نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home نوائے امارتِ اسلامیہ…… الحکم للہ! الملک للہ!

حقیقی اسلام… امارت اسلامیہ افغانستان

by عمر دیبلی
in نوائے امارتِ اسلامیہ…… الحکم للہ! الملک للہ!, اکتوبر 2021
0

کیوں آج افغانستان میں طالبان کی نفاذِ شریعت کی جدوجہد اپنی تکمیل کی طرف گامزن ہےاور اللہ کی مدد و نصرت اس کے ساتھ ساتھ لمحہ بہ لمحہ نظر آرہی ہے؟ اتنے وسیع پیمانے پر فتح حاصل کرنے کے بعد امارت اسلامی کے ایک امر کی پابندی و اطاعت کیسے ہو جاتی ہے کہ امیر المؤمنین کے ایک امر آجانے کے بعد مجال ہے کہ کسی ایک جگہ یا کسی علاقے میں کوئی بے امری ہو جائے چاہے وہ کسی کام کے کرنے کا حکم ہو یا کسی سے ممانعت کا حکم ہو؟ ہم یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس بات میں کوئی شک نہیں الحمد اللہ کہ امارت کا امر حقیقتاً ایک امر شرعی سمجھا جاتا ہے اور اس پر اسی طرح سے عمل ہوتا ہے کہ جس طرح سے ایک اسلامی حکومت میں ہونا چاہئے،لیکن کیا کبھی آپ نے یہ بھی سوچا ہے ایسا کیونکر ممکن ہوا؟ایسی کیا خصوصیات ہیں ان میں جس کی وجہ سے یا ایسا کیا کمال ہے ان میں یا انہوں کوئی کوئی ٹریننگ یا دورہ وغیرہ یا کوئی مینجمنٹ کا کوئی کورس کیا ہوا ہے ؟بلکہ ان کے بارے میں تو یہ دجالی دنیا یہ کہتی پھرتی تھی کہ ان کو تو دنیا کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے، یہ تو وہ لوگ ہیں جو صرف قہوہ اور خشک روٹی کھاتے ہیں یا ان کو تو صرف بیلچہ چلانا آتا ہے، یہ تو صرف اپنے باغ میں پانی لگا سکتے ہیں اور ان کے بس کی کیا چیز ہے۔اسی طرح دوسری طرف امارت اسلامیہ کو اگر ہم دیکھیں تو ہم پر یہ بات واضح ہوگی کہ ان کے ہر عمل و قول سے حقیقت اسلام دکھتی ہے۔ ان کے فیصلے،ان کی پالیسی، ان کی جنگی اسٹریٹجی ،ان کی قضات کا شعبہ،ان کے حاکموں اور والیوں کا نظام ،غرض یہ کہ ان کی امارت کے پورے ڈھانچے میں حقیقی اسلام کی ترجمانی ہے ۔آج سے بیس سال پہلے یہی امارت تھی جس نے ایک فرد واحد مجاہد مومن کے لئے پوری امارت کا سقوط برداشت کر لیا اور اس صدی میں صحابہ کی یاد تازہ کردی۔ اگر امارت اسلامیہ بھی ان نام و نہاد اسلامی ممالک کہ جن کی تصویر صرف صورت ِاسلام کی سی رہ گئی ہے، ان کی طرح ایک فون کال پر ڈھیر ہو جاتی تو آج ان کو وہ رفعت و فضیلت حاصل نہ ہوتی جو کہ الحمد اللہ اللہ تعالی نے ان کو عطا کی اور اللہ ان سے پوری امت کی امامت کے فرائض انجام دلوا رہا ہے ۔اور یہی فرق ہے ظاہری اسلام اور حقیقی اسلام میں کہ جب بھی کافروں کا مقابلہ کسی ایسی جماعت سے ہوا ہے جو صرف ظاہری اسلام رکھتی ہے تو کافروں نے ان کو شکست دی ہے لیکن تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جب بھی حقیقی اسلام میدان میں آیا تو کافروں کو شکست ہوئی ہے۔ بڑ ے بڑے لشکروں کو قلیل تعداد کے ساتھ مسلمانوں نے شکست دی ۔بپھرے ہوئے دریاؤں میں گھوڑے اتار دیے گئے۔

دشت تو دشت تھے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

خامیوں سے پاک اور بالکل مکمل ذات تو صرف اللہ کی ذات ہے جس میں کوئی شک نہیں یقیناً امارت اسلامی کے لشکر میں بھی کچھ نہ کچھ کمزوریاں ہوں گی لیکن ان سب کے باوجود اللہ کے خاص فضل سے یہ لشکر کامیابیوں کی طرف گامزن ہے اور اللہ نے ان کو ایسی رفعت و اعلیٰ درجے کی فضیلت عطا کی ہے کہ ایک مجاہد فی اللہ کو دشمن خود گرفتار کرتا ہے پھر کچھ اس تحریک اور اس جدوجہد کی قوت و طاقت کی مضبوطی اور اس کے غالب ہونے کے امکان کے ڈر سے اس کو خود ہی چھوڑ کر اس کو امن کی پیش کش کرتا دکھائی دیتا ہے اور جیل کی کال کوٹھری سے نکال کر اپنی دنیا کے ایوانوں میں عزت کے ساتھ لے کے جاتا ہے اور اب یہاں تک بات پہنچی ہوئی ہے کہ اس سے ملنے کے لئے بھی اس کو پہلے ٹائم لینا پڑتا ہے، جس کو اس نے ماضی میں اپنی جیل میں ڈالا تھا۔ یہ ساری کامرانیاں و کامیابیاں حقیقت اسلام سے تعلق رکھتی ہیں جو کہ ہمارے اسلاف کا طریقہ رہا ہے جو ہمیں اصحابِ نبیﷺ سے اور ان کے بعد آنے والے ہر سپہ سالار کی سیرت سے ملے گا، جس نے اپنے لشکروں سے ،اپنے گھوڑوں سے دشمنانِ دین کو اپنے اپنے ادوار میں شکست سے دوچار کیا اور ان کو ناکوں چنے چبوائے اور یہ ثابت کرکے دکھایا کہ ظاہری اسلام کے ساتھ اگر حقیقی اسلام ہوگا تو آپ کی تحریک جہاد یا آپ کی دعوت ِ دین اِن شاء اللہ دشمن کو خوف و ہراس میں مبتلاء کرے گی اور اللہ آپ کو غلبہ دین عطا فرمائیں گے اور دشمن پر ایسے سپہ سالاروں کا رعب و دہشت ہی معرکوں کو سر کرنے کے لئے کافی ہو گی ۔جس طرح امریکہ نے ایک بدمست ہاتھی کی طرح تکبر کے نشے میں چُور افغانستان پر حملہ کیا، شروع میں ایک عام سادہ مسلمان بھی یہی سوچتا ہوگا کہ سب کچھ ختم ہو گیا طالبان ،یہ اسلامی حکومت سب ختم ہو گئی لیکن حقیقی اسلام سے آشنا لوگوں کی نظر میں یہ ایک کامیابی تھی۔ اس بدمست ہاتھی کو محاذ کی طرف کھینچ کر لانے کی یہ فکر وہ ہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اسلام کی حقیقت کو دراصل سمجھتے ہیں۔ بعض اہل علم لوگ تو یہاں تک کہتے تھے؛ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ زیادہ سے زیادہ یہاں رکے تاکہ جنگ میں اسکی معیشت لگتی جائے ،لگتی جائے اور اس کو کھڑا ہونے کا موقع نہ ملے…

اس حقیقت اسلام کو سمجھنے کے لئے تاریخ کی بعض مثالوں پر نظر ڈالتے ہیں :

اصحابِ رسول ﷺ کا حقیقت ِ اسلام کو سمجھنا

1۔ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے ،ان کو پھانسی کے تختے پر چڑھایا گیا،نیزوں نے ان کو جسم کو نوچنا شروع کیا ،برچھیوں نے ان کے جسم کو چھلنی کر دیا وہ صبر و استقامت کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے پھر عین اس وقت ان سے پوچھا گیا کہ کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ اس جگہ رسول اکرم ﷺ ہوں ؟تو وہ اس حالت میں بھی کہ جان نکلی جاتی ہے، تڑپ کر کہتے ہیں کہ میں تو اس پہ بھی راضی نہیں کہ مجھے چھوڑ دیا جائے اور حضورﷺ کے تلوہ میں کوئی کانٹا بھی چھبے !!!

2۔حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ مکہ سے ہجرت کے لئے نکلے تو راستے میں کفار مکہ نے ان کو روک لیا اور کہا کہ صہیب تم جا سکتے ہوں مگر یہ مال نہیں لے جا سکتے جو تم نے ہمارے شہر میں کمایا ہے ،یہاں اسلام کا مال سے مقابلہ ہوا اور اسلام اپنے مقابل پر غالب آیا۔ یہاں اگر صرف ظاہری اسلام ہوتا تو مال کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا ۔

3۔حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ ہجرت کے لیے نکلے تو کفار مکہ نے ان کا راستہ روک کر کہا کہ تم تو جا سکتے ہوں لیکن ہماری لڑکی ام سلمہ کو نہیں لے جاسکتے ۔ اب یہاں کیا ہے، بیوی کی محبت جو کہ ایک حقیقت ہے لیکن یہ حقیقت بھی حقیقی اسلا م کے سامنے شکست کھا گئی ۔

4۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں نماز پڑھ رہے ہیں، اتفاق سے باغ میں ایک چڑیا آگئی اور اسے پھر جا نے کا راستہ نہیں ملا۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی نماز میں توجہ بٹ گئی۔ نماز کے بعد انہوں نے اپنا پورا باغ صدقہ کردیا اس لئے کہ نماز اس شرکت کو گوارا نہیں کر سکتی ۔آج ہماری اور آپ کی نمازادنیٰ سے ادنیٰ حقیقتوں کا مقابلہ اس لیے نہیں کر سکتی کیونکہ اس نماز میں اسلام کی بس ایک ظاہری صورت باقی رہ گئی ہے اس میں حقیقی اسلام کی صورت نہیں ہے ۔

5۔ایک جنگ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک مشرک کے مقابل ہوئے تو اس کو زخمی کر دیا۔ وہ زخمی ہو کے بھاگا لیکن آپ نے اسے جا لیا، ابھی آپ اس کا کام تمام کرنے ہی والے تھے کہ اس نے آپ کے چہرے کی جانب تھوک دیا۔لمحے بھر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضا میں اٹھتی ہوئی تلوار رک گئی اور آپ نے اسے چھوڑ دیا اور اس سے الگ ہو گئے تو مشرک یہ دیکھ کر حیران اور تعجب سے آپ سے پوچھتا ہے کہ مجھے کیوں چھوڑ دیا؟اس پر آپ نے فرمایا کہ پہلے جب میں تمھیں مار رہا تھا وہ اللہ کے لیے تھا، لیکن ابھی تم نے جو کیا اس پر میں تمہیں نہیں مار سکتا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرا تمہیں اب مارنا ذاتی وجہ بن جائے۔۔۔تو یہ ہے اسلام کی حقانیت اور اس کا فہم کہ کس لیے کسی کو مارنا ہے اور کس لیے اپنی جان دینی ہے، اپنا مال دینا ہے ۔

6۔یہ حقیقی اسلام ہی ہے کہ ایک صحابی کو جنگ کے دوران کھجور کھانے میں دقت ہو رہی ہے کہ میں اتنی دیر بھی کیوں کروں کہ جنت جانے میں کہیں یہ موقع میرے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔

7۔جب آپ ﷺ کے معراج کے سفر کی روداد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو ہوئی حالانکہ آپ کی ابھی ملاقات بنسِ نفیس نہیں ہوئی تھی۔ پھر آپ نے کیا فرمایا، آپ نے کہا کہ اگر رسول اللہ ﷺنے کہا ہے تو آپ ﷺ یقیناً معراج کے سفر پر گئے ہوئے تھے، یہ ہے حقیقی اسلام سے دلوں کا منور ہونا۔

یہ صرف کسی ایک صحابی رسولﷺ کا واقعہ نہیں، آپ ﷺ کے ایک ایک صحابی اس ہی درجے میں اسلام کی حقیقت کو سمجھتے تھے اور اس پر عمل پیرا ہوتے تھے ۔حالانکہ ہر صحابی رسولﷺ عالم ِقرآن نہیں تھے،ہر صحابی رسولﷺ محدث نہیں تھے لیکن اسلام کے فہم کی کنجی ہی اسی میں ہے کہ جتنا علم پہنچ گیا اس ہی کو سمجھ لیا۔ کسی نے ایک حدیث آپﷺ سے سنی اور اسی حدیث پر عمل کر کے فلاح پاگیا۔ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپﷺ کے ساتھ تھے، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں سوائے میری اپنی جان کے ، تو آپﷺ نے وہی حدیث سنائی کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے ماں باپ ،اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں ۔۔۔تو اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کوئی زیادہ سوچا نہیں یا یہ نہیں کہا کہ میں سوچ کے جواب دوں گا یا میں آپ کا کل بتاتا ہوں، آپ رضی اللہ عنہ نے بھی فوراً ہی کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ اب میں آپ کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھتا ہوں… یہ تھی اسلام کی حقیقت اور اسلام کی حقانیت جو کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے کردار سے جھلکتی تھی اور ان کے دل اس کی روشنی سے منور تھے ۔

تاریخ کے بعد کے ادوار سے اسلاف کا حقیقی اسلام

یہ اسلام ہی ہےکہ لیبیا کے معروف جرنیل و سپہ سالار عمر مختار رحمہ اللہ نے گرفتاری کے بعد اس جنرل کی ہر قسم کی پیش کش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کبھی بھی ممکن نہیں کہ میں تمہارے ساتھ مل جاؤں اور مسلمانوں اور مجاہدین کے خون کا سودا کر لوں۔ وہ آخر تک اسی پر ڈٹے رہے یہاں تک کہ ان کو پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا۔

یہ اسلام ہی ہے کہ مصر کے مفکر و مجاہد سید قطب رحمہ اللہ نے اپنی گرفتاری کے بعد ہر اس پیشکش کو ٹھکرادیا جو اس دور کی حکومت ان سے کروانا چاہ رہی تھی اور ان کو بھی پھانسی دے کر شہید کر دیا گیا۔

یہ اسلام ہی ہے کہ امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ نے شیخ اسامہ رحمہ اللہ کو کسی کے حوالے نہ کیا بلکہ اپنی وہ امارت اسلامیہ جو کہ سالوں کی کوششوں اور لاکھوں قربانیوں سے حاصل ہوتی ہے، اس کو داؤ پر لگادیا۔ یہ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے، اگر آپ غور کریں کہ اپنی افغان ملت کے بچوں کو یتیم کرانا،اپنی افغان عورتوں کو بیوہ کرانا،ہر قسم کی بمباریوں اور تباہیوں کوگلےلگانا، یہ اسلام ہی تو ہے۔

اے کہ سلطانِ جابر، فرعونِ دہر! ہم خدا تجھ کو ہرگز نہیں مانتے
عرش والا ہمارا الٰہ ایک ہے… کچھ احد کے سوا ہم نہیں جانتے!

یہ اسلام ہی تو ہے کہ آج تک خالد شیخ محمد فک اللہ اسرہ جیل میں امریکیوں کو یہ کہتے ہیں کہ تم آج مجھے چھوڑو میں کل پھر نائن الیون کروں گا۔۔۔کیا شیخ خالد کو نہیں پتہ کہ ان کے بچے بھی ہیں ان کا اہل و عیال بھی ہے ۔۔۔ان کے پیچھے ان کے اہل و عیال پر کتنی سختیاں گزری ہوں گی لیکن اصل میں بات یہ ہے کہ ان کا دل و ایمان اسلام کی روشنی سے منور ہے، ان کو پتہ ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور کیا کرنا چاہتے ہیں، مومن کے لیے اللہ اور اس کا رسول سب سے محبوب تر ہے ۔ اللہ کی ڈھیروں رحمتوں نازل ہوں ان ابطال ِ امت پر۔

یہ اسلام ہی تو ہے کہ غازی علم دین شہید کے پاس لوگ آ کر کہتے ہیں کہ تم بس اتنا کہہ دو کہ یہ کام تم نے نہیں کیا ہے باقی ہم تمہارا کیس حل کروادیں گے۔ اس نے تعجب سے کہا کہ کیوں؟ میں ایسا کیوں کہہ دوں، مجھے اس جیل میں روزانہ نبی کریم ﷺ کی زیارت نصیب ہو رہی ہے، میں تو یہ نہیں چاہتا کہ مجھے جیل سے نکال دیا جائے… یہ کام میں نے کیا ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔

یہ فدائی حملہ کرنے والا بھی حقیقی اسلام ہی کی ترجمانی کرتا ہے کہ اس کو یقین ہے کہ میں اللہ کی جنت میں پہنچ جاؤں گا ورنہ ظاہری اسلام رکھنے والے کے بس کی بات کہاں؟ کہ کوئی شخص اپنے آپ کو بارود کے ڈھیر پر بٹھائے اور پھاڑدے۔

یہ اسلام ہی ہے کہ ایک مدرسے کے غیور اور اسلامی غیرت سے سرشار طالبعلم خالد افغانی نے بھری عدالت میں گستاخ ِ رسولﷺ کو اپنی پستول سے نشانہ بنا کے واصل جہنم کیا ۔

یہ اسلام ہی ہے کہ ایک شیشانی طالبعلم نے اپنی کلاس کے ایک ٹیچر جو کہ رسولﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تھا اس کو اپنے تیز خنجر سے ذبح کر دیا اور خود شہید ہو گیا۔

اسلام ایک ایسی چیز ہے جو مومن کو مطمئن ہو کے بیٹھنے نہیں دے گی، اس کو قرار نہیں آئے گا کہ دنیا میں رسول اللہ ﷺ کی گستاخیاں ہوں ،مسلمان امت پر مظالم ڈھائے جا رہے ہوں اور وہ آرام سے گھر میں بیٹھ کر زندگی گزارے ۔

اس کے برعکس ظاہری اسلام کو سمجھنے کے لئے ہم کچھ مثالوں پر نظر ڈالتے ہیں ۔

سب سے پہلے تو آپ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ کفری طاقتوں کو ظاہری اسلام سے کوئی دشمنی نہیں ہے ۔ ان کو اس ظاہر کے ہونے سے کوئی مشکل درپیش نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس کے ہونے سے ان کو کوئی تکلیف ہوتی ہے ۔جیسا کہ آپ جانتے ہوں گے رمضان کے آنے پر بھی کسی نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں بھی مسلمانوں کو روزہ افطار پہ بلایا جاتا ہے۔ نہ ان کو کسی مسلمان کے حج پر جانے پہ کوئی تکلیف ہے ، نہ صدقہ نہ غریبوں میں آٹا تقسیم کرنے پر کوئی تکلیف ہے، لیکن جب جہاں کہیں بھی اسلام کی حقیقی صورت سامنے آجائے تو کفر کے ایوانوں میں آگ لگ جاتی ہے ۔اور افسوس اس بات کا ہے ہماری اسلام کی اصل صورت کو یہ آج کے زمانے کی کفری طاقتیں بخوبی جانتی ہیں لیکن ایسا مسلمان جو کہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہے وہ اسلام کا بس ظاہر لیے پھر رہا ہے اور اسلام کی حقیقت سے دُور سے دُور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔آپ کسی بھی برائے نام اسلامی جمہوری مملکت کا معائنہ کر لیں، چاہے وہ کوئی بھی ملک ہو، ہر جگہ کفری طاقتوں نے ایک برائے نام ظاہری اسلام کی سی شکل بنا دی ہے اور مسلمانوں کو مطمئن کیا ہوا ہے کہ آپ ایک اسلامی مملکت میں رہتے ہیں۔ جمہوریت کا قانون نافذ کیا ہوا ہے۔ بہت سی اسلامی جماعتیں جو کہ دین سے مخلص ہوں گی لیکن وہ بھی اسی دھوکے میں آجاتی ہیں کہ ہم تو اس مملکت کے خلاف خروج نہیں کر سکتے، یہ تو اسلامی مملکت ہے۔ لیکن جب کبھی بھی کسی جماعت یا گروہوں نے اسلام کی اصل حقیقت کے ساتھ اسکے نفاذ کی کوشش کی ہے تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ جیسے مصر کے لوگوں نے کوشش کی تو ان کو بڑی بے رحمی سے کچلا گیا۔ جیسے پاکستان میں لال مسجد والوں کو بڑی بے رحمی سے کچلا گیا ، جو کہ سب کے سامنے ہے۔ ہر پاکستانی اس بات کو خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ لال مسجد کے خلاف کس طرح کا آپریشن کیا گیا۔ مصر میں اور پاکستان میں یہ کفری آلہ کار فوجی قوتیں کیا کام کرتی دکھائی دیں رہی ہیں؟ عقوبت خانے بھرے ہوئے ہیں امت کے قیمتی فرزندوں سے۔ کتنے سو بلکہ ہزاروں کی تعداد میں جیل خانوں سے نکال کر شہید کیے جا چکے ہیں۔ تو بات کا مقصد یہ ہے کہ جب کسی نے اسلام کی حقیقت کے ساتھ اپنی جدوجہد کا آغاز کیا اس کا راستہ کفری طاقتوں نے ہمیشہ روکا ہے۔ اور یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ کفری طاقتیں بھی ہمارے اسلام کی اصل حقیقت کو سمجھتی ہیں لیکن افسوس ہم میں بہت سوں کو تو یہ ہی نہیں معلوم کہ دنیا میں کیا چل رہا ہے، آخری زمانے کے قریب دنیا میں کیا کیا رونما ہوگا ۔حق و باطل باہم ٹکرائیں گے، جیت حق کی ہوں گی ۔کسی کو جب پتہ چلے کہ برما میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا تو وہ سوچتا ہے کہ وہ تو وہاں ہوا ہے، ہمیں اس سے کیا لینا، پاکستان میں تو امن ہے بھائی ۔کسی کو پتہ چلے کہ دہلی میں فساد ہوا ہے تو وہ بھی یہی سوچتا نظر آتا ہے کہ وہ تو ادھر ہوا ہے، یہاں تو امن ہے بھائی۔ اور افسوس کہ وہ اس فوج سے آس لگائے بیٹھا ہے جس کی تاریخ میں اسلام سے غدر لکھا ہوا ہے۔ رائل انڈین آرمی … افغانستان کی عوام کی تاریخ میں ان کے اسلاف میں محمود غزنوی، احمد شاہ ابدالی،اور دوسرے بہت سے سپہ سالار گزرے ہیں۔ اس قوم کے اندر غلامی کے اثرات آپ بالکل نہیں پائیں گے۔ جو قوم دنیا کی ہر جدید چیز کا نام اپنی مرضی سے طے کرتی ہو وہ یقیناً ایک آزاد سوچ کی مالک ہو گی۔ مثال کے طور پہ ڈرون کو بھنگنہ یا بزبزک کہتے ہیں ۔سگریٹ کے لائٹر کو ‘اور ٹک‘ کہتے ہیں ہیلی کاپٹر کو ‘سرخک‘ کہتے ہیں۔ جبکہ ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے بھی اسکولوں میں انگریزوں کی طرح ’ٹیچر‘ کے ’کلاس‘ میں آنے پر… گڈ مارننگ سر… گڈ مارننگ مس… کہتے اور سیکھتے نظر آتے ہیں۔ تو اسلام کی حقیقت ادھر ہی نظر آئے گی جہاں جدید دنیا سے مغلوبیت کے اثرات نہ پائے جائیں اور اسلام کے سادہ رواجوں کے تحت زندگی بسر کی جائے۔

ظاہری اسلام اور حقیقی اسلام میں یہی فرق ہے جو کہ ایک امارت اسلامیہ میں ہمیں نظر آتا ہے۔ اسلام کو سمجھا اور حق کے ساتھ اس پر ڈٹ گئے۔ اسامہ نہیں دینا تو نہیں دینا۔ ہم ان دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں کہ تم ہمیں پتھر کے دور میں پہنچاؤ، ہم تو رہتے ہی پتھر کے دور میں تھے اور اللہ کے فضل و کرم سے ہم نے تم جیسے چاند پہ پہنچنے کے دعویداروں کو شکست دی، ہم نے اللہ کے فضل سے تمہاری ٹیکنالوجی کو مات دی۔ یہ کیا چیز ہے کبھی ہم نے اس پر سوچا ہے۔ پاکستان نے ڈر کے مارے اپنے اڈے دے دیے کہ ہمیں پتھر کے دور میں لے جایا جائے گا۔ امریکہ کو لاجسٹک سَپورٹ ساری فراہم کی اور پھر ایک قدم اور آگے بڑھ کر فرنٹ لائن اتحادی بھی بنا۔ آپ موازنہ کریں تو آپ کو اس کا اندازہ ہوگا کہ پاکستان آج بیس سال بعد امارت اسلامیہ افغانستان سے بہت بدتر حالت میں ہے۔ دوسری طرف ہم پاکستان کی حالت زار اور اس کے بیس سالہ کردار پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم حیران رہ جاتے ہیں۔

1۔پاکستان کی موجودہ معاشی ، سیاسی و اقتصادی صورتحال اور کرپشن کے معاملات … کیا یہ سب منہ بولتا ثبوت نہیں ہیں؟ سارے ملک کا مال لوٹ کر، بینکوں کے قرضے معاف کروا کر، پھر عوام سے ٹیکس کی صورت میں نکالنا ۔

2۔ کیا وجہ ہے کہ آج ہندوستان کی ہیبت ہمیں کمزور کر دیتی ہے، لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ جنگ چل رہی ہے، جیٹ کا پائلٹ ’ابھی نندن‘ گرفتار ہوتا ہے… اور ہم خیر سگالی کے جذبے میں اسے چھوڑ دیتے ہیں اور ساتھ ہندوستان کا یہ بیان آتا ہے کہ پاکستان ہماری قوت سے ڈر گیا ہے۔ یہ پاکستان صرف جیل میں پڑے ہوئے مجاہدین کہ جن کے ہاتھ بھی بندھے ہوئے ہوں، انہی کو مار سکتا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ جہاں اس ناپاک و بزدل فوج کا پاکستان کے کسی بھی شہر یا گاؤں میں مجاہدین سے کبھی کوئی معرکہ یا مقابلہ ہوا ہے، ان کو منہ کی کھا نی پڑی ہے۔ کچھ سالوں پہلے کراچی کے علاقہ گلشن اقبال کے بلاک 13-D میں کسی مکان یا فلیٹ میں ایجنسی نے چھاپہ مارا تو وہاں دو مجاہد بھائیوں نے مقابلہ کیا جس میں ان کا ایک ایجنسی کا میجر مردار ہوا اور شاید ایک دو اور بھی۔ پھر ایک ٹاک شو میں شیخ رشید کے منہ ے نکل گیا جس پر وہ جھینپ گیا کہ یہ کیا منہ سے نکل گیا۔

4۔پاکستان میں فحاشی اور عریانی کا حال دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہر شریف النفس انسان اپنے بچوں کو اسکول اور کالجوں میں بھیجنے میں تشویش کا شکار ہے ۔یہ ہماری نوجوان نسل کس نہج پہ پہنچ گئی ہے ۔اتنی اخلاقی پستی بیس سال پہلے نہیں تھی ۔مطلب یہ کہ طالبان نے میدان میں جنگ لڑی اور فتح یاب ہوئے اور پاکستان نے صرف اڈے دیے بلکہ پہلے روز سے اپنی ملکی سالمیت بچانے کے لئے ایمان فروشی کی اور پاکستان بغیر جنگ کے جنگ ہار گیا جبکہ طالبان لڑ کر جیت گئے ۔

3۔آسیہ (خبیثہ) ایک گستاخانہ کام کر کے پورے پروٹوکول کے ساتھ کینیڈا شفٹ ہو جاتی ہے اور ہم دنیا کو پیغام دینے میں مرے جا رہے ہیں کہ ہم کتنے امن پسند ہیں۔ہم اپنی اقلیت کا کتنا خیال کرتے ہیں، چاہے اقلیت جو چاہے کرتی پھرے ، چاہے وہ نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے اور دینی شعائر کا مذاق اڑائے ۔مطلب پاکستانی حکومت ہر وہ کام کر رہی ہے کہ جس سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں ۔

4۔ایک طرف ہندوستان میں مسجدیں شہید ہو تی ہیں، کون سا ظلم باقی رہ گیا ہے جو ہندوستان کے مسلمانوں پر نہیں ہو رہا، تو دوسری طرف پاکستان میں اسلام آبادمیں عمران خان حکومت مندر بنا رہی ہے اور گردوارے کو بغیر ویزے کے راستے دیے جا رہے ہیں۔ کیا پاکستانی حکومت اس حقیقت سے آشنا نہیں کہ 1947ء کی ہجرت میں سکھوں اور ہندوؤں نے کس طرح راستوں میں گھات لگا کر مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا؟ کیا اس ناپاک فوج میں کوئی ایسا فوجی نہیں کہ جس نے کسی غیرت مند ماں کا دودھ پیا ہو یا وہ کسی غازی کی اولاد ہو؟ کیوں ؟آخر کیوں وہ اس فوج سے اپنے آپ کو نہیں نکال سکتا؟ اور کیوں اپنی ماؤں بہنوں کی عزت اور رسول اللہ ﷺ کی حرمت پہ اس کا ایمان و غیرت جوش نہیں مارتی؟

پاکستانی حکومت اور پاکستانی فوج کا کردار

یہ وہ فوج ہے جس نے نوّے ہزار کی تعداد کے ساتھ ہندؤوں کے سامنے ہتھیار ڈالے کیونکہ یہ ہمارا عقیدہ ہے کہ کافروں کے مقابلے میں مسلمان کی جنگ صرف ایمان کی طاقت سے ہوتی ہے اور اس ناپاک فوج کے کرتوت تو کسی سے بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ جو کچھ اس فوج نے بنگالیوں کے ساتھ کیا وہ بھلایا نہیں جا سکتا اور اس کا بھی ان ہی سے حساب لیا جائے گا۔ ان لوگوں نے جو خیانتیں کی ہیں اس پاکستان و افغانستان کے مسلمانوں اور ہند کے مسلمانوں اور بنگال کے مسلمانوں کے ساتھ، اب وہ وقت قریب ہے جب انہیں اس کا حساب دینا پڑے گا ۔انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اپنے امریکی آقاؤں کی خدمت کرنے میں۔ انہوں نے عافیہ صدیقی کو دیا… خالد شیخ محمد کو امریکہ کے حوالے کیا… شیخ اسامہ کو شہید کیا… امارت اسلامیہ افغانستان کے اس دور کے امراء کو امریکہ کے حوالے کیا… اور نہ جانے کتنے ہی عربوں کی گرفتاری عمل میں آئی اور کیوبا میں قید ہوئے۔ اس کے بعد بھی کیا کیا مظالم نہیں کیے۔ بلکہ خیانتوں و مظالم کی ایک لمبی داستان ہے جو اگر بیان کی جائے تو ختم نہ ہو۔ لیکن آج بھی کوّا…کوّا ہی رہا…ہنس نہیں بن سکا۔ ہمیں ہمارے رب ذولجلال نے قرآن مجید میں بتا دیا کہ یہ تمھارے دوست ہو ہی نہیں سکتے جب تک کہ تم ان کے دین میں نہ چلے جاؤ… شریعت کی مخالفت میں… شریعت کے متوالوں کے خلاف جاری اس جنگ میں… پاکستانی حکومت اور ناپاک فوج امریکہ کے جتنے بڑے بھی فرنٹ لائن اتحادی کیوں نہ بن جائیں لیکن ان کی حیثیت وہی غلام کی غلام ہی رہے گی۔

اور دوسری طرف آج امارت اسلامیہ کو جو عزت اللہ تعالیٰ نے اس کے دشمنوں کے سامنے نصیب کی ہے وہ ان چند ڈالروں کے عوض ایمان بیچنے والوں کو نصیب نہیں ہوتی ۔بڑی خوشی کا مقام ہے حقیقتاً کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کس طرح دنیا میں ذلیل کیا ہے، پاکستان کی سیاسی و فوجی حکومت آج F.A.T.F کے چنگل میں پھنسے ہوئے نظر آرہے ہیں، کافروں کی اتنی چاکری کرنے کے بعد بھی ان کی اسلام دشمنی اور امریکی خدمت، کفری طاقتوں کے نزدیک قبول و منظور نہیں ہوئی اور ابھی بھی ان کو کچھ نہ کچھ اور کرنا پڑے گا، اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے۔سبحان اللہ یہ اللہ کی قدرت ہے اور یہی اللہ کی شان ہے۔ اور دوسری طرف جن کو یہ ایک تہذیب سے کٹی ہوئی کوئی قدیم قوم سمجھ رہے تھے، آج ان سے ملنے کے لئے بھی پہلے ٹائم لینا پڑتا ہے۔ پاکستان کو ڈرنا چاہیے امارت اسلامیہ افغانستان سے بھی،کیونکہ جب اتنے ڈھیر سارے ممالک آکر اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے، اللہ کے فضل و کرم سے، تو یہ اتنا سا پاکستان کیا دم مارسکتا ہے شریعت کے متوالوں کے سامنے۔ یہ صرف اور صرف اسلام کی حقانیت کے اثرات ہیں جو ہمیں واضح بتا رہے ہیں کہ ڈر کر اسلام کا سودا کرنے والے آج کس حال میں ہیں اور ڈٹ کر اسلام کا دفاع کرنے والے آج کس حال میں ہیں…اورمستقبل میں بھی پاکستان کے مسلمانوں کا ہندو فوجیوں سے دفاع بھی امارت اسلامیہ افغانستان ہی کر پائے گی۔ پاکستان کی ملت اگر اس ناپاک فوج سے یہ گمان کیے بیٹھی ہے کہ وہ اس کا دفاع کرے گی تو وہ ایک خوابوں کی دنیا میں جی رہے ہیں اور یہ ایک مضحکہ خیز بات ہے۔ ان پاکستانی فوجیوں کے اندر ایمان کی رمق بھی ختم ہو چکی ہے اور یہ کسی بھی ایک ہندو بنیے کے آگے زیادہ دیر نہیں ٹھہر پائیں گے۔ کیونکہ تاریخ سے یہ بات ثابت ہےکہ کفر کے مقابلے میں ظاہری اسلام کا لبادہ پہنے لوگ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ حقیقی اسلام کے پیروکار جب بھی میدان میں اترے، اللہ نے انہیں کامیاب کیا اور فتح نصیب فرمائی۔

خلاصہ کلام :

اسلام کی جو ظاہری شکل بعض چیزوں سے نمایاں ہوتی ہے۔ مثلاً نماز پڑھنا، داڑھی رکھنا، پردہ کرنا وغیرہ۔ لیکن اس کی حقیقت ،اللہ کی وحدانیت کا دل کے اندر بس جانا اور اس کی طاقت پر اور اس کے معبود ہونے پر کامل یقین اور آخرت ،تقدیر اور غیب کے سارے معاملات پر اس طرح ایمان لانا کہ انسان بڑی سے بڑی آزمائش کا سامنا کرنے یا کسی ایسے بڑے نقصان کو برداشت کرنے کے لئے بھی تیار ہو جائے جس کا دور دور تک کوئی فائدہ نظر نہ آتا ہو۔ یہی وہ دراصل حقیقت ِ اسلام ہے جو انسان کی دنیا و آخرت بدل کر رکھ دیتی ہے۔ اسلام کو اس کی حقیقت کے ساتھ سمجھتے ہوئے جو تحریک جدوجہد کرے گی، اللہ تعالیٰ اس تحریک کو نصرت ،فتح اور زمین پر غلبہ عطا کریں گے۔ اگر ان کی صفوں میں حقیقی اسلام کے فہم میں کمی ہے تو وہ بھی جلد ہی بس مجاہدین جیسے ناموں کی ایک جماعت باقی رہ جائے گی۔ آپ اس کا اندازہ لگائیں کہ جب کبھی بھی کسی تحریک یا جماعت میں انتشار کی سی صورت نظر آنے لگتی ہے یا پھر جماعت یا تحریک کے لوگوں میں اضطراب کی سی کیفیت ہوتی ہے، یہ خاص اس وقت نظر آئے گی جب آپ اس چیز پر غور کریں کہ ایسے قیمتی و نادر حضرات جو حقیقت اسلام کو سمجھتے تھے کہیں وہ شہید تو نہیں ہو گئے۔ بس یہی وہ وقت ہے کہ جو کچھ لوگ بچے ہوئے ہیں جو اس چیز کو سمجھتے ہیں، وہ ضرور بالضرور اس پر محنت کریں اور لوگوں کی تربیت کریں اور اس چیز کو امراء بہت بہتر جانتے ہیں کہ ایسے نادر اللہ والے لوگوں یا ایک فرد کی شہادت سے کتنا بڑا خلا پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ جہاد کے امامت کرنے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی تحریکِ جہاد یا جماعت کو بھی اسی طرح بنائیں جس کی ہر فکر سے،جس کے افعال سے،جس کی کاروائیوں سے، جس کی دعوت سے،حقیقت اسلام واضح ہوتی ہو اور ہم اپنی تحریک کو ایسی فکر و سوچ سے، جس سے کہ تحریکیں ختم ہو جاتی ہیں، ایسی چیزوں سے ہم اپنے آپ کو بچائیں۔قول اپنے عمل کی وجہ سے وزن دار بنتا ہے۔ ہر اللہ کے نبی کی یہی سنت ہے جو کہا وہ کر کے صحابہ کو دکھایا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو بھی جتنا علم ملا اسی پر مضبوطی کے ساتھ عمل کیا اور کامیاب ہو گئے۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ امارت اسلامیہ کا وجود اور اس کا سایہ اس امت پر چاروں طرف سےڈالے رکھیں اور ہمیں اسے روز بہ روز مضبوط کر نے کی توفیق دے ۔اور ہمیں اسلام کو اس کی اصل شکل میں سمجھنے کی توفیق دے یہ فہم نصیب ہو کہ اسلام کا ہم سے کیا مطالبہ ہے ۔اللہ کے دین کا کلمہ پڑھ کر ہم نے اپنی گردن میں اللہ کی غلامی کا جو طوق ڈالا ہے اس کا حق ادا کرنا آسان بنادے ۔آمین

٭٭٭٭٭

Previous Post

طالبان کی خصوصیات

Next Post

رسول ِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں: فتحِ کابل کی خوش خبری

Related Posts

نوائے امارتِ اسلامیہ…… الحکم للہ! الملک للہ!

تمام مسائل کا حل ’’وحدتِ اُمت‘‘ میں ہے!

30 ستمبر 2022
نوائے امارتِ اسلامیہ…… الحکم للہ! الملک للہ!

گورنروں كے اجلاس میں امیر المومنین کی ہدایات

30 ستمبر 2022
نوائے امارتِ اسلامیہ…… الحکم للہ! الملک للہ!

خواتین کے پردے اور حجاب سے متعلق ہدایات

31 جولائی 2022
نوائے امارتِ اسلامیہ…… الحکم للہ! الملک للہ!

ملک بھر میں پوست کی کاشت اور منشیات کی روک تھام کے تناظر میں

23 اپریل 2022
نوائے امارتِ اسلامیہ…… الحکم للہ! الملک للہ!

امارتِ اسلامیہ کے تمام مجاہدین کو عالی قدر امیرالمومنین حفظہ اللہ کی ہدایات

23 اپریل 2022
نوائے امارتِ اسلامیہ…… الحکم للہ! الملک للہ!

امیر المومنین کا دورہ اور مسئولین و مجاہدین کو ہدایات

2 مارچ 2022
Next Post

رسول ِ محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں: فتحِ کابل کی خوش خبری

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مارچ 2026ء
مارچ 2026ء

مارچ 2026ء

by ادارہ
8 مارچ 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version