نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں
No Result
View All Result
نوائے غزوۂ ہند
No Result
View All Result
Home ناول و افسانے

سحر ہونے کو ہے | قسط نمبر: 9

by بنتِ طبیب
in مئی تا جولائی 2021, ناول و افسانے
0

’’جیا! …… دیکھو تم سے ملنے کون آیا ہے!‘‘، عبادہ نے جویریہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا، ’’بخار کیسا ہے؟‘‘

جویریہ نے آہستہ آواز میں کچھ کہا جسے نور نہ سن سکی۔ وہ بس یک ٹک اس کے چہرے کو تکے گئی۔ کتنے عرصے بعد اس کو اپنی کزن کی شکل دیکھنا نصیب ہوئی تھی۔

’’نور! جویریہ سے مل لو!‘‘، وہ نظریں جھکا کر دھیرے سے بول کر پیچھے ہٹ گیا، ابوبکر بھی نظریں جھکائے دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔

نور آگے بڑھ کر جیا کے بیڈ کے ساتھ پڑے بینچ پر بیٹھ گئی۔ جذبات امڈ امڈ کر اس کی آنکھوں میں جمع ہونے لگے۔ وہ آنکھوں میں آنسو بھرے اسے دیکھے گئی۔ وہ ویسی ہی تھی۔ خوبصورت اور معصوم سی! بس ایک تبدیلی تھی۔ اس نے اپنے چہرے کے گرد بڑا سا دوپٹہ لپیٹ رکھا تھا۔

’’جیا!‘‘ آخر اس نے بھرّائی ہوئی آواز میں اس کو پکارا۔ اس نے چہرہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا، مگر بخار کی شدت سے اس کی آنکھیں کھل نہ پارہی تھیں۔

’’کون؟‘‘

’’نور!‘‘

’’کون نور؟‘‘، وہ چونک کر بولی۔

’’نور قریشی!‘‘

’’نور؟‘‘، وہ یکایک دبے دبے جوش سے بولی اور اٹھ کر بیٹھ گئی، ’’فریحہ خالہ کی بیٹی؟‘‘

نور نے اثبات میں سرہلا دیا۔

’’نور! تم کہاں ہو؟‘‘، اس نے اپنے ہاتھ آگے بڑھا دیے گویا اس کے گلے لگنا چاہ رہی ہو۔ نور نے حیرت سے اس کی جانب دیکھا۔ اگلے ہی لمحے اس کو اپنی زندگی کا ناقابل یقین منظر دیکھنے کو ملا۔ اس نے اپنے منہ سے نکلنے والی بے ساختہ چیخ کو روکنے کے لیے ہاتھ مضبوطی سے اپنے منہ پر رکھ لیا اور ہکا بکا سی اس کی ویران آنکھیں دیکھنے گئی۔

’’نور! مجھے نظر نہیں آتا! تم قریب آجاؤ!‘‘

نور نے آگے بڑھ کر اس کو گلے لگا لیا اور وہ دونوں ہی رونے لگیں۔ ان آنسوؤں میں بہت کچھ تھا۔ دکھ، تکلیف، بےبسی اور دوبارہ ملنے کی خوشی۔

کافی دیر رونے دھونے کے بعد نور وہاں سے ہٹ گئی اور ابوبکر کے قریب آکررک گئی۔

’’ابوبکر! لگتا ہے جیا کی بینائی ضائع ہوگئی ہے!‘‘، بولتے بولتے نور کی آواز دوبارہ بھرا گئی، ’’وہ دیکھ نہیں سکتی!‘‘

عبادہ بھی ان کے قریب ہی نظریں جھکائے کھڑا تھا۔

’’عبادہ! …… یہ کیسے ہوا؟‘‘

’’پچھلے ماہ کی بمباری میں جیا کی آنکھوں کے قریب کچھ زخم آئے تھے جس سے دھیرے دھیرے نظر ختم ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے علاج کی امید تو دلائی ہے مگر فی الحال کہیں بھی ایسی سہولت دستیاب نہیں!‘‘، اس نے ساری بات اس کے گوش گزار کی۔

نور تاسف سے جویریہ کے حسین اور معصوم سے چہرے کو تکنے لگی جو اس دنیا کے حسن اور اپنے پیاروں کو دیکھنے سے قاصر تھی۔

٭٭٭٭٭

عبادہ اور جویریہ سے ملتے ہی گویا ان کی زندگی میں نشاط آگیا ہو۔ امینہ خالہ سے ملنے کے بعد وہ تینوں ہی بے حد مسرور تھے۔ عبادہ ان کے محلے کے قریب ہی کہیں رہتا تھا۔ البتہ امینہ خالہ اور جویریہ کہیں اور رہتی تھیں۔ اکثر ہی جمعے کو عبادہ انہیں ملوانے کے لیے لے آتا تھا۔

عام آبادی پر بمباریاں کافی عرصے سے بند تھیں مگر جنگجوؤں کے لیے حالات کافی سخت تھے۔ اکثر و بیشتر چھاپے پڑتے رہتے تھے۔ جنگجوؤں کے مراکز پر بھی اکثر بمباریاں ہوتی رہتی تھیں۔ جاسوسیاں بہت عام ہوچکی تھیں۔

ارمغان اور لائبہ کو بھی موحد چچا نے اپنے ساتھ رکھ لیا تھا اور اب وہ لوگ کسی اور گاؤں میں سکونت اختیار کرچکے تھے۔ قریب ہی ارمغان اور لائبہ کو بھی گھر لے دیا تھا۔

ارمغان کو اپنی جاب کے سلسلے میں اکثر امریکیوں سے رابطہ رکھنا پڑتا جو کہ نور کو بہت کھٹک رہا تھا۔ عبادہ بھی حتی الامکان اس سے بچ کر رہتا اور ان سب کو بھی اس نے سختی سے اس کی سرگرمیوں کی خبر اس کو دینے سے منع کررکھا تھا۔

تائی جان بھی اپنے تینوں بچوں کے ہمراہ موحد چچا کے پاس ہی آگئی تھیں۔ سیف کافی چڑچڑا ہوگیا تھا۔ تائی جان اور ماہم خوش اسلوبی سے اس کی خدمت میں لگی رہتی تھیں۔ احمر اور باقی گھر والے بھی اس کا بہت لحاظ کرتے، سوائے علی کے۔ اس کی اور سیف کی اکثر نوک جھونک چلتی رہتی تھی۔

عبادہ کے آنے سے مصعب، ابوبکر اور علی کی حرکتیں اچانک ہی مشکوک سی ہوگئی تھیں۔ اکثر اوقات وہ گھر سے باہر رہتے۔ کبھی تو رات کو بھی گھر واپس نہ آتے۔آپس میں مشکوک انداز میں باتیں کرتے اور باقی گھر والوں سے چھپاتے، خصوصاً جب نور قریب آتی تو فوراً خاموش ہوجاتے اور ادھر ادھر کی ہانکنے لگتے۔

نور کے موحد چچا کی توجہ دلانے کے باوجود ان کی بے پرواہی نے اسے مزید پریشان کردیا تھا۔

کوئی اس کو نہیں بتاتا تو نہ بتائے! وہ بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے والی نہیں! وہ خود ہی پتا لگا لے گی کہ اس کے بھائی کیا کرتے پھر رہے ہیں!

٭٭٭٭٭

رات کے نو بج رہے تھے۔ گرمی کی وجہ سے سب گھر والے صحن میں ہی بیٹھے تھے۔ موحد چچا ریڈیو پر خبریں سن رہے تھے۔ ریڈیو کی کھڑ کھڑ اور شاں شاں پورے گھر میں گونج رہی تھی۔

’’پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں دہشت گردی کی ایک کارروائی میں امریکی ہموی پر مائن پھٹنے کے نتیجے میں پانچ فوجی ہلاک!‘‘

سب نے فوراً اپنے اپنے کام چھوڑے اور موحد چچا کے قریب آکر بیٹھ گئے۔

اب حملے کی تفصیلات بتائی جارہی تھیں اور حیرت کی بات یہ تھی کہ پاکستانی میڈیا اس حملے سے بالکل بھی خوش نہیں لگ رہا تھا اور بار بار اس کی مذمت کررہا تھا۔

’’تکبیر!‘‘، مصعب نے زور سے نعرہ لگایا۔

’’اللہ اکبر!‘‘، سب گھر والوں نے اس کے نعرے کا بھرپور جواب دیا تھا۔

’’الحمد للہ!‘‘

’’شکر ہے خدا کا!‘‘

امریکی حملے کے دس ماہ گزر جانے کے بعد ان کے خلاف یہ پہلا حملہ تھا اور قریباً پورا پاکستان ہی اس حملے پر خوشیاں منا رہا تھا۔

٭٭٭٭٭

’’مبارک ہو!‘‘، عبادہ نے گھر میں داخل ہوتے ہی صدا لگائی ۔ وہ کل رات والی کارروائی کی خوشی میں آیا تھا۔

’’الحمدللہ! تمہیں بھی مبارک ہو!‘‘، مصعب اور ابوبکر بھی خوشی خوشی بولے۔ علی بھی ان کے برابر میں بیٹھا تھا۔ وہ سب اس وقت صحن میں بیٹھے تھے۔

’’کس نے کی ہے کارروائی؟‘‘، مصعب نے اچانک رازداری سے عبادہ سے پوچھا۔

نور کے کان کھڑے ہوگئے۔

’’شاید اسماعیل بھائی کے ساتھیوں نے کی ہے…… سیالکوٹ میں تو وہی ہیں‘‘۔

نور حیرت اور تجسس کے ملے جلے احساسات سے مغلوب ہو کر چپکے چپکے ان کی باتیں سن رہی تھی۔ آج ان کی سرگرمیوں کا معمہ کھلنے والا تھا۔

’’کیا خیال ہے…… احمد بھائی سے اجازت لے کر اگلی کارروائی ہم نہ کریں؟‘‘، ابوبکر ہنس کر بولا۔

’’ہاں! اچھا خیال ہے……پتہ کرکے بتاؤں گا!‘‘، عبادہ بولتے بولتے رکا اور چونک کر ادھر ادھر دیکھا۔ شاید اس کو شک ہوگیا تھا۔ نور مزید سمٹ گئی۔

’’علی! تمہیں خالد بھائی نے بلوایا ہے۔ احمد بھائی کے پاس کوئی پیغام لے کر جانا ہے‘‘۔

’’اچھا! کتنے دن کے لیے؟‘‘

’’بس یہی کوئی تین چار دن کے لیے…… ‘‘، عبادہ کی آواز پست ہوگئی۔ ’’مولانا حسن آئے ہوئے ہیں ہمارے مرکز میں…… ملنا ہے تو آجاؤ‘‘۔

’’ہائیں! واقعی؟‘‘، ان تینوں کی گویا باچھیں کھل گئیں۔

’’ہاں! مگر کسی کو کان و کان خبر نہیں ہونی چاہیے…… ‘‘۔

ان تینوں نے اثبات میں سرہلادیے۔ نور دھیرے سے مسکرا کر دروازے سے پیچھے ہٹ گئی۔

٭٭٭٭٭

’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ! …… السلام علیکم ورحمۃ اللہ!‘‘، عبادہ نے نماز ختم کی اور پہلو بدل کر بیٹھ گیا اور صبح کے اذکار کرنے لگا۔ باقی ساتھ بھی ذکر کرنے میں مشغول تھے۔

’’ابراہیم بھائی! قرآن پاک لے آئیں؟‘‘، ایک ساتھی نے اذکار مکمل کرکے عبادہ کی جانب دیکھا۔ اس نے دھیرے سے سرہلا دیا۔

یہ مجاہدین کا مرکز تھا اور اس میں عبادہ کے علاوہ آٹھ مزید ساتھی موجود تھے۔ عبادہ ان سب کا امیر تھا اور اس وقت ان کی تجوید کی کلاس لے رہا تھا۔

آدھے گھنٹے کی کلاس کے بعد سب کو بھوک لگ چکی تھی اس لیے تمام ساتھی کھانا پکانے کی تیاری کرنے لگے۔

ایک ساتھی برتن دھونے لگا۔ دوسرا ساتھی آٹا گوندھنے لگا۔ ابوبکر یوں ہی حیرت سے سب کو دیکھتا رہا۔ مجاہدین کے مرکز میں یہ اس کا پہلا دن تھا۔ عبادہ نے بھی قمیض کی آستینیں اوپر چڑھائیں اور آٹے کے پیڑے بنانے لگا۔ دوسرا ساتھی آملیٹ تلنے لگا۔ پراٹھے اور چائے بن کر تیار ہوئی تو ابوبکر کو سب کو یوں ہاتھ بٹاتے دیکھ کر بیٹھے رہنا اچھا نہ لگا، وہ اٹھا اور دسترخوان بچھانے لگا۔ سب نے اکٹھے بیٹھ کر ہلکی پھلکی گپ شپ کرتے ہوئے ناشتہ کرلیا۔

ناشتے کے بعد سب اپنے اپنے مشاغل میں لگ گئے۔ کوئی قرآن کی تلاوت کرنے لگا، کوئی کانوں میں ائیر فون لگائے درس سننے لگا، جس کے کپڑے میلے تھے وہ کپڑے دھونے لگا۔

عبادہ بھی فارغ ہوکر کچھ ضروری خطوط لکھنے بیٹھ گیا۔ ابوبکر کافی دیر سے موقع کی تلاش میں تھا۔ عبادہ کو تنہا پاکر وہ اس کے پاس جا بیٹھا۔

’’عبادہ!‘‘، وہ آہستہ آواز میں بولا مبادا کوئی دوسرا ساتھی نہ سن لے۔ عبادہ نے چہرہ اٹھا کر تنبیہی نگاہوں سے اسے گھورا۔

’’ابراہیم!‘‘

’’اوہ ہاں! ابراہیم! …… مراکز میں سب کام خود ہی کرنے پڑتے ہیں کیا؟‘‘

وہ ابوبکر کی بات سن کر بے ساختہ مسکرا دیا۔

’’ہاں!‘‘

’’اور کپڑے بھی خود ہی ہاتھوں سے دھوتے ہیں اپنے؟‘‘

’’ہاں!‘‘

’’اور زمین پر سونا پڑتا ہے؟‘‘

اب کی بار عبادہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔

’’ہاں بھیا!‘‘

’’مگر یہ تو بہت مشکل ہے!‘‘

’’دیکھو ابوبکر!‘‘ ، عبادہ ایک دم سنجیدہ ہوگیا، ’’جہاد صرف کافروں سے لڑنے اور کارروائیوں اور بمباریوں میں مشکلات جھیلنے کا نام نہیں! …… بلکہ جہاد کے راستے میں ہر قسم کی آزمائش آتی ہے اور انسان کا صبر اور اس کی استقامت آزمائی جاتی ہے…… اللہ تعالیٰ بھوک، پیاس، خوف، ڈر، خوراک کی قلت ، پیسوں کی کمی، بیماری، گھروالوں سے دوری، گرمی، سردی ہر چیز سے آزماتا ہے!‘‘، وہ دھیرے دھیرے اس کو سمجھانے لگا۔ ابوبکر نے اثبات میں سرہلادیا۔

’’جہاد کی انہی آزمائشوں کی وجہ سے لوگ جہاد سے بھاگتے ہیں…… کسی کو گھر والوں سے دوری برداشت نہیں، کسی کو اپنی آسائشیں چھوڑنا گوارا نہیں، کسی میں مشکلات جھیلنے کی طاقت نہیں…… اگر جہاد اتنا ہی آسان ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتے کہ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ، یعنی تم پر قتال فرض کیا گیا ہے اور تم اس کو ناپسند کرتے ہو…… ‘‘ عبادہ یہ کہہ کر خاموش ہوگیا۔

’’تم صحیح کہتے ہو!‘‘، ابوبکر بولا۔

’’مگر! فکر نہ کرو…… جب فتوحات آئیں گی تو آسانیاں بھی آجائیں گی!‘‘، عبادہ نے شرارت سے کہا تو ابوبکر بھی مسکرا دیا۔

٭٭٭٭٭

’’چچا! بھائی اور علی ابھی تک نہیں آئے؟‘‘ نور نے فکرمندی سے موحد چچا سے پوچھا۔ مصعب اور علی پچھلے تین دن سے غائب تھے اور نور ان کے لیے بہت فکرمند تھی۔

’’بیٹا! تم کیوں اتنی فکر کررہی ہو! آجائیں گے ان شاءاللہ! جوان لڑکے ہیں کوئی بچے تو ہیں نہیں!‘‘، موحد چچا ہنس کر بولے تو وہ خجل سی ہوگئی۔

’’مگر چچا وہ دونوں گئے کہاں ہیں آخر؟‘‘، وہ اپنی خجالت چھپا کر بولی۔

’’بیٹا! مجھےمنع کرکے گئے ہیں کسی کو بتانے سے!‘‘، اس کی طرف بےبسی سے دیکھ کر بولے، پھر ایک نظر اردگرد ڈال کر رازداری کے ساتھ نور کے قریب ہو کر پست آواز میں بولے، ’’مگر امید ہے کہ خبروں سے پتہ چل جائے گا، ان شاءاللہ‘‘۔

نور ناسمجھتے ہوئے بھی سر ہلا کر اٹھ گئی۔ نجانے سارے گھر والے اتنے مشکوک سے کیوں ہوگئے تھے؟

٭٭٭٭٭

’’پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی کیمپ پر راکٹ حملے!!!‘‘

’’پندرہ فوجی ہلاک اور چھ زخمی!‘‘

’’حملہ مارگلہ کی پہاڑیوں کی جانب سے کیا گیا!‘‘

’’مارگلہ کی پہاڑیوں میں سرچ آپریشن جاری!‘‘

ریڈیو اونچی آواز میں لگا ہوا تھا اور پورے گھر میں اس کی آواز گونج رہی تھی۔ نور موحد چچا کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔ موحد چچا زیر لب مسکرا رہے تھے جبکہ نور کی حالت غیر ہورہی تھی۔

’’کیا چچا اس خبر کے بارے میں کہہ رہے تھے؟‘‘

اتنے میں باہر کا دروازہ زوردار آواز سے کھلا اور مصعب اور علی ہانپتے کانپتے اندر داخل ہوئے۔ ان کی حالت بہت پتلی تھی۔ بال، جسم اور کپڑے غبار آلود تھے اور چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اندر آتے ہیں دونوں دھم سے موحد چچا کے قریب ہی لیٹ گئے۔ نور نے اپنا دوپٹہ مزید پھیلایا اور اٹھ کھڑی ہوئی اور مصعب کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی،

’’تو یہ تم دونوں کا کارنامہ ہے؟‘‘

وہ دونوں ذرا سا چونکے مگر فوراً ہی اپنی حیرت پر قابو پالیا اور ایسے ظاہر کرنے لگے گویا کچھ سنا ہی نہ ہو۔ علی بدستور دوسری طرف منہ کیے لیٹا رہا جبکہ مصعب نے کن انکھیوں سے موحد چچا کو دیکھا تو انھوں نے کندھے اچکا دیے۔ نور غور سے ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔

’’بے وقوف مت سمجھو مجھے!…… تمہارے چہروں سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ جو میں کہہ رہی ہو ں وہ سچ ہے !‘‘، وہ مسکرا دی۔

’’تمہیں کس نے کہا؟‘‘، مصعب ذرا سا اٹھ کر بولا۔

’’بھائی جان! …… تین دن غائب رہو پھر ریڈیو پر کارروائی کی خبر آئے…… اور تم ہانپتے کانپتے گھر آجاؤ! …… عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہے!‘‘، نور فخریہ بولی۔

’’آہستہ بولو!‘‘، وہ ادھر ادھر دیکھ کر بولا ، ’’اور جاؤ مجھے بہت بھوک لگی ہے! کچھ کھانے کو لاؤ!‘‘

وہ اس کو ٹالنا چاہ رہا تھا۔ وہ سمجھ گئی اور ’’اچھا لاتی ہوں!‘‘ کہہ کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔

٭٭٭٭٭

اب تو یہ روز کا معمول بنتا جارہا تھا۔ ابوبکر تو دو ماہ سے نظر ہی نہ آیا تھا اور مصعب اور علی اکثر گھر سے باہر رہتے۔ جس دن کسی کارروائی کی اطلاع آتی دونوں ہانپتے کانپتے گھر آجاتے۔

دن گزرتے گئے۔ امریکی اور بھارتی حملے کو ایک سال ہوگیا۔ ادھر ادھر چھاپے پڑتے رہے۔ ملک کی انٹیلی جنس اور فوج بھرپور طریقے سے امریکہ کا ساتھ دے رہی تھیں۔

کچھ قریبی گرفتاریوں کی وجہ سے عبادہ، مصعب اور علی امریکہ کی وانٹڈ لسٹ میں آگئے، جس کی وجہ سے وہ پہلے سے بھی زیادہ محتاط ہوگئے۔ گھر پہلے سے بھی کم کم آنے لگے اور آتے بھی تو صرف رات کے اندھیرے میں ہی۔

انہی دنوں نور نے پہلی بار مصعب کے منہ سے سی آئی اے کے ریجنل کمانڈر جنرل کالن پارکر کا ذکر سنا کہ کیسے وہ مجاہدین کو مطلوب تھا اور اس نے کتنے مجاہدین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تھے۔ اور اب مصعب، علی اور عبادہ بھی اس کی وانٹڈ لسٹ میں شامل ہوچکے تھے۔ نور نے سن کر کچھ ظاہر تو نہ کیا مگر اس دن سے اس کا دل کسی انجانے خدشے کے تحت کھٹکنے لگا تھا۔ وہ خوف زدہ ہوگئی تھی۔

ان کی کارروائیاں آہستہ آہستہ تمام گھر والوں کو پتہ چلتی گئیں۔ اب پورا گھرانہ ہی کافی دینی ہوچکا تھا۔ موحد چچا نے داڑھی رکھ لی تھی اور نمازوں کی صحیح پابندی کرنے لگے تھے۔ نور، مومنہ اور منال نے چہرے کا پردہ شروع کردیا تھا۔ جویریہ تو عبادہ کی تبلیغ سے شرعی پردے تک جاچکی تھی۔ بسام بھائی کو موحد چچا نے جھنگ میں ایک دکان لے دی تھی۔ خود وہ ابھی تک یہاں سے نکلنے کے چکر میں تھے کیونکہ امریکی اور بھارتی میرینز کے پاکستان میں آجانے کی وجہ سے فیملیز اور خواتین کے ساتھ رہنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ مگر کہیں اور جانا بھی آسان نہ تھا۔

عبادہ کئی دفعہ ان کو مجاہدین کے زیر تسلط علاقوں میں جاکر رہنے کی دعوت دے چکا تھا۔ مگر وہاں بمباریوں اور چھاپوں کے مزید خطرے کی وجہ سے انہوں نے ہردفعہ انکار کیا تھا۔

امینہ خالہ کے کافی اصرار کے بعد مصعب، ابوبکر اور نور دوماہ کے لیے ان کے گھر بھی چلے گئے تھے جس کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں تازگی آگئی تھی۔ جویریہ بھی ان کے آنے سے کافی بہل گئی تھی۔ نور بھی اس کی موجودگی سے ہاجر کی کمی کا مداوا کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ ابوبکر کچھ عرصے کے لیے آیا مگر پھر جلد ہی دوبارہ غائب ہوگیا۔

بھائیوں کے چلے جانے سے باقی گھر والوں کی موجودگی کے باوجود نور اداس اداس سی رہتی۔ کیونکہ ابوبکر کے علاوہ مصعب بھی علی کے ساتھ اکثر ہی گھر سے باہر رہتا تھا۔

ارمغان نے اس کے بعد نور کے حجاب پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ اس کے دین پر عمل کرنے کے معاملے میں بھی مکمل خاموشی اختیار کرلی تھی۔ موحد چچا اور گھر کے باقی سب بڑوں چھوٹوں کے ساتھ اس کا رویہ بہت شائستہ ہوگیا تھا اور سب اس کو پسند کرنے لگے تھے۔ مصعب کے بھی تحفظات کم ہوگئے مگر اب اس کو اس کی جاب پر بہت اعتراض تھا اور وہ اکثر اس کو طریقے طریقے سے جہاد کی دعوت اور امریکیوں کی مدد کی قباحتیں بتاتا رہتا۔ مگر وہ اس معاملے میں کچھ ردعمل ظاہر نہ کرتا۔ لائبہ البتہ نور کے زیر اثر رہنے کی وجہ سے عبایا اور سکارف لینے لگی تھی اور دین سے کافی قریب ہوگئی تھی۔ زندگی پہلے کی طرح نارمل نہ رہی تھی۔ بہت کچھ بدلا تھا…… سب کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوچکا تھا۔

٭٭٭٭٭

گھر میں ہر طرف بالکل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ نور عشا ءکی نماز پڑھ کر جائے نماز تہہ کرنے لگی۔ آج کافی دنوں کے بعد مصعب اور علی گھر پر تھے۔ مصعب دیوار سے ٹیک لگائے قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا۔ علی شاید کمرے میں تھا۔ باقی گھر والے عائشہ چچی کے امی ابو کی طرف گئے ہوئے تھے۔ باہر ہر سواندھیرا چھایا ہوا تھا۔ اسلامی مہینے کی آخری تاریخیں تھیں اس لیے چاند کا نام و نشان تک نہ تھا۔

نور نے جائے نماز سائیڈ پر رکھی اور اٹھ کر مصعب کے پاس جاکر بیٹھ گئی۔ مصعب نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر دوبارہ تلاوت میں مشغول ہوگیا۔ نور کچھ دیر اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرتی رہی مگر پھر اس سے رہا نہ گیا۔

’’بھائی!‘‘

’’ہوں!‘‘، مصعب نے نظریں اٹھائے بغیر جواب دیا۔

’’کتنا اور پڑھنا ہے؟‘‘

’’بس یہ پارہ ختم ہورہا ہے!‘‘، اس نے مصحف کی طرف اشارہ کیا اور پھر تلاوت کرنے لگا۔ پارہ ختم ہوا تو اس نے قرآن پاک بند کردیا۔

’’ہوں! اب بتاؤ! کیا ہوا؟‘‘

’’بھائی! …… ایک بات کہوں؟…… مانو گے؟ ‘‘، نور نے جھجکتے ہوئے کہا اور کن انکھیوں سے اس کی جانب دیکھا۔

’’ہوں بولو! ……میری بہن جو کہے گی ان شاء اللہ مانوں گا!‘‘، اس نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا۔

’’شادی کروگے بھائی؟‘‘، وہ دھیرے سے بولی تو اس کی توقع کے برخلاف مصعب کو زوردار جھٹکا لگا اور وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔

’’نور! ہوش میں تو ہو؟…… حالات کیسے ہیں اور تم کیسی باتیں کررہی ہو؟‘‘

’’بھائی! حالات کا شادی سے کیا تعلق؟‘‘ نور نے حیرت سے اس کو دیکھا۔

’’نور!‘‘، اس نے بولنا چاہا مگر نور نے اس کی بات کاٹ دی۔

’’بھائی! ……اب اماں نہیں رہیں…… اور میں ہی تمہاری اکلوتی بہن ہوں‘‘، اس نے گردن اکڑا کر کہا۔

اتنے میں علی کے کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ باہر آگیا۔ نور نے لاشعوری طور پر دوپٹہ ٹھیک کیا حالانکہ وہ پہلے ہی نماز کی وجہ سے سر پر اچھی طرح سے لپٹا ہوا تھا۔

’’نور! مصعب نہیں مانتا تو میرے لیے ڈھونڈو رشتہ!‘‘، وہ شرارت سے مصعب کی طرف دیکھ کر آگےبڑھ گیا۔ مصعب نے اس کو جواباً گھورا۔

’’اونہہ! شرم نہیں آتی ان لوگوں کو!‘‘، نور منہ پھلا کر بولی۔

’’اچھا بتاؤ! تمہارے ذہن میں کون ہے؟‘‘

’’اللہ بہتر جانتا ہے مگر مجھے ایک لڑکی تمہارے لیے پسند آئی ہے اور امید ہے تمہیں اس شادی سے اجر بھی بہت ملے گا!‘‘، نور ایک دم خوش ہوکر بولی۔

’’اچھا! کون؟‘‘

نور ابھی جواب دینے ہی لگی تھی کہ اچانک آسمان پر گونجنے والی ایک خوف ناک آواز نے ان کو چونکا دیا۔

’’بھائی! یہ کیا ہے؟‘‘، نور گھبرا کر بولی۔ علی بھی حواس باختہ سا کچھ سے نکل آیا۔

وہ تینوں ہی مختلف جگہوں سے باہر جھانکنے لگے۔ باہر کا منظر روح فرسا تھا۔ ان کے گھر کے قریب ہی ایک امریکی ہیلی کاپٹر نے لینڈ کیا تھا اور اس میں سے امریکی کمانڈوز اتر رہے تھے۔ مصعب اور علی فوراً کھڑکی سے ہٹ گئے اور تیزی سے الماری سے اسلحہ نکال کر سیٹ کرنے لگے۔ نور خوف زدہ سی دونوں کو کلاشن کوف میں میگزین ڈالتے دیکھ رہی تھی۔ وہ لمحہ آگیا تھا جس کا اس کو خوف تھا۔

’’نور!…… سب سے پہلے توتم کہیں چھپو!‘‘، مصعب کہتے ہوئے اٹھا اور باہر نکل گیا۔ علی بھی اس کے ساتھ ہی کمرے سے نکلنے لگا پھر یک دم رکا اور پیچھے مڑا۔

’’نور! چاہے کچھ بھی ہوجائے تم اپنی جگہ سے باہر مت نکلنا! پلیز!‘‘، اس کو التجائیہ انداز میں کہہ کر کمرے سے نکل گیا۔ نور ان دونوں کی فکر کی وجہ سمجھ سکتی تھی اس لیے اس نے فوری طور پر اطراف کا جائزہ لیا اور پھر بیڈ کے نیچے گھس گئی۔

دروازے پر ٹکریں لگنے کی آوازیں گونجنے لگیں اور پھر ایک منٹ بعد ہی دروازہ زور دار آواز کے ساتھ زمین پر آرہا۔ درجنوں کے حساب سے فوجی وردیوں میں ملبوس امریکی اور پاکستانی کمانڈوز اندر آن وارد ہوئے۔ نور کو بیڈ کے نیچے سے ان کے بھاری جوتے نظر آرہے تھے۔ اس کا خون خشک ہونے لگا۔ ’’اگر ان میں سے کوئی بھی نیچے جھانک کر دیکھ لے تو……!‘‘

اچانک گھر میں فائرنگ کے تبادلے کی آوازیں سنائی دیں اور اس کے ساتھ ہی چند چیخوں کی آواز گونجی اور نور نے دو امریکیوں کو زمین بوس ہوتے دیکھا۔ وہ کانپ کر رہ گئی۔ اس کے لیے یہ جاننا مشکل نہ تھا کہ فائرنگ کا تبادلہ مصعب اور علی ہی سے ہوا تھا۔

’’یہ رہے!‘‘، اچانک نور کے کانوں سے ایک کمانڈو کی آواز ٹکرائی۔ اس کا سانس رک گیا۔ وہ مصعب کو بالوں سے پکڑ کر لارہا تھا جبکہ مصعب اس کی گرفت سے نکلنے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔

بدقسمتی سے مصعب اور علی دونوں ہی امریکیوں کے قبضے میں آگئے تھے اور اب وہ مکوں اور لاتوں سے ان کی درگت بنا رہے تھے۔ نور بمشکل اپنے آپ کو روکے ہوئی تھی ورنہ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ان کتوں کے منہ نوچ ڈالے۔ آخر ان دونوں کی کراہوں نے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز کردیا اور وہ سوچے سمجھے بغیر بیڈ کے نیچے سے نکل کر ان فوجیوں کی طرف جھپٹی جو ان دونوں کو ماررہے تھے۔

’’لیٹ دیم گو!!! (ان کو چھوڑ دو!!!)‘‘، وہ بےبسی سے ان کو پیچھے کرنا چاہ رہی تھی، جس کے نتیجے میں ایک آدھ مکا اس کو بھی لگ گیا۔ اس کا سربری طرح چکرایا مگر اس کو اپنی تکلیف کی پرواہ نہ تھی، اس کو فکر تھی تو کمانڈوز کے ہاتھوں پٹتے مصعب اور علی کی۔

’’واؤ!‘‘، اچانک ایک امریکی جو غالباً ان کا افسر تھا ، چونک کر نور کی جانب متوجہ ہوا، ’’واؤ! اٹس اے نائس کیچ! (کیا خوب شکار ہاتھ آیا)…… مصعب! غالباً یہ تمہاری سسٹر ہے!‘‘، وہ مکروہ انداز سے مسکرایا۔ مصعب اور علی کے چہرے یک دم سیاہ پڑگئے۔

نور وہیں سن ہوکر رہ گئی۔ یہ اس نے کیا کیا تھا؟ انجانے میں وہ کتنی سنگین غلطی کرچکی تھی اس کا احساس اسے اب ہوا تھا۔

’’بے وقوف!……! تم سے کہا نہیں تھا کہ باہر نہ آنا؟ ‘‘، مصعب نے غصے اور بے بسی سے چٹختے اعصاب کے ساتھ اس کی جانب دیکھنا چاہا مگر امریکی تو اس کا کچومر نکال رہے تھے۔

’’پاگل! منہ کیا دیکھ رہی ہو! دفع ہوجاؤ یہاں سے…… جلدی!‘‘، وہ اپنی پوری قوت سے چیخا تو نور کو ہوش آیا اور اس نے اندھا دھند باہر کی طرف دوڑ لگادی۔

مصعب چونکہ اردو میں بولا تھا اس لیے جب تک امریکی بات سمجھے نور دروازے تک پہنچ چکی تھی۔ ایک فوجی نے اس کو روکنا چاہا مگر وہ کنی کترا گئی جس کے نتیجے میں اس کا دوپٹہ اس کے سر سے اتر کر گر گیا۔ مگر وہ پھر بھی رکے بغیر باہر بھاگے گئی۔ اس کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کس طرف جارہی ہے اور کس کے پاس جارہی ہے۔ بس وہ اندھا دھند ایک طرف کو بھاگے چلی جارہی تھی۔ ہیلی کاپٹر کی آواز اس کے پیچھے گونجنے لگی۔ وہ بھاگتے بھاگتے کافی دور نکل چکی تھی۔ قریب ہی ایک گھر تھا۔ اس نے حواس باختہ ہو کر دروازہ پیٹنا شروع کردیا۔ دو منٹ بعد ہی دروازہ کھل گیا اور وہ دروازہ کھولنے والے کو دھکیلتی ہوئی اندر گھستی گئی اور دروازہ زور سے بند کردیا۔ اسی لمحے ہیلی کاپٹر کی آواز گھر کے اوپر سے ہوتی ہوئی دور چلی گئی۔ شکر ہے انہوں نے اس کو نہیں دیکھا تھا۔

نور کے حواس بحال ہوئے تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کی سٹّی گم ہوگئی۔ عبادہ زمین پر سے کپڑے جھاڑتا ہوا اٹھ رہا تھا جو شاید اس کے تیزی سے اندر گھسنے کی وجہ سے اسے جگہ دینے کی کوشش میں گرگیا تھا۔ اس پر نظر پڑتے ہی اس نے بےساختہ اپنے دونوں بازوؤں سے سر ڈھک لیا۔ بے بسی سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

’’نور؟…… کیا ہوا ہے؟‘‘ عبادہ نے پریشان ہو کر کہا اور قریب پڑا مردانہ رومال اٹھا کر نور کی جانب اچھال دیا۔ اس نے اس کو جلدی سے اپنے چہرے کے گرد لپیٹ لیا۔ ’’کیا تم لوگوں کی طرف چھاپہ پڑا ہے؟‘‘، اس کے چہرے پر پریشانی کے بادل چھا گئے۔ نور اس کے جواب میں بس رودی۔

’’وہ ان کو لے گئے! مصعب اور علی دونوں کو لے گئے!‘‘، وہ روتے ہوئے بولی۔ عبادہ خلا میں گھورنے لگا۔

’’إنا للہ وإنا إلیہ راجعون!‘‘، کہہ کر وہ خاموش ہوگیا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ اس کے ماتھے پر فکرمندی کی لکیریں ابھر آئیں۔ پریشانی میں وہ یہ بھی نہ دیکھ سکا کہ نور ابھی تک کھڑی تھی۔

’’نور! آپ کا یہاں رہنا تو ٹھیک نہیں!‘‘، کافی دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولا۔

’’مگر! پھر میں کہاں جاؤں؟‘‘، اس کی آواز بھرّا گئی۔

’’یہ مجاہدین کا مرکز ہے…… واپس بھی نہیں لے کر جاسکتے کہ ڈرون تو ابھی تک فضا میں موجود ہے……ڈرون اور اتنے فوجیوں کی موجودگی میں تمہارا وہاں سے صحیح سلامت نکل آنا ہی معجزہ ہے……میں تمہیں ماما اور جویریہ کے پاس لے جاتا ہوں!‘‘، وہ نظریں جھکائے بول رہا تھا کہ چونکا، ’’جوتے نہیں پہنے ہوئے؟‘‘

اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو قریب ہی ایک ٹوٹی ہوئی چپل نظر آئی۔ اس نے وہ اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دی اور اندر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ ’’یہ پہن لو!…… میں تہہ خانے سے کسی بھائی کو بلا کر لاتا ہوں، پھر گھر چلتے ہیں!‘‘

نور نے چپل پہنی اور وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر میں ہی عبادہ اور ایک اور ساتھی اوپر آگئے اور اس سے نگاہ بچاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گئے۔ باہر سے گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز سنائی دی اور پھر باہر کا دروازہ کھلا۔

’’نور! گاڑی میں بیٹھ جاؤ!‘‘، عبادہ نے باہر کھڑے کھڑے ہی اس کو بلایا اور خود سائیڈ پر ہٹ گیا۔ نور دھیرے دھیرے چلتے ہوئے باہر آئی اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ گاڑی میں کوئی بھی نہ تھا۔ چند لمحے بعد ہی عبادہ اور دوسرے مجاہد ساتھ گاڑی میں آکر بیٹھ گئے اور بیٹھتے ہی بیک مرر کو الٹ دیا۔ غالباً اس لیے کہ نور پر ان کی نگاہ نہ پڑے۔نور کھڑکی سے سر ٹکا کر باہر دیکھنے لگی۔ باہر ہر طرف اندھیرا تھا۔ ہر طرف خوف کا بسیرا۔ ہر طرف ظلم کا اندھیرا تھا۔ اس کی آنکھیں جلنے لگیں۔ اس نے کھڑکی سے سرہٹایا اور سیٹ پر ٹیک دیا اور آنکھیں موند لیں۔ رات کی تاریکی میں ڈرون کی دل دہلا دینے والی آواز ابھی بھی سنائی دے رہی تھی۔

٭٭٭٭٭

’’نور! نور!‘‘ کسی کی شائستہ سی آواز سنائی دی تو نور نے کسلمندی سے آنکھیں کھولیں۔ اور ادھر ادھر دیکھنا چاہا مگر ہر طرف اندھیرا ہی تھا۔

’’نور! اٹھو! نیچے اترو، گھر آگیا ہے!‘‘، کسی کی شہد میں گھلی آواز سنائی دی۔

’’کون؟‘‘

’’امینہ خالہ ہوں بیٹی! اندر آجاؤ!‘‘

’’خالہ!!!‘‘

امینہ خالہ کا نام سنتے ہی نور کے تمام حواس بیدار ہوگئے۔ وہ گاڑی سے اتری اور خالہ کے گلے لگ کر بلک بلک کر رونے لگی۔ خالہ نے بھی اس کو سینے سے چمٹا لیا۔

’’میری بچی! روؤ مت! اللہ بہتر کرے گا!‘‘، انہوں نے اس کو حوصلہ دینا چاہا مگر ان کی اپنی آواز بھی بھاری ہوگئی۔

وہ اس کو لے کر اندر آگئیں۔ جویریہ بستر پر لیٹی شاید سونے کی تیاری میں تھی۔

’’جیا!‘‘، جویریہ کے قریب بیٹھتے ہوئے اس نے اس کو مخاطب کیا۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور نور کو گلے لگا کر رونے لگی۔ نور تو پہلے ہی رور ہی تھی۔

’’اللہ کا شکر ہے نور کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان درندوں کے ہاتھوں سے بچا لیا!‘‘، جویریہ نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔

امینہ خالہ نے نور کے لیے بھی بستر بچھا دیا اور وہ سونے کے لیے لیٹ گئی۔ امینہ خالہ بھی اس کے برابر میں ہی لیٹ گئیں۔ وہ تینوں ہی خاموشی سے لیٹی ہوئی تھیں۔ کرنے کو کوئی بات بھی نہ تھی۔ امینہ خالہ جانتی تھیں کہ وہ ابھی اس حالت میں نہ تھی کہ پوری تفصیل بتائے اس لیے انہوں نے کوئی سوال نہ کیا۔ نور دل ہی دل میں اس بات پر ان کی شکرگزار تھی۔ کچھ ہی دیر بعد کمرے میں ہلکے ہلکے خراٹوں کی آواز گونجنے لگی۔ نور کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ آخر وہ اٹھی اور وضو کرکے نماز کی نیت باندھ لی۔ اس نے اپنے دل کی بات صرف اللہ تعالیٰ سے کرنی تھی کیونکہ وہی بہترین دلاسا دینے والا ہے۔

٭٭٭٭٭

فجر کی نماز پڑھ کر امینہ خالہ ناشتے کی تیاری میں لگ گئیں۔ عبادہ اور اس کا ساتھی رات کو ہی واپس چلے گئے تھے۔ نور بھی اٹھ کر خالہ کا ہاتھ بٹانے لگی۔

’’کیا تم اب چھاپے کی تفصیلات بتا سکتی ہو؟‘‘، امینہ خالہ نے پراٹھے ہاٹ پاٹ میں ڈالتے ہوئے پوچھا تو اسے جھرجھری سی آگئی۔ وہ اس واقعے کو دہرانا نہیں چاہتی تھی مگر بادل نخواستہ اس نے تمام تفصیلات خالہ کے گوش گزار کردیں۔

امینہ خالہ کے چہرے کے تاثرات بدلتے رہے۔ ایک رنگ آتا تو دوسرا جاتا ۔ آخر جب اس نے اپنی داستان مکمل کی تو انہوں نے اس کو اپنے سینے سے لگا لیا اور گہری گہری سانسیں لینے لگیں۔

’’میری بچی۱‘‘، وہ بولیں تو ان کی آواز بھرّائی ہوئی تھی، ’’تم پر واقعی بہت بڑا سانحہ گزرا ہے! میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ہماری ان معصوم کلیوں پر بھی ایسے حالات آئیں گے جو صرف کہانیوں میں ہی پڑھے تھے!‘‘

نور بس خاموشی سے ان کے سینے سے لگی رہی۔ اس کو اس وقت اماں کی ضرورت تھی اور امینہ خالہ کی آغوش میں اس کو اماں کی خوشبو محسوس ہورہی تھی۔

’’چلو اب کھانا کھاتے ہیں!‘‘، انہوں نے آہستگی سے اسے خود سے الگ کیا۔ نور خاموشی سے ان کے پیچھے ہولی۔ دسترخوان بچھا ہوا تھا۔ امینہ خالہ نے جویریہ کو لا کر دسترخوان کے ساتھ بٹھا دیا اور وہ تینوں خاموشی سے ناشتہ کرنے لگیں۔

٭٭٭٭٭

’’نور! عبادہ پوچھ رہا ہے کہ تم نے یہیں رہنا ہے یا موحد چچا کی طرف جانا ہے؟‘‘ امینہ خالہ نے پوچھا۔ نور کو یہاں آئے ہوئے چوتھا دن تھا اور عبادہ اس دن کے بعد اب جا کر آیا تھا۔’’خالہ! اس سے کہیں مجھے واپس جانا ہے کیونکہ ابوبکر بھی وہیں آئے گا اور موحد چچا بھی پریشان ہورہے ہوں گے!‘‘

امینہ خالہ اس کا جواب سن کر کمرے سے باہر چلی گئیں ۔ کچھ دیر بعد واپس آئیں تو بولیں، ’’ چلو پھر تیار ہوجاؤ! وہ کہہ رہا ہے کہ ابھی چلتے ہیں، ڈرون نہیں ہے آج!‘‘

نور فوراً اٹھ کھڑی ہوئی اور برقع پہننے لگی جو جویریہ نے اس کو دیا تھا۔ امینہ خالہ نے خود بھی برقع پہنا اور جویریہ کی مدد کرنے لگیں۔ نور تاسف سے دونوں کو دیکھتی رہی۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کتنی مشکلیں سہنے کے بعد جنت ملتی ہے۔ جنت کا سودا سستا تو نہیں ہے! نور کو یہ بات اچھی طرح سمجھ آچکی تھی۔

(جاری ہے، ان شاء اللہ)

Previous Post

سُلطانئ جمہور | قسط نمبر: 15

Next Post

گلدستۂ شہدا کا ایک پھول(محمد عسکریؒ)

Related Posts

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | گیارہویں قسط

15 فروری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | دسویں قسط

20 جنوری 2026
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | نویں قسط

4 نومبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | آٹھویں قسط

26 ستمبر 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | ساتویں قسط

12 اگست 2025
الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط
ناول و افسانے

الشوک والقرنفل (کانٹے اور پھول) | چھٹی قسط

14 جولائی 2025
Next Post

گلدستۂ شہدا کا ایک پھول(محمد عسکریؒ)

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ شمارہ

مارچ 2026ء
مارچ 2026ء

مارچ 2026ء

by ادارہ
8 مارچ 2026

Read more

تازہ مطبوعات

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]
مطبوعات حطین

مختصر فضائلِ جہاد [مستفاد من مشارع الأشواق للإمام ابن نحاس رحمه الله]

مقدمہ: مولانا محمد مثنیٰ حسان مرتب: مولانا محمد خبیب حجازی     ڈاؤن لوڈ کریں      

فروری, 2026
ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

ہم پر ہماری مائیں روئیں اگر ہم آپ کا دفاع نہ کریں

ڈاؤن لوڈ کریں  

اکتوبر, 2025
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

حیاتِ امام برحق

ڈاؤن لوڈ کریں

جولائی, 2025
جمہوریت کا جال
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

جمہوریت کا جال

    ڈاؤن لوڈ کریں    

جون, 2025
وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت
مطبوعاتِ نوائے غزوہ ہند

وحدت و اتحاد کی اہمیت و ضرورت

    ڈاؤن لوڈ کریں    

مئی, 2025

موضوعات

  • اداریہ
  • تزکیہ و احسان
  • اُسوۃ حسنۃ
  • آخرت
  • دار الإفتاء
  • نشریات
  • فکر و منہج
  • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
  • صحبتِ با اہلِ دِل!
  • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
  • عالمی منظر نامہ
  • طوفان الأقصی
  • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
  • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
  • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
  • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
  • …ہند ہے سارا میرا!
  • علیکم بالشام
  • نقطۂ نظر
  • حلقۂ مجاہد
  • الدراسات العسکریۃ
  • اوپن سورس جہاد
  • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
  • ناول و افسانے
  • عالمی جہاد
  • دیگر
تمام موضوعات

مصنفین

  • ابن عمر عمرانی گجراتی
  • ابو انور الہندی
  • ابو محمد المصری
  • احسن عزیز
  • احمد فاروق
  • ادارہ
  • ادارہ السحاب مرکزی
  • اریب اطہر
  • اسامہ محمود
  • انور العولقی
  • ایمن الظواہری
  • جلال الدین حسن یوسف زئی
  • حسن ترابی
  • خبیب سوڈانی
  • ذاکر موسیٰ
  • راشد دہلوی
  • زین علی
  • سیف العدل
  • شاکر احمد فرائضی
  • شاہ ادریس تالقدار
  • شاہین صدیقی
  • طیب نواز شہید
  • عارف ابو زید
  • عاصم عمر سنبھلی
  • عبد الہادی مجاہد
  • عبید الرحمن المرابط
  • عطیۃ اللہ اللیبی
  • قاضی ابو احمد
  • قیادت عامہ مرکزی القاعدہ
  • محمد طارق ڈار شوپیانی
  • محمد مثنیٰ حسّان
  • مدیر
  • مصعب ابراہیم
  • معین الدین شامی
  • مہتاب جالندھری
  • نعمان حجازی
  • یحییٰ سنوار

© 2008-2026 | نوائے غزوۂ ہِند – برِصغیر اور پوری دنیا میں غلبۂ دین کا داعی

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحۂ اوّل
  • اداریہ
  • موضوعات
    • تزکیہ و احسان
    • اُسوۃ حسنۃ
    • آخرت
    • نشریات
    • فکر و منہج
    • جمہوریت…… ایک دجل، ایک فریب!
    • صحبتِ با اہلِ دِل!
    • گوشۂ افکارِ شاعرِ اسلام: علامہ محمد اقبال
    • عالمی منظر نامہ
    • طوفان الأقصی
    • افغان باقی کہسار باقی……الحکم للہ والملک للہ
    • پاکستان کا مقدر…… شریعتِ اسلامی کا نفاذ!
    • حاجی شریعت اللہ کی سرزمینِ بنگال سے
    • کشمیر…… غزوۂ ہند کا ایک دروازہ!
    • …ہند ہے سارا میرا!
    • علیکم بالشام
    • حلقۂ مجاہد
    • الدراسات العسکریۃ
    • اوپن سورس جہاد
    • جن سے وعدہ ہے مر کر بھی جو نہ مریں!
    • عالمی جہاد
    • ناول و افسانے
    • دیگر
      • ذکرِ حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!
      • شهر رمضان الذی أنزل فیه القرآن
      • تذکرۂ محسنِ امت شیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ
      • تذکرۂ امیر المومنین سیّد احمد شہیدؒ
      • عافیہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے!
      • یومِ تفریق
      • سانحۂ لال مسجد…… تفریقِ حق و باطل کا نشان!
      • یوم یکجہتی کشمیر
      • سقوط ڈھاکہ
  • ہماری مطبوعات
  • شمارے
    • 2026ء
    • 2025ء
    • 2024ء
    • 2023ء
    • 2022ء
    • 2021ء
    • 2020ء
    • 2019ء
    • 2018ء
    • 2017ء
    • 2016ء
    • 2015ء
    • 2014ء
    • 2013ء
    • 2012ء
    • 2011ء
    • 2010ء
    • 2009ء
    • 2008ء
  • ادارۂ حطین
    • مجلۂ حطّین
    • مطبوعاتِ حطّین
  • دار الإفتاء
  • ہمارے بارے میں
    • نوائے غزوۂ ہند کیا ہے؟
    • ویب سائٹ کا تعارف
  • رابطہ کریں

Go to mobile version