عالی قدر امیر المومنین شیخ الحدیث و التفسیر مولوی ہبۃ اللہ اخندزادہ نصرہ اللہ نے افغانستان کے مختلف صوبوں کا دورہ کیا اور ذمہ داران، مسئولین اور متعدد مجاہدین سے ملاقاتیں کیں۔
تفصیلات کے مطابق امیر المومنین نے صوبہ قندھار، نمروز، فراہ، ہرات اور ہلمند کا دورہ کیا اور مختلف سطح کے ذمہ داران و مسئولین اور مجاہدین سے ملاقاتیں کیں اور انہیں ہدایات دیں۔
صوبہ ہلمند کے دورہ کے دوران امیر المومنین اپنے شہید بیٹے کی قبر پر بھی گئے اور دعائے مغفرت کی۔ ان کا بیٹا ان فدائی نوجوانوں میں شامل تھا جنہوں نے صوبہ ہلمند میں قائم امریکی فوجی اڈے ’شوراب‘ میں فدائی حملہ کیا تھا اور امریکی اور کٹھ پتلی افغان فوج کو زبردست نقصان سے دو چار کیا تھا۔
مجاہدین و مسئولین سے ملاقات کے دوران امیر المومنین نے سب سے پہلے افغانستان میں مجاہدین کی عظیم فتح اور اللہ کی مدد و نصرت سے امریکہ کو تاریخی شکست دینے پر تمام عوام کو مبارکباد دی اور کہا کہ یہ اسلامی نظام بڑی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے، اور ہم ہرگز اپنے شہدا کے لہو کو نہ بھلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ جنگ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے لڑی ہے اور اب جیسا کہ افغانستان میں اسلامی نظام قائم ہوگیا ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بیس سالہ جنگ میں قربانی دینے والی مسلمان عوام کی فلاح و بہبود کے لیے دن رات محنت کی جائے۔
امیرالمومنین نے تمام انتظامی اور عسکری ذمہ داران کو مندرجہ ذیل ہدایات کیں:
گزشتہ نظام میں کام کرنے والے اہلکاروں کو ان کے گزشتہ جرائم پر سزا نہ دی جائے۔
اس ملک کا ہر باشندہ ہمارے لیے قابل احترام ہے۔ افغانوں کی قدر و عزت افغانستان سے زیادہ کسی اور ملک میں نہیں ہے، اس لیے کوئی افغانی بھی اس ملک سے نہ جائے بلکہ یہیں رہے۔ مسئولین، علمائے کرام، قومی عمائدین، والیوں (گورنروں) اور ضلعی ذمہ داران سے گزارش ہے کہ ایسے افراد …… جو ملک سے باہر جانا چاہتے ہوں…… کو تحریض دلائیں کہ وہ اس ملک میں ہی رہیں، یہاں ان کی عزت اور قدر کی جائےگی۔
تمام افغان عوام اب ہماری طرف دیکھ رہے ہیں اور ہم سے پرامید بھی ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ ان کے امن و سلامتی اور ان کی عزت کا بھرپور اہتمام کریں۔
خود سے مسئولیت یا ذمہ داری کی چاہت نہ کریں اور نہ ہی مانگیں۔ اگر امیر کی طرف سے کوئی ذمہ داری ملتی ہے تو امیر کی اطاعت کریں اور ذمہ داری کو احسن انداز سے نبھائیں۔
مرکزی ذمہ داران کی جانب سے مسئولیت ملنے کی صورت میں دیے جانے والے اصول و ضوابط، طرز العمل اور لائحہ پر سختی سے عمل کریں۔
اپنی ذمہ داری اس طرح نبھائیں کہ کل عوام کا سامنا کر سکیں۔
ذمہ داری کو احسن انداز سے نبھانے کے لیے علمائے کرام سے مشورے لیجیے۔
تمام عوام کو اپنے بھائیوں کی طرح سمجھیے۔
مجھے عوام کی زیادہ فکر ہے۔ ان پر کبھی ظلم نہ کریں اور نہ کسی کو ماریں، ظلم کا ہمیشہ نقصان ہوتا ہے۔
تمام اسباب اللہ ﷻ نے آپ کے ہاتھ میں دیے ہیں۔ اپنا ذاتی فائدہ اٹھانے سے گریز کریں اور ہر قسم کی مسئولیت پر عاجزی سے عمل کریں۔
انصاف کی فراہمی پر توجہ دیں اور ہر کسی کو اس کا حق پہنچائیں۔
مسئولیت میں زور زبردستی نہ کریں، اقربا پروری سے بچیں، زبان اور قومیت کی بنیاد پر کسی کو کام نہ دیں بلکہ صلاحیت اور استعداد کے مطابق کام دیں۔
اپنے بڑوں کا احترام کریں، ان سے شکایت نہ کریں، ان کی عزت کریں اور کوئی کام بڑوں کی اجازت کے بغیر نہ کریں۔
اپنی صفوں میں ہم آہنگی پیدا کریں اور ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت نہ کریں۔
لوگوں کی حفاظت و سلامتی کے لیے دن رات متوجہ رہیں۔ گشت اور تلاشی کے دوران لوگوں کے لیے مشکل نہ بنائیں۔
جسے بھی تلاشی کے لیے روکیں، اس سے اچھے اخلاق و رویے سے پیش آئیں۔ عام لوگوں کے ساتھ تلاشی کے دوران اچھا سلوک کریں۔
اسلامی نظام کے ساتھ کھڑے رہیں اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ امارت کو مستحکم بنائیں۔
ہم ایک بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ آئیے! اس امتحان میں اچھی طرح کامیاب ہوں۔ آئیے! ایک نئی تاریخ رقم کریں۔




