقی ہو اور سیاحوں کے لیے کشش و سہولت پیدا ہو تو اس احمق پر کوئی مواخذہ نہیں بلکہ اس ’’ عظیم اقتصادی بل‘‘ کو اپنے نفاذ کے لیے صرف اکثریت درکار ہوگی۔ اور اگر پارلیمنٹ کی اکثریت اس کی توثیق کر دے تو پھر شراب کی خریدو فروخت مباح ہوگی اور کسی کو یہ حق نہ ہوگا کہ اس کا انکار کرے بلکہ جو اس کی مخالفت کرے گا اس پر فردِ جرم عائد ہوگی اور وہ سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔

ارکان پارلیمنٹ میں سے اگر کوئی ہم جنس پرستی کا دلدادہ ہے اور اسے قانونی جواز مہیا کرکے اپنے اور اپنے جیسے دوسرے بدمعاشوں کو سہولت دینا چاہتا ہے تواسے بھی بل پیش کرنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح سودی لین دین کرنے والی بڑی کاروباری مچھلیاں اپنی پسند کی سودی اصلاحات کے نفاذ کے لیے قانون سازی کروا سکتی ہیں، شراب و کباب کے رسیا بھی اسمبلی سے ریلیف حاصل کرنے کے لیے بل پیش کرسکتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہیجڑے بھی اپنی تنظیمیں بنا کر ہیجڑا سازی کے کاروبار کو قانونی جواز عطا کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ صرف ایک ہی شرط ہے کہ وہ دستور کے مخالف نہ ہو، جبکہ اسلام کے مخالف ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کے بعد اگر پارلیمنٹ کی اکثریت چاہے تو ان تمام قراردادوں اور مطالبات کو منظور کرکے انہیں جواز مہیا کرسکتی ہے اور اس کے بعد تمام لوگوں پر انہیں تسلیم کرنا اور ان کا احترام کرنا واجب ہوجاتا ہے۔

اور اسی طرح وہ قانون جو پارلیمنٹ سے منظور ہوجائے…… اگرچہ کہ وہ شریعت سے کلی طور پر متصادم ہی کیوں نہ ہو…… دینِ جمہوریت میں اسے ہر طرح کا تحفّظ اور تقدّس حاصل ہوگا کیونکہ پارلیمنٹ کی بالادستی اِس کے نزدیک ہر قسم کی حاکمیت سے بالاتر ہے۔

ثالثاً: دین اسلام میں کسی چیز پر یہ حکم لگانا کہ یہ حق ہے یا باطل ، جائز ہے یا ناجائز، حرام ہے یا حلال…… اُس دلیلِ شرعی کی بنیاد پر ہوتا ہے جو کتاب اللہ اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل ہے، جبکہ اجماع و قیاس بھی اسی کے تابع اور اسی سے مستنبط ہوتے ہیں۔ ایسے احکام کا ثبوت محض عقل، ذوق، رغبت ، صلاحیت یا تجربہ پر مبنی نہیں ہوتا ۔حق تو وہ ہے جو خالص اور پاکیزہ آسمانی احکام پر مبنی ہو۔یہ کسی گروہ یا جماعت کی ملکیت نہیں خواہ وہ کیسے ہی اوصاف کے حامل کیوں نہ ہوں ،چاہے وہ سیاست سے متعلق ہوں ،چاہے اکثریت کے حامل ہوں،چاہے عربی ہوں اور چاہے عجمی۔ وہ صرف اس وجہ سے حق ہے کہ شریعت نے اسے حق کہا ہے۔ اور جو باطل ہے وہ اس لیے باطل ہے کہ شریعت اسے باطل قرار دیتی ہے۔ اگر آسمانوں اور زمینوں کے تمام لوگ اس بات پر جمع ہوجائیں کہ شریعت سے ثابت شدہ حق کو باطل اور باطل کو حق قرار دیں تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔حق، حق ہی رہے گا اور باطل، باطل ہی کہلائے گا۔ ہدایت کو ہدایت ہی کہا جائے گا اور گمراہی، گمراہی ہی قرار پائے گی۔جبکہ لوگوں کی قیاس آرائیوں اور اٹکل کی کوئی حیثیت نہیں۔

یہ بات اسلام سے ثابت ہے اور یہ عقیدہ رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ اس کے برعکس دینِ جمہوریت میں کسی چیز کے صحیح یا باطل ہونے پر اور اس کے حسن و قبح پر حکم لگانا پارلیمنٹ کی غالب اکثریت کا حق ہے۔ (یہ عین وہی مسئلہ نہیں جس کا ذکر سابقہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ پارلیمان کو تشریع و قانون سازی کا حق حاصل ہے۔یہاں ہم یہ بات کر رہے ہیں کہ ارکانِ پارلیمنٹ کو اپنی مرضی ومنشاکے مطابق رائے دینے کا حق بھی حاصل ہے۔ یہ سابقہ مسئلے سے مختلف ہے اگرچہ اس کے مشابہ ضرور ہے۔)

عظیم ترین مصیبت تو یہ ہے کہ جب کوئی تجویز اکثریت کی حمایت سے منظور ہو جائے تو اسے تمام ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے سمجھا جاتا ہے اور ہر رکنِ پارلیمنٹ کو اس کا معترف اور موافق سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح مجلسِ ارباب (پارلیمنٹ) میں قانون سازی کا عمل تین مرحلوں میں طے ہوتا ہے ۔

  1. پہلا مرحلہ: اس میں کوئی بھی رکنِ پارلیمنٹ اپنی مرضی اور منشاسے دستور کی حدود میں رہتے ہوئے ایک تجویز (بل) پیش کرتا ہے۔

  2. دوسرا مرحلہ: یہاں ہماری بحث اسی مرحلہ سے متعلق ہے، اس مرحلے میں اس تجویز پر رائے زنی اور مناقشہ و مباحثہ ہوتا ہے۔ ہر شخص اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔ اس کی مرضی ہے کہ اس پر اعتراض کرے یا اس کی حمایت کرے۔ اس میں ترمیم کا مطالبہ کرے یا چاہے تو خاموش رہے ۔البتہ جب اکثریتی رائے سے وہ قانون منظور ہو جائے تو اسے قانونی و شرعی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔

  3. تیسرا مرحلہ : یہ ہے کہ جب کوئی قانون بواسطہ پارلیمان منظور ہوجائے تو پھر یہ نہیں کہا جاتا کہ اکثریت کی حمایت سے منظور ہوا ہے ۔بلکہ ہر رکن پارلیمنٹ کو اس میں شریک سمجھا جاتا ہے کیونکہ کسی نہ کسی طور پر وہ قانون سازی کے اس عمل میں شریک ضرور ہوا ہے اور وہ اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ اکثریت کی حمایت سے منظور شدہ قانون تمام لوگوں پر واجب الاطاعت ہوتا ہے۔

بہت سے لوگ دینِ جمہوریت کے خدوخال کی داد و تحسین میں مگن ہیں مگر میں یہاں ایک مثال بیان کرتا ہوں جس کے ذریعہ اس کا مکروہ چہرہ نمایاں ہوگا۔ مثلاً اگر کوئی گھٹیا ترین رکن پارلیمان دستور کی حدود میں رہتے ہوئے یہ تجویز پیش کرے کہ دو مردوں کو اعلانیہ طور پر شادی رچانے کی اجازت دی جائے اور اس سلسلے میں قانون منظورکیا جائے تو تمام ارکانِ پارلیمنٹ اس تجویز پر مناقشہ کرتے ہوئے اپنی اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔ اپنی اپنی رائے دہی اور بحث کا اختیار استعمال کریں گے۔ پھر اس پر ووٹنگ ہوگی تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ اکثریت اس تجویز کی حمایت کرتی ہے یا مخالفت۔ اور اگر اکثریت اس کی حمایت میں ووٹ ڈال دے تو یہ تجویز ملکی قانون کا درجہ حاصل کرلے گی جسے ہر طرح کا احترام اور تقدس حاصل ہوگا اور اس قانون کو پورے پارلیمان سے منظور شدہ قرار دیا جائے گا، صرف اکثریت کی طرف سے نہیں ۔

رسمی اعتراض تو صرف اس وقت تک ہوتا ہے جب تک وہ تجویز منظور نہ ہوئی ہو ، مگر جب اکثریت کی حمایت سے کوئی قانون پاس ہوجائے تو پھر کسی کو اس پر اعتراض کا حق باقی نہیں رہتا۔ ایک دفعہ قانون منظور ہونے کے بعد تو اقلیت و اکثریت تمام ارکانِ پارلیمان پر واجب ہوتا ہے کے اس پر’’ آمنّا وصدقنا‘‘ کہیں۔

یہ انتہائی خطرناک اور مہلک حقیقت ہے جس کی زد میں نام نہاد اسلامی ارکانِ پارلیمنٹ بھی آتے ہیں۔ لیکن بہت سے لوگ اس حقیقت کا ادراک نہیں رکھتے اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اسلام پسند لوگوں کے پارلیمنٹ میں جانے سے مفاسد کی روک تھام ہوگی اور اسلام کے بعض مفادات کی نگہبانی ہوسکے گی۔ مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اسی وجہ سے میں کہا کرتا ہوں کہ بالفرض اگر کسی پارلیمنٹ میں شرعی احکام کو محض جائزے ہی کے لیے پیش کیا جائے اور پھر ارکانِ پارلیمنٹ ان کے قبول و عدم قبول پر بحث کریں اور پھر ارکانِ پارلیمان کے اتفاق سے شرعی احکامات ہی نافذ بھی کر دیے جائیں تب بھی تمام ارکان پارلیمنٹ کی شرکیہ کفریہ اور طاغوتی حیثیت ختم نہیں ہو گی۔ وہ شرعی احکام بھی خود ساختہ قوانین کہلائیں گے جو چند انسانوں کے اتفاق سے منظور ہوئے ہیں۔ عین ممکن ہے یہی ارکان پارلیمنٹ آئندہ اجلاس میں ان قوانین کو کالعدم قرار دیں یا ان کے بعد آنے والے لوگ مختلف آرا و خواہشات رکھنے کی وجہ سے انہیں ختم کردیں۔

علاوہ ازیں ہماری شریعت نے عوام کی اکثریت کو معصوم یا درست قرار نہیں دیا بلکہ کتابِ عزیز میں عموماً اکثریت کی مذمت ہی کی گئی ہے جیسے کے فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَمَآ اَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْن (سورۃ یوسف:۱۰۳)

’’اور اکثر لوگ اگرچہ تم کتنی ہی خواہش کرو ایمان لانے والے نہیں ہیں۔‘‘

نیز فرمایا:

وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاللّٰہِ اِلَّا وَھُمْ مُّشْرِکُوْن(سورۃ یوسف:۱۰۶)

’’اور اکثر لوگ اللہ پر ایمان کا دعویٰ رکھنے کے ساتھ اس کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔‘‘

وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْن(سورۃ الانعام:۱۱۶)

’’اور اگر تم زمین میں بسنے والے اکثر لوگوں کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کردیں گے، یہ محض خیال کے پیچھے چلتے ہیں اور نرے اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔‘‘

اور فرمایا:

وَمَاوَجَدْنَا لِاَکْثَرِھِمْ مِّنْ عَھْدٍ وَاِنْ وَّجَدْنَآ اَکْثَرَھُمْ لَفٰسِقِیْنَ (سورۃ الاعراف : ۱۰۱۔۱۰۲)

’’ اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد نہیں پایا اور یقینا ً ہم نے ان میں سے اکثر کو نافرمان پایا۔‘‘

ایک اور مقام پر اللہ عزوجل فرماتے ہیں:

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ فَاَبٰٓی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوْرًا(سورۃ الاسراء:۸۹)

’’اور ہم نے اس قرآن میں سب باتیں طرح طرح سے بیان کر دی ہیں لیکن اکثر لوگوں نے انکار ہی کیا، قبول نہ کیا۔‘‘

مزید ایک مقام پر فرمایا:

وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَھُمْ اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْن(سورۃ الصافات:۷۱)

’’اور ان سے پیشتر، پہلے لوگوں کی اکثریت گمراہ ہوگئی تھی۔‘‘

اس حوالے سے دیگر بہت سی آیات بھی ہیں جو مشہور و معروف ہیں ۔

اکثریت کے حوالے سے قرآنِ حکیم کا بیان آپ پڑھ چکے ، اب سوال یہ ہے کہ اس دورِ جمہوریت میں کس نے اکثریت کو درست میزان اور انصاف پسند فیصلہ قرار دے کر شریعت سازی کا حق سونپ دیا ہے؟

اَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِکُمْ اَمْ لَکُمْ بَرَآئَۃٌ فِی الزُّبُر(سورۃ القمر:۴۳)

’’کیا تمہارے کفار ان سابقہ کفار سے بہتر ہیں یا تمہارے لیے سابقہ صحیفوں میں برأت لکھ دی گئی ہے؟‘‘

اس دینِ جدید (جمہوریت) پر بہت سے علمائے کرام نے لکھا ہے اور اس کی قباحتوں کو بیان کیا ہے تاکہ لوگ اس کی حقیقت سے آگاہ ہوجائیں۔ یہاں ہمارا مدعا صرف یہی تھا کہ جمہوریت کی بحث کی بنیادی اور اہم باتوں کی نشاندہی کریں۔ ورنہ اگر ہم جمہوریت کے شیطانی راستوں کی تفصیل میں جائیں تو بات بہت طول پکڑ جائے ، (واللہ المستعان)!

اہم ترین تنبیہ

آخر میں ایک اہم بات کی تنبیہ کرنا چاہوں گا۔ ہم نے جمہوریت میں پائے جانے والے واضح نواقص بیان کیے تاکہ ایک مسلمان کے ذہن میں اس کی صحیح تصویر بن سکے، اور وہ اس میں داخل ہوکر اپنے دین کو خسارے میں ڈالنے سے بچائے۔ کیونکہ یہی دین تو ایک مسلمان کی عزیز ترین متاع ہے اور اس میں نقصان عظیم ترین خسارہ ہے۔ لیکن اس کا یہ مقصود نہیں کہ ہم اشخاص پر حکم لگائیں۔ یہاں جو حکم جمہوریت پر لگایا گیا ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جو شخص جہالت یا تاویل کی بنا پر اس جمہوری عمل میں شامل ہوتا ہے اس پر بھی یہی حکم لگایا جائے۔ علمی و شرعی حقائق کا بیان ایک الگ چیز ہے اور اشخاص پر ان کا حکم لگانا ایک مختلف چیز۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور راہِ حق پر ہمارے دلوں کو جما دے، یہاں تک کہ ہم اس میں کوئی تبدیلی و تغیرکیے بغیر اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملیں، آمین۔

والحمد للہ رب العالمین!

تمّت بالخیر

٭٭٭٭٭

Previous Post

حقوقِ خواتین کے حوالے سے امیر المومنین شیخ ہبۃ اللہ اخندزادہ (دامت برکاتہم العالیۃ) کا فرمانِ خاص

Next Post

مع الأُستاذ فاروق | تیئسویں نشست

Related Posts

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | بارہویں اور آخری قسط

14 جولائی 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | گیارہویں قسط

9 جون 2025
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | دسویں قسط

26 مئی 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | نویں قسط

31 مارچ 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | آٹھویں قسط

14 مارچ 2025
اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | چوتھی قسط
جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!

اکیسویں صدی میں جمہوری نظام تباہی کے دہانے پر! | ساتویں قسط

15 نومبر 2024
Next Post

مع الأُستاذ فاروق | تیئسویں نشست

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مارچ 2026ء
مارچ 2026ء

مارچ 2026ء

by ادارہ
8 مارچ 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version